Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 65

سورة الأعراف

وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۵﴾

And to the 'Aad [We sent] their brother Hud. He said, "O my people, worship Allah ; you have no deity other than Him. Then will you not fear Him?"

اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ( علیہ السلام ) کو بھیجا ۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں سو کیا تم نہیں ڈرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of Hud, Peace be upon Him, and the Lineage of the People of `Ad Allah says, وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُوداً قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ أَفَلَ تَتَّقُونَ And to `Ad (the people, We sent) their brother Hud. He said: "O my people! Worship Allah! You have no other god but Him. Will you then not have Taqwa!" Allah says, just as We sent Nuh to his people, similarly, to the `Ad people, We sent Hud one of their own brethren. Muhammad bin Ishaq said that the tribe of `Ad were the descendants of `Ad, son of Iram, son of `Aws, son of Sam, son of Nuh. I say, these are indeed the ancient people of `Ad whom Allah mentioned, the children of `Ad, son of Iram who were living in the deserts with lofty pillars or statues. Allah said, أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى الْبِلَـدِ Have you not seen how your Lord dealt with `Ad (people). Of Iram like (lofty) pillars. The like of which were not created in the land. (89:6-8), because of their might and strength. Allah said in another instance, فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُواْ فِى الاٌّرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُواْ مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّ اللَّهَ الَّذِى خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَكَانُواْ بِـَايَـتِنَا يَجْحَدُونَ As for `Ad, they were arrogant in the land without right, and they said: "Who is mightier than us in strength!" See they not that Allah Who created them was mightier in strength than them. And they used to deny Our Ayat! (41:15) The Land of `Ad The people of `Ad lived in Yemen, in the area of Ahqaf, which means sand mounds. Muhammad bin Ishaq narrated that Abu At-Tufayl Amir bin Wathilah said that; he heard Ali (bin Abi Talib) saying to a man from Hadramawt (in Yemen), "Have you seen a red sand mound, where there are a lot of Arak and Lote trees in the area of so-and-so in Hadramawt? Have you seen it?" He said, "Yes, O Commander of the faithful! By Allah, you described it as if you have seen it before." Ali said, `I have not seen it, but it was described to me." The man asked, "What about it, O Commander of the faithful?" Ali said, "There is the grave of Hud, peace be upon him, in its vicinity." Ibn Jarir recorded this statement, which gives the benefit of indicating that `Ad used to live in Yemen, since Prophet Hud was buried there. Prophet Hud was among the noble men and chiefs of `Ad, for Allah chose the Messengers from among the best, most honorable families and tribes. Hud's people were mighty and strong, but their hearts were mighty and hard, for they were among the most denying of Truth among the nations. Prophet Hud called `Ad to worship Allah alone without partners, and to obey and fear Him. Debate between Hud and his People Allah tells;

ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف حضرت نوح کو ہم نے بھیجا تھا قوم عاد کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے ۔ یہ عاد اولیٰ ہیں ۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے ۔ فرمان ہے آیت ( الم تر کف فعل ربک بعاد ارم ذات العماد التی لم یخلق مثلھا فی البلاد ) یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا ؟ جو بلند قامت تھے دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے ۔ یہ لوگ بڑے قوی طاقتور اور لانبے چوڑے قد کے تھے جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقینا ان سے زیادہ طاقت والا ہے ۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے ان کے شہر یمن میں احقاف تھے ، یہ ریتلے پہاڑ تھے ۔ حضرت علی نے حضرت موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے اس نے کہا امیر المومنین آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے آپ نے فرمایا نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں حضرت ہود علیہ السلام کی قبر ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں اسی لئے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے اس لئے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کو بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے ۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے ۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی عبادت کی دعوت کیوں دی ؟ حضرت ہود نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں ۔ میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں ۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا ، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانتداری کا نمونہ بننا ۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈراوے ۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا ۔ تمہیں باقی رکھا اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل ، مضبوط اور طاقتور کر دیا ۔ یہی نعمت حضرت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی ۔ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

65۔ 1 یہ قوم عاد، عاد اولیٰ ہے جن کی رہائش یمن میں ریتلے پہاڑوں پر تھی اور اپنی قوت و طاقت میں بےمثال تھی۔ ان کی طرف حضرت ہود علیہ السلام، جو اسی قوم کے ایک فرد تھے نبی بن کر آئے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٠] سیدنا ہود کا مرکز تبلیغ :۔ طوفان نوح کے بعد بھی ایک مدت سیدنا نوح (علیہ السلام) زندہ رہے پھر اس طوفان کے تقریباً چھ سو سال بعد سیدنا ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کی طرف بھیجا گیا یہ سام کی اولاد میں سے تھے جو عاد عرب کی قدیم ترین قوم تھی، جس کے افسانے عرب میں زبان زد عام تھے اس قوم کو عاد اولیٰ بھی کہا جاتا ہے اس کی شان و شوکت بھی ضرب المثل تھی اور دنیا سے اس کا نام و نشان تک مٹ جانا بھی ضرب المثل بن گیا تھا۔ اسی شہرت کی وجہ سے عربی زبان میں ہر قدیم چیز کے لیے عادی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ آثار قدیمہ کو عادیات کہتے ہیں اور جس زمین کے مالک باقی نہ رہے ہوں یا مدت سے بنجر پڑی ہو اسے عادی الارض کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا اصل مسکن احقاف کا علاقہ تھا جو حجاز، یمن اور یمامہ کے درمیان الربع الخالی کے جنوب مغرب میں واقع ہے یہیں سے پھیل کر ان لوگوں نے یمن کے مغربی سواحل اور عمان اور حضرموت سے عراق تک اپنی طاقت کا سکہ رواں کردیا تھا۔ یہ قوم بڑی قد آور، مضبوط اور سرکش تھی۔ رہنے کے لیے زمین دوز شہروں کے شہر بسا رکھے تھے اور بت پرستی میں بری طرح پھنسے ہوئے تھے۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) نے انہیں بت پرستی سے منع کیا اور سمجھایا کہ یہ بت نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں لہذا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جو ہر چیز کا خالق ومالک ہے اور ہر قسم کے اختیارات و تصرفات صرف اسی کے قبضہ ئقدرت میں ہیں۔ لہذا انہیں اپنی اس غلط روش سے پرہیز کرنا چاہیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭ: عاد عرب کی ایک قدیم ترین قوم تھی جو جنوبی عرب میں آباد تھی۔ قرآن کے بیان کے مطابق ان کا مسکن ” احقاف “ کا علاقہ تھا جو حجاز، یمن اور عمان کے درمیان واقع ہے اور اب ” ربع خالی “ کے نام سے مشہور ہے۔ یمن کا شہر حضر موت ان کا پایۂ تخت تھا۔ ان کا نسب یوں بیان کیا جاتا ہے، عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح۔ ( ابن کثیر) مگر اس کی صحت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد قرآن میں عاد ارم یا عاد اولیٰ کے نام سے مذکور ہے۔ حضر موت کے نزدیک ایک مقام پر ہود (علیہ السلام) کی قبر بتائی جاتی ہے۔ ( المنار) مگر ملا علی قاری نے الموضوعات میں لکھا ہے کہ انبیاء میں سے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ میں سے ابوبکر اور عمر (رض) کی قبروں کے سوا کسی نبی یا صحابی کی قبر کا کوئی صحیح علم نہیں ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary A Brief History of ` Ad and Thamud ` Ad is the name of a person who is in the fifth generation after Sayyidna Nuh (علیہ السلام) and is among the progeny of his son Sam. Then, his progeny, and his people, came to be known by the name of ` Ad. In the Holy Qur&an, ` Ad also appears with the words: عَادَ اُولٰی (&Ad al-&ula: ` Ad, the First) and also: إِرَ‌مَ ذَاتِ الْعِمَادِ that is, of the city of Iram with lofty pillars; or tall like lofty pillars - 89:7) which tells us that the people of ` Ad are also known in association with the name of Iram, and that with ` Ad I, there is some ` Ad II as well. In this investigation, commentators and historians differ. The better known proposition is that Iram is the name of the grandfather of ` Ad. This ` Ad is among the children of &Aus who was his son, and is known as ` Ad I. His second son, جَثو (Jathw) had a son. His name was Thamud. He is called ` Ad II. The outcome is that ` Ad and Thamud are both two branches of Iram. One of them is called ` Ad I and the other is known as Thamud or ` Ad II, and the word: اِرَم (Iram) is common to both ` Ad and Thamud. Some commentators have said that at the time when the punish¬ment overtook the people of ` Ad, a deputation of theirs was on a visit to Makkah al-Mu` zzamah, which remained safe from this punishment. It is known as the other ` Ad. (Bayan al-Qur&an) Hud (علیہ السلام) is the name of a prophet. He is also in the fifth genera¬tion of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) and is among the progeny of Sam. The genealogical tree of the people of ` Ad and Sayyidna Hud (علیہ السلام) converges on Sam in the fifth generation. Therefore, Sayyidna Hud (علیہ السلام) is a lineal brother to ` Ad. That is why it was said: اَخَاھُم ھُوداً (their brother Hid - 65) The people of ` Ad had thirteen families. Their habitations were spread out from Oman to Hadramaut and Yaman. Their lands were fertile. Gardens were abundant. To live they constructed mansions and palaces. They were tall and heavily built. This is what the expres¬sion زَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَسْطَةً (gave you increased strength in physique - 69) means. Allah Ta` ala had opened the doors of His blessing upon them. But, their crooked thinking made these very blessings a curse for them. They became so intoxicated with their power and grandeur that they started boasting: مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً (Who is superior to us in strength?-41:15). How strange of them that they took no notice of their Lord and the Lord of the worlds bathed in whose blessings they all were and went on to sink themselves into the worship of idols carved out of rocks! The Lineage of Sayyidna Hud (علیہ السلام) and Some Glimpses of the Background These were the people for whose guidance Allah Ta` ala sent Sayy¬idna Nuh (علیہ السلام) as a prophet who was from their family. The famous authority on Arab genealogy, Abu al-Barak-at al-Jauni has written that the name of the son of Sayyidna Hud rx..ll., 1c is Ya’ rub ibn Qahtan who went to live in Yaman. Yamani people are his progeny. The Arabic lan¬guage originated from him and it was this correspondence with &Ya&rub& that the language was called Arabic and its speakers, the Ar¬abs. (al-Bahr Al-Muhit) But, the truth of the matter is that the Arabic language was there since the time of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . In his Ark, he had a compan¬ion called Jurhum. He spoke Arabic (A1-Bahr A1-Mubit). The populating of Makkah al-Mu` azzamah started from this very Jurhum. However, it is possible that the origination of the Arabic language took place in Ya¬man through Ya&rub ibn Qahtan and this may be what Abu al-Barakat has meant. Sayyidna Hud induced the people of ` Ad to forsake idol-worship and take to pure monotheism and shun injustice and oppres¬sion and practice moderation and justice. But, these people were drunk with power and wealth. They did not listen to him. Consequent¬ly, the first punishment that visited them was that rains stopped com¬ing for a full three years in succession. Lands became deserts. Gardens turned into dead wood. But, these people still kept sticking to Shirk and idol-worship. Then, came another punishment. A severe wind storm overtook them. It continued for eight days and seven nights. What remained of their gardens and mansions and palaces was levelled to the ground. Their men and animals went up into the air and zoomed back hitting the floor on their heads. Thus, the people of ` Ad were eliminated to the last man. The sense of the expression: وَقَطَعْنَا دَابِرَ‌ الَّذِينَ كَذَّبُوا (and we eradicated those who belied Our signs) in this verse, as determined by some commentators, is that all those people present at that time were totally destroyed. Some other commentators have said that it means that Allah Ta` ala cut off the lineal root of the people of ` Ad for the future as well. When the punishment for not listening to Sayyidna Hud (علیہ السلام) and insisting on Kufr and Shirk came down upon his people, he and his companions took refuge in an open area enclosed with stakes. It was strange that the stormy winds which were making palaces collapse on their columns would suddenly change pace and enter this enclosure gently. Sayyidna Hud (علیہ السلام) and his companions kept sitting peacefully where they were even during the descension of the punish¬ment without having to face any inconvenience. It was after the de¬struction of the people of ` Ad that they moved to Makkah al-Mu` azzamah where they lived until death. (A1-Bahr Al-Muhit) That the punishment for the people of ` Ad came in the form of a wind storm has been explicitly and categorically mentioned in the Qur&an. Then, there is the statement in Surah Al-Mu&minun which fol¬lows the narration of the story of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) ثُمَّ أَنشَأْنَا مِن بَعْدِهِمْ قَرْ‌نًا آخَرِ‌ينَ ﴿٣١﴾ that is, then, after them, We brought forth another generation - 23:31. It seems obvious that another generation here means the people of ` Ad. Then, after having given a view of their word and deed, it was said: فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ (an extremely harsh and horrifying sound [ As-Saihah ] took them - 23:41). Based on this statement of the Qur&an, some commentators have said that the punishment which was set upon the people of ` Ad was that of As-Saihah (extremely harsh and screaming sound). But, there is no contradiction here. It is possible that they both came to pass. This was a brief account relating to the people of ` Ad and Sayyidna Hud (علیہ السلام) . Its details as given in the words of the Qur&an follow. (1)-Said in the first verse (65) was: وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُ‌هُ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ , (And to ` Ad [ We sent ] their brother, Hud (علیہ السلام) . He said, |"0 my people, worship Allah; you have no god other than Him. So, do you not fear Allah?|" ). The grave punishment sent upon the people of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) much before the people of ` Ad was still alive in the minds of the people of his time. Therefore, Sayyidna Nuh (علیہ السلام) had no need to describe the severity and gravity of punishment sent upon disobedient people. He considered it quite sufficient to say: Do you not fear Allah?

خلاصہ تفسیر اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے (برادری یا وطن کے) بھائی (حضرت) ہود (علیہ السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (ہونے کے قابل) نہیں (اور بت پرستی چھوڑ دو جیسا آگے وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤ ُ نَا سے معلوم ہوتا ہے) سو کیا تم (ایسے بڑے جرم عظیم یعنی شرک کے مرتکب ہو کر عذاب الٰہی سے) نہیں ڈرتے ان کی قوم میں جو آبرودار لوگ کافر تھے انہوں نے (جواب میں) کہا کہ ہم تم کو کم عقلی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں (کہ توحید کی تعلیم کر رہے ہو اور عذاب سے ڈرا رہے ہو) اور ہم بیشک تم کو جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتے ہیں (یعنی نعوذ باللہ نہ تو توحید صحیح مسئلہ ہے اور نہ عذاب کا آنا صحیح ہے) انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم مجھ میں ذرا بھی کم عقل نہیں لیکن (چونکہ) میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں (انہوں نے مجھ کو تعلیم توحید اور انذار عذاب کا حکم کیا ہے اس لئے اپنا منصبی کام کرتا ہوں کہ) تم کو اپنے پروردگار کے پیغام (اور احکام) پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا خیر خواہ امانت دار ہوں (کیونکہ توحید و ایمان میں تمہارا ہی نفع ہے) اور (تم جو میرے بشر ہونے سے میری نبوت کا انکار کرتے ہو جیسا سورة ابراہیم میں بعد ذکر قوم نوح و عاد وثمود کے ہے (آیت) قالوا ان انتم الا بشر مثلنا اور سورة فصلت میں بعد ذکر عاد وثمود کے ہے (آیت) قالوا لوشاء ربنا لا نزل ملئکة الخ تو) کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت جو تمہاری ہی جنس کا (بشر) ہے کوئی نصیحت کی بات آگئی (وہ نصیحت کی بات وہی ہے جو مذکور ہوئی (آیت) يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ) تاکہ وہ شخص تم کو (عذاب الٰہی سے) ڈراوے (یعنی یہ تو کوئی تعجب کی بات نہیں کیا بشریت و نبوت میں منافاة ہے اوپر افلا تتقون میں ترہیب تھی آگے ترغیب ہے) اور (اے قوم) تم یہ حالت یاد کرو (اور یاد کرکے احسان مانو اور اطاعت کرو) کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم نوح کے بعد (روئے زمین پر) آباد کیا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ (بھی) زیادہ دیا سو خدا تعالیٰ کی (ان) نعمتوں کو یاد کرو (اور یاد کرکے احسان مانو اور اطاعت کرو) تاکہ تم کو (ہر طرح کی) فلاح ہو وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا (خوب) آپ ہمارے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کریں اور جن (بتوں) کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ہم ان (کی عبادت) کو چھوڑ دیں (یعنی ہم ایسا نہ کریں گے) اور ہم کو (نہ ماننے پر) جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو (جیسا افلا تتقون سے معلوم ہوتا ہے) اس (عذاب) کو ہمارے پاس منگوا دو اگر تم سچے ہو انہوں نے فرمایا کہ (تمہاری سرکشی کی جب یہ حالت ہے تو) بس اب تم پر خدا کی طرف سے عذاب اور غضب آیا ہی چاہتا ہے (پس عذاب کے شبہ کا جواب تو اس وقت معلوم ہوجائے گا اور باقی توحید پر جو شبہ ہے کہ ان بتوں کو معبود کہتے ہو جن کا نام تو تم نے معبود رکھ لیا ہے، لیکن واقع میں ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل ہی نہیں تو) کیا تم مجھ سے ایسے (بےحقیقت) ناموں کے باب میں جھگڑتے ہو (یعنی وہ مسمیات بمنزلہ بعض اسماء کے ہیں) جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے (آپ ہی) ٹھہرا لیا ہے (لیکن) ان کے معبود ہونے کی خدا تعالیٰ نے کوئی دلیل (نقلی و عقلی) نہیں بھیجی (یعنی جدال میں مدعی کے ذمہ دلیل ہے اور مقابل کی دلیل کا جواب بھی، سو تم نہ دلیل قائم کرسکتے ہو نہ میری دلیل کا جواب دے سکتے ہو پھر جدال کا کیا معنی) سو تم (اب جدال ختم کرو اور عذاب الٰہی کے) منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں غرض (عذاب آیا اور) ہم نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو (یعنی مؤمنین کو) اپنی رحمت (وکرم) سے (اس عذاب سے) بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ (تک) کاٹ دی (یعنی بالکل ہلاک کردیا) جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور وہ (بوجہ غایت قساوت کے) ایمان لانے والے نہ تھے (یعنی اگر ہلاک بھی نہ ہوتے جب بھی ایمان نہ لاتے اس لئے ہم نے بمقتضائے اس وقت کی حکمت کے خاتمہ ہی کردیا) معارف و مسائل عاد اور ثمود کی مختصر تاریخ عاد اصل میں ایک شخص کا نام ہے جو نوح (علیہ السلام) کی پانچویں نسل اور ان کے بیٹے سام کی اولاد میں ہے۔ پھر اس شخص کی اولاد اور پوری قوم عاد کے نام سے مشہور ہوگئی۔ قرآن کریم میں عاد کی ساتھ کہیں لفظ عاد اولیٰ اور کہیں ارم ذات العماد بھی آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم عاد کو ارم بھی کہا جاتا ہے۔ اور عاد اولیٰ کے مقابلہ میں کوئی عاد ثانیہ بھی ہے، اس کی تحقیق میں مفسرین اور مؤ رخین کے اقوال مختلف ہیں۔ زیادہ مشہور یہ ہے کہ عاد کے دادا کا نام اِرَم ہے اس کے ایک بیٹے یعنی عوص کی اولاد میں عاد ہے یہ عاد اولیٰ کہلاتا ہے اور دوسرے بیٹے جثو کا بیٹا ثمود ہے یہ عادثانی کہلاتا ہے۔ اس تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ عاد اور ثمود دونوں ارم کی دو شاخیں ہیں۔ ایک شاخ کو عاد اولیٰ اور دوسری کو ثمود یا عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے اور لفظ اِرَم عاد وثمود دونوں کے لئے مشترک ہے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ قوم عاد پر جس وقت عذاب آیا تو ان کا ایک وفد مکہ معظمہ گیا ہوا تھا وہ عذاب سے محفوظ رہا اس کو عاد اخری کہتے ہیں (بیان القرآن) اور ھود (علیہ السلام) ایک نبی کا نام ہے یہ بھی نوح (علیہ السلام) کی پانچویں نسل اور سام کی اولاد میں ہیں قوم عاد اور حضرت ہود (علیہ السلام) کا نسب نامہ چوتھی پشت میں سام پر جمع ہوجاتا ہے اس لئے ہود (علیہ السلام) عاد کے نسبی بھائی ہیں اس لئے اخاہم ھوداً فرمایا گیا۔ قوم عاد کے تیرہ خاندان تھے۔ عمان سے لے کر حضرموت اور یمن تک ان کی بستاں تھیں۔ ان کی زمینیں بڑی سرسبز و شاداب تھیں۔ ہر قسم کے باغات تھے۔ رہنے کے لئے بڑے بڑے شاندار محلات بناتے تھے۔ بڑے قد آور قوی الجثہ آدمی تھے آیات مذکورہ میں وَّزَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْۜطَةً کا یہی مطلب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ساری ہی نعمتوں کے دروازے ان پر کھول دئیے تھے۔ مگر ان کی کج فہمی نے انھیں نعمتوں کو ان کے لئے وبال جان بنادیا۔ اپنی قوت و شوکت کے نشہ میں بدمست ہو کر (آیت) من اشد منا قوة کی ڈینگ مارنے لگے۔ اور رب العالمین جس کی نعمتوں کی بارش ان پر ہو رہی تھی اس کو چھوڑ کر بت پرستی میں مبتلا ہوگئے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کا نسب نامہ اور بعض حالات اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ جو خود انھیں کے خاندان سے تھے۔ اور ابولبرکات جونی جو انساب عرب کے بڑے ماہر مشہور ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ ہود (علیہ السلام) کے بیٹے یعرب بن قحطان ہیں جو یمن میں جاکر آباد ہوئے اور یمنی اقوام انھیں کی نسل ہیں۔ اور عربی زبان کی ابتداء انھیں سے ہوئی اور یعرب کی مناسبت سے ہی زبان کا نام عربی اور اس کے بولنے والوں کو عرب کہا گیا۔ (بحر محیط) مگر صحیح یہ ہے کہ عربی زبان تو عہد نوح (علیہ السلام) سے جاری تھی کشتی نوح (علیہ السلام) کے ایک رفیق جرہم تھے جو عربی زبان بولتے تھے (بحر محیط) اور یہی جرہم ہیں جن سے مکہ معظمہ کی آبادی شروع ہوئی، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ یمن میں عربی زبان کی ابتدا یعرب بن قحطان سے ہوئی اور ابو البرکات کی تحقیق کا یہی مطلب ہو۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے قوم عاد کو بت پرستی چھوڑ کر توحید اختیار کرنے اور ظلم و جور چھوڑ کر عدل و انصاف اختیار کرنے کی تلقین فرمائی، مگر یہ لوگ اپنی دولت و قوت کے نشہ میں سرشار تھے۔ بات نہ مانی جس کے نتیجہ میں ان پر پہلا عذاب تو یہ آیا کہ تین سال تک مسلسل بارش بند ہوگئی۔ ان کی زمینیں خشک ریگستانی صحرا بن گئی باغات جل گئے۔ مگر اس پر بھی یہ لوگ شرک و بت پرستی سے باز نہ آئے تو آٹھ دن اور سات راتوں تک ان پر شدید قسم کی آندھی کا عذاب مسلط ہوا جس نے ان کے رہے سہے باغات اور محلات کو زمین پر بچھا دیا ان کے آدمی اور جانور ہوا میں اڑتے اور پھر سر کے بل آکر گرتے تھے۔ اس طرح یہ قوم عاد پوری کی پوری ہلاک کردی گئی۔ آیات مذکورہ میں جو ارشاد ہے (آیت) وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا، یعنی ہم نے جھٹلانے والوں کی نسل قطع کردی اس کا مطلب بعض حضرات نے یہی قرار دیا ہے کہ اس وقت جو لوگ موجود تھے وہ سب فنا کردیئے گئے۔ اور بعض حضرات نے اس لفظ کے یہ معنی قرار دیئے ہیں کہ آئندہ کے لئے بھی قوم عاد کی نسل اللہ تعالیٰ نے منقطع کردی۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی بات نہ ماننے اور کفر و شرک میں مبتلا رہنے پر جب ان کی قوم پر عذاب آیا تو ہود (علیہ السلام) اور ان کے رفقاء نے ایک حَظِیرہ (گھیر) میں پناہ لی۔ یہ عجیب بات تھی کہ اس طوفانی ہوا سے بڑے بڑے محلات تو مہندم ہو رہے تھے مگر اس گھیر میں ہوا نہایت معتدل ہو کر داخل ہوتی تھی۔ ہود (علیہ السلام) کے سب رفقاء عین نزول عذاب کے وقت بھی اسی جگہ مطمئن بیٹھے رہے ان کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی۔ قوم کے ہلاک ہوجانے کے بعد مکہ معظمہ میں منتقل ہوگئے اور پھر یہیں وفات پائی (بحر محیط) قوم عاد کا عذاب ہوا کے طوفان کی صورت میں آنا قرآن مجید میں صراحةً مذکور اور منصوص ہے اور سورة مؤ منون میں قصہ نوح (علیہ السلام) ذکر کرنے کے بعد جو ارشاد ہوا ہے (آیت) ثم انشانا من بعدھم قرنا آخرین، یعنی پھر ہم نے ان کے بعد ایک اور جماعت پیدا کی، ظاہر یہ ہے کہ اس جماعت سے مراد قوم عاد ہے۔ پھر اس جماعت کے اعمال و اقوال بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) فاخذتھم الصیحة بالحق، یعنی پکڑ لیا ان کو ایک سخت آواز نے۔ اس ارشاد قرآنی کی بنا پر بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ قوم عاد پر سخت قسم کی ہیبت ناک آواز کا عذاب مسلط ہوا تھا مگر ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہوسکتا ہے کہ سخت آواز بھی ہوئی ہو اور ہوا کا طوفان بھی۔ یہ مختصر واقعہ ہے قوم عاد اور حضرت ہود (علیہ السلام) کا اس کی تفصیل قرآنی الفاظ کے ساتھ یہ ہے۔ پہلی (آیت) میں وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭقَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ ، یعنی ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو ہدایت کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم تم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں۔ قوم عاد سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) کا عذاب عظیم ابھی تک لوگوں کے ذہنوں سے غائب نہ ہوا تھا اس لئے حضرت ہود (علیہ السلام) کو عذاب کی شدت و عظمت بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی صرف اتنا فرمانا کافی سمجھا کہ کیا تم اللہ کے عذاب سے ڈرتے نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْ سَفَاہَۃٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۝ ٦٦ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ سفه السَّفَهُ : خفّة في البدن، ومنه قيل : زمام سَفِيهٌ: كثير الاضطراب، وثوب سَفِيهٌ: ردیء النّسج، واستعمل في خفّة النّفس لنقصان العقل، وفي الأمور الدّنيويّة، والأخرويّة، فقیل : سَفِهَ نَفْسَهُ [ البقرة/ 130] ، وأصله سَفِهَتْ نفسه، فصرف عنه الفعل نحو : بَطِرَتْ مَعِيشَتَها [ القصص/ 58] ، قال في السَّفَهِ الدّنيويّ : وَلا تُؤْتُوا السُّفَهاءَ أَمْوالَكُمُ [ النساء/ 5] ، وقال في الأخرويّ : وَأَنَّهُ كانَ يَقُولُ سَفِيهُنا عَلَى اللَّهِ شَطَطاً [ الجن/ 4] ، فهذا من السّفه في الدّين، وقال : أَنُؤْمِنُ كَما آمَنَ السُّفَهاءُ أَلا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهاءُ [ البقرة/ 13] ، فنبّه أنهم هم السّفهاء في تسمية المؤمنین سفهاء، وعلی ذلک قوله : سَيَقُولُ السُّفَهاءُ مِنَ النَّاسِ ما وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كانُوا عَلَيْها [ البقرة/ 142] ( س ف ہ ) السفۃ اس کے اصل معنی جسمانی ہلکا پن کے ہیں اسی سے بہت زیادہ مضطرب رہنے والی مہار کو زمام سفیہ کہا جاتا ہے اور ثوب سفیہ کے معنی ردی کپڑے کے ہیں ۔ پھر اسی سے یہ لفظ نقصان عقل کے سبب خفت نفس کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے سفہ نفسہ جو اصل میں سفہ نفسہ ہے پھر اس سے فعل کے نسبت قطع کر کے بطور تمیز کے اسے منصوب کردیا ہے جیسے بطرت معشیتہ کہ یہ اصل میں بطرت معیشتہ ہے ۔ اور سفہ کا استعمال امور دنیوی اور اخروی دونوں کے متعلق ہوتا ہے چناچہ امور دنیوی میں سفاہت کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا تُؤْتُوا السُّفَهاءَ أَمْوالَكُمُ [ النساء/ 5] اور بےعقلوں کو ان کا مال ۔۔۔۔۔۔ مت دو ۔ اور سفاہت اخروی کے متعلق فرمایا : ۔ وَأَنَّهُ كانَ يَقُولُ سَفِيهُنا عَلَى اللَّهِ شَطَطاً [ الجن/ 4] اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف خدا کے بارے میں جھوٹ افتراء کرتے ہیں ۔ یہاں سفاہت دینی مراد ہے جس کا تعلق آخرت سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ أَنُؤْمِنُ كَما آمَنَ السُّفَهاءُ أَلا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهاءُ [ البقرة/ 13] تو کہتے ہیں بھلا جس طرح بیوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں : ۔ میں ان سفیہ کہہ کر متنبہ کیا ہے کہ ان کا مؤمنین کو سفھآء کہنا بنا بر حماقت ہے اور خود ان کی نادانی کی دلیل ہے ۔ اسی معنی میں فرمایا : ۔ سَيَقُولُ السُّفَهاءُ مِنَ النَّاسِ ما وَلَّاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كانُوا عَلَيْها [ البقرة/ 142] احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلہ پر ( پہلے چلے آتے تھے ) اب اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے ۔ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٥) اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی کو نبی بنا کر بھیجا تاکہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور جن ماسوا اللہ چیزوں کو پکارتے ہو ان کی عبادت سے ڈرو اور باز آؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ ) حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو وہی پیغام دیا جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دیا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

51. 'Ad, an ancient Arab people, were well-known throughout Arabia. They were known for their proverbial glory and grandeur. And when they were destroyed, their extinction also became proverbial. So much so that ttre word 'Ad has come to be used for things ancient and the word 'adiyat for archaeological remains. The land whose owner is unknown and which is lying fallow, from neglect is called 'adi al-ard. The ancient Arabic poetry is replete with references to this people. Arab genealogists consider the 'Ad as the foremost among the extinct tribes of Arabia. Once a person of the Banel Dhuhl b. Shayban tribe, who was a resident of the 'Ad territory, called on the Prophet (peace be on him). He related stories to the Prophet about the people of 'Ad, stories handed down to the people of that region from generation to generation. (See Ahmad b. Hanbal, Musnad, vol. 3, p. 482 - Ed.) According to the Qur'an the people of 'Ad lived mainly in the Ahqaf region which is situated to the south-west of the Empty Quarter (al-Rub' al-Khali) and which lies between Hijaz, Yemen and Yamamah. It was from there that the people of 'Ad spread to the western coast of Yemen and established their hegemony in Oman, Hadramawt and Iraq. There is very little archaeological evidence about the 'Ad. Only a few ruins in South Arabia are ascribed to them. At a place in Hadramawt there is a grave which is considered to be that of the Prophet Hud. James R. Wellested, a British naval officer, discovered an ancient inscription in 1837 in a place called Hisn al-Ghurab which contains a reference to the Prophet Hud. The contents unmistakably bear out that it had been written by those who followed the Shari'ah of Hud. (For details see Tafhim al-Qur'an, al-Al. Ahqaf 46, n. 25.)

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :51 یہ عرب کی قدیم ترین قوم تھی جس کے افسانے اہل عرب میں زبان زدعام تھے ۔ بچہ بچہ ان کے نام سے واقف تھا ۔ ان کی شوکت و حشمت ضرب المثل تھی ۔ پھر دنیا سے ان کا نام و نشان تک مٹ جانا بھی ضرب المثل ہو کر رہ گیا تھا ۔ اسی شہرت کی وجہ سے عربی زبان میں ہر قدیم چیز کے لیے عادی کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ آثار قدیمہ کو عادیّات کہتے ہیں ۔ جس زمین کے مالک باقی نہ رہے ہوں اور جو آباد کار نہ ہونے کی وجہ سے اُفتادہ پڑی ہوئی ہو اسے عادیُّ الارض کہا جاتا ہے ۔ قدیم عربی شاعری میں ہم کو بڑی کثرت سے اس قوم کا ذکر ملتا ہے ۔ عرب کے ماہرینِ انساب بھی اپنے ملک کی معدوم شدہ قوموں میں سب سے پہلے اسی قوم کا نام لیتے ہیں ۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنی ذُہل بن شیَبان کے ایک صاحب آئے جو عاد کے علاقہ کے رہنے والے تھے اور انہوں نے وہ قصے حضور کو سنائے جو اس قوم کے متعلق قدیم زمانوں سے ان کے علاقہ کے لوگوں میں نقل ہوتے چلے آرہے تھے ۔ قرآن کی رو سے اس قوم کا اصل مسکن اَحقاف کا علاقہ تھا جو حجاز ، یمن اور یمامہ کے درمیان الرَّبع الخالی کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔ یہیں سے پھیل کر ان لوگوں نے یمن کے مغربی سواحل اور عُمان و حضرموت سے عراق تک اپنی طاقت کا سکّہ رواں کردیا تھا ۔ تاریخی حیثیت سے اس قوم کے آثار دنیا سے تقریباً ناپید ہو چکے ہیں ، لیکن جنوبی عرب میں کہیں کہیں کچھ پرنے کھنڈر موجود ہیں جنہیں عاد کی طرف نسبت دی جاتی ہے حضر موت میں ایک مقام پر حضرت ہود علیہ السلام کی قبر بھی مشہور ہے ۔ ١۸۳۷ میں ایک انگریز بحری افسر ( James R. Wellested ) کو حِصنِ غُراب میں ایک پُرانا کتبہ ملا تھا جس میں حضرت ہود علیہ السلام کا ذکر موجود ہے اور عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی تحریر ہے جو شریعت ہود کے پیرو تھے ۔ ( مزید تشریح کےلیے ملاحظہ ہو الاحقاف حاشیہ ۲۵ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

37: قوم عاد عربوں کی ابتدائی نسل کی ایک قوم تھی جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کم از کم دو ہزار سال پہلے یمن کے علاقے حضرموت کے آس پاس آباد تھی، یہ لوگ اپنی جسمانی طاقت اور پتھروں کو تراشنے کے ہنر میں مشہور تھے، رفتہ رفتہ انہوں نے بت بناکر ان کی پوجا شروع کردی اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے، حضرت ہود (علیہ السلام) ان کے پاس پیغمبر بناکر بھیجے گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو بڑی دردمندی سے سمجھانے کی کوشش کی اور انہیں توحید کی تعلیم دے کر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بننے کی تعلیم دی مگر کچھ نیک طبع لوگوں کے سوا باقی لوگوں نے ان کا کہنا نہیں مانا، پہلے ان کو قحط میں مبتلا کیا گیا اور حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں یاد دلایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تنبیہ ہے، اگر اب بھی تم اپنی بد اعمالیوں سے باز آجاؤ تو اللہ تعالیٰ تم پر رحمت کی بارشیں برسادے گا ؛ لیکن اس قوم پر کچھ بھی اثر نہیں ہوا، اور وہ اپنے کفر وشرک میں بڑھتی چلی گئی، آخر کار ان پر ایک تیز وتند آندھی کا عذاب بھیجا گیا جو آٹھ دن تک متواتر جاری رہا، یہاں تک کہ یہ ساری قوم ہلاک ہوگئی۔ اس قوم کا واقعہ موجودہ سورت کے علاوہ سورۃ ہود (50:11 تا 89) سورۃ مومنون (32:23) سورۃ شعراء (124:26) سورۃ حم السجدہ (15:41) سورۃ احقاف (21:46) سورۃ قمر (18:54) سورۃ الحاقہ (6:69) اور سورۃ فجر (6:89) میں آیا ہے۔ ان کے مختلف واقعات کی تفصیل ان شاء اللہ ان سورتوں میں آئے گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(65 ۔ 72) ۔ حضرت ہود ( علیہ السلام) حضرت نوح ( علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہیں حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت قوم عاد کا ملک حضرموت تک عثمان وغیرہ تھا۔ اور بڑا شاداب ملک تھا قوم عاد کے لوگ بڑے قوی ساٹھ ساٹھ گز کے قدتک کے تھے عذاب کی آندھی آٹھ روز تک جو ان پر چلی پہلے اس آندھی سے کھیتی کرنے والے لوگ اور ان کے جانور پٹخنیاں کھا کھا کر گرے اور ہلاک ہوئے پھر شہروں کے لوگ اسی طرح ہلاک ہوئے قوم عاد نے بہت عمارتیں سنگین بنائیں اور پہاڑوں پر یادگار کے لئے بہت سے مینار بنائے آندھی کے عذاب سے پہلے ان میں قحط کے عذاب پھیلے کئ برس تک سخت قحط رہا چند آدمی ان میں سے مکہ قحط کے رفع کی دعا مانگنے گئے مکہ میں ان دنوں عمالقہ لوگ جو حضرت نوح ( علیہ السلام) کے پوتے عملیق کی اولاد میں ہیں وہ رہتے تھے ابھی یہ دعا مانگنے والے لوگ مکہ ہی میں تھے کہ یہاں آندھی کا عذاب آن کر سب قوم ختم ہوگئی۔ عذاب کے بعد حضرت ہود ( علیہ السلام) یمن کی طرف چلے گئے پھر حضرموت میں آن کر وفات پائی وہیں آپ کا مدفن ہے۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں عبداللہ بن عمر (رض) اور طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایتیں ہیں کہ اس روز ہوا ایک انگوٹھی کے سوراخ کے برابر عادت سے زیادہ کھولی گئی تھی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:65) الی عاد سے پہلے۔ ارسلنا محذوف ہے۔ یہ عطف بھی ہوسکتا ہے نوح پر آیت 59 ۔ عاد سے مراد قوم عاد ہے۔ عاد حضرت نوح کی قوم میں ایک شخص گزرا ہے۔ اس کی نسل اسی کے نام سے موسوم ہوئی۔ عاد بن عوص بن ارم بن شالح بن ار فخشذ بن سام بن نوح ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 عاد عرب کے ایک قدیم ترین قوم تھی، جو جنوب عرب میں اباد تھی، قرآن کے بیان کے مطابق اس کا مسکن احقاف اک علاقہ تھا جو حجاز یمن اور عمان کے دورمیان واقع ہے اور اب ربع خالی کے نام سے مشہور ہے۔ یمن کا شہر حضرموت ان پا یہ تخت تھا۔ ان کا نسب یوں مذکور ہے، عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نو ح۔ ( ابو لفدا) ہود ( علیہ السلام) کی قوم عاد قرآن میں عاد رام یا عاداولی ٰ کے نام سے مذکور ہے، عادبن عوض بن ارم بن سام بن نو ح۔ ( ابو الفدا) ہود ( علیہ السلام) کو قوم عاد قرآن میں عاد ارم یا داولی کے نام سے مذکور ہے، حضرموت کے قریب ایک مقام پر حضرت ہود ( علیہ السلام) کی قبر بتائی جاتی ہے ( المار بحوالہ تاریخ بخاری) حضڑت ہود پہلے شخص ہیں جنہوں نے بو لنے میں عربی زبان استعمال کی یہ یمینی ان کے بیٹے قحطان کے اور نجد وحجاز کے تمام عرب ان کے لڑکے فانع کی اولاد ہیں . ( ابن عساکر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 72 اسرار و معارف : توحید : اسی طرح زمین پر آباد ہونے والے لوگ پھلے پھولے اور پھر سے آبادی بڑھی تو نوح (علیہ السلام) کی پانچویں پشت میں عاد جو ان کے بیٹے سام کی اولاد میں سے تھا معروف آدمی گذرا حتی کہ اس کی پوری قوم عاد کہلائی اسی کے دوسرے بھائی کی اولاد ثمود یا عاد ثانی کہلائی مورخین کی مطابق عاد کے دادا کا نام ارم تھا لہذا انہیں عاد ارم بھی کہا گیا ہے جب یہ لوگ خوب آباد ہوگئے اور زمین سونا اگلنے لگی ہر طرح کی فصلیں اور پھل کثرت سے پیدا ہونے لگے پھر یہ تنومند اور بہت قد آور اقوام تھیں غرض ہر طرح کی شان و شوکت نصیب ہوئی تو اللہ کریم سے غافل ہوگئے اور اپنی طاقت اور دولت کے نشے میں بد مست ہو کر کفر و شرک میں مبتلا ہوگئے۔ ان کی باطنی تباہی رحمت ربوبیت کا تقاضا کرتی تھی لہذا اللہ نے ان ہی کے قومی بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا حضرت ہود (علیہ السلام) بھی سام کی اولاد میں سے تھے یوں تو نبو تانسانیت ہی کا تاج ہے اور کسی دوسری مخلوق کو یہ نعمت نصیب نہیں ہوئی۔ اس لیے کہ انسان اپنی ہی جنس سے مستفید ہوسکتا ہے مگر یہاں یہ نعمت بھی تھی کہ حضرت ہود (علیہ السلام) قوم عاد ہی سے تھے اور ان کے قومی بھائی بھی تھے لہذا انہوں نے برملا اعلان فرمایا کہ اے میری قوم صرف اللہ کی عبادت کرو اس لیے حقیتاً اس کے علاوہ کوئی بھی تمہارا معبود نہیں توحید باری تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نے سب سے پہلے بیان فرمائی اور یہ ہر دین کی بنیاد ہے یاد رہے توحید سے مراد مرکز امید کا واحد ہونا ہے ورنہ اقرار محض تو صورت توحید ہی کا ہی ہوگا فرمایا تمہارا تعلق اس قدر بگڑ چکا ہے کہ اب تمہیں اللہ سے حیا نہیں آتی یعنی توحید کا مدار تعلق قلبی پر ہے جسے تقوی کہا گیا ہے اگر یہ ٹوٹ جائے تو انسان کوئی معبود مان لیتا ہے خواہ زبان سے اقرار نہ بھی کرے۔ سرداران قوم ایسے لوگ جنہوں نے مذہب کے نام پر اپنی سرداریاں قائم کر رکھی تھیں تڑپ اٹھے اور کہنے لگے تمہاری باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ تم بیوقوف ہو جن باتوں پہ ہمارے باپ دادا عمل کرتے تھے اور ہماری مشکلات انہی سے حل ہوتی تھیں بیماریاں دور ہوجاتی تھیں سب کام ہو رہے تھے تم نے کہہ دی ا کہ یہ سب غلط ہے یہ تو بہت بڑی جہالت ہے اور اگر ایسا نہیں تو پھر یقیناً تم جھوٹ بول رہے ہو اور محض اپنا کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہو۔ آپ نے فرمایا میں ہرگز پاگل نہیں ہوں بھلا جو میں کہتا ہوں کیا یہ بات بجز نبی کسی کے احاطہ علمی میں آسکتی ہے ہرگز نہیں دنیا بھر کے حکما ، فلاسفر اور دانشور مل کر بھی ذات وصفات باری سے آگاہی نہیں پا سکتے ہاں یہ مقام نبوت ہے کہ انبیاء کو اللہ کریم خود تعلیم فرما دیتے ہیں اور میں بھی اللہ کا رسول ہوں اس اللہ کا جو تمام جہانوں کا خالق اور پروردگار ہے میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا صرف وہ باتیں جو اللہ کریم تم سے کرنا چاہتے ہیں مجھے ارشاد فرما دیتے ہیں اور میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نیز صرف بات ہی پہنچانا میرا مقصد نہیں مجھے تم سے پوری ہمدردی بھی ہے میں تمہارے دکھ سکھ کو محسوس بھی کرتا ہوں اور تمہاری بہتری چاہتا ہوں پورے خلوص کے ساتھ کہ میں امین بھی ہوں یعنی انبیاء ہر طرح سے امانتدار ہوتے ہیں بات پہنچانے محنت کرنے اور خلوص دل سے لوگوں کی اصلاح کی تمنا کرنے وغیرہ۔ سب امور میں۔ اب رہی یہ بات کہ تم حیران ہو اللہ کو اگر رسول بنانا تھا تو کسی فرشتے کو بناتا یا ہم ےس کوئی بڑا آدمی ہی بنا دیتا قو م میں سے ایک عام آدمی کو نبوت سے سرفراز کردیا اب وہ ہمیں ہمارے اعمال کے نتائج سے مطلع کر رہا ہے تو اپنے سے پہلے دور کو یاد کرو کیا نوح (علیہ السلام) اسی طرح مبعوث نہ ہوئے تھے کیا ان کی تعلیمات یہی نہ تھیں لوگوں نے انکار کیا تو تباہ ہوگئے او سب کو مٹا کر تمہیں ان کے بعد پھر سے زمین پہ آباد کردیا بلکہ تمہیں جسمانی اعتبار سے ان سے بہت مضبوط اور طاقتور بنا دیا اگر تم سوچنا شروع کرو تو دیکھ تم پر کس قدر انعامات فرمائے ہیں جسمانی طاقت اقتدار مال و دولت اولاد شادابی اور پھلوں کی کثرت اللہ کی ان نعمتوں کو یاد کرو کہ تمہارا بھلا اسی میں ہے تو کہنے لگے آپ کی سب باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ ہم ایک اللہ کی بندگی کریں اور جس قدر معبود ہمارے باپ دادوں نے اختیار کیے تھے سب کو چھوڑ دیں یہ نہیں ہوگا اگر اس پہ خفا ہو کر اللہ عذاب نازل کرنا چاہتا ہے اور آپ ہمیں اس عذاب سے ڈرا رہے ہیں تو آپ اسے آنے دیں دیکھا جائے گا مگر ہم کسی عذاب سے ڈر کر رسومات کو ترک نہیں کریں گے۔ اللہ کے غضب کی دلیل : آپ نے فرمایا جب گناہ ایک خاص حد سے بڑھ جاتے ہیں اور اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے تو اس کی دلیل یہی ہے کہ توبہ کی توفیق چھن جاتی ہے انسان برائیوں پر شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کرنے لگتا ہے یہ نہ صرف غضب ہے بلکہ عذاب کی ایک قسم ہے یعنی یہ صورتحال بجائے خود ایک عذاب ہے جس میں تم لوگ مبتلا ہوچکے ہو۔ کیا یہ عذاب الہی نہیں کہ مفروضہ ناموں کو اپنا حاجت روا ثابت کرنے کے لیے پوری قوت صرف کر رہے ہو نہ کوئی آسمانی کتاب اس کی شہادت دیتی ہے نہ کسی نبی اور رسول نے ایسا کرنے کا حکم دیا محض اپنے اوہام کی بنیاد پر چند دیوی دیوتا یا حاجت روا مقرر کرکے اب تعلیمات نبوت کو بدلنا چاہتے ہو اپنی رسوم کو نہیں بدلتے تو انتظار کرو کیا نتیجہ سامنے آتا ہے میں بھی منتظر ہوں۔ اور پھر وہی ہوا نور نبوت ٹوٹ کے برسا مگر روشنی انہی کو دلوں کو نصیب ہوئی جن میں استعداد باقی تھی جن کی زمین گناہ کے باعث شور ہوچکی تھی وہ تباہ و برباد کردئیے گئے قوم عاد پر ہوا کو ہی بطور عذاب مسلط کردیا گیا جو باعث حیات تھی وہی موت اور تباہی کا سبب بن گئی یہ لوگ بہت بڑے بڑے قد آور اور ان کے مکانات محلات کی صورت میں تھے مگر ہوا نے سب کچھ اکھاڑ پچھاڑ کر تباہ کردیا درخت اکھڑ گئے مکان تباہ ہوگئے اور انسان اور جانور ہوا میں اڑ اڑ کر زمین پر گرتے اور ٹوٹ پھوٹ جاتے تھے ہوا سخت تیز اور چیختی ہوئی تھی مگر جن کے دل روشن تھے حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کے لیے ایک گھیرا سا بنا دیا اس کے اندر موسم معتدل رہا اور ہوا رحمت باری کی نوید سناتی رہی وہی ہوا جو دائرے سے باہر غضب الہی کا مظہر تھی۔ یہ عذاب ان پر اس وقت آیا جب انہوں نے مسلسل نافرمانی کرکے اپنے قلوب کو ایمان قبول کرنے کی استعداد سے محروم کرلیا اس قدر سیاہی اور تاریکی دلوں پر چھا گئی کہ وہ رحمت باری سے محروم ہو کر غضب کی لپیٹ میں آگئے اسی لیے فرمایا۔ وماکانوا مومنین۔ یعنی وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (65 تا 70 ) ۔ سفاھتہ (بےوقوفی۔ بےعقلی) ۔ نظن (ہم گمان کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں) ۔ امین (ایماندار) ۔ بصطتہ (پھیلاؤ) ۔ الاء (الی) ۔ نعمتیں) ۔ اجئتنا (کیا تو ہمارے پاس آیا ہے) ۔ لنعبد اللہ (تاکہ ہم اللہ کی عبادت و بندگی کریں) ۔ وحدہ (اس اکیلے کی۔ تنہا کی) ۔ ابائونا (ہمارے باپ دادا) ۔ فاتنا (پس تو لے آ) ۔ تعدنا (تو ہم سے وعدہ کرتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 70 ) ۔ ” قوم عاد دنیا کی قدیم ترین قوموں میں سے ایک قوم ہے اللہ نے ان کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا تھا مگر وہ قوم ان نعمتوں کو پا کر ایسی مد ہوش ہوگئی کہ پھر ان کو ہر نصیحت کرنے والا برا لگنے لگا تھا۔ اس قوم کی حکومت و شوکت اور زبردست طاقتوں کے سامنے ساری دنیا بےبس تھی مگر ان کے غرور، تکبر اور اللہ کی نافرمانیوں نے ان کو اس طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا کہ آج ان کی بلند وبالا عمارتوں کے کھنڈرات بھی مٹ چکے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو اس قوم کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا تھا۔۔۔۔ ۔۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی یہ قوم مشرک تھی جس نے شرک و بدعات کے ایسے طریقے ایجاد کر رکھے تھے جن سے وہ اللہ کی وحدانیت سے بہت دور جاچکے تھے حضرت ہود (علیہ السلام) نے اس مشرک قوم سے سب سے پہلے جو بات کی وہ یہ تھی کہ اللہ اور صرف اللہ ہی کی حاکمیت کو تسلیم کرو جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کی بندگی اور عبادت ہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ بندگی اور عبادت کیا ہے ؟ تقویٰ ہے یعنی نہ صرف ظاہری رسوم پر ستش بلکہ تمام خوف اور تمام امیدوں کو اللہ سے وابستہ کرلینا۔۔۔۔ ۔۔ زبان پر صرف یہی ایک جذبہ ہو ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ اے اللہ ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں یعنی ہم عبادت و بندگی بھی تیری ہی کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ سے ہی مانگتے ہیں یہ نہیں کہ عبادت ہم تیری کرتے ہیں اور غیر اللہ کے دروں پر جا کر ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔۔۔۔ ۔ یہ کیفیت شرک میں تو ہو سکتی ہے دین اسلام میں نہیں۔ کیونکہ وہاں بندہ آقا ہوتا ہے جس کی جا ہے جیسے پرستش کرے نہ کرے جس کو مانے نہ مانے جس سے دعا مانگے نہ مانگے۔ شرک ہمیشہ بہت معمولی انداز میں شروع ہوتا ہے پھر یہ ایک قومی بیماری بن جاتی ہے۔ جب شرک قومی سطح پر ابھر کر سامنے آجاتا ہے تو اس کے مجاور قوم کی دولت اور سیاسی اقتدار لوٹنے کے لئے مذہبی لبادہ سے بہتر اور آسان تر کوئی طریقہ نہیں پاتے۔ اگر مصنوعی معبودوں کی مارکیٹ ویلیو گھٹنے لگتی ہے تو ان کی اجارہ داری ڈولنے لگتی ہے اس لئے تحریک توحید کی سب سے پرزور مخالفت اس ہر اول دستے نے کی ہے اور عوام کی بھیڑ ان کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے کیونکہ اس میں علم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی چند تمناؤں کا نام دین بن کر وہ جاتا ہے اور یہ آسان ہے۔ اس ہر اول دستہ کے ہاتھ میں چند ہتھیار ہوتے ہیں (1) اپنی معلومات معقولات کا گھر وندا بچانے کے لئے وہ اصلاح کرنے والے شخص کے علم و عقل کے مرکز پر حملہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ’ تم جاہل، احمق اور جھوٹے ہو “ اگرچہ وہ ان باتوں کے لئے کوئی دلیل پیش نہیں کرتا مگر وہ اپنے گھمنڈ میں اس طرح کہتا چلا جاتا ہے کہ بس جو کچھ ہم نے کہہ دیا وہی حق ہے اس کے بر خلاف ہر بات غلط ہے۔ اور ان کے ماننے والے ان کی ہر بات پر گردن ہلاہلا کر مہر تصدیق ثبت کرتے چلے جاتے ہیں۔ حضرت ہود (علیہ السلام) سے بھی یہی کہا گیا کہ اے ہود (علیہ السلام) ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ یا تو تم نرے احمق اور نادان ہو اور یا جھوٹے ہو ) نعوذباللہ) پیغمبران کی احمقانہ باتوں کے جواب میں صرف یہ کہتے ہیں کہ لوگو ! یہ تمہارا خیال ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میرے اندران عیبوں میں سے کوئی عیب نہیں ہے جس کو تم کہہ رہے ہو بلکہ میں تو رب العالمنا کا بھیجا ہوا ہوں اور میں اسی پیغام کو تم تک پہنچا رہا ہوں اور میں تمہارا خیر خواہ اور بھلا چاہنے والا ہوں یعنی میں تمہاری دنیا اور آخرت سدھار نے کی بات کر رہا ہوں جس میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ (2) جیسے لوگوں کا دوسرا ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ ” یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص ہمارے اندر پیدا ہوا ہے۔ ہماری طرح شادی بیاہ کرتا ہے وہ کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے جو ہم جیسا ہے وہ اللہ کا پیغمبر کیسے ہو سکتا ہے آخر اس میں کیا خوبی ہے اور ہمارے اندر کیا خرابی ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ شخص ہماری سرداری اور اقتدار ہم سے چھین کر خود سردار بننا چاہتا ہے انبیاء کرام (علیہ السلام) کر طرح حضرت ہود (علیہ السلام) سے بھی یہی کہا گیا اس کے جواب میں حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہی فرمایا کہ ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب اور حیرت ہے کہ ایک شخص تم ہی میں سے تمہارے پاس اللہ کی وحی لے کر آگیا تاکہ وہ تمہیں تمہارے برے انجام سے ڈراسکے۔ (3) ان لوگوں کا تیسرا ہتھیار ہوتا ہے کہ اے نبی اگر تم یہ کہتے ہو کہ ہم باز نہ آئے تو اللہ کا عذاب آجائے گا تو ایسا کرو تم اس عذاب کو لے ہی آئو جس سے تم روز روز ڈراتے ہو ۔ یہ ہمارے معبود ہمیں بچالیں گے۔ ہم اتنے احمق نہیں ہیں کہ تمہارے کہنے سے ہم ان تمام معبودوں کو چھوڑ دیں گے جن کو ہمارے باپ دادا اپنا معبود سمجھتے تھے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کا سنجیدہ جواب یہی تھا کہ تم پر اللہ کی پھٹکار تو پڑچکی ہے اب عذاب آنے میں بھی کیا دیر ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ مشہور اہل نسب کے نزدیک یہی ہے کہ ہود (علیہ السلام) قوم عاد کے نسبی بھائی اور خود قوم عاد سے ہیں اور بعض قلیل دوسری قوم کا بتاتے ہیں اور اخاھم کے معنی صاحبھم لیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور عاد اصل میں ایک شخص کا نام ہے پھر اس کی اولاد کو بھی عاد کہنے لگے اور قدآور اور قوی الجثہ ہوتے تھے۔ زادکم فی الخلق بصطہ کا یہی معنی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن حضرت ھود (علیہ السلام) : حضرت ھود (علیہ السلام) کا تعلق عرب کے عاد قبیلے سے تھا جن کی رہائش موجودہ جغرافیے کے مطابق عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی۔ یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندو بالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے۔ دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ انھوں نے پہاڑ تراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے۔ ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس میں ہر قسم کے باغات آراستہ تھے انھیں قرآن مجید میں ” احقاف والے “ کہا گیا ہے۔ احقاف ریت کے بڑے بڑے ٹیلوں کو کہا جاتا ہے جو عرب کے جنوب مغربی حصہ میں واقع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی علاقہ میں حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو خوش اندام کڑیل جوان اور بہترین صورت و سیرت کے حامل تھے۔ قوم عاد کی خصوصیات اور جرائم : ١۔ اللہ تعالیٰ نے عاد کو قوم نوح کے بعد زمین پر اقتدار اور اختیار بخشا۔ (الاعراف : ٦٩) ٢۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر ٦ تا ٨ ) ٣۔ انھیں افرادی قوت اور مویشیوں سے نوازا گیا۔ (الشعراء : ١٣٣) ٤۔ یہ قوم بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغات میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء ١٢٩ تا ١٣٣) ٥۔ انھوں نے خود ساختہ معبود بنا رکھے تھے ان کے سامنے اپنی حاجات و مشکلات پیش کرتے۔ (الاعراف : ٧٠) ٦۔ یہ لوگ آخرت کو جھٹلانے والے اور دنیا پر اترانے والے تھے۔ (المؤمنون : ٣٣) ٧۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اس دنیا کے سوا اور کوئی جہاں برپا نہیں ہوگا۔ (المؤمنون : ٣٧) یہ اپنی قوت پر اترانے والے تھے۔ (حٰآالسجدۃ : ١٥) حضرت ھود (علیہ السلام) کے خطبات کے اقتباسات : ١۔ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور مشکل کشا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے اور اس کی نافرمانیوں سے بچتے رہو۔ میں تمہارا خیر خواہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احکام پوری امانت داری سے پہنچارہا ہوں۔ سورة ھود میں ان کے خطاب کے اقتباسات یوں ذکر کیے گئے ہیں۔ ٢۔ اے میری قوم اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پوری خیر خواہی اور دیانت داری کے ساتھ پہنچا دیا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو وہ تمہیں مزید طاقت ور اور مال دار بنائے گا۔ ہاں یاد رکھو تمہاری اصلاح اور فلاح پر میں تم سے کسی صلہ اور اجر کا خواہش مند نہیں ہوں۔ میرا اجر میرے رب کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔ (ھود ٥٠ تا ٥٢) قوم کا رد عمل اور حضرت ھود (علیہ السلام) پر الزامات : ١۔ قوم نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو بیوقوف قرار دیا۔ (الاعراف : ٦٦) ٢۔ ھود (علیہ السلام) ہماری طرح ہی طرح کھانے، پینے والا انسان ہے۔ (المؤمنون : ٣٣) ٣۔ انھوں نے کہا اے ھود تو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (المؤمنون : ٣٨) ٤۔ تیرے کہنے پر ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ محض پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (الشعراء : ١٣٧) ٥۔ تم ہمیں سمجھاؤ یا نہ سمجھاؤ ہم نہیں مانیں گے۔ (شعراء : ١٣٦) ٦۔ ہمارے معبودوں کی تجھے بد دعا لگ گئی ہے۔ (ھود : ٥٤) ٧۔ ہم پر کوئی عذاب آنے والا نہیں تو جھوٹ بولتا ہے۔ (الشعراء : ١٣٨ تا ١٣٩) ٨۔ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر عذاب لے آ۔ (الاحقاف : ٢٢) حضرت ھود (علیہ السلام) کا قوم کو بار بار سمجھانا : ١۔ جھوٹے معبودوں اور خود ساختہ ناموں کے بارے میں مجھ سے کیوں جھگڑتے ہو۔ (الاعراف : ٧١) ٢۔ شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ (الاعراف : ٧١) ٣۔ تم اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا۔ (ھود : ٥٧) ٤۔ میرا اللہ پر بھروسہ ہے اس کے قبضہ میں ہر جاندار کی پیشانی ہے۔ (ھود : ٥٦) ٥۔ گواہ رہو میں شرک سے بیزار ہوں تم سب مل کر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (ھود : ٥٤ تا ٥٥) حضرت ھود (علیہ السلام) کی بددعا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب : ١۔ میرے رب میری مدد فرما انھوں نے مجھے کلی طور پر جھٹلا دیا ہے۔ (المؤمنوں : ٣٩) ٢۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقۃ : ٧) (الشعراء : ٢٠) ٣۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : ٢٤) ٤۔ آندھیوں نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقۃ : ٧) ٥۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : ٤١، ٤٢) ٦۔ دنیا اور آخرت میں ان پر پھٹکار برستی رہے گی۔ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ (السجدۃ : ١٦، ھود : ٥٩) ٧۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : ٧٢) ٨۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود اور ایمانداروں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ (ھود : ٥٨) مسائل ١۔ قوم نوح کے بعد قوم عاد دنیا میں آئی۔ ٢۔ عاد کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا۔ ٣۔ قوم عادنے اللہ کی توحید ماننے کی بجائے حضرت ہود (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ ٤۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔ ٥۔ اتمام حجت کے بعد عذاب نہیں ٹلا کرتا۔ تفسیر بالقرآن حضرت ھود (علیہ السلام) کا تذکرہ : ١۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کیطرف حضرت ھود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ (الاعراف : ٦٥) ٢۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے قوم کو ایک اللہ کی عبادت کی طرف بلایا۔ (ھود : ٥٣) ٣۔ قوم نے حضرت ھود (علیہ السلام) کی تکذیب کی (ھود : ٦٠) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود (علیہ السلام) کو عذاب سے محفوظ فرمایا۔ (ھود : ٥٨) حضرت ھود (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں ٨ بار تذکرہ ہوا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ٦٥ تا ٧٤۔ یہ وہی رسالت اور وہی پیغام بری ہے وہی معاملہ اور وہی انجام ہے۔ وہی سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہی قانون الہی ہے جس کے مطابق یہ کائنات قائم ہے ۔ ایک ہی قانون ہے اور ایک ہی ضابطہ ہے ۔ قوم عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے ‘ یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ہے جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کی تعداد تیرہ ‘ ظاہر ہے کہ یہ سب لوگ دین نوح (علیہ السلام) کے پیرو تھے اور نوح (علیہ السلام) کا دین ‘ دین اسلام تھا ۔ یہ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے تھے اور وہ اللہ کے سوا اپنے لئے کسی اور کو الہ نہ بناتے تھے ‘ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ ہی رب العالمین ہے ‘ اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں یہی تعلیم دی تھی ۔ آیت ” وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) ” میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں “۔ لیکن جب طویل زمانہ گزر گیا اور یہ لوگ زمین کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے تو شیطان نے انہیں اچھی طرح گمراہ کردیا اور انہیں اپنی خواہشات اور شہوات کے مطیع بنا دیا اور انسان کی سب سے بڑی خواہش ملکیت اور سازو سامان کی خواہش ہوتی ہے ۔ اور یہ مال و دولت اور سازو سامان وہ شریعت کے قانون کے علی الرغم جمع کرتے ہیں ‘ تو اس وجہ سے حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد نے اس دعوت کو بہت ہی نابسندیدہ سمجھا کہ وہ اب صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں ۔ آیت ” وَإِلَی عَادٍ أَخَاہُمْ ہُوداً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ أَفَلاَ تَتَّقُونَ (65) ” اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا ۔ اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز کرو گے ۔ “ اور یہ وہی بات ہے جو اس سے قبل حضرت نوح نے کہی تھی ‘ اور جس پر قوم نوح نے انکی تکذیب کی تھی اور اس کے نتیجے میں ان پر جو عذاب آیا وہ معلوم ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا خلیفہ بنایا تاھ ۔ یہاں قرآن کریم نے قوم عاد کے مسکن کی نشاندہی نہیں فرمائی لیکن دوسری سورتوں میں یہ تصریح آئی ہے کہ یہ احقاف میں تھے ۔ یہ یمامہ اور حضر موت کے درمیان بڑے بڑے ٹیلے ہیں ۔ غرض یہ لوگ اسی راہ پر چل نکلے جس پر اس سے قبل قوم نوح چل رہی تھی ۔ چناچہ انہوں نے نہ تو نصیحت پر کان دھرا اور نہ ہی واقعات نوح سے عبرت پکڑی ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) اپنے خطاب میں مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے ؟ یہ ان کے رویے پر نکیر ہے ‘ اور انہیں اس خوفناک انجام بد سے ڈرایا جارہا ہے ۔ غرض اس قوم کے سرداروں کو یہ بات بہت ہی ناگوار گزری کہ ان میں سے ایک عام آدمی اٹھ کر انہیں ڈرائے اور یہ ہے اور ہمارے مقام ومنصب کا صحیح خیال نہیں رکھ رہا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنے نبی کی طرف یہ باتیں منسوب کیں کہ وہ احمق اور جھوٹے ہیں اور اس قسم کے الزام لگانے میں انہوں نے ذرا بھر شرم محسوس نہ کی ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔ تمہارے لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے کیا تم ڈرتے نہیں۔ ان کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اختیار کیا جواب میں کہنے لگے کہ بلاشبہ ہم تجھے بےوقوفی میں دیکھ رہے ہیں۔ اور بلاشبہ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ تو جھوٹوں میں سے ہے۔ ہود نے کہا اے میری قوم ! مجھ میں بےوقوفی نہیں ہے لیکن میں بھیجا ہوا ہوں پروردگار عالم کا، پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیر خواہ ہوں، امانت دار ہوں، کیا تمہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آگئی تم ہی میں ایک شخص کے واسطہ سے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے، اور یاد کرو جبکہ اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد خلیفہ بنا دیا۔ اور جسمانی طور پر تمہارے ڈیل ڈول میں پھیلاؤ زیادہ کردیا لہٰذا تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ وہ کہنے لگے کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم تنہا اللہ کی عبادت کریں اور ہمارے باپ دادا جس کی عبادت کرتے تھے اس چھوڑ دیں۔ سو ہمارے پاس وہ چیز لے آ جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچوں میں سے ہے۔ ہود نے کہا تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غصہ نازل ہوچکا۔ کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو ان ناموں کے بارے میں جو نام تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود تجویز کرلیے ہیں۔ اللہ نے ان کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی سو تم انتظار کرو بلاشبہ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ پھر ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ تھے اپنی رحمت سے نجات دے دی اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ لوگ ایمان والے نہ تھے حضرت ھود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ کرنا اور قوم کا ہلاک ہونا ان آیات میں قوم عاد اور ان کے پیغمبر حضرت ھود (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے قوم عاد بڑی قوت و طاقت والی تھی۔ یہ لوگ بڑے قد آور تھے ان کا ڈیل ڈول بھی بڑا تھا۔ ان کے بارے میں سورة فجر میں فرمایا (الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبَلاَدِ ) (ان جیسی قوم شہروں میں پیدا نہیں کی گئی) عاد ایک شخص تھا جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی پانچویں پشت میں سے تھا۔ اسی کے نام پر اس کی نسل قوم عاد کے نام سے مشہور ہوگئی۔ حضرت ھود (علیہ السلام) جو اسی نسل میں سے تھے وہ ان کی طرف مبعوث ہوئے قوم عاد کو اپنی قوت بازو اور طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ جب ھود (علیہ السلام) نے ان کو توحید کی دعوت دی اور عذاب سے ڈرایا تو وہ اپنی قوت اور طاقت جتلانے لگے اور کہنے لگے کہ (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً ) (کہ ہم سے طاقت کے اعتبار سے زیادہ سخت کون ہے) ان کو خالق کائنات جل مجدہ کی طاقت پر نظر نہ تھی اسی لیے ایسے بےہودہ الفاظ کہہ گئے ان کے جواب میں فرمایا۔ (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰہَ الَّذِیْ خَلَقَھُمْ ھُوَ اَشَدُّ مِنْھُمْ قُوَّۃً ) (کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس ذات نے انہیں پیدا فرمایا وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے) ( سورة حٰمٓ سجدہ ع ٣) ان لوگوں کو حضرت ھود (علیہ السلام) نے سمجھایا کہ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اللہ نے تمہیں نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اس دنیا میں بسا دیا۔ اور تمہیں بہت سی نعمتوں سے مالا مال فرما دیا اس نے تمہیں چوپائے دیئے بیٹے عطا فرمائے باغات دیئے چشمے دیئے۔ (اَمَدَّکُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ) تم کفر سے باز آؤ ورنہ تم پر بڑا عذاب آجائے گا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان کو یہ بھی سمجھایا کہ تم نے جو معبود تجویز کر رکھے ہیں اور ان کے نام تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں یہ سب تمہاری اپنی تراشیدہ باتیں ہیں تم ان کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے ہو، خود ہی معبود تجویز کرتے ہو۔ خود ہی ان کے نام رکھتے ہو اور خود ہی ان کی طرف تصرفات کی نسبت کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ خالق ومالک اللہ ہے۔ وہی دین اور عقیدہ قابل قبول ہے جو اس کی طرف سے اس کے رسولوں نے بتایا ہو۔ چونکہ ان لوگوں کو حضرت ھود (علیہ السلام) کی باتوں پر اعتماد نہ تھا اور ان کو سچا نہیں سمجھتے تھے اس لیے کہا کہ تم بیوقوف ہو اور یہ بھی کہا کہ ہمارے خیال میں ہمارے معبودوں نے تم پر کچھ کردیا ہے اسی لیے بہکی بہکی باتیں کرتے ہو (اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰکَ بَعْضُ اٰلِھَتِنَا بِسُوْٓءٍ ) اور کہنے لگے کہ تمہارے وعظ سے ہم پر کوئی اثر ہونے والا نہیں (سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَم ق تَکُنْ مّنَ الْوَاعِظِیْنَ ) جب انہوں نے تکذیب کی اور یوں بھی کہا کہ عذاب لا کر دکھاؤ۔ تو حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بس اب تم پر اللہ کا عذاب اور غصہ نازل ہو ہی چکا۔ یعنی اس کے آنے میں دیر نہیں ہے تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں پھر جب اللہ کا عذاب آیا تو حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ (جنہوں نے ایمان قبول کیا تھا) سب کو اللہ تعالیٰ نے عذاب سے محفوظ رکھا۔ اور باقی پوری قوم کو ہلاک اور تباہ و برباد کردیا۔ قوم عاد پر جو عذاب آیا تھا سورة حٰمٓ سجدہ، سورة احقاف، سورة ذاریات، سورة حآقہ اور سورة قمر میں اس کا ذکر ہے۔ سورة حٰمٓ سجدہ میں فرمایا (فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ ریحًا صَرْصَرًا فِیْ اَیَّامٍ نَحِسَاتٍ لِنُذِیْقَہُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا) اور سورة قمر میں فرمایا (اِِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ ریحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ تَنْزِعُ النَّاسَ کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ ) اور سورة حآقہ میں فرمایا (وَاَمَّا عَادٌ فَاُھْلِکُوْا بِرِیحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ سَخَّرَھَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُوْمًا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰی کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ فَہَلْ تَرٰی لَہُمْ مِّنْ بَاقِیَۃٍ ) (اور لیکن عاد سو وہ ہلاک کیے گئے ٹھنڈی تیز ہوا کے ذریعہ، اللہ نے ان پر اس ہوا کو سات دن اور آٹھ رات لگاتار مسخر فرما دیا۔ اے مخاطب ! تو دیکھے قوم کو کہ اس ہوا میں پچھاڑے ہوئے پڑے ہیں گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں کھجور کے، کیا تو ان میں دیکھتا ہے کہ کوئی باقی رہا) سورۂ ذاریات میں فرمایا (وَفِیْ عَادٍ اِِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْہِ اِِلَّا جَعَلَتْہُ کَالرَّمِیْمِ ) (اور قوم عاد میں عبرت ہے جبکہ ہم نے بھیجی ان پر ایسی ہوا جو بانجھ تھی یعنی خیر سے بالکل خالی تھی وہ جس چیز پر پہنچتی تھی اسے ایسا بنا کر رکھی دیتی تھی جیسے چورا ہو) ۔ سورۂ احقاف میں ہے کہ جب ان لوگوں پر عذاب آنا شروع ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی وادیوں کی طرف بادل آ رہا ہے (وہ اسے دیکھ کر خوش ہوئے) اور کہنے لگے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔ (برسنے والا بادل کہاں تھا) بلکہ وہ تو عذاب ہے جس کی جلدی مچا رہے تھے۔ وہ تو ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے وہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ اس حال میں ہوگئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ بھی نظر نہ آتا تھا ہم اسی طرح مجرمین کو سزا دیتے ہیں۔ (یہ سورة احقاف کی آیات کا ترجمہ ہے ١٢) عناصر اربعہ آگ، خاک، آب و ہوا سب اللہ کے مامور ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کام کرتے ہیں اور اس کی مخلوق کے لیے نفع یا ضرر کا ذریعہ بن جاتے ہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ (نُصِرْتُ بالصَّبَا وَ اُھْلِکَتْ عَادٌ بالدُّبُوْرِ ) (کہ صبا کے ذریعہ میری مدد کی گئی اور قوم عاد بور کے ذریعے ہلاک کی گئی) (رواہ البخاری ص ١٤١ ج ١) صبا وہ ہوا ہے جو مشرق سے مغرب کو چلتی ہے اور دبور وہ ہوا ہے جو مغرب سے مشرق کو چلتی ہے۔ غزوہ احزاب کے موقعہ پر جب مختلف قبائل اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے مدینہ پر چڑھ آئے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا بھیجی جس نے دشمن کے خیمے اکھاڑ دیئے اور ان کے چولہے الٹ دیئے اور انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا۔ حدیث بالا میں اسی کا تذکرہ ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب آسمان میں کوئی بادل دیکھتے تھے تو آپ کا رنگ بدل جاتا تھا اور آپ کبھی اندر جاتے اور کبھی باہر آتے جب بارش ہوجاتی تو آپ کی یہ کیفیت جاتی رہتی تھی۔ میں نے اس بات کو پہچان لیا اور اس بارے میں آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ اے عائشہ ! میں ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو جیسا قوم عاد نے بادل کو دیکھ کر کہا جو ان کی وادیوں کی طرف آ رہا تھا کہ یہ بادل بارش برسانے والا ہے (لیکن بارش برسانے والا نہ تھا) بلکہ ہوا کی صورت میں عذاب تھا جو ان پر نازل ہوا۔ (رواہ مسلم ج ١ ص ٢٩٤، ٢٩٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ہوا اللہ تعالیٰ کی رحمت کی چیز ہے۔ وہ رحمت لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے لہٰذا تم اس کو برا نہ کہو۔ اللہ سے اس کی خیر کا سوال کرو اور اس کے شر سے پناہ مانگو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص ١٣٠ از ابی داؤد ابن ماجہ)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

75 حضرت ہود (علیہ السلام) کو قوم نے کم عقلی کا طعنہ دیا اس لیے کہ انہوں نے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا۔ ای متمکنا فی خفۃ عقل و راسخا فیھا حیث فارقت دین اٰباءک (روح ج 8 ص 155) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

65 اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو بھیجا حضرت ہود (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت اور پوجا کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود حقیقی نہیں ہے کیا تم اس کی نافرمانی اور شرک سے ڈرتے نہیں یعنی بھائی فرمایا ہود (علیہ السلام) کو اس وجہ سے کہ ہود (علیہ السلام) خود قوم عاد میں سے تھے یا وطنی بھائی کی وجہ سے۔