Surat Nooh

Surah: 71

Verse: 28

سورة نوح

رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنۡ دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤۡمِنًا وَّ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا تَبَارًا ﴿۲۸﴾٪  10 النصف

My Lord, forgive me and my parents and whoever enters my house a believer and the believing men and believing women. And do not increase the wrongdoers except in destruction."

اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو ایمان کی حالت میں میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے اور کافروں کو سوائے بربادی کے اور کسی بات میں نہ بڑھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُوْمِنًا ... My Lord! Forgive me, and my parents, and him who enters my home as a believer, Ad-Dahhak said, "This means, my Masjid." However, there is no harm in understanding the Ayah according to its apparent meaning, which would be that he (Nuh) supplicated for every person who entered his house who was a believer. Then he said, ... وَلِلْمُوْمِنِينَ وَالْمُوْمِنَاتِ ... and all the believing men and women. He supplicated for all of the believing men and women, and that includes those of them who were living and those of them who were dead. For this reason, it is recommended to supplicate like this, in following the example of Nuh, and that which has been reported in the narrations and well-known, legislated supplications. Then, he said, ... وَلاَ تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلاَّ تَبَارًا And to the wrongdoers, grant You no increase but destruction! As-Suddi said, "But destruction." Mujahid said, "But loss." This means in both this life and in the Hereafter. This is the end of the Tafsir of Surah Nuh. And all praise and thanks are due to Allah.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 کافروں کے لیے بدعا کی تو مومنین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ 28۔ 2 یہ بددعا قیامت تک آنے والے ظالموں کے لئے ہے جس طرح مذکورہ دعا تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کے لئے ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] کافروں کے حق میں سیدنا نوح کی بددعا : سیدنا نوح کی دعا کا پہلا حصہ تو کافروں کے متعلق تھا جن کے متعلق آپ نے اپنے تجربہ کی بنا پر یہ کہا تھا کہ ایسے بدکردار لوگ ہیں کہ ان کے نطفہ سے بھی بےحیا، بدکردار اللہ کے نافرمان اور ناشکرے ہی پیدا ہوں گے۔ وہ خود تو کیا ایمان لائیں گے، دوسروں کو بھی گمراہ ہی کرنے کی کوشش کریں گے۔ خ اپنے اور مومنوں کے حق میں دعائے خیر :۔ اسی دعا کا دوسرا حصہ جو اپنے لیے اور جملہ مومنین کے لیے ہے اس میں خاصی نرمی و لچک اور وسعت قلبی پائی جاتی ہے۔ یعنی سب سے پہلے تو آپ نے اپنے حق میں اپنی تقصیرات سے بخشش کی دعا فرمائی پھر اپنے والدین کے لیے پھر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاکر آپ کے گھر یا مسجد یا کشتی میں داخل ہوجائیں۔ پھر ان مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی جو اس دعا کے بعد یا آپ کے بعد ایمان لائیں گے۔ اس دعا کے بعد پھر ایک بار تاکیداً فرمایا کہ اس ظالم قوم کی ہلاکت میں کوئی رو رعایت نہ کرنا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(رب اغفرلی ولوالدی…: اس ایٓ میں نوح (علیہ السلام) کی اس دعائے مغفرت کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے لئے، اپنے والدین کے لئے اور ان اہل ایمان کے لئے کی جو عذاب کی پیش گوئی سچ مان کر اس سے بچنے اور کشتی میں سوار ہونے کے لئے ان کے گھر جمع ہوگئے تھے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے پہلے تمام مومن مردوں اور عورتوں کے لئے مغفرت کی دعا کی اور کافروں کے لئے مزید ہلاکت کی بد دعا کی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نوح (علیہ السلام) کے والدین موحد تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَّلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ۝ ٠ ۭ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِـمِيْنَ اِلَّا تَبَارًا۝ ٢٨ ۧ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ بيت أصل البیت : مأوى الإنسان باللیل، قال عزّ وجلّ : فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] ، ( ب ی ت ) البیت اصل میں بیت کے معنی انسان کے رات کے ٹھکانہ کے ہیں ۔ کیونکہ بات کا لفظ رات کو کسی جگہ اقامت کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خاوِيَةً بِما ظَلَمُوا [ النمل/ 52] یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ زاد الزِّيادَةُ : أن ينضمّ إلى ما عليه الشیء في نفسه شيء آخر، يقال : زِدْتُهُ فَازْدَادَ ، وقوله وَنَزْداد كَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] ( زی د ) الزیادۃ اس اضافہ کو کہتے ہیں جو کسی چیز کے پورا کرنے کے بعد بڑھا جائے چناچہ کہاجاتا ہے ۔ زدتہ میں نے اسے بڑھا یا چناچہ وہ بڑھ گیا اور آیت :۔ وَنَزْدادُكَيْلَ بَعِيرٍ [يوسف/ 65] اور ( اس کے حصہ کا ) ایک بار شتر غلہ اور لیں گے ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں تبر التَّبْر : الکسر والإهلاك، يقال : تَبَرَهُ وتَبَّرَهُ. قال تعالی: إِنَّ هؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُمْ فِيهِ [ الأعراف/ 139] ، وقال : وَكُلًّا تَبَّرْنا تَتْبِيراً [ الفرقان/ 39] ، وَلِيُتَبِّرُوا ما عَلَوْا تَتْبِيراً [ الإسراء/ 7] ، وقوله تعالی: وَلا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَباراً [ نوح/ 28] ، أي : هلاكا . ( ت ب ر ) التبر ( ض ) کے معنی توڑ دینے اور ہلاک کردینے کے ہیں کہا جاتا ہے ۔ تبرہ وتبرہ اس نے اسے ہلاک کرڈالا ۔ قرآن میں ہے ؛ إِنَّ هؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُمْ فِيهِ [ الأعراف/ 139] یہ لوگ جس ( شغل ) میں ( پھنسے ہوئے ) ہیں وہ بربادہونیوالا ہے ۔ وقال : وَكُلًّا تَبَّرْنا تَتْبِيراً [ الفرقان/ 39] اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے تباہ کردیں ۔ وَلا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَباراً [ نوح/ 28] اور ظالم لوگوں کے لئے اور زیادہ تباہی بڑھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

پروردگار مجھ کو اور میرے مومن باپ کو اور جو مومن ہونے کی حالت میں میرے دین یا یہ کہ میری مسجد یا یہ کہ میری کشتی میں داخل ہیں ان کو اور تمام مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو جو کہ میرے بعد ہوں گے بخش دیجیے اور ان مشرکین کی ہلاکت اور نقصان کو اور بڑھا دیجیے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨{ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا } ” پروردگار ! مغفرت فرما دے میری اور میرے والدین کی اور جو کوئی بھی میرے گھر میں داخل ہوجائے ایمان کے ساتھ اس کی بھی “ { وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ط } ” اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی (مغفرت فرمادے ) “ یہ دعا اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں اگلے اور پچھلے زمانوں کے تمام اہل ایمان شامل ہوگئے ہیں۔ { وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَـبَارًا ۔ } ” اور ان ظالموں کے لیے ُ تو اب کسی چیز میں اضافہ مت کر سوائے تباہی اور بربادی کے۔ “ سورة المعارج اور سورة نوح کے مطالعے کے بعد یہ نکتہ بھی اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ اگر ” نظم قرآن “ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں سورتوں کا مطالعہ جوڑے کی حیثیت سے کیا جائے تو نہ صرف سورة المعارج کی پہلی آیت کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے ‘ بلکہ سورة نوح کے نزول کا سبب اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی مذکورہ دعا کا جواز بھی سمجھ میں آجاتا ہے۔ بہرحال اس پہلو سے ان دونوں سورتوں پر غور کرنے سے یہ نکتہ خود بخود واضح ہوجاتا ہے کہ سورة المعارج کی ابتدائی آیت خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی سے متعلق ہے اور یہ بھی کہ سورة المعارج کی آیت ٥ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو { فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا ۔ } کی تلقین بھی اسی حوالے سے کی گئی ‘ بلکہ اس کے بعد ایک پوری سورت (سورئہ نوح) نازل کر کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حالات و مصائب کا نقشہ بھی دکھادیا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوتی مہم کو شروع ہوئے تو ابھی چار پانچ سال ہی ہوئے ہیں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے اس بندے کی ہمت اور استقامت کو بھی مدنظر رکھیں جو ایسے مشکل حالات کا سامنا ساڑھے نو سو سال تک کرتا رہا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

################

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(71:28) رب : ای یا ربی اے میرے پروردگار۔ اغفر : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ غفر (باب ضرب) مصدر تو معاف کردے۔ تو بخش دے ۔ لی مجھے۔ ولوالدی اور میرے والدین کو۔ مضاف مضاف الیہ۔ والذین تثنیہ ی ضمیر واحد متکلم اضافت کی وجہ سے نون گرا کر ی کو ی میں ادغام کردیا۔ والدی ہوگیا۔ جیسے یدی میرے دونوں ہاتھ۔ والدی میرے دونوں والدین۔ یعنی ماں اور باپ ولمن۔ من موصولہ۔ بمعنی اور وہ جو مؤمنا حالیہ (مومن ہوکر) وللمؤمنین اور مومن مردوں کو والمؤمنات اور مومن عورتوں کو۔ ولا تزر الظلمین واؤ عاطفہ، لا تزد فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ زیادۃ (باب ضرب) مصدر اور نہ بڑھا۔ اور نہ زیادہ کر۔ الظلمین : ظالم لوگ۔ ظلم کرنے والے۔ ناانصاف، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔ الا تبارا۔ مستثنیٰ مفرغ۔ تبارا ای ہلاکا حال ہے ظلمین سے ، اور نہ بڑھا ظالموں کو مگر بربادی اور ہلاکت یعنی ظالم لوگوں کے لئے اور تباہی بڑھا دے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 میرے گھر میں آ کر پناہ لے یا میری مسجد میں آئے یا میری کشتی میں سوار ہو۔3 اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی یہ دعا قبول فرمائی اور طوفان بھجیا جس نے تمام مشرکوں اور کافروں کو غرق کردیا۔ حضرت نوح کی یہ دعا قیامت تک آینوالے تمام ایماندار مردوں اور عورتوں اور ظالم مشرک و کافر مردوں اور عورتوں کے لئے ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کے والدین مومن تھے، اور اگر اس کے خلاف ثابت ہوجاوے تو والدین سے مراد آباء و امہات بعیدہ لیں گے، اور تثنیہ مفرد کا نہ ہوگا بلکہ جنس کا ہوگا، اور آباء بعیدہ میں مومنین کا تحقق یقینی ہے۔ 5۔ یعنی ان کی نجات کی کوئی صورت نہ رہے ہلاک ہی ہوجاویں، اور یہی مقصود تھا دعائے ضلال سے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ایک طرف حضرت نوح (علیہ السلام) نے کفار کے بارے میں دعا فرمائی کہ ان کو نیست ونابود کردیا جائے۔ ولا تزد ................ الاتبارا (١٧ : ٨٢) ” اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر “۔ اور دوسری جانب انہوں نے اپنے لئے دعا فرمائی : رب اغفرلی ............................ المومنت (١٧ : ٨٢) ” میرے رب ، مجھے اور میرے والدین کو ، اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے ، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرمادے “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ کو اپنی مغفرت کے لئے بھی پکارا۔ اور یہ ہیں انبیاء کے آداب بارگاہ رب تعالیٰ میں۔ اللہ کے سامنے بندے کو اس طرح عاجزی سے بات کرنا چاہئے جس طرح نوح (علیہ السلام) کررہے ہیں۔ وہ اس طرح دعا کر رہے ہیں جس طرح ایک انسان دعا کرتا ہے۔ انسان سے غلطی بھی ہوتی ہے ، تقصیرات بھی ہوتی ہیں۔ اگرچہ ایک نبی غایت درجہ مطیع رب ہوتا ہے ، جس طرح حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں بھی جنت میں رب کریم کے فضل کے سوا داخل نہیں ہوسکتا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نبی ہیں۔ انہوں نے طویل عرصہ اعصاب شکن جدوجہد کی ، پھر بھی وہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ ، جو تقصیرات ہوئی ہیں معاف کردی جائیں۔ پھر وہ اپنے والدین کے لئے دعا کرتے ہیں۔ ایک نبی اپنے والدین کا احترام کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مومن ہوں گے۔ اگر مومن نہ ہوتے تو اللہ آپ کو اس کی اجازت نہ دیتا جس طرح اللہ نے آپ کی بات اپنے بیٹے کے بارے میں نہ سنی جو کافر تھا۔ پھر آپ کی دعا ان لوگوں کے بارے میں ہے جو آپ کے گھرانے میں اور آپ کی سوسائٹی میں بطور مومن بیٹھیں۔ یہ ایک مومن کی دوسرے مومن کے ساتھ نیکی ہے۔ ایک مومن اپنے لئے جو چیز پسند کرتا ہے وہی دوسرے مومن کے لئے بھی پسند کرتا ہے۔ گھر کا ذکر یہاں اس لئے ہوا کہ اس طوفان میں تمام مومنین کے لئے احکام تھے کہ وہ آپ کے گھر میں داخل ہوجائیں اور آپ ان کو سفینہ میں لے کر نکلیں گے۔ اس کے بعد عام مومنین اور مومنات کے لئے دعا ہے۔ یہ بھی ایک نبی کا رویہ ہے کہ وہ تمام اہل ایمان کے لئے نیک خواہشات رکھتا ہے۔ چاہے یہ مومنین اس کے دور کے ہوں ، اس سے پہلے گزرے ہوں یا بعد کے ادوار میں آنے والے ہوں۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کا ایک راز ہے کہ اس نظریہ کے ساتھ منسلک ہونے والے لوگوں کا آپس میں بہت ہی گہرارابط ، تعلق اور محبت اور برادرانہ جذبات ہوتے ہیں۔ اور یہ خصوصیت صرف اسلامی نظریہ حیات ہی کو حاصل ہے۔ اس محبت کے مقابلے میں پھر کافروں کے ساتھ دشمنی اور کراہیت۔ ولاتزد ................ الاتبارا (١٧ : ٨٢) ” اور ظالموں کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر “۔ یہاں یہ سورت ختم ہوتی ہے جس میں ایک طرف ایک شریف نبی کی ان تھک جدوجہد کی تصویر کشی ہے اور دوسری طرف سرکشوں اور معاندین کی تصویر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعیان حق کو کس قدر عظیم جدوجہد کرنی چاہئے اور یہ کہ اس راہ میں کس قدر مشکلات ہوا کرتی ہیں۔ اور کس قدر عظیم قربانیوں کا تقاضا کرتی ہے ، تحریک دعوت اسلامی ؟ اور یہ عظیم جدوجہد اس لئے ضروری ہے کہ کوئی انسانی سوسائٹی دعوت اسلامی اور اسلام نظام کے سوا ، نہ ہی دنیا میں اور آخرت میں ترقی اور کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ غرض ترقی کا راز اور انسانیت کے عروج کا ذریعہ دعوت اسلامی اور اسلامی نظام کے قیام میں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

15:۔ ” رب اغفرلی “ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے والدین اور تمام مومنوں کے لیے خواہ ان کی امت کے ہوں یا دوسرے پیغمبروں کی امتوں سے تعلق رکھتے ہوں، سب کے لیے مغفرت کی دعا کی اور مشرکین کے لیے تباہی و بربادی کی بد دعاء کی۔ مشرکین پر ان کی بد دعاء تو قبول ہوچکی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بعید نہیں کہ تمام مومنوں کے حق میں بھی ان کی دعاء کو قبول فرما لے۔ قد دعا (علیہ السلام) دعوتین دعوۃ علی الکافرین ودعوۃ للمومنین وحیث استجیبت لہ الاولی فلا یبعد ان تستجاب لہ الثانیۃ واللہ تعالیٰ اکرم الاکرمین (روح ج 29 ص 81) ۔ سورة نوح (علیہ السلام) میں آیات توحید 1 ۔ ” اعبدوا اللہ واتقوہ “ نفی شرک ہر نوع، تخصیص ہر نوع عبادت بذات باری تعالیٰ 2 ۔ ” وقد خلقکم اطوارہ۔ تا۔ لتسلکوا منہا سبلا فجاجا “ نفی شرک اعتقادی۔ 3 ۔ ” فلم یجدوا لہم من دون اللہ انصارہ “ نفی شرک فی التصرف۔ سورة نوح ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(28) اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے ماں باپ اور اس کو جو مومن ہونے کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہوجائے اور تمام ایمان والے مردوں اور تمام ایمان والی عورتوں کو بخش دیجئے اور ان مذکورین کی مغفرت فرمادیجئے اور آپ ان ظالموں کے لئے سوائے تباہی کے اور کسی چیز کو زیادہ نہ کیجئے ان پر تباہی اور ہلاکت ہی کو بڑھاتے رہیے۔ چونکہ کفار کے حق میں بددعا کا سلسلہ جاری تھا اسی دوران میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی اور اپنے متعلقین کی اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی مغفرت کے لئے دعا فرمادی اور اپنی دعا کے آخری حصے کو پھر کفار کی تباہی اور ہلاکت پر ختم کیا، مطلب یہ ہے کہ میری مغفرت فرمادیجئے اور مجھ سے جو خلاف اولیٰ امور صادر ہوئے ہوں ان کو بخش دیجئے اور میرے ماں باپ کی مغفرت فرمادیجئے۔ کہتے ہیں ان کے باپ کا نام لامک یا لمک تھا ان کی والدہ کا نام شمخا تھا حضرت عطا کا مشہور قول ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے تمام آبائو اجداد حضرت آدم (علیہ السلام) تک سب موحد اور مسلمان تھے اور جو میرے گھر میں بحالت ایمان داخل ہوجائے۔ بہت سے مراد میرا گھر یا میرے ٹھہرنے کی جگہ یا میری مسجد یا میرا کھیت یا میری کشتی حضرات مفسرین کے کئی اقوال ہیں۔ ایمان کی قید سے ظاہر ہے کہ ان کی بیوی واعلہ اور ان کا لڑکا کنعان دونوں مغفرت کی دعا سے خارج ہوگئے عام اہل ایمان کے لئے مغفرت کی دعا فرمانے کے بعد پھر کفار کی تباہی کے لئے دعا فرمائی اوپر فرمایا تھا ولا تزد الظلمین الاضلالا یہاں فرمایا ولا تزدالظلمین الاتبارا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ضلال کی زیادتی سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا مقصد یہی تھا کہ ان کی تباہی اور ہلاکت میں کچھ کمی نہ رہ جائے اور یہ واقعہ ہے کہ ضلالت کی زیادتی ہلاکت کا سبب اور علت موجبہ ہے۔ بہرحال انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے نافرمان اور دین حق کی مخالفت کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہوا۔ الحمد للہ والمنۃ تم تفسیر سورة النوح یوم الاثنین لست وعشرین من ربیع الثانی 1375 ھ مطابق 12 دسمبر 1955