Surat ul Mudassir
Surah: 74
Verse: 1
سورة المدثر
یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾
O you who covers himself [with a garment],
اے کپڑا اوڑھنے والے ۔
یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ ۙ﴿۱﴾
O you who covers himself [with a garment],
اے کپڑا اوڑھنے والے ۔
The First Ayat to be revealed after `Read! يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ O you enveloped in garments! It has been confirmed in the Sahih Al-Bukhari and Sahih Muslim on the authority of Abu Salamah that Jabir bin `Abdullah informed him that he heard the Messenger of Allah speaking about the time period (of the pause in) revelation. The Prophet said, فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءَ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالاَْرْضِ فَجُيِثْتُ مِنْهُ حَتْى هَوَيْتُ إِلَى الاَْرْضِ فَجِيْتُ إِلَى أَهْلِي فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالى While I was walking I heard a voice from the sky. So I lifted my gaze towards the sky and saw the same angel who had come to me at the cave of Hira'. He was sitting on a chair between the sky and the earth. So I fled from him (in fear) until I fell down to the ground. Then, I went to my family and I said, `Wrap me up, wrap me up. So, they wrapped me up! So Allah revealed, يأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ O you enveloped in garments! Arise and warn! And magnify your Lord! And purify your garments! And keep away from Ar-Rujz! Here, Abu Salamah added, `Ar-Rujz means idols.' After this, the revelation started coming strongly and frequently in succession. This is the wording of Al-Bukhari. The way this Hadith is narrated necessitates that revelation had descended before this. This is due to the Prophet's statement, فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاء the same angel who had come to me at the cave of Hira'." That angel was Jibril, who had came to him with Allah's statement, اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِى خَلَقَ خَلَقَ الاِنسَـنَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الاٌّكْرَمُ الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الاِنسَـنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ Read! In the Name of your Lord Who has created. He has created man from a clot. Read! And your Lord is the Most Generous. Who has taught by the pen. He has taught man that which he knew not. (96:1-5) After this first occurrence (in the cave) there was a period of time that passed, then the angel descended again. Imam Ahmad recorded from Abu Salamah bin `Abdur-Rahman that Jabir bin `Abdullah informed him that he heard the Messenger of Allah saying, ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي قَاعِدٌ عَلى كُرْسِيَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالاَْرْضِ فَجُيِثْتُ مِنْهُ فَرَقًا حَتْى هَوَيْتُ إِلَى الاَْرْضِ فَجِيْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ لَهُمْ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُونِي فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالى يأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَع Then the revelation ceased coming to me for a period of time. Then, while I was walking, I heard a voice from the sky. So I lifted my gaze towards the sky to see the same angel who had come to me, sitting on a chair between the sky and the earth. So I fled from him a short distance before I fell down to the ground. Then I came to my family and said to them, `Wrap me up, wrap me up! So, they wrapped me up! Then Allah revealed, يأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ O you enveloped in garments! Arise and warn! And magnify your Lord! And purify your garments! And keep away from Ar-Rujz! After this, the revelation started coming strongly and frequently in succession. They both (Al-Bukhari and Muslim) recorded this Hadith by way of Az-Zuhri. At-Tabarani recorded from Ibn `Abbas that he said, "Verily, Al-Walid bin Al-Mughirah prepared some food for the Quraysh. So when they had eaten from it he said, `What do you have to say about this man' Some of them said, `He is a magician.' Others said, `He is not a magician.' Then some of them said, `He is a soothsayer.' But others said, `He is not a soothsayer.' Some of them said, `He is a poet.' But others said, `He is not a poet.' Some of them said, `This is magic from that of old.' Thus, they eventually all agreed that it was magic from ancient times. Then, when this news reached the Prophet, he became grieved, covered his head and wrapped himself up. This is when Allah revealed, يأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ وَلاَ تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ O you enveloped in garments! Arise and warn! And magnify your Lord! And purify your garments! And keep away from Ar-Rujz (the idols)! And give not a thing in order to have more (or consider not your deeds of obedience to Allah as a favour to Him). And be patient for the sake of your Lord (i.e., perform your duty to Allah)! Concerning Allah's statement, قُمْ فَأَنذِرْ
ابتدائے وحی حضرت جابر سے صحیح بخاری شریف میں مروی ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی یہی آیت ( يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ Ǻۙ ) 74- المدثر:1 ) نازل ہوئی ہے ، لیکن جمہور کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلی وحی آیت ( اقرا باسم ) کی آیتیں ہیں جیسے اسی سورت کی تفسیر کے موقعہ پر آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ یحییٰ بن ابو کثیر فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے سوال کیا کہ سب سے پہلے قرآن کریم کی کونسی آیتیں نازل ہوئیں؟ تو فرمایا آیت ( یا ایھا المدثر ) میں نے کہا لوگ تو آیت ( اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ Ǻۚ ) 96- العلق:1 ) بتاتے ہیں فرمایا میں نے حضرت جابر سے پوچھا تھا انہوں نے وہی جواب دیا جو میں نے تمہیں دیا اور میں نے بھی وہی کہا جو تم نے مجھے کہا اس کے جواب میں حضرت جابر نے فرمایا کہ میں تو تم سے وہی کہتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حرا میں اللہ کی یاد سے جب فارغ ہوا اور اترا تو میں نے سنا کہ گویا مجھے کوئی آواز دے رہا ہے میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا تو میں نے سر اٹھا کر اوپر کو دیکھا تو آواز دینے والا نظر آیا ۔ میں خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور کہا مجھے چادر اڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو انہوں نے ایسا ہی کیا اور آیت ( يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ Ǻۙ ) 74- المدثر:1 ) کی آیتیں اتریں ( بخاری ) صحیح بخاری مسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کی حدیث بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چلا جا رہا تھا کہ ناگہاں آسمان کی طرف سے مجھے آواز سنائی دی ۔ میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا کہ جو فرشتہ میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے میں مارے ڈر اور گھبراہٹ کے زمین کی طرف جھک گیا اور گھر آتے ہی کہا کہ مجھے کپڑوں سے ڈھانک دو چنانچہ گھر والوں نے مجھے کپڑے اوڑھا دیئے اور سورہ مدثر کی ( وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ Ĉ۽ ) 74- المدثر:5 ) تک کی آیتیں اتریں ، ابو سلمہ فرماتے ہیں ( رجز ) سے مراد بت ہیں ۔ پھر وحی برابر تابڑ توڑ گرما گرمی سے آنے لگی ، یہ لفظ بخاری کے ہیں اور یہی سیاق محفوظ ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے بھی کوئی وحی آئی تھی کیونکہ آپ کا فرمان موجود ہے کہ یہ وہی تھا جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام جبکہ غار میں سورہ اقراء کی آیتیں ( مالم یعلم ) تک پڑھا گئے تھے ، پھر اس کے بعد وحی کچھ زمانہ تک نہ آئی پھر جو اس کی آمد شروع ہوئی اس میں سب سے پہلے وحی سورہ مدثر کی ابتدائی آیتیں تھیں اور اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق بھی ہو جاتی ہے کہ دراصل سب سے پہلے وحی تو اقراء کی آیتیں ہیں پھر وحی کے رک جانے کے بعد کی اس سے پہلی وحی اس سورت کی آیتیں ہیں اس کی تائید مسند احمد وغیرہ کی احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ہے کہ وحی رک جانے کے بعد کی پہلی وحی اس کی ابتدائی آیتیں ہیں ، طبرانی میں اس سورت کا شان نزول یہ مروی ہے کہ ولید بن مغیرہ نے قریشیوں کی دعوت کی جب سب کھا پی چکے تو کہنے لگا بتاؤ تم اس شخص کی بابت کیا کہتے ہو؟ تو بعض نے کہا جادوگر ہے بعض نے کہا نہیں ہے ، بعض نے کہا کاہن ہے کسی نے کہا کاہن نہیں ہے ، بعض نے کہا شاعر ہے بعض نے کہا شاعر نہیں ہے ، بعض نے کہا اس کا یہ کلام یعنی قرآن منقول جادو ہے چنانچہ اس پر اجماع ہو گیا کہ اسے منقول جادو کہا جائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع پہنچی تو غمگین ہوئے اور سر پر کپڑا ڈال لیا اور کپڑا اوڑھ بھی لیا جس پر یہ آیتیں فاصبر تک اتریں ۔ پھر فرمایا ہے کہ کھڑے ہو جاؤ ، یعنی عزم اور قومی ارادے کے ساتھ کمربستہ اور تیار ہو جاؤ اور لوگوں کو ہماری ذات سے ، جہنم سے ، اور ان کے بداعمال کی سزا سے ڈرا ۔ ان کو آگاہ کر دو ان سے غفلت کو دور کر دو ، پہلی وحی سے نبوۃ کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ممتاز کیا گیا اور اس وحی سے آپ رسول بنائے گئے اور اپنے رب ہی کی تعظیم کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو یعنی معصیت ، بدعہدی ، وعدہ شکنی وغیرہ سے بچتے رہو ، جیسے کہ شاعر کے شعر میں ہے کہ بحمد للہ میں فسق و فجور کے لباس سے اور غدر کے رومال سے عاری ہوں ، عربی محاورے میں یہ برابر آتا ہے کہ کپڑے پاک رکھو یعنی گناہ چھوڑ دو ، اعمال کی اصلاح کر لو ، یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ دراصل آپ نہ تو کاہن ہیں نہ جادوگر ہیں یہ لوگ کچھ ہی کہا کریں آپ پرواہ بھی نہ کریں ، عربی محاورے میں جو معصیت آلود ، بد عہد ہو اسے میلے اور گندے کپڑوں والا اور جو عصمت مآب ، پابند وعدہ ہو اسے پاک کپڑوں والا کہتے ہیں ، شاعر کہتا ہے ۔ اذا المر الم یدنس من اللوم عرضہ فکل ردا یرتدیہ جمیل یعنی انسان جبکہ سیہ کاریوں سے الگ ہے تو ہر کپڑے میں وہ حسین ہے اور یہ مطلب بھی ہے کہ غیر ضروری لباس نہ پہنو اپنے کپڑوں کو معصیت آلود نہ کرو ۔ کپڑے پاک صاف رکھو ، میلوں کو دھو ڈالا کرو ، مشرکوں کی طرح اپنا لباس ناپاک نہ رکھو ۔ دراصل یہ سب مطالب ٹھیک ہیں یہ بھی وہ بھی ۔ سات ہی دل بھی پاک ہو دل پر بھی کپڑے کا اطلاق کلام عرب میں پایا جاتا ہے جیسے امراء القیس کے شعر میں ہے اور حضرت سعید بن جبیر سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ اپنے دل کو اور اپنی نیت کو صاف رکھو ، محمد بن کعب قرظی اور حسن سے یہ بھی مروی ہے کہ اپنے اخلاق کو اچھا رکھو ۔ گندگی کو چھوڑ دو یعنی بتوں کو اور اللہ کی نافرمانی چھوڑ دو ، جیسے اور جگہ فرمان ہے ( يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَلَا تُطِـعِ الْكٰفِرِيْنَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا Ǻۙ ) 33- الأحزاب:1 ) اے نبی اللہ سے ڈرو اور کافروں اور منافقوں کی نہ مانو ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے فرمایا تھا اے ہارون میرے بعد میری قوم میں تم میری جانشینی کرو اصلاح کے درپے رہو اور مفسدوں کی راہ اختیار نہ کرو ۔ پھر فرماتا ہے عطیہ دے کر زیادتی کے خواہاں نہ رہو ، ابن مسعود کی قرأت میں آیت ( ان تستکثر ) ہے ، یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ اپنے نیک اعمال کا احسان اللہ پر رکھتے ہوئے حد سے زیادہ تنگ نہ کرو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ طلب خیر میں غفلت نہ برتو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپنی نبوت کا بار احسان لوگوں پر رکھ کر اس کے عوض دنیا طلبی نہ کرو ، یہ چار قول ہوئے ، لیکن اول اولیٰ ہے واللہ اعلم ۔ پھر فرماتا ہے ان کی ایذاء پر جو راہ اللہ میں تجھے پہنچے تو رب کی رضامندی کی خاطر صبر و ضبط کر ، اللہ تعالیٰ نے جو تجھے منصب دیا ہے اس پر لگا رہ اور جما رہ ۔ ( ناقور ) سے مراد صور ہے ، مسند احمد ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں کیسے راحت سے رہوں؟ حالانکہ صور والے فرشتے نے اپنے منہ میں صور لے رکھا ہے اور پیشانی جھکائے ہوئے حکم اللہ کا منتظر ہے کہ کب حکم ہو اور وہ صور پھونک دے ، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہمیں کیا ارشاد ہوتا ہے؟ فرمایا کہو دعا ( حسبنا اللہ ونعم الوکیل علی اللہ توکلنا ) پس صور کے پھونکے جانے کا ذکر کر کے یہ فرما کر جب صور پھونکا جائے گا پھر فرماتا ہے کہ وہ دن اور وہ وقت کافروں پر بڑا سخت ہو گا جو کسی طرح آسان نہ ہو گا ، جیسے اور جگہ خود کفار کا قول مروی ہے کہ آیت ( فَذٰلِكَ يَوْمَىِٕذٍ يَّوْمٌ عَسِيْرٌ Ḍۙ ) 74- المدثر:9 ) یہ آج کا دن تو بیحد گراں بار اور سخت مشکل کا دن ہے ، حضرت زرارہ بن اوفی رحمتہ اللہ علیہ جو بصرے کے قاضی تھے وہ ایک مرتبہ اپنے مقتدیوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے اسی سورت کی تلاوت تھی جب اس آیت پر پہنچے تو بےساختہ زور کی ایک چیخ منہ سے نکل گئی اور گر پڑے لوگوں نے دیکھا روح پرواز ہو چکی تھی ، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے ۔
1۔ 1 سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ (اِ قْرَاْ باسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ) ہے اس کے بعد وحی میں وقفہ ہوگیا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت مضطرب اور پریشان رہتے۔ ایک روز اچانک پھر وہی فرشتہ، جو غار حرا میں پہلی مرتبہ وحی لے کر آیا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، جس سے آپ پر ایک خوف سا طاری ہوگیا اور گھر جاکر گھر والوں سے کہا کہ مجھے کوئی کپڑا اوڑھا دو ، مجھے کپڑا اوڑھا دو ۔ چناچہ انہوں نے آپ کے جسم پر ایک کپڑا ڈال دیا، اسی حالت میں وحی نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری) اس اعتبار سے یہ دوسری وحی اور احکام کے حساب سے پہلی وحی ہے۔
[١] وحی کی گرانیاری :۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سب سے پہلی جو وحی غار حرا میں نازل ہوئی وہ سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات تھیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ خالق کائنات ہے۔ اسی نے آپ کو بھی پیدا کیا ہے اور اسی نے یہ فرشتہ نازل کیا ہے۔ ان آیات میں آپ کو تبلیغ وغیرہ کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پڑنے والی ذمہ داریوں کے لئے تیار کرنا مقصود تھا۔ فرشتہ جبریل کے ذریعہ نبی کے دل پر جو وحی نازل ہوتی ہے۔ نبی کے لئے سخت تکلیف دہ اور گرانبار ہوتی ہے۔ اس دوران پہلے گھنٹی کی سی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ پھر نبی کا اس عالم سے رشتہ کٹ کر عالم بالا سے جڑ جاتا ہے اور اس وحی کا اتنا بار ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بعض اوقات سردیوں میں وحی کے وقت پسینہ آجاتا تھا۔ ایک دفعہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدنا زید بن ثابت (رض) کی ران پر ران رکھے ہوئے تھے کہ وحی کا نزول شروع ہوا۔ سیدنا زید کہتے ہیں کہ میں نے اس کا اتنا بوجھ محسوس کیا کہ مجھے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ نیچے سے میری ران ٹوٹ جائے گی۔ اور ایک دفعہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹنی پر سوار تھے۔ وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو اس کے بوجھ اور دباؤ سے اونٹنی نیچے بیٹھ گئی تھی۔ چناچہ پہلی دفعہ غار حرا میں جب وحی نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود ارشاد فرماتے ہیں کہ اس تکلیف اور بوجھ سے مجھے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ خیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی حالت میں گھبرائے ہوئے گھر آئے تو سیدہ خدیجۃ الکبریٰ (رض) نے آپ کو بہت تسلی دی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ بند ہوگیا۔ وحی کی تکلیف اور بوجھ کے باوجود اس دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک عجیب طرح کی لذت بھی محسوس ہوئی تھی۔ اسی لذت کی وجہ سے آپ وحی کے منتظر بھی رہتے تھے۔ بعد ازاں ایک دن درج ذیل واقعہ پیش آیا : سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی بند رہنے کا تذکرہ فرما رہے تھے۔ فرمایا : && ایک دفعہ چلتے چلتے میں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو آسمان کی طرف اسی فرشتے کو دیکھا جو حرا میں میرے پاس آیا تھا۔ وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر میں اتنا ڈرا کہ ڈر کے مارے زمین پر گرپڑا۔ پھر اپنے گھر آیا تو گھر والوں سے کہا : && مجھے کمبل اڑھا دو ۔ مجھے کمبل اڑھا دو && چناچہ انہوں نے مجھے کمبل اڑھا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ( یَایُّھَا الْمُدَّثِّرْ ۔۔ فَاھْجُرْ ) تک۔ ابو سلمہ نے کہا رجز سے بت مراد ہیں۔ اس کے بعد وحی گرم ہوگئی، برابر لگاتار آنے لگی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
(یا یھا المدثر :” المدثر “ اصل میں ” المتدثر “ تھا ” تائ “ کو دال سے بدل کر دال میں ادغام کردیا گیا ۔ جو کپڑا جسم کے ساتھ ملا ہوا ہو اسے ” شعار “ اور جو اس کے اوپر پہنا جائے اسے ”’ ثار “ کہتے ہیں۔ اس خطاب کی وجہ کے لئے دیکھیے سورة مزمل کی پہلی آیت کی تفسیر۔
Commentary Surah Al-Muddththir is one of the Surahs that was sent down in very early days of the revelation. Therefore, some of the scholars considered this Surah to be the first one in order of revelation. However, according to the well-known authentic aliadith, the first instalment of revelation comprised the initial verses of Surah Iqra&. Traditions show that after a few verses of this Surah had been revealed, further revelation stopped for a period of time. The period of time during which there was a temporary cessation of revelation is termed as fatrat-ul-wahy. Towards the end of this period, an incident took place that is recounted by the Holy Prophet thus: While I was walking, I heard a voice from the sky. So I lifted my gaze towards the sky and saw the same angel who had come to me in the cave of Hira&. He was sitting on a chair between the sky and the earth. So I was struck with awe until I fell down to the ground. Then, I went to my family and I said, |"Wrap me up, wrap me up|" So, they wrapped me up! Allah revealed the initial verses of Surah Al-Muddaththir. (Sahihain). The Holy Prophet is addressed in this Surah as: يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (0 you, enveloped in a mantle...74:1) The word al-Muddaththir is derived from dithar which refers to a &thick, warm over-garment [ such as a cloak or mantle ] which a person wears in winter over his other clothes in order to protect himself from cold.& The form of address is affectionate and endearing as was explained under Al-Muzzammil in the preceding Surah. The two forms of address, al-Muzzammil and al-Muddaththir, are near-synonyms. Ruh-ul-Ma ani cites a report from Jabir Ibn Zaid who says that Al-Muddaththir was revealed after Al-Muzzammil. Some scholars attribute this narration to Sayyidna Ibn ` Abbas w as well. However, according to the narration previously reported from Sahihain, it is clear that the first Surah to be revealed [ after the temporary cessation ] was Al-Muddaththir. If Al-Muzzammil was revealed before this, Sayyidna Jabir Ibn ` Abdullah [ the narrator of the Hadith ] would have narrated it. Clearly, Al-Muzzammil and Al-Muddaththir, are near-synonyms. Therefore, it is very likely that the two Surahs might have been revealed in connection with the same incident - when the Holy Prophet, whilst walking, heard a voice from the sky and saw Jibra&il Amin \ sitting on a chair between the sky and the earth, and then went to the house and wrapped himself in a mantle. This at least confirms the point that the initial verses of the two Surahs were among the first verses to be revealed after the temporary break in the revelation. It is however not clear as to which set of the verses was revealed first, and which was revealed subsequently. Authentic narratives confirm that the initial verses of Surah Iqra& were first to be revealed. Al-Muzzammil and Al-Muddaththir were though revealed approximately the same time in connection with the same incident, there is a difference between the two: The injunctions given at the beginning of Al-Muzzammil are related to the Holy Prophet&s personal purification and perfection, and in Al-Muddaththir the injunctions are related to preaching, propagation and human reform.
خلاصہ تفسیر اے کپڑے میں لپٹنے والے اٹھو (یعنی اپنی جگہ سے اٹھو یا یہ کہ مستعد ہوجاؤ) پھر (کافروں کو) ڈراؤ (جو کہ مقتضا منصب نبوت کا ہے اور یہاں تبیشر یعنی جنت کی بشارت کا اسلئے ذکر نہیں فرمایا کہ یہ آیت بالکل ابتدائے نبوت کی ہے اس وقت باسثنا ایک دو کے کوئی مسلمان نہیں تھا تو انداز ہی انسب تھا) اور اپنے رب کی بڑائیاں کرو (کہ تبلیغ میں سب سے پہلی چیز توحید ہے) اور (آگے بعض ضروری اعمال و عقائد واخلاق کی تعلیم ہے جس پر خود بھی عالم رہنا چاہئے کہ تبلیغ کے ساتھ اپنی اصلاح بھی ضروری ہے یعنی ایک تو) اپنے کڑوں کو پاک رکھئے (یہ اعمال میں سے ہے اور چونکہ بالکل ابتداء میں نماز نہ تھی اس لئے اس کا حکم نہیں ہوا) اور (دوسرے یہ کہ) بتوں سے الگ رہو (جس طرح کہ اب تک الگ ہو۔ یہ عقائد میں سے ہے یعنی بدستور سابق توحید پر دوام رکھو اور باوجود یکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شرک میں مبتلا ہونے کا کوئی احتمال نہ تھا پھر بھی یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ عقیدہ توحید کی اہمیت معلوم ہو کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے) اور کسی کو اس غرض سے مت دو کہ (دوسرے وقت) زیادہ معاوضہ چاہو ( یہ متعلق اخلاق کے ہے اور گو اوروں کے لئے یہ امر جائز ہے مگر خلاف اولیٰ ہے جیسا سورة روم کی (آیت) وما اتیتم من ربا الخ کی تفسیر سے معلوم ہوسکتا ہے لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان چونکہ اعلیٰ وارفع ہے اس لئے آپ پر اس کو بھی حرام کردیا گیا کمافی الروح والا صح ان النھی للتحریم وانہ من خواصہ علیہ الصلوة والسلام اور پھر (انذار و تبلیغ میں جو ایذا پیش آئے اس پر) اپنے رب (کی خوشنودی) کے واسطے صبر کیجئے (یہ خاص اخلاق متعلقہ بالتبلیغ میں سے ہے پس یہ آیتیں جامع ہوگئیں اصلاح اعمال و اخلاق کو اپنے لئے بھی دوسروں کے لئے بھی) پھر (اس ڈرانے کے بعد جو کوئی ایمان نہ لاوے اس کے لئے یہ وعید ہے کہ) جس وقت صور پھونکا جاوے گا سو وہ وقت یعنی وہ دن کافروں پر ایک سخت دن ہوگا جس میں ذرا آسانی نہ ہوگی (آگے بعض خاص کفار کا ذکر ہے یعنی) مجھ کو اور اس شخص کو ( اپنے اپنے خال پر) رہنے دو (کہ ہم اس سے نمٹ لیں گے) جس کو میں نے (مال واولاد سے خالی اور) اکیلا پیدا کیا (جیسا کہ پیدا ہونے کے وقت آدمی کے پاس نہ مال ہوتا ہے اور نہ اولاد، اور مراد اس سے ولید بن مغیرہ ہے جسکا قصہ معارف و مسائل کے تحت آئے گا) اور اس کو کثرت سے مال دیا اور پاس رہنے والے بیٹے (دیئے) اور سب طرح کا سامان اس کے لئے مہیا کردیا پھر بھی (باوجود اس کے اس مال واولاد کا شکر بجا نہ لایا کہ ایمان لے آتا بلکہ اس نعمت وافرہ کو براہ کفران وبیقدری قلیل سمجھ کر) اس بات کی ہوس رکھتا ہے کہ (اس کو) اور زیادہ دوں ہرگز (وہ زیادہ دینے کے قابل) نہیں (کیونکہ) وہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے (اور مخالفت کیساتھ عدم قابلیت ظاہر ہے) استدراج کا معاملہ اس سے الگ ہے اس شخص کی نزول آیت کے روز سے ظاہر اً بھی ترقی بند ہوگئی چناچہ پھر نہ کوئی اولاد ہوئی اور نہ کچھ مال بڑھا۔ اور یہ سزا تو دنیا میں ہے اور آخرت میں اس کو عنقریب (یعنی مرنیکے بعد) دوزخ کے پہاڑ پر چڑھاؤں گا (حدیث ترمذی میں مرفوعاً ہے کہ صعود دوزخ میں ایک پہاڑ سے ستر برس میں اس کی چوٹی پر پہنچے گا پھر وہاں سے گر پڑیگا پھر اسی طرح ہمیشہ چڑھے گا اور گریگا اور وجہ اس سزا کی وہی عناد ہے جو اوپر مذکور ہوا، اور آگے بھی اس کی کچھ تفصیل ہے وہ یہ کہ) اس شخص نے (اس بارے میں) سوچا (کہ قرآن کی شان میں کیا بات تجویز کروں) پھر (سوچ کر) ایک بات تجویز کی (جسکا بیان آگے آتا ہے) سو اس پر خدا کی مار ہو کیسی بات تجویز کی (اور) پھر (مکرر) اس پر خدا کی مار ہو کیسی تجویز کی (یہ تعجب مکرر اس کی سخت مذمت اور قابل تعجیب بات پر ہے یعنی کیسی بےجوڑ بات تجویز کی جسکا احتمال ہی نہیں ہوسکات) پھر (حاضرین کے چہروں کو) دیکھا (کہ وہ تجویز کی ہوئی بات ان سے کہوں) پھر منہ بنایا (تاکہ دیکھنے ووالے سمجھیں کہ اس کو قرآن سے بہت کراہت وانقباض ہے) اور زیادہ منہ بنایا پھر منہ پھیرا اور تکبر ظاہر کیا (جیسا عادت ہے کہ جس چیز کو قابل اعراض سمجھتے ہیں اس کا تذکرہ کرتے ہوئے بھی گردن پھیر لیتے ہیں اور اظہار تنفر کرتے ہیں) پھر بولا کہ بس یہ تو جادو ہے (جو اوروں سے) منقول (ہے) بس یہ تو آدمی کا کلام ہے (یہ بیان ہے اس تجویز مذکورہ کا، مطلب یہ کہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ بشر کا کلام ہے جس کو آپ کسی جادوگر سے نقبل کردیتے ہیں، یا آپ خود مصنف ہیں لیکن یہ مضامین مدعیان نبوت سابقین سے منقول ہیں اور اسلوب عبارت نعوذ باللہ آپ کے سحر کا اثر ہے۔ آگے اس عناد کی سزاد تفصیلاً فرماتے ہیں جیسا اوپرسارھقہ صعودا میں اجمالاً فرمایا تھا پس عنیدا میں جرم کا ذکر اور سارہقہ میں سزا کا ذکر اجمالاً اور انہ فکر عنیدا کی تفیصل ہے اور ساصلیہ۔ سارھقہ کی تفصیل ہے یعنی) میں اس کو جلدی دوزخ میں داخل کروں گا اور تم کو کچھ خبر ہے کہ دوزخ کیسی چیز ہے (وہ ایسی ہے کہ) نہ تو (داخل ہونے کے بعد داخل ہونے والے کی کوئی چیز جلانے سے) باقی رہنے دیگی اور نہ (داخل ہونے کے قبل جو کفار اس وقت باہر ہوں گے نہ ان میں سے کسی کو بغیر اپنے اندر لئے ہوئے) چھوڑے گی (اور) وہ (جلا کر) بدن کی حیثیت بگاڑ دیگی (اور) اس پر انیس فرشتے (جو اسکے خزان ہیں جن میں ایک کا نام مالک ہے مقرر) ہوں گے (جو کافروں کو انواع انواع عذاب دیں گے۔ حاصل یہ کہ فرشتے جن کی قوت معلوم ہے باوجودیکہ ان میں ایک بھی تمام اہل جہنم کی تعذیر کے لئے کافی ہے پھر انیس فرشتوں کے مقرر ہونے سے ظاہر ہے کہ عذاب کا بہت ہی اہتمام ہوگا اور نکتہ خاص انیس کے عدد میں حقیقةً اللہ ہی کو معلوم ہے لیکن دوسرے حضرات نے جو ذکر کیا ہے اس سب میں اقرب وہ ہے جو اللہ نے اس حقیر کے دل میں القاء فرمایا ہے وہ یہ کہ اصل تعذیب کفار کی عقائد حقہ کی مخالفت پر ہے اور عقائد قطعیہ جو عملیات کے متعلق نہیں حسب تفصیل رسالہ فروع الایمان نو ہیں۔ ایمان لانا اللہ تعالیٰ پر، اعتقاد رکھنا کہ عالم حادث ہے، ایمان لانا فرشتوں پر، ایمان لانا اس کی سب کتابوں پر، ایمان لانا پیغمبروں پر، ایمان لانا تقدیر پر، ایمان لانا قیادت کے دن پر، جنت کا یقین کرنا، دوزخ کا یقین کرنا، باقی سب عقائد انہیں کے ملحقات و فروع ہیں۔ اور عقائد قطعیہ جو عملیات کے متعلق ہیں دس ہیں۔ پانچ مامورات کے متعلق، یعنی ان کے وجوب کا اعتقاد ضروری ہے۔ وہ پانچ مامورات جو شعائر اسلام میں یہ ہیں، تلفظ بالشہادتیں، اقامت صلوٰة، ایتا زکوٰة، صوم رمضان، حج بیت اللہ اور پانچ منہیات کے متعلق یعینی ان کی تحریم کا اعتقاد واجب ہے اور وہ پانچ منہیات جو کہ آیت امتحان وغیرہ میں مذکور ہیں یہ ہیں۔ سرقہ، زنا، قتل، خصوصاً قتل اولاد، بہتان، عصیان فی المعروف جس میں غیبت وظلم یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھانا وغیرہ سب آگیا پس یہ سب عقائد ملا کر انیس ہوئے شاید ایک ایک عیدہ کے مقابلے میں ایک ایک فرشتہ معین ہو اور چونکہ ان سب میں ایک عقیدہ سب سے بڑا ہے یعنی توحید اسلئے ان فرشتوں میں بھی ایک فرشتہ سب سے بڑا مقرر ہوا ہو یعنی مالک واللہ علم باسرارہ) اور (اس آیت کا مضمون سن کر جو کفار نے تمسخر کیا جس کا بیان عمارف کے تحت میں آئے گا اس پر اگلا مضمون نازل ہوا کہ) ہمنے دوزخ کے کارکن (آدمی نہیں بلک) صرف فرشتے بنائے ہیں (جن میں سے ایک ایک فرشتہ جو تمام جن وانس کی برابر قوت ہے کذا فی الدر مرفوعا ولفظہ ھکذا الھم مثل قوۃ الثقلین) اور ہم نے جو ان کی تعداد (ذکر وحکایت میں) صرف ایسی رکھی ہے جو کافروں کو گمراہی کا ذریعہ ہو (مراد اس سے انیس کا عدد ہے) تو اس لئے ( کہ یہ نتائج اس پر مرتب ہوں یعنی) تاکہ اہل کتاب (سننے کے ساتھ) یقین کرلیں اور ایمان والوں کا ایمان اور بڑجھ جائے اور اہل کتاب اور مومنین شک نہ کریں اور تاکہ جن لوگوں کے دلوں میں (شک کا) مرض ہے وہ اور کافر لوگ کہنے لگیں کہ اس عجیب مضمون سے اللہ تعالیٰ کا کیا مقصود ہے ( اہل کتاب کے یقین کی دو توجیہہ ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ ان کی کتاب میں بھی یہ عدد لکھا ہو تو فوراً مان لیں گے اور اگر اب ان کی کتابوں میں یہ عدد نہ ہو تو ممکن ہے کہ کتابوں کے ضائع اور محرف ہونے سے ضائع ہوگیا ہو اور دوسری توجیہہ یہ ہوسکتی ہے کہ عدد ان کی کتاب میں نہ ہو لیکن وہ فرشتوں کی قوت کے قائل تھے اور بہت سے امور توقیفیہ ان کی کتابوں میں موجود تھے تو ان کے پاس کوئی ہنبی اذکار کا نہ تھا پس یقین سے مراد عدم انکار وعدم استہزا ہوگا لیکن ظاہر توجیہہ اول ہے اور اہل ایمان کے ایمان کی زیارت کی بھی دو توجیہ ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ اہل کتاب کے استیقان کو دیکھ کر ان کا ایمان کیفا قوی ہوجائے کہ آپ باوجود عدم اختلاط اہل کتاب کے وحی سابق کے موافق خبر دیتے ہیں ضرور نبی برحق ہیں۔ دوسری توجیہہ یہ کہ جب کوئی مضمون نیا نازل ہوتا تھا اس پر ایمان لاتے تھے پس ایک فرد تصدیق کی اور بڑھی، اس سے بحیثیت کمیت ایمان میں زیادتی ہوئی اور یرتاب کو تاکید کے لئے بڑھایا کہ اثبات یقین اور نفی شک دونوں کی تصریح ہوجائے۔ اور مرض میں دو احتمال ہیں ایک تو شک کیونکہ ظہور حق کے بعد بعضے جاحد اور منکر ہوتے ہیں بعضے متردد ہوتے ہیں تو اہل مکہ بھی ایسے لوگ ہوں گے دوسرا معنے نفاق تو اسمیں پیشن گوئی ہوگی کہ مدینہ میں منافق ہوں گے اور ان کا یہ قول ہوگا اور مومنین اور اہل کتاب کے اثبات و نفی شک کو جدا جدا اس لئے فرمایا کہ اہل کتاب کا یقین ونفی شک لغوی ہے اور مومنین کا شرعی، آگے فریقین کے حال پر بطور تفریح کے فرماتے ہیں کہ جس طرح حق تعالیٰ نے ایمان والوں کو اس باب میں خاص ہدایت کی اور کافروں کو اس باب میں خاص گمراہ کیا) اسی طرح اللہ تعالیٰ جسکو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کردیتا ہے اور (آگے تتمہ مضمون سابق کا کہ جہنم کے خازن فرشتوں کا عدد انیس ایک خاص حکمت کی بنا پر ہے ورنہ) تمہارے رب کے (ان) لشکروں ( کی یعنی فرشتوں کی تعداد اس کثرت سے ہے کہ اس کو بجز رب کے کوئی نہیں جانتا ( اگر وہ چاہتے تو بےانتہا فرشتوں کو خازن بنادیتے اور اب بھی گوخازن انیس ہیں مگر ان کے اور اعوان و انصار بہت کثرت سے ہیں چناچہ حدیث مسلم میں ہے کہ جہنم کو اس حال میں حاضر کیا جائے گا کہ اس کی ستر ہزار باگیں ہوں گی اور ہر باگ کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہوں گے) اور جو اصل مقصود جہنم کا حال بیان کرنے سے وہ عدد کی قلت یا کثرت یا تعین یا انکشاف حکمت تخصیص یا عدم انکشاف پر موقوف نہیں اور وہ اصل مقصود (یہ ہے کہ) دوزخ (کا حال بیان کرنا) صرف آدمیوں کی نصیحت کیلئے ہے ( تاکہ وہاں کے عذاب کو سن کر ڈریں اور ایمان لادیں اور یہ مقصود کسی خاص خصوصیات پر موقوف ہیں پس مقتضا عقل کا بھی یہی ہے کہ اصل مقصود کو محفوظ و ملحوظ رکھ کر ان بالائی امور کے در پے نہ ہوں آگے جہنم کی عقوبت کا کسی قدر بیان ہے جس میں ذکری للبشر کے اجمال کی تفصیل ہے پس ارشاد ہے کہ بالتحقیق قسم ہے چاند کی اور رات کی جب جانے لگے اور صبح کی جب روشن ہوجائے کہ وہ دوزخ بڑی بھاری چیز ہے جو انسان کے لئے بڑا ڈراوا ہے یعنی تم میں جو (خیر کی طرف) آگے بڑھے اس کے لئے بھی یا جو (خیر سے) پیچھے ہٹے اسکے لئے بھی (مطلب یہ کہ جمیع مکلفین کے لئے نذیر ہے اور چونکہ نتائج اس انداز کے قیامت میں ظاہر ہوں گے اس لئے قسم ایسی چیزوں کی کھائی گئی جو قیامت کے بہت ہی مناسب ہے، چناچہ قمر کا اول بڑھنا پھر گھٹنا نمونہ اس عالم کے نشوونما اور پھر اضمحلال وفنا کا ہے یہاں تک کہ چاند کے محاق یعنی بےنور ہوجانے کی طرح یہ بھی فانی محض ہوجائے گا، اسی طرح اس عالم دنیا کو اس عالم آخرت کے ساتھ اختفار واکتشاف حقائق میں ایسی نسبت ہے جیسے رات کو دن کے ساتھ۔ پس اس عالم کا ختم ہوجانا مشابہ رات گزر جانے کے ہے اور اس عالم کا ظہور مشابہ اسفار صبح کے ہے۔ آگے دنیا اور اہل دنیا کے بعض احوال کا بیان ہے یعنی) ہر شخص اپنے اعمال (کفریہ) کے بدلہ میں ( دوزخ میں) محبوس ہوگا مگر داہنے والے (یعنی مومنین جس کی تفصیل سورة واقعہ میں گزری ہے اور چونکہ یہاں اصحاب الیمین مقابل اصحاب الشمال کے ہے اسلئے مقربین کو بھی شامل ہے حاصل یہ کہ مومنین اس قید سے مستثنیٰ ہیں) کہ وہ بہشتوں میں ہوں گے (اور) مجرموں ( یعنی کفار) کا حال (خود ان کفار ہی سے) پوچھتے ہوں گے (اور) کیفیت باہمی کلام کی باوجود اس بعد کے جو دوزخ اور جنت میں ہے۔ سورة اعراف کی (آیات) ونادی اصحب الجنتہ اصحب النار کی تفیسر میں گزری ہے اور یہ سوال زجر و تنبیہ کے لئے ہوگا حاصل یہ کہ مومنین کفار سے پوچھیں گے کہ ( تم کو دوزخ میں کس بات نے داخل کیا وہ کہیں گے کہ ہم نہ تو نماز پڑھا کرتے تھے اور غریب کو (جسکا حق واجب تھا) کھانا کھلایا کرتے تھے اور (جو لوگ دین حق کے ابطلال کے مشغلہ میں رہتے تھے ان) مشغلہ میں رہنے والوں کے ساتھ ہم بھی (اس) مشغلہ (ابطال دین) میں رہا کرتے تھے اور قیامت کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ہم کو موت آگئی (اور) ہم ان حرکات سے باز نہ آئے یعنی خاتمہ اسی نافرمانی پر ہوا اس وجہ سے ہم دوزخ میں آئے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کفار مکلف بالفروع یعنی نماز روزہ احکام شرعیہ کے مامور ہوں کیونکہ جہنم میں دو چیزیں ہوں گی ایک عذاب دوسرا شدت عذاب۔ پس ممکن ہے کہ مجموعہ اعمال مذکورہ سبب ہو مجموعہ عذاب اور شدت عذاب کا اس طرح کہ کفر و شرک تو سبب ہو تعذیب کا اور ترک صلوة وغیرہ سبب ہو زیادہ تعذیب کا اور کفار کے غیر مکلف بالفروع ہونے کے معنی یہ کہے جائیں گے کہ ان فروع پر نفس تعذیب نہ ہوگی اور زیادہ تعذیب اس لئے ہوسکتی ہے کہ اصول کے ضمن میں فروع بھی تبعاً آہی جاتے ہیں۔ اس لئے ضمناً مکلف ہونا زیادتی عذاب کا سب ہوسکتا ہے) سو (حالت مذکورہ میں) ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش نفع نہ دے گی (اور اس عدم نفع کا تحقق عدم شفاعت کے تحقق سے ہوگا یعنی کوئی ان کافروں کی شفاعت ہی نہ کرسکے گا لقولہ تعالیٰ (آیت) فمالنا من شافعین آگے ان کے اعراض پر تفریح ہے کہ جب کفر و اعراض کی بدولت ان کی یہ گت بننے والی ہے) تو ان کو کیا ہوا کہ اس نصیحت (قرانی) سے روگردانی کرتے ہیں کہ گویا وہ وحشی گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے جارہے ہیں۔ (اس تشبیہ میں کئی امر کی رعایت ہے اول تو گدھا بےوقوفی اور حماقت میں مشہور ہے دوسرے اس کو وحشی فرض کیا جس کو گورخر کہتے ہیں کہ وہ جو چیزیں ڈرنے کی نہیں ہوتیں ان سے بلاوجہ ڈرتا اور بدکتا بھاگتا ہے تیسرے شیر سے اس کا ڈرنا فرض کیا کہ اس صورت میں ان کا بھاگنا انتہا درجہ ہوگا، اور اس بھاگنے کے اسباب میں ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اس قرآن کو بزعم خود حجیت میں کافی نہیں سمجھتے) بلکہ ان میں ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کو کھلے ہوئے (آسمانی) نوشتے دیئے جائیں (جیسا در منشور میں قتادہ سے مروی ہے کہ بعضے کفار نے آپ سے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کا اتباع کریں تو خاص ہمارے نام آسمان سے ایسے نوشتے آئیں جن میں آپ کے اتباع کا حکم لکھا ہوا ہے وھذا کقولہ تعالیٰ (آیت) حتی تنزل علینا کتبا نقروہ اور منشرہ کا بڑھانا توضیح مقصود کے لئے ہے جیسے معمولی خط ہوتے ہیں کہ کھولے جاتے ہیں اور پڑھے جاتے ہیں ایسے ہی نوشتے ہمارے پاس آنے چاہیں، آگے اس بیہودہ درخواست کا رد ہے کہ یہ) یہ ہرگز نہیں (ہوسکتا کیونکہ نہ اس کی ضرورت اور نہ ان لوگوں کو اس کی قیادت بالخصوص اس وجہ سے کہ اس درخواست کا سبب یہ نہیں کہ دل میں ان کے ارادہ ہو کہ اگر ایسا ہوگا تو اتباع کرلیں گے ( بلکہ سبب یہ ہے کہ) یہ لوگ آخرت (کے عذاب) سے نہیں ڈرتے ( اس لئے حق کی طلب نہیں ہے اور یہ درخواستیں محض ضد اور ہٹ دھرمی سے ہیں حتیٰ کہ اگر یہ درخواستیں بالفرض پوری بھی ہوجاویں تب بھی یہ لوگ اتباع نہ کریں ( آیت) لقولہ تعالیٰ ولو نزلنا علیک کتبا فی قرطاس فلمسوہ بایدھیم لقال الذین کفرو ان ھذا الا سحر مبین) آگے بطور نتیجہ کے اس کا داور اس پر زجر ہے کہ جب اس درخواست کا بیہودہ ہونا ثابت ہوگیا تو یہ) ہرگز نہیں (ہوسکتا بلکہ) یہ قرآن (ہی) نصیحت ( کے لئے کافی) ہے، دوسرے صحیفوں کی حاجت نہیں) سو (اس حالت میں) جسکا جی چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے (اور جسکا جی چاہے نہ کرے جہنم میں جاوے ہم کو کوئی ضرورت نہیں کہ مطلوبہ قسم کے نوشتے نازل کریں) اور (قرآن کے تذکرہ یعنی ہدایت ہونے میں اس سے شبہ نہ کیا جاوے کہ بعض لوگوں کو اس سے تذکرہ و ہدایت نہیں ہوتی، بات یہ ہے کہ قرآن گوفی نفسہ تذکرہ ہے لیکن) بدون خدا کے چاہے یہ لوگ نصحیت قبول کریں گے (اور اس نہ چاہنے میں بعض حکمتیں ہیں لیکن قرآن فی نفسہ تذکرہ ضرور ہے پس اس سے تذکرہ حاصل کرو اور خدا کی اطاعت کرو کیونکہ) وہی ہے جس (کے عذاب) سے ڈرنا چاہئے اور (وہی ہے) جو (بندوں کے گناہ) معاف کرتا ہے (کقولہ تعالیٰ (آیت) ان ربک لسریع العقاب وانہ لغفور رحیم) معارف ومسائل سورة مدثر قرآن کریم کی ان سورتوں میں سے جو نزول قرآن کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے اسی لئے بعض حضرات نے اس سورت کو سب سے پہلے نازل ہونیوالی سورت بھی کہا ہے۔ اور روایات صححیہ معروفہ کی رو سے سب سے پہلے سورة اقرا کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ پھر کچھ مدت تک نزول قرآن کا سلسلہ بند رہا جس کو زمانہ فترت وحی کا کہا جاتا ہے اسی زمانہ فترت کے آخر میں یہ واقعہ پیش آیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ میں کسی جگہ تشریف لے جارہے تھے اوپر سے کچھ آواز سنی تو آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی دیکھا کہ وہ ہی فرشتہ جو غار حرا میں سورة اقرا کی آیات لے کر آیا تھا وہ ہی آسمان کے نیچے فضا میں ایک معلق کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کو اس حال میں دیکھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وہی طبعی رعب وہیبت کی کیفیت طاری ہوگئی جو غار حرا میں نزول اقرا کے وقت ہوئی تھی سخت سردی اور کپکپی کے احساس سے آپ گھر میں واپس تشریف لے گئے اور فرمایا زملونی زملونی یعنی مجھے ڈھانپو مجھے ڈھانپو۔ آپ کپڑوں میں لپٹ کر لیٹ گئے اس پر سورة مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں کمانی حدیث الصحیحین۔ اسی لئے اس سورت میں آپ کو خطاب یایھا المدثر کے الفاظ سے کیا گیا، یہ لفظ دثار سے مشتق ہے جو ان زائد کپڑوں کو کہا جاتا ہے جو آدمی عام لباس کے اوپر کسی سردی وغیرہ کے دفع کرنے کے لئے استعمال کیا کرتا ہے اس لفظ سے خطاب ایک حبیبانہ مشفقانہ خطاب ہے جیسا کہ مزمل میں بیان ہوچکا ہے۔ لفظ مزمل کے معنے بھی اسی کے قریب ہیں۔ روح المعافی میں جابرین زید تابعی سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ سورة مدثر، مزمل کے بعد نازل ہوئی ہے اور بعض حضرات نے یہ روایت حضرت ابن عباس سے بھی نقل کی ہے مگر صحیحین کی جو روایت اوپر نقل کی گئی ہے اس میں اس کی تصریح ہے کہ سب سے پہلے سورة مدثر نازل ہوئی (اور مرد یہ ہے کہ فترت وحی کے بعد سب سے پہلے یہ سورت نازل ہوئی) اگر مزمل کا نزول اس سے پہلے ہوا ہوتا تو حضرت جابر ابن عبداللہ راوی حدیث اس کو بیان کرتے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ لفظ مزمل اور مدثر دونوں تقریباً ہم معنے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایک ہی واقعہ میں ان دونوں کا نزول ہوا اور وہ واقعہ وہی جبرئیل امین کو آسمان کے نیچے کرسی پر بیٹھے دیکھنے کا اور آپ کا گھر میں واپس ہو کر کپڑوں میں لپٹ جانیکا ہو جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ اس سے کم از کم اتنا تو ثابت ہوجاتا ہے کہ سورة مزمل اور مدثر کی ابتدائی آیتیں فترت وحی کے بعد سب سے پہلے نازل ہونے والی آیات ہیں ان دونوں میں کون مقدم اور کون موخر ہے اس میں روایتیں مختلف ہوگئیں اور سورة اقرا کی ابتدائی آیات کا ان سب سے پہلے نازل ہونا تمام روایات صحیحہ سے ثابت ہے اور یہ دونوں سورتیں اگرچہ متقارب زمانے میں ایک ہی واقعہ میں نازل ہوئی ہیں مگر فرق دونوں میں یہ ہے کہ سورة مزمل کے شروع میں جو احکام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیئے گئے ان میں اپنی ذاتی شخصی اصلاح سے متعلق اور سورة مدثر کے شروع میں جو احکام دیئے گئے ہیں انکا تعلق زیادہ تر دعوت و تبلیغ اور اصلاح خلق سے ہے۔
يٰٓاَيُّہَا الْمُدَّثِّرُ ١ دثر قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ أصله المتدثّر فأدغم، وهو المتدرّع دِثَاره، يقال : دَثَرْتُهُ فَتَدَثَّرَ ، والدِّثَار : ما يتدثّر به، وقد تَدَثَّرَ الفحل الناقة : تسنّمها، والرّجل الفرس : وثب عليه فركبه، ورجل دَثُور : خامل مستتر، وسیف داثر : بعید العهد بالصّقال، ومنه قيل للمنزل الدارس : داثر، لزوال أعلامه، وفلان دِثْرُ مالٍ ، أي : حَسَنُ القیام به . ( د ث ر ) المدثر ۔ ( ازتفعل ) اصل میں متدثر تھا ۔ تاء کو دال سے بدل کر دال کو دال می ادغام کردیا ۔ اس کے معنی کپڑا وڑھنے والے کے ہیں ۔ کہاجاتا ہے دثرثہ فتدثر ( میں نے اسے کپڑے میں لپیٹا جنانچہ وہ لپٹ گیا ) قرآن میں ہے :۔ يا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُجو کپڑا لپیٹے پڑے ہو ۔ الدثار ۔ وہ کپڑا جس میں آدمی لپٹ جائے جیسے چادر کمبل وغیرہ ۔ تدثر الفحل الناقۃ ۔ سانڈھ اونٹنی پر چڑھ گیا تدثر الرجل الفرس ۔ آدمی گوڑے پر کود کر سوار ہوگیا ۔ رجل دثور ۔ گم نام آدمی ۔ سیف داثر ۔ زنگ آلود تلوار جسے پالش کئے بہت عرصہ گزر گیا ہو ۔ اسی سے جس منزل کے نشانات مٹ گئے ہوں اسے داثر کہاجاتا ہے ۔ فلان دثر مال وہ مال کی اچھی طرح خبر گیری کرنے والا ہے ۔
(١۔ ٣) محمد اٹھو اور کافروں کو ڈراؤ اور ان کو توحید کی طرف بلاؤ اور بتوں کے پجاریوں کے سامنے اپنے پروردگار کی بڑائیاں بیان کرو۔
1 A study of the background of the revelation of these verses given in the introduction above can help one understand why the Holy Prophet (upon whom be peace) on this occasion has been addressed with Ya ayyuhal-Muddaththiru instead of Ya ayyuhar-Rasulu (O Messenger) , or Ya ayyuhan-Nabiyyu (O Prophet) . As the Holy Prophet had been terrified when he had suddenly seen the Angel Gabriel (on whom be peace) , sitting on a throne between heaven and earth, and had returned hastily home and asked the people of the house to cover him up, so Allah addressed him with Ya ayyuhal-Muddaththiru. From this fine way of address the meaning which automatically follows is: "O My dear Servant, why have you lain down thus enwrapped? You have been put under the. burden of a great mission: you must now arise from your solitude to perform this mission with resolution and courage."
سورة الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :1 اوپر دیباچے میں ہم ان آیات کے نزول کا جو پس منظر بیان کر کے آئے ہیں اس پر غور کرنے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یایھا الرسول یا یایھا النبی کہہ کر مخطاب کرنے کے بجائے یایھا المدثر کہہ کر کیوں مخاطب کیا گیا ہے ۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یکایک جبریل علیہ السلام کو آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے دیکھ کر ہیبت زدہ ہو گئے تھے اور اسی حالت میں گھر پہنچ کر آپ نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا تھا کہ مجھے اڑھاؤ ، مجھے اڑھاؤ ، اس لیے اللہ تعالی نے آپ کو یایھا المدثر کہہ کر خطاب فرمایا ۔ اس لطیف طرز خطاب سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اے میرے پیارے بندے ، تم اوڑھ لپیٹ کر لیٹ کہاں گئے ، تم پر تو ایک کار عظیم کا بار ڈالا گیا ہے جسے انجام دینے کے لیے تمہیں پورے عزم کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوناچاہیے ۔
1: یہ اُسی طرح کا خطاب ہے جیسا پچھلی سورت کے شروع میں گزرا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں اصل عربی لفظ ’’مزمل‘‘ تھا اور یہاں ’’مدثر‘‘ ہے، معنیٰ دونوں کے تقریباً ایک ہے، اس کی تشریح کے لئے پچھلی سورت کا حاشیہ نمبر ۱ ملاحظہ فرمائیں۔ صحیح احادیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ پر سب سے پہلی وحی کے طور پر تو سورۂ علق (سورت نمبر۹۶) کی پہلی پانچ آیتیں نازل ہوئی تھیں۔ اُس کے بعد ایک عرصے تک وحی کا سلسلہ بندرہا۔ پھر سورہ مدثر کی یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
١۔ ١٠۔ علماء مفسرین نے اس باب میں بہت بڑا اختلاف کیا ہے کہ قرآن شریف کی سورتوں میں سب سے پہلے اقرا باسم رباک الذی خلق نازل ہوئی ہے یا سورة مدثر نازل ہوئی ہے۔ صحیحین ١ ؎ کی حضرت جابر (رض) اور حضرت عائشہ (رض) کی دونوں حدیثوں کو ملا کر دیکھا جائے تو رفع اس اختلاف کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر اور حافظ ابن کثیر اور خطیب وغیرہ نے بیان کیا ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رویا صادقہ کے عبد پہلے پہل وحی کا نزول جو شروع ہوا تو سب سے پہلے اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی پھر چند روز تک وحی بند رہی اس وحی کی بندش کے بعد پھر جو سلسلہ وحی کا چلا تو سورة مدثر نازل ہوئی غرض صحیح قول یہی ہے کہ سورة مدثر کا نزول اقراء سے موخر اور سب سورتوں سے مقدم ہے جو کپڑا آدمی کے جسم سے ملا ہوا ہو اس کو شعار اور جو اس کے اوپر پہنا اوڑھا جائے اس کو وثار کہتے ہیں۔ صحیح ٢ ؎ مسلم وغیرہ میں جو حضرت جابر (رض) سے روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اقراء کے نازل ہونے کے بعد کچھ دنوں تک وحی کا نازل ہونا موقوف رہا پھر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرئیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ڈر گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ (رض) سے کہا مجھ کو سردی لگتی ہے معمولی کپڑوں کے اوپر مجھے کچھ اوڑھا دو ۔ انہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لحاف اوڑھا دیا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی نام سے یاد فرما کر یہ سورة نازل فرمائی۔ اقراء کی آیتوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فقط وحی کے پڑھنے کا حکم تھا اس سورة میں وحی کے احکام کے موافق لوگوں کو ڈرانے اور نصیحت کرنے کا بھی حکم ہوا جو لوگ سوا اللہ کے اور چیزوں کو پوجتے ہیں ان کو اس کے وبال سے ڈرایا جائے پھر فرمایا کہ مشرک اللہ کی شان میں شرک کے الفاظ جو کہتے رہتے ہیں اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے تم ان کے برخلاف اللہ کی بڑائی اور توحید بیان کرو تاکہ ان مشرکوں کے کان بھی توحید سے آشنا ہوں مشرکین مکہ پہننے کے کپڑوں کی پاکی ناپاکی کا خیال نہیں رکھتے تھے اور اپنے بتوں سے ہر وقت لگے لپٹے رہتے تھے اس لئے فرمایا کہ اے نبی اللہ کے تم اپنے کپڑے پاک صاف رکھو اور ان مشرکوں کے بتوں سے ہمیشہ دور رہو ولا تمنن تستکثر ولربک فاصبر کی تفسیر میں اگرچہ سلف کے چند قول ہیں لیکن آیتوں کی مناسبت کے خیال سے حافظ ابو جعفر بن جریر (رض) نے جس قول کو ترجیح دی ہے اس کے موافق آیت کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اے نبی اللہ کے خدمت نبوت کی ادائی میں جو کوئی اچھا اور بڑا کام تم سے بن آئے تو زیادتی اجر کے خیال سے اس کام کی بڑائی احسان کے طور پر تم کچھ نہ جتلائو۔ اللہ کو ہر کام کا اجر خود معلوم ہے تم ہر حال میں اسی پر صابر اور شاکر رہو۔ خدمت نبوت کی ادائی اور اس خدمت کی ادائی کے سبب سے مخالف شریعت لوہگ جو تم کو کچھ گستاخی کے الفاظ کہیں تو اس پر صبر کرنے کا سب کا پورا اجر اللہ تم کو دے گا پھر فرمایا کہ اے نبی اللہ کے باوجود تمہاری نصیحت کے جو کوئی آخرت کی جزا و سزا کا منکر رہے تو ایسے لوگوں کو یہ سنا دیا جائے کہ مردوں کو زندہ کرنے کا دوسرا صور پھونک کر جب یہ لوگ زندہ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہوں گے اور ذرہ ذرہ کا ان سے حساب لیا جائے گا تو وہ وقت ان پر بڑی مشکل کا ہے اس مشکل کے لئے ان لوگوں کو تیار رہنا چاہئے کتہری کا مطلب بت پرستی کی جاست کھوکھرا یعنی صور۔ ١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٤١ ج ٤۔ (١ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة مدثر ص ٧٣٢ ج ٢ و تفسیر سورة اقراء باسم ربک ص ٧٣٩ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم باب بدء الوحی الی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ص ٩٠ ج ١۔ )
(74:1) یایھا المدثر : یایھا۔ اے ۔ نیز ملاحظہ ہو 73:1 ۔ المدثر : تدثر (تفعل) مصدر سے۔ اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ اصل میں متدثر تھا ت کو دال سے بدل کر دال کو دال میں ادغام کیا۔ اس کے معنی کپڑا اوڑھنے والے کے ہیں۔ دثار اوپر پہننے کا کپڑا۔ چادر۔ کمبل۔ المدثر کمبل اوڑھنے والا۔ یایھا المدثر۔ اے کمبل اوڑھنے والے۔ اے جس نے کمبل اوڑھ رکھا ہے۔ المدثر سے بالاتفاق جناب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں مگر آپ کو اس لقب سے کیوں ملقب کیا گیا۔ اس کے جواب میں مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں :۔ (1) دثار سے مراد ظاہری کمبل لینے والے اصحاب کا قول ہے :۔ (1) فرشتہ کو دیکھ کر دہشت ہوئی تھی۔ اور اس سے سردی محسوس ہوئی تھی جس لئے کپڑا اوڑھے ہوئے تھے۔ اس حالت میں تھے کہ یہ سورة نازل ہوئی اور اسی حالت میں محبت سے خطاب کیا گیا۔ (2) کفار قریش نے جمع ہوکر لوگوں کو آپ سے بدگمان کرنے کے لئے لفظ ساحر تجویز کیا۔ اور پکار دیا۔ تو اس سے آپ کو رنج ہوا۔ اور طبع مبارک پر کسل طاری ہوا جس لئے کپڑا اوڑھے پڑے ہوئے تھے کہ اسی حالت میں مخاطب کرکے فرمایا :۔ اے کپڑا اوڑھنے والے کھڑا ہو۔ (3) آپ کپڑا اوڑھے سو رہے تھے کہ اسی حالت میں یہ سورت نازل ہوئی جس میں جتلایا جاتا ہے کہ کپڑا منہ سے اتار اور نیند سے ہوشیار ہو اور منصب نبوت پر قائم یعنی آمادہ ہو۔ (2) ایک گروہ کا یہ کہنا ہے کہ ظاہری کپڑا اوڑھنا مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ :۔ (1) یہ کہ اے نبوت و رسالت کی چادر اوڑھنے والے کھڑا ہو۔ جیسا کہ کہتے ہیں البسہ اللہ لباس التقوی وزینہ برداء العلم (اللہ نے اس کو تقوی کا لباس پہنایا اور علم کی چادر سے مزین کیا۔ (2) کپڑا اوڑھنے سے آدمی مخفی ہوجاتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اے خلوت و گوشہ نشینی کی چادر اوڑھنے والے کب تک تو مخفی رہے گا کھڑا ہو اور لوگوں کو متنبہ کر۔ اس لئے کہ دنیا گناہوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ (3) یہ کہ اے خلق عظیم و رحمت عالمین کی چادر اوڑھنے والے اس لباس کو پہن کر چپ کیوں بیٹھے ہو کھڑے ہوجاؤ اور لوگوں کو متنبہ کرو، دین حق کی منادی کرو۔ (از تفسیر حقانی)
ف 6 یہ خطاب آنحضرت سے ہے۔ روایات میں ہے کہ وحی کے آغاز میں جپ آپ نے حضرت جبریل کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا تو گھبرا گئے اور آپ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا دشرونی وترونی کہ مجھے کپڑا اوڑھائو مجھے کپڑا اوڑھائو شوکانی
سورة المدثر۔ آیات ١ تا ٣١۔ اسرار ومعارف۔ سورة مدثر بھی پہلی پہلی صورتوں میں سے ہے اور مدثر ومزمل کا مفہوم ایک ہے بعض کے نزدیک پہلے سورة مزمل کی آیات نازل ہوئیں اور پھر مدثر کی بعض نے مدثر کو پہلے لکھا ہے مگر قرائن سے مزمل کا پہلے ہونا معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ذاتی اعمال کی بات ہے اور مدثر میں قوم سے خطاب کرنے کا حکم ہے بہرحال نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ہیں جب ایک دولوگ ہی مسلمان تھے تو فرمایا اے لپیٹ کر سونیو الے اٹھیے اور لوگوں کو دعوت دیجئے اور اپنے رب کی توحید اور بڑائی بیان کیجئے۔ لباس کی پاکیزگی۔ اپنے لباس کو پاک کیجئے ، مراد ماحول بھی ہے کردار بھی اور حقیقتا سارامال اور معاشی نظام مقصود ہوتا ہے کہ انسان عموماجتنا دولت حاصل کرسکتا ہے اس کا اظہار اس کے لباس سے ہوتا ہے جس کی ظاہری چمک دمک کا خیال تو کافر بھی رکھتا ہے لیکن اگر حرام مال سے بنا ہوتومعنی اعتبار سے سخت گندا ہے۔ مسئلہ۔ مسلمان کو چاہیے کہ عبات میں تو جسم ، لباس ، جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے اس کے علاوہ بھی اس کا اہتمام رکھے نیز مال حرام سے نہ بنائے اور ایسی ہئیت کالباس بھی ناپاک ہی شمار ہوجوشرعا ممنوع ہو اور ہر طرح کی گندگی سے دور رہیے وہ عقیدے کی ہو یا اعمال کی گویا مومن کو نبی (علیہ السلام) کی وساطت سے حکم دیاجارہا ہے کہ عقیدہ ، عبادات اور پورا نظام زندگی ظاہری اور معنوی گندگی سے پاک ہونا چاہیے نہ عقیدے میں غیر مسلم کی پیروی کرے نہ عبادات میں اور نہ نظام حیات میں نیز کسی پر زیادہ حاصل کرنے کے لیے احسان نہ کیا جائے اور اپنے پروردگار کی اطاعت پہ قائم رہ خواہ کس قدر بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے۔ دین پر قائم رہنے کے لیے صبر ضروری ہے۔ صبر کا مفہوم ہے خود کو روک کر رکھنا گویا کفر کی طرف سے دباؤ بھی برداشت کرنا پڑے گا اور لالچھ بھی دیاجاسکتا ہے مگر مومن کو ہرحال میں دین پر قائم رہنا ہوگا۔ کافر تو خود تباہی کی طرف رواں ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ روز قیامت کافروں پہ بہت بھاری ثابت ہوگا ان کو اس میں ذرہ برابر آسانی نہ ملے گی بھلا انسان کی حیثیت کیا ہے اسے میں خوب دیکھ لوں گا جسے میں نے تنہاپیدا کیا کہ اسکے بدن پرچیتھرا تک نہ تھا پھر اسے دنیا کی نعمتوں اور مال وزور کا مالک بنادیا اور اولاد دی جو اس کی مجلس کی رونق بنی اور بیشمار نعمتیں مہیا کردیں مگر اس میں الٹا لالچ پیدا ہوا اور شکر کرنے کے بجائے ہوس میں گرفتار ہوا مگر ایسا ہرگز نہ ہوگا میری آیات کی مخالفت بھی کرے اور مزید نعمتیں بھی پائے۔ بعثت رسول کے بعد انکار عذاب کا سبب بنتا ہے۔ کہ آدمی اور قومیں مہلت پاتی ہیں مگر جب نبی اور رسول مبعوث ہوجائے تو اس کی مخالفت کرنے والے کو عذاب دینے والے ہوتے ہیں۔ اب اس کی مشکلات کا دور شروع ہوتا ہے صعود دوزخ کے پہا ڑکانام ہے مگر دنیا میں بھی آخرت کا پرتو ہے جس کے لیے عذاب وہاں بنتا ہے اور اس کا اثر مادی دنیا میں بھی شروع ہوجاتا ہے یہ کفر کرنے والا ایسا بدبخت ہے کہ اللہ کا کلام سن کر اس پر غور کرتا ہے تو درست پاتا ہے پھر انکار کی راہ سوچتا ہے اور یہ تباہ ہوجائے سوچتا کیا ہے اس پر دوبارہ لعنت فرمائی کہ کس قدر غلط بات طے کرتا ہے پھر دیکھ کر منہ بناتا ہے اور تیوری چڑھاتا ہے جیسے سخت ناگواری ہورہی ہو اور پھر تکبر سے اکڑتا ہواچل دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تو صرف جادو ہے جو آپ نے جمع کر رلیا ہے اور یہ سب انسان کی جمع کردہ باتیں ہیں۔ ولید بن مغیرہ مشرک کا قول ہے۔ قرآن کے احکام اور بات سب کے لیے عام ہے گو نزول ایک خاص شخص کی بات پر ہوا یہ ولید بن مغیرہ تھا جس نے کلام سن کر کہہ دیا کہ یہ انسانی کلام نہیں نہ جنوں یاکاہنوں کا ہے مگر ابوجہل سے مل کر جھٹلانے کی تدبیر سوچی اور پھر سب غور کرنے کے بعد جادو کہا حالانکہ دل سے مانتا تھا کہ یہ حق ہے فرمایا میں اس کو دوزخ کی آگ میں ڈالوں گا ایسی آگ جو کافروں کو چھوڑے گی نہیں بلکہ کھینچ کھینچ کر پکڑے گی کسی کو بھاگنے نہ دے گی اور جلا کر بھسم کردینے والی سخت ہوگی جس پر انیس فرشتے مقرر ہیں کہ ہم نے دوزخ میں عذاب دینے پر فرشتوں کو مقرر فرمایا ہے جن سے ملی بھگت نہیں ہوسکتی اور ان کی یہ تعداد بیان کرکے کفار کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔ جبکہ اہل کتاب جانتے ہیں ان کی کتابوں میں بھی یہ ذکر تھا اور مومنین کے لیے ایمان کی زیادتی کا سبب ہے نیز مسلمانوں اور اہل کتاب کو شک میں نہ پڑنا چاہیے کہ جن کے دلوں میں پہلے سے یہ مرض ہے یعنی کفار کہنے لگیں کہ ایسی باتوں سے اللہ کریم کا مقصود کیا ہے ایسے لوگوں کا جیسا عقیدہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ان سے ویسا سلوک کرتا ہے جیسے چاہتا ہے یعنی جس پر ناراض ہوتا ہے اسے گمراہ کردیتا ہے اور جس پر راضی ہوا سے ہدایت عطا فرمادیتا ہے رہی یہ بات کہ دوزخ پرانیس فرشتے ہی کیوں ؟ اس کے لشکر تو کم نہیں ہیں کہ ان کی تعداد سوائے اللہ کے کوئی گن نہیں سکتا لہذا یہ ممکن ہے یہ انیس سردار ہوں۔ انیس فرشتے۔ کہ علماء کے نزدیک نوباتیں بنیادی عقائد میں سے ہیں اور دس بنیادی اعمال میں باقی ساری زندگی کا عمل اسی کی فرع ہے تو اس طرح انیس بیادی باتوں پر انیس شعبے عذاب کے مقرر فرما کر ہر ایک پر سردار بنادیاہو اور ان کے تابع بیشمار لشکر ہوں ۔ واللہ اعلم۔ اور یہ کتاب سب کی سب انسان کو نصیحت کرنے کے لیے ہے۔
لغات القرآن۔ المدثر۔ چادر اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے۔ ثیاب۔ کپڑے۔ الرجز۔ گندگی ۔ ناپاکی۔ اھجر۔ اس کو چھوڑو۔ دوررہ۔ لاتمنن۔ احسان نہ جتا۔ تستکثر۔ زیادہ کی طلب۔ نقر۔ بچایا گیا۔ پھونکا گیا۔ الناقور۔ صور۔ وحید۔ تنہا۔ اکیلا۔ ممدود۔ پھیلایا گیا۔ شھود۔ سامنے۔ ہر جگہ۔ مھدت۔ میں نے تیار کردیا۔ یطمع۔ امید رکھتا ہے۔ عنید۔ نہ ماننے والا۔ ارھق ۔ میں چڑھا دوں گا۔ صعود۔ چڑھائی۔ اونچائی۔ عبس۔ اس نے تیوری چڑھائی۔ بسر۔ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔ یوثر۔ پہلے چلا آتا ہے۔ سقر۔ آگ۔ لاتذر۔ پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لواحۃ۔ جھلس ڈالنے والی۔ تسعۃ عشر۔ انیس۔ تشریح : اللہ تعالیٰ… کی طرح نہایت شفقت و محبت سے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو “ یایھا المدثر “ کہہ کر خطاب فرمایا ہے کہ اے چادر یا کمبل میں لپٹ کر بیٹھنے والے اب اٹھ کر کھڑے ہوجائیے اور وہ لوگ جو اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کی بندگی میں لگ کر بھٹک گئے ہیں ان کو اللہ کے خوف اور آخرت میں برے انجام سے ڈرائیے اور جس معاشرہ میں ہر شخص غرور، تکبر اور جہالت کا پتلا بنا ہوا ہے انہیں بتا دیجئے کہ اس کائنات اور آخرت میں اللہ کے سوا کسی کو کوئی بڑائی حاصل نہیں ہے۔ عقیدہ توحید کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ آج پوری دنیا عقیدوں اور اخلاق کی جند گندگیوں میں پڑی ہوئی ہے اس سے اپنے دامن کو بچا کر رکھئے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہر شخص کے ساتھ بےغرضانہ سخاوت اور حسن سلوک کا معاملہ کرتے رہیے اور کسی پر کوئی احسان اس جذبے سے نہ کیجئے کہ آج جو میں نے کسی کو کچھ دیا ہے کل اس سے بہتر وصول ہوجائے گا۔ جب آپ ان لوگوں کو اللہ کے دین اور ان سچائیوں پر چلائیں گے تو طرح طرح کے مصائب، مشکلات اور پریشانیاں آئیں گی ان پر محض اللہ کو راضی کرنے کے لئے صبر، برداشت اور تحمل سے کام لیجئے۔ قیامت کا دن انسان سے بہت دور نہیں ہے ایک صور پھونکا جائے گا تو کائنات میں ہر چیز ختم ہوجائے گی اور جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور اللہ کی ساری مخلوق میدان حشر میں جمع ہوجائے گی وہ کافروں کے لئے بہت ہی ہولنکا اور تباہ کن دن ہوگا اور اس میں ان کو سخت سزا دی جائے گی۔ وہ لوگ جنہیں دنیا کی معمولی سے دولت اور اولاد مل گئی ہے وہ اس پر اترار ہے ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں دنیا کی معمولی سی دولت اور اولاد مل گئی ہے وہ اس پر اترا رہے ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کر رہے ہیں۔ ان کی ہوس اور لالچ کا یہ حال ہے کہ انہیں جتنا کچھ دیا گیا ہے اس پر قناعت کرنے کے بجائے اس سے بھی زیادہ کی طلب میں بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ فرمایا ایسے لوگوں سے میں خود نبٹ لوں گا اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑئیے اور دیکھتے رہے کہ جس مال و دولت پر وہ اس قدر اکڑ رہے ہیں وہ اس دنیا کی زندگی تک ان کیس اتھ رہے گی اس کے بعد قیامت کے دن تو میں ایسے لوگوں کو جہنم کے ٹیلوں پر اس طرح چڑھاؤں گا کہ وہاں ان کی دولت، مال اور اولاد ان کے کسی کام نہ آسکے گی۔ ان کو ایسی جہنم میں جھونکا جائے گا جس کی آگ کی اتنی شدت ہوگی کہ وہ ہر چیز کو جلا کر خاک کردے گی اور کسی چیز کو نہ چھوڑے گی۔ ان کی کھالیں جھلس جائیں گی اور ان کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ اس جہنم پر ان کو عذاب دینے کے لئے ایک فرشتہ ہی کافی تھا لیکن اس جہنم پر انیس فرشتے مقرر ہوں گے (جن کے لاکھوں کروڑوں معاون اور مددگار فرشتے ہوں گے) ان سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہ مل سکے گا۔ یہ تو انیس فرشتے ہیں لیکن اللہ کے فرشتوں کا لشکر کتنا بڑا ہے اور اس کے کتنے فرشتے ہیں ان کی تعداد کا اندازہ کرنا ممکن ہی نہیں ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے موت کے فرشتے آنے سے پہلے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ جس نے توبہ کرلی اور دین کی سچائیوں کو اپنا کر ان پر چلنے کا ارادہ کرلیا دنیا اور آخرت کی بھلائی ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے لیکن اگر جانتے بوجھتے حق و صداقت کا مذاق اڑایا گیا اور اس کی حقیقت کا انکار کیا گیا تو اس کا انجام بڑا بھیانک ہوگا اور ناقابل تصور جہنم کی شدید آگ میں جھلسنا ہوگا۔ اللہ کے ہر حکم اور ارشاد کا یقینی ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ سورۃ المدثر کے چند الفاط کی تفصیل یہ ہے۔ 1۔ یایھا المدثر۔ اے چادر کو لپیٹ کر بیٹھنے والے۔ دثار اس لمبے کپڑے، چادر یا کمبل کا کہا جاتا ہے جو سردی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لئے کپڑوں کے اوپر اوڑھا جاتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا یھا المدثر کہنے میں ایک تو آپ کی شان محبوبیت کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے اس واقعہ کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جب سورة علق کی ابتدائی پانچ آیتوں کے نازل ہونے کے بعد کچھ عر سے کے لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کا سلسلہ بند ہوگیا تھا اس کو ” فترۃ الوحی “ کہا جاتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشادفرماتے ہیں کہ ایک دن میں کسی جگہ سے گزر رہا تھا کہ ایک آواز سنی۔ میں نے سراٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا ( اپنی اصلی صورت میں) زمین وآسمان کے درمیان ایک تخت پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں یہ دیکھ کر سخت پریشان ہوگیا۔ گھر پہنچ کر میں نے کہا مجھے اڑھائو، مجھے اڑھائو۔ اس کے کچھ عرصے بعد سورة ٔ مدثر کی مذکورہ آیتیں نازل فرمائیں اور پھر مجھ پر لگا تار وحی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اے چادر یا کمبل اوڑھ لپیٹ کر بیٹھنے والے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اٹھئے اور ساری دنیا کو پیغام الٰہی پہنچا دیجئے اور لوگوں کو ان کے برے اعمال کے بدترین انجام سے آگاہ کر دیجئے اور اس کا خوف دلائیے۔ اسی کو فرمایا قم فانذر اٹھئیے اور ڈرائیے۔ 2۔ وربک فکبر۔ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے۔ یعنی اپنے اس پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے جو ہر ایک بڑائی اور عظمت کا مستحق ہے۔ وہی سب سے بڑا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی بڑا اور قابل تعظیم نہیں ہے۔ یہاں اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ کسی شخص کا غرور وتکبر اور اپنی ذات کی بڑائی شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ جب کسی کو بڑی مقدار میں مال و دولت، راحت و آرام کے اسباب، بہترین سواریاں، کھیتی باڑی اور بلند وبالا مکانات، بلڈنگیں اولاد مل جاتی ہے تو وہ ان پر شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری اور غرور وتکبر کے راستے پر چل پڑتا ہے۔ اور اپنے سوا وہ ہر ایک کو کمتر اور ذلیل سمجھنے لگتا ہے۔ شیطان اس کو سمجھاتا ہے کہ اس دنیا میں نہ تو اس سے کوئی بڑا ہے نہ کوئی اور عزت و تعظیم کا مستحق ہے چناچہ جب ایسے لوگوں کو سمجھا یا جاتا ہے کہ وہ غرور تکبر نہ کریں تو یہ کہنے سے ان کا غرور وتکبر بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ جب نبی کریمو نے اعلان نبوت کے بعد اللہ کے کلام کی طرف متوجہ کیا تو وہ لوگ جو اپنے معاشرہ میں بڑے بن بیٹھے تھے سچائی کو سمجھنے کے باوجود اس سے منہ پھیر کر اللہ کے کلام کا انکار کر بیٹھے اور انہوں نے اللہ کے نبی کی بات ماننے کے بجائے اس طرح کے عیب تلاش کرنا شروع کردئیے جس سے اس ابھرتی ہوئی تحریک اور کام کی حیثیت کو گھٹایا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اپنے پروردگار کی بڑائی اور عظمت کا اعلان کرکے ساری دنیا کو بتا دیجئے کہ اس سے بڑھ کر دوسرا کوئی نہیں ہے۔ ساری عظمتوں کا مستحق صرف ایک اللہ ہے۔ 3۔ وثیابک فطھر۔ اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے۔ ان الفاط میں ایک تو صفائی ستھرائی اور کپڑوں کو پاک صاف رکھنے کا حکم ہے کیونکہ پاکی، صفائی اور ستھرائی جسمانی ہو یا روحانی وہ نصف ایمان ہے لیکن یہ الفاظ اور اس کے معانی اس قدر جامع ہیں اور ان کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ مفسرین نے ان کی مختلف تفسیریں بیان کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ عقیدہ توحید کو پھیلانے کے جس عظیم مقصد کو لے کر چل رہے ہیں اس میں اپنے نفس اور قلب کو، ظاہر اور باطن کو، اخلاق اور معاملات کو، روح اور جسم کو صاف ستھرا اور پاکیزہ رکھئے اور لباس جو انسان کی شخصیت کی پہنچان ہے اس کو غرور وتکبر اور شان و شوکت کی گندگیوں سے بچا کر رکھئے۔ 4۔ والرجز فاھجر۔ بتوں ( کی گندگی) سے دور رہیے۔ یعنی جس طرح آپ ہمیشہ سے بتوں اور ان کی گندگیوں سے دور رہے ہیں اسی طرح اب آپ ان لوگوں کو جو بتوں اور غیر اللہ کی عبادت و بندگی، نفسانی خواہشات، باپ دادا کی رسموں اور غیر انسانی زندگی کی گندگیوں میں ملوث ہو کر اپنے خالق حقیقی سے بھٹک کر دور چلے گئے ہیں ان کو سیدھے راستے پر لائیے۔ اور ان کو صراط مستقیم پر چلانے کی جدوجہد کیجئے۔ 5۔ ولا تمنن تستکثر۔ کسی پر زیادہ بدلہ چاہنے کے لئے احسان نہ جتائیے۔ یعنی کسی شخص پر کوئی احسان اور نیکی کرنے میں یہ جذبہ شامل نہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ اس وقت دیا ہے آئندہ اس سے زیادہ وصول ہوجائے گا۔ آپ محض اللہ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ایسی بےغرضانہ عطا و بخشش، سخاوت ، نیکی اور حسن سلوک کرتے رہیے جس میں بدلے اور صلے کی کوئی تمنا شامل نہ ہو۔ ہر کام کی بنیاد میں یہ جذبہ پنہاں ہو کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے۔ 6۔ ولربک فاصبر۔ اور اپنے رب کے لئے صبر کیجئے۔ صبر کا ایک مفہوم یہ ہے کہ ” نفس کو روکنا اور قابو میں رکھنا “ ۔ یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ جس راستے پر قدم رکھ رہے ہیں یہ کانٹوں بھرا راستہ ہے۔ یہاں قدم قدم پر سخت مشکلات، پریشانیاں اور مصائب آئیں گے۔ عرب کے یہی لوگ جو آج آپ کے راستے میں اپنی پلکیں بچھا رہے ہیں آپ کو صادق و امین کہتے ہیں یہی سب لوگ حق و صداقت کا اعلان کرنے کے بعد آپ کے مخالفت اور دشمن بن جائیں گے۔ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے اس وقت آپ پورے عزم و یقین کے ساتھ آگے بڑھتے جائیے اور ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے اپنے فرض کو پورا کرنے کی جدوجہد کیجئے۔ کسی کی پرواہ نہ کیجئے اپنے پروردگا کی رحمت پر امید رکھ کر صبر، تحمل اور برداشت سے کام لیجئے۔ 7۔ فاذ انقرفی الناقور۔ پھر جب صور میں پھونک ماری جائے گی۔ عربی زبان میں ” نقر “ کے معنی آواز دینے اور بلانے کے آتے ہیں۔ یعنی قیامت کے دن جب انسانی جسموں اور روحوں کو بلانے کے لئے آواز دی جائے گی۔ صور پھونکا جائے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن یہ دن کافروں کے لئے بہت سخت اور ناگوار دن ہوگا۔ کیونکہ اس دن ان کے تمام اعمال کا فیصلہ کرکے ان کو ایسی جہنم میں جھونکا جائے گا جہاں کی آگ ان کا حلیہ بگاڑ دے گی اور ان کو جلا کر خاک کرے دے گی۔ اس آگ میں ہر چیز کو جلاکر خاک کردینے کی ایسی صلاحیت ہوگی کہ اس آگ میں ڈالی جانے والی ہر چیز بھسم ہوجائے گی۔ 8۔ ذرنی ومن خلقت وحیدا۔ مجھ اور جس کو میں نے اکیلا پیدا کیا اس کا معاملہ مجھ پر چھوڑئیے۔ فرمایا کہ وہ شخص جسے میں نے مال و دولت ، بیٹوں اور ہر طرح کا سامان زندگی عطا کیا وہ اس پر شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کرتا ہے اور وہ اس مال و دولت کو اور زیادہ بڑھانے کی ہوس میں مبتلا ہے۔ ہماری آیتوں کی مخالفت اور دشمنی میں سب سے آگے ہے جب اس کے سامنے اللہ کا کلام پیش کیا جاتا ہے تو وہ اس کی حقانیت کو سمجھنے کے باوجود منہ اور پیٹھ پھیر کر اور غرور وتکبر سے تیوریاں چڑھا کر کہتا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ تو وہی جادو ہے جو پہلے لوگوں سے چلا آرہا ہے اور جس کلام کو اللہ کا کلام کہا جاتا ہے وہ خود سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا گیا ہے (نعوذ باللہ) ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان جیسے لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کیجئے۔ یہ جس مال و اسباب پر اتنا اترا رہے ہیں اس وقت تک کام دے سکتا ہے جب تک ان کو موت نہیں آجاتی۔ جب موت ا اجایے گی تو ان کو قبر میں اور قیامت میں یہ مال اللہ کے عذاب سے نہیں بچاسکتا۔ اللہ نے فرمایا کہ میں ان کو جہنم کی آگ سے بھرے ایسے ٹیلوں پر چڑھاؤں گا جہاں کی چڑھائی بھی بڑی سخت چڑھائی ہوگی۔ وہ جہنم جس پر اللہ کے انیس فرشتے مسلط ہوں گے وہ جہنم کی آگ ان کو جھلس کر رکھ دے گی اور ان کا حلیہ بگاڑ دے گی۔ 9۔ وما جعلنا عدتھم الافتنۃ۔ اور ہم نے (فرشتوں کی) تعداد کو ( کافروں کے لئے) آزمائش بنایا ہے۔ یعنی جہنم کے فرشتوں کی تعداد جو انیس بتائی گئی ہے درحقیقت یہ اہل ایمان کے لئے ایک آزمائش ہے۔ کافر تو یہ سن کر مذاق اڑائیں گے اور اہل کتاب اگر واقعی وہ اہل کتاب ہیں اس پوری حقیقت کو سمجھ لیں گے کہ اس سے اللہ کی مراد جہنم کی شدت کو بیان کرنا ہے لیکن جب کافر اس کو سنے گا تو وہ مذاق ہی اڑائے گا۔ اس لئے یہ تعداد ایک آزمائش ہے۔ لیکن جو صاحبان ایمان ہیں وہ سن کر اپنے ایمان میں اور ترقیاں حاسل کرلیں گے۔ قرا ان کریم تو سراسر ہدایت ہے وہ اس کے ذریعہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیدیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کردیتا ہے لیکن گمراہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے کفر اور گناہ کے راستے کا انتخاب کر رکھا ہے۔ ان آیتوں کا مفہوم واضح ہے لیکن علماء مفسرین نے آیتوں کی تشریح کرتے ہوئے ولید ابن مغیرہ کا واقعہ بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ مکہ مکرمہ میں ولید ابن مغیرہ انتہائی مال دار اور دولت مند شخص تھا جسے راحت و آرام کے تمام اسباب عطا فرمائے گئے تھے۔ اس کے دس بیٹھے تھے ان میں سب سے زیادہ مشہور حضرت خالد بن ولید (رض) تھے جو بعد میں ایمان لے آئے تھے۔ وہ سب بیٹے صحت مند، توانا ور لمبے چوڑے تھے۔ ہر مجلس اور ہر جگہ وہ اپنے باپ کے ساتھ ساتھ رہتے اور ان کی شادی اور وقار میں اضافے کا سبب بنتے تھے۔ عرب کا یہی ایک مال دار شخص تھا جس کے تجارتی مراکز عرب کے مختلف شہروں میں قائم تھے۔ مال و دولت کے ساتھ ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک اچھا شاعر اور عربی زبان پر اس کو بڑی قدرت حاصل تھی۔ ایک مرتبہ جب اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن حکیم کی تلاوت کرتے سنا تو ولید ابن مغر اس کلام کو سن کر جھوم اٹھا۔ اس کے دل پر قرآن کریم کی عظمت کا سکگہ بیٹھ گیا اور وہ بہت متاثر ہوا۔ ممکن اس نے ایمان قبول کرنے کا ارادہ کرلیا ہو اور اس کا ذکر کچھ لوگوں سے کردیا ہو۔ جب ابوجہل کو معلوم ہوا کہ ولید ابن مغیرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے کلام پر ایمان لانے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ بوکھلا اٹھا۔ اسے اس بات کا چھی طرح اندازہ تھا کہ اگر ولید ابن مگیرہ نے اسلام قبول کرلیا تو سارے عرب مین دین اسلام کو پھیلنے سے کوئی روک نہ سکے گا۔ وہ فوراً ہی ولید ابن مغیرہ کے پاس گیا اور نہایت ہوشیاری سے اس کو جہالت کی عصبیت پر ابھارتے ہوئے کہا کہ ولید تمہیں کیا ہوگیا تم انتہائی سمجھ دار آدمی ہو اور تم ایک ایسے نوجوان کی بتاون میں آگئے ہو جو کل کا نوجوان ہے۔ تم کیوں اپنی عزت کو داغ دار کر رہے ہو اور معاشرہ میں تمہارا جو مقام ہے اسے تم کیوں ڈبونے کے چک ر میں پھنس گئے ہو۔ اس نے یقین دلایا کہ یہ سب جادو کا اثر ہے اور یہ کلام ( حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود سے گھڑ لیا ہے۔ ابو جہل کی اس گفتگو کا اثر یہ ہوا کہ ولید ابن مغیرہ کا ذہن پلٹ گیا اور اس نے ابوجہل کی باتوں کو دھرانا شروع کردیا کہ یہ تو وہی جادو ہے جو خاندانوں میں جدائیاں ڈالنے والا اور آپس میں پھوٹ ڈالنے والا ہے۔ اس طرح ولید ابن مغیرہ ایمان کی دولت سے محروم ہوگیا۔ لیکن دین اسلام کی عظمت یہ ہے کہ وہی ولید ابن مغیرہ جو دنیاوی لالچ کی وجہ سے ایمان کی دولت سے محروم رہا اللہ نے اس کے بیٹے حضرت خالد بن ولید (رض) کو نہ صرف ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی بلکہ انہوں نے دربار نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیف اللہ کا خطاب حاصل کرکے تاریخ میں ایسے عظیم کارنامے سرانجام دئیے جو مومن مجاہدین کے لئے مشعل راہ ہیں۔
2۔ احادیث میں ہے کہ سب سے پہلے سورة اقراء کے شروع کی آیتیں نازل ہو کر بعض حکمتوں سے چندے وحی نازل نہ ہوئی پھر ایک بار جنگل میں آپ کو ایک آواز سنائی دی، اوپر نظر اٹھا کر دیکھا تو جبریل (علیہ السلام) ایک تخت پر درمیان زمین و آسمان کے بیٹھے ہیں، آپ ہیبت سے گھبرا کر گھر لوٹ آئے اور کپڑوں میں لپٹ گئے، اس پر اول کی آیتیں نازل ہوئیں، لفظ مدثر میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ آیتیں شروع نبوت کی ہیں اور بقیہ سورت کا بعد میں نزول ہوا ہے اور اتقان سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة مزمل کے بعد نزوال ہوا ہے یعنی بقیہ کا۔
فہم القرآن ربط سورت : سورة المزمل کی ابتداء اور اس کے آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تہجد کا ایک فائدہ یہ بتلایا گیا کہ تہجد کی نماز انسان میں ضبط نفس اور مستعدی پیدا کرتی ہے۔ المدثر کے آغاز میں حکم ہوا کہ اب آرام کا وقت ختم ہوا اس لیے ” اللہ “ کے راستے میں اٹھ کھڑے ہوں اور اپنا لباس پاک صاف رکھیں، شرک کی نجاست سے دور رہیں، تبلیغ کا کام کسی معاوضہ کی غرض سے نہ کریں اور اس راستے میں آنے والے مصائب پر صبر کرتے رہیں۔ سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک مدت تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل نہ ہوئی۔ اس مدت کے بارے میں محدثین اور مفسرین میں اختلاف ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ ایک سال تک وحی نازل نہیں ہوئی لیکن ثقہ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ سورة العلق کے نزول کے کچھ دن بعد سورة المدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ جن کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ (وَعَنْ جَابِرٍ (رض) اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَۃِ الْوَحْیِ قَالَ فَبَیْنَا اَنَا اَمْشِیْ سَمِعْتُ صَوْتًا عَنِِ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِیْ فَاِذَاالْمَلَکُ الَّذِیْ جَآءَ نِیْ بِحِرَاءَ قَاعِدٌ عَلٰی کُرْسِیٍّ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ فَجُءِثْتُ مِنْہُ رُعْبًاحَتّٰی ھَوَیْتُ اِلَی الْاَرْضِ فَجِءْتُ اِلٰی اَھْلِیْ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِیْ زَمِّلُوْنِیْ فَزَمَّلُوْنِْی فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی (یَا اَیُّھَاالْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ وَثِیَابَکَ فَطَھِّرْ وَالرُّجْزَفَاھْجُرْ ) ثُمَّ حَمِیَ الْوَحْیُ وَتَتَابَعَ ) (رواہ مسلم : باب بَدْءِ الْوَحْیِ إِلَی رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ وحی کے منقطع ہونے کے بارے فرما رہے تھے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان سے آواز سنی۔ نظر اٹھائی تو وہی فرشتہ جو میرے پاس حراء میں آیا تھا، وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس سے مجھے اتنا خوف لاحق ہوا کہ میں زمین کے ساتھ لگا جا رہا تھا۔ میں واپس اپنے گھروالوں کے پاس آیا اور انہیں کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو ، مجھے کپڑادو۔ انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ” اے کپڑا اوڑھنے والے ! کھڑے ہوجاؤ اور مخلوق کو اپنے رب کی کبریائی سے ڈراؤ اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھو، اور شرک سے کنارہ کش رہو اس کے بعد پے در پے اور مسلسل وحی آنے لگی۔ “ المدّثرکا آغاز بھی بڑے دلربا انداز میں ہوا۔ ارشاد ہوا کہ اے کپڑا اوڑھنے والے ! اللہ کے راستے میں کھڑے ہوجاؤ اور لوگوں کو ان کے برے اعمال کے برے انجام سے ڈراؤ اور لوگوں کو اپنے رب کی کبریائی سے آگاہ فرماؤ۔ یہ حکم سننے کے بعد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے راستے میں کھڑے ہوئے اور تیئس سال تک اس دعوت کے لیے کھڑے رہے نہ کاروبار کی طرف توجہ فرمائی اور نہ ہی اپنے آرام کا خیال رکھا۔ تہجد کی نماز میں بھی یہی فکر دامن گیر رہی اور دن بھی اسی کام میں گزرے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے کئی بار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ میرے نبی ! اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو کیا آپ ان کے لیے اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے ؟ (الشعراء : ٣، الکھف : ٦) المدّثر کی ابتدائی آیات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بنیادی ہدایات دی گئیں جو ہر مبلغ اور راہنما کے لیے ضروری ہیں۔ ١۔ راہنما اور مبلغ کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوم کو خطرات سے آ گاہ کرے، بالخصوص آخرت کے بارے میں لوگوں کو متنبہ کرتا رہے کیونکہ فکر آخرت کی بنیاد پر ہی انسان اپنے افکار اور کردار کو ٹھیک کرسکتا ہے، جو شخص آخرت کی جواب دہی سے لاپرواہ ہوجائے اس کا درست ہونا ناممکن ہوتا ہے۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رشتہ داروں اور ساتھیوں کو آخرت کے بارے میں ان الفاظ میں ڈرایا کرتے تھے۔ (عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ (رض) قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَسَیُکَلِّمُہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ بَیْنَ اللّٰہِ وَبَیْنَہٗ تُرْجُمَانٌ ثُمَّ یَنْظُرُ فَلَا یَرٰی شَیْءًا قُدَّامَہُ ثُمَّ یَنْظُرُ بَیْنَ یَدَیْہِ فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ یَتَّقِیَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍٍ ۔۔ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ ) (رواہ البخاری : باب کلام الرب عزوجل یوم القیامۃ مع الأنبیاء وغیرھم) ” حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر کسی کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام کریں گے، اللہ اور اس شخص کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، وہ دیکھے گا اس نے کیا عمل کیے ہیں، آدمی دیکھے گا تو سامنے آگ ہوگی تم میں جو استطاعت رکھتا ہے وہ آگ سے بچے چاہے اسے کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنا پڑے۔۔ جو یہ نہ پائے تو وہ اچھی بات کہے۔ “ (یَافَاطِمَۃَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ یَاصَفِیَّۃَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ یَابَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَاأَمْلِکُ لَکُمْ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا سَلُوْنِیْ مِنْ مَّالِیْ مَا شِءْتُمْ ) (رواہ مسلم : باب فی قولہ وأنذر عشیرتک الأقربین) ” اے محمد کی بیٹی فاطمہ اور عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ اور اے عبدلمطلب کی اولاد۔ میں تمہارے لیے اللہ کے ہاں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں گا البتہ میرے مال میں سے جتنا چاہو مطالبہ کرسکتے ہو۔ “ ٢۔ رَبَّکَ فَکَبِّرْ : جس بات سے لوگوں کو آگاہ کرنا اور ڈرانا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی ہے اگر انسان کو اپنے رب کی بڑائی اور کبریائی کا احساس ہوجائے تو وہ کبھی جان بوجھ کر اس کی نافرمانی نہ کرے۔ ہر انسان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی دم نہیں مار سکتا۔ وہ جب چاہے اور جس طرح چاہے انسان کو پکڑ سکتا ہے۔ اس کی پکڑ سے کوئی کسی کو چھڑا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے تصور سے انسان میں بیک وقت کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تصور رکھنے والے شخص کے دل میں تکبر کی بجائے عاجزی پیدا ہوتی ہے، وہ اپنوں کے سامنے عاجز اور متواضع ہوتا ہے اور اسلام کے دشمنوں کے سامنے شیر کی طرح دلیر اور پہاڑ کی مانند مضبوط ہوتا ہے۔ وہ رب ذوالجلال کے سوا کسی کو سپر پاور تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا احساس رکھنے کی وجہ سے وہ اپنے رب کے حکم کے سامنے سرفکندہ رہتا ہے۔ جس مبلغ کا ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کبریاء نہیں تو وہ دین بالخصوص اس کی توحید کا پرچار کرتے ہوئے کسی سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے المدثر یعنی دوسری وحی میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ اپنے رب کی کبریائی بیان کرو۔ اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرنے کا اوّلین مقصد یہ ہے کہ مبلغ دلائل کے ثابت کرے کہ ” اللہ “ کے سوا کوئی خالق، مالک، رازق اور معبود برحق نہیں ہے وہی مشکل کشا اور حاجت روا ہے یہی وہ دعوت ہے جس کے لیے تمام انبیاء کرام مبعوث کیے گئے اور اسی کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم ہوا کہ لوگوں کو اپنے رب کی کبریائی سے ڈرائیں۔ اللہ تعالیٰ کے کبریا ہونے کے عقیدے کی تقویت کے لیے اذان، اقامت، نماز اور اس کے بعد، عیدین کی نماز، عیدگاہ کی طرف آنے، جانے کے وقت، چڑھائی چڑھتے ہوئے، جانور ذبح کرتے ہوئے، یہاں تک کہ جمرات کو کنکریاں مارتے ہوئے اور حجر اسود کا بوسہ لیتے ہوئے بھی اللہ اکبر کہنے کا حکم ہے تاکہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سپر پاور نہ سمجھے مسلمانوں نے جب سے اللہ تعالیٰ کو اپنا کبریا ماننا چھوڑ دیا اسی وقت سے ذلیل ہونا شروع ہوئے ہیں۔ حالانکہ اس کا حکم ہے۔ (وَلَہُ الْکِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (الجاثیہ : ٣٧) ” زمین اور آسمانوں میں بڑائی اسی کے لیے ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدثر کے لقب سے پکارا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کو برے انجام سے ڈرانے کے لیے مبعوث فرمایا۔ ٣۔ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے عزیز و اقرباء اور لوگوں کو اللہ کی پکڑ سے ڈرایا۔ ٤۔ ” اللہ “ بہت بڑا ہے اس کی کبریائی پر ایمان لاتے ہوئے اس کی بڑائی کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن ہر قسم کی قوت اور کبریائی ” اللہ “ کے لیے ہے : ١۔ ” اللہ “ ہی رب ہے۔ ( لانعام : ١٠٢) ٢۔ ” اللہ “ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الرعد : ١٦) ٣۔ ” اللہ “ ہی ازلی اور ابدی ذات ہے۔ (الحدید : ٣) ٤۔ مشرق ومغرب ” اللہ “ کے لیے ہے۔ (البقرۃ : ١٤٢) ٥۔ ” اللہ “ غنی اور تعریف کیا گیا۔ ( فاطر : ٣٥) ٦۔ زمین و آسمان پر ” اللہ “ کی بادشاہی ہے۔ (آل عمران : ١٨٩) ٧۔ زمین و آسمانوں میں صرف ” اللہ “ ہی کبریا ہے اور وہ ہر چیز پر غالب اور بڑی حکمت والا ہے۔ (الجاثیہ : ٢٧) ٨۔ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے وہ ” اللہ “ کی ملکیت ہے اور ا ” اللہ “ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمران : ١٨٩)
یہ عالم بالا کی بہت ہی اہم آواز ہے۔ اور اس نہایت ہی اہم معاملے کے بارے میں ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ انسانوں کو ڈرانا ہے ، ان کو جگانا اور بیدار کرنا ہے اور دنیا میں ان کو شر و فساد سے بچانا ہے اور آخرت میں آگ سے بچانا ہے۔ اور وقت ختم ہونے سے قبل ہی نجات کا طریقہ اور امتحان میں کامیابی کی حکمت بتانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت ہی بڑی ذمہ داری ہے خصوصاً جبکہ یہ ذمہ داری ایک فرد بشر کے کاندھوں پر ڈال دی جائے۔ اگرچہ یہ فردو بشر نبی اور رسول ہو ، کیونکہ انسان اس قدر گمراہ ، سرکش ، باغی ، نافرمان ، معاند ، کج رو اور اپنے روبہ پر اصرار کرنے والا ہے کہ کسی انسان کے لئے اس کی اصلاح کا کام بہت ہی مشکل کام ہے۔ دنیا کے مشکل سے مشکل کام کے مقابلے میں بھی یہ زیادہ مشکل تر کام ہے۔ یایھا المدثر (1) قم فانذر (74:2) ” اے اوڑھ لپیٹ کرلیٹنے والے ، اٹھو اور خبردار کرو “۔ رسالت کے فرائض میں سب سے بڑا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو برے انجام سے ڈرایا جائے۔ اور ان کو متنبہ کیا جائے کہ خطرہ بہت قریب ہے۔ اور عذاب ان لوگوں کے لئے گھات میں بیٹھا ہوا ہے جو غافل ہیں اور جو بری راہوں پر سرپٹ دوڑ رہے ہیں اور ان کو خطرے کا کوئی شعور اور احساس نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے بندوں سے کس قدر زیادہ ہمدردی ہے اور وہ کس قدر رحیم ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اگر سب کے سب انسان گمراہ ہوجائیں تو وہ اللہ کی بادشاہت میں ذرہ برابر کمی نہیں کرسکتے اور اگر یہ سب کے سب ہدایت پر آجائیں تو اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ اللہ کا رحم وکرم ہے کہ وہ ان کو آخرت کے درد ناک عذاب سے بچانے کے لئے اب قدر انتظامات کرتا ہے۔ دنیا میں لوگوں کو شر سے بچاتا ہے۔ اور رسولوں کو بھیجتا ہے کہ آﺅ میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنے فضل وکرم سے جنت میں داخل کردوں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دینی دعوت کے لیے کھڑے ہوجانے کا حكم، اور بعض دیگر نصائح کا تذکرہ لفظ مدثر اصل میں متدثر تھا اس میں بھی تفعل کی ت فا کلمہ سے بدل کر اسی میں مدغم ہوگئی، اصل مادہ دثر (د ث ر) ہے جس کا معنی کپڑا اوڑھنے کا اور کپڑے میں لپٹنے کا ہے صحیح بخاری صفحہ ٢: ج ١ میں حضرت عائشہ (رض) سے پہلی مرتبہ وحی آنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غار حرا میں عبادت کے لیے متعدد راتیں گزارا کرتے تھے کھانے پینے کا سامان ساتھ لے جایا کرتے تھے ایک دن فرشتہ آیا اس نے کہا اقراء کہ پڑھیے (آگے آپ کی زبانی بیان کیا) میں نے کہا ما انا بقاری کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں اس پر فرشتے نے مجھے پکڑا اور مجھے اتنے زور سے دبایا کہ تکلیف انتہا کو پہنچ گئی پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور وہی بات کہی کہ اقراء میں نے وہی جواب دیا : ما انا بقاری پھر اس نے مجھے دوبارہ پکڑ کر اسی قدر دبایا کہ تکلیف انتہا کو پہنچ گئی فرشتے نے تیسری مرتبہ پھر مجھے دبایا اور چھوڑ دیا اور فرشتہ یوں عبارت پڑھتا چلا گیا : ﴿اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَۚ٠٠١ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ٠٠٢﴾ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عبارت سن لی اور اس کو دہرا لیا، اس کے بعد آپ وہاں سے اپنے گھر تشریف لے آئے اس وقت دل کانپ رہا تھا، اپنی اہلیہ خدیجہ بنت خویلد (رض) سے فرمایا زملونی زملونی (مجھے کپڑا اوڑھاؤ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ) چناچہ انہوں نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا، آپ تھوڑی دیر لیٹے رہے یہاں تک کہ گھبراہٹ کی کیفیت جاتی رہی اس کے بعد بہت دن تک وحی نہیں آئی۔ بعض حضرات نے کہا تین سال تک وحی رکی رہی۔ (قسطلانی) حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) نے فترۃ الوحی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یوں نقل کیا ہے کہ میں ایک دن جا رہا تھا میں نے آسمان سے آواز سنی نظر اٹھائی تو دیکھا کہ جو فرشتے میرے پاس حراء میں آیا تھا وہی آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اسے دیکھ کر مجھ پر رعب طاری ہوگیا میں واپس ہو کر گھر پہنچا اور وہی بات کہی کہ زملونی زملونی مجھے کپڑا اوڑھاؤ، مجھے کپڑا اوڑھاؤ، اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی ہیں ﴿ يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ٠٠١ قُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ٠٠٢ وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ٠٠٣ وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ٠٠٤ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ٠٠٥﴾ اس کے بعد مسلسل وحی آنے لگی اور آتی رہی۔ (صحیح بخاری صفحہ ٣ : جلد ١) مذکورہ بالا آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اول تو ﴿ يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ٠٠١﴾ سے مخاطب فرمایا کیونکہ اس وقت آپ کپڑا اوڑھے ہوئے تھے پھر حکم فرمایا کہ ﴿ قُمْ ﴾ (آپ کھڑے ہوجایئے) ﴿فَاَنْذِرْ۪ۙ٠٠٢﴾ (اور آپ ڈرایئے) اس میں آپ کو دعوت توحید کے کام پر مامور فرما دیا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یوں تو آپ بشیر بھی تھے اور نذیر بھی لیکن ابتدائے نبوت میں چونکہ انذار ہی غالب تھا اس لیے صرف انذار کا ذکر فرمایا یہ بطور اکتفاء ہے جس میں ایک چیز کو ذکر کیا جاتا ہے اور دوسری چیز کو چھوڑ دیا جاتا ہے کیونکہ وہ شے مذکور سے سمجھ میں آتی ہے۔
2:۔ ” یا ایہا المدثر “ اصل میں متدثر تھا۔ فائے تفعل میں دال واقع ہونے کی وجہ سے تائے تفعل کو دال سے بدل کر ادغام کردیا گیا۔ یہ دثار سے ماخوذ ہے۔ دثار اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جو بدن سے متصل ملبوسات کے اوپر اوڑھا جاتا ہے مثلا موٹی چادر یا کمبل وغیرہ۔ المتدثر وھو الذی یتدثر بثیابہ لینام او لیستدفئ (کبیر ج 8 ص 347) ۔ پہلی وحی کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حسب معمول غار حرا میں تشریف لے گئے جب اپنے معمول سے فارغ ہو کر پہاڑ سے نیچے اترے تو کسی نے آپ کو آواز دی آپ نے آپ نے ہر طرف دیکھا لیکن آپ کو کوئی شخص نظر نہ آیا۔ پھر آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو آپ کو فضا میں کرسی پر بیٹھا ہوا وہی فرشتہ نظر آیا جو غار حرا میں پہلی بار آپ کے پاس آیا تھا آپ اس کو دیکھ کر ڈر گئے اور آپ پر لرزہ کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ گھر تشریف لائے اور گھر والوں سے فرمایا ” دثرونی “ مجھے کپڑا اوڑھا دو ۔ آپ کپڑا اوڑھ کر لیٹ گئے تو اسی حالت میں یہ سورت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، روح) ۔ سورت کی ابتداء ہی میں سورت کا دعوی مذکور ہے، فرمایا کپڑوں میں ملبوس آرام و استراحت فرمانے والے اب آرام کا وقت نہیں اب اٹھ کر ہمت باندھ اور مخلوق خدا کو جو شرک میں مبتلا ہے خدا کے عذاب سے ڈرا ان کو شرک سے منع کر اور ان کو توحید کی دعوت دے۔ الانذار دعائہم الی التوحید لانہ المقصود بہا (النبوۃ) (قرطبی ج 19 ص 60) ۔ ” وربک فکبر “ اپنے رب کی عظمت وکبریائی کا اعلان کر اور مشرکین کے شرک اور افتراء سے اس کی تقدیق و تنزیہ فرما۔ المقصود الاولی من الامر بالقیام ان یکبر ربہ وینزہہ من الشرک (ابو السعود ج 8 ص 350) ۔ ومعنی کبر عظمہ عن الحدوث و عن سمات النقص والزوال و عن التشریک فی وجوب الوجود والالوھیۃ والتشریک فی العبادۃ الخ (مظہری ج 10 ص 124) ۔