Surat ul Qiyama
Surah: 75
Verse: 15
سورة القيامة
وَّ لَوۡ اَلۡقٰی مَعَاذِیۡرَہٗ ﴿ؕ۱۵﴾
Even if he presents his excuses.
اگرچہ کتنے ہی بہانے پیش کرے ۔
وَّ لَوۡ اَلۡقٰی مَعَاذِیۡرَہٗ ﴿ؕ۱۵﴾
Even if he presents his excuses.
اگرچہ کتنے ہی بہانے پیش کرے ۔
Nay! Man will be well informed about himself, though he may put forth his excuses. meaning, he will be a witness against himself, knowing full well what he did, even though he will try to make excuses and deny it. This is as Allah says, اقْرَأْ كَتَـبَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا (It will be said to him): "Read your book. You are sufficient as a reckoner against yourself this Day." (17:14) Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said, بَلِ الاِْنسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ Nay! Man will be well informed about himself. "His hearing, his sight, his two hands, his two legs and his limbs." Qatadah said, "This means he is a witness against himself." In another narration from Qatadah he said, "By Allah! If you wish to see him, you would see him as someone who sees the shortcomings of the people and their sins, yet he is heedless of his own sins." It used to be said, "Verily, it is written in the Injil: `O Son of Adam, do you see the small splinters in the eye of your brother and disregard the tree stump that is in your eye, so you do not see it"' Mujahid said, وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (Though he may put forth his excuses).) "This means, even though he argues in defense of it, he is a witness against it." Qatadah said, وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (Though he may put forth his excuses).) "Even though he will try to make false excuses on that Day, they will not be accepted from him." As-Suddi said, وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (Though he may put forth his excuses).) "This means his argument." This is as Allah says, ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ There will then be no Fitnah for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah." (6:23) Allah also says, يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهِ جَمِيعاً فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَىْءٍ أَلاَ إِنَّهُمْ هُمُ الْكَـذِبُونَ On the Day when Allah will resurrect them all together; then they will swear to Him as they swear to you (O Muslims). And they think that they have something. Verily, they are liars! (58:18) Al-`Awfi reported from Ibn `Abbas: وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (Though he may put forth his excuses). "This is apologizing. Haven't you heard that Allah said, لااَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ The Day when their excuses will be of no profit to wrongdoers. (40:52) and He says, وَأَلْقَوْاْ إِلَى اللَّهِ يَوْمَيِذٍ السَّلَمَ And they will offer submission to Allah on that Day. (16:87) and He says, فَأَلْقَوُاْ السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ Then they will (falsely) submit: "We used not to do any evil." (16:28) and their statement, وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah. (6:23)"
15۔ 1 یعنی لڑے جھگڑے، ایک سے ایک بہانہ کرے، لیکن ایسا کرنا نہ اس کے لئے مفید ہے اور نہ وہ اپنے ضمیر کو مطمئن کرسکتا ہے۔
[١١] یعنی یہ تحریری اعمال نامہ تو انسان کے سامنے صرف اس لیے رکھا جائے گا کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنے اچھے یا برے کیے ہوئے اعمال کا پورا پتا ہوتا ہے۔ اور وہ جو حیلے بہانے تراشتا ہے تو محض اس لیے کہ انسان اپنا قصور ماننے کو قطعاً تیار نہیں ہوتا۔ یہ بیسیوں باتیں بنا سکتا ہے۔ حیلے بہانے بنا سکتا ہے۔ مگر اپنا قصور ماننے سے اس کی انا مجروح ہوتی ہے اور وہ اسے موت کے مترادف سمجھتا ہے۔ دنیا میں بھی اس کا یہی حال ہے اور آخرت میں بھی بعض عادی مجرم ایسی باتیں بنانے کی کوشش کریں گے۔
(١) لاتحرک بہ لسانک…: ابن عباس (رض) عنہمانے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید اترتے وقت بہت تکلیف محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ساتھ ساتھ ہونٹ ہلاتے جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ ان علینا جمعہ وقرآنہ)” تو اس کیساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے کہ اسے جلدی حاصل کرے۔ بلاشبہ اس کو جمع کرنا اور (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا) اس کو پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔” ابن عباس (رض) عنہمانے فرمایا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کا اسے پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔” فاذا قرانہ فاتبع قرآن ہ “ تو جب ہم اسے پڑھیں تو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔” ثم ان علینا بیانہ “ پھر یہ ہمارے ذمے ہے کہ آپ اسے پڑھیں گے۔ اس کے بعد جب جبریل (علیہ السلام) آپ کے پاس آتے تو آپ کان لگا کر سنتے رہتے، جب وہ چلے جاتے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی طرح پڑھ لیتے جیسے جبریل (علیہ السلام) نے پڑھا تھا۔ (بخاری، بدء الوحی، باب کیف کان بداء الوحی : ٥)” جمعہ وقرآنہ “ سے اولین مراد یہی ہے جو ابن عباس (رض) عنہمانے بیان فرمائی، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے قرآن جمع کرنے اور اسے پڑھنے کی تمام صورتیں اس میں شامل ہیں اور اس کے جمع و نشر کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ چناچہ خلفاء کا قرآن مجید کو جمع کرنا، لکھوانا اور حفاظ کا حفظ کرنا، ریڈیو، ٹیلی ویژن، پریس اور کمپیوٹر کے ذریعے سے قرآن کا جمع اور نشر ہونا بھی اس میں شامل ہے۔ (٢) ثم ان علینا بیانہ “ سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی وضاحت ک ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود اٹھایا ہے اور یہ وضاحت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے سے فرمائی ہے، جو حدیث و سنت کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ مثلاً قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نماز قائم کرنے کا حکم دیا تو اس کی تشریح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عمل اور فرمان کیساتھ کردی کہ نمازوں کے اوقات کیا ہیں اور نمازیں کتنی ہیں۔ ان کی رکعات، قیام، رکوع، سجود وغیرہ کی ترتیب اور ان میں پڑھے جانے والے اذکار، غرض یہ سب کچھ قرآن کا بیان ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے سے کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم ولعلھم یتفکرون) (النحل : ٣٣) ” اور (اے رسول ! ) ہم نے تیری طرف یہ ذکر نازل کیا ہے، تاکہ تو لوگوں کے لئے اس (ذکر) کی وضاحت اور تشریح کر دے جو ان کی طرف نازل کیا گیا اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔ “ معلوم ہوا کہ حدیث قرآن ہی کا بیان ہے، اس لئے اس پر عمل کرنا بھی اسی طرح واجب ہے جس طرح قرآن پر عمل کرنا واجب ہے۔ (٣) ” فاذا قرانہ “ (جب ہم اسے پڑھیں) سے مراد یہ ہے کہ جب جبریل (علیہ السلام) پڑھ رہے ہوں، کیونکہ ان کا پڑھنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے، اسلئے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے خود اپنی طرف فرمائی۔ (٤) سورت کے شروع میں منکرین حشر اور منکرین قیامت کا ذکر ہے، سورت کے آخر میں بھی یہی ذکر ہے، درمیان میں یہ آیات ہیں جن کا بظاہر ماقبل اور مابعد سے کوئی ربط نہیں۔ اس لئے بعض شیعہ مفسرین نے یہاں تک لکھ دیا کہ اس سورت میں کچھ آیات رہ گئی ہیں مگر یہ بات غلط ہے، کیونکہ اس کا رد خود ان آیات میں موجود ہے کہ قرآن کا جمع کرنا اللہ کے ذمے ہے، پھر اس میں سے آیات کس طرح رہ سکتی ہے ؟ اور یہ با بھی صحیح سندوں سے ثابت ہے کہ قرآن مجید کی آیات کی یہ ترتیب خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بتائی ہوئی ہے، جیسا کہ عثمان بن عفان (رض) عنہمانے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک قوت میں کئی سورتیں نازل ہو رہی ہوتی تھیں، جب کوئی چیز نازل ہوتی تو آپ کسی وحی لکھنے والے کو بلاک ر فرماتے کہ یہ آیات اس سورت میں لکھو جس میں فلاں فلاں بات کا ذکر ہے اور جب آپ پر کوئی ایٓ اترتی تو فرماتے اسے اس سورت میں لکھ دو جس میں فلاں فلاں بات کا ذکر ہے۔ (ترمذی، التفسیر، باب سورة التوبۃ : ٣٠٨٦) ابو داؤد، نسائی ، مسند احمد، مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ان آیات کا ربط ماقبل اور مابعد کے ساتھ بنانے کی کوشش کی ہے مگر ابن عباس (رض) کی تفسیر کے بعد جو بہترین سندوں کے ساتھ امام بخاری (رح) نے قنل فرمائی ہے۔ خود ساختہ ربط کی تکلیف اٹھاتا سراسر تکلف ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کے وقت اور سورة طہ کی آیت (١١٤) : ولا تعجل بالقرآن من قبل ان یقضی الیک وحیہ) (نازل ہونے کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جبریل (علیہ السلام) کے ساتھ پڑھنے کا موقع پیش آیا اور اس وقت ممانتع کا یہ حکم نازل ہوا اور اس مقام پر قرآن میں لکھ دیا یا۔ اس کی مثال ایسے ہی سمجھیں جیسے کوئی استاذ شاگرد کو کوئی چیز پڑھا رہا ہو اور درمیان میں اس کی کسی حرکت کی اصلاح کے لئے کہے ” ایسا مت کرو “ اور پہلا سلسلہ کلام جاری کر دے تو ٹیپ ریکارڈر میں یہ بات بھی ریکارڈ ہوجائے گا اور لفظ بلفظ تحریر میں بھی اسی طرح نقل ہوگی۔ درمیان میں آنے والی اس بات کا معنوی ربط وتعلق ماقبل ومابعد سے جوڑنا تکلف ہوگا، مگر اس بات کو بےمحل نہیں کہہ سکتے، یقیناً اس موقع پر یہی بات ضروری تھی اور یہ بھی ربط کی ایک صورت ہے کہ موقع و محل کے تقاضے سے یہ الفاظ درمیان میں آگئے۔
وَّلَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَہٗ ١٥ ۭ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ عذر العُذْرُ : تحرّي الإنسان ما يمحو به ذنوبه . ويقال : عُذْرٌ وعُذُرٌ ، وذلک علی ثلاثة أضرب : إمّا أن يقول : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، فيذكر ما يخرجه عن کو نه مذنبا، أو يقول : فعلت ولا أعود، ونحو ذلک من المقال . وهذا الثالث هو التّوبة، فكلّ توبة عُذْرٌ ولیس کلُّ عُذْرٍ توبةً ، واعْتذَرْتُ إليه : أتيت بِعُذْرٍ ، وعَذَرْتُهُ : قَبِلْتُ عُذْرَهُ. قال تعالی: يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لا تَعْتَذِرُوا[ التوبة/ 94] ، والمُعْذِرُ : من يرى أنّ له عُذْراً ولا عُذْرَ له . قال تعالی: وَجاءَ الْمُعَذِّرُونَ [ التوبة/ 90] ، وقرئ ( المُعْذِرُونَ ) «2» أي : الذین يأتون بالعذْرِ. قال ابن عباس : لعن اللہ المُعَذِّرِينَ ورحم المُعَذِّرِينَ «3» ، وقوله : قالُوا مَعْذِرَةً إِلى رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 164] ، فهو مصدر عَذَرْتُ ، كأنه قيل : أطلب منه أن يَعْذُرَنِي، وأَعْذَرَ : أتى بما صار به مَعْذُوراً ، وقیل : أَعْذَرَ من أنذر «4» : أتى بما صار به مَعْذُوراً ، قال بعضهم : أصل العُذْرِ من العَذِرَةِ وهو الشیء النجس «5» ، ومنه سمّي القُلْفَةُ العُذْرَةُ ، فقیل : عَذَرْتُ الصّبيَّ : إذا طهّرته وأزلت عُذْرَتَهُ ، وکذا عَذَرْتُ فلاناً : أزلت نجاسة ذنبه بالعفو عنه، کقولک : غفرت له، أي : سترت ذنبه، وسمّي جلدة البکارة عُذْرَةً تشبيها بِعُذْرَتِهَا التي هي القُلْفَةُ ، فقیل : عَذَرْتُهَا، أي : افْتَضَضْتُهَا، وقیل للعارض في حلق الصّبيّ عُذْرَةً ، فقیل : عُذِرَ الصّبيُّ إذا أصابه ذلك، قال الشاعر : 313- غمز الطّبيب نغانغ المَعْذُورِ «1» ويقال : اعْتَذَرَتِ المیاهُ : انقطعت، واعْتَذَرَتِ المنازلُ : درست، علی طریق التّشبيه بِالمُعْتَذِرِ الذي يندرس ذنبه لوضوح عُذْرِهِ ، والعَاذِرَةُ قيل : المستحاضة «2» ، والعَذَوَّرُ : السّيّئُ الخُلُقِ اعتبارا بِالعَذِرَةِ ، أي : النّجاسة، وأصل العَذِرَةِ : فناءُ الدّارِ ، وسمّي ما يلقی فيه باسمها . ( ع ذ ر ) العذر ایسی کوشش جس سے انسان اپنے گناہوں کو مٹا دینا چاہئے اس میں العذر اور العذر دو لغت ہیں اور عذر کی تین صورتیں ہیں ۔ اول یہ کہ کسی جرم کے ارتکاب سے قطعا انکار کردے دوم یہ کہ ارتکاب جرم کی ایسی وجہ بیان کرے جس سے اس کی براءت ثابت ہوتی ہو ۔ سوم یہ کہ اقرار جرم کے بعد آئندہ اس جرم کا ارتکاب نہ کرنے کا وعدہ کرلے عذر کی اس تیسری صورت کا نام تو بہ ہے جس سے ثابت ہو ا کہ تو بہ عذر کی ایک قسم ہے لہذا ہر توبہ کو عذر کہ سکتے ہیں مگر ہر عذر کو توبہ نہیں کہہ سکتے اعتذرت الیہ میں نے اس کے سامنے عذر بیان کیا عذرتہ میں نے اس کا عذر قبول کرلیا ۔ قرآن پاک میں ہے ۔ يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْقُلْ لا تَعْتَذِرُوا[ التوبة/ 94] تو تم سے عذر کرینگے ان سے کہ دو کہ عذر مت کرو ۔ المعذر جو اپنے آپ کو معذور سمجھے مگر دراصل وہ معزور نہ ہو ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَجاءَ الْمُعَذِّرُونَ [ التوبة/ 90] عذر کرتے ہوئے ( تمہارے پاس آئے ) ایک قرات میں معذرون ہے یعنی پیش کرنے والے ابن عباس رضی للہ عنہ کا قول ہے : ۔ یعنی جھوٹے عذر پیش کرنے والوں پر خدا کی لعنت ہو اور جو واقعی معذور ہیں ان پر رحم فرمائے اور آیت کریمہ : ۔ قالُوا مَعْذِرَةً إِلى رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 164] تمہارے پروردگار کے سامنے معزرت کرسکیں ۔ میں معذرۃ عذرت کا مصدر ہے اور اسکے معنی یہ ہیں کہ میں اس سے در خواست کرتا ہوں کہ میرا عذر قبول فرمائے اعذ ر اس نے عذر خواہی کی اپنے آپ کو معذور ثابت کردیا ۔ کہا گیا ہے اعذر من انذر یعنی جس نے ڈر سنا دیا وہ معذور ہے بعض نے کہا ہے کہ عذر اصل میں عذرۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی نجاست اور گندگی کے ہیں اور اسی سے جو چمڑا ختنہ میں کاٹا جاتا ہے اسے عذرۃ کہا جاتا ہے اور عذرت الصبی کے معنی ہیں میں نے لڑکے کا ختنہ کردیا گو یا اسے ختنہ کی نجاست سے پاک دیا اسی طرح عذرت فلانا کے معنی ہیں میں نے اسے معانی دے کر اس سے گناہ کی نجاست کو دور کردیا جیسا کہ غفرت لہ کے معنی ہیں میں نے اس کا گناہ چھپا دیا اور لڑکے کے ختنہ کے ساتھ تشبیہ دے کر لڑکی کے پردہ بکارت کو بھی عذرۃ کہا جاتا ہے اور عذر تھا کے معنی ہیں میں نے اس کے پردہ بکارت کو زائل کردیا اوبچے کے حلق کے درد کو بھی عذرۃ کہا جاتا ہے اسی سے عذرالصبی ہے جس کے معنی بچہ کے درد حلق میں مبتلا ہونے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ( 305 ) غمز الطیب نعاجن المعذور جیسا کہ طبیب درد حلق میں مبتلا بچے کا گلا دبا تا ہے اور معتذر عذر خواہی کرنے والے کی مناسبت سے اعتذرت المیاۃ پانی کے سر چشمے منقطع ہوگئے اور اعتذرت المنازل ( مکانوں کے نشانات مٹ گئے ۔ وغیرہ محاورات استعمال ہوتے ہیں اور عذرۃ ( یعنی نجاست کے اعتبار ) سے کہاجاتا ہے ۔ العاذرۃ وہ عورت جسے استحاضہ کا خون آرہا ہو عذور ۔ بدخلق آدمی دراصل عذرۃ کے معنی مکانات کے سامنے کا کھلا میدان ہیں اس کے بعد اس نجاست کو عذرۃ کہنے لگے ہیں جو اس میدان میں پھینکی جاتی ہے ۔
قول باری ہے (ولو القی معاذیرہ۔ چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے) حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ خواہ وہ اعتذار کیوں نہ کرے۔ ایک قول کے مطابق اپنی ذات پر اس کی اپنی گواہی جو اس کے اعضاء وجوارح دیں اس کے اعتذاد سے اولیٰ ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت کے الفاظ میں جب ان تمام معانی کا احتمال موجود ہے تو آیت کو ان پر محمول کرنا واجب ہے، کیونکہ ان معانی کے مابین کوئی منافات نہیں ہے۔ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس ذات کے بارے میں اس کا قول قابل قبول ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اس کی ذات پر حجت اور شاہد کی حیثیت دی ہے۔ انسان کا اپنی ذات کے بارے میں آگاہ ہونے کو اسے اپنی ذات پر گواہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ بات اپنی ذات پر اس کی گواہی اور اس کے ثبوت کے معاملے کی تاکید پر دلالت کرتی ہے۔ یہ بات اس کے تمام عقود اورک اس کے اقرار اور اس کی ذات پر لازم ہونے والے امور سے تعلق رکھنے والے اس کے اعترافات کے جواز کو واجب کرتی ہے۔
آیت ١٥{ وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ ۔ } ” اور چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ “ ظاہر ہے دنیا میں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی چرب زبان شخص خود ساختہ عذر پیش کر کے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے ممکن ہے وہ وقتی طور پر متعلقہ لوگوں کو مطمئن کرلے لیکن اس کا ضمیر اس کو مسلسل یاد دلاتا رہتا ہے کہ تم جھوٹے ہو۔ اب آئندہ آیات میں خطاب کا رخ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہوگیا ہے اور ساتھ ہی کلام کا صوتی آہنگ بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ ان آیات کے آخر میں قُــرْاٰنَــہٗ ‘ بَیَانَہٗ جیسے الفاظ آرہے ہیں۔ جیسے کہ آغاز میں ذکر ہوا تھا ‘ یہ سورت اپنے اسلوب اور صوتی آہنگ کے اعتبار سے چھوٹے چھوٹے کئی حصوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ہر حصے کی خوبصورتی اور انفرادیت آیات کے آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ کی وجہ سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے ۔ مثلاً ابتدائی آیات کا اختتام قِیَامَہ ‘ لَوَّامہ ‘ عِظَامَہ ‘ بَنَانَہ ‘ اَمَامَہ جیسے الفاظ پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد چند آیات کے آخر میں الْـبَصَر ‘ القَمَر ‘ المَفَر ‘ وَزَر ‘ الْمُسْتَقر جیسے الفاظ آئے۔ جبکہ گزشتہ دو آیات کے اختتامی الفاظ (بصیرۃ ، معاذیرہ) آپس میں ہم آواز ہیں۔ صوتی آہنگ اور اسلوب کی یہ تبدیلی سورت کی آئندہ آیات میں بھی مسلسل نظر آئے گی۔
10 That is, the object of placing man's record before him will not be to inform the culprit of his crimes, but this will be done because the demands of justice are not fulfilled unless the proof of the crime is produced before the court; otherwise everyman fully well knows what he actually is. For the sake of self- knowledge he dces not need that another one should tell him what he is. A liar can deceive the whole world but he him self knows that he lies. A thief can devise a thousand devices to conceal his crime but he himself is aware that he is a thief. A person involved in error can present a thousand arguments to assure the people that he is honestly convinced of the disbelief, atheism or polytheism, which he professes and follows, but his own conscience is never unaware of why he persists in that creed and what, in fact, prevents him from understanding and admitting its error and falsity. An unjust, wicked, dishonest, unmoral and corrupt person can even suppress the voice of his own conscience by inventing one or another excuse so that it may stop reproaching him and should be satisfied that he is doing whatever he is doing only because of certain compulsions, expediencies and genuine needs, but despite this he has in any case the knowledge of what wrong he has committed against a certain person, how he has deprived another of his rights, how he deceived still another and that unlawful methods he used to gain what he has gained. Therefore, at the time when one appears in the Court of the Hereafter, every disbeliever, every hypocrite, every wicked person and culprit will himself be knowing what he has done in the world and for what crime he stands before his God.
سورة الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :10 یعنی آدمی کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھنے کی غرض در حقیقت یہ نہیں ہو گی کہ مجرم کو اس کا جرم بتایا جائے ، بلکہ ایسا کرنا تو اس وجہ سے ضروری ہو گا کہ انصاف کے تقاضے بر سر عدالت جرم ثبوت پیش کیے بغیر پورے نہیں ہوتے ۔ ورنہ ہر انسان خوب جانتا ہے کہ وہ خود کیا ہے ۔ اپنے آپ کو جاننے کے لیے وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ کوئی دوسرا اسے بتائے کہ وہ کیا ہے ۔ ایک جھوٹا دنیا بھر کو دھوکہ دے سکتا ہے ، لیکن اسے خود تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے ۔ ایک چور لاکھ حیلے اپنی چوری چھپانے کے لیے اختیار کر سکتا ہے ، مگر اس کے اپنے نفس سے تو یہ بات مخفی نہیں ہوتی کہ وہ چور ہے ۔ ایک گمراہ آدمی ہزار دلیلیں پیش کر کے لوگوں کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ وہ جس کفر یا دہریت یا شرک کا قائل ہے وہ درحقیقت اس کی ایماندارانہ رائے ہے ، لیکن اس کا اپنا ضمیر تو اس سے بے خبر نہیں ہوتا کہ ان عقائد پر وہ کیوں جما ہوا ہے اور ان کی غلطی سمجھنے اور تسلیم کرنے سے دراصل کیا چیز اسے روک رہی ہے ۔ ایک ظالم ، ایک بد دیانت ، ایک بد کردار ، ایک حرام خور اپنی بد اعمالیوں کے لیے طرح طرح کی معذرتیں پیش کر کے خود اپنے ضمیر تک کا منہ بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے تاکہ وہ اسے ملامت کرنے سے باز آجائے اور یہ مان لے کہ واقعی کچھ مجبوریاں ، کچھ مصلحتیں ، کچھ ضرورتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ یہ سب کچھ کر رہا ہے ، لیکن اس کے باوجود اس کو یہ علم تو بہرحال ہوتا ہی ہے کہ اس نے کس پر کیا ظلم کیا ہے ، کس کا حق مارا ہے ، کس کی عصمت خراب کی ہے ، کس کو دھوکا دیا ہے اور کن ناجائز طریقوں سے کیا کچھ حاصل کیا ہے ۔ اس لیے آخرت کی عدالت میں پیش ہوتے وقت ہر کافر ، ہر منافق ، ہر فاسق و فاجر اور مجرم خود جانتا ہو گا کہ وہ کیا کر کے آیا ہے اور کس حیثیت میں آج اپنے خدا کے سامنے کھڑا ہے ۔
5: مطلب یہ ہے کہ اِنسان خود بھی جانتا ہے کہ اُس نے کیا گناہ کئے ہیں، اگرچہ وہ ان کا جواز تلاش کرنے کے لئے بہانوں اور تأویلوں کا سہارا لے۔
(75:15) ولو القی معاذیرۃ : واؤ وصلیہ، لو بمعنی اگرچہ۔ خواہ ۔ القی۔ ماضی واحد مذکر غائب (ضمیر فاعل الانسان کی طرف راجع ہے) القاء (افعال) مصدر بمعنی ڈالنا۔ معاذیر جمع معذرۃ واحد۔ مصدر بمعنی عذر۔ معذرت۔ عذر اور عذر ایسی بات جس سے قصور پر گرفت نہ ہو۔ عذر تین طرح کا ہوتا ہے :۔ (1) ارتکاب جرم سے انکار کردینا۔ (2) ارتکاب جرم کی کوئی ایسی وجہ بیان کرنا جس سے جرم کی سزا سے بچ جائے۔ (3) اقرار جرم کے بعد آئندہ جرم نہ کرنے کا وعدہ کرنا۔ اس تیسری شق کو تو بہ کہا جاتا ہے۔ ولو القی معازیرہ : ای ولوجاء بکل معذرۃ ماقبلت منہ (جلالین) خواہ وہ تمام عذرات پیش کرے وہ قبول نہیں کئے جائیں گے۔ خواہ وہ زبان سے ہزار بہانے بنائے۔ (ضیاء القرآن) معاذیر میں نصب بوجہ مفعول ہونے کے ہیں اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے۔ (75:16) فائدہ : بقول حضرت ابن عباس (رض) علیہ بوقت نزول وحی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اندیشہ ہونا تھا کہ نازل شدہ آیات کا کوئی حصہ چھوٹ نہ جائے اس لئے دوران نزول میں چپکے چپکے لبوں کو حرکت دیتے رہتے تھے۔ اس کی ممانعت میں اللہ تعالیٰ نے لا تحرک بہ لسانک ۔۔ ثم ان علینا بیانہ بطور جملہ معترضہ ارشاد فرمایا ۔ بات کرتے وقت اگر مخاطب بھی بولنے لگے تو متکلم اس سے کہتا ہے ذرا خاموش رہو میری بات نہ کاٹو، پوری بات سن لو، پھر تم کو بولنے کا حق ہے یہ درمیانی کلام بطور ہدایت بول کر متکلم پھر اصل مدعا پر کلام شروع کردیتا ہے یہاں قیامت کا بیان چل رہا تھا اس جملہ معترضہ کے بعد پھر وہی سلسلہ کلام جاری ہے۔
ف 3 شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی اپنے احوال میں غور کرے تو رب کی وحدانیت جانے اور جو کہے میری سمجھ میں نہیں آتا یہ بہانے میں (موضح)
4۔ یعنی انسان اپنے سب حال کو خوب جانتا ہوگا اس لئے جتلانا اعلام کے لئے نہ ہوگا بلکہ تفریع و اتمام حجت و قطع جواب کے لئے ہوگا۔
﴿ وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗؕ٠٠١٥﴾ (اگرچہ حیلے بہانے پیش کرے) یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جب معاذیر اعذار کے معنی میں ہو اور یہ معنی ﴿ يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ ﴾ کے موافق ہے اور بعض حضرات نے معاذیر کا معنی مستور جمع ستر بمعنی پردہ کیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان اگرچہ پردہ کے پیچھے کوئی عمل کرے اور یوں سمجھے کہ کسی نے دیکھا ہی نہیں جو میرے عمل کی گواہی دے تو یہ اس کی بیوقوفی ہے اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ خود اپنے عمل کا گواہ بنے گا اور اس کا اقراری ہوگا۔ قال صاحب الروح قال السدی والضحاک المعاذیر الستور بلغة الیمن واحدھا معذار وحکی خلف عن الزجاج ای ولو ارخی ستورہ والمعنی ان احتجابہ فی الدنیا والاستتارة لا یغنی عنہ شیئا لان علیہ من نفسہ بصیرة وفیہ تلویح الی معنی قولہ تعالیٰ وما کنتم تستترون ان یشھد علیکم الایة (انتھی) وقال البغوی واھل الیمن یسمون الستر معذاراً وجمعہ معاذیر ومعناہ علی ھذا القول : وان اسبل الستر لیخفی ما کان یعمل فان نفسہ شاھدة علیہ ومعاذیرہ ان کان جمع معذرة بمعنی الستر فلا اشکال فی الجمع لان المفعال یجمع علی مفاعیل کالمصباح وان کان جمع معذرة بمعنی العذر فھو جمع علی خلاف القیاس والقیاس معاذر مغیریاءٍ وقال صاحب الفرائد یمکن ان یقال الاصل فیہ معاذر فحصلت الیاء من اشباع الکسرة ذکرہ صاحب الروح ولم یرض بقول صاحب۔
(15) خواہ وہ اپنے کتنے ہی حیلے بہانے پیش کرے۔ یعنی یہ جتلانا اور بتلانا محض تقریع اور اتمام حجت کے طور پر ہوگا اور نہ انسان بوجہ انکشاف ضروریہ کے خود ہی اپنی حالت پر خوب مطلع ہوگا اگرچہ وہ اپنی عادت کے موافق حیلے بہانے اور عذر و معذرت کرتا رہے جیسا کہ مشرک قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہیں تھے۔ بہرحال یہ جتانا اعلام کے طور پر نہ ہوگا کیونکہ انسان خود بھی سب کچھ سمجھتا ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے آیت کا تعلق توحید الٰہی کی دلیل سے رکھا ہے یعنی انسان خود حضرت حق کی ربوبیت اور اس کی توحید کی ایک کھلی ہوئی دلیل ہے۔ چنانچہ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنے احوال میں غورکرے تو رب کی وحدانیت جانے اور جو کے میری سمجھ میں نہیں آتا یہ بہانے ہیں۔ خلاصہ : یہ کہ انسان حضرت حق جل مجدہ کی ربوبیت کے لئے خود ایک کھلی ہوئی دلیل ہے اگر وہ غور کرے اور غور نہ کرے اور بہانے بناتا رہے تو یہ دوسری بات ہے۔