Surat Nooh

Surah: 71

Verse: 18

سورة نوح

ثُمَّ یُعِیۡدُکُمۡ فِیۡہَا وَ یُخۡرِجُکُمۡ اِخۡرَاجًا ﴿۱۸﴾

Then He will return you into it and extract you [another] extraction.

پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا اور ( ایک خاص طریقہ ) سے پھر نکالے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا ... Afterwards He will return you into it (the earth), meaning, when you die. ... وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا And bring you forth. meaning, on the Day of Judgement He will repeat your creation just as He first originated you. وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الاْاَرْضَ بِسَاطًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 یعنی، مر کر پھر اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور پھر قیامت والے دن اسی زمین سے تمہیں زندہ کرکے نکالا جائے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] چاند اور سورج کے بعد اب زمین کی طرف آؤ۔ تو زمین کا تمہاری موت وحیات سے گہرا تعلق ہے۔ زمین ہی سے تم پیدا ہوئے۔ ابتدائی خلقت کے لحاظ سے بھی اور توالد و تناسل کے بعد بھی۔ پھر مرنے کے بعد بھی یہی زمین تمہارا مستقر بنتی ہے۔ زندگی میں تم زمین کی سطح پر رہتے تھے۔ مرنے کے بعد اسکے اندر چلے جاتے ہو اور دوبارہ زندگی ملنے پر پھر زمین کے اندر سے نکل کر باہر سطح زمین پر آجاؤ گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ يُعِيْدُكُمْ فِيْہَا وَيُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا۝ ١٨ عود الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] ( ع و د ) العود ( ن) کسی کام کو ابتداء کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہاجاتا ہی خواہ وہ پلٹا ھذایۃ ہو ۔ یا قول وعزم سے ہو ۔ قرآن میں ہے : رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] اے پروردگار ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ( ایسے کام ) کریں تو ظالم ہوں گے ۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(71:18) ثم یعیدکم : ثم تراخی وقت کے لئے ہے یعنی پھر۔ اس کے بعد۔ یعید مضارع واحد مذکر غائب اعادۃ (افعال) بمعنی لوٹا دینا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو پھر اسی میں لوٹا دے گا۔ فیہا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الارض ہے۔ ویخرجکم اخراجا۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ یخرج مضارع واحد مذکر غائب اخراج (افعال) مصدر۔ باہر نکالنا۔ اخراجا مفعول مطلق تاکید کے لئے اور پھر تم کو باہر نکال کھڑا کریگا۔ فائدہ : پہلے انبتکم کی تاکید نباتا سے کی تھی اب یخرجکم کی تاکید کے لئے اخراجا فرمایا۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ تخلیق اول کی طرح حشر بھی یقینی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) پھر تم کو اس زمین میں لوٹا دے گا اور پھر تم کو باہر نکال کھڑا کرے گا۔ یعنی مرنے کے بعد پھر زمین میں دفن ہوگے اور تمہارے اجزا زمین میں مل جائیں گے اور دوسرے نفخہ صور کے وقت تم کو نکال کھڑا کرے گا۔