Surat ul Qiyama
Surah: 75
Verse: 19
سورة القيامة
ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ ﴿ؕ۱۹﴾
Then upon Us is its clarification [to you].
پھر اس کا واضح کر دینا ہمارا ذمہ ہے ۔
ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ ﴿ؕ۱۹﴾
Then upon Us is its clarification [to you].
پھر اس کا واضح کر دینا ہمارا ذمہ ہے ۔
Then it is for Us to make it clear. meaning, `after memorizing it and reciting it, We will explain it to you, clarify it and inspire you with its meaning according to what We intended and legislated.' Imam Ahmad recorded from Ibn `Abbas that he said that the Messenger of Allah used to struggle very hard to grasp the revelation and he used to move his lips (rapidly with the recitation). The narrator, Sa`id, then said, "Ibn `Abbas said to me, `I will move my lips like the Messenger of Allah used to move his lips (in order to show you)."' Then, the sub narrator said, "And Sa`id said to me, `I will move my lips like I saw Ibn `Abbas moving his lips (in order to show you)."' Then Allah revealed, لاَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِه إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْانَهُ Move not your tongue concerning to make haste therewith. It is for Us to collect it and that it be recited.) Ibn `Abbas said, "This means He will collect it in his chest to recite it. فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْانَهُ And when We have recited it to you, then follow its recitation. meaning, listen to it and pay attention. ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ Then it is for Us to make it clear (to you). So after this, when Jibril would leave, he would recite it as Jibril had taught him to recite it." This has also been recorded by Al-Bukhari and Muslim. Al-Bukhari's wording says, "So whenever Jibril would come to him he would be silent, and when Jibril had left he would recite it just as Allah, the Mighty and Sublime had promised him." The Cause of rejecting the Day of Judgement is Love of the World and Heedlessness of the Hereafter Concerning Allah's statement, كَلَّ بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ
19۔ 1 یعنی اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال وحرام کی توضیح یہ بھی ہمارے ذمے ہے اس کا صاف مطلب ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کے مجملات کی توضیح جو تخصیص بیان فرمائی ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے یہ بھی اللہ کی طرف سے ہی الہام اور سمجھائی ہوئی باتیں ہیں اس لیے انہیں بھی قرآن کی طرح ماننا ضروری ہے۔
In conclusion, the passage says: اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ (Then, it is undertaken by Us to explain it...75:19). In other words, it is Allah&s concern to explain the true message of the verses. In fact, the meaning of every single word of the Qur&an will be made plain to the Holy Prophet. He need not be concerned about it. These four verses laid down the injunctions pertaining to Qur&an and its recitation. Now the Surah reverts to its basic theme of Resurrection. It describes the conditions and horrors of the Hereafter. Here a question arises as to the contextual relationship between the four verses and the rest of the Surah where they have been studded. Before the four verses, while describing the Resurrection, it was made plain that Allah&s knowledge is infinite, so much so that every man will be resurrected in the same state, the same shape and size, in which he was created the first time. His fingertips will be reconstructed with the same precision that they were created the first time; and his fingerprints will be redesigned with the same patterns of lines on their skins as were designed the before. There will be not a hair&s breadth of a difference. This is possible only because Allah is Omniscient; His knowledge is infinite and all-encompassing; and His preserving capacity is incomparable, unparalleled and unique. On the basis of these attributes, the four verses were revealed to console and comfort the Holy Prophet t. The Holy Prophet is told: &You can forget, and it is possible that you could make a mistake in transmission. But Allah is beyond these things. Allah has taken upon Himself the responsibility of storing the words of the Qur&an in your heart or explaining the message to you. Do not worry about all this. It is Our concern.& After these four verses, the Surah resumes the description of the conditions of Resurrection.
آخر میں فرمایا ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ فکر بھی اپنے اوپر نہ رکھیں کہ نازل شدہ آیات کا صحیح مفہوم اور مراد کیا ہے اس کا بتلانا سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے ہم قرآن کے ہر ہر لفظ اور اس کی مراد کو آپ پر واضح کردیں گے۔ ان چار آیتوں میں قرآن اور اس کی تلاوت وغیرہ کے متعلقہ احکام بیان کرنے کے بعد آگے پھر قیامت کے احوال واہوال ہی کا بقیہ تذکرہ آتا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان چار آیتوں کا اگلی پچھلی آیتوں سے ربط اور جوڑ کیا ہے۔ خلاصہ تفسیر مذکور میں اس کا ربط یہ بیان کیا گیا ہے کہ چار آیتوں سے پہلے جو قیامت کے حالات میں اس کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم اتنا وسیع ہے کہ ایک ایک انسان کو جس کیفیت جس شکل و صورت میں وہ پہلے تھا اسی میں دوبارہ پیدا فرمادیں گے یہانتک کہ اس کی انگلیوں کے پوروں کو اور ان پر بنے ہوئے امتیازی خطوط و نشانات کو بھی بالکل پہلے جیسا بنا دینگے اس میں سر موفرق نہ ہوگا یہ جبھی ہوسکتا ہے کہ ذات حق تعالیٰ کا علم بھی بےانتہاء ہے اور اس کا احصار اور محفوظ رکھنا بھی بےمثال ہے۔ اس کی مناسب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چار آیتوں میں یہ تسلی دی گئی کہ آپ تو بھول بھی سکتے ہیں نقل میں غلطی کا بھی امکان ہوسکتا ہے مگر حق تعالیٰ ان سب سے بالا و برتر ہیں ان چیزوں کی ذمہ داری خود حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لی ہے اس لئے آپ قرآن کے کلمات کو محفوظ رکھنے یا ان کے معافی سمجھنے میں غور کرنے کی زحمت چھوڑ دیں، یہ سب کام حق تعالیٰ خود انجام دیں گے۔ آگے پھر قیامت کے حالات کا بیان ہے۔
ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَہٗ ١٩ ۭ البیان البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . ( ب ی ن ) البین البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔
(١٩۔ ٢١) اور پھر اس کے حلال و حرام اوامرو نواہی کا بیان کردینا بھی ہمارے ذمہ ہے ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم دنیا کے لیے کام کرتے ہو اور ثواب آخرت کے لیے کام کرنے کو چھوڑ بیٹھے۔
آیت ١٩{ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ ۔ } ” پھر ہمارے ہی ذمے ہے اس کو واضح کردینا بھی۔ “ قرآن مجید کی تفسیر سے متعلق یہ بہت اہم وضاحت ہے ۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے اصل پیغام کی تبیین و تفہیم بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ عملی طور پر اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ قرآن حسب ضرورت خود ہی اپنے احکام کی وضاحت بھی کرتا ہے۔ جیسے سورة النساء میں دو احکام کے بارے میں آیا ہے : یَسْتَفْتُوْنَکَ… (آیت ١٢٧ اور آیت ١٧٦) کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ لوگ آپ سے فلاں مسئلے کی وضاحت چاہتے ہیں ‘ تو انہیں بتائیں کہ اگر انہیں اس بات کی پوری طرح سمجھ نہیں آئی تو اللہ تعالیٰ اس معاملے کی مزید وضاحت کردیتا ہے۔ چناچہ قرآنی احکام کی تبیین و تشریح خود قرآن نے بھی کی ہے اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اس کا اہتمام زبان رسالت سے بھی کرایا ہے ۔ اس کی ضرورت اور اہمیت قرآن میں یوں بیان کی گئی ہے : { وَاَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَـیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ } (النحل : ٤٤) کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے یہ ذکر آپ پر اس لیے نازل کیا ہے کہ آپ اس کو واضح کردیں لوگوں کے لیے کہ ان پر کیا کچھ نازل ہوا ہے۔ یعنی اگر قرآن کے سمجھنے میں لوگوں کو کہیں کوئی ابہام یا اشکال محسوس ہو تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی وضاحت کردیا کریں اور اگر انہیں کہیں کوئی حکم اجمال کے پردے میں لپٹا نظر آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تفصیل بیان کردیا کریں۔۔۔۔ آئندہ آیات میں خطاب کا رخ اور کلام کا آہنگ ایک مرتبہ پھر تبدیل ہو رہا ہے۔
13 This gives the feeling, and some early commentators also have given expression to the same, that probably in the beginning the Holy Messenger of Allah used to ask of the Angel Gabriel the meaning of a verse or a word or a command of the Qur'an even in the very midst of the Revelation itself. Therefore, the Holy Prophet was not only given the instruction that he should listen quietly to Revelation when it carne down to him, and assured that its each word would be preserved in his memory precisely, and he would be enabled to recite the Qur'an exactly as it was revealed, but at the same time it was also promised that he would be made to understand the meaning and intention of each command and each instruction of Divine Revelation. This is a very important verse, which proves certain fundamental concepts which if understood well, can protect one against the errors which some people have been spreading before as they are spreading them today. First, it clearly proves that the Holy Prophet (upon whom be peace) did not receive only the Revelation which is recorded in the Qur'an but besides that he was also given such knowledge by revelation as is not recorded in it. For, if the meaning and intention of the commandments of the Qur'an, its allusions, its words and its specific terms, which the Holy Prophet was made to understand, had been recorded in the Qur'an, there was no need to say that it was also Allah's own responsibility to explain its meaning, for it should then be there in the Qur'an itself. Hence, one will have to admit that the explanations which were given by Allah of the meanings of the contents of the Qur'an, were in any case in addition to the words of the Qur'an. This is another proof of the secret Revelation to the Holy Prophet which the Qur'an provides. (For further proofs of this from the Qur'an, see our book Sunnat ki A ni Haithiyat pp. 94-95 and pp. 118-125) . Secondly, the explanation of the meaning and intention of the Qur'an and of its commandments that was given by Allah to the Holy Prophet (upon whom be peace) , was given for the purpose that he should make the people understand the Qur'an by his word and deed according to it and teach them to act on its Commands. If this was not the object, and the explanation was only given so that he may restrict its knowledge to himself, it was then an exercise in futility, for it could not help in any way in the performance of the prophetic duties. Therefore, only a foolish person could say that this explanatory work had no legal value at all. Allah Himself has said in Surah An-Nahl: 44: "And O Prophet, We have sent down this Admonition to you so that you may make plain and explain to the people the teaching which has been sent for them." (For explanation, see E.N. 40 of Surah An-Nahl) . And at four places in the Qur'an Allah has stated that the Holy Prophet's task was not only to recite the verses of the Book of Allah but also to teach the Book. (Al-Baqarah: 129,.151, Al-Imran: 164, Al-Jumu`ah: 2. We have fully explained all these verses at pp. 74-77 of Sunnat ki A'ini Haithiyat After this, how can a believer of the Qur'an deny that the Qur'an's correct and authoritative, as a matter of fact official, explanation is only that which the Holy Prophet (upon whom be peace) has given by his word and deed, for it is not his personal explanation but the explanation given by the God Who sent down the Qur'an to him. Apart from this, or leaving this aside any person who explains a verse, or a word, of the Qur'an according to his personal whim and desire, commits a boldness which no true believer could ever commit. Thirdly, even if a person has read the Qur'an only cursorily, he cannot help feeling that there are many things in it whose actual meaning and intention cannot be understood by a reader of Arabic only from the words of the Qur'an, nor can he know how to act on the commands enjoined in them. Take the word salat for instance; The act which has been most stressed by the Qur'an after the affirmation of faith is the act of salat. But no man only with the help of the dictionary can determine its actual meaning. At the most what one can understand from the way it has been repeatedly mentioned in the Qur'an is that this Arabic word has been used in some special terminological sense, and it probably implies some special act which the believers are required to perform. But merely by reading the Qur'an no reader of Arabic can determine what particular act it is, and how it is to be performed. The question: If the Sender of the Qur'an had not appointed a teacher from Himself and explained to him the precise and exact meaning of this term and taught him the method in full detail of implementing the command of salat, could there be even two Muslims in the world who would have agreed on one method of acting on the command of salat just by reading the Qur'an? The reason why Muslims have been performing salat in one and the same way, generation after generation, for more than 1500 years, and the way millions and millions of Muslims are carrying out the command of salat similarly in every part of the world, is that AIlah had not only revealed the words of the Qur'an to His Messenger but had also explained to him fully the meaning of those words and the same meaning he taught to the people who accepted the Qur'an as the Book of Allah and him as the Messenger of Allah. Fourthly, the means of knowing the explanation of the words of the Qur'an that Allah taught His Messenger and the Messenger his Ummah by word and deed, is none but the Hadith and the Sunnah, The Hadith implies the traditions which the earliest followers passed on to the later generations about the sayings and acts of the Messenger on sound authority, and the Sunnah implies the way of life which became prevalent in the individual and collective life of the Muslims by the Holy Messenger's oral and practical teaching, the details of which have been bequeathed by the former to the latter generations by reliable traditions as well as seen .by them practically in the life of the earliest followers. The person who refuses to acknowledge this means of knowledge, in fact, says that Allah after taking the responsibility of explaining the meaning of the Qur'an to His Messenger had, God forbid, failed to fulfil His promise. For this responsibility had not been taken to explain the meaning only to the Messenger in his personal capacity but for the purpose that the Ummah also be made to understand the meaning of the Divine Book through the agency of the Messenger. And as soon as the Hadith and the Sunnah are denied to be a source of law, it virtually amounts to saying that Allah has failed to carry out His responsibility. May Allah protect us froth such blasphemy! To the one who argues that many people had also fabricated Hadid, we would say that fabrication of Hadid itself is a major proof of the fact that in the beginning the entire Ummah gave the sayings and acts of the Holy Messenger (Upon whom be Allah's peace) the status of law, otherwise why should the people who wanted to spread error have fabricated false ,Hadith. For only those coins are counterfeited which are current in the bazaar; nobody would print paper currency which had no value in the bazaar. Then, those who say such a thing perhaps do not know that this Ummah had seen to it from the very beginning that no falsehood was ascribed to the holy man whose sayings and acts had the status of law, and as the danger of ascribing false things to him increased, the well-wishers of the Ummah made greater and still greater efforts tt) distinguish the genuine from the counterfeit. The science of distinguishing the genuine from the false traditions is a unique science invented and developed only by the Muslims. Unfortunate indeed are those who without acquiring this science are being misled by the western orientalists to look upon the Hadith and the Sunnah as un-authentic and un-reliable and do not realize how grievously they are harming Islam by their foolhardiness.
سورة الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :13 اس سے گمان ہوتا ہے ، اور بعض اکابر مفسرین نے بھی اس گمان کا اظہار کیا ہے ، کہ غالباً ابتدائی زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نزول وحی کے دوران ہی میں قرآن کی کسی آیت یا کسی لفظ یا کسی حکم کا مفہوم بھی جبریل علیہ السلام سے دریافت کر لیتے تھے ۔ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف ہدایت کی گئی کہ جب وحی نازل ہو رہی ہو اس وقت آپ خاموشی سے اس کو سنیں ، اور نہ صرف اطمینان دلایا گیا کہ اس کا لفظ لفظ ٹھیک ٹھیک آپ کے حافظہ میں محفوظ کر دیا جائے گا اور قرآن کو آپ ٹھیک اسی طرح پڑھ سکیں گے جس طرح وہ نازل ہوا ہے ، بلکہ ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کے ہر حکم اور ہر ارشاد کا منشا اور مدعا بھی پوری طرح آپ کو سمجھا دیا جائے گا ۔ یہ ایک بڑی اہم آیت ہے جس سے چند ایسی اصولی باتیں ثابت ہوتی ہیں جنہیں اگر آدمی اچھی طرح سمجھ لے تو ان گمراہیوں سے بچ سکتا ہے جو پہلے بھی بعض لوگ پھیلاتے رہے ہیں اور آج بھی پھیلا رہے ہیں ۔ اولاً ، اس سے صریح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف وہی وحی نازل نہیں ہوتی تھی جو قرآن میں درج ہے ، بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ کو ایسا علم دیا جاتا تھا جو قرآن میں درج نہیں ہے ۔ اس لیے کہ قرآن کے احکام و فرامین ، اس کے اشارات ، اس کے الفاظ اور اس کی مخصوص اصطلاحات کا جو مفہوم و مدعا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھایا جاتا تھا وہ اگر قرآن ہی میں درج ہوتا تو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس کا مطلب سمجھا دینا یا اس کی تشریح کر دینا بھی ہمارے ذمہ ہے ، کیونکہ وہ تو پھر قرآن ہی میں مل جاتا ۔ لہذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مطالب قرآن کی تفہیم و تشریح جو اللہ تعالی کی طرف سے کی جاتی تھی وہ بہرحال الفاظ قرآن کے ماسوا تھی ۔ یہ وحی خفی کا ایک اور ثبوت ہے جو ہمیں قرآن سے ملتا ہے ( قرآن مجید سے اس کے مزید ثبوت ہم نے اپنی کتاب سنت کی آئینی حیثیت میں صفحات 94 ۔ 95 ۔ اور صفحات 118 تا 125 میں پیش کر دیے ہیں ) ۔ ثانیاً ، قرآن کے مفہوم و مدعا اور اس کے احکام کی یہ تشریح جو اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی گئی تھی آخر اسی لیے تو بتائی گئی تھی کہ آپ اپنے قول اور عمل سے اس کے مطابق لوگوں کو قرآن سمجھائیں اور اس کے احکام پر عمل کرنا سکھائیں ۔ اگر یہ اس کا مدعا نہ تھا اور یہ تشریح آپ کو صرف اس لیے بتائی گئی تھی کہ آپ اپنی ذات کی حد تک اس علم کو محدود رکھیں تو یہ ایک بےکار کام تھا ، کیونکہ فرائض نبوت کی ادائیگی میں اس سے کوئی مدد نہیں مل سکتی تھی ۔ اس لیے صرف ایک بیوقوف آدمی ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تشریحی علم سرے سے کوئی شریعی حیثیت نہ رکھتا تھا ۔ اللہ تعالی نے خود سورہ نحل آیت 44 میں فرمایا ہے وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم ۔ اور اے نبی ، یہ ذکر ہم نے تم پر اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تو لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لیے اتاری گئی ہے ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، النحل ، حاشیہ 40 ) ۔ اور قرآن میں چار جگہ اللہ تعالی نے صراحت فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف کتاب اللہ کی آیات سنا دینا ہی نہ تھا بلکہ اس کی تعلیم دینا بھی تھا ۔ ( البقرہ ، آیات 129 و 151 ، آل عمران ، 164 ۔ الجمعہ ، 2 ۔ ان سب آیات کی تشریح ہم سنت کی آئینی حیثیت میں صفحہ 74 سے 77 تک تفصیل کے ساتھ کر چکے ہیں ) ۔ اس کے بعد کوئی ایسا آدمی جو قرآن کو مانتا ہو اس بات کو تسلیم کرنے سے کیسے انکار کر سکتا ہے کہ قرآن کی صحیح و مستند ، بلکہ فی الحقیقت سرکاری تشریح صرف وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول اور عمل سے فرما دی ہے ، کیونکہ وہ آپ کی ذاتی تشریح نہیں ہے بلکہ خود قرآن کے نازل کرنے والے خدا کی بتائی ہوئی تشریح ہے ۔ اس کو چھوڑ کر یا اس سے ہٹ کر جو شخص بھی قرآن کی کسی آیت یا اس کے کسی لفظ کا کوئی من مانا مفہوم بیان کرتا ہے وہ ایسی جسارت کرتا ہے جس کا ارتکاب کوئی صاحب ایمان آدمی نہیں کر سکتا ۔ ثالثاً ، قرآن کا سرسری مطالعہ بھی اگر کسی شخص نے کیا ہو تو وہ یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس میں بکثرت باتیں ایسی ہیں جنہیں ایک عربی داں آدمی محض قرآن کے الفاظ پڑھ کر یہ نہیں جان سکتا کہ ان کا حقیقی مدعا کیا ہے اور ان میں جو حکم بیان کیا گیا ہے اس پر کیسے عمل کیا جائے ۔ مثال کے طور پر لفظ صلوۃ ہی کو لے لیجئے ۔ قرآن مجید میں ایمان کے بعد اگر کسی عمل پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے تو وہ صلوۃ ہے ۔ لیکن محض عربی لغت کی مدد سے کوئی شخص اس کا مفہوم تک متعین نہیں کر سکتا ۔ قرآن میں اس کا ذکر بار بار دیکھ کر زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ سمجھ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ عربی زبان کے اس لفظ کو کسی خاص اصطلاحی معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور اس سے مراد غالباً کوئی خاص فعل ہے جسے انجام دینے کا اہل ایمان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ لیکن صرف قرآن کو پڑھ کر کوئی عربی داں یہ طے نہیں کر سکتا کہ وہ خاص فعل کیا ہے اور کس طرح اسے ادا کیا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن کے بھیجنے والے نے اپنی طرف سے ایک معلم کو مقرر کر کے ا پنی اس اصطلاح کا مفہوم اسے ٹھیک ٹھیک نہ بتایا ہوتا اور صلوۃ کے حکم کی تعمیل کرنے کا طریقہ پوری وضاحت کے ساتھ اسے نہ سکھا دیا ہوتا تو کیا صرف قرآن کو پڑھ کر دنیا میں کوئی دو مسلمان بھی ایسے ہو سکتے تھے جو حکم صلوۃ پر عمل کرنے کی کسی ایک شکل پر متفق ہو جاتے؟ آج ڈیڑھ ہزار برس سے مسلمان نسل در نسل ایک ہی طرح جو نماز پڑھتے چلے آ رہے ہیں ، اور دنیا کے ہر گوشے میں کروڑوں مسلمان جس طرح نماز کے حکم پر یکساں عمل کر رہے ہیں ، اس کی وجہ یہی تو ہے کہ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف قرآن کے الفاظ ہی وحی نہیں فرمائے تھے بلکہ ان الفاظ کا مطلب بھی آپ کو پوری طرح سمجھا دیا تھا ، اور اسی مطلب کی تعلیم آپ ان سب لوگوں کو دیتے چلے گئے جنہوں نے قرآن کو اللہ کی کتاب اور آپ کو اللہ کا رسول مان لیا ۔ رابعاً ، قرآن کے الفاظ کی جو تشریح اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول اور عمل سے اس کی جو تعلیم امت کو دی ، اس کو جاننے کا ذریعہ ہمارے پاس حدیث و سنت کے سوا کوئی نہیں ہے ۔ حدیث سے مراد وہ روایات ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کے متعلق سند کے ساتھ اگلوں سے پچھلوں تک منتقل ہوئیں ۔ اور سنت سے مراد وہ طریقہ ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی تعلیم سے مسلم معاشرے کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں رائج ہوا ، جس کی تفصیلات معتبر روایتوں سے بھی بعد کی نسلوں کو اگلی نسلوں سے ملیں ، اور بعد کی نسلوں نے اگلی نسلوں میں اس پر عملدرآمد ہوتے بھی دیکھا ۔ اس ذریعہ علم کو قبول کرنے سے جو شخص انکار کرتا ہے وہ گویا یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالی نے ثم ان علینا بیانہ فرما کر قرآن کا مطلب اپنے رسول کو سمجھا دینے کی جو ذمہ داری لی تھی اسے پورا کرنے میں معاذ اللہ وہ ناکام ہو گیا ، کیونکہ یہ ذمہ داری محض رسول کو ذاتی حیثیت سے مطلب سمجھانے کے لیے نہیں لی گئی تھی ، بلکہ اس غرض کے لیے لی گئی تھی کہ رسول کے ذریعہ پوری امت کو کتاب الہی کا مطلب سمجھایا جائے ، اور حدیث و سنت کے ماخد قانون ہونے کا انکار کرتے ہی آپ سے آپ یہ لازم آ جاتا ہے کہ اللہ تعالی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کر سکا ہے ، اعاذنا اللہ من ذالک ۔ اس کے جواب میں جو شخص یہ کہتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے حدیثیں گھڑ بھی تو لی تھیں اس سے ہم کہیں گے کہ حدیثوں کا گھڑا جانا خود اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ آغاز اسلام میں پوری امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال کو قانون کا درجہ دیتی تھی ورنہ آخر گمراہی پھیلانے والوں کو جھوٹی حدیثیں گھڑنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ جعل ساز لوگ وہی سکے تو جعلی بناتے ہیں جن کا بازار میں چلن ہو ۔ جن نوٹوں کی بازار میں کوئی قیمت نہ ہو انہیں کون بیوقوف جعلی طور پر چھاپے گا ؟ پھر ایسی بات کہنے والوں کو شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ اس امت نے اول روز سے اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ جس ذات پاک نے اقوال و افعال قانون کا درجہ رکھتے ہیں اس کی طرف کوئی غلط بات منسوب نہ ہونے پائے ، اور جتنا جتنا غلط باتوں کے اس ذات کی طرف منسوب ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا اتنا ہی اس امت کے خیر خواہ اس بات کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرتے چلے گئے کہ صحیح کو غلط سے ممیز کیا جائے ۔ صحیح و غلط روایات کی تمیز کا یہ علم ایک بڑا عظیم الشان علم ہے جو مسلمانوں کے سوا دنیا کی کسی قوم نے آج تک ایجاد نہیں کیا ، سخت بد نصیب ہیں وہ لوگ جو اس علم کو حاصل کیے بغیر مغربی مستشرقین کے بہکائے میں آ کر حدیث و سنت کو ناقابل اعتبار ٹھیراتے ہیں اور نہیں جانتے کہ اپنی اس جاہلانہ جسارت سے وہ اسلام کو کتنا بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
8: یعنی آیاتِ کریمہ کی تشریح بھی ہم آپ کے قلب مبارک میں محفوظ کردیں گے۔
(75:19) ثم ان علینا بیانہ : ثم تراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ پھر۔ ازاں بعد ان حرف مشبہ بالفعل بیان اسم ان مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ پھر اس کی وضاحت اور اظہار مطالب ہمارا ذمہ ہے۔ ہ کا مرجع قرآن ہے۔ فائدہ : خدائے پاک نے اپنے وعدے کو سچا کردیا قرآن مجید کو ایک جگہ مجتمع بھی کرا دیا اس لئے کہ ٹکڑے ٹکڑے اور سورتیں سورتیں ہوکر نازل ہوا ہے اب سب یکجا ترتیب کے ساتھ موجود ہے اور آپ کے سینہ میں جمع بھی کرا دیا۔ آپ پورے قرآن مجید کے حافظ تھے اور آپ کی برکت سے بہت سے صحابہ کرام (رض) بھی حافظ تھے۔ اور بعدہ امت میں بھی آج تک لاکھوں حافظ ہیں ایک ایک حرف اور زبر زیر پر حاوی ہیں۔ یہ عہد آدم (علیہ السلام) سے لے کر آج تک کسی مذہبی کتاب کی بابت نہ دیکھا گیا اور نہ سنا گیا اور قیامت تک یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور یہ ایک کھلا ہوا معجزہ ہے جس کی آنکھیں ہوں دیکھے جس کے کان ہوں سنے دل ہو سمجھے۔
ف 5 یعنی اس کے حلال و حرام اور دوسرے احکام وتعلیمات کی تفسیر و تضویح کا بھی ہم ذمہ لیتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے سنت یا حدیث کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ وہ قرآن ہی کی تفسیر و توضیح ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح قرآن کو آنحضرت کے سینہ میں محفوظ رکھنے کا ذمہ لیا ہے اسطرح اس کی توضیح و تشریح بتانے کا بھی ذمہ لیا ہے جسے آپ لوگوں کے سامنے بیان فرمائیں گے اور وہ قیامت تک محفوظ رہے گی۔ چناچہ شاہ صاحب لکھتے ہیں اور معنی تحقیق کرنے کی بھی حاجت نہیں یہ بھی ہمارا ذمہ ہے اور وقت پر بیان کا سمجھانا (موضع)
6۔ یعنی آپ کو یاد کرادینا اور آپ کی زبان پر جاری کرادینا پھر تبلیغ کے وقت بھی اس کا رکھوانا اور لوگوں کے سامنے پڑھوا دینا یہ سب ہمارے ذمہ ہے۔
﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗؕ٠٠١٩﴾ (پھر بیشک ہمارے ذمہ اس کا بیان کرنا ہے) یعنی ہم آپ سے قرآن پڑھوائیں گے اور آپ کی زبان پر جاری کردیں گے آپ لوگوں کو سنائیں گے اور پہنچائیں گے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے بیان فرمایا کہ اس کے بعد یہ ہوتا تھا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لاتے تھے تو آپ متوجہ ہو کر سنتے تھے پھر جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) چلے جاتے تھے تو آپ اسی طرح دہرا لیتے تھے جیسے جبرائیل (علیہ السلام) نے پڑھا تھا۔ (صحیح بخاری صفحہ ٣: ج ١، اور صفحہ ٧٣٣: ج ٢)
(19) پھر اس کے مطالب کو واضح کردینا بھی ہمارے ذمے ہے۔ یعنی آپ کو یاد کرادینا اور آپ کی زبان پر جاری کرادینا پھر تبلیغ کے وقت بھی اس کو بیان کرادینا اور مشکل مضامین کو سہل کردینا تاکہ آپ کو سمجھانے میں آسانی ہو۔ یہ سب ہمارے ذمے ہے آپ تو جب فرشتہ پڑھے صرف توجہ کے ساتھ سنتے رہا کیجئے۔ چونکہ اوپر کی آیت میں قیامت کا ذکر تھا اور قیامت کے دن تمام امور کے مستحضر ہوجانے اور اگلے پچھلے اعمال کے یاد دلانے کا ذکر تھا اسی مناسبت سے وحی کے یادرکھنے اور اس کو دہرا دینے کا ذکر فرما دیا اور یہ بات استطراداً بیان کی گئی تھی آگے پھر وہی منکروں کا ذکر ہے اور کافروں کی عجلت پسندی اور آخرت کو نظر انداز کردینے کا ذکر فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جس وقت جبرئیل (علیہ السلام) قرآن لاتے ان کے پڑھنے کے ساتھ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی جی میں پڑھتے تو جب تک پہلا لفظ کہیں اگلا سننے میں نہیں آتا تو حضرت گھبراتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت پڑھنے کی حاجت نہیں سننا ہی چاہیے پھر جی میں یادرکھوانا اور زبان سے پڑھوانا لوگوں کے پاس ہمارا ذمہ ہے اور معنی تحقیق کرنے کی حاجت نہیں یہ بھی ہمارا ذمہ ہے اور وقت پر بیان کو سمجھانا جبرئیل (علیہ السلام) کے پڑھنے کو اپنا پڑھنا فرمایا کہ وہ ثابت ہے اسی طرح النجم میں فاوحی الی عبدہ۔