Surat Nooh

Surah: 71

Verse: 19

سورة نوح

وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ بِسَاطًا ﴿ۙ۱۹﴾

And Allah has made for you the earth an expanse

اور تمہارے لئے زمین کو اللہ تعالٰی نے فرش بنا دیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And Allah has made for you the earth a wide expanse. meaning, He spread it out, leveled it, settled it, and stabilized it with firm and lofty mountains. لِتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلً فِجَاجًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

19۔ 1 یعنی اسے فرش کی طرح بچھا دیا ہے تم اس پر اسی طرح چلتے پھرتے ہو جیسے اپنے گھر میں بچھے ہوئے فرش پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] پھر اس زمین میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔ تم اس پر مکان بناؤ۔ باغات لگاؤ، چلو پھرو، لیٹو، بیٹھو، ہر طرف کشادہ راہیں ہیں۔ اگر ایک شخص کے پاس وسائل ہوں تو ساری دنیا کے گرد گھوم سکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاللہُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا۝ ١٩ ۙ بسط بَسْطُ الشیء : نشره وتوسیعه، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] والبِسَاط : الأرض المتسعة وبَسِيط الأرض : مبسوطه، واستعار قوم البسط لکل شيء لا يتصوّر فيه تركيب وتأليف ونظم، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] ، ( ب س ط ) بسط الشئ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے اور توسیع کرنے کے ہیں ۔ پھر استعمال میں کبھی دونوں معنی ملحوظ ہوتے ہیں اور کبھی ایک معنی متصور ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے بسط لثوب ( اس نے کپڑا پھیلایا ) اسی سے البساط ہے جو ہر پھیلائی ہوئی چیز پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] اور خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے فراش بنایا ۔ اور بساط کے معنی وسیع زمین کے ہیں اور بسیط الارض کے معنی ہیں کھلی اور کشادہ زمین ۔ ایک گروہ کے نزدیک بسیط کا لفظ بطور استعارہ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جس میں ترکیب و تالیف اور نظم متصور نہ ہوسکے ۔ اور بسط کبھی بمقابلہ قبض آتا ہے ۔ جیسے وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] خدا ہی روزی کو تنگ کرتا ہے اور ( وہی اسے ) کشادہ کرتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(71:19) بساطا : الارض سے حال ہے (اور اللہ ہی نے زمین کو تمہارے لئے بصورت بستر بنایا) بساطا اسم ہے۔ بچھونا۔ فرش۔ ہر پھیلی ہوئی چیز کو بساش کہتے ہیں ۔ چناچہ وسیع زمین کا نام بھی بساط ہے۔ بسط یبسط (باب نصر) بسط مصدر۔ بمعنی کشادہ کرنا ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آخر میں حضرت نوح (علیہ السلام) لوگوں کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے زمین کے اندر تمہارے لئے کیا کیا سہولیات پیدا کی ہیں۔ اس زمین کو تمہارے لئے مسخر کیا ، سدھایا۔ اس میں تمہارے زندہ رہنے کے لئے تمام سہولیات رکھ دیں۔ واللہ جعل ................ فجاجا (١٧ : ٠٢) ” اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو “۔ یہ حقیقت جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کے سامنے پیش کی اور ان کے سامنے موجود تھی ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی باتوں سے وہ تو بھاگتے تھے لیکن ان میں جو حقائق تھے ، ان سے ان کے لئے فرار مشکل تھا۔ یہ زمین ان کے سامنے بچھی ہوئی تھی۔ یہ پہاڑ موجود تھے ، یہ وادیاں موجود تھیں اور ان وادیوں کی راہوں پر ہی وہ چلتے تھے۔ پیدل بھی چلتے ، سوار ہوکر بھی چلتے اور تیر کر بھی چلتے۔ اور اس کے اندر اللہ کے جو فضل وکرم بکھرے ہوئے تھے ان سے وہ استفادہ کرتے تھے اور نہایت ہی آسانی سے وہ استفادہ کرتے تھے۔ یہ حقائق وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ، اس سلسلے میں کسی گہری علمی تحقیق کی ضرورت نہ تھی۔ یہ اصول فطرت تھے اور ان کے مشاہدے اور تجربے میں تھے۔ اور ان حقائق کے اندر وہ زندہ رہ رہے تھے۔ ہاں جوں جوں انسان نے علمی ترقی کی اس نے ان حقائق کے مزید پہلو معلوم کرلیے۔ جس کے بارے میں قرآن کی ہدایت بھی ہے کہ تم زمین میں پھرو اور نصیحت حاصل کرو۔ ھوالذی ................................ النشور ( سورة ملک) یوں حضرت نوح (علیہ السلام) نے کوشش کی کہ اپنی قوم کے کانوں میں کسی نہ کسی طرح کلمہ حکمت ڈال دیں ، مختلف طریقوں اور مختلف اسالیب کے ذریعہ اور اس کے لئے انہوں نے مختلف انداز اختیار کیے اور طویل عرصہ اس کام میں لگایا۔ صبر جمیل کے ساتھ اور ان تھک جدوجہد کے ساتھ ، ساڑھے نو سو سال مسلسل ! اس کے بعد اب حضرت نوح (علیہ السلام) رب تعالیٰ کی طرف لوٹتے ہیں ، جس رب تعالیٰ نے ان کو یہ مشن دیا تھا۔ رپورٹ پیش کرتے ہیں نہایت تفصیلی رپورٹ ہے یہ ۔ یہ رپورٹ نہایت ہی درد ناک لہجے میں ہے اور نہایت موثر الفاظ میں ہے۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کس قدر جدوجہد کی۔ انہوں نے گم کردہ راہ انسانیت کو راہ ہدایت پر لانے کے لئے کیا کچھ کیا ۔ لیکن یہ تو سلسلہ رسالت کی ایک ہی کڑی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(19) اور اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے۔