Surat ul Maarijj

Surah: 70

Verse: 27

سورة المعارج

وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّہِمۡ مُّشۡفِقُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾

And those who are fearful of the punishment of their Lord -

اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And those who fear the torment of their Lord. meaning, they are fearful and dreadful. إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

27۔ 1 یعنی اطاعت اور اعمال صالحہ کے باوجود اللہ کی عظمت و جلالت کے پیش نظر اس کی گرفت سے لرزاں وترساں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اللہ کی رحمت ہمیں اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی ہمارے یہ اعمال نجات کے لیے کافی نہیں ہوں گے جیسا کہ اس مفہوم کی حدیث پہلے گزر چکی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] روز جزا و سزا کی تصدیق کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں۔ پھر اسی تصدیق کے نتیجہ میں وہ ہر اس کام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جس پر اللہ کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ اور انہیں ہر وقت یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ کہیں ہماری کو تاہیاں ہماری نیکیوں سے بڑھ نہ جائیں۔ جو ہمیں اللہ کے عذاب کا مستحق بنادیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْنَ ہُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّہِمْ مُّشْفِقُوْنَ۝ ٢٧ ۚ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ شفق الشَّفَقُ : اختلاط ضوء النّهار بسواد اللّيل عند غروب الشمس . قال تعالی: فَلا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ [ الانشقاق/ 16] ، والْإِشْفَاقُ : عناية مختلطة بخوف، لأنّ الْمُشْفِقَ يحبّ المشفق عليه ويخاف ما يلحقه، قال تعالی: وَهُمْ مِنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ [ الأنبیاء/ 49] ، فإذا عدّي ( بمن) فمعنی الخوف فيه أظهر، وإذا عدّي ب ( في) فمعنی العناية فيه أظهر . قال تعالی: إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنا مُشْفِقِينَ [ الطور/ 26] ، مُشْفِقُونَ مِنْها [ الشوری/ 18] ، مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا [ الشوری/ 22] ، أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا[ المجادلة/ 13] . ( ش ف ق ) الشفق غروب آفتاب کے وقت دن کی روشنی کے رات کی تاریکی میں مل جانے کو شفق کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَلا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ [ الانشقاق/ 16] ہمیں شام کی سرخی کی قسم ۔ الاشفاق ۔ کسی کی خیر خواہی کے ساتھ اس پر تکلیف آنے سے ڈرنا کیونکہ مشفق ہمیشہ مشفق علیہ کو محبوب سمجھتا ہے اور اسے تکلیف پہنچنے سے ڈرتا رہتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُمْ مِنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ [ الأنبیاء/ 49] اور وہ قیامت کا بھی خوف رکھتے ہیں ۔ اور جب یہ فعل حرف من کے واسطہ سے متعدی تو اس میں خوف کا پہلو زیادہ ہوتا ہے اور اگر بواسطہ فی کے متعدی ہو تو عنایت کے معنی نمایاں ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنا مُشْفِقِينَ [ الطور/ 26] اس سے قبل ہم اپنے گھر میں خدا سے ڈرتے رہتے تھے ۔ مُشْفِقُونَ مِنْها [ الشوری/ 18] وہ اس سے ڈرتے ہیں ۔ مُشْفِقِينَ مِمَّا كَسَبُوا [ الشوری/ 22] وہ اپنے اعمال ( کے وبال سے ) ڈر رہے ہوں گے ۔ أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا[ المجادلة/ 13] کیا تم اس سے کہ ۔۔۔ پہلے خیرات دیا کرو ڈر گئے ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

18 In other words, they are not like the disbelievers, who do not fear God even after they have committed every heinous sin and crime and perpetrated every cruelty in the world, but they, in spite of having adopted a righteous attitude in morals and deeds as best as they could, fear God and continue to remain in constant awe lest their shortcomings should exceed their good works before Him and they should be declared as worthy of punishment. (For further explanation, see E N. 54 of Al-Mu'minun, E.N. 19 of Adh-Dhariyat) .

سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :18 بالفاظ دیگر ان کا حال کفار کی طرح نہیں ہے جو دنیا میں ہر قسم کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کر کے بھی خدا سے نہیں ڈرتے ، بلکہ وہ اپنی حد تک ا خلاق اور اعمال میں نیک رویہ اختیار کرنے کے باوجود خدا سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ اندیشہ ان کو لاحق رہتا ہے کہ کہیں خدا کی عدالت میں ہماری کوتاہیاں ہماری نیکیوں سے بڑھ کر نہ نکلیں اور ہم سزا کے مستحق نہ قرار پا جائیں ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، المومنون ، حاشیہ 54 ۔ جلد پنجم ، الذاریات ، حاشیہ 19 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(70:27) والذین ھم من عذاب ربھم مشفقون : یہ مستثنیت کی صفت چہارم ہے۔ مشفقون اشفاق (افعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ ڈرنے والے۔ اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والذین .................... مامون (٨٢) (٠٧ : ٧٢۔ ٨٢) ” جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بےخوف ہو “۔ مجرد تصدیق قیامت سے یہ ایک آگے کا درجہ ہے۔ یہ قیامت کے بارے میں زیادہ حساسیت اور اللہ کی نگہبانی کا تازہ احساس اور اللہ کے دربار میں تقصیر کا شعور ہے اور زیادہ عبادت گزاری ہے۔ اور یہ خوف ہے کہ کسی وقت بھی اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ اس لئے ایسے لوگوں کے سامنے ہر وقت غضب الٰہی کا خوف رہتا ہے اور وہ اللہ کی حمایت اور بچاﺅ کے طلبگار رہتے ہیں۔ حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے عذاب سے خوف کھاتے تھے۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک آپ کا جو مرتبہ تھا ، وہ معلوم ہے اور آپ کو اچھی طرح معلوم بھی تھا کہ آپ برگزیدہ ہیں اور اللہ کی آپ پر مہربانیاں ہیں۔ چناچہ آپ کو یہ یقین تھا کہ صرف اللہ کا فضل ہی آپ کو جنت میں داخل کرسکتا ہے۔ اس لئے آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ” کسی کا عمل اسے ہرگز جنت میں داخل نہیں کرسکتا “۔ اس پر صحابہ کرام (رض) نے پوچھا رسول اللہ کیا آپ پر بھی اسی اصول کا اطلاق ہے ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اور میں بھی ! الایہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے “۔ (بخاری ومسلم)

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رابعًا فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ٠٠٢٧﴾ (اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(27) اور وہ جو اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے اور خوف کرنے والے ہیں۔