Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 87

سورة الأعراف

وَ اِنۡ کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنۡکُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖ وَ طَآئِفَۃٌ لَّمۡ یُؤۡمِنُوۡا فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰی یَحۡکُمَ اللّٰہُ بَیۡنَنَا ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۸۷﴾

And if there should be a group among you who has believed in that with which I have been sent and a group that has not believed, then be patient until Allah judges between us. And He is the best of judges."

اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس حکم پر جس کو دے کر مجھ کو بھیجا گیا ایمان لے آئے ہیں اور کچھ ایمان نہیں لائے تو ذرا ٹھہر جاؤ! یہاں تک کہ ہمارے درمیان اللہ فیصلہ کئے دیتا ہے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِن كَانَ طَأيِفَةٌ مِّنكُمْ امَنُواْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَأيِفَةٌ لَّمْ يْوْمِنُواْ ... "And if there is a party of you who believes in that with which I have been sent and a party who does not believe," that is, if you divided concerning me, ... فَاصْبِرُواْ ... "so be patient," that is, then wait and see, ... حَتَّى يَحْكُمَ اللّهُ بَيْنَنَا ... "until Allah judges between us," (and you), ... وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِين "and He is the best of judges." Surely, Allah will award the best end to those who fear and obey Him and He will destroy the disbelievers.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

87۔ 1 کفر پر صبر کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ اس کے لئے تہدید اور سخت وعید ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اہل حق کا اہل باطل پر فتح و غلبہ ہی ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :52)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٢۔ الف ] شہر میں داخل ہونے والے راستوں پر ان لوگوں کے بیٹھنے کے دو مقاصد تھے ایک یہ کہ جہاں داؤ لگتا مسافروں اور راہ گیروں کو لوٹ لیتے اور دوسرے جو لوگ شہر میں آنا چاہتے انہیں سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے پاس جانے سے روکتے بھی تھے، بہکاتے بھی تھے اور دھمکاتے بھی تھے اور کہتے کہ یہ شخص دغا باز اور فریبی ہے اس کا کہنا نہ ماننا نہ اس کی چالوں ہی میں آنا اور آپ کی تعلیم اور شریعت میں سینکڑوں قسم کی جاہلانہ نکتہ چینیاں کرتے اور عیب لگاتے تھے اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے معدودے چند لوگوں پر طرح طرح کی سختیاں بھی کرتے تھے کہ وہ ان کے دین سے باز آجائیں۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو بڑے نرم الفاظ میں پہلے اللہ کے ان پر احسانات یاد دلائے پھر فرمایا کہ اگر چند لوگ ایمان لے آئے ہیں تو انہیں پریشان کیوں کرتے ہو۔ ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہے اللہ اس سے خود نمٹ لے گا تھوڑی دیر صبر تو کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاصْبِرُوْا حَتّٰي يَحْكُمَ اللّٰهُ : یہ انھیں کفر پر صبر کا حکم نہیں بلکہ انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا : ( فَتَرَبَّصُوْٓا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ ) [ التوبۃ : ٥٢ ] ” سو انتظار کرو، بیشک ہم ( بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the last verse (87), an answer has been given to scruples of these people about the division in their ranks after some of them believed in the call of Sayyidna Shu&aib (علیہ السلام) while others kept rejecting him. But, there was no difference between them outwardly. Both groups were living comfortably. If being a disbeliever or denier would have been a crime, the criminal would have been punished. To answer that doubt, it was said: فَاصْبِرُ‌وا حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّـهُ بَيْنَنَا Is that is, do not make haste. Allah Ta` ala is Forbearing and Merciful. He gives respite to wrongdoers. It is only when they become absolutely wicked and highhanded that the decree of Allah comes into action. The state in which they were was similar. If they remained sticking to their denial, the time was not far when the decisive punishment will overtake the deniers.

پانچویں آیت میں اس قوم کے ایک شبہ کا جواب ہے کہ شعیب (علیہ السلام) کی دعوت ایمان کے بعد ان کی قوم دو حصوں میں بٹ گئی کچھ ایمان لائے کچھ منکر رہے۔ مگر ظاہری اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں جماعتیں یکساں آرام و عیش میں ہیں اگر منکر ہونا کوئی جرم ہوتا تو مجرم کو سزا ملتی۔ اس کے جواب میں فرمایا فاصْبِرُوْا حَتّٰي يَحْكُمَ اللّٰهُ بَيْنَنَا یعنی جلد بازی نہ کرو اللہ تعالیٰ اپنے علم و کرم سے مجرموں کو مہلت دیتے ہیں جب وہ بالکل ہی سرکش ہوجاتے ہیں تو پھر فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ تمہارا بھی یہی حال ہے اگر تم اپنے انکار سے باز نہ آئے تو عنقریب منکروں پر فیصلہ کن عذاب نازل ہوجائے گا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِجَنَّكَ يٰشُعَيْبُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا ۭ قَالَ اَوَلَوْ كُنَّا كٰرِہِيْنَ۝ ٨٨ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] والقَوْلُ يستعمل علی أوجه : أظهرها أن يكون للمرکّب من الحروف المبرز بالنّطق، مفردا کان أو جملة، فالمفرد کقولک : زيد، وخرج . والمرکّب، زيد منطلق، وهل خرج عمرو، ونحو ذلك، وقد يستعمل الجزء الواحد من الأنواع الثلاثة أعني : الاسم والفعل والأداة قَوْلًا، كما قد تسمّى القصیدة والخطبة ونحوهما قَوْلًا . الثاني : يقال للمتصوّر في النّفس قبل الإبراز باللفظ : قَوْلٌ ، فيقال : في نفسي قول لم أظهره . قال تعالی: وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ [ المجادلة/ 8] . فجعل ما في اعتقادهم قولا . الثالث : للاعتقاد نحو فلان يقول بقول أبي حنیفة . الرابع : في الإلهام نحو : قُلْنا يا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ [ الكهف/ 86] فإنّ ذلک لم يكن بخطاب ورد عليه فيما روي وذكر، بل کان ذلک إلهاما فسماه قولا . ( ق و ل ) القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ قول کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) عام طور پر حروف کے اس مجموعہ پر قول کا لفظ بولاجاتا ہے جو بذریعہ نطق کت زبان سے ظاہر ہوتے ہیں خواہ وہ الفاظ مفرد ہوں جملہ کی صورت میں منفرد جیسے زید خرج اور مرکب جیسے زید منطق وھل خرج عمر و نحو ذالک کبھی انواع ثلاثہ یعنی اسم فعل اور حرف میں ہر ایک کو قول کہا جاتا ہے جس طرح کہ تصیدہ اور خطبہ وغیرہ ہما کو قول کہہ دیتے ہیں ۔ ( 2 ) جو بات ابھی ذہن میں ہو اور زبان تک نہ لائی گئی ہو اسے بھی قول کہتے ہیں اس بناء پر قرآن میں آیت کریمہ : ۔ وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ [ المجادلة/ 8] اور اپنے دل میں اگتے ہیں ( اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو ) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا ۔ یعنی دل میں خیال کرنے کو قول سے تعبیر کیا ہے ۔ ( 3 ) رائے خیال اور عقیدہ پر بھی قول کا لفظ بولاجاتا ہے ۔ جیسے فلان یقول بقول ابی حنیفه ( فلان ابوحنیفہ کی رائے کا قائل ہے ) ( 4 ) الہام کرنا یعنی کسی کے دل میں کوئی بات ڈال دینا جیسے فرمایا ؛ قُلْنا يا ذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ [ الكهف/ 86] ہم نے کہا ذولقرنین تم ان کو تکلیف دو ۔ یہاں قول بمعنی الہام اور القا کے ہے ۔ ملأ المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] ( م ل ء ) الملاء ( م ل ء ) الملاء ۔ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہوتونظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246] نھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا ۔ الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] . ( ک ب ر ) کبیر اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کہر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔ الاستکبار ( اسعاے ل ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو ۔ جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا ) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مذموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں عود الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] ( ع و د ) العود ( ن) کسی کام کو ابتداء کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہاجاتا ہی خواہ وہ پلٹا ھذایۃ ہو ۔ یا قول وعزم سے ہو ۔ قرآن میں ہے : رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] اے پروردگار ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ( ایسے کام ) کریں تو ظالم ہوں گے ۔ ملل المِلَّة کالدّين، وهو اسم لما شرع اللہ تعالیٰ لعباده علی لسان الأنبیاء ليتوصّلوا به إلى جوار الله، والفرق بينها وبین الدّين أنّ الملّة لا تضاف إلّا إلى النّبيّ عليه الصلاة والسلام الذي تسند إليه . نحو : فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 95] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ولا تکاد توجد مضافة إلى الله، ولا إلى آحاد أمّة النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم، ولا تستعمل إلّا في حملة الشّرائع دون آحادها، ( م ل ل ) الملۃ ۔ دین کی طرح ملت بھی اس دستور نام ہے جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان پر بندوں کے لئے مقرر فرمایا تا کہ اس کے ذریعہ وہ قریب خدا وندی حاصل کرسکیں ۔ دین اور ملت میں فرق یہ ہے کی اضافت صرف اس نبی کی طرف ہوتی ہے جس کا وہ دین ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 95] پس دین ابراہیم میں پیروی کرو ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] اور اپنے باپ دادا کے مذہب پر چلتا ہوں ۔ اور اللہ تعالیٰ یا کسی اذا دامت کی طرف اسکی اضافت جائز نہیں ہے بلکہ اس قوم کی طرف حیثیت مجموعی مضاف ہوتا ہے جو اس کے تابع ہوتی ہے ۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ كره قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ : ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] ( ک ر ہ ) الکرہ ( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ ( بضم الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے نا خواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] اور اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

45: یہ درحقیقت ان کی ایک بات کا جواب ہے، وہ کہتے تھے کہ ہمیں تو مومنوں اور کافروں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا، جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ بھی خوش حالی کی زندگی بسر کررہے ہیں اگر ان کا طریقہ اللہ کو پسند نہ ہوتا تو انہیں یہ خوش حالی کیوں نصیب ہوتی؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس وقت کی خوش حالی سے یہ دھوکا نہ کھانا چاہئے کہ صورت حال ہمیشہ ایسی ہی رہے گی، ابھی اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 و ان احکام کو مانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل کئے گئے۔11 یعنی انتظار کرو۔12 تم کافروں کا تباہ اور ہم مومنوں کو غالب کرے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت ” وَإِن کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنکُمْ آمَنُواْ بِالَّذِیْ أُرْسِلْتُ بِہِ وَطَآئِفَۃٌ لَّمْ یْْؤْمِنُواْ فَاصْبِرُواْ حَتَّی یَحْکُمَ اللّہُ بَیْْنَنَا وَہُوَ خَیْْرُ الْحَاکِمِیْنَ (87) ” اگر تم میں ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ‘ ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو منصفانہ منصوبے کو اپنانے کا مشورہ دیا اور یہ آخری حد تھی جہاں تک وہ انکورعایت دے سکتے تھے ‘ اس سے پیچھے وہ ایک قدم بھی نہ ہٹ سکتے تھے ۔ وہ یہ کہ ان کی قوم کفر واسلام کی اس کشمکش میں غیر جانبدار ہو کر انتظار کرے اور مسلمانوں کو اذیت نہ دے ۔ قوم جس دین کو چاہے اختیار کرے یہاں تک کہ اللہ خود کوئی فیصلہ کردے ۔ لیکن طاغوتی قوتیں اس بات کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتیں کہ اس کرہ ارض پر ایمان کا معمولی وجود بھی ہو اور وہ ایسی جماعت کی شکل میں ہو جو طاغوت کی اطاعت نہ کرتی ہو ۔ اس کرہ ارض پر ایسی جماعت مسلمہ ‘ جو صرف اللہ کی غلام ہو ‘ جو اللہ کے اقتدار اعلی کے سوا کسی اور اقتدار کو نہ تسلیم کرتی ہو ‘ اپنی زندگی میں اللہ کے قانون کے سوا کسی اور کا قانون نہ مانتی ہو اپنی اجتماعی زندگی میں اللہ کے نظام کے سوا کسی اور نظام کی قائل نہ ہو ۔ ایسی جماعت کا مجرد پایا جانا ہی طاغوت کے وجود کے لئے خطرہ ہوتا ہے ۔ اگرچہ اس قسم کی جماعت خود اپنے دائرے کے اندر ہی محدود کیوں نہ ہو ‘ طاغوتی قوتوں کو فی الحال نہ بھی چھیڑتی ہو اور طاغوت کو وہ اپنی طبعی انجام تک پہنچنے کیلئے انتظار کررہی ہو۔ حقیقت یہ ہے طاغوتی قوتوں نے اپنے اوپر از خود یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ اسلامی قوتوں کے خلاف برسرجنگ رہیں گے اگرچہ اسلامی قوتیں جنگ سے بچنا چاہیں کیونکہ حق کا وجود ہی ان قوتوں کے لئے خوفناک ہوتا ہے اور طاغوت ہر وقت حق سے کانپتا رہتا ہے ۔ حق کا وجود ہی اس کشمکش کے آغاز کا باعث ہوتا ہے ۔ یہ اللہ کی سنت ہے ۔ اگر کوئی سمجھے کہ حق ہے اور باطل اس کے خلاف نہ اٹھ رہا ہو ‘ تو ایسے اہل حق کو غور کرنا چاہئے کہ وہ حق پر ہیں بھی کہ نہیں ؟ آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ مِن قَوْمِہِ لَنُخْرِجَنَّکَ یَا شُعَیْْبُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مَعَکَ مِن قَرْیَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا “۔ (٧ : ٨٨) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے ‘ اس سے کہا ” اے شعیب ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ۔ “ یہ ہے طاغوت کی ننگی خود سری ۔ اسے اصرار ہے کہ وہ حق کے ساتھ یہ معرکہ جاری رکھے گا اور یہ بات ممکن ہی نہیں ہے کہ حق اور باطل باہم زندہ رہ سکیں یا ان کے درمیان فائز بندی ہو سکے۔ لیکن نظریاتی قوتوں پر باطل کی دھمکیوں کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا ۔ حق کے پاؤں میں کوئی لغزش نہیں آتی اور وہ بات کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس مقام سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ان کی جانب سے یہ آخری رعایت تھی کہ لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ جو عقیدہ چاہیں اختیار کریں ‘ جس کے اقتدار میں چاہیں اپنے آپ کو داخل کردیں اور دونوں حریف اللہ کے فیصلے کا انتظار کریں ۔ یہ وہ مقام ہے جس سے مزید پیچھے کوئی حامل حق داعی نہیں ہٹ سکتا ۔ چاہے طاغوتی قوتوں کی طرف سے شدید دباؤ کیوں نہ ہو ۔ اگر کوئی داعی اس مقام سے پیچھے ہٹ جاتا ہے تو وہ گویا اس سچائی کو خیر باد کہہ دیتا ہے جس کا وہ نمائندہ ہے بلکہ اس سے خیانت کرتا ہے ۔ جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان مستکبرین کی طرف سے یہ دھمکی ملتی ہے کہ وہ یا تو اپنے نظریات کو ترک کرکے واپس ہماری ملت میں آجائیں ورنہ پھر ہمارے حلقے سے نکلنے کے لئے تیار ہوجائیں تو حضرت شعیب (علیہ السلام) صاف اعلان فرما دیتے ہیں کہ وہ ہر گز ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ نے انہیں جس برے دن سے نجات دی وہ پھر اسی میں داخل ہوجائیں ۔ اب وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے اللہ ہمارے اور ہمارے دشمنوں کے درمیان اب تو ہی فیصلہ کردے ۔ اور ہماری مدد فرما ۔ کیونکہ تو ہی مدد کرنے والا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

93: یہ منکرین کے لیے تخویف دنیوی ہے یعنی تم میں سے کچھ لوگ میری دعوت قبول کرچکے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس کو رد کیا ہے۔ اب تم اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو کہ وہ کس طرح ایمان والوں کو بچاتا ہے اور نہ ماننے والوں کو ہلاک کرتا ہے۔ فیہ وعید و تھدید یعنی حتی یقضی اللہ و یفصل بینا ویعز المؤمنین المصدقین و ینصرھم ویھلک المکذبین الجاحدین و یعذبھم (خازن ج 2 ص 215) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

87 اور اگر میں ایک جماعت اس دین پر ایمان لے آئی ہے جو مجھ کو دیکر بھیجا گیا ہے اور ایک جماعت اور ایک گروہ ایسا ہے جو اس دین پر ایمان نہیں لایا تو تم گھبرائو نہیں اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مابین فیصلہ کردے اور وہی بہترین حاکم اور فیصلہ کرنے والا ہے یعنی اگر ظاہری طورپر مومن اور غیر مومن میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن ذرا صبر سے کام لو اور وقت کا انتظار کرو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ کا وقت آئے گا اس وقت تم کو ایمان کی برکت اور کفر کی شقادت معلوم ہوجائے گی۔