Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 94

سورة الأعراف

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَہۡلَہَا بِالۡبَاۡسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمۡ یَضَّرَّعُوۡنَ ﴿۹۴﴾

And We sent to no city a prophet [who was denied] except that We seized its people with poverty and hardship that they might humble themselves [to Allah ].

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو ہم نے سختی اور تکلیف میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ گڑگڑائیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Afflictions that struck Earlier Nations Allah says; وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلاَّ أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ And We sent no Prophet unto any town (and they denied him), but We seized its people with Ba'sa' and Darra', so that they might humble themselves (to Allah). Allah mentions the Ba'sa' and Darra' that struck the earlier nations to whom He sent Prophets. Ba'sa', refers to the physical sicknesses and ailments that they suffered, while Darra', refers to the poverty and humiliation that they experienced, لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ (so that they might humble themselves) supplicate, humble themselves and invoke Allah, that He might remove the afflictions that they suffered from. This Ayah indicates that Allah sent down severe afflictions to them so that they might invoke Him, but they did not do what He ordered them. Therefore, He changed the affliction into prosperity to test them,

ادوارماضی اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں ، فقیری ، مفلسی ، تنگی ۔ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں ۔ مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں ۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا ، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقہ دیا ۔ سختی کو نرمی سے ، برائی کو بھلائی سے ، بیماری کو تندرستی سے ، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہو جائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا ، جیسے جیسے بڑھے ویسے ویسے کفر میں پھنسے ، بد مستی میں اور بڑھے اور مغرور ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ زمانہ کے اتفاقات ہیں ۔ پہلے سے یہی ہوتا چلا آیا ہے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں بڑی ۔ زمانہ ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتا ، الغرض اتفاق پر محمول کر کے معمولی سی بات سمجھ کر دونوں موقع ٹال دیئے ۔ ایمان والے دونوں حالتوں میں عبرت پکڑتے ہیں ۔ مصیبت پر صبر ، راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے ، بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن پر تعجب ہے اس کی دونوں حالتیں انجام کے لحاظ سے اس کیلئے بہتر ہوتی ہیں ۔ یہ دکھ پر صبر کرتا ہے ، انجام بہتر ہوتا ہے ، سکھ پر شکر کرتا ہے ، نیکیاں پاتا ہے ، پس مومن رنج و راحت دونوں میں اپنی آزمائش کو سمجھ لیتا ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے بلاؤں کی وجہ سے مومن کے گناہ بالکل دور ہو جاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہو جاتا ہے ۔ ہاں منافق کی مثال گدھے جیسی ہے جسے نہیں معلوم کہ کیوں باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا ؟ ( اوکمال قال ) پس ان لوگوں کو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے اچانک آ پکڑا یہ محض بےخبر تھے اپنی خرمستیوں میں لگے ہوئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اچانک موت مومن کے لئے رحمت ہے اور کافروں کے لئے حسرت ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

94۔ 1 مطلب یہ کہ جس کسی بستی میں بھی ہم نے رسول بھیجا انہوں اس کی تکذیب کی جس کی پاداش میں ہم نے ان کو بیماری اور محتاجی میں مبتلا کردیا جس سے مقصد یہ تھا کہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس کی بارگا میں گڑگڑائیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٠] اس سورة کی آیت نمبر ٥٩ سے لے کر آیت نمبر ٩٣ تک چار رکوعوں میں پانچ مشہور و معروف انبیاء سیدنا نوح (علیہ السلام) سیدنا ہود (علیہ السلام) & سیدنا صالح (علیہ السلام) & سیدنا لوط (علیہ السلام) & اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کا اور ان کی طرف سے دعوت، منکرین کی مخالفت ان کے سوال و جواب اور بالآخر ان معاندین کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے یہ سورة اعراف مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب اسی قسم کے یا ان سے ملتے جلتے حالات سے دو چار تھے مشرکین مکہ کی طرف سے مخالفت اور معاندانہ سرگرمیاں، دھمکیاں ظلم، تشدد اور اسلام کی راہ روکنے کے تقریباً وہی طریقے اختیار کیے جا رہے تھے جو ان انبیاء سے پیش آ چکے تھے یہاں انبیاء کے یہ حالات بیان کرنے سے مقصد یہ تھا کہ ایک تو آپ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمیعن مخالفین کی ایسی سرگرمیوں پر صبر و ضبط سے کام لیں اور دوسرے یہ سمجھانا مقصود تھا کہ ظالموں کو بالآخر اپنے برے انجام سے دو چار ہونا ہی پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان لوگوں کے مظالم سے نجات دے دیتے ہیں اور کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کرتے ہیں۔ دنیوی عذاب سے متعلق اللہ کا ضابطہ :۔ مذکورہ بالا انبیاء کا الگ الگ اور تفصیلی ذکر کرنے کے بعد نبوت کی دعوت اور اس دعوت کے عواقب کا اجمالی ذکر فرمایا بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کا ضابطہ بیان فرمایا کہ جب بھی کوئی نبی کسی بستی میں بھیجا جاتا ہے اور وہ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس دعوت کی مخالفت کی جاتی ہے اور اکثر لوگ اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں تو ہم ان منکرین پر ہلکے ہلکے عذاب بھیج دیتے ہیں۔ مثلاً قحط اور خشک سالی کا عذاب یا کسی وبا اور بیماری کا عذاب یا معمولی قسم کے زلزلے یا سیلاب کا عذاب اور یہ عذاب ان لوگوں کو تنبیہ کے طور پر دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں پھر جب وہ ان تنبیہات کا کوئی اثر قبول نہیں کرتے تو پھر ہم انہیں خوشحالی کی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں، ان کی افرادی قوت بھی بڑھ جاتی ہے، مال و دولت میں فراوانی ہوجاتی ہے اور عیش و آرام سے زندگی گزارنے لگتے ہیں تو انہیں پہلے کے چھوٹے چھوٹے عذاب اللہ کی طرف سے کوئی تنبیہ محسوس ہی نہیں ہوتے اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اچھے اور برے دنوں کا انبیاء کی دعوت کو قبول یا رد کرنے سے کیا تعلق ہے یہ تو سب اتفاقات زمانہ یا گردش ایام کا نتیجہ ہے اور ایسے اچھے اور برے دنوں سے ہمارے آباو اجداد بھی دو چار ہوتے رہے ہیں جب ان کی یہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ انہیں کسی بھی حالت میں اللہ کی گرفت کا خطرہ محسوس نہیں ہوتا اور دنیا میں مست اور مگن ہوجاتے ہیں تو یہی وقت ہمارے عذاب کا ہوتا ہے اور ہمارا عذاب اس طرح یکدم ان پر آن پڑتا ہے کہ کسی کو اس طرح عذاب آجانے کا پہلے احساس تک نہیں ہونے پاتا۔ قریش مکہ پر قحط کا عذاب :۔ ایسا ہی ایک ہلکا عذاب قریش مکہ پر بھی بطور تنبیہ آیا تھا جس کا ذکر سورة دخان میں موجود ہے۔ ہوا یہ تھا کہ جب قریش مکہ کی معاندانہ سرگرمیاں حد سے بڑھ گئیں تو آپ نے ان کے حق میں بددعاء فرمائی کہ یا اللہ ان پر سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ جیسا قحط نازل فرما۔ چناچہ آپ کی دعا قبول ہوئی اور مکہ میں ایسا قحط پڑا جس میں یہ معززین قریش مردار، ہڈیاں اور چمڑا تک کھانے پر مجبور ہوگئے باہر سے بھی کہیں سے غلہ نہیں پہنچ رہا تھا اور ان لوگوں کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ جب آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک اور کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے دھواں ہی دھواں نظر آتا۔ قحط سے تنگ آ کر ان لوگوں نے ابو سفیان کو آپ کے پاس بھیجا اور اس نے آ کر آپ سے درخواست کی کہ آپ تو کہتے ہیں کہ میں رحمت ہوں جبکہ آپ کی قوم خشک سالی سے تباہ ہو رہی ہے ہم آپ کو رحم اور قرابت کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ اس قحط کے دور ہونے کی دعا کیجئے اور اگر یہ مصیبت دور ہوگئی تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے بارش ہوگئی اتفاق سے باہر سے غلہ آنا بھی شروع ہوگیا پھر جب حالات میں تبدیلی آگئی تو ان متعصب لوگوں کے دل پھر برگشتہ ہونے لگے پھر سرداران قوم نے یہ کہنا شروع کردیا کہ زمانے میں ایسے اتار چڑھاؤ پہلے بھی آتے رہتے ہیں اگر اس مرتبہ قحط پڑگیا تو یہ کون سی نئی بات ہے لہذا ایسی چیزوں سے متاثر ہو کر اپنے دین کو ہرگز نہ چھوڑنا۔ یہ واقعہ بخاری میں بھی عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت سے کئی مقامات پر مذکور ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ ۔۔ : اس سے پہلے بعض انبیاء، نوح، ہود، صالح، لوط اور شعیب (علیہ السلام) کے اپنی اقوام کے ساتھ گزرے ہوئے چند واقعات کے ذکر کے بعد اور آگے موسیٰ (علیہ السلام) کے فرعون اور بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آنے والے مفصل واقعات سے پہلے درمیان میں مختصر طور پر تمام انبیاء اور ان کی اقوام کا ذکر فرمایا۔ مقصود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا اور کفار کو خبردار کرنا ہے۔ بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ ” بِالْبَاْسَاۗءِ “ سے مراد اموال میں پہنچنے والی مصیبت، مثلاً فقر و فاقہ اور قحط وغیرہ اور ”‘ وَالضَّرَّاۗءِ سے مراد انسانی بدن کو نقصان پہنچانے والی اشیاء، مثلاً بیماری، مصائب اور جنگ وغیرہ۔ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ ‘: یعنی جب بھی ہم نے کسی بستی کی طرف کوئی نبی بھیجا اور وہ اس پر ایمان نہ لائے تو ہم نے ان کی نصیحت کے لیے بڑے عذاب سے پہلے کم تر عذاب بھیجے جو جنگ، تنگ دستی، قحط یا بیماری اور دوسرے مصائب کی صورت میں تھے۔ مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی شامت اعمال سے آگاہ ہو کر ہمارے سامنے عجز کا اظہار کریں اور سیدھی راہ پر آجائیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ) [ السجدۃ : ٢١] ” اور یقیناً ہم انھیں قریب عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The above verses continue to speak of the events of early people and their ominous fate. The events of five early prophets and their people have been so far discussed. The sixth event concerning &the Prophet Musa (علیہ السلام) and his people is going to be discussed after a few next verses. We have already noted that usual style of the Holy Qur&an with regard to the historical events is quite different from the books of history. The Holy Qur&an does not care to describe a historical event in its entirety or in chronological order. Rather, it selects certain rele¬vant portion of the event then lays emphasis on the lesson or moral contained therein. After relating the stories of the early people, the above verses speak of the warnings and lessons for present people in order to save them from the ill-fate met by their forefathers. The verse 94 warns people that the fate of disaster and suffering described in the foregoing verses was not limited to the people of Nuh, ` Ad and Thamud (علیہم السلام) only. It is, rather, a usual practice of Allah that He sends His prophets to people for their guidance and eternal success. Then, those who do not listen to their advice and reject their invitation are subjected to suffering and distress so that they may turn to their Lord in repentance. It is human to turn to The Creator in distress. This suffering is, in fact, a blessing of Allah in disguise as it is meant for their good. The great spiritual leader Maulana Rumi has versified this fact in these words: خلق را باتو چنسیں بد خوکنند تاترا ناچار روا آنسو کنند |"The people are made to misbehave with you in order that you turn to your Lord in tears.|" The verse 94 has referred to this fact by saying, &We seized it&s people with hardship so that they may turn in humbleness. The Arabic word: بَاسَاء &Ba&sa& signifies hunger or poverty while the word: ضَرَّاء &Darra& signifies illness. The Holy Qur&an has used these words to signify the same meanings in other situations. The respected Companion ` Abdullah ibn Masud (رض) has confirmed these meanings of the two words. Some linguists have said that the word: بَاسَاء refers to financial distress while the word: ضَرَّاء &Darra& signifies loss of health. The verse 95 said: |"Thereafter, We substituted good in place of evil until they increased.|"

خلاصہ تفسیر اور ہم نے (ان مذکورہ اور بھی دوسری بستیوں میں سے) کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا کہ وہاں کے رہنے والوں کو (اس نبی کے نہ ماننے پر اول اول تنبیہ نہ کی ہو اور تنبیہ کی غرض سے ان کو) ہم نے محتاجی اور بیماری میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ ڈھیلے پڑجائیں ( اور اپنے کفر و تکذیب سے توبہ کریں) پھر (جب اس سے متنبہ نہ ہوئے تو استدراجا یا اس غرض سے کہ مصیبت کے بعد جو نعمت ہوتی ہے اس کی زیادہ قدر ہوتی اور نعمت دینے والے کی آدمی بالطبع اطاعت کرنے لگتا ہے) ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوش حالی بدل دی یہاں تک کہ ان کو (غنی اور صحت کے ساتھ مال و اولاد میں) خوب ترقی ہوئی اور ( اس وقت براہ کج فہمی) کہنے لگے کہ (وہ پہلی مصیبت ہم پر کفر و تکذیب کے سبب نہ تھی ورنہ پھر خوش حالی کیوں ہوتی بلکہ یہ اتفاقات زمانہ سے ہے چنانچہ) ہمارے آباء و اجداد کو بھی ( یہ دو حالتیں کبھی) تنگی اور (راحت پیش آئی تھیں (اسی طرح ہم پر یہ حالتیں گزر گئیں جب وہ اس بھول میں پڑگئے) تو (اس وقت) ہم نے ان دفعة ( عذاب مہلک میں) پکڑ لیا اور ان کو (اس عذاب کے آنے کی) خبر بھی نہ تھی ( یعنی گو ان کو انبیاء نے خبر کی تھی مگر چونکہ وہ اس خبر کو غلط سمجھتے تھے اور عیش و آرام میں بھولے ہوئے تھے اس لئے ان کو گمان نہ تھا) اور ( ہم نے جو ان کو عذاب مہلک میں پکڑا تو اس کا سبب صرف ان کا کفر اور مخالفت تھی ورنہ) اگر ان بستیوں کے رہنے والے ( پیغمبروں پر) ایمان لے آتے اور ( ان کی مخالفت سے) پرہیز کرتے تو ہم ( بجائے ارضی و سماوی آفات کے) ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے ( یعنی آسمان سے بارش اور زمین سے پیداوار ان کو برکت کے ساتھ عطا فرماتے اور گو اس ہلاکت سے پہلے ان کو خوش حالی ایک حکمت کے لئے دی گئی لیکن اس خوش حالی میں اس لئے برکت نہ تھی کہ آخر وہ وبال جان ہوگئی بخلاف ان نعمتوں کے جو ایمان و اطاعت کے ساتھ ملتی ہیں کہ ان میں یہ خیروبرکت ہوتی ہے کہ وہ وبال کبھی نہیں ہوتیں نہ دنیا میں نہ آخرت میں، حاصل یہ کہ اگر وہ ایمان وتقوی اختیار کرتے تو ان کو بھی یہ برکتیں دیتے) لیکن انہوں نے تو ( پیغمبروں کی) تکذیب کی تو ہم نے (بھی) ان کے اعمال (بد) کی وجہ سے ان کو عذاب مہلک میں پکڑ لیا (جس کو اوپر اخذنھم بغتة سے تعبیر فرمایا ہے۔ آگے کفار موجودین کو عبرت دلاتے ہیں) کیا (ان قصص کو سن کر) پھر بھی ان (موجودہ) بستیوں کے رہنے والے (جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور نبوت میں موجود ہیں) اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر (بھی) ہمارا عذاب شب کے وقت آپڑے جس وقت وہ پڑے سوتے ہوں اور کیا ان (موجودہ) بستیوں کے رہنے والے (باوجود کفرو تکذیب کے جو کہ کفار سابقین کی طرح) ان پر ہمارا عذاب دن دوپہر آپڑے جس وقت کہ وہ اپنے لایعنی قصوں میں مشغول ہوں (مراد اس سے دنیوی کاروبار ہیں) ہاں تو کیا اللہ تعالیٰ کی اس (ناگہانی) پکڑ سے (جس کا اوپر بیان ہوا ہے) بےفکر ہوگئے سو (سمجھ رکھو کہ) اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بجز انکے جن کی شامت ہی آگئی ہو اور کوئی بےفکر نہیں ہوتا۔ معارف و مسائل پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کی تاریخ اور ان کے عبرتناک حالات و واقعات میں سے جن کا سلسلہ کئی رکوع پہلے سے چل رہا ہے، یہاں تک پانچ حضرات انبیاء کے قصص کا بیان ہوا ہے، چھٹا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم بنی اسرائیل کا ہے جو تفصیل کے ساتھ نو آتیوں کے بعد آنے والا ہے۔ یہ بات پہلے بیان ہوچکی ہے کہ قرآن کریم تاریخ عالم اور اقوام عالم کے حالات بیان کرتا ہے مگر اسلوب بیان یہ رہتا ہے کہ عالم تاریخی کتابوں اور قصے کہانیوں کی کتابوں کی طرح کسی قصہ کو ترتیب اور تفصیل کے ساتھ لانے کے بجائے ہر مقام کے مناسب کسی قصہ کا ایک حصہ بیان کیا جاتا ہے، اس کے ساتھ اس سے حاصل ہونے والے عبرت آموز نتائج ذکر کئے جاتے ہیں، اسی طریق پر یہاں ان پانچ قصوں کے بیان کے بعد ان آیات میں جو اوپر لکھی گئی ہیں کچھ تنبیہات مذکور ہیں۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ قوم نوح (علیہ السلام) اور عاد وثمود کے ساتھ جو واقعات پیش آئے وہ کچھ ان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ شانہ کی عام عادت یہی ہے کہ قوموں کی ہدایت اور ان کی صلاح و فلاح کے لئے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجتے ہیں، جو لوگ ان کی نصیحت پر کان نہیں دھرتے تو اول ان کو دنیا کی مصائب و تکالیف میں مبتلا کردیا جاتا ہے تاکہ تکلیف و مصیبت ان کا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دیں کیونکہ انسان کو فطرة مصیبت کے وقت خدا ہی یاد آتا ہے، اور یہ ظاہری تکلیف و مصیبت درحقیقت رحمن و رحیم کی رحمت و عنایت ہوتی ہے جیسا مولانا رومی نے فرمایا ہے خلق را باتو چنین بدخوکنند تا ترا ناچار رو آنسو کنند آیت مذکورہ میں اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ کا یہی مطلب ہے بؤس اور باساء کے معنی فقر و فاقہ اور ضر و ضراء کے معنی بیماری و مرض کے آتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ لفظ جابجا اسی معنی میں آیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کے یہی معنی بیان فرمائے ہیں، بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ بؤس اور باساء مالی نقصان کے لئے بولا جاتا ہے اور ضر و ضراء جانی نقصان کے لئے، اس کا حاصل بھی یہی ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب کبھی ہم کسی قوم کی طرف اپنے رسول بھیجتے ہیں اور ان کی بات نہیں مانتے تو ہماری عادت یہ ہے کہ اول ان کو دنیا ہی میں مالی اور جانی تنگی و بیماری وغیرہ میں مبتلا کردیتے ہیں تاکہ وہ کچھ ڈھیلے ہوجائیں اور انجام پر نظر کرکے اللہ کی طرف رجوع ہوں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَۃٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَہْلَہَا بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّہُمْ يَضَّرَّعُوْنَ۝ ٩٤ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ ایک مسکن میں رہتے ہوں پھر مجازا آدمی کے قریبی رشتہ داروں پر اہل بیت الرجل کا لفظ بولا جانے لگا ہے اور عرف میں اہل البیت کا لفظ خاص کر آنحضرت کے خاندان پر بولا جانے لگا ہے کیونکہ قرآن میں ہے :۔ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ } ( سورة الأحزاب 33) اسے پیغمبر گے اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی ( کا میل کچیل ) دور کردے ۔ بؤس البُؤْسُ والبَأْسُ والبَأْسَاءُ : الشدة والمکروه، إلا أنّ البؤس في الفقر والحرب أكثر، والبأس والبأساء في النکاية، نحو : وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْساً وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا [ النساء/ 84] ، فَأَخَذْناهُمْ بِالْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ [ الأنعام/ 42] ، وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْساءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ [ البقرة/ 177] ، وقال تعالی: بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ [ الحشر/ 14] ، وقد بَؤُسَ يَبْؤُسُ ، وبِعَذابٍ بَئِيسٍ [ الأعراف/ 165] ، فعیل من البأس أو من البؤس، فَلا تَبْتَئِسْ [هود/ 36] ، أي : لا تلزم البؤس ولا تحزن، ( ب ء س) البؤس والباس البُؤْسُ والبَأْسُ والبَأْسَاءُ ۔ تینوں میں سختی اور ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں مگر بؤس کا لفظ زیادہ تر فقرو فاقہ اور لڑائی کی سختی پر بولاجاتا ہے اور الباس والباساء ۔ بمعنی نکایہ ( یعنی جسمانی زخم اور نقصان کیلئے آتا ہے قرآن میں ہے { وَاللهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا } ( سورة النساء 84) اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے { فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ } ( سورة الأَنعام 42) پھر ( ان کی نافرمانیوں کے سبب ) ہم انہیوں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے { وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ } ( سورة البقرة 177) اور سختی اور تکلیف میں اور ( معرکہ ) کا رزا ر کے وقت ثابت قدم رہیں ۔۔ { بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ } ( سورة الحشر 14) ان کا آپس میں بڑا رعب ہے ۔ بؤس یبوس ( باشا) بہادر اور مضبوط ہونا ۔ اور آیت کریمہ ۔ { بِعَذَابٍ بَئِيسٍ } ( سورة الأَعراف 165) بروزن فعیل ہے اور یہ باس یابوس سے مشتق ہے یعنی سخت عذاب میں اور آیت کریمہ ؛۔ { فَلَا تَبْتَئِسْ } ( سورة هود 36) کے معنی یہ ہیں کہ غمگین اور رنجیدہ رہنے کے عادی نہ بن جاؤ۔ سراء، ضراء والنعماء والضراء قيل انها مصادر بمعنی المسرة والنعمة والمضرة والصواب انها أسماء للمصادر ولیست أنفسها فالسراء الرخاء والنعماء النعمة والضراء الشدة فهي أسماء لهذه المعاني فإذا قلنا إنها مصادر کانت عبارة عن نفس الفعل الذي هو المعنی وإذا کانت أسماء لها کانت عبارة عن المحصّل لهذه المعاني . لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ ضرع الضَّرْعُ : ضَرْعُ الناقةِ ، والشاة، وغیرهما، وأَضْرَعَتِ الشاةُ : نزل اللّبن في ضَرْعِهَا لقرب نتاجها، وذلک نحو : أتمر، وألبن : إذا کثر تمره ولبنه، وشاةٌ ضَرِيعٌ: عظیمةُ الضَّرْعِ ، وأما قوله : لَيْسَ لَهُمْ طَعامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِيعٍ [ الغاشية/ 6] ، فقیل : هو يَبِيسُ الشَّبْرَقِ «1» ، وقیل : نباتٌ أحمرُ منتنُ الرّيحِ يرمي به البحر، وكيفما کان فإشارة إلى شيء منكر . وضَرَعَ إليهم : تناول ضَرْعَ أُمِّهِ ، وقیل منه : ضَرَعَ الرّجلُ ضَرَاعَةً : ضَعُفَ وذَلَّ ، فهو ضَارِعٌ ، وضَرِعٌ ، وتَضَرّعَ : أظهر الضَّرَاعَةَ. قال تعالی: تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأنعام/ 63] ، لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ [ الأنعام/ 42] ، لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ [ الأعراف/ 94] ، أي : يَتَضَرَّعُونَ فأدغم، فَلَوْلا إِذْ جاءَهُمْ بَأْسُنا تَضَرَّعُوا[ الأنعام/ 43] ، والمُضَارَعَةُ أصلُها : التّشارک في الضَّرَاعَةِ ، ثمّ جرّد للمشارکة، ومنه استعار النّحويّون لفظَ الفعلِ المُضَارِعِ. ( ض ر ع ) الضرع اونٹنی اور بکری وغیرہ کے تھن اضرعت الشاۃ قرب دلادت کی وجہ سے بکری کے تھنوں میں دودھ اتر آیا یہ اتمر والبن کی طرح کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں زیادہ دودھ یا کھجوروں والا ہونا اور شاۃ ضریع کے معنی بڑے تھنوں والی بکری کے ہیں مگر آیت کریمہ : ۔ لَيْسَ لَهُمْ طَعامٌ إِلَّا مِنْ ضَرِيعٍ [ الغاشية/ 6] اور خار جھاڑ کے سوا ان کے لئے کوئی کھانا نہیں ہوگا میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں ضریع سے خشک شبرق مراد ہے اور بعض نے سرخ بدبو دار گھاس مراد لی ہے ۔ جسے سمندر باہر پھینک دیتا ہے بہر حال جو معنی بھی کیا جائے اس سے کسی مکرو ہ چیز کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے ۔ ضرع البھم چوپایہ کے بچہ نے اپنی ماں کے تھن کو منہ میں لے لیا بعض کے نزدیک اسی سے ضرع الرجل ضراعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی کمزور ہونے اور ذلت کا اظہار کرنے کے ہیں الضارع والضرع ( صفت فاعلی کمزور اور نحیف آدمی تضرع اس نے عجز وتزلل کا اظہار کیا ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأنعام/ 63] عاجزی اور نیاز پنہانی سے ۔ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ [ الأنعام/ 42] تاکہ عاجزی کریں لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ [ الأعراف/ 94] تاکہ اور زاری کریں ۔ یہ اصل میں یتضرعون ہے تاء کو ضاد میں ادغام کردیا گیا ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ فَلَوْلا إِذْ جاءَهُمْ بَأْسُنا تَضَرَّعُوا[ الأنعام/ 43] تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے ۔ المضارعۃ کے اصل معنی ضراعۃ یعنی عمز و تذلل میں باہم شریک ہونے کے ہیں ۔ پھر محض شرکت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے اسی سے علماء نحو نے الفعل المضارع کی اصطلاح قائم کی ہے کیونکہ اس میں دوز مانے پائے جاتے ہیں )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٤۔ ٩٥) جن بستی والوں کو ہم نے ہلاک کیا ہے، ہلاک کرنے سے پہلے خوف ومصیبت اور بیماریوں اور بھوک کی تکالیف میں گرفتار کیا تاکہ وہ ایمان لے آئیں مگر وہ ایمان نہیں لائے، پھر ہم نے اس قحط وشدت کو بہار اور فراخی و خوشحالی کے ساتھ بدل دیا تاآنکہ ان کو احوال واولاد میں خوب ترقی ہوئی تو وہ کہنے لگے جس طرح ہمیں خوشحالی پیش آئی اسی طرح ہمارے آباؤاجداد کو بھی پیش آئی مگر وہ دین پر جمے رہے۔ لہذا ہم بھی ان کی تقلید کرتے ہیں، نتیجتا ان کو اچانک عذاب نے آگھیرا اور ان کو نزول عذاب کا پتہ ہی نہ چلا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٤ (وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍّ الآَّ اَخَذْنَآ اَہْلَہَا بالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَضَّرَّعُوْنَ ) یہ اللہ کے ایک خاص قانون کا تذکرہ ہے ‘ جس کے بارے میں ہم سورة الانعام (آیات ٤٢ تا ٤٥) میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف کسی رسول کو بھیجا جاتا تو اس قوم کو سختیوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر کے ان کے لیے رسول کی دعوت کو قبول کرنے کا ماحول پیدا کیا جاتا۔ کیونکہ خوشحالی اور عیش کی زندگی گزارتے ہوئے انسان ایسی کوئی نئی بات سننے کی طرف کم ہی مائل ہوتا ہے ‘ البتہ اگر انسان تکلیف میں مبتلا ہو تو وہ ضرور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ لہٰذا کسی رسول کی دعوت کے آغاز کے ساتھ ہی اس قوم پر زندگی کے حالات تنگ کردیے جاتے تھے ‘ لیکن اگر وہ لوگ اس کے باوجود بھی ہوش میں نہ آتے ‘ اپنی ضد پر اڑے رہتے ‘ اور رسول کی دعوت کو رد کرتے چلے جاتے ‘ تو ان پر سے وہ سختیاں اور تکلیفیں دور کر کے ان کو غیرمعمولی آسائشوں اور نعمتوں سے نواز دیا جاتا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویا ڈھیل دینے کا ایک انداز ہے کہ اب اس قوم نے برباد تو ہونا ہی ہے مگر آخری انجام کو پہنچنے سے پہلے ان کی نافرمانی کی آخری حدود دیکھ لی جائیں کہ اپنی اس روش پر وہ کہاں تک جاسکتے ہیں۔ یہ ہے وہ قانون یا اللہ کی سنت ‘ جس پر ہر رسول کے آنے پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔ سورة السجدہ میں اس قانون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے : (وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ) اور ہم انہیں مزا چکھائیں گے چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ یہ رجوع کریں۔ بڑا عذاب تو عذاب استیصال ہوتا ہے جس کے بعد کسی قوم کو تباہ و برباد کر کے نسیاً منسیا کردیا جاتا ہے۔ اس بڑے عذاب کی کیفیت مکی سورتوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے : (کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْہَا ج) (الاعراف : ٩٢ ‘ اور سورة ہود : ٦٨ ‘ ٩٥) وہ لوگ ایسے ہوگئے جیسے وہاں بستے ہی نہیں تھے۔ (فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاط ) ( الانعام : ٤٥) پس ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔ (لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْط ) ( الاحقاف : ٢٥) اب صرف ان کے مسکن ہی نظر آ رہے ہیں۔ یعنی عذاب استیصال کے بعد اب ان کی کیفیت یہ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے عالیشان محل تو نظر آ رہے ہیں ‘ لیکن ان کے مکینوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا ۔۔ قانون قدرت کے تحت اس نوعیت کے عذاب الاکبر سے پہلے چھوٹی چھوٹی تنبیہات آتی ہیں تاکہ لوگ خواب غفلت سے جاگ جائیں ‘ ہوش میں آجائیں ‘ استکبار کی روش ترک کر کے عاجزی اختیار کریں اور رجوع کر کے عذاب استیصال سے بچ سکیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

49:: بتایا یہ جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کیا انہیں (معاذاللہ) جلدی سے غصے میں آکر ہلاک نہیں کردیا، بلکہ انہیں سالہا سال تک راہ راست پر آنے کے بہت سے مواقع فراہم کئے، اول تو پیغمبر بھیجے جو انہیں برسوں تک ہوشیار کرتے رہے، پھر شروع میں انہیں کچھ معاشی بدحالی یا بیماریوں وغیرہ کی مصیبتوں سے دوچار کیا تاکہ ان کے دل کچھ نرم پڑیں کیونکہ بہت سے لوگ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور تنگی ترشی میں بعض اوقات حق بات کو قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ پیدا ہوجاتی ہے، جب ایسے حالات میں پیغمبر ان کو متنبہ کرتے ہیں کہ ذرا سنبھل جاؤ ابھی اللہ تعالیٰ نے ایک اشارہ دیا ہے، جو کسی وقت باقاعدہ عذاب میں تبدیل ہوسکتا ہے تو بعض لوگوں کے دل پسیج جاتے ہیں، دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان پر خوش حالی آتی ہے تو ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ اس وقت حق بات کو قبول کرنے کے لئے نسبۃً زیادہ آمادہ ہوجاتے ہیں، چنانچہ ان لوگوں کو بدحالی کے بعد خوش حالی کی نعمت بھی عطا کی جاتی ہے ؛ تاکہ وہ شکر گزار بن سکیں، حالات کی اس تبدیلی سے بعض لوگ بیشک سبق لے لیتے ہیں اور راہ راست پر آجاتے ہیں، لیکن کچھ ضدی طبیعت کے لوگ ان باتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھتے اور یہ کہتے ہیں کہ یہ دکھ سکھ اور سرد گرم حالات توہمارے باپ داداؤں کو بھی پیش آچکے ہیں، انہیں خوامخواہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اشارہ قرار دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اس طرح جب ان لوگوں پر ہر طرح کی حجت تمام ہوچکی ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آتا ہے اور اس طرح پکڑلیتا ہے کہ ان کو پہلے سے اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(94 ۔ 95) ۔ اس ذکر سے یہ مطلب یہ ہے مطلب ہے کہ کفار قریش پچھلی امتوں کی بربادی کا حال سن کر حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جھٹلانے سے اور کفر سے باز آویں اور خدا سے ڈریں اس لئے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں اللہ تعالیٰ نے رسول جو بھیجے تو ایسی حالت میں کہ وہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا تھے اور نہایت ہی افلاس میں تھے پیسہ پیسہ کو محتاج تھے یہ ان کی جانچ تھی کہ دیکھیں وہ اس حالت میں بھی گڑاتے ہیں اور خدا کی طرف رجوع ہوتے ہیں یا نہیں مگر وہ اس حالت میں بھی اپنے اسی کفر اور گمراہی میں پڑے رہے آخر اللہ تعالیٰ نے ان کو بیماری سے تندرست بنا دیا اور مال واولاد سے مالا مال کردیا کہ شاید اس حال میں وہ اللہ کا شکر بجا لاویں مگر وہ گمراہ ازلی تھے یہ کہنے لگے کہ تکلیف کی گھڑی ہمیشہ نہیں رہتی ہے یہ بھی گردش زمانہ ہے ایک وقت میں رنج دوسرے وقت میں خوشی یہ طریقہ قدیمی سے یوں ہی چلا آرہا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے ہمارے بڑوں پر بھی ایسے ہی واقعے گذر چکے ہیں اور خدا کی آزمائش نہیں مجھے اور اس کے حکم کو نہ مانا رسولوں کو جھٹلاتے رہے بخلاف مومنوں کے کہ وہ مصیبت کے وقت صبر کرتے ہیں اور خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی آزمائش کو سمجھتے ہیں خوشحال کے وقت خدا کا شکرادا کرتے ہیں چناچہ صحیح مسلم میں صہیب (رض) رومی کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کو ہر وقت کیا خوشی اور کیا رنج میں ہمیشہ بہتری ہے کیونکہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے اور خوشی ہوتی ہے تو خدا کا شکر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے پھر اللہ پاک نے انہیں کفار کا حال بیان کیا کہ وہ نہ تو تکلیف میں خدا کو یاد کرتے تھے نہ خوشی کی حالت میں اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا اور اس حال میں پکڑا کہ وہ اپنی حالت سے بالکل غافل تھے مجاہد کے قول کے موافق حتی عفوا کی تفسیر یہ ہے کہ جب جان لوگوں کی تنگ دستی جاکر ان میں مال کی کثرت ہوگئی تو انہوں نے یہ کہا کہ بڑوں سے یہی تنگی فراخی چلی آتی ہے کوئی چیز جب بڑھ جاتی ہے تو عرب میں کہتے ہیں قدعفی ذلک الشیء اس محاورہ کے موافق حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے شاگرد مجاہد نے یہ تفسیر میت کی قرار دی ہے ترجمہ میں یہ جو لکھا ہے کہ ” جب تک بڑھ گئے “ اس کا مطلب بھی مجاہد کے قول کے موافق ہے کہ جب ان لوگوں کی تنگدستی جاکر ان میں مال ومتاع کی کثرت ہوگئی تو انہوں نے یہ کہا کہ ہمارے بڑوں سے یہی تنگی فراخی چلی آتی ہے یہ بات کچھ نئی نہیں ہے اور صہیب (رض) رومی کی حدیث جو گذری اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیونکہ آیتوں اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب قرار پاتا ہے کہ جو لوگ عقبیٰ کی سزا جزا کے منکر یا عقبیٰ کی سزا جزا سے غافل ہیں وہ تنگی فراخی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو بھولے رہتے ہیں اور جو لوگ ایمان دار ہونے کے سبب سے عقبیٰ کی سزا جزا کے معتقد ہیں وہ تنگی میں صبر کے اور فراخی میں شکر کے احکام الٰہی کو کبھی نہیں بھولتے جس کا اجر بارگاہ الٰہی سے ان کو ضرور ملنے والا ہے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(7:94) الباسائ۔ اسم مؤنث ہے بؤس سے مشتق ہے۔ باس بؤس اور باسأ تینوں میں سختی اور ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں۔ مگر بؤس کا لفظ زیادہ تر فقر وفاقہ اور لڑائی کی سختی پر بولا جاتا ہے۔ اور الباس والباساء جسمانی زخم۔ بدنی تکلیف۔ جسمانی امراض اور نقصان کے لئے آتے ہیں۔ الضرائ۔ ضرر سے وہ تکلیف مراد ہے جو فقر و حاجت سے ہوتی ہے۔ تکلیف۔ سختی۔ تنگی۔ الباساء والضرائ۔ دونوں اسم مؤنث ہیں ان کا مذکر نہیں آتا۔ یضرعون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ نضرع (تفعل) مصدر۔ اصل میں یتضرعون تھا۔ ت کو ض میں مدغم کردیا گیا۔ (تاکہ وہ زاری کریں۔ عاجزی کریں)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 ۔ اور پھر بستی والوں نے ان کی تکزیب کی تو ہم نے ان کو تکالیف و شدائد میں گرفتار کرلیا کیونکہ سنت الٰہی یہی رہی ہے (رازی) ط

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 12 ۔ آیات 94 تا 99 ۔ اسرار و معارف : اللہ رب العزت بہت ہی زیادہ کریم ہیں اس قدر کہ انسانی علوم اندازہ کرنے سے قاصر ہیں یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی کوئی نبی مبعوث فرمایا وہاں انسانی ضروریات میں ایک خاص شدت بھی پیدا کردی لوگوں میں اعراض اور بیماریاں پیدا کردیں یا مالی نقصان سے دوچار کردیا کہ پریشان ہو کر اس کے حل کی تلاش میں نکلیں یا کسی ایسی ہستی کو تلاش کریں جو ان مصائب سے نجات دلا دے تو نبی کی دعوت سنیں اور کم از کم ذاتی غرض کے لیے ہی سہی میرے دروازے پہ تو آئیں یعنی ہدایت و گمراہی میں ایک راستہ اختیار کرنے ک امجاز تو انسان کو بنا دیا پھر بھی اس کی رحمت ایسے اسباب پیدا فرماتی رہتی ہے کہ انسان اپنے عجز سے اگاہ ہو کر اللہ کی بارگاہ کی طرف متوجہ ہو اور جیسے کوئی اس طرف متوجہ ہوتا ہے اس کی دستگیری فرمائی جاتی ہے۔ ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے ان کے کرم کی بات نہ پوچھو۔ شانِ کریمی : لیکن اگر کوئی ! اس کے باوجود بھی متوجہ الی اللہ نہیں ہوتا تو پھر مصیبت ختم کردی جاتی ہے اور دکھ راحت سے بدل دیا جاتا ہے حتی کہ مہلت پا کر انسان خوب ترقی کرتا ہے مال و دولت میں یا اختیار واقتدار میں اور عظمت الہی یکسر بھول جاتا ہے کہتا ہے یہ تو زمانے کی عادت ہے صحت و بیماری یا غربت و امارت ہر زمانے میں ساتھ ساتھ رہی ہیں بھلا اس میں یک بد ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے پہلے زمانے کے لوگ بھی تو انہیں حالات سے دو چار تھے یا پھر یہ سوچتا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد کے پاس یہ قابلیت نہ تھی جو ہمارے پاس ہے لہذا وہ مفلسی اور امراض کا شکار رہے اب ہم ترقی کرکے ایسی منزل پر پہنچ گئے ہیں کہ بیماری کا فوری علاج اور آرام کے بیشمار ذرائع۔ اسی ادھیڑ بن میں مصروف ہوتے ہیں کہ اچانک اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوجاتے ہیں کبھی بصورت موت یا اور کبھی فسادات کی لپیٹ میں آ کر کبھی بارشوں سے سیلاب آجاتے ہیں تو کبھی خشک سالی تباہی کا باعث بننے لگتی ہے اور یوں اللہ کی عطمت سے نا آشنا دار آخرت کو سدھارتے ہیں۔ تقوی باعث نزول برکات ہے : اگر یہ لوگ ایمان قبول کرتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ارض و سما سے ان پر نعمتوں کے دروازے کھول دیتے۔ تقوی کیا ہے غالباً پہلے بھی لکھا جا چکا ہے کہ تقوی دل کی ایک حالت اور کیفیت کا نام ہے جو فیضان نبوت سے نصیب ہوتی ہے اسی لیے تقوی سے پہلے ایمانکا ذکر ہے ایمان کی حقیقت نبی پر اعتماد اور اسی یقین و اعتماد کے طفیل قلب نبوت سے جو کیفیات سالک کے دل پر وارد ہوتی ہیں وہ اسے ایسی حالت عطا کردیتی ہیں کہ وہ ذات باری کو اپنے روبرو پاتا ہے اور نافرمانی کی جرات نہیں کرسکتا اگر یہ نعمت نصیب ہوجائے تو ارض و سما سے برکات کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ برکت سے کیا مراد ہے : برکت کیا ہوتی ہے اس سے مراد ایسی فراوانی جس میں آرام و راحت بھی ہو۔ یہ مال اور جان میں بھی ہوتی ہے اور کام اور وقت میں بھی اور اس کی متعدد صورتیں ہوتی ہیں کبھی تو اصل چیز بڑھ جاتی ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک برتن میں انگلیاں ڈبو دیں تو اس سے پورا قافلہ سیراب ہوگیا اونٹ اور گھوڑے تک حتی کہ پانی ذخیرہ کرنے والے مشکیزے بھی بھر لیے گئے یہ کبھی چیز تو اتنی ہی رہتی ہے مگر کام اتنا کرجاتی ہے جتنا اس سے چار گنا شے کرسکتی تھی کبھی ایک لقمہ پوری قوت عطا کردیتا ہے اور کبھی معمولی دوا بہت بڑی بیماری سے شفا کا باعث بن جاتی ہے یا تھوڑے سے وقت میں بہت زیادہ کام ہوسکتا ہے اور یہ سب باتیں اہل اللہ کی زندگیوں میں مشاہدہ کی جاسکتی ہیں۔ نیز زمینی اور آسمانی حالات کی موافقت بھی مراد ہے مثلاً ضرورت کے وقت پر اور ضرورت کے مطابق بارشوں کا ہونا فصلوں اور پھلوں کا صحیح اور مناسب ہونا موسمی حالات کا سازگار رہنا نیز اطمینان و سکون نصیب ہونا وغیرہ سب تقوی کے ثمرات ہیں اور اسی دلی کیفیت کو انبیا تقسیم فرماتے ہیں۔ پھر صحابہ اور پھر بعد میں آنے والے افراد میں ایسے ہی لوگ پہنچاتے ہیں جو پہلوں کی صحبت میں بیٹھ کر یہ نعمت حاصل کرتے ہیں۔ دولت مندی انعام بھی ہے اور سزا بھی : لیکن لوگوں نے انکار کی روش اپنائی تو اپنے اعمال کے نتائج میں گرفتار ہوگئے یعنی وقت کا دامن ہی تنگ ہوگیا بارشیں بےوقت اور باعث تکلیف بن گئیں باوجود مال و دولت کے اچھا کھانا نصیب ہی نہ رہا یا بیشمار دویات کھا کر بھی صحت نصیب نہ ہوئی۔ اسی طرح انصاف سے مھرومی اور مظالم کا شکار ہونا جہلا کا پیشوا اور حاکم کے طور پر مسلط ہوجانا یہ سب اور اس طرح کی موجودہ تکالیف کفار پر بوجہ انکار اور مسلمانوں پر نافرمانی کے سبب مسلط ہورہی ہیں یعنی یہ قانون قدرت ہے کہ تقوی پر آرام و راحت اور گناہ پر بےاطمینانی اور دکھ مرتب ہوتا ہے رہا یہ سوال کہ بدکاروں کو بھی دولت و اقتدار مل جاتا ہے اور نیکی پر بھی ارض و سما سے برکات کا ظہور ہوتا ہے تو کیسے پتہ چلے گا کہ یہ دولت مندی انعام ہے یا سز اعلمائے حق نے بڑی آسان سی پہچان بتائی ہے کہ ہر وہ صورت جس کے ساتھ اللہ کی یاد اور اطاعت نصیب ہو انعام ہے دولت مندی ہو یا افلاس اور ہر وہ حالت جس میں گناہ اور نافرمانی میں گرفتار ہو سزا ہے خواہ حکومت و سلطنت ہی مل جائے نیز انعام کے ساتھ سکون قلبی نصیب ہوتا ہے اور سزا سے دل ویران ہوتا ہے۔ حیرت ہے انسان کس قدر غفلت کا شکار ہے۔ اپنے سے پہلے لوگوں کے حالات جاننے کے باوجود نہیں سوچتے کہ نافرمانی تو تباہی کو دعوت دینا ہے اور ممکن ہے یہ رات کو سو رہے ہوں کہ عذاب الہی کی لپیٹ میں آجائیں یاں دن کے کاروبار اور دوڑ دھوپ میں مصروف ہوں کہ تباہ ہوجائیں کیا ان نتائج سے بےفکر ہوچکے ہیں جو اللہ نے اعمال کے ساتھ مقرر فرم ادئیے ہیں کہ اطاعت باعث برکت ہے اور نافرمانی باعث ہلاکت۔ یاد رکھو ان نتائج سے بےفکر ہونے والے سخت نقصان میں رہتے ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (94 تا 99) ۔ یضرعون (وہ عاجزی کرتے ہیں) ۔ حتی عفوا (یہاں تک کہ وہ آگے بڑھ گئے) ۔ مس (چھولیا) ۔ بغتتہ (اچانک ) ۔ لفتحنا (البتہ ہم نے کھول دیا) ۔ یکسبون (وہ کمائی کرتے ہیں) ۔ افامن (کیا پھر وہ بےخوف ہوگئے) ۔ نائمون (سونے والے ) ۔ ضحی (دن چڑھے ) ۔ یلعبون (وہ کھیل رہے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر (94 تا 99 ) ۔ ” گذشتہ آیات میں مسلسل پانچ قوموں کے عبرت انگیز واقعات بیان کر کے عرب کے کفار اور مشرکین کو نصیحت کی جارہی ہے کہ ذرا سوچو ! کیا یہی آزمائشیں تمہارے ساتھ پیش نہیں آرہی ہیں ؟ تم کس غفلت میں پڑے ہو ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیریں ٹیکی اس وقت اچانک تمہیں آ کر پکڑ نہیں سکتیں جب کہ تم رات کو نیند میں یا دن کو دنیاوی معاملات اور ہنگاموں میں مد ہوش ہوں ؟ ان پانچ اقوام کے ساتھ جو کچھ ہوا بالکل وہی حالات حضور اکرم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے زمانے میں اہل عرب کو پیش آ رہے تھے مگر جس طرح گذشتہ اقوام کا حشر ہوا اور انجام ہوا وہ ابھی ان کے ساتھ نہیں ہوا۔ مگر ایسے انجام میں دیر کتنی لگتی ہے۔ حدیث میں حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) اور حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) دونوں کی متفقہ روایت ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعوت و ارشاد کا آغاز کیا تو جواب میں اہل قریش نے ظلم و ستم کا سلوک دن بدن تیز کردیا ۔ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی کہ اے اللہ ان پر اس طرح کا قحط نازل فرما جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں نازل ہوا تھا اور مصر میں قحط پڑا تھا یہ دعا اس لئے کی گئی کہ ان کے اندر جو غرور، طاقت اور نشہ دولت ہے وہ ٹوٹ جائے ان کا دل نرم پڑجائے۔ انہیں معلوم تو ہو کہ ان کے اوپر کوئی طاقت ہے جس کے ہاتھ میں ان کے رزق اور قسمت کی باگیں ہیں اور جو انہیں کڑی سے کڑی اور بڑی سے بڑی سزا دے سکتی ہے۔ یہ دعا قبول ہوئی اور سات سال تک کے لئے قحط پڑگیا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ گلی سڑی چیزیں، پتے اور مردار تک کھانے لگے۔ آخر اہل مکہ کا ایک وفد ابو سفیان کی سرکردگی میں مدینہ منورہ آیا اس وفد نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے اہل مکہ کے لئے دعا کریں تاکہ اللہ یہ برا وقت ٹال دے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ صرف ان کی درخواست کو قبول کیا بلکہ تنگی اور مقروفاقہ کے باوجود جو کچھ بن پڑا وہ غلہ اور دوسرے ضروری اشیاء اہل مکہ کیلئے بھیجیں۔ سبحان اللہ یہ مکہ کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے تیرہ سال تک ناقابل تصور ظلم و ستم کئے اور ظلم و جبر کا کوئی حربہ ایسا نہیں تھا کہ جو انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثار صحابہ کرام (رض) کے خلاف استعمال نہ کرلیا ہو۔ لیکن جب یہی دشمن اللہ کے نبی کے پاس فریاد لے کر آئے تو آپ نے ان کو مایوس نہیں کیا بلکہ توقع سے زیادہ امداد فرمائی۔۔۔۔ ۔ جب یہ براوقت ٹل گیا اور از سر نوصحت و فراغت کا دور شروع ہوا تو ان کی گردنیں تکبر اور غرور سے تن گئیں کیونکہ ان کے سرداروں نے عوام کو یہ کہہ کر پھر سے بہکانا شروع کردیا کہ یہ اچھے برے حالات تو آتے جاتے رہتے ہیں۔ یہ تو فطرت اور وقت کا کھیل ہے ان معاملات میں اسلام اور پیغمبر اسلام کا کیا دخل ہو سکتا ہے ؟ لہٰذا ان کے جال میں پھنسنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بیماری اور شدید فقروفاقہ کا دور گذرنے کے بعد اہل عرب پر صحت اور فراوانی کا وقت آیا ہوا تھا جب سورة اعراف کی یہ آیات نازل ہوئیں جن میں اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے کہ تنگی اور فراخی کے دو ادوار ہیں۔ ان کو لانے والی چیز فطرت اور تاریخ نہیں ہے ۔ ان کو لانے والی اللہ کی قدرت اور حکمت ہے اور ان کے لانے کا مقصد تمہاری آزمائش ہے۔ اور یہ بھی نصیحت کی گئی ہے کہ اوپر جو پانچ اقوام کے واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں اللہ کا عذاب اچانک۔ بغیر پیشگی اطلاع کے آیا ہے اور ٹھیک اسی وقت آیا ہے جب دولت، فراغت، نشہ اقتدار، اور نشہ پندار میں قوم بد مست ہوچکی تھی اور اسے بھول کر بھی یہ تصور نہ تھا کہ اللہ کی خفیہ تدبیر گھات میں تاک لگائے بیٹھی ہے ان آیات میں یہ بھی بتایا گیا کہ تم اتنی سی چیزوں پر مغرور اور بد مست ہوگئے ہو۔ اگر تم ایمان لاتے اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیتے تو پھر دیکھتے کہ زمین و آسمان سے کیسی کیسی برکتیں نازل ہوتیں۔ اور اللہ کی رحمتیں نازل ہوتیں مگر ان باتوں کا یقین تو ان کو ہوتا ہے جب کو اللہ نے ایمان کی دولت سے سرفراز کیا ہے جن کی آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں ان کو یہ صداقت نظر نہیں آتی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عرب اور اس کے گرد و نواح کی پانچ اقوام کے کردار اور انجام کا ذکر کرنے کے بعد دنیا میں جزاء و سزا اور آزمائش کا عمومی اصول بیان کیا گیا ہے۔ اہل علم نے ” بِالْبَاسَاءِ “ کا معنی غربت، تنگدستی اور ” ضَرَّاءِ “ کا مفہوم جسمانی بیماریاں لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک بنیادی اصول ذکر فرمایا ہے کہ ہم قوموں کو تباہ و برباد کرنے سے پہلے غربت و افلاس اور جسمانی امراض کے ذریعے جھنجوڑا کرتے ہیں تاکہ بڑا عذاب آنے سے پہلے اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ گویا کہ اس معمولی اور عارضی گرفت کے پیچھے۔ اللہ تعالیٰ کی دائمی شفقت اور حکمت پنہاں ہوتی ہے کہ لوگوں کو احساس ہو کہ اگر ہم نے نافرمانی کی روش اختیار کیے رکھی تو کوئی ہولناک عذاب ہمیں اچک لے گا۔ لہٰذا ہمیں خدا کی نافرمانی کے بجائے اس کی اطاعت میں رہنا چاہیے اس میں ہمارے رب کی خوشنودی اور دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔ جب لوگ ان جھٹکوں سے سمجھنے اور سلجھنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ دوسری آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ غربت و افلاس کی جگہ مال کی فراوانی اور کشادگی دیتا ہے۔ بیماری اور عوارض کی جگہ صحت اور فراغت آجاتی ہے یہ چیزیں اس قدر کھلے انداز میں دے دی جاتی ہیں کہ لوگ اپنے آباؤ اجداد پر آنے والے مصائب اور آلام کو یہ کہہ کر بھول جاتے ہیں کہ یہ تو حالات کے مدو جزر کا نتیجہ تھا، ایسا ہو ہی جایا کرتا ہے۔ بعض لوگ اسے منصوبہ بندی کا فقدان قرار دیتے ہیں اور اپنی کوششوں پر اتراتے ہوئے خود فریبی کا شکار ہو کر کہتے ہیں کہ اگر ہمارے بزرگ یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے تو فلاں فلاں آفت سے مامون رہ سکتے تھے۔ اسی لیے قوم ثمود نے پہاڑوں کو تراش تراش کر محفوظ محلات اور مضبوط قلعے بنائے اور قوم عاد نے دعویٰ کیا کہ ” مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً “ ” ہم سے زیادہ طاقت ور کون ہوسکتا ہے ؟ “ لیکن اللہ کے عذاب نے انھیں تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ دیکھنے والا سمجھتا تھا کہ یہاں کبھی کوئی بندہ، بشر رہا ہی نہیں۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اکثر اوقات اللہ تعالیٰ کا عذاب کنگال اور کمزور لوگوں کے بجائے معاشی لحاظ سے خوشحال اور سیاسی اعتبار سے صاحب اقبال لوگوں پر آتا ہے۔ یہ عذاب اس قدر اچانک آیا کرتا ہے کہ وہ اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ جب اللہ کا عذاب آجائے تو کسی قوم کی سیاسی برتری اور معاشی خوشحالی اسے ہرگز نہیں بچا سکتی۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ آزمائش کے ذریعے لوگوں کے گناہ معاف فرماتے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اچانک اور زبردست ہوا کرتی ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ خوشحالی کے ذریعے آزماتا ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ تکلیف اور تنگ دستی کے ذریعے بھی آزماتا ہے۔ ٦۔ تباہ ہونے والی اکثر اقوام خوشحال ہوا کرتی تھیں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کی پکڑ اچانک اور زبردست ہوا کرتی ہے : ١۔ جب وہ ہماری عطا کی ہوئی نعمتوں پر خوش ہوجاتے ہیں تو اچانک انکو عذاب کی لپیٹ میں لے لیتے ہیں (الانعام : ٤٤) ٢۔ کیا وہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ؟ (النحل : ٤٥) ٣۔ کیا وہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں کہ انہیں اللہ کا عذاب اپنی لپیٹ میں لے لے یا اچانک قیامت آجائے۔ (یوسف : ١٠٧) ٤۔ کیا بستیوں والے بےفکر ہوگئے ہیں کہ اللہ کا عذاب رات کے وقت اپنی لپیٹ میں لے لے اور وہ نیند کی حالت میں ہوں۔ (الاعراف : ٩٥) ٥۔ کیا وہ لوگ بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں چلتے پھرتے اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔ (النحل : ٤٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جلد نمبر 3 آغاز۔ درس نمبر 78 ایک نظر میں اس سورة میں اب تک کے مضمون میں یہ سبق گویا ایک وقفہ ہے۔ اس سے قبل قوم حضرت نوح ، قوم ہود ، قوم صالح ، قوم لوط ، اور قوم شعیب (علیہم السلام) کے جو قصے بیان کئے گئے۔ اس وقفے میں ان پر مجموعی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اور یہ وقفہ اس لئے کیا گیا تاکہ اس میں اس سنت الٰہیہ کا بیان کیا جائے جو اس کرۂ ارض پر جاری وساری ہے اور اس دنیا کی بستی کے مکذبین پر تقدیر الٰہی نے اسے نافذ کیا ہے ، یہاں لفظ " قریہ " استعمال کیا گیا جس سے مراد کوئی بڑا شبہہ ہے ، یا کوئی موجود مرکزی تہذیب ہے۔ یہ سنت الٰہیہ کا واحد اور اٹل قانون ہے اور اس کا نفاذ اللہ کی جانب سے تمام مکذبین پر ہوتا ہے۔ اور اسی سنت الٰہیہ سے انسانی تاریخ بنتی ہے ، بلکہ انسانی تاریخ کا اصلی پہلو ہی سنت الٰہیہ ہے۔ اور سنت الٰہیہ کا یہ کام اور غرض وغایت ہے کہ وہ جھٹلانے والوں کو رنج و الم میں مبتلا کرتی ہے۔ شاید کہ ان کے دل پسیج جائیں اور نرم ہوکر اللہ کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ کی حقیقت الوہیت اور اپنی حقیقت عبودیت کو اچھی طرح معلوم کرلیں۔ اور اگر وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوں اور انہیں ہوش نہ آئے تو پھر اللہ ان مکذبین پر انی نعمتوں کی فراوانی کردیتا ہے۔ اور ان پر ہر طرف سے سہولیات اور نعمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ان کو ڈھیل دی جاتی ہے اور پھر ان کی آبادی بڑھ جاتی ہے۔ وہ ناز و نعمت میں گھر کر عیاشیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور یہ ان کے لئے آزمائش ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں وہ جن مشکلات میں مبتلا ہوئے ہیں ایسی ہی مشکلات ان سے قبل ان کے آباؤ اجداد پر بھی نازل ہوئی تھیں اور دنیا کے حالات ایسی ہی ڈگر پر نشیب و فراز کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ وقالوا قدمس اباءنا الضراء والسراء (اور وہ کہتے ہیں کہ ایسی ہی مشکلات میں ہمارے آباء بھی متبلا ہوئے تھے اور ایسی ہی خوشحالی بھی ان پر آئی تھی) وہ ایسی ہی سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور غفلت کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کو اللہ کی پکڑ آلیتی ہے اور ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ فراخیوں اور فراوانیوں اور مشکلات و مصائب میں اللہ کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس آمائش میں اللہ کی جو حکمت ہوتی ہے وہ اس کا ادراک نہیں کرپاتے اور اللہ کے غضب میں جو لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ اور جو غافل اور لاپرواہ ہوتے ہیں ان کے انجام سے وہ نہیں ڈرتے اور وہ اسی طرح عیش و عشرت میں زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح حیوان زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ اسی مدہوشی کی حالت میں ہوتے ہیں کہ ان پر عذاب الٰہی کا نزول ہوجاتا ہے۔ اگر وہ ایمان لاتے اور خدا خوفی کا رویہ اختیار کرتے تو ان کا یہ حال نہ ہوگا بلکہ ان پر آسمانوں سے مزید و برکات نازل ہوتیں اور زمین سے اور آسمانوں سے ان پر رزق نازل ہوتا اور ان پر اللہ اپنی طمانیت کی وہ حالت نازل کرتا جس سے ان کی زندگی نہایت اطمینان سے بسر ہوتی اور اس اطمینان اور فراخی کے بعد ان پر زوال اور بربادی کی کوئی حالت نہ آتی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو ان ہلاک کئے جانے والے کے بعد زمین کے وارث اور اہل اقتدار بنائے گئے۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ غفلت اور غرور سے اپنے آپ کو بچاؤ اور ہر وقت بیدار رہو اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ ان کو اس تاریخی حقیقت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ انسانی تاریخ میں اللہ نے کئی اقوام کو پے در پے ہلاک کیا اور ان کی جگہ دوسری اقوام کو مواقع فراہم کئے مگر انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے انجام سے نصیحت نہ پکڑی لہذا بستیوں والوں کا انتظار اللہ کا قانون مکافات کر رہا ہے اور انسانی تاریخ میں اس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ یہ وقفہ ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب پر ختم ہوتا ہے۔ آپ کو کہا جاتا ہے تلک القری نقص علیک من انبیائہا۔ (یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سنا رہے ہیں) تاکہ آپ کو ان لوگوں کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ ان کا یہ انجام سنت الٰہیہ کے مطابق ہوا۔ فرمایا جاتا ہے۔ وما وجدنا لاکثرہم من عہد وان وجدنا اکثرہم لفسقین۔ (ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا) یہ آخری رسول اور اس آخری رسول کی امت تمام رسولوں کی اخلاقی دولت کے وارث ہیں اور صرف یہ رسول اور ان کی امت ہی ان تاریخی واقعات و اطلاعات سے فائدہ اور نصیحت لیتے حاصل کرتے ہیں۔ تشریح آیات 94 تا 102: یہاں سیاق کلام سے غرض وغایت یہ نہیں ہے کہ کسی متعین حادثے کو بیان کیا جائے بلکہ یہاں مقصد عمومی سنت الٰہیہ کا بیان ہے۔ یہاں کسی خاص قوم کے خدو خال بیان کرنا مطلوب نہیں ہیں ، بلکہ اللہ کے نظام قضا و قدر کے اقدامات کا بیان مقصود ہے۔ چناچہ یہاں اللہ کے اس ناموس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ جس کے مطابق یہ پورا نظام کائنات چل رہا ہے اور تمام واقعات اس کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور اس ناموس کی وجہ سے اس جہان میں انسانی تاریخ اپنا سفر کرتی ہے اور " رسالت " بھی اس کرہ ارض پر ناموس الٰہی کا ایک حصہ ہے ، کیونکہ ناموس الٰہی بھی در اصل ایک وسیع تر اور عظیم تر رسالت ہے۔ یہ کہ اس جہان میں واقعات بغیر کسی پروگرام کے وقوع پذیر ہوتا ہے وہ تقدیر الٰہی کے مطابق ہوتے ہیں ، اس کی حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقرر کردہ مقاصد و اہداف کے مطابق ہوتا ہے اور آخری نتائج مشیت الٰہیہ کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں اور یہ مشیت سنت الٰہیہ کے مطابق کام کرتی ہے اور یہ ناموس اور سنت دونوں مشیت الٰہیہ کے وضع کردہ ہیں۔ ماضی کی ان بستیوں کو جو واقعات پیش آئے وہ اللہ کی بےقید مشیت کی وضع کردہ سنت کے مطابق پیش آئے اور اسی طرح بعد میں آنے والی اقوام کو بھی اسی عالمی ناموس کے مطابق چلایا جائے گا۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق انسان کا ارادہ اور اس کی جدوجہد ، اس کی تاریخ کی تشکیل میں ایک اہم عنصر ہے ، لیکن انسانی جدوجہد اور انسانی ارادے کی بےقید مشیت کے وسیع دائرے کے اندر رہتے ہیں اور اللہ کا نظام قضا و قدر ان کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔ واللہ بکل شیئ محیط۔ اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ انسان کا یہ ارادہ اور اس کی یہ جدوجہد اللہ کے نظام مشیئت اور نظام قضا وقدر کے اندر رہتے وہئے اس پوری کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ یہ انسان اور اس کی جدو جہد اس کائنات سے متاثر بھی ہوتے ہیں اور متاثر کرتے بھی ہیں ، گویا عوامل اور مناظر کا ایک بڑا عجوبہ ہے جس سے انسانی تاریخ تشکیل پاتی ہے اور یہ دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی تاریخ کی اقتصادی تعبیر اور انسانی تاریخ کی طبیعاتی تعبیر اور انسانی تاریخ کی جغرافیائی تعبیر نہایت ہی محدود اور چھوٹے دائرے نظر آتے ہیں جبکہ اسلامی تصور تاریخ کا دائرہ بہت ہی وسیع ہے اور اس کے مقابلے میں یہ محدود دائرے انسان کے بنائے ہوئے کھیل نظر آتے ہیں اور بےڈھب لکیریں دکھائی دیتی ہیں۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو ، اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں۔ یہ بات محض کھیل تماشے کے طور پر نہیں ہوتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ہی بلند ہے کہ وہ لوگوں کو تنگی اور سختی میں محض کھیل تماشے کی غرض سے مبتلا کرے اور ان پر جسمانی اور مالی پریشانیاں آئیں۔ اللہ کی شان سے یہ تصور مطابقت ہی نہیں رکھتا کہ لوگوں کو رنج ومحن میں اس لئے مبتلا کیا جائے کہ الٰہ ان سے انتقام لیتا ہے اور کینہ کی تسکین کرتا ہے۔ جیسا کہ تمام بت پرستانہ مذاہب میں الٰہوں کی طرف اس قسم کے قصے مشہور ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان الٰہوں کا کام یہ ہے کہ وہ عبث مشغلوں اور انتقامی کارروائیوں میں ہر وقت لگے رہتے ہیں۔ اور انسانوں کے معمولی جرائم پر سخت سے سخت انتقامی کارروائی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے پھر لوگوں کو سختیوں اور مشکلات سے کیوں دو چار کیا جاتا ہے ؟ صرف اس لئے کہ جن لوگوں کی فطرت بالکل مسخ نہ ہوچکی ہو اور اس میں بھلائی کی کچھ نہ کچھ رمق موجود ہو ، وہ فطرت جاگ اٹھے اور وہ دل نرم ہوجائیں جن میں کچھ بھی لچک موجود ہے اور جو بالکل ہی پتھر نہ بن گئے ہوں اور یہ کہ یہ ضعیف انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے جو قہار و جبار ہے اور وہ عاجزی اور تضرع سے اللہ کی طرف متوجہ ہوں ، اور اس کی رحمت کے طلبگار ہوں۔ اور اس عاجزی اور تضرع کے اظہار کے ذریعے اس بات کا اعلان کردیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں کیونکہ اللہ کی بندگی کرنا انسانی وجود کی اصل غرض وغایت ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں کی جانب سے عاجزی کرنے اور بندگی کے اظہار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ انسان کی ضرورت اور اس کا مقصد وجود ہے۔ وما خلقت الجن والنس الا لیعبدون۔ ما ارید منہم من رزق وما ارید ان یطعمون۔ ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین۔ " میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور نہ ان سے کھانے کا طلبگار ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ رازق اور پختہ قوت کا مالک تو صرف اللہ ہی ہے "۔ اور حدیث قدسی میں آتا ہے کہ " اگر تمام انسان اور جن ، ایک شخص کے دل کی طرح اللہ کی عبادت اور بندگی پر جمع ہوجائیں تو یہ مکمل اجتماع اللہ کی حکومت میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کرسکتا اور اگر تمام جن و انس ایک شخص کے دل کی طرح اللہ کی معصیت پر جمع ہوجائیں تو بھی اللہ کی حکومت سے کسی چیز کو کم نہیں کرسکتے "۔ لیکن لوگوں کی جانب سے اعلان بندگی اور اللہ کے سامنے عجز و نیاز مندی کا اظہار خود ان کے لئے مفید ہے۔ انسان کی زندگی اور انسان کا معاشی نظام بھی اس سے اصلاح پذیر ہوتا ہے جب لوگ صرف اللہ کی بندگی اکا اظہار کرتے ہیں تو وہ اللہ کی بندگی اور غلامی کے سوا تمام بندگیوں اور غلامیوں سے نجات پا لیتے ہیں ، وہ شیطان کی غلامی سے بھی بچ جاتے ہیں جو انسان کو گمراہ کرنے کے درپے ہے ، اور اس سورة کے آغاز ہی میں بتا دیا گیا تھا کہ شیطان کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ انسانوں کو گمراہ کردے۔ اسی طرح اللہ کی غلامی اختیار کرکے انسان اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے بھی نجات پاتے ہیں اور وہ شیطان کی پیروی کرنے سے حیا کرتے ہیں اور اس طرح ان کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے کسی قول وعمل سے اللہ کے غضب کے مستحق نہیں ہوتے۔ وہ مشکل حالات میں بھی اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور عاجزی کرتے ہیں اور اس راہ پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوتے ہیں جو انہیں آزادی کی طرف لے جاتی ہے ، جس میں ان کی اخلاقی تطہیر ہوتی ہے اور وہ ہوا و ہوس کے غلام بھی نہیں ہوتے اور دوسرے افراد کی غلامی سے بھی بالا ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ ہر بستی کے باشندوں کے لئے ایک نبی بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ اسے جھٹلائیں اور پھر انہیں پکڑا جائے اور اس پکڑ کا آغاز اس طرح ہو کہ ان کو نفسیاتی اور روحانی مصائب میں مبتلا کردیا جائے اور ان کو بدنی اور مالی تاوان کی اذیت کا مزہ چکھایا جائے تاکہ یہ اذیتیں سہ کر ان کے دل دوبارہ زندہ ہوں۔ یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان رنج و الم میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی شخصیت کے اندر سے کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں اور اس کے اندر تہذیب آجاتی ہے اور اندر سے خیر و برکت کے خشک سوتے تازہ ہو کر پھوٹ نکلتے ہیں۔ زندہ دلوں کے اندر احساس تیز ہوجاتا ہے اور انسان اللہ کی رحمتوں کے سائے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر جب اندوہناک لمحات میں گھرے ہوئے ضعیف آدمی پر اللہ کی رحمت کی ہواؤں کے خوشگوار جھونکے چلنے لگتے ہیں تو ایسا انسان نہایت ہی اطمینان اور سکینت محسوس کرتا ہے۔ لعلہم یضرعون۔ شاید کہ وہ عاجزی پر اتر آئیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جن بستیوں میں نبی بھیجے گئے ان کو خوشحالی اور بد حالی کے ذریعہ آزمایا گیا گزشتہ چند رکوع میں متعدد قوموں کی تکذیب اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا۔ ان بستیوں کا حال بنی اسرائیل کو معلوم تھا اور قریش بھی تجارت کے لیے ملک شام کی طرف جاتے تھے وہ بھی ان میں سے بعض بستیوں پر گزرتے تھے اور اگر کسی کو ان کے حالات معلوم نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرما دیئے جنہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھ کر سنا دیا۔ ان واقعات سے معلوم ہوگیا کہ سابقہ اقوام کی بربادی کا سبب ان کا کفر تھا اور ان کے اعمال بد تھے۔ اس رکوع میں اول تو یہ فرمایا کہ جس کسی بستی میں ہم نے نبی بھیجا وہاں کے رہنے والوں کو تنبیہ کرنے کے لیے پکڑا۔ یہ گرفت سختی اور دکھ و تکلیف کے ذریعہ تھی بأساء سے سختی اور عام مصائب اور ضراء سے جسم و جان کی تکلیفیں مراد ہیں۔ ان کو یہ گرفت اس لیے تھی کہ یہ لوگ کفر و نافرمانی کی زندگی کو چھوڑ دیں اور اپنے خالق ومالک کے سامنے گڑگڑائیں اور عاجزی کریں اور کفر سے اور نا فرمانیوں سے توبہ کریں۔ لیکن یہ لوگ برابر طغیانی اور سر کشی پر تلے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بد حالی کو اچھے حال سے بدل دیا۔ نعمتوں سے نوازا۔ خوشحالی عطا فرمائی۔ تندرستی دی۔ مال دیا، یہاں تک کہ جان و مال میں کثرت ہوگئی، پہلے تو تنگدستی و بد حالی کے ذریعہ آزمائے گئے تھے اب انہیں نعمتیں دے کر آزمایا گیا۔ پہلے امتحان میں تو فیل ہوئے ہی تھے دوسرے امتحان میں بھی فیل ہوگئے۔ نہ بد حالی میں مبتلا ہو کر راہ راست پر آئے نہ خوشحالی سے عبرت حاصل کی بلکہ الٹا یہ نتیجہ نکالا کہ اجی ! یہ خوشحالی کچھ ایمان اور کفر اور اچھے کاموں اور برے کاموں سے متعلق نہیں ہے۔ یہ دنیا کا الٹ پھیر ہے۔ کبھی خوشحالی کبھی بد حالی، ہمارے باپ دادوں پر بھی یہ دونوں حالتیں گزری ہیں۔ لہٰذا ہم اپنا دین کیوں چھوڑ دیں۔ ہمارے باپ دادے بھی اپنے دین پر جمے رہے ہم بھی مضبوط ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے نہ تنگ دستی اور سختی سے عبرت لی اور نہ خوشحالی اور نعمتوں سے نوازے جانے پر شکر گزار ہوئے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اچانک ان کی گرفت فرما لی۔ نزول عذاب کا پتہ بھی نہ چلا، اور مبتلائے عذاب ہو کر ہلاک ہوگئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

99: التفات بسوئے اہل مکہ : یعنی ہماری سنت جاریہ یہی رہی ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی بھیجا وہاں کے باشندوں کو مختلف طریقوں سے آزمایا۔ ان کو مالی وجانی تکلیفوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کریں اور اپنے گناہوں سے تائب ہو کر اللہ کی توحید کو مان لیں اور انیک اعمال بجا لائیں۔ “ ثُمَّ بَدَّلْنَا الخ ” جب اس طرح ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی تو ہم نے ان کی تلیف اور تنگدستی کو راح و فراخی سے بدل دیا تاکہ اس طرح ان کے دلوں میں شکر و اطاعت کا جذبہ پیدا ہو۔ لان ورود النعمۃ فی البدن و المال بعد الشدۃ والضیق یستدعی الانقیاد للطاعۃ والاشتغال بالشکر (خازن ج 2 ص 228) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

94 اور ہم نے کسی بستی اور شہر میں کبھی کوئی نبی نہیں بھیجچا مگر یہ کہ ہم نے شروع شروع ان کے انکار اور نبی کی تکذیب کرنے پر ان بستی والوں کو فقر و تنگدستی اور امراض و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کریں یعنی رسول کی تکذیب سے باز آجائیں اور ڈر کر گریہ وزاری کریں۔