Commentary Before Islam, one of the many shameful and absurd customs Shaytan had made the people of ` Arab Jahiliyyah follow was that no one, other than the Quraysh, could make the Tawaf of Ka&bah in one&s own clothes. Instead of that, the requirement was to borrow a dress from a Qurayshi, otherwise, make the Tawaf naked. Mmmm50 As obvious, the Quraysh could not provide clothes to the whole people of Arabia, therefore, the consequence was that these people would make Tawaf mostly naked, men and women, both, with women usually doing their Tawaf in the darkness of the night. Then, they would explain the satanic expediency of this act by saying: The clothes wearing which we have committed sins are clothes in which making the Tawaf of the Ka&bah is contrary to etiquette (so devoid of commonsense they were that it did not occur to them that making their Tawaf naked was far more contrary to etiquette, and still more so, contrary to human dignity itself) and the only exception to this rule was the tribe of Qu¬raysh which, because they were the servants of the sacred Haram, was not bound to follow this law of nudity.& The first verse among those cited above has been revealed to iden¬tify and eliminate this absurd custom. It was said in the verse that on occasions when they did something shameful and people told them not to do so, their answer to them would be that their forefathers and eld¬ers have been doing so all along, and now for them, to forsake their practice was a matter of shame. Then, they also said that this was what Allah had told them to do. (Ibn Kathir) In this verse, &al-faihsha,& according to most commentators means this very naked Tawaf. In fact, fuhsh, fahsha and fahishah refer to eve¬ry evil act the evil of which reaches the farthest limits and is all too loud and clear in terms of commonsense and sound taste (Mazhari). Then, that its good and bad becomes quite rational too, is something which stands established universally. (Rub al-Ma&ani) Then, come the two arguments they advanced in support of the continuance of this absurd custom. One of these was the need to follow ancestral customs, that is, maintaining these was good in itself. The answer to this proposition was fairly clear as the blind following of ancestral customs was not something reasonable. Even a person of average commonsense can understand that a method cannot be justified on the basis that one&s forefathers used to do so. If the methods used by forefathers were to be taken to be sufficient to justify the legitimacy of an action, then, the fact is that forefathers of different peoples of the world used to act differently, even contradictorily. This argument will, then, render all erroneous methods of the whole world to be correct and permissible. In short, this argument advanced by these ignorant people did not deserve attention. Therefore, the Qur&an has not consid¬ered it necessary to answer this question here. Though, in some Ha¬dith narrations, it has been answered by saying that an act of ignor¬ance which may have been committed by one&s forefathers could hardly be worth following by any stretch of imagination. The second argument in favour of their naked Tawaf advanced by these people was that Allah had ordered them to do so. This was a fla¬grant lie. They were attributing to Allah what He had never commanded. Addressing the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the answer given was: قُلْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ (Allah never bids anything shameful) – because commanding people to do something like that is against His wisdom and counter to His state of being the Purest of the pure. Then, taken to task was their false and untrue, attribution to Allah. They were warned with the words: أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (Do you say about Allah what you do not know?). It means that they were attributing a falsity to Allah without having an evidence in support; and it is obvious that attributing something to someone without proper investigation and authority is an act of rank effrontery and patent injustice. Then if done in the case of Allah Jalla Sha&nuhu, reporting anything so falsely will be a crime and injustice the magnitude of which cannot be ima¬gined. At this point, let it be understood clearly that the respected Mujtahid Imams, when they deduce, formulate and describe injunc¬tions which appear in the verses of the Qur&an through Ijtihad, that ef¬fort does not fall under the purview of this verse. The reason is that their deduction is a process which operates under the justification of the very words and meanings of the Qur&an.
خلاصہ تفسیر اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں (یعنی ایسا کام جس کی برائی کھلی ہوئی ہو اور انسانی فطرت اس کو برا سمجھتی ہو، جیسے ننگے ہو کر طواف کرنا) تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داد کو اسی طریق پر پایا ہے اور (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے بھی ہم کو یہی بتلایا ہے (اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے جاہلانہ استدلال کے جواب میں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ فحش کام کی کبھی تعلیم نہیں دیتا، کیا (تم ایسا دعویٰ کرکے) خدا کے ذمہ ایسی باتیں لگاتے ہو جس کی تم کوئی سند نہیں رکھتے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (تم نے جن فحش اور غلط کاموں کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے وہ تو غلط ہے، اب وہ بات سنو جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے واقعی طور پر دیا ہے وہ یہ ہے کہ) میرے رب نے تو حکم دیا ہے انصاف کرنے کا، اور یہ کہ تم ہر سجدہ (یعنی عبادت) کے وقت اپنا رخ سیدھا (اللہ کی طرف) رکھا کرو (یعنی کسی مخلوق کو اس کی عبادت میں شریک نہ کرو) اور اللہ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت کو خالص اللہ ہی کے واسطے رکھا کرو (اس مختصر جملہ میں تمام مامورات شرعیہ اجمالاً آگئے، قسط میں حقوق العباد، اقیموا میں اعمال وطاعت، مخلصین میں عقائد) تم کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم (ایک وقت) پھر دوبارہ پیدا ہوگے، بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے (دنیا میں) ہدایت کی ہے، (ان کو اس وقت جزاء ملے گی) اور بعض پر گمراہی کا ثبوت ہوچکا ہے (ان کو سزا ملے گی) ان لوگوں نے شیطانوں کو اپنا رفیق بنا لیا، اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اور (باوجود اس کے پھر اپنی نسبت) خیال رکھتے ہیں کہ وہ راہ راست پر ہیں، اے اولاد آدم تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت (نماز کے لئے ہو یا طواف کے لئے) اپنا لباس پہن لیا کرو اور (جس طرح ترک لباس گناہ تھا، ایسے ہی حلال چیزوں کے کھانے پینے کو ناجائز سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے، اس لئے حلال چیزوں کو) خوب کھاؤ اور پیو اور حد شرعی سے مت نکلو، بیشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے حد سے نکل جانے والوں کو معارف و مسائل اسلام سے پہلے جاہلیت عرب کے زمانہ میں شیطان نے لوگوں کو جن شرمناک اور بیہودہ رسموں میں مبتلا کر رکھا تھا ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ قریش کے سوا کوئی شخص بیت اللہ کا طواف اپنے کپڑوں میں نہیں کرسکتا تھا، بلکہ یا وہ کسی قریشی سے اس کا لباس عاریت کے طور پر مانگے یا پھر ننگا طواف کرے۔ اور ظاہر ہے کہ سارے عرب کے لوگوں کو قریش کے لوگ کہاں تک کپڑے دے سکتے تھے، اس لئے ہوتا یہی تھا کہ یہ لوگ اکثر ننگے ہی طواف کرتے تھے، مرد بھی عورتیں بھی، اور عورتیں عموماً رات کے اندھیرے میں طواف کرتی تھیں، اور اپنے اس فعل کی شیطانی حکمت یہ بیان کرتے تھے کہ ” جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کئے ہیں انہی کپڑوں میں بیت اللہ کے گرد طواف کرنا خلاف ادب ہے اور عقل کے اندھے یہ نہ سمجھتے تھے کہ ننگے طواف کرنا اس سے زیادہ خلاف ادب اور خلاف انسانیت ہے، صرف قریش کا قبیلہ بوجہ خدام حرم ہونے کے اس عریانی کے قانون سے مستثنیٰ سمجھا جاتا تھا “۔ آیات مذکورہ میں پہلی آیت اسی بیہودہ رسم کو مٹانے اور اس کی خرابی کو بتلانے کے لئے نازل ہوئی ہے، اس آیت میں فرمایا کہ جب یہ لوگ کوئی فحش کام کرتے تھے تو جو لوگ ان کو اس فحش کام سے منع کرتے تو ان کا جواب یہ ہوتا تھا کہ ہمارے باپ دادا اور بڑے بوڑھے یونہی کرتے آئے ہیں، ان کے طریقہ کو چھوڑنا عار اور شرم کی بات ہے، اور یہ بھی کہتے تھے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔ (ابن کثیر) اس آیت میں فحش کام سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک یہی ننگا طواف ہے اور اصل میں فحش، فحشاء، فاحشہ ہر ایسے برے کام کو کہا جاتا ہے جس کی برائی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو، اور عقل و فہم اور فطرت سلیمہ کے نزدیک بالکل واضح اور کھلی ہوئی ہو (مظہری) اور اس درجہ میں حسن و قبح کا عقلی ہونا سب کے نزدیک مسلّم ہے (روح) پھر ان لوگوں نے اس بیہودہ رسم کے جواز کے لئے دو دلیلیں پیش کیں، ایک تقلید آبائی کہ باپ داداوں کا اتباع کوئی معقول چیز نہیں، ذرا سی عقل و ہوش رکھنے والا انسان بھی اس کو سمجھ سکتا ہے، کہ کسی طریقہ کے جواز کی یہ کوئی دلیل نہیں ہوسکتی کہ باپ دادا ایسا کرتے تھے، کیونکہ اگر کسی طریقہ اور کسی عمل کی صحت اور جواز کے لئے باپ داداوں کا طریقہ ہونا کافی سمجھا جاوے تو دنیا میں مختلف لوگوں کے باپ دادا مختلف اور متضاد طریقوں پر عمل کیا کرتے تھے اس دلیل سے تو دنیا بھر کے سارے گمراہ کن طریقے جائز اور صحیح قرار پاتے ہیں، غرض ان جاہلوں کی یہ دلیل کچھ قابل توجہ تھی، اس لئے یہاں قرآن کریم نے اس کا جواب دینا ضروری سمجھا اور دوسری روایات میں اس کا بھی جواب یہ دیا گیا ہے کہ اگر باپ دادا کوئی جہالت کا کام کریں تو وہ کس طرح قابل تقلید و اتباع ہوسکتا ہے۔ دوسری دلیل ان لوگوں نے اپنے ننگے طواف کے جواز پر یہ پیش کی کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ہی ایسا حکم دیا ہے، یہ سراسر بہتان اور حق تعالیٰ کے حکم کے خلاف اس کی طرف ایک غلط حکم کو منسوب کرنا ہے، اس کے جواب میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا : (آیت) قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاْمُرُ بالْفَحْشَاۗءِ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی فحش کام کا حکم نہیں دیا کرتے، کیونکہ ایسا حکم دینا حکمت اور شان قدوسی کے خلاف ہے، پھر ان لوگوں کے اس بہتان و افتراء علی اللہ اور باطل خیال کو پوری طرح ادا کرنے کے لئے ان لوگوں کو اس طرح تنبیہ کی گئی، ۭاَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ، یعنی کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی چیزوں کو منسوب کرتے ہو جس کا تم کو علم نہیں، یعنی جس کے یقین کرنے کے لئے تمہارے پاس کوئی حجت نہیں، اور ظاہر ہے کہ بلا تحقیق کسی شخص کی طرف بھی کسی کام کو منسوب کرنا انتہائی دلیری اور ظلم ہے تو اللہ جل شانہ کی طرف کسی نقل کی ایسی غلط نسبت کرنا کتنا بڑا جرم اور ظلم ہوگا، حضرات مجتہدین آیات قرآنی سے بذریعہ اجتہاد جو احکام نکالتے اور بیان کرتے ہیں وہ اس میں داخل نہیں، کیونکہ ان کا استخراج قرآن کے الفاظ و ارشادات سے ایک حجت کے ماتحت ہوتا ہے۔