Surat ul Mudassir

Surah: 74

Verse: 50

سورة المدثر

کَاَنَّہُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۵۰﴾

As if they were alarmed donkeys

گویا کہ وہ بد کے ہوئے گدھے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] آخرت میں تو سب حالات ان کے سامنے آجائیں گے اور وہ اپنے جرائم کا اعتراف بھی کرلیں گے مگر آج ان کی یہ صورت حال ہے کہ اگر کوئی نصیحت کی بات کہی جائے تو اسے سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اور وہاں سے یوں منہ موڑ کر بھاگ اٹھتے ہیں۔ جیسے جنگلی گدھے کسی شیر کی دھاڑ سن کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر پیچھے مڑ کر دیکھنے کا نام ہی نہیں لیتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَاَنَّہُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ۝ ٥٠ ۙ حمر الحِمَار : الحیوان المعروف، وجمعه حَمِير وأَحْمِرَة وحُمُر، قال تعالی: وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ [ النحل/ 8] ، ويعبّر عن الجاهل بذلک، کقوله تعالی: كَمَثَلِ الْحِمارِ يَحْمِلُ أَسْفاراً [ الجمعة/ 5] ، وقال تعالی: كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ [ المدثر/ 50] ، وحمار قبّان : دويّبة، والحِمَارَان : حجران يجفّف عليهما الأقط شبّه بالحمار في الهيئة، والمُحَمَّر : الفرس الهجين المشبّه بلادته ببلادة الحمار . والحُمْرَة في الألوان، وقیل : ( الأحمر والأسود) للعجم والعرب اعتبارا بغالب ألوانهم، وربما قيل : حمراء العجان والأحمران : اللحم والخمر اعتبارا بلونيهما، والموت الأحمر أصله فيما يراق فيه الدم، وسنة حَمْرَاء : جدبة، للحمرة العارضة في الجوّ منها، وکذلک حَمَّارَة القیظ : لشدّة حرّها، وقیل : وِطَاءَة حَمْرَاء : إذا کانت جدیدة، ووطاءة دهماء : دارسة . ( ح م ر ) الحمام ( گدھا ) اس کی حمر وحمیر واحمرتہ آتی ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ [ النحل/ 8] اور گھوڑے خچر اور گدھے ۔ کبھی حمار کے لفظ سے جاہل اور بےعلم آدمی بھی مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ كَمَثَلِ الْحِمارِ يَحْمِلُ أَسْفاراً [ الجمعة/ 5] ان کی مثال گدھے کی سی ہے جس پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں ۔ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ [ المدثر/ 50] گویا گدھے ہیں جو بدک جاتے ہیں ۔ حمار قبان ایک قسم کا کیڑا ( جسے فارسی میں خرک کہا جاتا ہے ) الجمار ( ان دو پتھر جن پر پنیر خشک کیا جاتا ہے ہیئت میں حمار سے تشبیہ کے طور پر کہا جاتا ہے اور گدھے کے ساتھ جلاوت میں تشبیہ دیکر و غلی نسلی کے گھوڑے کو بھی المحمر کہا جاتا ہے الحمرۃ سرخی ۔ الاحمر الاسود ( عرب ) وعجم ( اس میں عمومی رنگت کا لحاظ کیا گیا ہے ) اور کبھی حمراء العجان ( کنایہ ازعجم ) بھی کہا جاتا ہے ۔ الاحمران ۔ گوشت اور شراب الموت الاحمر سخت موت ، وہ موت جو قبل راقع ہو سنۃ حمراء قحط سالی کیونکر اس میں فضا کا رنگ سرخ نظر آتا ہے اسی بنا پر سخت گرمی کو حمرۃ القیط کہا جاتا ہے ۔ وطاءۃ حمراء قدم کا تازہ نشان س کے بالمقابل مٹے ہوئے نسان کو وطاءۃ دھماء بولتے ہیں ۔ نفر النَّفْرُ : الانْزِعَاجُ عن الشیءِ وإلى الشیء، کالفَزَعِ إلى الشیء وعن الشیء . يقال : نَفَرَ عن الشیء نُفُوراً. قال تعالی: ما زادَهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ فاطر/ 42] ، وَما يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ الإسراء/ 41] ونَفَرَ إلى الحربِ يَنْفُرُ ويَنْفِرُ نَفْراً ، ومنه : يَوْمُ النَّفْرِ. قال تعالی: انْفِرُوا خِفافاً وَثِقالًا [ التوبة/ 41] ، إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذاباً أَلِيماً [ التوبة/ 39] ، ما لَكُمْ إِذا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 38] ، وَما کانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ [ التوبة/ 122] . ( ن ف ر ) النفر ( عن کے معنی کسی چیز سے رو گردانی کرنے اور ( الی کے ساتھ ) کسی کی طرف دوڑنے کے ہیں جیسا کہ نزع کا لفظ الیٰ اور عن دونوں کے ساتھ استعمال ہوتا ہے محاورہ ہے نفر عن الشئی نفورا کسی چیز سے دور بھاگنا ۔ قرآن میں ہے ما زادَهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ فاطر/ 42] تو اس سے ان کی نفرت ہی بڑھی ۔ وَما يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ الإسراء/ 41] مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں ۔ نفر الی الحرب ( ض ن ) نفر لڑائی کیلئے نکلنا اور اسی سی ذی الحجہ کی بار ھویں تاریخ کو یوم النفر کہا جاتا ہے کیوں کہ اس روز حجاج منیٰ سے مکہ معظمہ کو واپس ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے انْفِرُوا خِفافاً وَثِقالًا[ التوبة/ 41] تم سبکسار ہو یا گراں بار ( یعنی مال واسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت گھروں سے نکل آؤ ۔ إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذاباً أَلِيماً [ التوبة/ 39] اگر نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا ۔ ما لَكُمْ إِذا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ التوبة/ 38] تمہیں کیا ہوا کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں جہاد کے لئے نکلو وما کان الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ [ التوبة/ 122] اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہیں کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(74:50) کانھم : کان حرف مشابہ بفعل۔ اس کا اسم منصوب اور خبر مرفوع ہوتی ہے لہٰذا ہم کان کا اسم اور حمر مستنفرۃ اس کی خبر۔ حمر حمار کی جمع۔ گدھے مستفرۃ اسم فاعل واحد مؤنث استفار (استفعال) مصدر سے۔ بدک کر بھاگنے والے۔ نفر مادہ۔ نفار (باب ضرب) دوڑنا۔ دور ہوجانا۔ نفور بھاگنے والا۔ کانھم حمر مستنفرۃ گویا کہ وہ بدک کر بھاگنے والے گدھے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخرت میں ان کی یہ بدحالی ہوگی اور دنیا میں ان کا یہ حال ہے کہ نصیحت سے منہ موڑتے ہیں اعراض کر کے چلے جاتے ہیں اور اعراض بھی معمولی نہیں سخت اعراض کرتے ہیں۔ اسی کو فرمایا ﴿ كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ٠٠٥٠ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ٠٠٥١﴾ (قرآن کی باتیں سن کر وہ اس طرح اعراض کرتے ہیں کہ گویا گدھے ہیں جو شیر سے متنفر ہو کر بھاگ رہے ہیں، قسورۃ کا ترجمہ شیر کیا گیا ہے یہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے منقول ہے۔ كما ذکر فی معالم التنزیل وفیہ اقوال اخرو ھذہ الکلمة لا واحدلھا من لفظھا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(50) کہ گویا وہ جنگلی اور وحشی گدھے ہیں۔