Surat Nooh

Surah: 71

Verse: 8

سورة نوح

ثُمَّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُہُمۡ جِہَارًا ۙ﴿۸﴾

Then I invited them publicly.

پھر میں نے انہیں با آواز بلند بلایا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then verily, I called to them openly. meaning, openly among the people.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ثم انی دعوتھم جھاراً …: جب ان کے کانوں میں انگلیاں لے لینے اور منہ سر کپڑوں میں چھپا لینے تک نوبت پہنچ گئی تو پھر بھی میں نے انہیں سمجھانا نہیں چھوڑا، بلکہ پھر انہیں مزید بلند آواز سے دعوت دی۔ پھر انہیں کھلم کھلا مجمع عام میں بھی سمجھایا اور لوگوں سے چھپا کر ایک ایک کو نجی طور پر بھی سمجھایا، غرض جس طرح دن رات ہر وقت دعوت دی جاسکتی تھی، اسی طرح ہر طریقے سے دعوت دی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ثُمَّ اِنِّىْ دَعَوْتُہُمْ جِہَارًا۝ ٨ ۙ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ جهر جَهْر يقال لظهور الشیء بإفراط حاسة البصر أو حاسة السمع . أمّا البصر فنحو : رأيته جِهَارا، قال اللہ تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] ، أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153] ( ج ھ ر ) الجھر ( ف) اس کے اصل معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں چناچہ حاسہ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق کہا جاتا ہے رایتہ جھرا کہ میں نے اسے کھلم کھلا دیکھا قرآن میں ہے :۔ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] کہ جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں تم پر ایمان نہیں لائیں گے ۔ أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153] ہمیں نمایاں اور ظاہر طور پر خدا دکھا دو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨۔ ١٠) پھر میں نے بآواز بلند ان کی دعوت دی اور کھول کھول کر سمجھایا اور ان کو خفیہ طور پر بھی سمجھایا اور میں نے ان سے کہا کہ تم اپنے پروردگار کی توحید کے قائل ہوجاؤ کیونکہ جو کفر سے توبہ کرے اور اس پر ایمان لائے وہ اسے بڑا بخشنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(71:8) ثم حرف عطف ہے، ماقبل سے بعد کے متأخر ہونے پر دلالت کرتا ہے خواہ یہ متاخر ہونا وقتی لحاظ سے ہو (تراخی فی الوقت) خواہ رتبہ (ترتیب) کے لحاظ سے (التراخی فی الرتبہ) ۔ بصورت اول اس کے معنی ہوں گے پھر، اس کے بعد ، صورت دوم میں اس سے بھی بڑھ کر معنی ہوں گے۔ صورت اول کی مثال :۔ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحیکم ثم الیہ ترجعون (2:28) اور تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی۔ پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم لوٹ جاؤ گے۔ صورت دوم کی مثال :۔ حضرت علی کا شعر ہے :َ فعار ثم عار ثم عار شقاء المرء من اکل الطعام۔ (شرم کی بات ہے بہت شرم کی بات ہے بہت ہی شرم کی بات ہے : کہ آدمی کھانا کھا کر بیمار ہوجائے) ۔ صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ لفظ ثم کا اس جگہ استعمال دعوت کے مختلف طریقوں پر دلالت کرتا ہے کیونکہ سری دعوت سے جہری دعوت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اور صرف سری یا صرف جہری دعوت سے سری اور جہری دعوت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اس طرح ہر (ترتیبی) صورت اول صورت سے بعد کو آتی ہے۔ جھارا : جھر یجھر (باب فتح) کا مصدر سے ۔ پکارنا۔ بلند آواز کرنا۔ کھلم کھلا برملا۔ مصدر۔ موضع حال میں ہے ای مجاھرا ترجمہ ہوگا :۔ پھر میں نے ان کو کھلم کھلا بھی بلایا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ مراد اس سے وعظ و خطاب عام ہے جس میں عادة آواز بلند ہوتی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” ثم انی دعوتہم “ عموم وقت کے بعد عموم کیفیت کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح میں نے دعوت کے لیے کوئی وقت نہیں چھوڑا اسی طرح میں نے دعوت و تبلیغ کا ہر طریقہ اور ہر انداز اختیار کیا تاکہ وہ کسی نہ کسی طرح مان لیں۔ چناچہ میں نے منادی کے ذریع ان کو ایک جگہ جمع کر کے بھی ان کے سامنے دعوت توحید پیش کی۔ ” ثم انی اعلنت لہم “ پھر ان کی بھری مجلسوں میں خود جا جا کر بھی ان کو سمجھایا۔ ” واسررت لہم اسرارا “ پھر ایک ایک کو فرداً فرداً سمجھانے کی بھی کوشش کی۔ میں نے دعوت و تبلیغ میں ترغیب و ترہیب سے بھی کام لیا اور عقلی دلائل سے بھی مسئلہ واضح کیا مگر اس کے باوجود وہ ایمان نہیں لاتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) مگر باوجود ان کے متکبرانہ برتائو کے پھر بھی میں نے ان کو دین حق کی طرف بآواز بلند بلایا۔