Surat ul Muzammil

Surah: 73

Verse: 5

سورة المزمل

اِنَّا سَنُلۡقِیۡ عَلَیۡکَ قَوۡلًا ثَقِیۡلًا ﴿۵﴾

Indeed, We will cast upon you a heavy word.

یقیناً ہم تجھ پر بہت بھاری بات عنقریب نازل کریں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, We shall send down to you a Word Thaqil. Al-Hasan and Qatadah both said, "The actions with it." It has also been said that it means it will be heavy at the time of its revelation due to its magnificence. This is similar to what Zayd bin Thabit said. He said, "The Messenger of Allah received some revelation while his thigh was on top of my thigh, and my thigh was almost crushed due to it." Imam Ahmad recorded from `Abdullah bin `Amr that he said, "I asked the Prophet, `O Messenger of Allah! Do you feel anything when revelation comes (to you)' The Messenger of Allah replied, أَسْمَعُ صَلَصِلَ ثُمَّ أَسْكُتُ عِنْدَ ذَلِكَ فَمَا مِنْ مَرَّةٍ يُوحَى إِلَيَّ إِلاَّ ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسِي تُقْبَض I hear a ringing and then I remain quiet when that occurs. There has not been a single time that revelation has come to me except that I thought that my soul was about to be taken (death). Ahmad was alone in narrating this. In the beginning of Sahih Al-Bukhari, it is recorded from `A'ishah that Al-Harith bin Hisham asked the Messenger of Allah, "How does the revelation come to you" The Prophet replied, أَحْيَانًا يَأْتِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًأ فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُول Sometimes it comes to me like the ringing of a bell, and it is most severe upon me. Then this state passes away from me after I have grasped what is inspired. Sometimes the angel comes to me in the form of a man and talks to me and I grasp whatever he says. `A'ishah added, "Verily, I saw him receiving revelation and I noticed the sweat dropping from his forehead on a very cold day as the revelation ended." This is the wording recorded by Al-Bukhari. Imam Ahmad recorded from `A'ishah that she said, "If the Messenger of Allah received any revelation while he was on his riding animal, it would begin moving its Jiran intensely." The Jiran is the bottom of the neck. Ibn Jarir chose the interpretation that it (the revelation) is heavy in both ways simultaneously. This is as `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "Just as it is heavy in this world, it will also be heavy on the Day of Judgement in the Scales." The Virtue of standing at Night for Prayer Allah says, إِنَّ نَاشِيَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْءًا وَأَقْوَمُ قِيلً

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 رات کا قیام چونکہ نفس انسانی کے لئے بالعموم گراں ہے، اس لئے یہ جملہ خاص طور پر فرمایا کہ ہم اس سے بھی بھاری بات تجھ پر نازل کریں گے، یعنی، قرآن، جس کے احکام و فرائض پر عمل، اس کی حدود کی پابندی اور اس کی تبلیغ اور دعوت، ایک بھاری جانفسانی کا عمل ہے۔ بعض نے ثقالت سے وہ بوجھ مراد لیا ہے جو وحی کے وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پڑتا تھا جس سے سخت سردی میں بھی آپ پسینے سے شرابور ہوجاتے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] عظیم ذمہ داری کیا ہے :؟ بھاری کلام سے مراد وہ احکام ہیں جو معاشرہ میں انقلاب کے سلسلہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیئے جانے والے تھے۔ سب سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود ان احکام پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کے سامنے عملی نمونہ پیش کرنا تھا پھر اس دعوت کو ساری دنیا کے سامنے پیش کرنا اور ان کے مقابلہ میں اٹھنا تھا۔ مشرکانہ عقائد کے خلاف اور جاہلی تہذیب و تمدن کے خلاف جہاد کرنا تھا۔ صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن معاشرہ میں محبت و موانست اور بھائی بندی کی فضا پیدا کرنا تھی۔ پھر انہی کو متحد کرکے پوری دنیائے کفر سے ٹکر لینا تھی اور اللہ کی مہربانی اور مدد کے ساتھ دین اسلام کو تمام ادیان باطلہ کے مقابلہ میں غالب کرنا تھا۔ یہ تھیں وہ عظیم ذمہ داریاں جن کی آپ کو ( اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا ۝) 73 ۔ المزمل :5) کے ذریعہ اطلاع دی گئی اور اسی فریضہ کی تربیت کے سلسلہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات کا ایک حصہ اللہ کی عبادت میں گزارنے کا حکم دیا گیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) انا سنلقی علیک…: اس آیت میں اور اس کے بعد والی دو آیتوں میں رات کے قیام کے حکم کی حکمت بیان فرمائی گئی ہے کہ وحی الٰہی کا بھاری بوجھ اٹھانے کی استعداد پیدا کرنے کے لئے رات کا قیام اور اس میں پورے غور و فکر کے ساتھ قرآن کی تلاوت نہایت ضروری ہے۔ (٢) قولاً ثقیلاً “ (بھاری کلام) سے مراد وحی الٰہی ہے جو اترتے وقت بھی بھاری ہے، ہر کلام اور ہر چیز سے بھاری ہے، اس پر عمل بھاری ہے اور اسے تمام دنیا تک پہنچانے کا فریضہ بھی بہت بھاری ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے :(١) نزول وحی کے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بہت بوجھ پڑتا تھا، جسے برداشتک رنا آپ پر بہت بھاری تھا۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ سخت سردی کے دن آپ پر وحی نازل ہوتی اور جب وہ حالت ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی سے پسینا ٹپک رہا ہوتا۔ (بخاری، بدہ الوحی، باب کیف کان بدء الوحی …: ٢) زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوئی تو آپ کی ران میری ران پر تھی، آپ کی ران کا اتنا بوجھ تھا، قریب تھا کہ وہ میری ران کو کچل دے۔ (دیکھیے بخاری : ٢٨٣٢) عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹنی پر سوار ہوتے، آپ پر وحی اترتی تو اونٹنی زمین پر گردن رکھ دیتی۔ (دیکھیے سمند احمد : ٦/١١٨، ح : ٢٣٨٢١) (٢) یہ کلام دوسرے تمام کلام سے بھایر ہے، ب اقی سب کلام اس کے مقابلے میں ہی ہیں۔ (٣) اس کے احکام پر عمل کرنا بھاری ہے۔ فرئاض پنج گانہ اور دوسرے احکام بجا لانا اور اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرنا نفس پر بہت بھاری ہے۔ (٤) یہ اس لئے بھی بھاری ہے کہ اسے تمام دنیا کے لوگوں تک پہنچانے کا حکم ہے جو نہایت دشوار کام ہے۔ اس کے لئے آپ کو لوگوں کی مخالفت طعن و ملامت ، ٹھٹھا و مذاق، گالی گلوچ، جسمانی ایذا، قتل کی سازشیں اور ہجرت و جہاد سب کچھ برداشت کرنا ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا (&We are going to send down to you a weighty discourse... 73:5) & The word thagil means &heavy& and the phrase &weighty discourse& refers to the Qur&an, because the Qur&anic teachings of lawful and unlawful are permanently binding and carrying them out is the weightiest task for human nature, except those for whom Allah makes it easier. According to oft-quoted Ahadith, whenever a revelation descended upon the Holy Prophet t, he went into a trance and felt a peculiar sensation, so that even on an extremely cold day drops of sweat fell from his forehead, and he felt his body has become heavier. The Qur&anic revelation being &a weighty discourse&, his paroxysm was due to this sensation. If the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) received revelation while he was on his riding animal, it would begin to move the bottom of its neck intensely. [ Bukhari and others ]. The verse under comment prescribes tahajjud prayer on man, so that he may become accustomed to the difficulty of waking at night. This is a struggle against excess sleep and comfort of the carnal self. This exercise will make it easier to abide by the injunctions contained in the &weighty discourse&, that is, the Holy Qur&an.

(آیت) اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًا ثقیل کے معنی بھاری کے ہیں اور قول ثقیل سے مراد قرآن ہے کیونکہ اس کے بیان کردہ حلال و حرام اور جائز اور ناجائز کے حدود کی دائمی پابندی طبعی طور پر بھاری ہے بجز اس کے کہ جس کے لئے اللہ تعالیٰ اس کو آسان بنا دے اور قرآن کو قول ثقیل اس وجہ سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس کے نزول کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک خاص وزن اور شدت محسوس فرماتے تھے جس سے سخت سردی کے زمانے میں بھی آپ کی پیشانی پیسینہ پسینہ ہوجاتی تھی اور اگر اس وقت کسی اونٹنی پر سوار ہیں تو وہ اس کے بوجھ سے اپنی گردن ڈال دیتی تھی جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر شاہد ہیں (صحیح بخاری وغیرہ) اس آیت میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ نماز تہجد کا حکم اسلئے دیا گیا کہ انسان مشقت اٹھانے کا خوگر بنے۔ یہ رات کو نیند کے غلبہ اور نفس کی راحت کے خلاف ایک جہاد ہے اس کے ذریعہ ثقیل بوجھ احکام کی برداشت آسان ہوجائے گی جو قرآن میں نازل ہونے والے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّا سَـنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَـقِيْلًاٍ ٥ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ ثقل الثِّقْل والخفّة متقابلان، فکل ما يترجح علی ما يوزن به أو يقدّر به يقال : هو ثَقِيل، وأصله في الأجسام ثم يقال في المعاني، نحو : أَثْقَلَه الغرم والوزر . قال اللہ تعالی: أَمْ تَسْئَلُهُمْ أَجْراً فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ [ الطور/ 40] ، والثقیل في الإنسان يستعمل تارة في الذم، وهو أكثر في التعارف، وتارة في المدح ( ث ق ل ) الثقل یہ خفۃ کی ضد ہے اور اس کے معنی بھاری اور انبار ہونا کے ہیں اور ہر وہ چیز جو وزن یا اندازہ میں دوسری پر بھاری ہو اسے ثقیل کہا جاتا ہے اصل ( وضع ) کے اعتبار سے تو یہ اجسام کے بھاری ہونے پر بولا جاتا ہے لیکن ( مجاز ) معانی کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے : ۔ اسے تادان یا گناہ کے بوجھ نے دبالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ تَسْئَلُهُمْ أَجْراً فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ [ الطور/ 40] اے پیغمبر ) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تادان کا بوجھ پڑرہا ہے ، اور عرف میں انسان کے متعلق ثقیل کا لفظ عام طور تو بطور مذمت کے استعمال ہوتا ہے اور کبھی بطور مدح بھی آجاتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥۔ ٦) ہم تم پر بذریعہ جبریل امین ایک کلام نازل کرنے کو ہیں جو امر و نہی حلال و حرام وعد و وعید کے اعتبار سے سخت ہے، یا یہ کہ بھاری ہے یا یہ کہ جو اس کی مخالفت کرے اس کے لیے بھاری ہے یا یہ کہ رات کو نماز پڑھنے میں بھاری ہے۔ رات کو نماز کے لیے کھڑے ہونے میں آدمی کو نشاط حاصل ہوتا ہے جبکہ ثواب سمجھ کر پڑھے یا یہ کہ دل و زبان کا خوب میل ہوتا ہے اور قرآن کریم خوب صاف پڑھا جاتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥{ اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا ۔ } ” ہم عنقریب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ “ اس سے مراد رسالت (انذار و تبلیغ) کی ذمہ داری ہے ‘ جس کے بارے میں پہلا حکم سورة المدثر کی ابتدائی آیات میں آیا تھا۔ واضح رہے کہ سورة المزمل کی زیر مطالعہ آیات (غالباً ابتدائی نو آیات) تیسری وحی کی صورت میں نازل ہوئیں ‘ جبکہ اس کے بعد نازل ہونے والی چوتھی وحی سورة المدثر کی ابتدائی آیات پر مشتمل تھی۔ اس آیت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس عظیم ذمہ داری کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جس کا بوجھ عنقریب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کندھوں پر پڑنے والا تھا۔ اخلاق و کردار کے اعتبار سے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے ہی انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز تھے ‘ لیکن اب رسالت کی کٹھن ذمہ داریوں کے حوالے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزید ریاضت کرنے کی ہدایت کی گئی کہ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کا بیشتر حصہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہو کر قرآن مجید پڑھنے میں گزارا کریں اور اس طرح قرآن مجید کو زیادہ سے زیادہ اپنے اندر جذب کریں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 That is, "You are being commanded to stand up in the Night Prayer because We are going to send down on you a weighty word, to bear the burden of which you must develop necessary power in yourself, and you can develop this power only by abandoning your ease and comfort of the night and by standing up in the Prayer and passing half the night or thereabout in the worship of your Lord. "The Qur'an has been called a weighty Word also for the reason that acting on its commands, demonstrating its teaching practically, extending its invitation in the face of the whole world, and bringing about a revolution in the entire system of belief and thought, morals and manners, civilization and social life, according to it, is indeed the weightiest task any human being ever has been charged with: It has been called a weighty Word also because bearing the burden of its revelation was a difficult and heavy duty. Hadrat Zaid bin Thabit says: "Once Revelation came down upon the Holy Prophet (upon whom be peace) in a state when he was resting his head upon my knee. I felt such a pressure of the weight on my knee that I thought it would break." Hadrat `A`ishah says: "I have seen the state of the Holy Prophet's receiving Revelation during intense cold, drops of perspiration started falling from his forehead." (Bukhari, Muslim, Malik, Tirmidhi, Nasa'i) : In another tradition Hadrat `A`ishah has stated: "Whenever Revelation came down on the Holy Prophet (upon whom be peace) while he was riding on his she-camel, the she-camel would be forced to rest her chest on the ground and could not move until the Revelation was over." (Musnad Ahmad. Hakim, Ibn Jarir) .

سورة الْمُزَّمِّل حاشیہ نمبر :5 مطلب یہ ہے کہ تم کو رات کی نماز کا یہ حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ ایک بھاری کلام ہم تم پر نازل کر رہے ہیں جس کا بارا ٹھانے کے لیے تم میں اس کے تحمل کی طاقت پیدا ہونی ضروری ہے ، اور یہ طاقت تمہیں اسی طرح حاصل ہو سکتی ہے کہ راتوں کو اپنا آرام چھوڑ کر نماز کے لیے اٹھو اور آدھی آدھی رات یا کچھ کم و بیش عبادت میں گزارا کرو ۔ قرآن کو بھاری کلام اس بنا پر بھی کہا گیا ہے کہ اس کے احکام پر عمل کرنا ، اس کی تعلیم کا نمونہ بن کر دکھانا ، اس کی دعوت کو لے کر ساری دنیا کے مقابلے میں اٹھنا ، اور اس کے مطابق عقائد و افکار ، اخلاق و آداب اور تہذیب و تمدن کے پو رے نظام میں انقلاب برپا کر دینا ایک ایسا کام ہے جس سے بڑھ کر کسی بھاری کام کا تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ اور اس بنا پر بھی اس کو بھاری کلام کہا گیا ہے کہ اس کے نزول کا تحمل بڑا دشوار کام تھا ۔ حضرت زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اس حالت میں نازل ہوئی کہ آپ اپنا زانو میرے زانو پر رکھے ہوئے بیٹھے تھے ۔ میرے زانو پر اس وقت ایسا بوجھ پڑا کہ معلوم ہوتا تھا اب ٹوٹ جائے گا ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے سخت سردی کے زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے دیکھی ہے ، آپ کی پیشانی سے اس وقت پسینہ ٹپکنے لگتا تھا ( بخاری ، مسلم ، مالک ، ترمذی ، نسائی ) ۔ ایک اور روایت میں حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ جب کبھی آپ پر اس حالت میں وحی نازل ہوتی کہ آپ اونٹنی پر بیٹھے ہوں تو اونٹنی اپنا سینہ زمین پر ٹکا دیتی تھی اور اس وقت تک حرکت نہ کر سکتی تھی جب تک نزول وحی کا سلسلہ ختم نہ ہو جاتا ( مسند احمد ، حاکم ، ابن جریر ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: اس سے مراد قرآنِ کریم ہے۔ چونکہ یہ سورت ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی، اس لئے قرآنِ کریم کا بیشتر حصہ ابھی نازل ہونا باقی تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(73:5) انا سنلقی علیک قولا ثقیلا : انا مرکب ہے ان حرف مشبہ بالفعل سے اور نا ضمیر جمع متکلم سے۔ بیشک ہم۔ سنلقی : س مضارع پر داخل ہوکر مستقبل قریب کے معنی دیتا ہے۔ نلقی مضارع جمع متکلم القاء (افعال) مصدر سے۔ ہم عنقریب ڈالنے والے ہیں آپ پر ایک بھاری بات کا بوجھ۔ قولا ثقیلا : موصوف و صفت مشبہ۔ بھاری بات، مراد قرآن مجید ۔ بعض کے قول کے مطابق قولا ثقیلا سے مراد ہے نماز شب کا حکم۔ کیونکہ نماز شب نفس کے لئے بہت گراں ہے۔ اس تفسیر پر یہ جملہ سابق جملہ کی تاکید اور ضمیمہ ہے اور سنلقی میں س استقبال کے لئے نہیں ہے صرف تاکید کے لئے ہے۔ لغات القرآن میں اس سے مراد دعوت و تبلیغ اسلام لیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 14 شاہ صاحب فرماتے ہیں :” یعنی ریاضت کر تو بھاری بوجھ آسان ہو۔ “ مطلب یہ ہے کہ رات کو عبادت کر کے اپنے آپ کو سختی برداشت کرنے کا عادی بنایئے۔ آئندہ آپ پر قرآن اور تبلیغ کا گرانبار فریضہ ڈالا جانے والا ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں سردی کے موسم میں جب آپ پر وحی آتی تو آپ کی پیشانی پسینہ سے شرابور ہوجاتی۔ (بخاری)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نماز تہجد اور اس میں تلاوت قرآن کا فائدہ۔ نبوت کا فریضہ تمام کاموں سے مشکل ترین کام ہے کسب معاش اور گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ کسی لالچ کے بغیر دن، رات لوگوں کی خدمت کرنا بالخصوص انہیں توحید کی دعوت دینا اور شرک سے منع کرنا انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اس کے لیے انتہادرجے کی جفاکشی اور بڑے صبر و حوصلہ کی ضرورت ہے، صبر و حوصلہ اور جفاکش بننے کے لیے آدھی رات کو اٹھ کر مصلّے پر کھڑا ہونا اور غور وفکر کرتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اپنے نفس پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔ بشرطیکہ اسے صرف عادت اور عبادت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے احتساب اور تربیت کے لیے بھی پڑھا جائے، پھر کوئی وجہ نہیں کہ تہجد گزار شخص میں حوصلہ اور ضبط نفس نہ پایا جائے اسی لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا گیا کہ آپ رات کو اٹھا کریں کیونکہ رات کا قیام اور قرآن کی تلاوت نفس پر قابو پانے اور قرآن کو توجہ کے ساتھ پڑھنے کا بہترین وقت ہے۔ دن میں اور بھی مشاغل ہوتے ہیں اس لیے طبیعت میں وہ یکسوئی پیدا نہیں ہوتی جو آدھی رات یا رات کے پچھلے پہر میں پیدا ہوتی ہے۔ بس سب سے کٹ کر اسی کا ذکر کرو ! وہی مشرق و مغرب کا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت اور اطاعت کے لائق نہیں وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ بس اسی کو اپنے تمام کاموں اور پوری زندگی کے لیے وکیل سمجھو اور بناؤ ! وکیل کا معنٰی ہے کہ جسے اپنا کام سونپ دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ آدمی اسی کو اپنا کام سونپا ہے جس پر اس کا پورا اعتماد ہوتا ہے کہ وہ میرا کام اچھی طرح کرے گا اسی لیے ارشاد فرمایا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کو وکیل بنا لیا تو اب مخالفوں کی مخالفت پر گھبرانے کی بجائے صبر و حوصلہ سے کام لینا اور ان سے بہترین طریقے سے الگ ہوجانا چاہیے۔ الگ ہونے کا یہ مقصد نہیں کہ انہیں سمجھانا نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے الجھنے کی بجائے حکمت کے ساتھ سمجھانا اور ان کی بدکلامی اور ایذا پر صبر جمیل کرنا چاہے۔ صبر جمیل سے مراد ایسا صبر ہے جس میں کسی قسم کا شکوہ و شکایت نہ پایاجائے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْمُؤْمِنُ الَّذِيْ یُخَالِطُ النَّاسَ وَیَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ أَعْظَمُ أَجْرًا مِّنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لَایُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا یَصْبِرُ عَلٰی أَذَاھُمْ ) (رواہ ابن ماجۃ : کتاب الفتن، باب الصبر علی البلاء، ھٰذا حدیث صحیح) ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے زیادہ اجر والا ہے جو نہ لوگوں میں گھل مل کر رہتا ہے اور نہ ان کی دی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے۔ “ مسائل ١۔ نفس پر قابو پانے کے لیے تہجد کی نماز بہترین عمل ہے۔ ٢۔ تہجد کی نماز میں قرآن پڑھنے کا زیادہ لطف آتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہر تعلق سے بےتعلق ہو کر کرنا چاہیے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مشرق ومغرب میں کوئی الٰہ نہیں لہٰذا اسی کو اپنا کارساز سمجھنا چاہیے۔ ٥۔ حق کے خلاف لوگوں کی باتوں پر صبر کرنا چاہیے اور ان سے اچھے انداز میں الگ رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے اور ہر حال میں اسی پر توکل کرنا چاہیے : ١۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ پر توکل کرنے کی ہدایت۔ (النمل : ٧٩) ٢۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلہ : ١٠) ٣۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ ہی پر توکل کرتے اور کرتے ہیں۔ (یوسف : ٦٧) ٤۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبہ : ١٢٩) ٥۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : ٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انا سنلقی ............ ثقیلا (73:5) ” ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں “۔ اس سے مراد یہ قرآن ہے ، اور قرآن مجید سے آگے پھر مزید احکامات ہیں۔ قرآن مجید کلامی اعتبار سے ثقیل نہیں ہے ، یہ تو آسان ہے۔ اور اس سے نصیحت حاصل کرنا بھی بہت سہل ہے لیکن سچائی کے ترازو میں یہ بہت ہی وزن دار ہے اور اس کے اثرات بہت دور رس ہیں اور اس نظام کے قیام کی ذمہ داریاں بھاری ہیں۔ لو انزلنا .................... خشیة اللہ (59:12) ” اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ جھک جاتے اور اللہ کے ڈر سے ریزہ ریزہ ہوجاتے “۔ اس لئے اللہ نے اس قرآن کو ایک ایسے دل پر نازل فرمایا جو پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط تھا۔ اس لئے اس نے اس کو اخذ کرلیا۔ پھر قرآن کی روشنی کو اخذ کرنا ، اس کی حقیقت کو جاننا اور اس کا استیعاب حاصل کرنا بہت بھاری ہے اور اس کے لئے بہت طویل تیاری اور تربیت کی ضرورت ہے۔ عالم بالا سے رابطہ قائم کرنا ، اس کائنات کی روح تک پہنچ جانا ، اور اس کائنات کے زندہ اور جامد ارواح تک پہنچ جانا ، جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس تک رسائی حاصل ہونی ، ایک طویل اور ثقیل ذمہ داری ہے اور اس کے لئے طویل جہدو تربیت کی ضرورت ہے۔ پھر اسلام کے جاوہ مستقیم پر بلاتردد اور بلاشک قائم ہوجانا اور ادھر ادھر نہ دیکھنا اور دنیا کے میلانات وجاذبیتوں سے متاثر نہ ہونا اور اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں ، ان کو عبور کرتے چلے جانا اور جو مشکلات آئیں ان کو برداشت کرنا ، بہت ہی بھاری ذمہ داری ہے اور اس کے لئے بھی طویل تیاری اور جہد کی ضرورت ہے۔ راتوں کو جاگنا جب کہ لوگ سو رہے ہیں ، اور روز مرہ کی زندگی کی کدورتوں سے دور ہونا اور دنیاوی جھمیلوں سے ہاتھ جھاڑ کر اللہ کا ہوجانا اور اللہ کی روشنی اور اللہ کے فیوض وصول کرنا اور وحدت مطلقہ سے مانوس ہونا اور اس کے لئے خالص ہوجانا اور رات کے سکون اور ٹھہراؤ کے ماحول میں ترتیل قرآن ، ایی ترتیل کہ گویا یہ قرآن ابھی نازل ہورہا ہے اور یہ پوری کائنات اس قرآن کے ساتھ رواں دواں ہے۔ انسانی الفاظ اور عبارات کے سوا ہی یہ پوری کائنات قرآن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ قیام اللیل میں انسان قرآن کے نور کی شعاعیں ، اس کے اشارات ، نہایت پر سکون ماحول میں حاصل کرتا ہے او یہ سب اس دشوار گزار راستے کا سازو سامان ہے۔ کیونکہ اس کٹھن راستے کی مشکلات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انتظار میں تھیں اور یہ ہراس شخص کا انتظار کرتی ہیں ، جو بھی اس دعوت کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔ جو شخص بھی جس دور میں دعوت اسلامی کا کام کرتا ہے ، شیطانی وساوس اور اس راہ کے تاریک ترین لمحات میں یہی زادراہ کسی داعی کے کام آتا ہے اور اس سے اس کی راہ روشن ہوتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا ﴿ اِنَّا سَنُلْقِيْ عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا ٠٠٥﴾ (بلاشبہ ہم آپ پر ایک بھاری کلام ڈالنے والے ہیں) بھاری کلام سے قرآن مجید مراد ہے جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں اس وقت قرآن شریف کا کچھ حصہ نازل ہوچکا تھا اکثر حصہ نازل ہونا باقی تھا دشمنوں کی طرف سے معاندانہ سلوک بھی ہونے وال تھا اور دعوت و ارشاد کی مزید ذمہ داری سونپی جانے والی تھی۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ہم تم پر عنقریب ایک بڑا بھاری کلام ڈالیں گے۔ کلام کو پہنچانے پر دشمنوں کی طرف سے معاندانہ روش سامنے آنے کی وجہ سے جو آپ کو تکلیف پہنچی تھی اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ جس وقت آپ پر وحی آتی تھی آپ کو بڑی مشقت برداشت کرنا پڑتی تھی۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ (رض) نے بیان فرمایا کہ سخت سردی کے زمانہ میں وحی آتی تھی تو آپ کی حالت بدل جاتی تھی اور جب فرشتہ رخصت ہوجاتا تھا تو آپ کا پسینہ بہتا ہوتا تھا (صحیح بخاری صفحہ ١ : ج ١) اور ایک مرتبہ وحی کے آنے کے وقت آپ کی ران مبارک زید بن ثابت (رض) کی ران پر تھی اس سے زید بن ثابت کی ران پھٹنے لگی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” انا سنلقی “ قول ثقیل سے مراد قرآن ہے اسے ثقیل (بھاری، کٹھن، مشکل) اس لیے فرمایا کہ اس کے مضامین توحید، حشر و نشر وغیرہ مشرکین پر نہایت شاق ہیں یا اس کے احکام وفرائض اور شرائع و حدود پر عمل کرنا نہایت مشکل ہے۔ (مدارک، قرطبی) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5 ) ہم عنقریب آپ پر بہت وزنی فرمان اور بھاری کلام نازل کریں گے۔ مراد قرآن شریف ہے قول ثقیل یہ کہ اپنے دلائل و احکام کی عظمت کے لحاظ سے تمام ادیان باطلہ پر بھاری ہے نزول کے وقت کا ثقل تو ظاہر ہے کہ سرد ی کے موسم میں پسینے آتے تھے اور پسینہ ٹپکتا تھا اگر سواری پر سوار ہوتے تو نزول وحی کے وقت وہ بوجھ سے دب جاتی تھی غرض کلام الٰہی کے نزول کے وقت جو ثقل اور بوجھ ہوتا تھا اس کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ریاضت کر تو بھاری بوجھ آسان ہو۔ خلاصہ : یہ کہ شب بیداری اور ریا ض کی علت بیان فرمائی کہ جس قدر ریاضت کرو گے تو نفس کی استعداد اکمل اور اقوی ہوگی اور اس استعداد کا قوی کرنا ضروری ہے تاکہ بھاری کلام برداشت کیا جاسکے۔ کلام الٰہی کو بھاری اور ثقیل شاید اس لئے بھی فرمایا ہو کہ اس کی تبلیغ اور لوگوں تک پہنچانے میں بڑی بڑی دشواریوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور بڑی بڑی ثقیل باتیں سننی پڑیں گی آگے قیام نسیل کی ایک اور علت بیان فرماتے ہیں۔