Surat ul Mudassir

Surah: 74

Verse: 5

سورة المدثر

وَ الرُّجۡزَ فَاہۡجُرۡ ۪﴿ۙ۵﴾

And uncleanliness avoid

ناپاکی کو چھوڑ دے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And keep away from Ar-Rujz! Ali bin Abi Talhah reported from Ibn `Abbas, "Ar-Rujz are idols, so keep away from them." Similar to this was said by Mujahid, `Ikrimah, Qatadah, Az-Zuhri and Ibn Zayd, "Verily, it is the idols." This is like Allah's statement, يأَيُّهَا النَّبِىِّ اتَّقِ اللَّهَ وَلاأَ تُطِعِ الْكَـفِرِينَ وَالْمُنَـفِقِينَ O Prophet! have Taqwa of Allah, and obey not the disbelievers and the hypocrites. (33:1) and Allah's statement, وَقَالَ مُوسَى لاًّخِيهِ هَـرُونَ اخْلُفْنِى فِى قَوْمِى وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ And Musa said to his brother Harun: "Replace me among my people, act well and follow not way of the corrupters." (7:142) Then Allah says, وَلاَ تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 یعنی بتوں کی عبادت چھوڑ دے۔ یہ دراصل لوگوں کو آپ کے ذریعے سے حکم دیا جا رہا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] باطنی صفائی :۔ رُجْزٌ سے مراد ظاہری میل کچیل، گندگی اور نجاست بھی ہے۔ اور باطنی یعنی دل کی نجاست یا گندگی بھی۔ اس لفظ کا اطلاق ان تمام شیطانی وساوس پر ہوتا ہے جو دل میں موجود ہوں۔ خواہ یہ غیر اللہ کی عبادت سے متعلق ہوں یا برے خیالات سے۔ اور یہ باطنی صفائی ظاہری صفائی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(والرجز فاھجر :) اس کا لفظی معنی ہے ” اور پلیدی کو پس چھوڑ دے۔ “ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی پلیدی سے علیحدہ رہو۔” رجز “ اور ” رجس “ ایک ہی چیز ہے، اس کا سب سے پہلا مصداق بت اور غیر اللہ کے آستانے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(فاجتبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور) (الحج : ٣٠)” پس بوتں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بچو۔ “ یعنی پلیدی سے بچو، جو بت ہیں۔ علاوہ ازیں ” الرجز “ (پلیدی) میں ہر قسم کے فاسد اعتقاد، برے اخلاق جھوٹے اقوال ، قبیح اخلاق اور نظر آنے والی اور نظر نہ آنے والی تمام نجاستیں شامل ہیں۔ ان دونوں آیتوں میں داعی کو خود کو ہر لحاظ سے پاک صاف رکھنے کی تاکید ہے ، کیونکہ اگر وہ خود ہی ناپاک یا آلودہ ہوگا تو اس کی دعوت کیا اثر کرے گی ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Injunction [ 4] وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (...and keep away from filth...74:5). The letters &RJZ& may be read as rujz or rUz, and in either case the word has the same significance. Mujahid, ` Ikramah, Qatadah, Zuhri, Ibn Zaid and other leading authorities of Tafsir interpret the word rujz as &idols& in this context. According to a narration of Sayyidna Ibn ` Abbas, it signifies &any sin&. The verse enjoins to give up idols or sins. Although the Holy Prophet never indulged in idolatry at any time in his life, he is commanded, for emphasis, to abstain from it in future as he kept away from it in the past. This command is in actual fact directed to the idolaters, so that they may realise the importance of abstaining from idol-worship, as it enjoins the Holy Prophet to shun all filth [ idols and sins ] despite being sinless and infallible.

چوتھا حکم یہ دیا گیا والرُّجْزَ فَاهْجُرْ ، رجز بضم الرا کسر ہادونوں کے ایک ہی معنے ہیں۔ ائمہ تفسیر مجاہد، عجرمہ، قتادہ، زہری، ابن زید وغیرہ نے اس جگہ رجز کے معنے بتوں کے قرار دیئے ہیں اور حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں اس سے مراد ہر گناہ اور مصیبت منقول ہے۔ معنے آیت کے یہ ہیں کہ بتوں کو یا گناہ و معصیت کو چھوڑیئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو پہلے ہی سب کو چھوڑے ہوئے تھے آپ کو اس کا حکم کرنے کے معنے یہ ہیں کہ آئندہ بھی ان چیزوں سے دور رہیں اور درحقیقت یہ حکم امت کے لئے تعلیم ہے جو غایت تاکید کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرکے دیا گیا ہے کہ تاکہ وہ سمجھیں کہ جب پیغمبر معصوم کو بھی اس کا حکم ہے تو ہمیں اس کا کیسا اہتمام کرنا چاہیئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ۝ ٥ رجز أصل الرِّجْزِ : الاضطراب، ومنه قيل : رَجَزَ البعیرُ رَجَزاً ، فهو أَرْجَزُ ، وناقة رَجْزَاءُ : إذا تقارب خطوها واضطرب لضعف فيها، وشبّه الرّجز به لتقارب أجزائه وتصوّر رِجْزٍ في اللسان عند إنشاده، ويقال لنحوه من الشّعر أُرْجُوزَةٌ وأَرَاجِيزُ ، ورَجَزَ فلان وارْتَجَزَ إذا عمل ذلك، أو أنشد، وهو رَاجِزٌ ورَجَّازٌ ورِجَّازَةٌ. وقوله : عَذابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ [ سبأ/ 5] ، فَالرِّجْزُ هاهنا کالزّلزلة، وقال تعالی: إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلى أَهْلِ هذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزاً مِنَ السَّماءِ [ العنکبوت/ 34] ، وقوله : وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ [ المدثر/ 5] ، قيل : هو صنم، وقیل : هو كناية عن الذّنب، فسمّاه بالمآل کتسمية النّدى شحما . وقوله : وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّماءِ ماءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطانِ [ الأنفال/ 11] ، والشّيطان عبارة عن الشّهوة علی ما بيّن في بابه . وقیل : بل أراد برجز الشّيطان : ما يدعو إليه من الکفر والبهتان والفساد . والرِّجَازَةُ : کساء يجعل فيه أحجار فيعلّق علی أحد جانبي الهودج إذا مال وذلک لما يتصوّر فيه من حرکته، واضطرابه . ( ر ج ز ) الرجز اس کے اصل معنی اضطراب کے ہیں اور اسی سے رجز البعیر ہے جس کے معنی ضعف کے سبب چلتے وقت اونٹ کی ٹانگوں کے کپکپائی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کے ہیں ایسے اونٹ کو ارجز اور ناقہ کو رجزاء کہا جاتا ہے اور شعر کے ایک بحر کا نام بھی رجز ہے جس میں شعر پڑھنے سے زبان میں اضطراب سا معلوم ہوتا ہے اور جو قصیدہ اس بحر میں کہا جائے اسے ارجوزۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع اراجیز آتی ہے اور رجز فلان وارتجز کے معنی بحر رجز پر شعر بنانے يا ارجوه پڑہنے کے ہیں اور رجز گو شاعر کو راجز ، رجاز اور رجازۃ کہا جاتا ہے ۔ اور آیت : ۔ عَذابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ [ سبأ/ 5]( ان کیلئے ) عذاب دردناک کی سزا ہے ۔ میں لفظ رجز زلزلہ کی طرح عذاب سے کنایہ ہے ۔ اور فرمایا : ۔ إِنَّا مُنْزِلُونَ عَلى أَهْلِ هذِهِ الْقَرْيَةِ رِجْزاً مِنَ السَّماءِ [ العنکبوت/ 34] ہم ان پر ایک آسمانی آفت نازل کرنے والے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ [ المدثر/ 5] اور نجاست سے الگ رہو ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ رجز سے بت مراد ہیں ۔ بعض نے اس سے ہر وہ عمل مراد لیا ہے جس کا نتیجہ عذاب ہو اور گناہ کو بھی مآل کے لحاظ سے عذاب کہا جاسکتا ہے جیسے ندی بمعنی شحم آجاتا ہے اور آیت : ۔ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّماءِ ماءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطانِ [ الأنفال/ 11] اور آسمانوں سے تم پر پانی برسا رہا تھا تاکہ اس کے ذریعہ سے تم کو پاک کرے اور شیطانی گندگی کو تم سے دور کرے ۔ میں رجز الشیطان سے مراد خواہشات نفسانی ہیں جیسا کہ اس کے محل میں بیان کیا گیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے کفر بہتان طرازی فساد انگیزی وغیرہا گناہ مراد ہیں جن کی کہ شیطان ترغیب دیتا ہے ۔ رجازۃ وہ کمبل جس میں پتھر وغیرہ باندھ کر اونٹ کے ہودہ کا توازن قائم رکھنے کیلئے ایک طرف باندھ دیتے ہیں اس میں بھی حرکت و اضطراب کے معنی ملحوظ ہیں ۔ هجر الهَجْرُ والهِجْرَان : مفارقة الإنسان غيره، إمّا بالبدن، أو باللّسان، أو بالقلب . قال تعالی: وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضاجِعِ [ النساء/ 34] كناية عن عدم قربهنّ ، وقوله تعالی: إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً [ الفرقان/ 30] فهذا هَجْر بالقلب، أو بالقلب واللّسان . وقوله : وَاهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلًا [ المزمل/ 10] يحتمل الثلاثة، ومدعوّ إلى أن يتحرّى أيّ الثلاثة إن أمكنه مع تحرّي المجاملة، وکذا قوله تعالی: وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] ، وقوله تعالی: وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ [ المدثر/ 5] ، فحثّ علی المفارقة بالوجوه كلّها . والمُهاجرَةُ في الأصل : مصارمة الغیر ومتارکته، من قوله عزّ وجلّ : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] ، وقوله : لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] ، وقوله : وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] ، فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] فالظاهر منه الخروج من دار الکفر إلى دار الإيمان کمن هاجر من مكّة إلى المدینة، وقیل : مقتضی ذلك هجران الشّهوات والأخلاق الذّميمة والخطایا وترکها ورفضها، وقوله : إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي [ العنکبوت/ 26] أي : تارک لقومي وذاهب إليه . وقوله : أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ واسِعَةً فَتُهاجِرُوا فِيها [ النساء/ 97] ، وکذا المجاهدة تقتضي مع العدی مجاهدة النّفس کما روي في الخبر : «رجعتم من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر» وهو مجاهدة النّفس . وروي : (هاجروا ولا تهجّروا) أي : کونوا من المهاجرین، ولا تتشبّهوا بهم في القول دون الفعل، والهُجْرُ : الکلام القبیح المهجور لقبحه . وفي الحدیث : «ولا تقولوا هُجْراً» وأَهْجَرَ فلان : إذا أتى بهجر من الکلام عن قصد، ( ھ ج ر ) الھجر والھجران کے معنی ایک انسان کے دوسرے سے جدا ہونے کے ہیں عام اس سے کہ یہ جدائی بدنی ہو یا زبان سے ہو یا دل سے چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضاجِعِ [ النساء/ 34] پھر ان کے ساتھ سونا ترک کر دو ۔ میں مفا رقت بدنی مراد ہے اور کنایتا ان سے مجامعت ترک کردینے کا حکم دیا ہے اور آیت : ۔ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوراً [ الفرقان/ 30] کہ میری قوم نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا ۔ میں دل یا دل اور زبان دونوں کے ذریعہ جدا ہونا مراد ہے یعنی نہ تو انہوں نے اس کی تلاوت کی اور نہ ہی اس کی تعلیمات کی طرف دھیان دیا اور آیت : ۔ وَاهْجُرْهُمْ هَجْراً جَمِيلًا [ المزمل/ 10] اور وضع داری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ رہو ۔ میں تینوں طرح الگ رہنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی جملا کی قید لگا کر اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ حسن سلوک اور مجاملت کیس صورت میں بھی ترک نہ ہونے پائے ۔ اس طرح آیت وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا [ مریم/ 46] اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا ۔ میں بھی ترک بوجوہ ثلا ثہ مراد ہے اور آیت : ۔ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ [ المدثر/ 5] اور ناپاکی سے دور رہو ۔ میں بھی ہر لحاظ سے رجز کو ترک کردینے کی ترغیب ہے ۔ المھاجر رۃ کے اصل معنی تو ایک دوسرے سے کٹ جانے اور چھوڑ دینے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهاجَرُوا وَجاهَدُوا[ الأنفال/ 74] خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور ۃ کفار سے ) جنگ کرتے رہے ۔ اور آیات قرآنیہ : ۔ لِلْفُقَراءِ الْمُهاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيارِهِمْ وَأَمْوالِهِمْ [ الحشر/ 8] فے کے مال میں محتاج مہاجرین کا ( بھی ) حق ہے ۔ جو کافروں کے ظلم سے ) اپنے گھر اور مال سے بید خل کردیئے گئے ۔ وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهاجِراً إِلَى اللَّهِ [ النساء/ 100] اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے ۔ فَلا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِياءَ حَتَّى يُهاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ النساء/ 89] تو جب تک یہ لوگ خدا کی راہ میں ( یعنی خدا کے لئے ) ہجرت نہ کر آئیں ان میں سے کسی کو بھی اپنا دوست نہ بنانا ۔ میں مہاجرت کے ظاہر معنی تو دار الکفر سے نکل کر وادلاسلام کی طرف چلے آنے کے ہیں جیسا کہ صحابہ کرام نے مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی لیکن بعض نے کہا ہے کہ ہجرت کا حقیقی اقتضاء یہ ہے کہ انسان شہوات نفسانی اخلاق ذمیمہ اور دیگر گناہوں کو کلیۃ تر ک کردے اور آیت : ۔ إِنِّي مُهاجِرٌ إِلى رَبِّي [ العنکبوت/ 26] اور ابراہیم نے کہا کہ میں تو دیس چھوڑ کر اپنے پروردگاع کی طرف ( جہاں کہیں اس کو منظور ہوگا نکل جاؤ نگا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ میں اپنی قوم کو خیر باد کہ کر اللہ تعالیٰ کی طرف چلا جاؤں گا ۔ اور فرمایا : ۔ أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ واسِعَةً فَتُهاجِرُوا فِيها [ النساء/ 97] کیا اللہ تعالیٰ کی ( اتنی لمبی چوڑی ) زمین اس قدر گنجائش نہیں رکھتی تھی کہ تم اس میں کسی طرف کو ہجرت کر کے چلے جاتے ۔ ہاں جس طرح ظاہری ہجرت کا قتضا یہ ہے کہ انسان خواہشات نفسانی کو خیر باد کہہ دے اسی طرح دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے میں بھی مجاہدۃ بالنفس کے معنی پائے جاتے ہیں چناچہ ایک حدیث میں مروی ہے آنحضرت نے ایک جہاد سے واپسی کے موقع پر صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ۔ کہ تم جہاد اصغر سے جہاد اکبر کیطرف لوٹ رہے ہو یعنی دشمن کے ساتھ جہاد کے بعد اب نفس کے ساتھ جہاد کرنا ہے، وفي الحدیث : «ولا تقولوا هُجْراً»

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥۔ ٧) اور گناہوں سے علیحدہ رہیے اور ان کے قریب بھی نہ جایے اور دنیا میں کسی کو معمولی چیز اس غرض سے مت دو کہ اس سے زائد دے گا یا یہ کہ اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ پر احسان مت کرو کہ اس سے زیادہ معاوضہ چاہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥{ وَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ ۔ } ” اور ہر قسم کی گندگی سے دور رہیے۔ “ یعنی ظاہری اور باطنی نجاستوں سے خود کو بچا کر رکھئے۔ ظاہر ہے باطنی گندگیوں میں سب سے بڑی گندگی شرک ہے۔ (اسی لیے بعض مترجمین نے الرُّجْزَ کا ترجمہ ” بتوں کی گندگی “ کیا ہے۔ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 "Filth" implies every kind of filth, whether of belief and thought, of morals and deeds, of the body, dress or mode of life. The versemeans: "Keep yourself free from the filth of evils which are prevalent in society around you: no one should ever impute to you the blame that your own life itself is stained in some degree with the evils that you tell others to avoid."

سورة الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :5 گندگی سے مراد ہر قسم کی گندگی ہے خواہ وہ عقائد اور خیالات کی ہو ، یا اخلا ق و اعمال کی ، یا جسم و لباس اور رہن سہن کی ، مطلب یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش سارے معاشرے میں طرح طرح کی جو گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان سب سے ا پنا دامن بچا کر رکھو ۔ کوئی شخص کبھی تم پر یہ حرف نہ رکھ سکے کہ جن برائیوں سے تم لوگوں کو روک رہے ہو ان میں سے کسی کا بھی کوئی شائبہ تمہاری اپنی زندگی میں پایا جاتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: بہت سے مفسرین نے یہاں گندگی سے مراد بت لئے ہیں، لیکن الفاظ ہر قسم کی گندگی کے لئے عام ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(74:5) والرجز فاھجر : واؤ عاطفہ۔ الرجز۔ پلیدی ، گناہ، عذاب، بت ۔ بغوی لکھتے ہیں رجز سے مراد اوثان یعنی بت ہیں۔ بعض کا قول ہے رجس (پلیدی) سے ہے بوجہ ہم مخرج ہونے کے س اور ز کو ایک دوسرے کی جگہ لے آتے ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ رجز (ر کے پیش کے ساتھ) بمعنی بت۔ اور ر کی زیر کے ساتھ لمبی نجاست و معصیت ہے۔ ف جزائیہ ہے (ملاحظہ ہو 74:3 مذکورہ بالا) اھجر فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ھجر (باب نصر) مصدر۔ بمعنی چھوڑ دینا۔ دور رہنا۔ اور بتوں سے (حسب سابق) دور رہئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 جیسا کہ دوسری جگہ دوسری جگہ فرمایا فاخبنیوا الرجس من الاوثان “ اور بتوں کی گندی سے بچو “ (حج 30) رجز کے دوسرے معنی گناہ کے بھی ہیں یعنی ہر اس کام سے الگ رہو جو گناہ کا باعث ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ باوجود احتمال نہ ہونے کے یہ امر فرمانا اشارہ ہے اہتمام شان توحید کی طرف کہ ایسی ضروری چیز ہے کہ معصوم کو بھی باوجود احتیاج نہ ہونے کے اس کی تعلیم کی جاتی ہے تو غیر معصوم تو بدرجہ اولی اس کا مکلف ہوگا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(3) آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ شرک ترک کردیں اور تمام وہ افعال ترک کردیں جو آخرت میں عذاب کا موجب ہوں گے۔ والرجز فاھجر (74:5) ” اور گندگی سے دور ہوجاﺅ“۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو پہلے سے ہر قسم کے شرک اور ان باتوں سے اجتناب کررہے تھے جو آخرت میں عذال کے موجب تھے اور منصب نبوت پر فائز ہونے سے پہلے ہی آپ اس ہدایت پر عمل پیرا تھے ، کیونکہ آپ نے اللہ کے حکم سے پہلے اپنی فطرت سلیمہ کے تقاضے کے مطابق ان برائیوں کو ترک کردیا تھا۔ تمام نظریاتی ، اخلاقی ، رواجی اور عملی جاہلیت سے آپ پہلے سے مجتنب تھے۔ کسی روایت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ آپ نے کسی جاہلی رسم اور شرکیہ عمل میں شرکت کی ہو۔ پس یہ ہدایت دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ آپ ان سے دور رہیں اور یہ چیزیں اسلام سے لگا نہیں کھاتیں۔ کوئی اسلامی روش ان کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔ اس لئے آپ کو بطور تاکید ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ان چیزوں سے دور رہیں۔ ” رجز “ کے معنی عذاب کے ہوتے ہیں ، اس کے بعد اس کا اطلاق ان باتوں پر بھی ہوا جو عذاب کے اسباب تھے یعنی ان چیزوں کو چھویں بھی نہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مزید فرمایا ﴿ وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ (اور گناہوں کو چھوڑے رہو) اس میں اعضاء کی تطہیر کا حکم بھی ہوگیا کیونکہ عموماً گناہ اعضاء وجوارح سے ہوتے ہیں، بعض حضرات نے الرجز سے عبادۃ الاصنام مراد لیا ہے یعنی بتوں کی عبادت چھوڑو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی بتوں کی عبادت نہیں کی یہ خطاب آپ کے توسط سے مشرکین مکہ کو ہے۔ صاحب روح المعانی نے (صفحہ ١٣٦: ج ٢٩) بعض اکابر سے نقل کیا ہے کہ الرجز سے دنیا مراد ہے جو سب سے بڑا بت ہے کیونکہ بتوں کی عبادت تو مندروں میں ہوتی ہے اور دنیا کی عبادت ہر جگہ مساجد تک میں دنیا کی عبادت ہوتی ہے یعنی دنیا کے لیے جنگ کی جاتی ہے۔ دنیا کے لیے مساجد بنائی جاتی ہیں۔ دنیا کے لیے قرآن پڑھایا جاتا ہے دنیا کے لیے وعظ و تقریر کو اختیار کیا جاتا ہے جس میں اللہ کی رضا مقصود نہیں ہوتی اپنی تعریف کروانا حاضرین سے پیسے لینا وغیرہ وغیرہ مقصود ہوتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) اور ہر قسم کی پلیدگی کو خوب پاک رکھو۔