Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 61

سورة الأعراف

قَالَ یٰقَوۡمِ لَیۡسَ بِیۡ ضَلٰلَۃٌ وَّ لٰکِنِّیۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۶۱﴾

[Noah] said, "O my people, there is not error in me, but I am a messenger from the Lord of the worlds."

انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم! مجھ میں تو ذرا بھی گمراہی نہیں لیکن میں پروردگار عالم کا رسول ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

(Nuh) said: "O my people! There is no error in me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists!" meaning, there is nothing wrong with me, but I am a Messenger from the Lord of all that exists, Lord and King of all things, أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاَتِ رَبِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

These were harsh words. But, the reply given by Sayyidna Nuh (علیہ السلام) carries an eloquent diction fit for a prophet. Here, he is leaving a trail for all carriers of da&wah, preachers and reformers, as a signpost of education and guidance. Here, he is not responding on the same wave length, not anger against anger, but trying to remove their doubts in the simplest possible words: قَالَ يَا قَوْمِ لَيْسَ بِي ضَلَالَةٌ وَلَـٰكِنِّي رَ‌سُولٌ مِّن رَّ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٦١﴾ أُبَلِّغُكُمْ رِ‌سَالَاتِ رَ‌بِّي وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴿٦٢﴾. (He said, |"0 my people, there is no error in me, but I am a messenger from the Lord of the worlds. I con¬vey to you the messages of my Lord and wish your betterment, and I know from Allah what you do not know). In other words, what Sayyid¬na Nuh (علیہ السلام) is telling his people was that their accusation that he has gone astray was not true. However, the fact remained that he was not bound by their ancestral customs rooted in ignorance like them. Instead of that, he was sent as a messenger from the Lord of all the worlds. Whatever he was telling them was under the guidance of his Lord. His sole mission was to convey the message of Allah Ta` ala to them which was in their interest and for their good. This was not for any benefit of Allah Ta` ala nor did it serve any personal interest of his own.& The expression: ` Lord of all the worlds& in this statement strikes decisively against believing in Shirk by associating others with the pristine Divinity of Allah Ta` ala. Once the spirit of this assertion is un¬derstood, no god or goddess of any denomination can stand valid as objects of worship. After that, he said that the doubts they had about the punishment of the Last Day were because of their lack of awareness - and, as for him, he was blessed with certitude in this matter by Allah Ta` ala. After that comes the reply to the other doubt expressed by them. This has been stated clearly in Surah Al-Mu&minun: يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَأَنزَلَ مَلَائِكَةً that is, the people of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) came up with another doubt about the call given by him. They thought that he was only human, a man like them who ate, drank, slept and woke as they did. How could they take him as their leader? Had Allah wanted to send a message for them, he should have sent angels with it whose distinction and greatness would have impressed them. Now, what they saw here was no more than that there was someone from among their own race and community who wished to establish his superiority over them - 23:24.

اس دل آزاد و دلخراش گفتگو کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے پیغمبرانہ لہجہ میں جو جواب دیا وہ مبلغین اور مصلحین کے لئے ایک اہم تعلیم اور ہدایت ہے کہ اشتعال کی بات پر مشتعل اور غضبناک ہونے کے بجائے۔ سادہ لفظوں میں ان کے شبہات کا ازالہ فرما رہے ہیں۔ (آیت) قَالَ يٰقَوْمِ لَيْسَ بِيْ ضَلٰلَةٌ وَّلٰكِنِّيْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنْصَحُ لَكُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ یعنی اے میری قوم مجھ میں کوئی گمراہی نہیں مگر بات یہ ہے کہ میں تمہاری طرح آبائی رسوم جہالت کا پابند نہیں بلکہ میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں جو کچھ کہتا ہوں ہدایت ربی سے کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کا پیغام تم کو پہنچاتا ہوں جس میں تمہارا ہی بھلا ہے نہ اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی فائدہ اور نہ میری کوئی غرض۔ اس میں رب العالمین کا لفظ عقیدہ شرک پر ضرب کاری ہے کہ اس میں غور کرنے کے بعد نہ کوئی دیوی اور دیوتا ٹھہر سکتا ہے نہ کوئی یزدان و اہرمن۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم کو جو قیامت کے عذاب میں شبہات ہیں اس کی وجہ تمہارا بیخبر ی اور ناواقفیت ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا علم یقین دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ان کے دوسرے شبہ کا جواب ہے جو سورة مومنون میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ (آیت) ما ھذا الا بشر ملئکۃ الخ۔ یعنی ان کی قوم نے نوح (علیہ السلام) کی دعوت پر ایک شبہ یہ بھی کیا کہ یہ تو ہماری ہی طرح ایک بشر اور انسان ہیں ہماری ہی طرح کھاتے پیتے سوتے جاگتے ہیں ان کو ہم کیسے اپنا مقتدا مان لیں اگر اللہ تعالیٰ کو ہمارے لئے کوئی پیغام بھیجنا تھا تو وہ فرشتوں کو بھیجتے جن کا امتیاز اور بڑائی ہم سب پر واضح ہوتی۔ اب تو اس کے سوا کوئی بات نہیں کہ ہماری قوم اور نسل کا ایک آدمی ہم پر اپنا تفوق اور بڑائی قائم کرنا چاہتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنْصَحُ لَكُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝ ٦٢ بَلَاغ : التبلیغ، نحو قوله عزّ وجلّ : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] ، وقوله عزّ وجلّ : بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35] ، وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] ، فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] . والبَلَاغ : الکفاية، نحو قوله عزّ وجلّ : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] البلاغ ۔ کے معنی تبلیغ یعنی پہنچا دینے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : هذا بَلاغٌ لِلنَّاسِ [إبراهيم/ 52] یہ ( قرآن ) لوگوں کے نام ( خدا ) پیغام ہے ۔ بَلاغٌ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفاسِقُونَ [ الأحقاف/ 35]( یہ قرآن ) پیغام ہے سود اب وہی ہلاک ہوں گے جو نافرمان تھے ۔ وَما عَلَيْنا إِلَّا الْبَلاغُ الْمُبِينُ [يس/ 17] اور ہمارے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے ۔ فَإِنَّما عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسابُ [ الرعد/ 40] تمہارا کام ہمارے احکام کا ) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے ۔ اور بلاغ کے معنی کافی ہونا بھی آتے ہیں جیسے : إِنَّ فِي هذا لَبَلاغاً لِقَوْمٍ عابِدِينَ [ الأنبیاء/ 106] عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں ( خدا کے حکموں کی ) پوری پوری تبلیغ ہے نصح النُّصْحُ : تَحَرِّي فِعْلٍ أو قَوْلٍ فيه صلاحُ صاحبِهِ. قال تعالی: لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلكِنْ لا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 79] وَلا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ لَكُمْ [هود/ 34] وهو من قولهم : نَصَحْتُ له الوُدَّ. أي : أَخْلَصْتُهُ ، ونَاصِحُ العَسَلِ : خَالِصُهُ ، أو من قولهم : نَصَحْتُ الجِلْدَ : خِطْتُه، والنَّاصِحُ : الخَيَّاطُ ، والنِّصَاحُ : الخَيْطُ ، وقوله : تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحاً [ التحریم/ 8] فمِنْ أَحَدِ هذين، إِمَّا الإخلاصُ ، وإِمَّا الإِحكامُ ، ويقال : نَصُوحٌ ونَصَاحٌ نحو ذَهُوب وذَهَاب، ( ن ص ح ) النصح کسی ایسے قول یا فعل کا قصد کرنے کو کہتے ہیں جس میں دوسرے کی خیر خواہی ہو قرآن میں ہے ۔ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسالَةَ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلكِنْ لا تُحِبُّونَ النَّاصِحِينَ [ الأعراف/ 79] میں نے تم کو خدا کا پیغام سنادیا ۔ اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم ایسے ہو کہ خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے ۔ یہ یا تو نصحت لہ الود کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی کسی سے خالص محبت کرنے کے ہیں اور ناصح العسل خالص شہد کو کہتے ہیں اور یا یہ نصحت الجلد سے ماخوذ ہے جس کے معنی چمڑے کو سینے کے ہیں ۔ اور ناصح کے معنی درزی اور نصاح کے معنی سلائی کا دھاگہ کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحاً [ التحریم/ 8] خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو ۔ میں نصوحا کا لفظ بھی مذکورہ دونوں محاوروں میں سے ایک سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی خالص یا محکم توبہ کے ہیں اس میں نصوح ور نصاح دو لغت ہیں جیسے ذھوب وذھاب علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:61) لیس بی ضلالۃ۔ لیس فعل ناقص۔ واحد مذکر غائب۔ بمعنی نہیں۔ ضلالۃ۔ گمراہی۔ لیس بی ضلالۃ مجھ میں کوئی گمراہی نہیں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) ” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “ یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار ہی نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار آنے والی آیات سے ہوتا ہے ۔ آیت ” ْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون “۔ (٧ : ٦٣) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “ ۔ اللہ کی جانب سے کسی ایک شخص کی پیغامبری کے لئے چن لینا اگرچہ تعجب خیز ہے لیکن حضرت انسان کی پوری شان ہی نرالی ہے ، یہ تو جہانوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے ‘ ان سے مربوط ہے ۔ دوسری جانب یہ اللہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ نے خود اس کے جسم میں روح اور زندگی پھونکی ہے ‘ لہذا اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی انسان کو رسول بناتا ہے اور اس کام کو اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو اس منصب کے لئے منتخب کرے تو یہ انسان پھر اللہ سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ نے اس کے جسم کے اندر یہ استعداد اور قابلیت رکھ دی ہوتی ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے اور اسی وجہ سے وہ خالق کائنات کے ہاں معزز اور مکرم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ ” تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور پھر تم پر رحم کیا جائے ۔ “ رسول کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جائے اور ان کے دل دہل جائیں اور وہ تقوی کے لئے آمادہ ہوں اور آخر کار رحمت خداوندی سے بہرہ ور ہوں ۔ اس سے زیادہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کوئی اور مقصد نہ تھا ۔ یہی وہ بلند اور اعلی نصب العین ہے جس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کام کر رہے تھے ۔ لیکن انسان کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ جب وہ ایک معین حد سے گزر جائے تو تو وہ پھر غور وفکر اور سوچ سے کام نہیں لیتی اور اس کے لئے انذار اور نصیحت آموزی نفع بخش نہیں رہتی ۔ آیت ” فَکَذَّبُوہُ فَأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ فِیْ الْفُلْکِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا إِنَّہُمْ کَانُواْ قَوْماً عَمِیْنَ (64) ” مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔ “ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے مخلصانہ نصیحت اور حقیقی خطرے سے ڈراوے کو قبول نہ کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے تکذیب کی اور اسی وجہ سے وہ اس انجام تک پہنچے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے ۔ اب تاریخ کی گاڑی ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور قرآن اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ ہم اب حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کے سامنے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

72: قوم نے چونکہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف گمراہی کی نسبت کرنے میں مبالغہ کیا تھا اس لیے انہوں نے بھی نہایت بلیغ انداز میں اپنی ذات سے گمراہی کی نفی کی۔ “ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٍ ”“ ضَلٰلَةٍ ” کی تنوین تنکیر کے لیے اور پھر نفی کے تحت داخل ہے۔ یعنی کھلی گمراہی میں ہونا تو درکنار مجھ میں تو گمراہی کا ادنی شائبہ تک نہیں اور ہو بھی کیسے ہوسکتا ہے میں تو خداوند عالم کا رسول ہوں اور میرا فریضہ یہ ہے کہ اللہ کے پیغامات تم کو پہنچاؤں اور ہر طرح تمہاری خیر خواہی کروں اور یہ بھی یاد رکھو اللہ کی طرف سے جو علوم و معارف میں جانتا ہوں تم کو انکا علم نہیں اس لیے میری طرف گمراہی کی نسبت کرنا عقل و نقل کے خلاف ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

61 نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے برادرانِ قوم گمراہی میں تو میں ذرا بھی مبتلا نہیں ہوں البتہ یہ ضرور ہے کہ میں رب العالمین کا فرستادہ اور اس کا پیغامبر ہوں۔ یعنی جو تمام جہانوں کا پروردگار اور مالک ہے اس نے مجھ کو اپنا پیام دیکر بھیجا ہے۔