Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 60

سورة الأعراف

قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِہٖۤ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶۰﴾

Said the eminent among his people, "Indeed, we see you in clear error."

ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے کہا ہم تم کو صریح غلطی میں دیکھتے ہیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

قَالَ الْمَلُ مِن قَوْمِهِ ... The leaders of his people said; meaning, the general public, chiefs, commanders and great ones of his people said, ... إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ "Verily, we see you in plain error." because of your calling us to abandon the worship of these idols that we found our forefathers worshipping. This, indeed, is the attitude of evil people, for they consider the righteous people to be following misguidance. Allah said in other Ayat, وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُواْ إِنَّ هَـوُلاَءِ لَضَألُّونَ And when they saw them, they said: "Verily, these have indeed gone astray!" (83:32) and, وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوْ كَانَ خَيْراً مَّا سَبَقُونَأ إِلَيْهِ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُواْ بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَـذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ And those who disbelieve say of those who believe: "Had it been a good thing, they (the weak and poor) would not have preceded us thereto!" And when they have not let themselves be guided by it (this Qur'an), they say: "This is an ancient lie!" (46:11) There are several other Ayat on this subject. قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَلَةٌ وَلَكِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

60۔ 1 شرک اس طرح انسانی عقل کو ماؤف کردیتا ہے کہ انسان کو ہدایت، گمراہی اور گمراہی۔ ہدایت نظریاتی ہے۔ چناچہ قوم نوح کی بھی یہی قلبی ماہیت ہوئی، ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) ، جو اللہ کی توحید کی طرف اپنی قوم کو دعوت دے رہے تھے، نعوذباللہ گمراہ نظر آتے تھے۔: تھا جو ناخوب، بتدریج وہی خوب ہوا۔ کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٤] سرداروں کی مخالفت کی وجوہ :۔ انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت کی مخالفت میں عموماً سرداران قوم ہی پیش پیش ہوا کرتے ہیں اس کی بڑی وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ نبی کی دعوت قبول کرلیں تو انہیں ان مناصب یا اس مقام سے دستبردار ہونا پڑتا ہے جو معاشرے میں انہیں حاصل ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں جب نبی یہ دعوت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی کار ساز حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو اس سے از خود ان کے بتوں کی توہین ہوجاتی ہے اور اس کے ساتھ ان کی اپنی عقلوں اور آباؤ اجداد کی عقلوں کی بھی توہین ہوجاتی ہے۔ لہذا یہ سردار قسم کے لوگ انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت پر فوراً بھڑک اٹھتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہوتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا 58؀ ) 7 ۔ الاعراف :58) اس طرح ان کا خبث باطن کھل کر سامنے آجاتا ہے پھر صرف یہی نہیں کہ یہ لوگ خود دعوت قبول نہیں کرتے بلکہ عام طبقہ کو بھی اس راہ سے روکتے اور قبول دعوت پر طرح طرح کی پابندیاں لگا دیتے ہیں اور ایسے لوگوں نے جو سیدنا نوح (علیہ السلام) کو جواب دیا تو ان کا استدلال یہ تھا کہ اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑ دینے اور کوئی اور دین اختیار کرنے سے بڑی گمراہی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ لہذا صریح گمراہی میں ہم نہیں بلکہ تم ہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖٓ۔۔ : کھلی گمراہی میں اس لیے کہ اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر ہمیں ایک نئے دین (توحید) کی طرف کھینچنا چاہتا ہے۔ انبیاء ( علیہ السلام) کے واقعات میں یہ بات قرآن نے نمایاں طور پر بیان فرمائی ہے کہ ان کی دعوت توحید کی مخالفت کرنے والوں میں امراء کا طبقہ ہر زمانے میں پیش پیش رہا ہے، کیونکہ انقلابی دعوت کا پہلا نشانہ یہی لوگ بنتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In reply, his people said: إِنَّا لَنَرَ‌اكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ (|"Indeed we see you in an obvious error|" ). The word: مَلَاء (mala& ) is used for chiefs, headmen and empowered elders of a community or group. The sense of what his peo¬ple said in response to his call was to tell him that he was actually try¬ing to wean them away from their ancestral faith and that all these ideas of rising on some last day and being rewarded or punished were nothing but superstition.

ان کی قوم نے اس کے جواب میں کہا۔ (آیت) قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖٓ اِنَّا لَنَرٰكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ لفظ ملائ قوم کے سرداروں اور برادریوں کے چودھریوں کے لئے بولا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعوت کے جواب میں قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں کہ ہمارے باپ دادوں کے دین سے ہم کو نکالنا چاہتے ہیں اور قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے اور جزا و سزا پانے کے خیالات یہ سب اوہام ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ ضَلٰلَۃٌ وَّلٰكِـنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ ٦١ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:60) الملا۔ اسم جمع ۔ معرف باللام ۔ سرداروں کی جماعت۔ بڑے لوگوں کی جماعت۔ ملا یملا۔ بمعنی بھر دینا۔ قوم کے سردار چونکہ قوم کے دلوں کو اپنی خوبیوں اور محاسن سے بھر دیتے ہیں اس لئے انہیں ملا کہتے ہیں۔ ملا الارض زمین کی وسعتوں کو مقدار بھر بھر دینا ۔ (نیز ملاحظہ ہو : 11:97)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 کہ اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر ہمیں بھی ایک نئے دین ( تو حید) کی طرف کھنچنا چاہتا ہے انبیا ( علیہ السلام) کے واقعات یہ بات قرآن نے نما یاں طور پر بیان کی ہے کہ ان کی دعوت توحید کی مخالفت کرنے والوں میں امرا کا طبقہ ہر زمانہ پیش پیش رہا ہے کیونکہ ایک انقلابی دعوت کا پہلا نشانہ یہی لوگ بنتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” قَالَ الْمَلأُ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ (60) ” قوم کے سرداروں نے جواب دیا : ” ہم کو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔ “ یہی بات مشرکین عرب نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کہی تھی ۔ انہ صباء ” یہ کہ آپ بےدین ہوگئے ہیں۔ “ اور آپ نے دین ابراہیم سے روگردانی اختیار کرلی ہے ۔ جب کوئی شخص گمراہی کی حدیں پار کرلیتا ہے تو وہ ان لوگوں کو گمراہ سمجھتا ہے جو اسے راہ ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور جب کسی کی فطرت مسخ ہوجاتی ہے تو وہ بھی خود سری کے اس مقام تک جا پہنچتا ہے ۔ یوں اقدار بدل جاتی ہے اور حق و باطل کے پرکھنے کا معیار بدل جاتا ہے ۔ انسان نفسانی خواہشات کے تابع ہوجاتا ہے ۔ الا یہ کہ انسان اللہ کی اقدار اور پیمانوں کو نہیں اپنا لیتا اس لئے کہ یہ اقدار اور پیمانے غیر متبدل ہوتے ہیں اور ان کے اندر کبھی انحراف نہیں ہوتا ۔ جو لوگ آج کے دور میں ہدایات اللہ سے لیتے ہیں ان کو دور جدید کی جاہلیت گمراہ کہتی ہے اور جو محض جاہلیت جدید سے ہدایت اخذ کرے ‘ مغربی تہذیب کے گندے نالے میں گر جائے اور اس کریہہ ماحول میں اتر ائے اسے وہ ہدایت یافتہ اور ترقی یافتہ کہتے ہیں ۔ آج جو عورت اپنے گوشت کو ننگا نہیں کرتی ‘ اپنے جسم کو عریاں نہیں کرتی ‘ اور جو اس پست حالت کو قبول نہیں کرتی اس کے بارے میں جدید جاہلیت کیا کہتی ہے ؟ یہ دنیا جدید دور کی اس پاک وصاف اور صالح عورت کو رجعت پسند کہتی ہے اسے پسماندگی اور دیہاتی پن کا طعنہ دیا جاتا ہے اور جاہلیت جدید نے اپنے پورے ذرائع ابلاغ اور میڈیا کو اس مقصد کے لئے مصروف کر رکھا ہے کہ وہ ہماری عورت کی اس پاکیزگی نظافت اور سربلندی کو ختم کرکے اسے جنسیت کے اس گندے تالاب میں گرا دے جو نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ جن لوگوں کو ترجیحات کھیل کود سے بلند ہیں ‘ جو فلموں ‘ سینماؤں اور ٹیلی ویژن کے جنون سے سربلند ہیں اور جو لوگ رقص و سرود اور جام وسبو کی فحاشیوں اور عیاشیوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہتے ہیں ‘ یہ جاہلیت ان کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟ یہ کہتی ہے کہ یہ لوگ جامد اور کوڑ مغز ہیں ‘ اپنے آپ کو گم ‘ غیر مہذب اور غیر تعلیم یافتہ ہیں ۔ یہ جاہلیت ہر وقت اسی کام میں لگی ہوئی ہے کہ وہ تمام لوگوں کو اس گندگی میں ڈال دے اور لوگ سب کے سب عیاشی اور فحاشی میں زندگی بسر کریں ۔ غرض جاہلیت ہر دور میں جاہلیت ہوتی ہے وہ اشکال وظروف تو بدلتی ہے مگر اس کی ماہیت وہی رہتی ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ گمراہ نہیں ہیں ۔ وہ ان کے سامنے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی دعوت کیا ہے اور اس دعوت کا سرچشمہ کیا ہے ؟ یہ کہ انہوں نے اپنی سوچ اور فکر سے اس دعوت کو نہیں شروع کیا نہ انکی شروع کیا نہ ان کی یہ ذاتی خواہش ہے ۔ وہ تو رب العالمین کے رسول ہیں اور حامل رسالت ہیں۔ وہ نہایت ہی امانت و دیانت سے اللہ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق نصیحت کرتے ہیں اور وہ جو تعلیمات دیتے ہیں وہ بھی رب العالمین کی طرف سے ہیں ۔ یہ تعلیمات ان کے قلب پر اترتی ہیں اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے جبکہ تم لوگ اللہ کے ساتھ رابطہ نہیں رکھتے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

71: حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بڑے بڑوں نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگے اے نوح ہم تجھے کھلی گمراہی میں سمجھتے ہیں کیونکہ تو ہم کو صرف ایک خدا کو ماننے کی دعوت دے رہا ہے جو ہمارے باپ دادا کے دین کے صریح خلاف ہے۔ ای انا لنراک فی دعائنا الی الہ واحد فی ضلال مبین (قرطبی ج 7 ص 234) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

60 اس پر نوح (علیہ السلام) کی قوم کے رئوسا اور بڑے بڑے آدمیوں نے جواب دیا ہم تو تجھ کو کھلی گمراہی اور صریح غلطی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں تو اس طریقہ عبادت کو بند کرنا چاہتا ہے جو ہمارے بڑوں سے چل آرہا ہے اس سے بڑھ کر اور کیا گمراہی ہوسکتی ہے۔