Surat Nooh

Surah: 71

Verse: 7

سورة نوح

وَ اِنِّیۡ کُلَّمَا دَعَوۡتُہُمۡ لِتَغۡفِرَ لَہُمۡ جَعَلُوۡۤا اَصَابِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَ اسۡتَغۡشَوۡا ثِیَابَہُمۡ وَ اَصَرُّوۡا وَ اسۡتَکۡبَرُوا اسۡتِکۡبَارًا ۚ﴿۷﴾

And indeed, every time I invited them that You may forgive them, they put their fingers in their ears, covered themselves with their garments, persisted, and were arrogant with [great] arrogance.

میں نے جب کبھی انہیں تیری بخشش کے لئے بلایا انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا اور اڑ گئے اور پھر بڑا تکبر کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي اذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ ... And verily, every time I called unto them that You might forgive them, they thrust their fingers into their ears, covered themselves up with their garments, meaning, `they closed up their ears so that they could not hear what I was calling them to.' This is similar to what Allah said about the disbelievers of the Quraysh. وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لاَ تَسْمَعُواْ لِهَـذَا الْقُرْءَانِ وَالْغَوْاْ فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ And those who disbelieve say: "Listen not to this Qur'an, and make noise in the midst of its (recitation) that you may overcome." (41:26) وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ covered themselves up with their garments, Ibn Jarir recorded from Ibn `Abbas that he said, "They concealed themselves under false pretences from him so that he would not recognize them." Sa`id bin Jubayr and As-Suddi both said, "They covered their heads so that they could not hear what he was saying." ... وَأَصَرُّوا ... and persisted, meaning, they continued in what they were upon of associating partners with Allah and great disbelief. ... وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا and magnified themselves in pride. meaning, they were turned away from following the truth and submitting to it. ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔ 7۔ 2 تاکہ میری آواز سن سکیں۔ تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں 7۔ 3 یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔ 7۔ 4 قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] یعنی اگر وہ اللہ پر ایمان لے آئیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں تو اللہ یقیناً ان کے گناہ معاف کردے گا۔ لیکن ان بدبختوں نے میری بات سننا بھی گوارا نہ کیا۔ بلکہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور دوسرا کام وہ یہ کرتے ہیں کہ جہاں کہیں مجھے دیکھتے ہیں اپنا منہ ڈھانپ لیتے ہیں کہ میں انہیں دیکھ کر بلا نہ لوں یا پھر انہیں مجھ سے اتنی نفرت ہے کہ وہ میری شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے اور اپنے منہ پر کپڑا ڈال لیتے ہیں۔ یہ ہے ان کی ضد اور نفرت کی انتہا انہوں نے تو تیرے احکام کے سامنے اکڑ جانے میں حد کردی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) وانی کلما دعوتھم لتغفرلھم…: اس آیت میں تھوڑا سا حصہ حذف ہے، یعنی میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ ایمان لے آئیں، تاکہ اس کے نتیجے میں) تو انہیں معاف فرما دے تو انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، منہ سر کپڑوں میں لپیٹ لئے اور اپنی بات پر اڑ گئے …۔ یعنی ان کے پاس نوح (علیہ السلام) کی دعوت کو رد کرنے کا کوئی جواز نہ تھا اور نہ ہی آپ کے دلائل کا سامنا کرنے کی ہمت تھی، ادھر وہ شرک چھوڑنے پر بھی تیار نہیں تھے اور نہ اپنی بڑائی سے دستبردار ہونے پر تیا تھے۔ نوح علیہ اسللام کی بات ماننے میں ان کی سرداری، بڑائی اور چودھراہٹ میں فرق آتا تھا، اس لئے ان کی کوشش یہ تھی کہ نوح (علیہ السلام) کی بات کانوں میں پڑے اور نہ ان کی نظر ان پر پڑے۔ غرض کسی صورت بھی ان سے آمنا سامنا نہ ہونے پائے، مباداوہ پھر تبلیغ شروع رک دیں، اسلئے جیسے بھی ہو سکے ہر صورت منہ سر چھپا کر ان کے پاس سے نکل جائیں۔ (٢) واستکبروا استکباراً : نوح (علیہ السلام) کی قوم کا تکبر یہ تھا کہ انہوں نے حق بات ماننے سے انکار کردیا تھا۔ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، (لایدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبیر، قال رجل ان الرجل یحب ان یکون ثوبہ حسناً ونعلہ حسنۃ، قال ان اللہ جمیل یحب الجمال الکبر بطر الحق وغمط الناس) (مسلم، الایمان، بابا تحریم الکبر و بیانہ : ٩١)” جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ “ ایک آدمی نے کہا :” آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو (تو کیا یہ بھی تکبر ہے ؟ ) “ ایک آدمی نے کہا ” آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوت ا اچھا ہو (تو کیا یہ بھی تکبر ہے ؟ ) “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :”(یہ تکبر نہیں) اللہ خوبصورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو حق سے انکار کردینا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنِّىْ كُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَ لَہُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَہُمْ فِيْٓ اٰذَانِہِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَہُمْ وَاَصَرُّوْا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا۝ ٧ ۚ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ أصبع الإصبع : اسم يقع علی السلام ي والظفر والأنملة والأطرة والبرجمة معا، ويستعار للأثر الحسيّ فيقال : لک علی فلان إصبع کقولک : لک عليه يد . ( ا ص ب ع ) الاصبع ( انگلی ) کا لفظ انگلی کی ہڈی ناخن بالائی سراخم اور جوڑ کے مجموعہ پر بولا جاتا ہے ۔ اور بطور استعارہ ظاہری احسان کے معنی میں آتا ہے چناچہ لک علیہ ید کی طرح لک علی فلان اصبع کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے أذن (کان) الأذن : الجارحة، وشبّه به من حيث الحلقة أذن القدر وغیرها، ويستعار لمن کثر استماعه وقوله لما يسمع، قال تعالی: وَيَقُولُونَ : هُوَ أُذُنٌ قُلْ : أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ [ التوبة/ 61] أي : استماعه لما يعود بخیرٍ لكم، وقوله تعالی: وَفِي آذانِهِمْ وَقْراً [ الأنعام/ 25] إشارة إلى جهلهم لا إلى عدم سمعهم . ( اذ ن) الاذن کے معنی کان کے ہیں اور تشبیہ کے طور پر ہنڈیا کی کو روں کو اذن القدر کہا جاتا ہے اور استعارہ کے طور پر ہر اس شخص پر اذن کا لفظ بولاجاتا ہے ۔ جو ہر ایک کی بات سن کر اسے مان لیتا ہو ۔ چناچہ فرمایا :۔ { وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ } ( سورة التوبة 61) اور کہتے ہیں یہ شخص زا کان ہے ان سے ) کہدو کہ وہ کان ہے تو تمہاری بھلائی کے لئے ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَفِي آذَانِهِمْ وَقْرًا } ( سورة الأَنعام 25) اور انکے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے ۔ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ بہرے ہوگئے ہیں بلکہ اس سے انکی جہالت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے ۔ غشي غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] ( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ۔ ثوب أصل الثَّوْب : رجوع الشیء إلى حالته الأولی التي کان عليها، أو إلى الحالة المقدّرة المقصودة بالفکرة، وهي الحالة المشار إليها بقولهم : أوّل الفکرة آخر العمل «2» . فمن الرجوع إلى الحالة الأولی قولهم : ثَابَ فلان إلى داره، وثَابَتْ إِلَيَّ نفسي، وسمّي مکان المستسقي علی فم البئر مَثَابَة، ومن الرجوع إلى الحالة المقدرة المقصود بالفکرة الثوب، سمّي بذلک لرجوع الغزل إلى الحالة التي قدّرت له، وکذا ثواب العمل، وجمع الثوب أَثْوَاب وثِيَاب، وقوله تعالی: وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] ( ث و ب ) ثوب کا اصل معنی کسی چیز کے اپنی اصلی جو حالت مقدمہ اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ جانا کے ہیں ۔ چناچہ حکماء کے اس قول اول الفکرۃ اٰخرالعمل میں اسی حالت کی طرف اشارہ ہے یعنی آغاز فکر ہی انجام عمل بنتا ہے ۔ چناچہ اول معنی کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ۔ شاب فلان الی درہ ۔ فلاں اپنے گھر کو لوٹ آیا ثابت الی نفسی میری سانس میری طرف ہوئی ۔ اور کنوئیں کے منہ پر جو پانی پلانے کی جگہ بنائی جاتی ہے اسے مثابۃ کہا جاتا ہے اور غور و فکر سے حالت مقدرہ مقصود تک پہنچ جانے کے اعتبار سے کپڑے کو ثوب کہاجاتا ہے کیونکہ سوت کاتنے سے عرض کپڑا بننا ہوتا ہے لہذا کپڑا بن جانے پر گویا سوت اپنی حالت مقصود ہ کی طرف لوٹ آتا ہے یہی معنی ثواب العمل کا ہے ۔ اور ثوب کی جمع اثواب وثیاب آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] اپنے کپڑوں کو پاک رکھو ۔ صر الْإِصْرَارُ : التّعقّد في الذّنب والتّشدّد فيه، والامتناع من الإقلاع عنه . وأصله من الصَّرِّ أي : الشّدّ ، والصُّرَّةُ : ما تعقد فيه الدّراهم، والصِّرَارُ : خرقة تشدّ علی أطباء الناقة لئلا ترضع . قال اللہ تعالی: وَلَمْ يُصِرُّوا عَلى ما فَعَلُوا[ آل عمران/ 135] ، ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِراً [ الجاثية/ 8] ، وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْباراً [ نوح/ 7] ، وَكانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيمِ [ الواقعة/ 46] ، والْإِصْرَارُ : كلّ عزم شددت عليه، يقال : هذا منّي صِرِّي، وأَصِرِّي وصِرَّى وأَصِرَّى وصُرِّي وصُرَّى أي : جدّ وعزیمة، والصَّرُورَةُ من الرّجال والنساء : الذي لم يحجّ ، والّذي لا يريد التّزوّج، وقوله : رِيحاً صَرْصَراً [ فصلت/ 16] ، لفظه من الصَّرِّ ، وذلک يرجع إلى الشّدّ لما في البرودة من التّعقّد، والصَّرَّةُ : الجماعة المنضمّ بعضهم إلى بعض كأنّهم صُرُّوا، أي : جُمِعُوا في وعاء . قال تعالی: فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ [ الذاریات/ 29] ، وقیل : الصَّرَّةُ الصّيحةُ. ( ص ر ر ) الاصرار کسی گناہ پر سختی ہے جم جانا اور اس سے باز نہ آنا اصل میں یہ صر سے ہے جس کے معنی باندھنے کے ہیں اور صرۃ اس تھیلی کو کہتے ہیں جس میں نقدی باندھ کر رکھ دی جاتی ہے اور صرار ( پستان بند ) اس لتہ کو کہتے ہیں جس سے اونٹنی کے تھن باندھ دیئے جاتے ہیں تاکہ اس کا بچہ دودھ نہ پی سکے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلى ما فَعَلُوا[ آل عمران/ 135] اور وہ اپنی غلطی پر اصرار نہیں کرتے ۔ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلى ما فَعَلُوا[ آل عمران/ 135] مگر پھر غرور سے ضد کرتا ہے ۔ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْباراً [ نوح/ 7] اور اڑگئے اور اکڑبیٹھے ۔ وَكانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيمِ [ الواقعة/ 46] اور گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے ۔ الاصرار : پختہ عزم کو کہتے ہیں محاورہ ہے ھذا منی صری واصری وصری وصری وصری وصریٰ ۔ وہ مرد یا عورت جو جج نہ کرے وہ شخص جسے نکاح کی کو اہش نہ ہو اور آیت کریمہ : ۔ رِيحاً صَرْصَراً [ فصلت/ 16] زور کی ہوا ( چلائی ) میں صر صر کا لفظ صر سے ہے گویا سخت سرد ہونے کی وجہ سے اس میں پستگی پائی جاتی ہے الصرۃ جماعت جس کے افراد باہم ملے جلے ہوں گویا وہ کسی تھیلی میں باندھ دیئے گئے ہیں قرآن میں ہے فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ [ الذاریات/ 29] ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی چلاتی آئی ۔ بعض نے کہا ہے کہ صرۃ کے معنی چیخ کے ہیں ۔ الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] . ( ک ب ر ) کبیر اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کہر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔ الاستکبار ( استفعال ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو ۔ جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا ) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مذموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

میں نے جب کبھی توبہ اور توحید کی طرف بلایا تاکہ اس کی وجہ سے آپ ان کو بخش دیں تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں تاکہ میری بات اور دعوت کو نہ سنیں اور اپنے سروں کو اپنے کپڑوں سے چھپا لیا تاکہ مجھے نہ دیکھیں اور نہ میری آواز سنی اور کفر اور بتوں کی پرستش پر جمے رہے اور سب نے ایک آواز ہو کر کہا اے نوح ہم تیرے اوپر ایمان نہیں لائیں گے اور ایمان و توبہ سے غایت درجہ کا تکبر کیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧{ وَاِنِّیْ کُلَّمَا دَعَوْتُہُمْ لِتَغْفِرَلَہُمْ جَعَلُوْٓا اَصَابِعَہُمْ فِیْٓ اٰذَانِہِمْ } ” اور میں نے جب بھی انہیں پکارا تاکہ تو ان کی مغفرت فرما دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں “ { وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَہُمْ } ” اور اپنے کپڑے بھی اپنے اوپر لپیٹ لیے “ { وَاَصَرُّوْا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا ۔ } ” اور وہ ضد پر اَڑ گئے ‘ اور انہوں نے استکبار کیا بہت بڑا استکبار۔ “ اَصَرَّ یُصِرُّ اِصْرَارًاکے معنی اپنی روش پر اَڑ جانے کے ہیں۔ کفر کی روش پر اَڑ جانے اور جم جانے کے علاوہ ان کا رویہ اپنے رسول (علیہ السلام) کے ساتھ از حد متکبرانہ تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم کیسے آپ کو اپنا پیشوا تسلیم کرلیں جبکہ نچلے درجے کے رذیل قسم کے لوگ آپ کے متبعین ہیں !۔۔۔۔ - اردو میں لفظ اصرار اسی معنی میں مستعمل ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 "That you might pardon them": that they might give up their attitude of disobedience and beg forgiveness of Allah, for in that way alone they could be forgiven by Allah. 10 They covered their faces either because they did not even like to have a look at the Prophet Noah's face, not to speak of listening to what he said, or they did so in order to hide their own faces from him as they passed by him so that he could not recognize and address them. This precisely was the attitude and conduct which the disbelievers of Makkah were adopting towards the Holy Prophet (upon whom be peace) . In Surah Hud: 5, their attitude has been described thus: "Behold, they turn aside their chests in order to hide themselves from him: Beware, even when they cover themselves up with their garments, Allah knows alike what they hide and what they show; He indeed knows even the secrets they conceal in their breasts." (For explanation, see E.N, 5, 6 of Hud) . 11 "Arrogance" implies that they thought it was below their dignity to bow before the Truth and accept the admonition of Allah's Messenger. As for example, if a gentlmen admonishes a perverted person and he, in response, shakes his head and walks away haughtily, this would amount to rejecting the admonition with arrogance.

سورة نُوْح حاشیہ نمبر :9 اس میں خود بخود یہ مضمون شامل ہے کہ وہ نافرمانی کی روش چھوڑ کر معافی کے طلب گار ہوں ، کیونکہ اسی صورت میں ان کو اللہ تعالی سے معافی مل سکتی تھی ۔ سورة نُوْح حاشیہ نمبر :10 منہ ڈھانکنے کی غرض یا تو یہ تھی کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام کی بات سننا تو درکنار ، آپ کی شکل بھی دیکھنا پسند نہ کرتے تھے ، یا پھر یہ حرکت وہ اس لیے کرتے تھے کہ آپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے منہ چھپا کر نکل جائیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ آپ انہیں پہچان کر ان سے بات کرنے لگیں ۔ یہ ٹھیک وہی طرز عمل تھا جو کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اختیار کر رہے تھے ۔ سورہ ہود آیت 5 میں ان کے اس رویے کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے ۔ دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ رسول سے چھپ جائیں ۔ خبردار جب یہ اپنے آپ کو کپڑوں سے ڈھانکتے ہیں تو اللہ ان کے کھلے کو بھی جانتا ہے اور چھپے کو بھی ، وہ تو دلوں کی پوشیدہ باتوں سے بھی واقف ہے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، ہود ، حواشی 5 ۔ 6 ) ۔ سورة نُوْح حاشیہ نمبر :11 تکبر سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے حق کے آگے سر جھکا دینے اور خدا کے رسول کی نصیحت قبول کر لینے کو اپنی شان سے گری ہوئی بات سمجھا ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بھلا آدمی کسی بگڑے ہوئے شخص کو نصیحت کرے اور وہ جواب میں سر جھٹک کر اٹھ کھڑا ہو اور پاؤں پٹختا ہوا نکل جائے تو یہ تکبر کے ساتھ کلام نصیحت کو رد کرنا ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

################

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(71:7) وانی کلما دعوتھم لتغفرلہم : واؤ عاطفہ ہے کلما یہ لفظ مرکب ہے کل اور ما سے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے۔ کلما جب بھی، جس وقت بھی۔ لتغفر میں لام سببیہ ہے۔ بمعنی تاکہ : تغفر۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر حاضر۔ غفر (باب ضرب) مصدر سے۔ لہم ان کا۔ ترجمہ :۔ تاکہ تو ان کو بخش دے۔ یا معاف کر دے۔ (1) جعلوا اصابعہم فی اذانھم (تو لگے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسنے) (2) واستغشو اثیابھم (اور لگے اپنے اوپر کپڑوں کو لپیٹنے) (3) واصروا۔ (اور ضد کرنے لگے) (4) واستکبروا استکبارا۔ (اور بڑا گھمنڈ کرنے لگے) یہ چاروں جملے کلما دعوتھم کے جواب میں ہیں۔ اصابعھم : مضاف مضاف الیہ۔ مفعول جعلوا کا۔ اصابع جمع اصبع کی اپنی انگلیاں۔ استغشوا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب استغشاء (استفعال) مصدر بمعنی اپنے اوپر پردہ ڈال لینا۔ اپنے آپ کو کپڑے میں لپیٹ لینا۔ غشو، غشی مادہ۔ غشیہ غشاوۃ وغشائ : اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے۔ غشاوۃ (اسم) پردہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے۔ جیسے کہ قرآن مجید میں ہے وعلی ابصارھم غشاوۃ (2:7) اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ اور وتغشی وجوہہم النار (14:5) اور ان کے چہروں کو آگ لپٹ رہی ہوگی۔ اصروا ماضی جمع مذکر غائب اصرار (افعال) مصدر۔ انہوں نے ضد کی ۔ انہوں نے اصرار کیا۔ استکبروا ماضی جمع مذکر غائب استکبار (استفعال) مصدر بمعنی گھمنڈ کرنا۔ تکبر کرنا استکبارا مفعول مطلق تاکید کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اور بڑا گھمنڈ کرنے لگے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دشمنی پر کمر باندھ لی۔10 یعنی کفر و شرک کو چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وانی کلما ........................ استکبار (١٧ : ٧) ” اور جب بھی میں ان نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کردے ، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا “۔ یہ ہے انداز داعی حق کا کہ وہ اپنی دعوت پر اصرار کرتا ہے او جونہی اور جب بھی اسے موقعہ ملے وہ کلمہ حق کہہ دیتا ہے جبکہ اہل کفر کے اصرار کی بھی یہ ایک مثال ہے کہ جب وہ ہٹ دھرمی پر اترآئیں تو منہ بھی چھپالیتے ہیں۔ اس دعوت اور اس انکار سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی ایام میں جبکہ بشریت عہد طفولیت میں تھی۔ دعوت کے شب وروز کیا تھے کہ لوگ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے اور سروں کو چادروں میں چھپا لیتے تھے۔ انداز تعبیر سے لوگوں کا کافرانہ طرز عمل ظاہر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ یہ انگلیوں کو کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں۔ پوری انگلیاں تو کانوں میں نہیں ٹھونسی جاتیں مگر یہ مبالغہ کے لئے کہا گیا کہ وہ کانوں کو یوں بند کررہے ہیں کہ آواز کسی طرح بھی ان کے کانوں تک نہ پہنچ سکے۔ گویا یہ کوشش کررہے تھے کہ پوری انگلی کو کانوں میں ٹھونس لیں۔ یہ سخت اصرار اور ہٹ دھرمی کی شکل ہے اور ابتدائی ادوار میں یہی صورت حالات تھی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) اور میں نے جب بھی ان کو ایمان اور دین حق کی طرف بلایا تاکہ آپ ان کو ایمان کی وجہ سے بخش دیں اور ان کے ایمان لانے کے سبب ان کی مغفرت فرمادیں تو انہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے اپنے اوپر اوڑھ کر سب طرف سے لپیٹ لئے اور اپنی کافرانہ روش پر اصرار کیا اور انتہائی تکبر کا اظہار کیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کپڑا اوڑھنے لگے کہ اس کی بات ہمارے دل میں نہ لگ جائے۔ خلاصہ : یہ کہ میں نے جب بھی ان کو بلایا اور کسی اجتماع میں ان کے جاپہنچا تو انہوں نے اپنے ککانوں میں انگلیاں دے لیں اور اوپر سے کپڑے اوڑھ لئے کہ وہ مجھ کو نہ دیکھیں اور میں ان کو نہ دیکھوں یا کسی وقت بےخیالی میں کانوں سے انگلیاں نکل جائیں تو کپڑا آواز کو روکے یا شاید ان کے الفاظ کا اثر ہمارے جس میں نہ ہوجائے اور جسم سے دل میں ان کی بات نہ اتر جائے اور اپنی ضد اور اپنے کفر پر اڑے رہے اور انتہائی تکبر کا برتائو کیا۔