Surat ul Maarijj

Surah: 70

Verse: 39

سورة المعارج

کَلَّا ؕ اِنَّا خَلَقۡنٰہُمۡ مِّمَّا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۹﴾

No! Indeed, We have created them from that which they know.

۔ ( ایسا ) ہرگز نہ ہوگا ہم نے انہیں اس ( چیز ) سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

كَلَّ ... Does every man of them hope to enter the Paradise of Delight? But no! meaning, is this their wish, yet they flee from the Messenger in aversion to the truth. Are they hoping that they will be admitted into the Gardens of Delight? Nay, rather their abode is Hell. Then Allah affirms the occurrence of the Final Abode and the torment that will befall them that they are denying its existence and claiming it to be something farfetched. As a proof against them, Allah mentions the initiation of creation, and that repeating the process is something easier than performing it the first time. This is something that they themselves confess to. Allah says, ... إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ Verily, We have created them out of that which they know! meaning, from despised semen. This is as Allah says, أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّأءٍ مَّهِينٍ Did We not create you from a despised water (semen) (77:20) Allah also says, فَلْيَنظُرِ الاِنسَـنُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّأءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَايِبِ إِنَّهُ عَلَى رَجْعِهِ لَقَادِرٌ يَوْمَ تُبْلَى السَّرَايِرُ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلاَ نَاصِرٍ So let man see from what he is created! He is created from a water gushing forth. Proceeding from between the backbone and the ribs. Verily He is able to bring him back! The Day when all the secrets will be examined. Then he will have no power, nor any helper. (86:5-10) Then Allah says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

39۔ 1 ایسا کیسا ممکن ہے کہ مومن اور کافر دونوں جنت میں جائیں رسول کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے دونوں کو اخروی نعمتیں ملیں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ یعنی (حقیر قطرے) سے۔ جب یہ بات ہے تو کیا تکبر اس انسان کو زیب دیتا ہے ؟ جس تکبر کی وجہ سے ہی یہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب بھی کرتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٤] یعنی ان کی کرتوتیں یہ ہیں کہ اللہ کے کلام کو جھٹلاتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کی مخالفت میں سردھڑ کی بازی لگا رکھی ہے۔ انہیں تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسلام کی راہ روکنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اس پر امیدیں یہ لگائے بیٹھے ہیں کہ نعمتوں والی جنت بھی ہمارے لئے ہے۔ ان کی یہ توقع بالکل بےہودہ اور باطل ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ جس خالق نے انہیں پانی کے حقیر و ذلیل قطرہ سے پیدا کرکے اس منزل پر پہنچایا ہے وہ انہیں ویسی ہی حقیر اور ذلیل حالت کی طرف لوٹا بھی سکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَلَّا۝ ٠ ۭ اِنَّا خَلَقْنٰہُمْ مِّمَّا يَعْلَمُوْنَ۝ ٣٩ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں ( سے ) عہد لے لیا ہے ہر گز نہیں ۔ لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ہرگز نہیں ۔ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] کچھ شک نہیں کہ خدا نے سے جو حکم دیا ۔ اس نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا ۔ اور اس نوع کی اور بھی بہت آیات ہیں ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة «1» . الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي «3» . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٩{ کَلَّاطاِنَّا خَلَقْنٰـہُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ ۔ } ” ہرگز نہیں ! ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں۔ “ یعنی ہر انسان جانتا ہے کہ اس کی تخلیق گندے پانی کی ایک بوند سے ہوئی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

26 Here, this sentence can have two meanings: (1) If it is taken to be related to the preceding theme, it will mean: As for the substance these people have been created from, aII men are equal. For if the substance itself be the cause of man's entry into Paradise, then the good and the bad, the wicked and the just, the guilty and the innocent, all should go to Paradise. But a little common sense is enough to decide that man's qualifications for Paradise are created not on the basis of the substance of his creation but only on the basis of his merit and excellence. (2) If this sentence is regarded as an introduction to the following theme, it would mean: "These people think they are secure from Our torment and mock the one who warns them of Our punishment, whereas We can punish them even in this world as and when We please, as well as resurrect them after death as and when We like. They themselves know that We began their creation from an insignificant sperm-drop and developed them into a living man. If they had only considered this mode of their creation, they would never have been involved in the misunderstanding that they now have escaped Our grasp, or that We have no power to create them over again."

سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :26 اس مقام پر اس فقرے کے دومعنی ہو سکتے ہیں ۔ مضمون سابق کے ساتھ اس کا تعلق مانا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ جس مادے سے یہ لوگ بنے ہیں اس کے لحاظ سے تو سب انسان یکساں ہیں ۔ اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد ، ظالم و عادل مجرم اور بے گناہ ، سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے ۔ لیکن معمولی عقل ہی یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بنا پر نہیں بلکہ صرف اس کے اوصاف کے لحاظ سے پیدا ہو سکتا ہے ۔ اور اگر اس فقرے کو بعد کے مضمون کی تمہید سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ہمارے عذاب سے محفوظ سمجھ رہے ہیں اور جو شخص انہیں ہماری پکڑ سے ڈراتا ہے اس کا مذاق اڑاتے ہیں ، حالانکہ ہم ان کو دنیا میں بھی جب چاہیں عذاب دے سکتے ہیں اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کر کے بھی جب چاہیں اٹھا سکتے ہیں ۔ یہ خود جانتے ہیں کہ نطفے کی ایک حقیر سی بوند سے ان کی تخلیق کی ابتدا کر کے ہم نے ان کو چلتا پھرتا انسان بنایا ہے ۔ اگر اپنی اس خلقت پر یہ غور کرتے تو انہیں کبھی یہ غلط فہمی لاحق نہ ہوتی کہ اب یہ ہماری گرفت سے باہر ہو گئے ہیں ، یا ہم انہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

11: یعنی یہ جانتے ہیں کہ ہم نے انہیں نطفے سے پیدا کیا ہے، حالانکہ نطفے سے اِنسان بننے تک کتنے مراحل آتے ہیں۔ لہٰذا جب ہم ان تمام مراحل سے گذار کر نطفے کو جیتا جاگتا اِنسان بنانے پر قادر ہیں تو اس کی لاش کو دوبارہ زندہ کرنے پر کیوں قادر نہیں؟

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(70:39) کلا ہرگز نہیں۔ نیز ملاحظہ ہو 70:15 متذکرۃ الصدر۔ انا خلقنھم مما یعلمون۔ ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیں۔ یعنی کیا ان میں سے ہر ایک کو طمع ہے کہ وہ جنت نعیم میں داخل کیا جائے گا ؟ یہ ہرگز نہ ہوگا کس لئے کہ ہم نے ان کو ایسی چیز سے پیدا کیا ہے کہ اس کو وہ بھی جانتے ہیں ۔ یعنی منی سے جو کہ نہایت ہی حقیر ہے پھر اس عالم قدس میں بغیر اس کے کہ آثار بہیمیہ کو قوائے روحانیہ و ملکوتیہ۔ ایمان و اعمال صالحہ سے جلا دے کر مٹا نہ دے کس طرح سے جاسکتا ہے۔ ابن کثیر نے اس کی تائید میں امام حسن بصری (رح) کا قول نقل کیا ہے :۔ سچ ہے کہ گندہ انسان جب تک ایمان اور عمل صالح سے نورانیت اور پاکیزگی نہ حاصل کرلے محض مال اور دنیاوی حشمت و جاہ کی وجہ سے اس عالم قدس تک نہیں پہنچ سکتا وہ پاک جگہ ناپاکوں کے لئے نہیں ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی ایک حقیر قطرہ سے اس پر اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں یہ سرکشی اور یہ بےخوفی ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کلا انا ................ یعلمون یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ان کی اس تمنا اور خوش فہمی کو نہایت حقارت کے ساتھ رد کیا جاتا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ ہم نے ان کو ایک حقیر پانی کی بوند سے پیدا کیا ہے۔ قرآن کریم ان کو اپنی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ یوں ان کے اندر جو کبرو غرور اور تکبر وعلو تھا اسے ملیامیٹ کردیا جاتا ہے اور ان کے غزور کی عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے۔ اور یہ صرف ایک لفظ کے ذریعہ۔ ایک اشارہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم نے ان کو کس چیز سے پیدا کیا ہے۔ انسان کی کمزوری ، ناتوانی اور بےوزنی کی بہترین تصویر ہے۔ تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ کس طرح یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں جبکہ ان کے افعال ایسے ہیں۔ پھر وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ ان کو دیکھنا چاہئے کہ ان کے مدارج تخلیق کیا ہیں۔ اللہ کے ہاں ان کی اہمیت ، ان کے اس کفر کی وجہ سے ، مچھر کے برابر بھی نہیں ہے۔ ان کو تو ان کے کفر کی وجہ سے جہنم کی آگ کی لپیٹ میں جانا ہے۔ یہ کس طرح اللہ کی نعمتوں کی توقع کرتے ہیں۔ ان کے معاملے کو غیر اہم سمجھتے ہوئے اور ان کی اہمیت کو کم دکھاتے ہوئے اور ان کی بڑائی کے بت توڑتے ہوئے اللہ اپنے اس فیصلے کا اعلان کرتا ہے کہ اگر یہ ہدایت نہیں حاصل کرتے تو اللہ ان کے مقابلے میں اچھے لوگوں کو پیدا کردے گا۔ یہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ اپنے اسی انجام تک جا پہنچیں گے جس کے وہ مستحق ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا يَعْلَمُوْنَ ٠٠٣٩﴾ (بلاشبہ ہم نے انہیں اس چیز سے پیدا کیا جسے وہ جانتے ہیں) ۔ یعنی ان کو ہم نے نطفہ سے پیدا کیا ہے جس کی انہیں خبر ہے اس میں منکرین بعث کی تردید ہے وہ لوگ قیامت قائم ہونے پر ایمان نہیں لاتے تھے اور یہ جو کہتے تھے کہ یہ لوگ (اہل اسلام) جنت میں جائیں گے تو ہم ان سے پہلے جائیں گے ان کا یہ کہنا بطور تمسخر تھا جب ان کے سامنے بعث و حشر و نشر کی بات آتی تھی تو تعجب کرتے تھے اور منکر ہوجاتے تھے ان کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ ہم نے تمہیں کس چیز سے پیدا کیا تم جانتے ہو کہ تمہاری پیدائش نطفہ منی سے ہوئی ہے جس ذات پاک نے بےجان نطفہ سے پیدا فرما دیا اسے اس پر بھی قدرت ہے کہ موت دے کر دوبارہ زندہ فرما دے، اسی کو سورة ٴ قیامہ کے آخر میں فرمایا ﴿اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ٠٠٣٧ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ٠٠٣٨ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ٠٠٣٩ اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى (رح) ٠٠٤٠﴾ (کیا وہ منی کا نطفہ نہیں تھا جو ٹپکایا گیا تھا پھر وہ خون کا لوتھڑا تھا پھر اللہ نے اسے بنایا پھر اعضاء درست کیے پھر اس کی دو قسمیں کردیں مرد اور عورت، کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ مردوں کو زندہ فرما دے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(39) یہ ہرگز نہیں ہوگا ہم نے جس چیز سے ان کو بنایا ہے اسے وہ بھی جانتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن سن کر ادھر ادھر بھاگتے ہیں اور ٹولیاں کی ٹولیاں اس قرآن سے نفرت کرتی ہیں اور باوجود اس نفرت اور فرار کے ان کی خواہش اور ہوس یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک نعمت کے باغوں میں داخل ہوجائے ایسا نہیں ہوگا ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اور جس چیز سے ان کو بنایا ہے۔ اسے وہ بھی جانتے ہیں یعنی وہ ایک گندے پانی کی بوند اور گھنائونی چیز سے بنائے گئے ہیں اور اس کو وہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ اس قطرہ منی میں یہ صلاحیت کہاں کہ وہ بہشت کے باغوں میں داخل کیا جائے لیکن نیک اعمال اور اخلاق حسنہ سے یہ شرف حاصل ہوسکتا ہے اور وہ ان میں ہے نہیں تو یہ کیسے جنت نعیم میں داخل ہوسکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے مما یعلمون کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جس لئے ان کو پیدا کیا ہے یہ بھی جانتے ہیں، یعنی یہ بھی اتنا سمجھتے اور جانتے ہیں کہ ان کو عبث اور بےکار نہیں پیدا کیا بلکہ خالق کی معرفت اور عبادت کے لئے پیدا کیا ہے نیز اس آیت میں ایک لطیف اشارہ وقوع قیامت اور بعثت پر بھی ہے کہ جب ہم ایک پانی کی بوند کو جو حیات سے عاری ہے یہ زندگی اور یہ شکل و صورت عطا کرسکتے ہیں تو ان اجزاء کو جو حیات اور زندگی حاصل کرچکے ہیں دوبارہ زندگی کیوں نہیں بخش سکتے۔ وبد نطفہ را صورتے چوں پری کہ کرد است برآب صورت گری اورچونکہ نطفہ مختلف صورتیں اختیار کرتا ہوا اور مختلف تبدیلیوں سے گزرتا ہوا انسان بنتا ہے۔ اس لئے آگے بنی نوح انسان اور مختلف اقوام کی تبدیلی پر قسم کھا کر ارشاد فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نطفے کو مختلف صورتوں میں تبدیل کرتے رہتے ہیں اسی طرح ہم اس نطفے سے بنی ہوئی اقوام کو بھی تبدیل کرسکتے ہیں یعنی ایک قوم کو لے جائیں اور دوسری قوم کو لے آئیں دین حق کے منکروں اور اسلام کے معاندوں کو ہلاک کردیں اور اسلام سے محبت کرنے والوں کو لے آئیں ظالموں کو لے جائیں اور رحم دلوں کو لے آئیں جیسا کہ اس قسم کی تبدیلیوں سے تاریخ امم بھری پڑی ہیں۔ قسم میں بھی مشارق ومغارب کی جانب اس قسم کا اشارہ ہے کہ عالم علوی کا سب سے بڑا کرہ ہر روز نئے نقطے کی تبدیلی اختیار کرتا ہے جو اتنے بڑے کرنے کے لئے ہر روز طلوع و غروب کی جگہ بدلتا رہتا ہے اس کے لئے اقوام عالم کی تبدیلی اور ایک قوم کی جگہ دوسری قوم کو لے آنا کیا مشکل ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی منی گھن کی چیز سے وہ کہاں لائق بہشت کے مگر جب ایمان سے پاک ہو۔