Surat ul Maarijj

Surah: 70

Verse: 41

سورة المعارج

عَلٰۤی اَنۡ نُّبَدِّلَ خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ ۙ وَ مَا نَحۡنُ بِمَسۡبُوۡقِیۡنَ ﴿۴۱﴾

To replace them with better than them; and We are not to be outdone.

اس پر کہ ان کے عوض ان سے اچھے لوگ لے آئیں اور ہم عاجز نہیں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

عَلَى أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ ... But no! I swear by the Lord of the easts and the wests that surely We are Able to replace them by (others) better than them.. meaning, `on the Day of Judgement We will bring them back (to life) in bodies that are better than these bodies that they have now.' For verily, Allah's power is suitable (able) to do that. ... وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ and We are not to be outrun. meaning, `We are not unable.' This is as Allah says, أَيَحْسَبُ الاِنسَـنُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَى قَـدِرِينَ عَلَى أَن نُّسَوِّىَ بَنَانَهُ Does man think that We shall not assemble his bones? Yes, We are able to put together in perfect order the tips of his fingers. (75:3,4) Allah also says, نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَى أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَـلَكُمْ وَنُنشِيَكُمْ فِى مَا لاَ تَعْلَمُونَ We have decreed death to you all, and We are not outstripped. To transfigure you and create you in (forms) that you know not. (56:60,61) Ibn Jarir preferred the meaning to be: `a nation who will obey Us and not disobey Us.' He (Ibn Jarir) interpreted it in the same way as Allah's statements, عَلَى أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ (To replace them by (others) better than them..) and: الْفُقَرَاءُ وَإِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ ثُمَّ لاَ يَكُونُواْ And if you turn away, He will exchange you for some other people and they will not be like you. (47:38) However, the first interpretation is more obvious since the other Ayat support that, and Allah the Most High knows best. Then Allah says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

41۔ 1 یعنی ان کو ختم کرکے ایک نئی مخلوق آباد کردینے پر ہم پوری طرح قادر ہیں۔ جب ایسا ہے تو کیا ہم قیامت والے دن ان کو دوبارہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٦] یعنی جو پروردگار اتنے زیادہ مشرقوں اور مغربوں کو وجود میں لاسکتا اور ان پر مکمل کنٹرول رکھ سکتا ہے کہ ان کے زاویوں میں ذرہ بھر بھی فرق نہ آنے پائے وہ یہ نہیں کرسکتا کہ تم سے تمہاری یہ چھوٹی چھوٹی سرداریاں، جن پر تم اس قدر پھولے پھرتے ہو، تم سے چھین کر تمہیں ذلیل و رسوا کرکے پیچھے ہٹا دے اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان متکبر قریشیوں کو پیچھے ہٹایا اور ان مسلمانوں کو آگے کردیا جن کے ساتھ یہ بیٹھنا بھی اپنی توہین سمجھتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد معاملہ یکسر الٹ گیا۔ مسلمان فتح یاب اور حاکم اور یہ قریشی مقہور و مغلوب ہوگئے اور بعد میں ان کافروں میں سے عزت صرف اسے ملی جس نے اسلام کی آغوش میں پناہ لے لی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

عَلٰٓي اَنْ نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْہُمْ۝ ٠ ۙ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ۝ ٤١ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن يعملوا أعمالا صالحة تبطل ما قدّموه من الإساءة، وقیل : هو أن يعفو تعالیٰ عن سيئاتهم ويحتسب بحسناتهم «5» . وقال تعالی: فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] ، وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] ، وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ، ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] ، يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] أي : تغيّر عن حالها، أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] ، وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] ، وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] ، وقوله : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] أي : لا يغيّر ما سبق في اللوح المحفوظ، تنبيها علی أنّ ما علمه أن سيكون يكون علی ما قد علمه لا يتغيّرعن حاله . وقیل : لا يقع في قوله خلف . وعلی الوجهين قوله تعالی: تَبْدِيلَ لِكَلِماتِ اللَّهِ [يونس/ 64] ، لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ [ الروم/ 30] قيل : معناه أمر وهو نهي عن الخصاء . والأَبْدَال : قوم صالحون يجعلهم اللہ مکان آخرین مثلهم ماضین «1» . وحقیقته : هم الذین بدلوا أحوالهم الذمیمة بأحوالهم الحمیدة، وهم المشار إليهم بقوله تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] والبَأْدَلَة : ما بين العنق إلى الترقوة، والجمع : البَئَادِل «2» ، قال الشاعر : 41- ولا رهل لبّاته وبآدله ( ب د ل ) الا بدال والتبدیل والتبدل الاستبدال کے معنی ایک چیز کو دوسری کی جگہ رکھنا کے ہیں ۔ یہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض سے عام ہے کیونکہ عوض میں پہلی چیز کے بدلہ میں دوسری چیز لینا شرط ہوتا ہے لیکن تبدیل مطلق تغیر کو کہتے ہیں ۔ خواہ اس کی جگہ پر دوسری چیز نہ لائے قرآن میں ہے فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کو اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع گیا ۔ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا ۔ اور آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] کے معنی بعض نے یہ کئے ہیں کہ وہ ایسے نیک کام کریں جو ان کی سابقہ برائیوں کو مٹادیں اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمادیگا اور ان کے نیک عملوں کا انہیں ثواب عطا کریئگا فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ ما سَمِعَهُ [ البقرة/ 181] تو جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے ۔ وَإِذا بَدَّلْنا آيَةً مَكانَ آيَةٍ [ النحل/ 101] جب ہم گوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں ۔ وَبَدَّلْناهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ [ سبأ/ 16] ثُمَّ بَدَّلْنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ [ الأعراف/ 95] پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ [إبراهيم/ 48] کے معنی یہ ہیں کہ زمین کی موجودہ حالت تبدیل کردی جائے گی ۔ أَنْ يُبَدِّلَ دِينَكُمْ [ غافر/ 26] کہ وہ ( کہیں گی ) تہمارے دین کو ( نہ ) بدل دے ۔ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمانِ [ البقرة/ 108] اور جس شخص نے ایمان ( چھوڑ کر اس کے بدلے کفر اختیار کیا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَيْرَكُمْ [ محمد/ 38] 47 ۔ 38 ) اور اگر تم منہ پھروگے تو وہ تہماری جگہ اور لوگوں کو لے آئیگا ۔ اور آیت کریمہ : ما يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَ [ ق/ 29] ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی ۔ کا مفہوم یہ ہے کہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ تبدیل نہیں ہوتا پس اس میں تنبیہ ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ وقوع پذیر ہوگی وہ اس کے علم کے مطابق ہی وقوع پذیر ہوگی اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آسکتی ۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس کے وعدہ میں خلف نہیں ہوتا ۔ اور فرمان بار ی تعالیٰ : { وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ } ( سورة الأَنعام 34) قوانین خدا وندی کو تبدیل کرنے والا نہیں ۔{ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ } ( سورة الروم 30) نیز : لا تبدیل لخلق اللہ فطرت الہیٰ میں تبدیل نہیں ہوسکتی ( 30 ۔ 30 ) بھی ہر دو معافی پر محمول ہوسکتے ہیں مگر بعض نے کہاں ہے کہ اس آخری آیت میں خبر بمعنی امر ہے اس میں اختصاء کی ممانعت ہے الا ابدال وہ پاکیزہ لوگ کہ جب کوئی شخص ان میں سے مرجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو اس کا قائم مقام فرمادیتے ہیں ؟ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں ۔ درحقیقت ابدال وہ لوگ ہیں جہنوں نے صفات ذمیمہ کی بجائے صفات حسنہ کو اختیار کرلیا ہو ۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جنکی طرف آیت : فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] میں ارشاد فرمایا ہے ۔ البادلۃ گردن اور ہنسلی کے درمیان کا حصہ اس کی جمع بادل ہے ع ( طویل ) ولارھل لباتہ وبآدلہ اس کے سینہ اور بغلوں کا گوشت ڈھیلا نہیں تھا ۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] ، ( س ب ق) السبق اس کے اصل معنی چلنے میں آگے بڑھ جانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] پھر وہ ( حکم الہی کو سننے کے لئے لپکتے ہیں ۔ الاستباق کے معنی تسابق یعنی ایک دوسرے سے سبقت کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :َ إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرنے لگ گئے ۔ وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] اور دونوں دوڑتے ہوئے دروز سے پر پہنچنے ۔ مجازا ہر شے میں آگے بڑ اجانے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11] تو یہ ہم سے اس کیطرف سبقت نہ کرجاتے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١{ عَلٰٓی اَنْ نُّـبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْہُمْ لا } ” اس پر کہ ہم ان کو ہٹاکر ان سے بہتر لوگ لے آئیں “ یعنی ہم انہیں ختم کر کے ان کی جگہ کسی اور قوم کے افراد کو لے آئیں گے ‘ جو ان سے بہتر ہوں گے۔ جیسے قوم نوح کو ختم کر کے قوم عاد کو پیدا کیا گیا اور پھر قوم عاد کے بعد قوم ثمود کو عروج بخشا گیا۔ اس فقرے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ آخرت میں ہم انہیں جو جسم دیں گے وہ ان کے موجودہ جسموں سے بہتر ہوں گے۔ اس بارے میں سورة الواقعہ ‘ آیت ٦١ اور سورة الدھر ‘ آیت ٢٨ میں تو یہ اشارہ ملتا ہے کہ آخرت میں انسانوں کو جو جسم دیے جائیں گے وہ ان کے دنیا والے جسموں جیسے ہوں گے ‘ لیکن زیر مطالعہ آیت کے مذکورہ مفہوم سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسانوں کو آخرت میں دیے جانے والے جسم ان کے دنیا والے جسموں سے بہتر ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تو وہ جسم ان کے دنیا والے جسموں جیسے ہی ہوں گے ‘ لیکن برداشت وغیرہ کے حوالے سے ان سے کہیں بڑھ کر ہوں گے۔ مثلاً جہنم کی آگ جو دنیا کی آگ سے کہیں زیادہ گرم اور شدید ہوگی جب انسانوں کو جلائے گی تو وہ جل کر راکھ نہیں بن جائیں گے ‘ بلکہ اس کی تپش کو برداشت کریں گے۔ اہل جہنم کے جسموں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوگی کہ ان کی کھالیں جل جانے کے بعد پھر سے اپنی اصل حالت پر آجائیں گی۔ بہرحال آخرت میں ان لوگوں کو جو جسم دیے جائیں گے وہ خصوصی طور پر آخرت کی سختیاں جھیلنے کے لیے بنائے جائیں گے ۔ وہ سختیاں جو دنیا کی سختیوں سے کہیں بڑھ کر ہوں گی۔ { وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ۔ } ” اور (اس معاملے میں) ہم ہارے ہوئے نہیں ہیں۔ “ ہم ان کے ساتھ جیسا چاہیں سلوک کریں ‘ وہ ہماری گرفت سے نکل نہیں سکیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29 This is that for which Allah Almighty has sworn an oath of His being Lord of the Easts and Wests. It means: "As We are Owners of the Easts and Wests, the whole earth is under Our control and power, and you have no power to escape Our punishment: We can destroy you as and when We like and can create another people that may be better than you. "

سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :29 یہ ہے وہ بات جس پر اللہ تعالی نے اپنے رب المشارق والمغارب ہونے کی قسم کھائی ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم چونکہ مشرقوں اور مغربوں کے مالک ہیں اس لیے پوری زمین ہمارے قبضہ قدرت میں ہے اور ہماری گرفت سے بچ نکلنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔ ہم جب چاہیں ہلاک کر سکتے ہیں اور تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اٹھا سکتے ہیں جو تم سے بہتر ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

12: یعنی ان سب کو ہلاک کرکے ان کی جگہ کوئی اور قوم پید کردیں جو ان سے بہتر ہو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(70:41) علی ان تبدل خیرا منھم : ای اذا کان الامر کذلک کما ذکرنا من ان خلقہم مما یعلمون وھو النطفۃ القذرۃ فلا اقسم برب المشرق والمغرب۔ جب بات یہ ہے کہ جیسا ہم نے بیان کیا کہ ان کی تخلیق ایک ایسی چیز سے کی کئی ہے جسے وہ جانتے ہیں یعنی گندے نطفے سے تو ہم مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھاتے ہیں۔ (یعنی اپنی ذات کی) کہ ہم اس بات پر قادر ہیں کہ ان سے بہتر لوگ بدل کرلے آئیں۔ واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف جملہ سابقہ محذوف پر ہے لا زائدہ ہے تاکید کے لئے آیا ہے (نیز ملاحظہ ہو 69ـ38 متذکرۃ الصدر۔ لااقسم برب المشارق والمغارب جملہ قسمیہ ہے اور انا لقدرون جواب قسم علی ان نبدل خیرا منھم متعلق قدرون اقسم مضارع واحد متکلم اقسام (افعال) مصدر، میں قسم کھاتا ہوں۔ رب المشارق مشرقوں کے پروردگار کی مشارق جمع ہے مشرق کی۔ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ۔ سال کے 265 دنوں میں سورج کے نکلنے کی جگہ موسم کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے اس لئے ان ساری جگہوں کے لئے لفظ جمع کا استعمال کیا گیا ہے یہی وجہ مغارب کے استعمال کی ہے۔ سورج کے غروب ہونے کی جگہیں۔ لقدرون لام تاکید کا ہے قاردون قدرۃ (باب ضرب و نصر و سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ ہم قدرت رکھنے والے ہیں۔ اقسم میں صیغہ واحد آیا ہے اور انا لقدرون میں صیغہ جمع کا استعمال اپنی عظمت اور بزرگی اور قدرت کو ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے۔ ان مصدریہ۔ نبدل مضارع جمع متکلم (منصوب بوجہ عمل ان) تبدیل (تفعیل) مصدر سے بمعنی بدلے میں لانا عوض میں لے آنا خیرا : ای خلقا خیرا منہم : تو ہم لے آئیں ان کے بدلے میں (ایسی خلقت) جو ان سے بہتر ہو۔ وما نحن بمسبوقین۔ یہ جملہ دوسرا جواب قسم ہے یا قدرون سے حال ہے۔ اور ہم ایسا کرنے سے عاجز نہیں۔ مسبوقین عاجز، وہ لوگ جن پر سبقت کرلی جائے۔ سبق (باب ضرب، نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ جمع مذکر۔ بحالت جرونصب ہے۔ سبق کے اصل معنی ہے چلنے میں آگے نکل جانا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی ہم چاہیں تو انہیں ہلاک کردیں اور ان کی جگہ ایسے لوگ زمین میں بسا دیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزار ہوں۔ ہم ایسا کرنا چاہیں تو ان کی یہ ہرگز مجال نہیں ہے کہ ہمیں اپنے ارادہ سے باز رکھ سکیں، لیکن ہماری اپنی حکمت کا تقاضا ہے، اس لئے ہم انہیں مہلت پر مہلت دیئے جا رہے ہیں۔ ان کی انتہائی بدبختی ہے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے سرکشی میں بڑھتے جا رہے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ پس جب نئی مخلوق اور وہ بھی ایسی جس میں صفات کمال زیادہ ہوں جن میں زیادہ اشیاء پیدا کرنا پڑیں ہم کو پیدا کرنا آسان ہے تو تم کو دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فذرھم ............................ یوعدون آپ کو کہا جاتا ہے کہ یہ نہایت بےوقعت لوگ ہیں اور ان کا انجام نہایت ہی خوفناک ہے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے حال اور کسمپری کا جو نقشہ کھینچا جاتا ہے وہ اپنی جگہ بہت ہی خوفناک ہے جبکہ اس نقشہ کشی اور تصویر سازی میں حقارت آمیز اور مضحکہ خیزی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور یہ اس حال کے جواب میں ہے جس میں یہاں دنیا میں یہ لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے۔ یہ لوگ جب قبروں سے نکلیں گے ، تو گھبراہٹ میں اس تیزی سے بھاگیں گے جیسے یہ اپنے آستانوں کی طرف بھاگ رہے ہوں۔ دنیا میں جس طرح ان کی چال ہوتی تھی اس کی طرف تہکمانہ اور توہین آمیز اشارہ ہے۔ یہ اپنے میلوں ٹھیلوں میں استخانوں کی طرف بھاگا کرتے تھے۔ اور ان بتوں کے گرد جمع ہوتے تھے۔ یہ لوگ آج بھی تیزی سے بھاگ رہے ہیں لیکن اس بھگدڑ اور اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(41) کہ ہم ان کو بدل کر ان کی جگہ ان سے بہتر لوگوں کو لے آئیں اور ہم ایسا کرنے سے عاجز نہیں ہیں یعنی روز آفتاب مشرق کے نئے نقطے سے نکلتا ہے اور نئے خط پر گزرتا ہوا غرب میں ڈوب جاتا ہے جیسا کہ والصفات میں تفصیل گزر چکی ہے۔ ان تمام نقطہائے مشارق ومغارب کے مالک کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم دنیا میں ہی ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آنے پر قادر ہیں اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جو اس وقت ان سے بہتر مخلوق لانے پر قادر ہے جو ان سے عمل اور اعتقاد میں اچھی ہوگی تو انہی کو دوبارہ پیدا کردینا اور قیامت میں زندہ کردینا کون سا مشکل ہے۔ بہرحال جب ان کے عناد اور استہزا کی یہ حالت ہے کہ سیدھی بات کو بھی یہ کھیل سمجھتے ہیں۔