Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 45

سورة الأعراف

الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ کٰفِرُوۡنَ ﴿ۘ۴۵﴾

Who averted [people] from the way of Allah and sought to make it [seem] deviant while they were, concerning the Hereafter, disbelievers.

جو اللہ کی راہ سے اعراض کرتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے وہ لوگ آخرت کے بھی منکر تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ... Those who hindered (men) from the path of Allah, and would seek to make it crooked, meaning, they hindered the people from following Allah's path, His Law, and what the Prophets brought. They sought to make Allah's path appear crooked and winding, so that no one would follow it. Allah said, ... وَهُم بِالاخِرَةِ كَافِرُونَ and they were disbelievers in the Hereafter. They disbelieved in the Meeting with Allah in the Hereafter, They used to deny this will ever occur, not accepting it nor believing in it. This is why they used to discount the seriousness of the evil deeds and statements that they committed, because they did not fear any reckoning or punishment. Therefore, they were and are indeed the worst people in statement and action.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] اسلام کی راہ روکنے والے مسلمان :۔ اس آیت میں ظالموں کی ایک اور قسم کا ذکر کیا گیا ہے اور ایسے لوگ بھی ہر امت میں پائے جاتے ہیں مثلاً مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دعویٰ تو اپنے مسلمان ہونے کا کرتے ہیں مگر کہتے یہ ہیں کہ اسلام نے جو حدود مقرر فرمائی ہیں یہ وحشیانہ سزائیں ہیں۔ آج کے دور میں ان پر عمل درآمد محال ہے۔ اسلام نے عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دے کر انہیں قیدی بنادیا ہے۔ لونڈی غلاموں کے جواز کا زمانہ لد گیا اسلام اپنے دور میں تو ایک زندہ تحریک تھی مگر آج یہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے جو زمانے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ وہ اپنا سیاسی نظام بھی غیروں سے درآمد کرتے ہیں اور معاشی نظام بھی اوروں سے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج کے دور میں سود کے بغیر ہماری معیشت چل ہی نہیں سکتی۔ یہ سب باتیں اسلام کا راستہ روکنے اور اس کی سیدھی راہ میں کجی پیدا کرنے کی باتیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ روز آخرت پر اور اللہ کے حضور جوابدہی پر ایمان نہیں رکھتے ورنہ وہ ایسی باتیں کیسے کہہ سکتے تھے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۔۔ : یعنی اللہ کے راستے ( اسلام) میں کجی تلاش کرتے ہیں اور اس میں شکوک و شبہات پیدا کر کے لوگوں کو اس سے نفرت دلاتے ہیں، یا لوگوں کو دھمکی دے کر راہ حق سے روکتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ راہ سیدھی راہ نہیں، صحیح راہ وہ ہے جس پر ہم چل رہے ہیں۔ وَهُمْ بالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ : یعنی وہ ظالم جن میں یہ تین صفات ہوں گی کہ وہ اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، اللہ کی راہ میں کجی تلاش کرتے ہیں، اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ان پر لعنت کی ہے، ورنہ ہر فاسق پر لعنت نہیں۔ شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں بےانصاف ( ظالم) فرمایا اکثر گناہوں پر لیکن لعنت نہیں کی مگر ایسوں پر۔ (موضح) مطلب یہ ہے کہ وہ بےدریغ ہر قسم کے برے اقوال و اعمال کا ارتکاب اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَبَيْنَہُمَا حِجَابٌ۝ ٠ ۚ وَعَلَي الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢابِسِيْمٰىہُمْ۝ ٠ ۚ وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ۝ ٠ ۣ لَمْ يَدْخُلُوْہَا وَہُمْ يَطْمَعُوْنَ۝ ٤٦ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے حجب الحَجْب والحِجَاب : المنع من الوصول، يقال : حَجَبَه حَجْباً وحِجَاباً ، وحِجَاب الجوف : ما يحجب عن الفؤاد، وقوله تعالی: وَبَيْنَهُما حِجابٌ [ الأعراف/ 46] ، ليس يعني به ما يحجب البصر، وإنما يعني ما يمنع من وصول لذّة أهل الجنّة إلى أهل النّار، وأذيّة أهل النّار إلى أهل الجنّة، کقوله عزّ وجل : فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بابٌ باطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ ، وَظاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذابُ [ الحدید/ 13] ، وقال عزّ وجل : وَما کانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْياً أَوْ مِنْ وَراءِ حِجابٍ [ الشوری/ 51] ، أي : من حيث ما لا يراه مكلّمه ومبلّغه، وقوله تعالی: حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ [ ص/ 32] ، يعني الشّمس إذا استترت بالمغیب . والحَاجِبُ : المانع عن السلطان، والحاجبان في الرأس لکونهما کالحاجبین للعین في الذّب عنهما . وحاجب الشمس سمّي لتقدّمه عليها تقدّم الحاجب للسلطان، وقوله عزّ وجلّ : كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ [ المطففین/ 15] ، إشارة إلى منع النور عنهم المشار إليه بقوله : فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ [ الحدید/ 13] . ( ح ج ب ) الحجب والحجاب ( ن ) کسی چیز تک پہنچنے سے روکنا اور درمیان میں حائل ہوجانا اور وہ پر وہ جو دل اور پیٹ کے درمیان حائل ہے اسے حجاب الجوف کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ ؛ وَبَيْنَهُما حِجابٌ [ الأعراف/ 46] اور ان دونوں ( بہشت اور دوزخ ) کے درمیان پر وہ حائل ہوگا ۔ میں حجاب سے وہ پر دہ مراد نہیں ہے جو ظاہری نظر کو روک لیتا ہے ۔ بلکہ اس سے مراد وہ آڑ ہے جو جنت کی لذتوں کو اہل دوزخ تک پہنچنے سے مانع ہوگی اسی طرح اہل جہنم کی اذیت کو اہل جنت تک پہنچنے سے روک دے گی ۔ جیسے فرمایا فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بابٌ باطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ ، وَظاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذابُ [ الحدید/ 13] پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار گھڑی کردی جائے گی اس کے باطن میں رحمت ہوگی اور بظاہر اس طرف عذاب ہوگا ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَما کانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْياً أَوْ مِنْ وَراءِ حِجابٍ [ الشوری/ 51] ، اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اس سے بات کرے مگر الہام ( کے زریعے ) سے یا پردہ کے پیچھے سے ۔ میں پردے کے پیچھے سے کلام کرنے کے معنی یہ ہیں کہ جس سے اللہ تعالیٰ کلام کرتے ہیں وہ ذات الہی کو دیکھ نہیں سکتا اور آیت کریمہ ؛ ۔ حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ [ ص/ 32] کے معنی ہیں حتی ٰ کہ سورج غروب ہوگیا ۔ الحاجب دربان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ بادشاہ تک پہنچنے سے روک دیتا ہے ۔ اور حاجبان ( تنبہ ) بھویں کو کہتے ہیں کیونکہ وہ آنکھوں کے لئے بمنزلہ سلطانی دربان کے ہوتی ہیں ۔ حاجب الشمس سورج کا کنارہ اسلئے کہ وہ بھی بادشاہ کے دربان کی طرح پہلے پہل نمودار ہوتا ہے اور آیت کریمۃ ؛۔ كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ [ المطففین/ 15] کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کے رو ز تجلٰ الہی کو ان سے روک لیا جائیگا ( اس طرح وہ دیدار الہی سے محروم رہیں گے ) جس کے متعلق آیت کریمۃ ؛۔ فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ [ الحدید/ 13] میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ أَعْرافِ وقوله : وَعَلَى الْأَعْرافِ رِجالٌ [ الأعراف/ 46] ، فإنه سور بين الجنّة والنار، اور آیت کریمہ : وَعَلَى الْأَعْرافِ رِجالٌ [ الأعراف/ 46] اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے ۔ میں الاعراف سے وہ دیوار مراد ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیاں حائل ہے ۔ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ عرف المَعْرِفَةُ والعِرْفَانُ : إدراک الشیء بتفکّر وتدبّر لأثره، وهو أخصّ من العلم، ويضادّه الإنكار، قال تعالی: فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] ، فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] ( ع رف ) المعرفۃ والعرفان کے معنی ہیں کسی چیز کی علامات وآثار پر غوروفکر کرکے اس کا ادراک کرلینا یہ علم سے اخص یعنی کم درجہ رکھتا ہے اور یہ الانکار کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے قرآن میں ہے ؛ فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] پھر جس کو وہ خوب پہنچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس کافر ہوگئے ۔ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے ۔ وسم الوَسْمُ : التأثير، والسِّمَةُ : الأثرُ. يقال : وَسَمْتُ الشیءَ وَسْماً : إذا أثّرت فيه بِسِمَةٍ ، قال تعالی: سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ [ الفتح/ 29] ، وقال : تَعْرِفُهُمْ بِسِيماهُمْ [ البقرة/ 273] ، وقوله : إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ [ الحجر/ 75] ، أي : للمعتبرین العارفین المتّعظین، وهذا التَّوَسُّمُ هو الذي سمّاه قوم الزَّكانةَ ، وقوم الفراسة، وقوم الفطنة . قال عليه الصلاة والسلام : «اتّقوا فراسة المؤمن فإنّه ينظر بنور الله» وقال تعالی: سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ [ القلم/ 16] ، أي : نعلّمه بعلامة يعرف بها کقوله : تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ [ المطففین/ 24] ، والوَسْمِيُّ : ما يَسِمُ من المطر الأوّل بالنّبات . ( وس م ) الوسم ( ض ) کے معنی نشان اور داغ لگانے کے ہیں اور سمۃ علامت اور نشان کو کہتے ہیں چناچہ محاورہ ہے ۔ وسمت الشئی وسما میں نے اس پر نشان لگایا ۔ قرآن میں ہے : ۔ سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ [ القلم/ 16] ہم عنقریب اس کی ناک پر داغ لگائیں گے ؛ یعنی اس کی ناک پر ایسا نشان لگائیں گے جس سے اس کی پہچان ہو سکے گی ۔ جیسا کہ مو منین کے متعلق فرمایا : ۔ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ [ المطففین/ 24] تم ان کے چہروں ہی سے راحت کی تازگی معلوم کر لوگے ۔ سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ [ الفتح/ 29] کثرت سجود گے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں ۔ تَعْرِفُهُمْ بِسِيماهُمْ [ البقرة/ 273] اور تم قیافے سے ان کو صاف پہچان لوگے ۔ التوسم کے معنی آثار وقرائن سے کسی چیز کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کر نا کے ہیں اور اسے علم ذکانت فراصت اور فطانت بھی کہا جاتا ہے حدیث میں یعنی مومن کی فراست سے ڈرتے رہو وہ خدا تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے نور توفیق سے دیکھتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ [ الحجر/ 75] بیشک اس ( قصے ) میں اہل فراست کے لئے نشانیاں ہیں ۔ یعید ان کے قصہ میں عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے بہت سے نشا نات ہیں الوسمی ۔ موسم بہار کی ابتدائی بارش کو کہتے ہیں سلام السِّلْمُ والسَّلَامَةُ : التّعرّي من الآفات الظاهرة والباطنة، قال : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ [ الشعراء/ 89] ، أي : متعرّ من الدّغل، فهذا في الباطن، وقال تعالی: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها [ البقرة/ 71] ، فهذا في الظاهر، وقد سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامَةً ، وسَلَاماً ، وسَلَّمَهُ الله، قال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] ، وقال : ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ، أي : سلامة، وکذا قوله : اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] . والسّلامة الحقیقيّة ليست إلّا في الجنّة، إذ فيها بقاء بلا فناء، وغنی بلا فقر، وعزّ بلا ذلّ ، وصحّة بلا سقم، كما قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : السلام ة، قال : وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ [يونس/ 25] ، وقال تعالی: يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوانَهُ سُبُلَ السَّلامِ [ المائدة/ 16] ، يجوز أن يكون کلّ ذلک من السّلامة . وقیل : السَّلَامُ اسم من أسماء اللہ تعالیٰ «1» ، وکذا قيل في قوله : لَهُمْ دارُ السَّلامِ [ الأنعام/ 127] ، والسَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ [ الحشر/ 23] ، قيل : وصف بذلک من حيث لا يلحقه العیوب والآفات التي تلحق الخلق، وقوله : سَلامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ [يس/ 58] ، سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِما صَبَرْتُمْ [ الرعد/ 24] ، سلام علی آل ياسین «2» كلّ ذلک من الناس بالقول، ومن اللہ تعالیٰ بالفعل، وهو إعطاء ما تقدّم ذكره ممّا يكون في الجنّة من السّلامة، وقوله : وَإِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً [ الفرقان/ 63] ، أي : نطلب منکم السّلامة، فيكون قوله ( سلاما) نصبا بإضمار فعل، وقیل : معناه : قالوا سَلَاماً ، أي : سدادا من القول، فعلی هذا يكون صفة لمصدر محذوف . وقوله تعالی: إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقالُوا سَلاماً قالَ سَلامٌ [ الذاریات/ 25] ، فإنما رفع الثاني، لأنّ الرّفع في باب الدّعاء أبلغ «3» ، فكأنّه تحرّى في باب الأدب المأمور به في قوله : وَإِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها [ النساء/ 86] ، ومن قرأ سلم «4» فلأنّ السّلام لمّا کان يقتضي السّلم، وکان إبراهيم عليه السلام قد أوجس منهم خيفة، فلمّا رآهم مُسَلِّمِينَ تصوّر من تَسْلِيمِهِمْ أنهم قد بذلوا له سلما، فقال في جو ابهم : ( سلم) ، تنبيها أنّ ذلک من جهتي لکم كما حصل من جهتكم لي . وقوله تعالی: لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً إِلَّا قِيلًا سَلاماً سَلاماً [ الواقعة/ 25- 26] ، فهذا لا يكون لهم بالقول فقط، بل ذلک بالقول والفعل جمیعا . وعلی ذلک قوله تعالی: فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 91] ، وقوله : وَقُلْ سَلامٌ [ الزخرف/ 89] ، فهذا في الظاهر أن تُسَلِّمَ عليهم، وفي الحقیقة سؤال اللہ السَّلَامَةَ منهم، وقوله تعالی: سَلامٌ عَلى نُوحٍ فِي الْعالَمِينَ [ الصافات/ 79] ، سَلامٌ عَلى مُوسی وَهارُونَ [ الصافات/ 120] ، سَلامٌ عَلى إِبْراهِيمَ [ الصافات/ 109] ، كلّ هذا تنبيه من اللہ تعالیٰ أنّه جعلهم بحیث يثنی __________ عليهم، ويدعی لهم . وقال تعالی: فَإِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتاً فَسَلِّمُوا عَلى أَنْفُسِكُمْ [ النور/ 61] ، أي : ليسلّم بعضکم علی بعض . ( س ل م ) السلم والسلامۃ کے معنی ظاہری اور باطنی آفات سے پاک اور محفوظ رہنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ [ الشعراء/ 89] پاک دل ( لے کر آیا وہ بچ جائیگا یعنی وہ دل جو دغا اور کھوٹ سے پاک ہو تو یہ سلامت باطن کے متعلق ہے اور ظاہری عیوب سے سلامتی کے متعلق فرمایا : مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها[ البقرة/ 71] اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو ۔ پس سلم یسلم سلامۃ وسلاما کے معنی سلامت رہنے اور سلمۃ اللہ ( تفعیل ) کے معنی سلامت رکھنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] لیکن خدا نے ( تمہیں ) اس سے بچالیا ۔ ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ان میں سلامتی اور ( خاطر جمع ) سے داخل ہوجاؤ ۔ اسی طرح فرمایا :۔ اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ ۔۔۔ اترآؤ ۔ اور حقیقی سلامتی تو جنت ہی میں حاصل ہوگی جہاں بقائ ہے ۔ فنا نہیں ، غنا ہے احتیاج نہیں ، عزت ہے ذلت نہیں ، صحت ہے بیماری نہیں چناچہ اہل جنت کے متعلق فرمایا :۔ لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ۔ وَاللَّهُ يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ [يونس/ 25] اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے ۔ يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوانَهُ سُبُلَ السَّلامِ [ المائدة/ 16] جس سے خدا اپنی رضامندی پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے ۔ ان تمام آیات میں سلام بمعنی سلامتی کے ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں السلام اسمائے حسنیٰ سے ہے اور یہی معنی آیت لَهُمْ دارُ السَّلامِ [ الأنعام/ 127] میں بیان کئے گئے ہیں ۔ اور آیت :۔ السَّلامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ [ الحشر/ 23] سلامتی امن دینے والا نگہبان ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وصف کلام کے ساتھ موصوف ہونے کے معنی یہ ہیں کہ جو عیوب و آفات اور مخلوق کو لاحق ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے پاک ہے ۔ اور آیت :۔ سَلامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ [يس/ 58] پروردگار مہربان کی طرف سے سلام ( کہاجائیگا ) سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِما صَبَرْتُمْ [ الرعد/ 24] اور کہیں گے ) تم رحمت ہو ( یہ ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے ۔ سلام علی آل ياسین «2» کہ ایسا پر سلام اور اس مفہوم کی دیگر آیات میں سلام علیٰ آیا ہے تو ان لوگوں کی جانب سے تو سلامتی بذریعہ قول مراد ہے یعنی سلام علی ٰ الخ کے ساتھ دعا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے سلامتی بالفعل مراد ہے یعنی جنت عطافرمانا ۔ جہاں کہ حقیقی سلامتی حاصل ہوگی ۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اور آیت :۔ وَإِذا خاطَبَهُمُ الْجاهِلُونَ قالُوا سَلاماً [ الفرقان/ 63] اور جب جاہل لوگ ان سے ( جاہلانہ ) گفتگو کرتے ہیں ۔ تو سلام کہتے ہیں ۔ مٰیں قالوا سلاما کے معنی ہیں ہم تم سے سلامتی چاہتے ہیں ۔ تو اس صورت میں سلاما منصوب اور بعض نے قالوا سلاحا کے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ اچھی بات کہتے ہیں تو اس صورت میں یہ مصدر مخذوف ( یعنی قولا ) کی صٖت ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقالُوا سَلاماً قالَ سَلامٌ [ الذاریات/ 25] جب وہ ان کے پاس آئے تو سلام کہا ۔ انہوں نے بھی ( جواب میں ) سلام کہا ۔ میں دوسری سلام پر رفع اس لئے ہے کہ یہ باب دعا سے ہے اور صیغہ دعا میں رفع زیادہ بلیغ ہے گویا اس میں حضرت ابراہیم نے اس اد ب کو ملحوظ رکھا ہے جس کا کہ آیت : وَإِذا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْها [ النساء/ 86] اور جب تم کوئی دعا دے تو ( جواب میں ) تم اس سے بہتر ( کا مے) سے ( اسے ) دعا دو ۔ میں ھکم دیا گیا ہے اور ایک قرآت میں سلم ہے تو یہ اس بنا پر ہے کہ سلام سلم ( صلح) کو چاہتا تھا اور حضرت ابراہیم السلام ان سے خوف محسوس کرچکے تھے جب انہیں سلام کہتے ہوئے ۔ سنا تو اس کو پیغام صلح پر محمول کیا اور جواب میں سلام کہہ کر اس بات پر متنبہ کی کہ جیسے تم نے پیغام صلح قبول ہو ۔ اور آیت کریمہ : لا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً إِلَّا قِيلًا سَلاماً سَلاماً [ الواقعة/ 25- 26] وہاں نہ بیہودہ بات سنیں گے ار نہ گالی گلوچ ہاں ان کا کلام سلام سلام ( ہوگا ) کے معنی یہ ہیں کہ یہ بات صرف بذیعہ قول نہیں ہوگی ۔ بلکہ اور فعلا دونوں طرح ہوگئی ۔ اسی طرح آیت :: فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 91] تو ( کہا جائیگا کہ ) تم پر پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام میں بھی سلام دونوں معنی پر محمول ہوسکتا ہے اور آیت : وَقُلْ سَلامٌ [ الزخرف/ 89] اور سلام کہدو ۔ میں بظارہر تو سلام کہنے کا حکم ہے لیکن فی الحققیت ان کے شر سے سللامتی کی دعا کرنے کا حکم ہے اور آیات سلام جیسے سلامٌ عَلى نُوحٍ فِي الْعالَمِينَ [ الصافات/ 79]( یعنی ) تمام جہان میں نوح (علیہ السلام) پر سلام کہ موسیٰ اور ہارون پر سلام ۔ ۔ سَلامٌ عَلى مُوسی وَهارُونَ [ الصافات/ 120] ابراہیم پر سلام ۔ سَلامٌ عَلى إِبْراهِيمَ [ الصافات/ 109] میں اس بات پر تنبیہ ہی کہ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء ابراہیم کو اس قدر بلند مرتبہ عطا کیا تھا کہ لوگ ہمیشہ ان کی تعریف کرتے اور ان کے لئے سلامتی کے ساتھ دعا کرتے رہیں گے اور فرمایا : فَإِذا دَخَلْتُمْ بُيُوتاً فَسَلِّمُوا عَلى أَنْفُسِكُمْ [ النور/ 61] اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے ( گھر والوں ) کو سلام کیا کرو ۔ یعنی تم ایک دوسرے کو سلام کہاکرو ۔ طمع الطَّمَعُ : نزوعُ النّفسِ إلى الشیء شهوةً له، طَمِعْتُ أَطْمَعُ طَمَعاً وطُمَاعِيَةً ، فهو طَمِعٌ وطَامِعٌ. قال تعالی: إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنا رَبُّنا[ الشعراء/ 51] ، أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ [ البقرة/ 75] ، خَوْفاً وَطَمَعاً [ الأعراف/ 56] ، ( ط م ع ) الطمع کے معنی ہیں نفس انسانی کا کسی چیز کی طرف خواہش کے ساتھ میلان ۔ طمع ( س ) طمعا وطماعیۃ کسی چیز کی طرف خواہش کے ساتھ مائل ہونا طمع وطامع اس طرح مائل ہونے والا قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنا رَبُّنا[ الشعراء/ 51] ہمین امید ہے کہ ہمارا خدا ہمارے گناہ بخش دیگا ۔ أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ [ البقرة/ 75]( مومنوں ) کیا تم آرزو رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے دین کے قائل ہوجائیں گے ۔ خَوْفاً وَطَمَعاً [ الأعراف/ 56] وڑانے اور امید دلانے کیلئے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ (الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَہَا عِوَجًا ج) نہ صرف یہ کہ وہ خود ایمان نہیں لائے تھے ‘ بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکنے کی حتی الوسع کوشش کرتے تھے۔ اگر کسی شخص کو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل کی طرف جاتے دیکھتے تو اسے ورغلانے اور بہکانے کے درپے ہوجاتے تھے کہ کہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان نہ لے آئے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:45) یبغونھا۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جو سبیل کی طرف راجع ہے۔ وہ اس کو چاہتے ہیں۔ بغی مصدر عوجا۔ ٹیڑھا۔ عوج۔ کجی۔ ٹیڑھا پن۔ عوج یعوج (سمع) سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی اس میں شکوک و شبہات پیدا کو کے لوگوں کو اس سے نفرت دلاتے ہیں یا لوگوں کو دھمکی دے کر راہ حق سے روکتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ راہ سیدھی نہیں ہے صحیح ہو راہ وہ ہے جس پر ہم چل رہے ہیں۔ ( کبیر قرطبی)2 یعنی وہ ظالم جو ان تین صفات سے متصف ہوں گے ان پر لعنت نہیں کی۔ کبیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے قرآن شریف میں بےانصاف ( ظالم) فرمایا اکثر گناہوں پر لیکن لعنت نہیں کی مگر ایسوں پر ( مو ضح) مطلب یہ ہے یہ کہ ہو بےمحا باہر قسم کے برے اقوال و اعمال کا رتکاب اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ آخرت کے منکر ہیں

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنتی اور جہنمیوں کا اپنے اپنے مقام اور انجام کا اعتراف۔ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے توجہنمیوں کو ان کی ذلت کا احساس دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جہنمیوں کے ساتھ سوال و جواب کرنے کا موقع عنایت فرمائے گا۔ جنتی حضرات جہنمیوں سے جنت کی آسائش وزیبائش، انعام وکرام اور جنت کی بیش بہا نعمتوں کا تذکرہ کرکے کہیں گے کہ ہم نے رب کریم کی طرف سے وہ سب کچھ پالیا جس کا ہمارے رب نے ہمارے ساتھ دنیا میں وعدہ فرمایا تھا۔ اے مجرمو ! تم بتاؤ کہ کیا تم نے وہ بلائیں اور سزائیں دیکھ لیں جن کو تم دنیا کی زندگی میں جھٹلایا کرتے تھے۔ جہنمی ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے اقرار کریں گے کہ ہاں ہم اپنے جرائم اور گناہوں کی سزا پا رہے ہیں۔ جب ذلت و خواری کی حالت میں اپنے کیے کی سزا کا اعتراف کر رہے ہوں گے تو ان کی ذلت و حسرت میں اضافہ کرنے کے لیے ان پر موسلادھار پھٹکار کا سلسلہ جاری ہوگا کہ ظالموں پر واقعتا اللہ تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہونی چاہیے۔ لعنت کرنے والے ملائکہ اور جنتی ہوں گے، یہاں ظالموں کے ظلم کی وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ یہ لوگ ہر برائی اور گمراہی کے طلبگار ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں رکاوٹ بنتے اور اپنے قول اور فعل کے ساتھ آخرت کا انکار کیا کرتے تھے۔ مسائل ١۔ جنتی اپنے رب کی عطاؤں کا اقرار کرتے ہوئے اس کے شکرگزار ہوں گے۔ ٢۔ جہنمیوں پر مسلسل لعنت اور پھٹکار پڑتی رہے گی۔ ٣۔ اللہ کی راہ سے روکنے اور یوم آخرت کا انکار کرنے والے ظالم ہیں۔ تفسیر بالقرآن لعنتی کون ؟ ١۔ بےگناہ مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر لعنت اور اللہ کا عذاب ہوگا۔ (النساء : ٩٣) ٢۔ کافروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور جہنم کا عذاب۔ (الاحزاب : ٦٤) ٣۔ اللہ اور رسول کو ایذا پہنچانے والوں پر لعنت برستی ہے۔ (الاحزاب : ٥٧) ٤۔ ظالموں کے لیے جہنم کا عذاب اور لعنت ہے۔ (حٰم ٓ السجدۃ : ٥٢) ٥۔ یہودیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ (المائدۃ : ٦٤) ٦۔ جہنمی ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔ (الاعراف : ٣٨) ٧۔ منافقین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور جہنم کا عذاب ہوگا۔ (الفتح : ٦) آخرت میں خسارہ پانے والے لوگ : ١۔ حقیقی خسارے پانے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن نقصان اٹھایا۔ (الشوری : ٤٥) ٢۔ کفار کے لیے شدید عذاب ہے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ (النمل : ٥) ٣۔ کیا ہم تمہیں اعمال کے لحاظ سے خسارہ پانے والے لوگوں کے متعلق نہ بتائیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیاوی کوشش رائیگاں گئی۔ (الکھف : ١٠٣۔ ١٠٤) ٤۔ اللہ تعالیٰ پر افترابازی کرنے والے آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ (ھود : ٢٢۔ ٢٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہ جو فرمایا کہ (وَ یَبْغُوْنَھَا عِوَجًا) کہ اللہ کے دین میں کجی تلاش کرتے ہیں یہ ان کی انتہائی ضد اور عناد کی ایک صورت بیان فرمائی۔ مشرکین مکہ ایسا ہی کرتے تھے۔ دین اسلام پر طرح طرح کے اعتراض اٹھاتے تھے۔ مدینہ منورہ میں یہودیوں سے واسطہ پڑا وہ لوگ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعی اللہ کے رسول ہیں آپ کی نبوت و رسالت کا اقرار نہیں کرتے تھے اور ایسی ایسی باتیں نکالتے تھے جو حقیقت میں قابل اعتراض نہ تھیں لیکن انہیں بطور اعتراض عوام کے سامنے لاتے تھے تاکہ وہ اسلام قبول نہ کریں۔ آج تک یہود و نصاریٰ اور دیگر کفار اس کام میں لگے ہوئے ہیں کہ اسلام میں عیب نکالیں حتیٰ کہ وہ مشرک جو گائے کا پیشاب پیتے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو پوتر اور مسلمانوں کو ناپاک سمجھتے ہیں۔ انہیں مسلمانوں کی پاکیزہ شریعت پاکیزہ زندگی پر اعتراض ہے اور اپنے پیشاب پینے سے ذرا بھی نفرت نہیں۔ جن قوموں میں غسل جنابت نہیں وہ بھی اپنے آپ کو مسلمانوں سے اچھا سمجھتی ہیں۔ اور جن قوموں میں زنا کاری عام ہے اور نکاح کرنا عیب ہے انہیں اسلام پر یہ اعتراض ہے کہ اس میں تعدد ازواج کی اجازت ہے یہ کیسی الٹی سمجھ ہے کہ دوستیاں تو جتنی چاہے رکھ لے لیکن ایک سے زیادہ بیویاں جو اللہ کی شریعت میں حلال ہے اس پر اعتراض ہے۔ یہود و نصاریٰ نے آج کل مستشرقین تیار کر رکھے ہیں یہ لوگ بظاہر اسلامی علوم میں اپنا اشتغال رکھتے ہیں اور نادان مسلمان خوش ہیں کہ کافر ہمارا دین پڑھ رہے ہیں وہ لوگ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ خود کافر ہیں بلکہ اہل اسلام جو ان کے یہاں اسلامیات کی ڈگری لینے جاتے ہیں ان کو اسلامی عقائد میں مذبذب کر کے مرتد بنا دیتے ہیں ان سادہ لوح طلباء کو یہ پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ہم دین اسلام سے خارج ہوگئے۔ مستشرقین ان کو اسلام اور داعی اسلام صلی اللہ علیہ وعلیٰ الہ و اصحابہ وسلم پر اعتراضات سمجھاتے ہیں ان لوگوں کے پاس چونکہ علم نہیں ہوتا، علماء اسلام کی کتابوں اور صحبتوں سے محروم ہوتے ہیں اس لیے جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں اور خود بھی اسلام کے بارے میں بد عقیدہ ہوجاتے ہیں۔ مستشرقین ایسے ایسے اعتراضات سمجھاتے ہیں جن کے منہ توڑ جوابات دیئے جا چکے ہیں اور علمائے اسلام ان کو مناظروں میں شکست دے کر بارہا ذلیل کرچکے ہیں یہ لوگ اپنے دین کو باطل جانتے ہوئے اسی پر جمع ہوتے ہیں۔ (اِنْ ھُمْ اِلَّا کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

50 یہ لازم اور متعدی دونوں طرح مستعمل ہے۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا یصدون بانفسہم عن دینہ سبحانہ یعنی وہ خود دین سے کنارہ کش رہتے تھے اور دوسری صورت میں یمنعون الناس عن دین اللہ تعالی۔ یعنی وہ لوگوں کو اللہ کے دین سے روکتے تھے۔ “ یَبْغُوْنَھَا عِوَجًا ” اللہ کے دین اور توحید کے دلائل میں شبہات پیدا کر کے لوگوں کو بد ظن کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یمنعون الناس عن دین اللہ تعالیٰ بالنھی عنہ و ادخال الشبہ فی دلائلہ (روح ج 8 ص 123) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

45 جو اللہ تعالیٰ کے دین حق کی راہ سے لوگوں کو روکا کرتے تھے اور اس دین حق میں ٹیڑھ اور کجی اور زیغ کی تلاش میں لگے رہتے تھے اور جن کو یہ فکر لگی رہتی تھی کہ کسی طرح دین حق میں شکوک و شبہات نکالیں اور لوگوں کو راہ مستقیم سے روکیں اور وہ ظالم آخرت کے بھی منکر تھے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا بھی انکار کیا کرتے تھے۔