Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 80

سورة الأعراف

وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۰﴾

And [We had sent] Lot when he said to his people, "Do you commit such immorality as no one has preceded you with from among the worlds?

اور ہم نے لوط ( علیہ السلام ) کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of Prophet Lut, upon Him be Peace, and His People Allah said, وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِينَ And (remember) Lut, when he said to his people: "Do you commit lewdness such as none preceding you has committed in all of the nations! Lut (Lot) is the son of Haran the son of Azar (Terah), and he was the nephew of Ibrahim, peace be upon them both. Lut had believed in Ibrahim and migrated with him to the Sham area. Allah then sent Lut to the people of Sadum (Sodom) and the surrounding villages, to call them to Allah, enjoin righteousness and forbid them from their evil practices, their sin, and wickedness. In this area, they did things that none of the children of Adam or any other creatures ever did before them. They used to have sexual intercourse with males instead of females. This evil practice was not known among the Children of Adam before, nor did it even cross their minds, so they were unfamiliar with it before the people of Sodom invented it, may Allah's curse be on them. Amr bin Dinar commented on; مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِينَ (...as none preceding you has committed in all of the nations), "Never before the people of Lut did a male have sex with another male." This is why Lut said to them, ... أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِينَ

لوط علیہ السلام کی بد نصیب قوم فرمان ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر ، حضرت لوط علیہ السلام ہاران بن آزر کے بیٹے تھے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا نیکیوں کے کرنے برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا ۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی ۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے ۔ عمرو بن دینار یہی فرماتے ہیں ۔ جامع دمشق کے بانی خلیفہ ولید بن عبدالملک کہتے ہیں اگر یہ خبر قرآن میں نہ ہوتی تو میں تو اس بات کو کبھی نہ مانتا کہ مرد مرد سے حاجت روائی کرلے اسی لئے حضرت لوط علیہ السلام نے ان حرام کاروں سے فرمایا کہ تم سے پہلے تو یہ ناپاک اور خبیث فعل کسی نے نہیں کیا ۔ عورتوں کو جو اس کام کیلئے تھیں چھوڑ کر تم مردوں پر ریجھ رہے ہو؟ اس سے بڑھ کر اسراف اور جہالت اور کیا ہو گی ؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ ہیں میری بچیاں یعنی تمہاری قوم کی عورتیں ۔ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی چاہت نہیں ۔ ہم تو تمہارے ان مہمان لڑکوں کے خواہاں ہیں مفسرین فرماتے ہیں جس طرح مرد مردوں میں مشغول تھے عورتیں عورتوں میں پھنسی ہوئی تھیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

80۔ 1 یہ حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں میں سے تھے پھر ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایک علاقے میں نبی بنا کر بھیجا۔ یہ علاقہ اردن اور بیت المقدس کے درمیان تھا جسے سدوم کہا جاتا ہے، یہ زمین سرسبز اور شاداب تھی اور یہاں ہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی قرآن نے اس جگہ کو مُئْوتَفِکَۃ، ُ یا مؤْتَفِکَات، ُ کے الفاظ سے ذکر کیا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے غالبًا سب سے پہلے یا دعوت توحید کے ساتھ ہی، (جو ہر نبی کی بنیادی دعوت تھی اور سب سے پہلے وہ اس کی دعوت اپنی قوم کو دیتے تھے۔ جیسا کہ پچھلے نبیوں کے حوالے میں، جن کا ذکر ابھی گزرا ہے، دیکھا جاسکتا ہے۔ ) دوسری بڑی خرابی مردوں کے ساتھ بدفعلی، قوم لوط میں تھی، اس کی شناخت و قباحت بیان فرمائی۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جسے دنیا میں سب سے پہلے اسی قوم لوط نے کیا، اس گناہ کا نام ہی لواطت پڑگیا۔ اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ پہلے قوم کو اس جرم کی خطرناکی سے آگاہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذریعے دعوت توحید بھی یہاں پہنچ چکی ہوگی، لواطت کی سزا میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے، بعض ائمہ کے نزدیک اس کی وہی سزا ہے جو زنا کی ہے یعنی مجرم اگر شادی شدہ ہو تو رجم، غیر شادی شدہ ہو تو سو کوڑے۔ بعض کے نزدیک اس کی سزا ہی رجم ہے چاہے مجرم کیسا بھی ہو اور بعض کے نزدیک فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردینا چاہئے۔ البتہ امام ابوحنیفہ صرف تعزیری سزا کے قائل ہیں، حد کے نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٥] سیدنالوط (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے بھتیجے تھے اور ان پر ایمان لائے تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جب عراق سے شام و فلسطین کی طرف ہجرت کی تو سیدنا لوط (علیہ السلام) ان کے ساتھ تھے اور بطور معاون تبلیغ رسالت کا فریضہ سر انجام دیتے رہے پھر آپ کو بھی نبوت عطا ہوئی اب سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) تو مصر کی طرف چلے گئے اور سیدنا لوط (علیہ السلام) کو شرق اردن کی طرف بھیج دیا جس کا صدر مقام سدوم نامی شہر تھا یہی سیدنا لوط (علیہ السلام) کا مرکز تبلیغ تھا۔ سدوم کا آج کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔ اغلب گمان یہی ہے کہ یہ شہر بحیرہ مردار میں غرق ہوچکا ہے جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے۔ قوم لوط میں دوسری اخلاقی برائیوں کے علاوہ سب سے بڑی برائی یہ تھی کہ یہ لوگ عورتوں کی بجائے مردوں ہی سے ان کی دبر میں جنسی شہوت پوری کرتے تھے۔ اس فحاشی کی موجد بھی یہی قوم تھی اور اس فحاشی میں اس قوم نے شہرت دوام حاصل کی۔ حتیٰ کہ ایسی فحاشی کا نام بھی قوم لوط کی نسبت سے لواطت پڑگیا یعنی فحاشی کی وہ قسم جس کے خلاف سیدنا لوط (علیہ السلام) نے جہاد کیا تھا۔ ممکن ہے کہ شیطان نے ان لوگوں کو اولاد کی تربیت اور اس کی ذمہ داریوں سے فرار کے لیے یہ راہ سجھائی ہو جیسا کہ بہت سے ادوار میں یہی بات قتل اولاد کی بھی محرک بنی رہی ہے۔ عمل قوم لوط اور تہذیب مغرب :۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بعد دوسرے بدکردار لوگ بھی اس فحش مرض میں مبتلا رہے ہیں لیکن یہ فخر یونان کو حاصل ہے کہ اس کے فلاسفروں نے اس گھناؤنے جرم کو ایک اخلاقی خوبی کے مرتبہ تک پہنچا دیا اور رہی سہی کسر جدید مغربی تہذیب نے پوری کردی ہے جس نے علی الاعلان ہم جنسی ( Sex۔ Homo) کے حق میں پروپیگنڈا کیا یعنی اگر مرد، مرد سے اور عورت، عورت سے لپٹ کر اپنی جنسی خواہش پوری کرلیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور ملکی قانون کو ہرگز اس میں مزاحم نہ ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ کئی ممالک کی مجالس قانون ساز نے اس فعل کو جائز قرار دے دیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلُوْطًا : ابراہیم (علیہ السلام) جب آگ سے بحفاظت نکل آئے تو لوط (علیہ السلام) ان پر ایمان لے آئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے اتنا بڑا معجزہ دیکھنے کے باوجود قوم کے ایمان نہ لانے پر عراق سے ہجرت اختیار فرمائی۔ دیکھیے سورة عنکبوت (٢٦) ان کے ساتھ ان کی بیوی سارہ اور لوط (علیہ السلام) بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو سدوم والوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ جو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا اور نہایت آباد اور زرخیز تھا۔ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ: اہل سدوم کو لوط (علیہ السلام) کی قوم اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ ان کی طرف مبعوث تھے، ورنہ وہ تو عراق سے آئے تھے، یا شاید ان کا ان سے سسرالی رشتہ ہوگا، کیونکہ اگر وہاں ان کا کوئی نسبی رشتہ ہوتا تو وہ اس بےچارگی کا اظہار نہ فرماتے جس کا ذکر سورة ہود (٨٠) میں ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Out of the continuing series of stories relating to prophets (علیہم السلام) and their communities, the fourth story is that of Sayyidna Lut (Lot) tX..JI ...lc. Sayyidna Lut (علیہ السلام) is a nephew of Sayyidna Ibrahim Khalilullah (علیہ السلام) the patriarch of prophets. The original homeland of both was known as Babel near Basrah in western Iraq. Idol-worship was com¬mon. Even the family of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) was involved in it. Allah Ta` ala sent Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) as a prophet for their guid¬ance. His people opposed him which culminated in the well known Fire of Nimrud. Even his father threatened to turn him out of his home. Out of his entire family, only his wife, Sayyidah Sarah and neph¬ew, Sayyidna Lut (علیہ السلام) embraced Islam: فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ (Then, Lut believed in him - 29:26). Finally, it was with these two that he immigrated to Syr¬ia leaving his home country behind. After reaching Jordon river, he settled in Can&-an near Bayt al-Maqdis under a Divine command. Then, Allah Ta` ala made Sayyidna Lut (علیہ السلام) too a prophet and sent him to Sadum (Sodom) near Bayt al-Maqdis for the guidance of people there. This area comprised of five major cities. They were called Sadum, ` Amurah, Admah, Sububim and Bali` or Sawghar. The Qur&an has referred to their nucleus as ` Mu&tafikah& and ` Mu&tafikat& at several places. Sadum was considered as the center and capital of these cities. It was here that Sayyidna Lut (علیہ السلام) stayed. The land was fertile and verdant abounding in all kinds of grains and fruits. (These details appear in Al-Bahr Al-Muhit, Mazhari, Ibn Kathir, AI-Manar etc.) Man&s habit, as Allah Ta` ala says in the Qur&an, is: كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَىٰ ﴿٦﴾ أَن رَّ‌آهُ اسْتَغْنَىٰ ﴿٧﴾ that is, when he acquires freedom from need, he starts transgressing the limits - 96:6-7. On these people too, Allah Ta` ala had opened the doors of His blessings. Goaded by this common behaviour pattern, all soaked in wealth and possessions, they reached the farthest ends of luxury and lust when they stood deprived of the most essential human sense of honour, dignity and modesty, and lost in that process, the very ability to distinguish between the good and the bad. In conse¬quence, they got themselves involved in acts of unnatural indecencies. These are abominal acts, apart from being Haram and sinful, acts which cause hatred and distaste in the heart and mind of everyone born with sound and decent taste, so much so, that even animals would not go near it. Allah Ta` ala appointed Sayyidna Lit (علیہ السلام) for their guidance. He addressed his people and said: أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ (Do you commit the shameful act in which nobody has ever preceded you from all the worlds?). When referring to Zina (adultery), the Qur&an has said: إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً (Surely, it is a shameful act - 17:32). Here, the word: فَاحِشَةً (fahishah: shameful act) has been mentioned without &Alif Lam while in the present verse, by saying: اَلفَاحِشَةً (al-fahishah: the shameful act), it has been made definite by the addition of &Alif Lam. Thus, the hint given is that this unnatural evil act is, as if, the combination of all indecencies, and far grave a crime as compared to Zina. Then, it was said that this shameful act has never been committed by anyone in all the worlds before they did it. ` Amru ibn Dinar has said: The act was unknown in the world before these people. (Mazhari) Neither had the worst of human being had ever thought on those lines before the people of Sadum. The Umayyad Khalifah, ` Abd al-Malik said: Had this event relating to the people of Lut (علیہ السلام) not been mentioned in the Qur&an, I would have never suspected that a human being could do something like that. (Ibn Kathir) Here, their immodesty has been censured on two grounds: (1)-It so happens that men would get involved in many sins because of their so¬cial conditions, or because of a blind following of their ancestors - though, that too, is not a valid legal excuse in the Shar&iah of Islam. But, as a matter of customary practice, such a person could be taken as excusable in some or the other degree. But, when it comes to a sin which has never been committed by anyone before, nor does it have any particular compulsions of its own, it becomes a curse of the high¬est degree. (2)-The other ground is that this act becomes a channel of making others equally accursed. Think of a person who invents some evil act or custom. As obvious, the sin and punishment of his evil act falls on that person anyway, but, along with him, affected are all who sink in sin led by the act of the originator right through the Last Day, for the curse and punishment of all those so affected also sits on the shoulders of the originator of the evil.

خلاصہ تفسیر اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو (چند بستیوں کی طرف پیغمبر بنا کر) بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم (یعنی اپنی امت) سے فرمایا کیا تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا (یعنی) تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اور اس کام کے ارتکاب میں یہ نہیں کہ تم کو کوئی دھوکہ ہوگیا ہو) بلکہ (اس باب میں) تم حد (انسانیت) ہی سے گزر گئے ہو اور (ان مضامین کا) ان کی قوم سے کوئی (معقول) جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ (آخر میں بیہودگی کی راہ سے) آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو (یعنی لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھی مومنین کو) تم اپنی (اس) بستی سے نکال دو (کیونکہ) یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں (اور ہم کو گندہ بتاتے ہیں پھر گندوں میں پاکوں کا کیا کام، یہ بات انہوں نے براہ تمسخر کہی تھی) سو (جب یہاں تک نوبت پہنچی تو) ہم نے (اس قوم پر عذاب نازل کیا اور) لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے متعلقین کو (یعنی ان کے گھر والوں کو اور دوسرے ایمان والوں کو بھی اس عذاب سے) بچا لیا (اس طرح کہ وہاں سے نکل جانے کا پہلے ہی حکم ہوگیا) بجز ان کی بیوی کے کہ وہ (بوجہ ایمان نہ لانے کے) ان ہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے اور (وہ عذاب جو ان پر نازل ہوا یہ تھا کہ) ہم نے ان پر ایک نئی طرح کا مینہ برسایا (کہ وہ پتھروں کی بارش تھی) سو (اے دیکھنے والے) دیکھ تو سہی ان مجرموں کا انجام کیسا ہوا (اگر تو غور سے دیکھے گا تو تعجب کرے گا اور سمجھے گا کہ نافرمانی کا کیا انجام ہوتا ہے) ۔ معارف و مسائل انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے قصص کا جو سلسلہ اوپر سے چل رہا ہے اس کا چوتھا قصہ حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہے۔ لوط (علیہ السلام) حضرت خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں۔ دونوں کا اصل وطن مغربی عراق میں بصرہ کے قریب ارض بابل کے نام سے معروف تھا اس میں بت پرستی کا عام رواج تھا۔ خلیل اللہ (علیہ السلام) کا گھرانہ خود بت پرستی میں مبتلا تھا۔ حق تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ قوم نے مخالفت کی جس کی نوبت آتش نمرود تک پہنچی۔ خود والد نے گھر سے نکال دینے کی دھمکیاں دیں۔ اپنے گھرانہ میں سے صرف زوجہ محترمہ حضرت سارہ اور بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) مسلمان ہوئے۔ (آیت) فامن لہ لوط، بالآخر انھیں دونوں کو ساتھ لے کر وطن سے ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی۔ نہر اردن پر پہنچنے کے بعد بحکم خداوندی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) علاقہ کنعان میں جاکر مقیم ہوئے جو بیت المقدس کے قریب ہے۔ اور لوط (علیہ السلام) کو بھی حق تعالیٰ نے نبوت عطا فرما کر اردن اور بیت المقدس کے درمیان مقام سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔ یہ علاقہ پانچ اچھے بڑے شہروں پر مشتمل تھا۔ جن کے نام سدوم، عمورہ، ادمہ، صبوبیم اور بالع یا صوغر تھے ان کے مجموعہ کو قرآن کریم نے موتفکہ اور موتفکات کے الفاظ میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ سدوم ان شہروں کا دار الحکومة اور مرکز سمجھا جاتا تھا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے یہیں قیام فرمایا۔ زمین سرسبز و شاداب تھی ہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی۔ (یہ تاریخی تفصیلات بحر محیط، مظہری، ابن کثیر، المنار وغیرہ میں مذکور ہیں) ۔ انسان کی عام عادت قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے (آیت) کلا ان الانسان لیطغی، ان راہ استغنی، یعنی انسا سرکشی کرنے لگتا ہے جب یہ دیکھتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں رہا۔ ان لوگوں پر بھی حق تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے تھے۔ عام انسانی عادت کے تحت دولت و ثروت کے نشہ میں مبتلا ہو کر عیش و عشرت اور ہوا و ہوس کے اس کنارے پر پہنچ گئے کہ انسانی غیرت و حیاء اور اچھے برے کی فطری تمیز بھی کھو بیٹھے۔ ایسے خلاف فطرت فواحش میں مبتلا ہوگئے جو حرام اور گناہ ہونے کے علاوہ فطرت سلیمہ کے لئے نفرت اور ایسے گھن کے کام ہیں کہ عام جانور بھی اس کے پاس نہیں جاتے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لئے مامور فرمایا۔ انہوں نے اپنی قوم کو خطاب کرکے فرمایا۔ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ یعنی بطور تنبیہ کے فرمایا، کیا تم ایسا فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے سارے جہان میں کسی نے نہیں کیا۔ زنا کے بارے میں تو قرآن کریم نے انہ کان فاحشة بغیر الف لام کے ذکر کیا ہے اور یہاں الف لام کے ساتھ الفاحشہ فرما کر اس کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ خلاف فطرت بدکاری گو یا تمام فواحش کا مجموعہ اور زنا سے زیادہ شدید جرم ہے۔ پھر یہ فرمایا کہ یہ بدکاری تم سے پہلے سارے جہان میں کسی نے نہیں کی۔ عمرو بن دینار نے فرمایا کہ اس قوم سے پہلے دنیا میں کبھی ایسی حرکت نہ دیکھی گئی تھی (مظہری) اور نہ اہل سدوم سے پہلے کسی برے سے برے انسان کا ذہن اس طرف گیا تھا۔ اموی خلیفہ عبدالمالک نے کہا کہ اگر قرآن میں قوم لوط (علیہ السلام) کا واقعہ مذکور نہ ہوتا تو میں بھی گمان نہیں کرسکتا تھا کہ کوئی انسان ایسا کام کرسکتا ہے (ابن کثیر) اس میں ان کی بےحیائی پر دو حیثیت سے تنبیہ کی گئی اول تو یہ کہ بہت سے گناہوں میں انسان اپنے ماحول یا اپنے اسلاف کی تقلید کی وجہ سے مبتلا ہوجاتا ہے گو وہ بھی کوئی شرعی عذر نہیں۔ مگر عرفاً اس کو کسی نہ کسی درجہ میں معذور کہا جاسکتا ہے، مگر ایسا گناہ جو پہلے کسی نے نہیں کیا نہ اس کے لئے خاص مقتضیات ہیں یہ اور بھی زیادہ وبال ہے۔ دوسرے اس حیثیت سے کہ کسی برے کام یا بری رسم کو جو شخص ایجاد کرتا ہے اس پر اپنے فعل کا گناہ اور عذاب تو ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ ان تمام لوگوں کا عذاب و وبال بھی اسی کی گردن پر ہوتا ہے جو قیامت تک اس کے فعل سے متاثر ہو کر مبتلا گناہ ہوجاتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ۝ ٠ ۭ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ۝ ٨١ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ شها أصل الشَّهْوَةِ : نزوع النّفس إلى ما تریده، وذلک في الدّنيا ضربان : صادقة، وکاذبة، فالصّادقة : ما يختلّ البدن من دونه كشهوة الطّعام عند الجوع، والکاذبة : ما لا يختلّ من دونه، وقد يسمّى الْمُشْتَهَى شهوة، وقد يقال للقوّة التي تَشْتَهِي الشیء : شهوة، وقوله تعالی: زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَواتِ [ آل عمران/ 14] ، يحتمل الشّهوتین، وقوله : اتَّبَعُوا الشَّهَواتِ [ مریم/ 59] ، فهذا من الشّهوات الکاذبة، ومن الْمُشْتَهِيَاتِ المستغنی عنها، وقوله في صفة الجنّة : وَلَكُمْ فِيها ما تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ [ فصلت/ 31] ، وقوله : فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ [ الأنبیاء/ 102] ، وقیل : رجل شَهْوَانٌ ، وشَهَوَانِيٌّ ، وشیء شَهِيٌّ. ( ش ھ و ) الشھوہ کے معنی ہیں نفس کا اس چیز کی طرف کھینچ جاتا جسے وہ چاہتا ہے و خواہشات دنیوی دوقسم پر ہیں صادقہ اور کاذبہ سچی خواہش وہ ہے جس کے حصول کے بغیر بدن کا نظام مختل ہوجاتا ہے جیسے بھوک کے وقت کھانے کی اشتہا اور جھوٹی خواہش وہ ہے جس کے عدم حصول سے بدن میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی ۔ پھر شھوۃ کا لفظ کبھی اس چیز پر بولاجاتا ہے ۔ جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو اور کبھی خود اس قوت شہویہ پر اور آیت کریمہ ؛زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَواتِ [ آل عمران/ 14] لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں ( بڑی ) زینت دار معلوم وہوتی ہیں۔ میں شہو ات سے دونوں قسم کی خواہشات مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ : اتَّبَعُوا الشَّهَواتِ [ مریم/ 59] اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے ۔ میں جھوٹی خواہشات مراد ہیں یعنی ان چیزوں کی خواہش جن سے استغناء ہوسکتا ہو ۔ اور جنت کے متعلق فرمایا : وَلَكُمْ فِيها ما تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ [ فصلت/ 31] اور وہاں جس ( نعمت کو تمہارا جی چاہے گا تم کو ملے گا ۔ فِي مَا اشْتَهَتْ أَنْفُسُهُمْ [ الأنبیاء/ 102] اور جو کچھ ان جی چاہے گا اس میں ۔۔۔ رجل شھوان وشھوانی خواہش کا بندہ شمئ لذیز چیز ۔ مرغوب شے ۔ نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کا ٹ لئے تھے ۔ سرف السَّرَفُ : تجاوز الحدّ في كلّ فعل يفعله الإنسان، وإن کان ذلک في الإنفاق أشهر . قال تعالی: وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] ، وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] ، ويقال تارة اعتبارا بالقدر، وتارة بالکيفيّة، ولهذا قال سفیان : ( ما أنفقت في غير طاعة اللہ فهو سَرَفٌ ، وإن کان قلیلا) قال اللہ تعالی: وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] ، وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] ، أي : المتجاوزین الحدّ في أمورهم، وقال : إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] ، وسمّي قوم لوط مسرفین من حيث إنهم تعدّوا في وضع البذر في الحرث المخصوص له المعنيّ بقوله : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] ، وقوله : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ، فتناول الإسراف في المال، وفي غيره . وقوله في القصاص : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] ، فسرفه أن يقتل غير قاتله، إمّا بالعدول عنه إلى من هو أشرف منه، أو بتجاوز قتل القاتل إلى غيره حسبما کانت الجاهلية تفعله، وقولهم : مررت بکم فَسَرِفْتُكُمْ أي : جهلتكم، من هذا، وذاک أنه تجاوز ما لم يكن حقّه أن يتجاوز فجهل، فلذلک فسّر به، والسُّرْفَةُ : دویبّة تأكل الورق، وسمّي بذلک لتصوّر معنی الإسراف منه، يقال : سُرِفَتِ الشجرةُ فهي مسروفة . ( س ر ف ) السرف کے معنی انسان کے کسی کام میں حد اعتدال سے تجاوز کر جانے کے ہیں مگر عام طور پر استعمال اتفاق یعنی خرچ کرنے میں حد سے تجاوز کرجانے پر ہوتا پے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَالَّذِينَ إِذا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا[ الفرقان/ 67] اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بیچا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں ۔ وَلا تَأْكُلُوها إِسْرافاً وَبِداراً [ النساء/ 6] اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے ( یعنی بڑی ہو کہ تم سے اپنا کا مال واپس لے لیں گے ) اسے فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا ۔ اور یہ یعنی بےجا سرف کرنا مقدار اور کیفیت دونوں کے لحاظ سے بولاجاتا ہے چناچہ حضرت سفیان ( ثوری ) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی میں ایک حبہ بھی صرف کیا جائے تو وہ اسراف میں داخل ہے ۔ قرآن میں ہے : وَلا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ [ الأنعام/ 141] اور بےجانہ اڑان کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ وَأَنَّ الْمُسْرِفِينَ هُمْ أَصْحابُ النَّارِ [ غافر/ 43] اور حد سے نکل جانے والے دوزخی ہیں ۔ یعنی جو اپنے امور میں احد اعتدال سے تجاوز کرتے ہیں إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ [ غافر/ 28] بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جا حد سے نکل جانے والا ( اور ) جھوٹا ہے ۔ اور قوم لوط (علیہ السلام) کو بھی مسرفین ( حد سے تجاوز کرنے والے ) کیا گیا ۔ کیونکہ وہ بھی خلاف فطرف فعل کا ارتکاب کرکے جائز حدود سے تجاوز کرتے تھے اور عورت جسے آیت : نِساؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ [ البقرة/ 223] تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں ۔ میں حرث قرار دیا گیا ہے ۔ میں بیچ بونے کی بجائے اسے بےمحل ضائع کر ہے تھے اور آیت : يا عِبادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ [ الزمر/ 53] ( اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو کہدد کہ ) اے میرے بندو جہنوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی میں اسرفوا کا لفظ مال وغیرہ ہر قسم کے اسراف کو شامل ہے اور قصاص کے متعلق آیت : فَلا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ [ الإسراء/ 33] تو اس کا چاہئے کہ قتل ( کے قصاص ) میں زیادتی نہ کرے ۔ میں اسراف فی القتل یہ ہے کہ غیر قاتل کو قتل کرے اس کی دو صورتیں ہی ۔ مقتول سے بڑھ کر باشرف آدمی کو قتل کرنے کی کوشش کرے ۔ یا قاتل کے علاوہ دوسروں کو بھی قتل کرے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا ۔ عام محاورہ ہے ۔ کہ تمہارے پاس سے بیخبر ی میں گزر گیا ۔ تو یہاں سرفت بمعنی جھلت کے ہے یعنی اس نے بیخبر ی میں اس حد سے تجاوز کیا جس سے اسے تجاوز نہیں کرنا چاہئے تھا اور یہی معنی جہالت کے ہیں ۔ السرفتہ ایک چھوٹا سا کیڑا جو درخت کے پتے کھا جاتا ہے ۔ اس میں اسراف کو تصور کر کے اسے سرفتہ کہا جاتا ہے پھر اس سے اشتقاق کر کے کہا جاتا ہے ۔ سرفت الشجرۃ درخت کرم خور دہ ہوگیا ۔ اور ایسے درخت کو سرقتہ ( کرم خوردہ ) کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٠۔ ٨١) اور ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ تم لواطت کا فعل کرتے ہو، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو بلکہ تم نے شرک میں اس قدر حد سے تجاوز کیا کہ حرام کو حلال کردیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٠ (وَلُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ) اگرچہ حضرت لوط (علیہ السلام) اس قوم میں سے نہیں تھے ‘ لیکن ان کی طرف مبعوث ہونے اور وہاں جا کر آباد ہوجانے کی وجہ سے ان لوگوں کو آپ ( علیہ السلام) کی قوم قرار دیا گیا ہے۔ (اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ) یعنی اجتماعی طور پر پوری قوم کا ایک شرمناک فعل کو اس انداز سے اپنالینا کہ اسے اپنا شعار بنا لینا ‘ کھلم کھلا اس کا ارتکاب کرنا اور اس میں شرمانے کی بجائے فخر کرنا ‘ اس سب کچھ کی مثال تاریخ انسانی کے اندر کوئی اور نہیں ملتی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

63. The land inhabited by the people of Lot, which lies between Iraq and Palestine, is known as Trans-Jordan. According to the Bible, its capital town was Sodom, which is situated either somewhere near the Dead Sea, or presently lies submerged under it.. Apart from Sodom, according to the Talmud, there were four other majour cities, and the land lying between these cities was dotted with such greenery and orchards that the whole area looked like one big garden enchanting any onlooker. However, the whole nation was destroyed and today wc can find no trace of it. So much so that it is difficult to even locate the main cities which they inhabited. If anything remains as a reminder of this nation it is the Dead Sea which is also called the Sea of Lot. The Prophet Lot who was a nephew of the Prophet Abraham, accompanied his uncle as he moved away from Iraq. Lot sojourned to Syria, Palestincand Egypt forawhile and gained practical experience of preaching his message. Later God bettowed prophethood upon him and assigned to him the mission of reforming his misguided people. The people of Sodom have been referred to as the people of Lot presumably because Lot may have established matrimonial ties with those people. One of the many accusations recorded gainst Lot in the Bible - and the Bible has been tampered with extensively by the Jews - is that Lot migrated to Sodom after an argument with Abraham (Genesis 13: 10-12). The Qur'an refutes this baseless charge and affirms that Lot was designated by God to work as His Messenger among his people. The author refers to an argument between Abraham and Lot which he considers to be a fabrication of Jews.The obvious basis of this is that such an argument between the Prophets is inconceivable since it is unbecoming of them as Prophets. The basis of this inference is a statement in Genesis 13:1-12. It seems that there has been some confusion with regard to this inference. The verses of Genesis in question make no reference to any strife between the two Prophets. The strife to which it refers allegedly took place between the two Prophets. In addition, when the two Prophets parted company it was on a pleasant note for Abraham had suggested that since there was an abundance of land, Lot should choose that part of the land he preffered so as to exclude all possibilities of strife between their herdsmen. (See Genesis 13:1-5-Ed.)

سورة الْاَعْرَاف حاشیہ نمبر :63 یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آج کل شرق اردن ( Trans Jordan ) کہا جاتا ہے اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے ۔ بائیبل میں اس قوم کے صدر مقام کا نام”سدوم“ بتایا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا یا اب بحیرہ مردار میں غرق ہو چکا ہے ۔ تَلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ ان کے چار بڑے بڑے شہر اور بھی تھے اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ میلوں تک بس ایک باغ ہی باغ تھا جس کے جمال کو دیکھ کر انسان پر مستی طاری ہو نے لگتی تھی ۔ مگر آج اس قوم کا نام و نشان دنیا سے بالکل ناپید ہوچکا ہے اور یہ بھی متعین نہیں ہے کہ اس کی بستیاں ٹھیک کس مقام پر واقع تھیں ۔ اب صرف بحیرہ مردار ہی اس کی ایک یادگار باقی رہ گیا ہے جسے آج تک بحِر لوط کہا جاتا ہے ۔ حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے ۔ اپنے چچا کے ساتھ عراق سے نکلے اور کچھ مدت تک شام و فلسطین و مصر میں گشت لگا کر دعوت تبلیغ کا تجربہ حاصل کرتے رہے ۔ پھر مستقل پیغمبری کے منصب پر سرفراز ہو کر اس بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے ۔ اہل سدوم کو ان کی قوم اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ شاید ان کا رشتہ داری کا تعلق اس قوم سے ہوگا ۔ یہودیوں کی تحریف کردہ بائیبل میں حضرت لوط کی سیرت پر جہاں اور بہت سے سیاہ دھبے لگائے گئے ہیں وہاں ایک دھبہ یہ بھی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لڑ کر سدوم کے علاقے میں چلے گئے تھے ( پیدائش ، باب ١۳ ۔ آیت١ ۔ ١۲ ) ۔ مگر قرآن اس غلط بیانی کی تردید کرتا ہے ۔ اس کا بیان یہ ہے کہ اللہ نے انہیں رسول بنا کر اس قوم کی طرف بھیجا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

40: حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے، جو اپنے مقدس چچا کی طرح عراق میں پیدا ہوئے تھے، اور جب انہوں نے وہاں سے ہجرت کی تو حضرت لوط علیہ السلام بھی ان کے ساتھ وطن سے نکل آئے، بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین کے علاقے میں آباد ہوئے، اور حضرت لوط علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اردن کے شہرسدوم (sodom) میں پیغمبر بناکر بھیجا۔ سدوم ایک مرکزی شہر تھا، اور اس کے مضافات میں عمورہ وغیرہ کئی بستیاں آباد تھیں۔ کفر وشرک کے علاوہ ان بستیوں کی شرمناک بدعملی یہ تھی کہ وہ ہم جنسی (homosexuality) کی لعنت میں گرفتار تھے جس کا ارتکاب قرآنِ کریم کی تصریح کے مطابق ان سے پہلے دُنیا کے کسی فرد نے نہیں کیا تھا، حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں اﷲ تعالیٰ کے احکام پہنچائے، اور عذاب سے بھی ڈرایا، لیکن جب یہ لوگ اپنی خباثت سے باز نہ آئے توان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی، اور ان تمام بستیوں کو الٹ دیا گیا، آج بحر میت (dead sea) کے نام سے جو سمندر ہے، کہتے ہیں کہ یہ بستیاں یا تو اس میں ڈوب گئی ہیں، یا اس کے آس پاس تھیں۔ جن کا نشان واضح نہیں رہا۔ حضرت لوط علیہ السلام کا اس قوم کے ساتھ نسبی تعلق نہیں تھا، پھر بھی اس آیت میں اسے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کہا گیا ہے، کیونکہ یہ وہ امت تھی جس کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا۔ان کے واقعے سب سے زیادہ تفصیل سورۂ ہود (69:11 تا 83) میں آئے گی۔ اس کے علاوہ سورۂ حجر (52:15 تا 84)، سورۂ شعراء (160:26 تا 174) اور سورۂ عنکبوت (26:29 تا 35) میں بھی ان کے واقعے کی کچھ تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ نیز سورۂ ذاریات (24:51 تا 37) اور سورۂ تحریم (10:66) میں بھی ان کے مختصر حوالے آئے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(80 ۔ 84) ۔ حضرت لوط ( علیہ السلام) کی امت جن بستیوں میں راہتی تھی وہ بڑی شاداب اور سرسبز بسیتاں تھیں غیر بستیوں کے لوگ شادابی کے سبب سے قوم لوط کی بستیوں میں اکثر آجایا کرتے تھے جس کی وجہ سے قوم لوط کو طرح طرح کی تکلیف ہوتی تھی شیطان نے قوم لوط کو بہکایا کہ غیر بستیوں کے لوگ جو آویں ان کے ساتھ جتنے نو عمر لڑکے ہوں ان لڑکوں سے بدفعلی کی جاوے تو غیر لوگ تمہاری بستیوں میں ہر گر نہ آویں شیطان کے بہکانے سے اور خوب صورت لڑکا بن کر ان کو ورغلانے سے انہوں نے ویساہی کیا اور پھر ان میں وہ عادت جم گئی حضرت لوط ( علیہ السلام) نے ہرچند سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس قدر ٹکڑا زمین کا کھڑا کر اللہ کے حکم سے الٹ دیا اور ان لوگوں پر پتھروں کا مینہ برسا جن پتھروں میں آگ کے شعلے بھی تھے اور سب لوگ ہلاک ہوگئے :

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 عربی انساب کی کتابوں اور بائیبل کی کتاب پیدائش سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لو ط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے تھے کتاب پیدائش میں یہ بھی مذکور ہے کہ ان کے والد کا نام حاران تھا اور وہ بابل کے ایک شہر میں پیدا ہوئے تھے اپنے والد کی وفات کے بعد حضرت لو ط ( علیہ السلام) بھی اپنے چچا حضرت ابراہیم کے ساتھ عراق سے نکل کھڑے ہوئے اور کچھ مدت تک شام و فلسطین میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دتیے رہے آخر کار حضرت ابراہیم نے انہیں ج مستقل طور پر شرق اور دن کے علاقہ میں سکونت رکھنے کا حکم دیا تاکہ وہاں کی بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کی جائے اس علاقہ کا صدر مقام سدوم تھا جو بحیرہ مرادر کے قریب کسی جگہ پر واقع تھا سدوم کے علاقہ وہ اس علاقہ چار اور بڑے شہر تھے اور وہ سب کے سب نہایت آباد اور زرخیز تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (80 تا 84) ۔ اتاتون (کیا تم آتے ہو ؟ ) ۔ الفاحشتہ (بےحیائی کے کام) ۔ ماسبق (نہیں گزرا) ۔ من احد (کوئی ایک بھی) ۔ الرجال (الرجل) ۔ مرد) ۔ شھوۃ (خواہش۔ بری خواہش) ۔ دون النسآء (حد سے باہر نکل جانے والے) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ قریتکم (تمہاری اپنی بستی) ۔ اناس (لوگ) ۔ یتطھرون (صاف ستھرا رہتے ہیں) ۔ امراتہ (اس کی عورت۔ اس کی بیوی) ۔ الغبرین (پیچھے رہنے والیوں (میں سے) ۔ امطرنا (ہم نے برسایا) ۔ عاقبتہ المجرمین (مجرموں کا انجام) ۔ تشریح : آیت نمبر (80 تا 84 ) ۔ ” قوم لوط کا وہی علاقہ ہے جسے آج ہم بحرمیت یا بحیرہ مردار کہتے ہیں۔ یہ بحیرہ سمندر سے بھی زیادہ گہرائی میں ہے۔ چناچہ اس میں پانی باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ اس بحیرہ میں مچھلی، مینڈک، کیڑا غرضیکہ کوئی جاندار زندہ نہیں وہ سکتا۔ قوم لوط کا صدر مقام سدوم تھا۔ جو آجکل اسی بحیرہ میں غرق ہے۔ مگر کبھی یہ علاقہ بڑا سر سبز و شاداب تھا، غلوں اور پھلوں کی کثرت تھی یہاں کم ازکم پانچ خوبصورت بڑے شہر تھے جن کے مجموعہ کو قرآن کریم نے ” مؤتفکہ “ اور مؤتفکات، کے الفاظ سے بیان کا و ہے۔ نعمتوں کی فراوانی اور دولت کی ریل پیل نے یہاں کی قوم کو سرکش بنا دی تھا۔ اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھیجا گیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے نبی اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ پہلی ہستی جس نے حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی وساطت سے اسلام قبول کیا ان کی بیوی حضرت سارہ تھیں۔ دوسری حضرت ہاجرہ اور تیسرے آپ کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) تھے۔ بعض روایات کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب عراق سے ہجرت فرمائی تو حضرت لوط (علیہ السلام) بھی آپ کے ساتھ تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فلسطین کے علاقہ کنعان میں جاب سے اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو اللہ نے اہل سدوم کی طرف پیغمبر بجا کر بھیجا۔ سورۃ الفلق میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ کہ جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے تو وہ سر کشی کرنے لگتا ہے۔ یہی حال سدوم کے رہنے والوں کا ہوا۔ وہ عیش و عشرت میں اتنے مبتلا ہوئے کہ زنا کاری کی نئی نئی راہیں ایجاد کرلیں (جیسا کہ آج کل مغربی ممالک میں ہو رہا ہے) ان میں ایک نئی راہ مردوں کا اختلاط لڑکوں سے اس درجہ بڑھ گیا کہ عورتوں میں ان کی دلچسپی ختم ہو کر رہ گئی۔ یہ جنسی بےراہ روی اتنی زیادہ پھیل گئی کہ حضرت لوط (علیہ السلام) نے فرمای۔ تم لوگ بےحیائی میں دنیا کی ساری قوموں کو پیچھے چھوڑ گئے ہو تم عورتوں کو چھوڑ کر مردں سے خواہش کرتے ہو۔ یہ وہ ذلیل حرکت ہے جو تم سے پہلے دنیا میں کسی قوم نے بھی نہیں کی حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل حد سے گزر گئے ہو، اس قوم کی بےغیرتی، ضد اور ہٹ دھرمی کی انتہا یہ تھی کہ کسی شریف گھرانے کو وہ برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں سے انہوں نے کہا۔ ہماری بستی سے ان لوگوں کو نکا لو یہ اپنے آپ کو بہت پاک باز سمجھتے ہیں اس قوم کی ان حرکتوں کی وجہ سے بالآخر اللہ کا قہر ٹوٹ پڑا۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں متعدد جگہ فرمایا گیا ہے۔ سورة الحجر اور سورة ہود وغیرہ میں اس عذاب الہٰی کی تفصیلات کو بیان کیا گیا ہے۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے زبردست چنگھاڑ کی آواز آئی ۔ پھر اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی نیچے سے زمین کے پورے طبقہ کو الٹا دیا گیا۔ آج یہ قوم بحیرہ مردار کے نیچے غرق ہے۔ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر ’ فاحشہ، کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر ہوتا ہے۔ لیکن مرد۔ مرد کے جنسی تعلقات پر اپنی شدت غضب ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے الف لام کے ساتھ لفظ ’ الفاحشہ، استعمال کیا ہے احادیث میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعدد احکامات مذکور ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ اس مرد کی طرف ہرگز نظر رحمت نہیں کرے گا جو عورت سے اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔ (2) آپ نے فرمایا کہ جس نے حائضہ عورت سے صحبت کی یا عورت کے ساتھ عمل لوط کیا یا قسمت کا حال بیان کرنے والوں (کاہنوں) کے پاس گیا اور ان کی پیشین گوئیوں کی تصدیق کی اس نے (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی تعلیم سے کفر کیا۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ بھی اس فعل کو انتہائی گھناؤنا فرمایا ہے مردوں میں اس فعل کے متعلق ارشاد ہے۔ (3) فاعل اور مفعول (الفاظ زانی اور زانیہ کے استعمال نہیں کئے گئے) دونوں کو قتل کردیا جائے خواہ وہ کنوارے ہوں یا شادی شدہ۔ (4) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اوپر والا اور نیچے والا دونوں سنگسار کئے جائیں۔ چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اس لیئے اس فعل کی سزا کیا ہونی چاہئے اس سلسلے میں صحابہ کرام (رض) اور فقہا کی متعدد رائیں ہیں۔ 1) حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی رائے یہ ہے کہ مجرموں کو تلوار سے قتل کیا جائے اور ان کی لاش جلادی جائے۔ 2) حضرت عمر فاروق (رض) اور حضرت عثمان (رض) کی رائے یہ ہے کہ کسی بوسیدہ عمارت کے نیچے کھڑا کرکے وہ عمارت اس پر ڈھادی جائے۔ 3) حضرت علی مرتضی کی رائے یہ ہے کہ مجرم تلوار سے قتل کیا جائے اور دفن کرنے کے بجائے اس کی لاش کو کلا دیا جائے۔ 4) حضرت ابن عباس (رض) کی رائے یہ ہے کہ بستی کی سب سے اونچی بلڈنگ سے سر کے بل گرا کر اوپر سے پتھر برسائے جائیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں کسی ایک واقعہ کے بھی نہ ہونے اور خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کی متعدد آرا کی موجودگی میں فقہا کرام کی بھی مختلف رائیں ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ایسے شخص کی سزا یہ ہے کہ اس کو کسی بلند مقام ، پہاڑ یا مینارہ وغیرہ سے گرادیا جائے اور اوپر سے پتھر برسائے جائیں یہاں تک کہ وہ مرجائے جیسا کہ قوم لوط کے ساتھ کیا گیا علماء احناف کے نزدیک لواطت کی سزا زنا سے زیادہ شدید ہے۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں فاعل و مفعول دونوں واجب القتل ہیں خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ غرضیکہ یہ ایک ایسا فعل ہے جس پر جتنی بھی شدیدسزا دی جائے وہ کم ہے۔ زنا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظر میں بد ترین فعل ہے لنکا ہم جنس پرستی اتنا بھیانک جرم ہے کہ خواہ اپنی بیوی سے ہی کیا جائے ناقابل معافی جرم ہے۔ آج مغربی تہذیب میں اس بد ترین فعل کو جس طرح فیشن کا حصہ بنا دیا گیا ہے بلکہ قانون کا تحفظ بھی دے دیا گیا ہے اس کے اثرات یہ سامنے آ رہے ہیں کہ ہزاروں دواؤں کی ایجاد کے باوجود اس فعل کے کرنے والوں میں بھیانک بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں جن سے انسانیت کو شدید خطرات لا حق ہوچکے ہیں اور طرح طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس فعل سے قطعاً محفوظ رکھے۔ آمین۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن حضرت لوط (علیہ السلام) : حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے۔ جنھوں نے عراق کی سرزمین سے ہجرت کرکے غور زنمر کے علاقہ سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ یہ شہر علاقے کا مرکزی مقام تھا۔ جہاں کے رہنے والے پر لے درجے کے فاسق و فاجر مشرک، کافر، ڈاکو، چور اور انتہائی بد کردار لوگ تھے۔ جنھوں نے دنیا میں بےحیائی کا ایسا عمل اختیار کیا جو اس سے پہلے کسی قوم نے نہیں کیا تھا۔ قوم لوط کا کردار : انھوں نے اپنی نفسانی خواہش اپنی بیویوں سے پوری کرنے کے بجائے لڑکوں سے شروع کر رکھی تھی۔ گویا کہ یہ ہم جنسی کے بدترین گناہ کے مرتکب ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے بار بار سمجھانے کے باوجود باز آنے پر تیار نہ ہوئے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو رجم کردینے کی دھمکی دینے کے ساتھ عذاب الٰہی کا مطالبہ کرتے رہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا سمجھانا : قوم لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟ میں تمہارے لیے امانت دار پیغمبر ہوں، سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو اور میں تم سے اس کا بدلہ نہیں مانگتا، میرا بدلہ رب العالمین کے ذمے ہے۔ کیا تم لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لیے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔ (الشعراء : ١٦٠ تا ١٦٦) قوم کا جواب : کہنے لگے کہ اے لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کردیے جاؤ گے۔ لوط (علیہ السلام) نے کہا میں تمہارے کام کا سخت مخالف ہوں۔ (الشعراء : ١٦٧ تا ١٦٨) حضرت لوط (علیہ السلام) نے اس وقت اپنی قوم سے کہا تم یہ بےحیائی کیوں کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی۔ (الاعراف : ٨٠) ان کی قوم سے اس کے سوا کوئی جواب نہ بن پڑا کہ وہ کہنے لگے ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں۔ (الاعراف : ٨٠ تا ٨٢) حضرت لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کی، تم لڑکوں سے بدکاری کرتے ہو مسافروں پر ڈاکہ ڈالتے ہو۔ اور ہر قسم کی برائی میں ملوث ہو۔ (العنکبوت : ٢٩) قوم کا جواب : اے لوط اگر تم واقعی ہی سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔ (العنکبوت : ٢٩) حضرت لوط (علیہ السلام) کی اللہ کے حضور فریاد : اے میرے رب اس مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ (العنکبوت : ٣٠) قوم لوط پر عذاب کے فرشتوں کی آمد : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتوں کے حاضرہونے کا قرآن مجید تفصیل سے ذکر کرتا ہے کہ قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے فرشتے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس حاضر ہوئے۔ انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی۔ جس پر ان کی بیوی نے تعجب کا اظہار کیا۔ لیکن ملائکہ نے ان کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ رحمت فرما دی ہے اس لیے اس میں کسی قسم کا تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ خوشخبری دینے کے بعد ملائکہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے عرض کی کہ ہم قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ملائکہ سے اصرار کرنے لگے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی حوصلہ مند اور نرم خو تھے۔ ملائکہ نے انھیں عرض کی اس بات کو جانے دیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوچکا ہے لہٰذا اس عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ (ہود : ٦٩ تا ٧٦) عذاب لانے والے فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کی خدمت میں : قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب یہ فرشتے لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں تشریف لائے تو بدمعاش قوم ان سے بےحیائی کرنے کی نیت سے ان کے ہاں دوڑتے ہوئے آئی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ انھیں سمجھایا کہ اے میری قوم یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمہارے لیے حلال ہیں۔ (یعنی تم ان کے ساتھ نکاح کرسکتے ہو) اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مہمانوں کے بارے میں مجھے بےآبرو نہ کرو۔ جب وہ بھاگم بھاگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کیا تم میں کوئی بھی شریف آدمی نہیں ہے ؟ (ہود : ٧٨) بے حیا کہنے لگے کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کیا سروکار، تو جانتا ہے کہ ہم کس ارادہ سے آئے ہیں مشکل ترین حالات میں حضرت لوط (علیہ السلام) کہنے لگے کہ آج کا دن میرے لیے بڑا بھاری دن ہے۔ کاش تمہارے مقابلے میں میرا کوئی حمایتی ہوتا یا کوئی پناہ گاہ جہاں میں تم سے بچ نکلتا۔ (ہود : ٧٩، ٨٠) ملائکہ اپنے آپ کو ظاہر کرکے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہیں : عذاب کے فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ اے اللہ کے نبی دل چھوٹا نہ کیجیے۔ یہ بےحیا تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ بس آپ اہل ایمان کو لے کر رات کے پچھلے پہر ہجرت کر جائیں۔ ہاں یاد رہے کہ آپ اپنی بیوی کو ساتھ نہیں لے جاسکیں گے کیونکہ اسے بھی وہی عذاب پہنچنے والا ہے۔ جس میں دوسرے لوگ مبتلا ہوں گے اور یہ عذاب ٹھیک صبح کے وقت نازل ہوگا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) گھبراہٹ کے عالم میں فرمانے لگے کہ صبح کب ہوگی ؟ ملائکہ نے مزید تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول صبح تو ہونے ہی والی ہے چناچہ صبح کے وقت رب ذوالجلال کا حکم صادر ہوا تو اس دھرتی کو اٹھا کر نیچے پٹخ دیا گیا۔ پھر ان پر مسلسل نامزد پتھروں کی بارش کی گئی۔ (ھود : ٦٩ تا ٨٣) سورۃ القمر ٣٧ تا ٣٨ میں فرمایا کہ ظالموں نے لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں پر زیادتی کرنا چاہی تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مسخ دیا۔ سورۃ الصافات میں ١٣٧ تا ١٣٨ میں ارشاد ہوا یقیناً لوط (علیہ السلام) مرسلین میں سے تھے جب ہم نے انھیں اور اس کے اہل کو نجات دی۔ البتہ ایک بڑھیا کو پیچھے رہنے دیا پھر ہم نے باقی سب کو ہلاک کیا۔ اے اہل مکہ تم صبح شام ان بستیوں سے گزرتے ہو لیکن اس کے باوجود عقل نہیں کرتے۔ (الصافات : ١٣٥ تا ١٣٨) (فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَأَمْطَرْنَا عَلَیْہَا حِجَارَۃً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُود مُسَوَّمَۃً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا ہِیَ مِنَ الظَّالِمِینَ بِبَعِیدٍ )[ ھود : ٨٢، ٨٣] ” پھر جب ہم نے حکم نافذ کیا تو ہم نے اس بستی کو اوپر نیچے (تہس نہس) کردیا اور تابڑ توڑ پکی مٹی کے پتھر برسائے۔ تیرے رب کی طرف سے ہر پتھر پر نشان (نام) لکھا ہوا تھا اور ظالموں سے یہ سزا دور نہیں ہے۔ “ بحرمردار (میت): دنیا کے موجو دہ جغرافیے میں یہ بحر مردار اردن کی سر زمین میں واقع ہے۔ پچاس میل لمبا، گیارہ میل چوڑا ہے اسکی سطح کا کل رقبہ ٣٥١ مربع میل ہے۔ اسکی زیادہ سے زیادہ گہرائی تیرہ سو فٹ پیمائش کی گئی ہے۔ یہ اسرائیل اور اردن کی سرحد پر واقع ہے۔ اور اس کا کسی بڑے سمندر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ گویا کہ یہ ایک بہت بڑی جھیل بن چکی ہے۔ اس کی نمکیات اور کیمیائی اجزاء عام سمندروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے قریب ترین سمندر بحر روم ہے۔ جدید محققین نے اسی جگہ پر لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کی نشاندہی کی ہے۔ جو کسی زمانے میں یہاں صدوم عمود کے نام سے بڑے شہر آباد تھے۔ مصر کے محقق عبدالوہاب البخار نے بھرپور دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ عذاب لوط (علیہ السلام) سے پہلے اس جگہ پر کوئی سمندر نہیں تھا۔ جب اللہ کے عذاب کی وجہ سے اس علاقے کو الٹ دیا گیا تو یہ ایک چھوٹے سے سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ “ ١۔ اس کے پانی کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں نمکیات کا تناسب پچیس فیصد قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ دنیا کے تمام سمندروں میں نمکیات کا تناسب چار سے چھ فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ٢۔ اسکے کنارے نہ کوئی درخت ہے اور نہ ہی اس میں کوئی جانور زندہ رہ سکتا ہے حتی کہ سیلاب کے موقع پر دریائے اردن سے آنیوالی مچھلیاں اس میں داخل ہوتے ہی تڑپ تڑپ کر مرجاتی ہیں۔ اہل عرب اسکو بحیرہ لوط بھی کہتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ : ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔ (العنکبوت : ٢٦) ٢۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اللہ کے رسولوں میں سے تھے۔ (الصٰفٰت : ١٣٣) ٣۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل، یسع، یونس اور لوط کو جہاں والوں پر فضیلت دی۔ (الانعام : ٨٦) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے لوط کو دانائی اور علم عطا فرمایا۔ (الانبیاء : ٧٤) ٥۔ لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فحاشی اور بےحیائی سے منع فرمایا۔ (النمل : ٥٤) حضرت لوط (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں ٢٣ بار تذکرہ ہوا ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” نمبر ٨٠ تا ٨٤۔ قصہ لوط میں انسانی فطرت کے ایک ایسے بگاڑ کا ذکر ہے جسکی مخصوص نوعیت ہے ۔ سابقہ قصص میں تو اقوام کی ہلاکت نہایت ہی اساسی نظریہ حیات یعنی عقیدہ توحید اور وحدت حاکمیت الہ کے مسئلے پر ہوتی تھی ۔ لیکن فطرت کا یہ بگاڑ بھی نہایت ہی اساسی مسئلہ تھا اور یہ عقیدہ توحید اور مسئلہ حاکمیت سے متعلق تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت اور عبودیت کے اقرار کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قرآن وسنت کی مکمل اطاعت کی جائے ۔ سنت الہیہ یہ ہے کہ اللہ نے مرد اور عورت کو علیحدہ اصناف میں پیدا کیا اور مرد اور عورت کے اتصال کو ایسا ذریعہ بنایا جس کے نتیجے مین وہ ایک دوسرے کے لئے ذریعہ تکمیل ثابت ہوئے اور اس طرح نسل انسانی کے اجرا وامتداد کا سامان فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ نے دونوں اصناف کے وضائف مقرر کرکے انہیں ایک دوسرے کے لئے مناسب جسمانی اور نفسیاتی اہلیت دی اور باہم ملاپ سے نسل انسانی کی بقا کا انتظام فرمایا ۔ پھر اس ملاپ کے اندر دونوں کے لئے گہری لذت ودیعت کی اور اسے ایک فطری لذت قرار یدا تاکہ وہ دلکشی اور کشش کے ساتھ باہم ملیں اور بقائے نسل انسانی کی ذمہ داریاں قبول کریں اور اس راہ میں آنے والی تمام مشکلات کو بھی برداشت کریں ۔ حمل ‘ وضع حمل اور بچوں کی پرورش اور رضاعت ‘ نفقہ اولاد واہلیہ اور تربیت اولاد کی ذمہ داریاں اور کفالت اور اس کے بعد پورے خاندان کے افراد کی باہم ذمہ داریاں ۔ باوجود اس کے کہ دوسرے حیوانات کے مقابلے میں انسانی بچوں کی نشوونما اور تربیت کا علم نہایت ہی طویل اور صبر آزما ہوتا ہے ۔ یہ فریضہ چونکہ نہایت ہی اساسی اور بنیادی فریضہ ہے اور اس کے سوا نسل انسانی کی بقا ممکن نہیں ۔ اس لئے اس فریضے کے اندر انحراف کو بھی ایک اساسی جرم قرار دیا گیا جس طرح عقیدہ توحید کے اندر ذرا بھر انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اس لئے نظریہ حیات اور عقیدہ توحید کے اندر انحراف اور ہم جنسی پرستی کے انحراف کو ایک درجے کا جرم قرار دیا گیا۔ قوم لوط کے قصے میں انحراف واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ یہ فطرت سے انحراف ہے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ یہ ایک نئی اخلاقی بےراہ روی انہوں نے شروع کی ہے اور ان سے پہلے کسی قوم میں یہ اخلاقی فساد نہ تھا ۔ آیت ” وَلُوطاً إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُم بِہَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِیْنَ (80) إِنَّکُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّن دُونِ النِّسَاء بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ (81) ” اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ‘ پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا ” کیا تم ایسے بےحیا ہوگئے کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا ؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو ۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) ان پر حد سے گزرنے کا جو الزام لگاتے ہیں اور اس پر ان کی سرزنش کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت سلیمہ کا جو نظام انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اس سے آگے گزر جانا اسراف ہے ۔ پھر اللہ نے انہیں توالد وتناسل کے لئے جو قوتیں دی ہوئی ہیں ان کا صحیح مصرف یہ ہے کہ ان کو یہاں زندگی کی نشوونما کیلئے صرف کیا جائے جبکہ وہ ان قوتوں کو بنجر زمین میں ضائع کر رہے ہیں اور محض عارضی لذت اور شہوت رانی کے لئے کام میں لاتے ہیں ‘ حالانکہ شہوت اور لذت کا حصول بھی طبعی راہ سے ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی سنت الہیہ کے خلاف لذت کوشی کی سعی کرتا ہے تو اسے بےراہ روی ‘ اور خلاف فطرت عمل تصور کیا جائے گا ۔ مزید یہ کہ یہ عمل خلاف اخلاق بھی ہوگا ‘ اس لئے اسلامی اخلاق بھی فطری اخلاق ہوتے ہیں اور ان کے اندر کوئی فساد اور انحراف نہیں ہوتا ۔ عورت کی نفسیاتی اور عضویاتی ساخت ایسی ہوتی ہے جس سے مرد کو حقیقی لذت حاصل ہوتی ہے ۔ اس سے بھی مقصد صرف حصول لذت نہیں ہوتا بلکہ اس ملاپ کے نتیجے میں رحمت اور نعمت بھی حاصل ہوتی ہے ‘ اس طرح کہ اس ملاپ کے نتیجے میں سنت الہیہ کے مطابق سلسلہ حیات کی بقاء کا انتظام ہورہا ہے ۔ رہا یہ کہ مرد اور مرد کے درمیان جو عضویاتی یکسانیت ہوتی ہے تو اس سے کوئی صحت مند لذت حاصل نہیں ہوتی بلکہ انسان کو اس میں گندگی کا احساس ہوتا ہے اس لئے فطرت سلیمہ اس ملاپ کو قبول نہیں کرتی ۔ اس سلسلے میں انسان کے اعتقادات اور تصورات کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے ۔ آج کے دور میں یورپ میں جو جاہلیت مروج ہے ‘ وہ اس جنسی بےراہ روی کو بڑی بےحیائی کے ساتھ پھیلاتی ہے اور یہ بےراہ روی محض نظریاتی بےراہ روی کے نتیجے میں ہے ۔ ہمارے دور میں یہودی تمام غیر یہودی اقوام کو اخلاقی اعتبار سے برباد کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے نشرواشاعت کے ادارے رات اور دن کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ نظریاتی اور اخلاقی طور پر غیر یہودی اقوام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ دعوی کرتے رہے کہ یہ جنسی انتشار اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ عورت پردہ کرتی ہے ۔ لیکن واقعات اس کے برعکس بتاتے ہیں ‘ اس لئے کہ یورپ وامری کہ کے اندر کسی مرد اور عورت کے ملاپ کے لئے کوئی ضابطہ یا کوئی قید نہیں ہے ‘ بعینہ اسی طرح جس طرح بہائم بوقت ضرورت ملتے ہیں ۔ لیکن ان کھلے معاشروں میں خلاف وضع فطرت فعل بھی دوسرے معاشروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے بلکہ ہم جنسی پرستی صرف مردوں کے اندر ہی نہیں عورتوں کے درمیان بھی یہ فعل رائج ہے ۔ اگر کسی کو شبہ ہے تو وہ مسٹر کنزی کی کتابیں پڑھیں ۔ ” مردوں کے درمیان جنسی تعلقات “ اور ” عورتوں کے درمیان جنسی تعلقات “۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود یہ جھوٹے ذرائع ابلاغ اپنی اس جھوٹی بات کو دہراتے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فعل بد عورتوں کے پردے کی وجہ سے کسی سوسائٹی میں پھیلتا ہے ۔ یہ پروپیگنڈہ وہ ان مقاصد کے لئے کرتے ہیں جن کا اظہار انہوں نے اکابرین یہود کے پروٹوکول میں کیا ہے ۔ اب ذرا دوبارہ قرآنی قصے کی طرف آئیے اور سنئے کہ وہ اپنی نبی کو کیا جواب دیتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

86 یہ چوتھا قصہ ہے اور دوسرے دعوے سے متعلق ہے کیونکہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم اللہ کے محرمات سے حرام کا سا معاملہ نہیں کرتی تھی۔ “ اَلْفَاحِشَةَ ” سے لڑکوں کیساتھ خلاف فطرت فعل کرنا مراد ہے۔ اس فعل کی ابتداء قوم لوط میں ہوئی اس سے قبل کسی قوم نے یہ فعل نہیں کیا تھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

80 اور حضرت لوط (علیہ السلام) کو ہم نے ہی سدوم کی بستیوں کی جانب رسول بنااکر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم یعنی اپنی امت سے کہا کیا تم لوگ ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو جو تم سے پہلے اقوام عالم میں سے کسی نے نہیں کیا یعنی جہان بھر میں کسی نے ایسی بےحیائی کا کام نہیں کیا۔