Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 48

سورة الأعراف

وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا یَّعۡرِفُوۡنَہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ قَالُوۡا مَاۤ اَغۡنٰی عَنۡکُمۡ جَمۡعُکُمۡ وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾

And the companions of the Elevations will call to men [within Hell] whom they recognize by their mark, saying, "Of no avail to you was your gathering and [the fact] that you were arrogant."

اور اہل اعراف بہت سے آدمیوں کو جن کو کے ان کے قیافہ سے پہچانیں گے پکاریں گے کہیں گے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah tells; وَنَادَى أَصْحَابُ الاَعْرَافِ رِجَالاً يَعْرِفُونَهُمْ بِسِيمَاهُمْ قَالُواْ ... And the men on Al-A`raf will call unto the men whom they would recognize by their marks, saying: Allah states that the people of Al-A`raf will admonish some of the chiefs of the idolators whom they recognize by their marks in the Fire, ... مَا أَغْنَى عَنكُمْ جَمْعُكُمْ ... "Of what benefit to you was your gathering..." meaning, your great numbers, ... وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ "...and your arrogance!" This Ayah means, your great numbers and wealth did not save you from Allah's torment. Rather, you are dwelling in His torment and punishment.

کفر کے ستون اور ان کا حشر کفر کے جن ستونوں کو ، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری کثرت جمعیت کہاں گئی؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا ۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے ۔ ان کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بد بختو انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا ۔ اے اعراف والو میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ بہ آرام بےکھٹکے جنت میں جاؤ ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی برائیاں بھی ان کی نہ تھیں کہ دوزخ میں جائیں تو یہ اعراف پر ہی روک دیئے گئے ، لوگوں کو ان کے اندازے سے پہچانتے ہوں گے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کر چکے گا شفاعت کی اجازت دے گا لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم آپ ہمارے باپ ہیں ہماری شفاعت اللہ تعالیٰ کی جانب میں کیجئے ۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہوا ، اپنی روح اس میں پھونکی ہو ، اپنی رحمت اس پر اپنے غضب سے پہلے پہنچائی ہو ، اپنے فرشتوں سے اسے سجدہ کرایا ہو؟ سب جواب دیں گے کہ نہیں ایسا کوئی آپ کے سوا نہیں ۔ آپ فرمائیں گے میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا ہوں تم میرے لڑکے ابراہیم کے پاس جاؤ ۔ اب سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے ۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا اور کوئی خلیل اللہ ہوا ہو؟ یا اللہ کے بارے میں اس کی قوم نے آگ میں پھینکا ہو؟ سب کہیں گے نہیں آپ کے سوا اور کوئی نہیں ، فرمائیں گے مجھے اس کی حقیقت معلوم نہیں میں تمہاری درخواست شفاعت نہیں لے جا سکتا تم میرے لڑکے موسیٰ کے پاس جاؤ ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ بتاؤ میرے سوا اللہ نے کسی کو اپنا کلیم بنایا ، اپنی سرگوشیوں کے لئے نزدیکی عطا فرمائی ؟ جواب دیں گے کہ نہیں ۔ فرمائیں گے میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں میں تمہاری سفارش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ ہاں تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ ۔ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے ان سے شفاعت طلبی کا تقاضا کریں گے یہ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ نے بغیر باپ کے پیدا کیا ہو؟ جواب ملے گا کہ نہیں ۔ پوچھیں گے جانتے ہو کہ کوئی مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم الہی میرے سوا اچھا کرتا ہو یا کوئی مردہ کو بحکم الہی زندہ کر دیتا ہو؟ کہیں گے کہ کوئی نہیں ۔ فرمائیں گے کہ میں تو آج اپنے نفس کے بچاؤ میں ہوں ، میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں ۔ مجھ میں اتنی طاقت کہاں کہ تمہاری سفارش کر سکوں ، ہاں تم سب کے سب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ۔ چنانچہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے میں اپنا سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ ہاں ہاں میں اسی لئے موجود ہوں ، پھر میں چل کر اللہ کے عرش کے سامنے ٹھہر جاؤں گا ۔ اپنے رب عزوجل کے پاس پہنچ جاؤں گا اور ایسی ایسی اس کی تعریفیں بیان کروں گا کہ کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہوں ۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا پھر مجھ سے فرمایا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ ۔ مانگو دیا جائے گا ۔ شفاعت کرو ، قبول کی جائے گی ۔ پس میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا میرے رب میری امت ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ سب تیری ہی ہے ۔ پھر تو ہر ہر پیغمبر اور ہر ایک فرشتہ رشک کرنے لگے گا ۔ یہی مقام مقام محمود ہے ۔ پھر میں ان سب کو لے کر جنت کی طرف آؤں گا ۔ جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور وہ میرے لئے اور ان کیلئے کھول دیا جائے گا پھر انہیں ایک نہر کی طرف لے جائیں گے جس کا نام نہر الحیوان ہے اس کے دونوں کناروں پر سونے کے محل ہیں جو یاقوت سے جڑاؤ کئے گئے ہیں اس میں غسل کریں گے جس سے جنتی رنگ اور جنتی خوشبو ان میں پیدا ہو جائے گی اور چمکتے ہوئے ستاروں جیسے وہ نورانی ہو جائیں گے ہاں ان کے سینوں پر سفید نشان باقی رہ جائیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے انہیں مساکین اہل جنت کہا جائے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

48۔ 1 یہ اہل دوزخ ہونگے جن کو اصحاب الاعراف ان کی علامتوں سے پہچان لیں گے اور وہ اپنے جتھے اور دوسری چیزوں پر جو گھمنڈ کرتے تھے اس کے حال سے انہیں یاد دلائیں گے کہ یہ چیزیں تمہارے کچھ کام نہ آئیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ : کہ یہ جہنمی ہیں، یا جن کو وہ دنیا میں پہچانتے ہوں گے۔ مَآ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قیامت کے دن اہل نار میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ خوش حال تھا، پھر اسے آگ میں ایک غوطہ دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا : ” اے ابن آدم ! تو نے کبھی کوئی آرام دیکھا تھا ؟ “ وہ کہے گا : ” نہیں، اللہ کی قسم ! اے میرے رب ! “ [ مسلم، صفات المنافقین واحکامہم، باب صبغ أنعم أہل الدنیا فی النار۔۔ : ٢٨٠٧ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The fifth verse (48) also mentions that the people of A` raf will address the people of Hell and admonish them by saying that the wealth and power that they depended on, and because of which they had become proud and arrogant, went the way of waste for all those strengths did not work for them at their hour of need.

پانچویں آیت میں یہ بھی مذکور ہے کہ اہل اعراف اہل جہنم کو خطاب کرکے بطور علامت کے یہ کہیں گے کہ دنیا میں تم کو جس مال و دولت اور جماعت اور جتھہ پر بھروسہ تھا اور جن کی وجہ سے تم تکبر و غرور میں مبتلا تھے آج وہ کچھ تمہارے کام نہ آیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَہٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُہُمُ اللہُ بِرَحْمَۃٍ۝ ٠ ۭ اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ۝ ٤٩ ها هَا للتنبيه في قولهم : هذا وهذه، وقد ركّب مع ذا وذه وأولاء حتی صار معها بمنزلة حرف منها، و (ها) في قوله تعالی: ها أَنْتُمْ [ آل عمران/ 66] استفهام، قال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ [ آل عمران/ 66] ، ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] ، هؤُلاءِ جادَلْتُمْ [ النساء/ 109] ، ثُمَّ أَنْتُمْ هؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ [ البقرة/ 85] ، لا إِلى هؤُلاءِ وَلا إِلى هؤُلاءِ [ النساء/ 143] . و «هَا» كلمة في معنی الأخذ، وهو نقیض : هات . أي : أعط، يقال : هَاؤُمُ ، وهَاؤُمَا، وهَاؤُمُوا، وفيه لغة أخری: هَاءِ ، وهَاءَا، وهَاءُوا، وهَائِي، وهَأْنَ ، نحو : خَفْنَ وقیل : هَاكَ ، ثمّ يثنّى الکاف ويجمع ويؤنّث قال تعالی: هاؤُمُ اقْرَؤُا كِتابِيَهْ [ الحاقة/ 19] وقیل : هذه أسماء الأفعال، يقال : هَاءَ يَهَاءُ نحو : خاف يخاف، وقیل : هَاءَى يُهَائِي، مثل : نادی ينادي، وقیل : إِهَاءُ نحو : إخالُ. هُوَ : كناية عن اسم مذكّر، والأصل : الهاء، والواو زائدة صلة للضمیر، وتقوية له، لأنها الهاء التي في : ضربته، ومنهم من يقول : هُوَّ مثقّل، ومن العرب من يخفّف ويسكّن، فيقال : هُو . ( ھا ) ھا ۔ یہ حرف تنبیہ ہے اور ذا ذہ اولاٰ اسم اشارہ کے شروع میں آتا ہے اور اس کے لئے بمنزلہ جز سمجھنا جاتا ہے مگر ھا انتم میں حرف ھا استہفام کے لئے ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ [ آل عمران/ 66] دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا ۔ ها أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ [ آل عمران/ 119] دیکھو تم ایسے صاف دل لوگ ہو کہ ان لوگوں سے ودستی رکھتے ہو ۔ هؤُلاءِ جادَلْتُمْ [ النساء/ 109] بھلا تم لوگ ان کی طرف سے بحث کرلیتے ہو ۔ ثُمَّ أَنْتُمْ هؤُلاءِ تَقْتُلُونَ أَنْفُسَكُمْ [ البقرة/ 85] پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کردیتے ہو ۔ لا إِلى هؤُلاءِ وَلا إِلى هؤُلاءِ [ النساء/ 143] نہ ان کی طرف ( ہوتے ہو ) نہ ان کی طرف ۔ ھاءم ـ اسم فعل بمعنی خذ بھی آتا ہے اور ھات ( لام ) کی ضد ہے اور اس کی گردان یون ہے ۔ ھاؤم ھاؤم ۔ ھاؤموا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ هاؤُمُ اقْرَؤُا كِتابِيَهْ [ الحاقة/ 19] لیجئے اعمالنامہ پڑھئے اور اس میں ایک لغت بغیر میم کے بھی ہے ۔ جیسے : ۔ ھا ، ھا ، ھاؤا ھائی ھان کے بروزن خفن اور بعض اس کے آخر میں ک ضمیر کا اضافہ کر کے تنبیہ جمع اور تذکرو تانیث کے لئے ضمیر میں تبدیل کرتے ہیں جیسے ھاک ھاکما الخ اور بعض اسم فعل بنا کر اسے کھاؤ یھاء بروزن خاف یخاف کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک ھائی یھائی مثل نادٰی ینادی ہے اور بقول بعض متکلم مضارع کا صیغہ اھاء بروزن اخال آتا ہے ۔ قْسَمَ ( حلف) حلف، وأصله من الْقَسَامَةُ ، وهي أيمان تُقْسَمُ علی أولیاء المقتول، ثم صار اسما لكلّ حلف . قال : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] ، أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] ، وقال : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] ، فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اقسم ( افعال کے معنی حلف اٹھانے کے ہیں یہ دروصل قسامۃ سے مشتق ہے اور قسیا مۃ ان قسموں کو کہا جاتا ہے جو او لیائے مقتول پر تقسیم کی جاتی ہیں پھر مطلق کے معنی استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمانِهِمْ [ الأنعام/ 109] اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں ۔ أَهؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ [ الأعراف/ 49] کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے مارے میں تم قسمیں کھایا کرتی تھے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ وَلا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ [ القیامة/ 1- 2] ہم کو روز قیامت کی قسم اور نفس لوامہ کی ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ۔ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّها مُصْبِحِينَ [ القلم/ 17] جب انہوں نے قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم صبح ہوتے اس کا میوہ توڑلیں گے ۔ فَيُقْسِمانِ بِاللَّهِ [ المائدة/ 106] اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں ۔ ماسمعتہ وتقاسما باہم قسمیں اٹھانا ۔ قرآن میں ہے : وَقاسَمَهُما إِنِّي لَكُما لَمِنَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 21] اور ان کی قسم کھاکر کہا کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ۔ نيل النَّيْلُ : ما يناله الإنسان بيده، نِلْتُهُ أَنَالُهُ نَيْلًا . قال تعالی: لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ [ آل عمران/ 92] ، وَلا يَنالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا [ التوبة/ 120] ، لَمْ يَنالُوا خَيْراً [ الأحزاب/ 25] والنَّوْلُ : التّناول . يقال : نِلْتُ كذا أَنُولُ نَوْلًا، وأَنَلْتُهُ : أولیته، وذلک مثل : عطوت کذا : تناولت، وأعطیته : أنلته . ونِلْتُ : أصله نَوِلْتُ علی فعلت، ثم نقل إلى فلت . ويقال : ما کان نَوْلُكَ أن تفعل کذا . أي : ما فيه نَوَال صلاحک، قال الشاعر : جزعت ولیس ذلک بالنّوال قيل : معناه بصواب . وحقیقة النّوال : ما يناله الإنسان من الصلة، وتحقیقه ليس ذلک مما تنال منه مرادا، وقال تعالی: لَنْ يَنالَ اللَّهَ لُحُومُها وَلا دِماؤُها وَلكِنْ يَنالُهُ التَّقْوى مِنْكُمْ [ الحج/ 37] . ( ن ی ل ) النیل ۔ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جسے انسان اپنے ہاتھ سے پکڑلیتا ہے ۔ اور یہ نلتہ الالہ نیلا کا مصدر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ [ آل عمران/ 92] تم کبھی نیکی حاصل نہیں کرسکو گے ۔ وَلا يَنالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا [ التوبة/ 120] یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ۔ لَمْ يَنالُوا خَيْراً [ الأحزاب/ 25] کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ باغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنات جمع لانے کی وجہ یہ ہے کہ بہشت سات ہیں ۔ (1) جنۃ الفردوس (2) جنۃ عدن (3) جنۃ النعیم (4) دار الخلد (5) جنۃ المآوٰی (6) دار السلام (7) علیین ۔ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٨) اور یہ اصحاب اعراف بہت سے کافروں کو ان کی سیاہ اور بدنما صورتوں اور نیلی آنکھوں کی وجہ سے دوزخ میں داخلہ کے وقت پہچان کر کہیں گے مثلا اے ولید بن مغیرہ، اے ابوجہل، اے امیہ بن خلف، اے ابی بن خلف، اے اسود بن عبدالمطلب، اے رؤسا، کفار ! تمہارا مال و دولت اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے تکبر کرنا آج تمہارے کچھ کام نہ آسکا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٨ (وَنَادآی اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالاً یَّعْرِفُوْنَہُمْ بِسِیْمٰٹہُمْ قَالُوْا مَآ اَغْنٰی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ ) ۔ وہ انہیں یاد دلائیں گے کہ وہ تمہارے حاشیہ نشین ‘ تمہارے وہ لاؤ لشکر ‘ تمہارا وہ غرور وتکبر ‘ وہ جاہ وحشم سب کہاں گئے ؟ اے ابو جہل ! یہ تیرے ساتھ کیا ہوا ؟ اور اے ولید بن مغیرہ ! یہ تیرا کیا انجام ہوا ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

26: اس سے اشارہ ان دیوتاؤں کی طرف ہے جن کو انہوں نے خدائی میں اللہ تعالیٰ کا شریک مانا ہوا تھا، نیز ان سرداروں اور پیشواؤں کی طرف جنہیں بڑا مان کر انہوں نے بے سوچے سمجھے ان کی پیروی کی، اور یہ سمجھ بیٹے کہ یہ لوگ انہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچالیں گے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(48 ۔ 49) ۔ اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اعراف والے بڑے بڑے مشرک اور کافروں سے کہ جن کو پہچانتے ہونگے جھڑکی کے طور پر کہیں گے کہ تمہارا وہ مال جو تم نے دنیا میں جمع کیا تھا یا تمہاری کثرت اور جمعیت اور تکبر آج تمہارے کچھ کام نہ آیا آخر عذاب میں گرفتار ہوئے پھر ان کو حسرت دلانے کی غرض سے غریب مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے حق میں تم قسم کھا کر کہتے تھے کہ ان پر خدا کی رحمت نہ ہوگی اور نہ یہ جنت میں جاویں گے لو اب یہی لوگ تمہارے سامنے جنت میں جاتے ہیں پھر اہل اعراف سے کہا جاویگا کہ تم بھی جنت میں داخل ہو تم کو کچھ خوف و غم نہیں ہے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کافروں سے فرماویگا کہ تم جن غریبوں کو دنیا میں جنت سے محروم بتاتے تھے لو اب یہی لوگ بہشت میں گئے ان کو نہ کچھ خوف ہے نہ غم سورة الانعام میں مالدار مشرکین مکہ کا قول اھؤلاء من اللہ علیھم من بیننا (٦: ٥٣) گذر چکا ہے اور سورة احقاف میں آویگا وقال الذین کفر واللذین امنوا لوکان خیراما سبقونا الیہ (٤٦: ١١) غرض ان مالدار مشرکوں کے سب قولوں کا حاصل یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مالدار اور مسلمانوں کو تنگ دست دیکھ کر یہ کہتے تھے کہ دنیا میں جس طرح ہم لوگ ان غریب مسلمانوں کی بہ نسبت اچھی حالت میں ہیں اسی طرح اگر اسلام کوئی ایسی چیز ہوتی کہ جس میں عقبے کی کچھ بہتری رکھی جاتی تو ان غریبوں سے پہلے ہم اسلام میں داخل ہوتے کیونکہ عزت کی چیز عزت داروں کو شایان ہے ان مالدرا مشرکوں کی اسی طرح کی باتوں کے جواب میں ان سے قیامت کے دن کہا جاویگا کہ جن غریب مسلمانوں کو تم لوگ کم عزت اور جنت کی شایان نہیں سمجھتے تھے آج وہی جنت کے قابل ٹھہرے ہیں صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک (رض) کی حدیث گذر چکی ہے جس میں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کے بڑے بڑے نافرمان مالدار لوگ قیامت کے دن جب دوزخ میں ڈالے جاویں گے تو دوزخ کے پہلے جھونکے کے ساتھ فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کے جس مالداری نے تم کو عقبے سے غافل رکھا دوزخ کے عذاب کے آگے تم کو دنیا کی وہ مالداری کچھ یاد ہے تو وہ لوگ قسم کھا کر کہیں گے کہ اس عذاب کے آگے ہم کو دنیا کی وہ مالداری ذرا بھی یاد نہیں اسی طرح اہل جنت کو جنت کی نعمتوں کی آگے دنیا کی تنگ دستی کچھ یاد نہ آویگی یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:48) اغنی عن۔ فائدہ بخشنا۔ کام آنا۔ غنی بنادینا۔ ما اغنی عنکم وہ تمہارے کسی کام نہ آیا۔ اس نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ جمعکم۔ تمہاری جمعیت۔ تمہاری جماعت۔ تمہارا جمع ہونا۔ ما اغنی میں ما نافیہ ہے اور ما کنتم تستکبرون میں ما بیانیہ ہے۔ ما کنتم تستکبرون۔ جس کا تم گھمنڈ کیا کرتے تھے۔ ماضی استمراری جمع مذکر حاضر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 کہ یہ جہنمی ہیں یا جن کو وہ دنیا میں پہچانتے ہوں گے۔۔ (وحیدی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 48 ۔ تا۔ 53 اسرار و معارف : جہنم میں پڑے ہوئے بعض لوگوں کو تو ان کی شکلوں تک سے پہچانتے ہوں گے اور دنیا میں ان کے کردار سے واقف ہوں گے جب وہ محض مال و دولت یا اختیار و اقتدار پر نازاں عظمت الہی اور دار آخرت کو بھولے ہوئے تھے نہ صرف یہ بلکہ نیک لوگوں پہ پھبتیاں کہتے تھے کہ انہیں دیکھ ویہ آخرت کے انعامات کی امید میں یہاں عبادات کی مصیبت میں پڑے ہیں اور فقر و فاقہ میں بھی شکر ادا کرتے ہیں دولت و مال مل جائے تو بھی عیش ان کے نصیب میں نہیں بھلا آخرت میں انہیں خاک آرام نصیب ہوگا دنیا والوں کے ساتھ تو یہ چل نہیں سکتے اور چلے ہیں آخرت کو پانے ۔ اہل اعراف ان کی یہ باتیں انہیں یاد دلاتے ہوئے کہیں گے کہ تمہارا مال و زر اور جاہ و اقتدار کا ہوا یہاں تو تمہارے کسی کام نہ آیا بلکہ ناجائز مال اور ناروا اختیارات نے تمہیں تباہ کردیا انہی چیزوں پہ تم اکڑتے تھے اوپر دیکھو کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ان پر کبھی رحمت الہی متوجہ نہ ہوگی آج تو نہیں رب العزت نے فرما دیا ہے کہ جنت میں داخل ہوجاؤ جو مظہر رضا ہے اور جہاں تمہیں کسی بات کا در نہیں ہوگا کسی نعمت کے زوال کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا اور نہ کبھی کوئی غم تمہارے پاس پھٹکے گا۔ رحمت باری کی دلیل : دنیادار محض مال و دولت اور اقتدار کو اللہ کی رضا مندی کی سند بنا لیتا ہے جب کہ یہ دونوں چیزیں ہی اس کے لیے وبال آخرت ثابت ہوتی ہیں اور اسے اطاعت الہی سے بیگانہ کردیتی ہیں ہاں اگر اطاعت الہی کی توفیق نصیب ہوجائے تو یہ رحمت باری کی دلیل ہے اگر اطاعت کے ساتھ رزق حلال اور ایسا اقتدار و اختیار بھی نصیب ہو جس میں احکام الہی پہ نہ صرف خود عمل کرے بلکہ دوسروں سے بھی کروا سکے تو یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے لیکن محض مال یا اقتدار جو عظمت باری سے بھی بیگانہ کردے غضب الہی کی ایک صورت ہے۔ اہل جہنم بےقرار ہو کر اہل جنت کو پکاریں گے کہ تمہارے قدموں میں تو چشمے جاری ہیں اور باغات رنگارنگ پھلوں سے لائے ہیں چند گھونٹ پانی ہی عطا کردو کہ اندر بارہ آگ ہی آگ ہے شاید کچھ افاقہ نصیب ہو یا کوئی کھانے کی چیز ہی عطا کردو تو وہ کہیں گے یہاں اپنا کچھ نہیں سب اس ما لک کا ہے جس کے خود ہم بھی ہیں اور اس نے یہ چیزیں کافروں سے روک دی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جسمانی رشتے اور محبتیں جنہیں ہم نسبی یا خونی بھی کہتے ہیں محض دنیا میں متاثر کرتے اس لیے کہ ان پر بقائے نسل کا انحصار ہے برزخ کا تعلق بھی ایک طرف دنیا سے اور دوسری طرف آخرت سے ہے وہاں بھی کسی حد تک ان کا اچر رہتا ہے مگر قیام قیامت پہ ان کا اثر ختم ہوجائے گا اور صرف روحانی اور ایمانی روشہ باقی رہے گا ہاں ایمانی رشتے کے بعد اگر دونوں میں جسمانی رشتہ بھی ہوا تو بہت خوب ورنہ کسی کا باپ یا بیٹا بھی جہنم میں ہوا تو اسے اس کا کوئی دکھ نہیں ہوگا ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ قیامت سب رشتے توڑ دے گی سوائے ان دو افراد کے جو محض اللہ کے لیے جمع ہوئے اور اسی کی طلب میں جدا ہوئے۔ مصیبت بدعات کی : اب بات عظمت الہی کی طرف آگئی کہ یہ تو کمزور لوگ تھے معمولی سی دنیا پہ بپھر گئے اللہ کی ذات تو بہت عظیم ہے اس نے اتنی سخت پابندی کیوں لگا دی تو ارشاد ہوتا ہے ان کا جرم صرف یہ نہیں کہ انہوں نے عبادت ترک کردی بلکہ اپنی طرف سے بدعات و رسومات بنا کر انہیں باعث ثواب جانتے تھے اور کھیل تماشے کو دین سمجھ رکھا تھا کھیل اور تماشے سے مراد ایسے کام ہیں جو انسان محض خواہش نفس پر کرتا ہے جیسا کہ گانا بجانا ، دعوتیں اڑانا یا مردوں عورتو کا مل جل کر مذاق وغیرہ کرنا ان سب باتوں کو یہ عبادت کے طور پر اپنائے ہوئے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا اور انہوں نے کسی بات کی پرواہ ہی نہیں کی بلکہ قیامت کی ملاقات اور بارگاہ الہی کی پیشی تو یہ بھول ہی گئے اگر اس کا خیال ہوتا تو دین نبی سے حاصل کرتے اور اللہ کریم کی اطاعت اختیار کرتے الٹا انہوں نے احکام الہی کا انکار کیا اور جزا چونکہ اعمال کی جنس سے ہوتی ہے لہذا جس طرح یہ ہماری عطمت اور قیامت کی پیشی کو بھول گئے تھے ایسے ہی آج ان کا وجود ہمارے لیے ہے جیسے کوئی بھولی ہوئی چیز جس کی کبھی فکر نہیں کی جاتی۔ ہم نے تو اپنی رحمت ان تک پوری قوت سے پہنچائی اپنا ذاتی کلام نازل فرمایا جو ہر شے اور ہر بات کے بارے حقیقی علم تھا اور پوری پوری رہنمائی بھی کرتا تھا اور سراپا رحمت تھا مگر یہ سب نعمتیں تو ماننے سے تعلق رکھتی تھیں انہوں نے اپنی مرضی اور پسن د سے اس کا انکار کردیا اب یہ جو کچھ بھگت رہے ہیں یہ ان کی اپنی اختیار کردہ راہ کے نتائج ہیں۔ برکات نبوت : یہ جاہل اس انتظار میں رہے کہ دیکھیں جن خطرات سے کتاب الہی نے خبردار کیا ہے کیا وہ سامنے آتے بھی ہیں یا نہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جب یہ سب کچھ واقع ہوجائے گا تو دار عمل ختم ہوچکا ہوگا بھلا پھر اصلاح کی فرصت کسے نصیب ہوگی نور ایمان کے ساتھ برکات نبوت نصیب ہوں تو یہ یقین حاصل ہوجاتا ہے اور شیخ برکات نبوت کا امین ہوتا ہے لہذا اگر آخرت پہ یقین میں پختگی پیدا ہورہی ہو اور نیک باتوں پہ عمل کی طلب دل میں آجائے تو یہی مقصود ہے اگر یہ نعمت نہ ملے تو محض امور دنیا کے لیے کسی کو پیر بنا لینا اپنے ساتھ دھوکا ہے۔ ربوبیت کا تقاضا : کہ جب سب کچھ سامنے آجائے گا تو آخرت کو بھولنے والے بھی کہہ اٹھیں گے واقعی ہمارے پروردگار کے رسول کی سچائی کے ساتھ مبعوث ہوئے تھے یہاں اللہ کی بجائے رسول کی نسبت صفائی نام رب کی طرف کی گئی ہے کہ انبیاء کی بعثت اس کی شان ربوبیت کا تقاضا ہے جس طرح ابدان کی ضرورت کے لیے بیشمار مادی نعمتیں پیدا فرمائی ہیں ویسے ہی ارواح کی جملہ ضروریات کو انبیاء مبعوث فرما کر پورا کردیا پھر حسرت سے کہیں گے کہ کاش آج کوئی سفارشی ہی کام آجاتا کیونکہ کفر کے لیے شفاعت بھی منع ہوگی یا ہمیں دنیا میں لوٹا دیا جاتا تو جو کچھ کرتے رہے ہیں اس سے توبہ کرلیتے اور اللہ کی اطاعت اختیار کرتے گویا وہ خود بھی اس بات پر گواہ ہوں گے کہ اگر چاہتے تو دنیا میں نیکی بھی کرسکتے تھے مگر انہوں نے بدی کی راہ اختیار کی اور اپنے آپ کو تباہ کرلیا اور جو جھوٹ پسارا مذہب کے نام پہ جوڑا تھا وہ ان کے کسی کام نہ آیا۔ بلکہ الٹا عذاب کا باعث بن گیا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

54 اصحاب اعراف دوزخیوں میں سے کچھ لوگوں کو ان کی مخصوص نشانیوں سے پہچان لیں گے۔ اور بطور توبیخ ان سے کہیں گے آج وہ تمہاری جمعیتیں کہاں ہوئیں جن کے بل بوتے پر تم دنیا میں فخر و ناز کیا کرتے تھے اور جن پر مغرور ہو کر قبول حق سے روگردانی کیا کرتے تھے۔ سید محمود آلوسی فرماتے ہیں۔ “ وَ مَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ ” میں مَا سے مراد معبودان باطلہ ہیں اور استکبار سے ان کی عظمت وکبریائی کا اعتقاد مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تم جن معبودوں کی عظمت وکبریائی کے معتقد تھے آج انہوں نے بھی تمہیں کوئی نفع نہ پہنچایا۔ والمراد بھا حینئذ الاصنام و معنی استکبارھم ایاھا اعتقادھم عظمھا و کبرھا ای ما اغنی عنکم جمعکم و اصنامکم التی کنتم تعتقدون کبرھا و عظمھا (روح ج 8 ص 125) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

48 اور اہل اعراف بہت آدمیوں کو جن کے وہ ان کے چہروں کی علامتوں سے پہچانتے ہوں گے کہ یہ لوگ اہل جہنم سے ہیں ان سے یہ اعرافی یوں کہیں گے کہ تمہاری جمعیت تمہارے جتھے اور تمہارا تکبر آمیز برتائو جو تم مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ہر قسم کی دھمکیاں ان کو دیا کرتے تھے وہ جتھے اور وہ تکبر آج تمہارے کچھ کام نہ آئے اور عذاب خداوندی سے تم کو بچانہ سکے۔