Surat ud Dahar

Surah: 76

Verse: 13

سورة الدھر

مُّتَّکِئِیۡنَ فِیۡہَا عَلَی الۡاَرَآئِکِ ۚ لَا یَرَوۡنَ فِیۡہَا شَمۡسًا وَّ لَا زَمۡہَرِیۡرًا ﴿ۚ۱۳﴾

[They will be] reclining therein on adorned couches. They will not see therein any [burning] sun or [freezing] cold.

یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے ۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی سختی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The raised Couches and the lack of Heat and Cold Allah tells us about the people of Paradise and the eternal delights they will experience, as well as the comprehensive favors that they will be given. Allah says, مُتَّكِيِينَ فِيهَا عَلَى الاَْرَايِكِ ... Reclining therein on raised couches. This has already been discussed in Surah As-Saffat and the difference of opinion about the meaning of reclining. Is it lying down, reclining on the elbows, sitting down cross-legged, or being firmly seated We have also mentioned that the Al-Ara'ik are couches beneath curtained canopies. Concerning Allah's statement, ... لاَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلاَا زَمْهَرِيرًا they will see there neither the excessive heat, nor the excessive bitter cold. meaning, there will be no disturbing heat with them, nor any painful cold, rather there will only be one climate that will be always and eternal and they will not want it to be changed. The Shade and Fruit Clusters will be near

دائمی خوشگوار موسم اور مسرتوں سے بھرپور زندگی اہل جنت کی نعمت ، راحت ، ان کے ملک و مال اور جاہ و منال کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بہ آرام تمام پورے اطمینان اور خوش دلی کے ساتھ جنت کے مرصع ، مزین ، جڑاؤ تختوں پر بےفکری سے تکئے لگائے سرور اور راحت سے بیٹھے مزے لوٹ رہے ہوں گے ، سورہ والصافات کی تفسیر میں اس کی پوری شرح گذر چکی ہے ، وہیں یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ اتکا سے مراد لیٹنا ہے یا کہنیاں ٹکانا ہے یا چار زانو بیٹھنا ہے یا کمر لگا کر ٹیک لگانا ہے ، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ ارائک چھپر کھٹوں کو کہتے ہیں ، پھر ایک اور نعمت بیان ہو رہی ہے کہ وہاں نہ تو سورج کی تیز شععوں سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے نہ جاڑے کی بہت سرد ہوائیں انہیں ناگوار گذریں بلکہ بہار کا سا موسم ہر وقت اور ہمیشہ رہتا ہے گرمی سردی کے جھمیلوں سے الگ ہیں ، جنتی درختوں کی شاخیں جھوم جھوم کر ان پر سایہ کئے ہوئے ہوں گی اور میوے ان سے بالکل قریب ہوں گے چاہے لیٹے لیٹے توڑ کر کھالیں ، چاہے بیٹھے بیٹھے لے لیں چاہے کھڑے ہو کر لے لیں درختوں پر چڑھنے اور تکلیف کی کوئی حاجت نہیں پر میوے دار لچھے اور لدے ہوئے لچھے لٹک رہے ہیں توڑا اور کھا لیا اگر کھڑے ہیں تو میوے اتنے اونچے ہیں بیٹھے تو قدرے جھک گئے لیٹے تو اور قریب آ گئے ، نہ تو کانٹوں کی رکاوٹ نہ دوری کی سردردی ہے ، حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جنت کی زمین چاندی کی ہے اور اس کی مٹی مشک خالص ہے اس کے درختوں کے تنے سونے چاندی کے ہیں ڈالیاں لولو زبر جد اور یاقوت کی ہیں ، ان کے درمیان پتے اور پھل ہیں جن کے توڑنے میں کوئی وقت اور مشکل نہیں چاہ بیٹھے بیٹھے توڑ لو چاہو کھڑے کھڑے بلکہ اگر چاہیں لیٹے لیٹے ایک طرف خوش خرام ، خوش دل ، خوبصورت ، با ادب ، سلیقہ شعار ، فرمانبردار خادم قسم قسم کے کھانے چاندی کی کشتیوں میں لگائے لئے کھڑے ۔ دوسری جانب شراب طہور سے چھلکتے ہوئے بلوریں جام لئے ساقیان مہوش اشارے کے منتظر ہیں ، یہ گلاس صفائی میں شیشے جیسے اور سفیدی میں چاندی جیسے ہوں گے ، دراصل ہوں گے چاندی کے لیکن شیشے کی طرح شفا ف ہوں گے کہ اندر کی چیز باہر سے نظر آئے ، جنت کی تمام چیزوں کی یونہی سی برائے نام مشابہت دنیا کی چیزوں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن ان چاندی کے بلوریں گلاسوں کی کوئی نظری نہیں ملتی ، ہاں یہ یاد رہے کہ پہلے کے لفظ قواریر پر زبر تو اس لئے ہے کہ وہ کان کی خبر ہے اور دوسرے پر زبریا توبدلیت کی بنا پر ہے یا تمیز کی بنا پر ، پھر یہ جام نپے تلے ہوئے ہیں ساقی کے ہاتھ میں بھی زیب دیں اور ان کی ہتھیلیوں پر بھلے معلوم ہوں اور ینے والوں کے حسب خواہش شراب طہور اس میں سما جائے جو نہ بچے نہ گھٹے ۔ ان نایاب گلاسوں میں جو پاک خوش ذائقہ اور سرور والی بےنشے کی شراب انہیں ملے گی وہ جنت کی نہر سلسبیل کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی ، اوپر گذر چکا ہے کہ نہر کا فور کے پانی سے مخلوط کر کے دی جائے گی تو مطلب یہ ہے کبھی اس ٹھنڈک والے سرد مزاج پانی سے کبھی اس نفیس گرم مزاج پانی سے تاکہ اعتدال قائم رہے ، یہ ابرار لوگوں کا ذکر ہے اور خاص مقربین خالص اس نہر کا شربت پئیں گے ، سلسبیل بقول عکرمہ جنت کے ایک چشمے کا نام ہے کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ مسلسل روانگی سے لہرایا چال بہہ رہا ہے ، اس کا پانی بڑا ہلکا ، نہایت شیریں ، خوش ذائقہ اور خوش بو ہے جو آسانی سے پیا جائے اور ہضم اور جزو بدن ہوتا رہے ۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی خوبصورت حسین نوخیز کم عمر لڑکے ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ ہوں گے ، یہ غلمان جنتی جس سن و سال میں ہوں گے اسی میں رہیں گے یہ نہیں کہ سن بڑھ کر صورت بگڑ جائے ، نفیس پوشاکیں اور بیش قیمث جڑاؤ زیور پہنے بہ تعداد کثیر ادھر ادھر مختلف کاموں پر بٹے ہوئے ہوں گے جنہیں دوڑ بھاگ کر مستعدی اور چالاکی سے انجام دے رہے ہوں گے ایسا معلوم ہو گا گویا سفید آب دار موتی ادھر ادھر جنت میں بکھرے پڑے ہیں ۔ حقیت میں اس سے زیادہ اچھی تشبیہ ان کے لئے کوئی اور نہ تھی کہ یہ صاحب جمال خوش خصال بوٹے سے قد والے سفید نورانی چہروں والے پاک صاف سجی ہوئی پوشاکیں پہنے زیور میں لدے اپنے مالک کی فرمانبرداری میں دوڑتے بھاگتے ادھر ادھر پھرتے ایسے بھلے معلوم ہوں گے سجے سجائے پر تکلف فرش پر سفید چمکیلے سچے موتی ادھر ادھر لڑھک رہے ہوں ، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہر ہر جنتی کے ایک ہزار خادم ہوں گے جو مختلف کام کاج میں لگے ہوئے ہوں گے ۔ پھر فرماتا ہے اے نبی تم جنت کی جس جگہ نظر ڈالو تمہیں نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت نظر آئے گی تم دیکھو گے کہ راحت و سرور نعمت و نور سے چپہ چپہ معمور ہے چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے آخر میں جو جہنم میں سے نکالا جائے گا اور جنت میں بھیجا جائے گا اس سے جناب باری تبارک و تعالیٰ فرمائے گا جا میں نے تجھے جنت میں وہ دیا جو مثل دنیا کے ہے ، بلکہ اس سے بھی دس حصے زیادہ دیا ، اور حضرت ابن عمر کی روایت سے وہ حدیث بھی پہلے گذر چکی ہے جس میں ہے کہ ادنیٰ جنتی کی ملکیت و ملک دو ہزار سال تک ہو گا ہر قریب و بعید کی چیز پر اس کی بہ یک نظر یکاسں نگاہیں ہوں گی ، یہ حال تو ہے ادنیٰ جنتی کا پھر سمجھ لو کہ اعلیٰ جنتی کا درجہ کیا ہو گا ؟ اور اس کی نعمتیں کیسی ہوں گی ( اے اللہ اے بغیر ہماری دعا اور عمل کے ہمیں شیر مادر کے چشمے عنایت کرنے والے ہم بہ عاجزی و الحاج تیری پاک جناب میں عرض گذار ہیں کہ تو ہمارے مشتاق دل کے ارمان پورے کر اور ہمیں بھی جنت الفردوس نصیب فرما ۔ گو ایسے اعمال نہ ہوں لیکن ایمان ہے کہ تیری رحمت اعمال پر ہی موقف نہیں ، آمین ۔ مترجم ) طبرانی کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں وارد ہے کہ ایک حبشی دربار رسالت میں حاضر ہوا ، آپ نے اسے فرمایا تمہیں جو کچھ پوچھنا ہو جس بات کو سمجھنا ہو پوچھ لو اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صورت ، شکل ، رنگ ، روپ ، نبوۃ و رسالت میں آپ کو ہم پر فضیلت دی گئی ہے اب یہ تو فرمایئے کہ اگر میں بھی ان چیزوں پر ایمان لاؤں جن پر آپ ایمان لائے ہیں اور جن پر آپ عمل کرتے ہیں اگر میں بھی اسی پر عمل کروں تو کیا جنت میں آپ کے ساتھ ہو سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ سیاہ رنگ لوگوں کو جنت میں وہ سفید رنگ دیا جائے گا کہ ایک ہزار سال کے فاصلے سے دکھائی دے گا پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کے لئے اللہ کے پاس عہد مقرر ہو جاتا ہے اور جو شخص سبحان اللہ و بحمدہ کہے اس کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، تو ایک شخص نے کہا پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کیسے ہال ہوں گے؟ آپ نے فرمایا سنو ایک شخص اتنی نیکیاں لائے گا کہ اگر کسی بڑے پہاڑ پر رکھی جائیں تو اس پر بوجھل پڑیں لیکن پھر جو اللہ کی نعمتیں اس کے مقابل آئیں گی تو قریب ہو گا کہ سب فنا ہو جائیں مگر یہ اور بات ہے کہ رحمت رب توجہ فرمائے اس وقت یہ سورت ملکا کبیراً تک اتری اسی حبشی نے کہا کہ اے حضور جو کچھ آپ کی آنکھیں جنت میں دیکھیں گی کیا میری آنکھیں بھی دیکھیں گی؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں ، بس وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کر گئی حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے فن کیا رضی اللہ عنہ ۔ پھر اہل جنت کے لباس کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ سبز ہرے رنگ کا مہین اور چمکدار ریشم ہو گا ، سندس اعلیٰ درجہ کا خالص نرم ریشم جو بدن سے لگا ہوا ہو گا ، اور استبرق عمدہ بیش بہا گراں قدر ریشم جس میں چمک دمک ہو گی جو اوپر پہنچایا جائے گا ، ساتھ ہی چاندی کے کنگن ہاتھوں میں ہوں گے ، یہ لباس ابرار کا ہے ، اور مقربین خاص کے بارے میں اور جگہ ارشاد ہے ( يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّلُؤْلُؤًا ۭ وَلِبَاسُهُمْ فِيْهَا حَرِيْرٌ 23؀ ) 22- الحج:23 ) انہیں سونے کے کنگن ہیرے جڑے ہوئے پہنائے جائیں گے اور خاص نرم صاف ریشمی لباس ہو گا ، ان ظاہری جسمانی استعمالی نعمتوں کے ساتھ ہی انہیں پرکیف ، بالذت ، سرور والی ، پاک اور پاک کرنے والی شراب پلائے جائے گی جو تمام ظاہری باطنی برائی دور کر دے حسد کینہ بدخلقی غصہ وغیرہ سب دور کر دے ، جیسے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب اہل جنت جنت کے دروازے پر پہنچیں گے تو انہیں دو نہریں نظر آئیں گی اور انہیں از خود خیال پیدا ہو گا ایک کا وہ پانی پئیں گے تو ان کے دلوں میں جب کچھ تھا سب دور ہو جائے گا دوسری میں غسل کریں گے جس سے چہرے ترو تازہ ہشاش بشاش ہو جائیں گے ، ظاہری اور باطنی خوبی دونوں انہیں بدرجہ کمال حاصل ہوں گی جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے ۔ پھر ان سے ان کے دل خوش کرنے اور ان کی خوشی دوبالا کرنے کو بار بار کہا جائے گا تمہارے نیک اعمال کا بدلہ اور تمہاری بھلی کوشش کی قدر وانی ہے ، جیسے اور جگہ ہے ( كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ 24؀ ) 69- الحاقة:24 ) دنیا میں جو اعمال تم نے کئے ان کی نیک جزا میں آج تم خوب لطیف و لذیذ بہ آرام و اطمینان کھاتے پیتے رہو ، اور فرمان ہے ونودوا ان یلکم الجنتہ اور ئتموھا بما کنتم یعملون یعنی منادی کئے جائیں گے کہ ان جنتوں کا وارث تمہیں تمہارے نیک کردار کی بنا پر بنایا گیا ہے ، یہاں بھی فرمایا ہے تمہاری سعی مشکور ہے تھوڑے عمل پر بہت اجر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان میں سے کرے آمین ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 مطلب یہ ہے کہ وہاں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے گا اور وہ ہے موسم بہار، نہ سخت گرمی اور نہ کڑاکے کی سردی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] شمس سے مراد دھوپ کی حرارت اور شدت ہے جو بدن کو ناگوار محسوس ہو۔ اور زمھریر سے مراد سخت سردی ہے اور ایسا طبقہ بھی جہاں کڑاکے کی سردی ہو۔ یعنی جنت کا موسم گرمی اور سردی کی ان دونوں انتہاؤں سے پاک اور معتدل قسم کا ہوگا۔ جیسے ہمارے ہاں موسم بہار ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

متکئین فیھا علی الارآئک …:” شمساً “ سے مراد سخت دھوپ اور گریم اور ” زمھریراً “ سے مراد سخت سردی ہے، یعنی جنت کا موسم نہایت خوش گوار اور معتدل ہوگا، اس میں نہ تکلیف دہ گریم ہوگی نہ سردی۔ اس کے برعکس جہنم میں شدید گرمی یعنی آگ کا عذاب بھی ہوگا اور شدید سردی (زمہر پر) کا بھی، بلکہ دنیا میں شدید گرمی اور شدید سردی کا اصل بھی جہنم ہی سے ہے۔ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(واشتکت النار الی ربھا فقالت یا رب ! اکل یعصی بعضاً فاذن لھا بنفسین ، نفس فی الستائ، ونفس فی الصیف ، فھو اشد ماتجدون من الحر واشد ماتجدون من الزمھریر) (بخاری ، مواقیت الصلاۃ ، باب الابراد بالظھر فی شدۃ الحر : ٥٣٨)” آگ نے اپنے رب کے پاس شکایت کی اور کہا :” اے میرے رب ! میرے بعض حصے بعض کو کھا گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس نکالنے کی اجازت دے دی، ایک سانس گرمی میں اور ایک سردی میں۔ یہ وہی ہے جو تم سخت گرمی محسوس کرتے ہو اور جو تم سخت زمہر یر (سردی ) محسوس کرتے ہو۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مُّتَّكِــــِٕيْنَ فِيْہَا عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ۝ ٠ ۚ لَا يَرَوْنَ فِيْہَا شَمْسًا وَّلَا زَمْہَرِيْرًا۝ ١٣ ۚ تكأ المُتَّكَأ : المکان الذي يتكأ عليه، والمخدّة : المتکأ عليها، وقوله تعالی: وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، أي : أترجا «1» . وقیل : طعاما متناولا، من قولک : اتكأ علی كذا فأكله، ( ت ک ء ) التکاء ( اسم مکان سہارہ لگانے کی جگہ ۔ تکیہ جس پر ٹیک لگائی جائے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں متکاء کے معنی ترنج کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مراد کھانا ۔ أيك الأَيْكُ : شجر ملتف وأصحاب الأيكة قيل : نسبوا إلى غيضة کانوا يسکنونهاوقیل : هي اسم بلد . ( ای ک ) الایک ۔ درختوں کا جھنڈ ( ذوای کہ ) اور آیت ۔ وأصحاب الأيكةکی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ الایکۃ ان کے شہر اور آبادی کا نام ہے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔ شمس یومنا واشمس ۔ دن کا دھوپ ولا ہونا شمس فلان شماسا گھوڑے کا بدکنا ایک جگہ پر قرار نہ پکڑناز ۔ گویا قرار نہ پکڑنے ہیں میں سورج کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ۔ زمهريرا : اسم بمعنی شدّة البرد۔ قيل هو القمر علی لغة طيء۔ وزنه فعللیل . زمهر : الزَّمْهَرِيرُ : شِدَّةُ الْبَرْدِ؛ قَالَ الأَعشی: مِنَ القَاصِراتِ سُجُوفَ الحِجالِ ، ... لَمْ تَرَ شَمْساً وَلَا زَمْهَرِيرَاوَالزَّمْهَرِيرُ : هُوَ الَّذِي أَعدّه اللَّهُ تَعَالَى عَذَابًا لِلْكُفَّارِ فِي الدَّارِ الْآخِرَةِ ، وَقَدِ ازْمَهَرَّ الیومُ ازْمِهْرَاراً. وزَمْهَرَتْ عَيْنَاهُ وازْمَهَرَّتا : احْمَرَّتا مِنَ الْغَضَبِ. والمُزْمَهِرُّ : الَّذِي احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ ، وازْمَهَرَّتِ الْكَوَاكِبُ : لَمَحَتْ. والمُزْمَهِرُّ : الشَّدِيدُ الْغَضَبِ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ : كَانَ عُمَرُ مُزْمَهِرّاً عَلَى الْكَافِرِ أَي شَدِيدَ الْغَضَبِ عَلَيْهِ. ووَجْهٌ مُزْمَهِرّ : كَالِحٌ. وازْمَهَرَّتِ الکواكبُ : زَهَرَتْ وَلَمَعَتْ ، وَقِيلَ : اشْتَدَّ ضَوْءُهَا . والمُزْمَهِرُّ : الضَّاحِكُ السِّنِّ. والازْمِهْرَارُ فِي الْعَيْنِ عِنْدَ الْغَضَبِ والشدة .( لسان العرب)

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣۔ ١٤) اس حالت میں کہ وہ جنت میں مسہریوں پر آرام و عزت سے تکیہ لگائے ہوں گے اور نہ وہاں گرمی کی تکلیف ہوگی اور نہ سردی کی شدت اور یہ حالت ہوگی کہ درختوں کے سائے ان کے قریب ہوں گے اور ان کے میوے ان کے اختیار میں ہوں گے کہ ہر طرح لے سکیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣{ مُّتَّکِئِیْنَ فِیْہَا عَلَی الْاَرَآئِکِ } ” وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے اس میں تختوں کے اوپر۔ “ { لَا یَرَوْنَ فِیْہَا شَمْسًا وَّلَا زَمْہَرِیْرًا ۔ } ” نہیں دیکھیں گے وہ اس میں دھوپ کی حدت اور نہ سخت سردی۔ “ زَمْہَرِیر ایسی سخت سردی کو کہتے ہیں جو انسان پر زبردست کپکپی طاری کر دے۔ چناچہ جنت میں اہل جنت کو نہ تو دھوپ کی تپش تنگ کرے گی اور نہ ہی انہیں ٹھٹھرنے والی سردی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گویا جنت میں مسلسل معتدل موسم کا سماں ہوگا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٣۔ ٢٢۔ اوپر ذکر تھا کہ نیک لوگوں میں سے ہر ایک گروہ کو اس کے عمل کے موافق جنت کا درجہ ملے گا اور اس درجہ کے موافق ان کو جنت کی نعمتوں کے برتنے کا حق حاصل ہوگا اسی کی تفصیل میں یہ فرمایا تھا کہ جنت کے اعلیٰ درجہ کے مقرب لوگ تو کافوری چشمہ کی اعلیٰ درجہ کی شراب کو عام طور پر برتیں گے اور ابرار لوگوں کی شراب میں اس چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ان ابرار لوگوں کی پوشاکیں ریشمی ہوں گی ان آیتوں میں ابرار لوگوں کی حالت کی اور تفصیل فرمائی کہ وہ تکئے لگائے چھپرکھٹوں میں بیٹھے ہوں گے اور وہاں گرمی سردی کی ان کو کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ بغیر سورج اور چاند کے وہاں قدرت الٰہی سے خود بخود اجالا ہوگا اور اس اجالے کے ساتھ ہمیشہ ایک بیچ کی راس کا موسم رہے گا اگرچہ وہاں سورج نہیں ہے جس کی دھوپ سے بچنے کے لئے سایہ کی ضرورت ہو لیکن زیادہ ٹھنڈک کے لئے گھنے درختوں کی خوب گہری چھائوں ہوگی اور میوے دار درختوں کے میوے اس ڈھب پر لگے ہوں گے کہ ان میووں کو جنتی لوگ کھڑے بیٹھے ہر حالت میں کھا سکیں گے۔ وہاں چاندی کے برتن ایسے شفاف ہوں گے جن میں شیشے کے برتنوں کی طرح اندر کی چیز باہر نظر آئے گی اگرچہ جنت میں کھانے پینے ‘ پہننے ‘ برتنے کی جتنی چیزیں ہیں ان کے فقط نام دنیا کی چیزوں سے ملتے جلتے ہیں لیکن جنت کی چیزوں اور دنیا کی چیزوں میں بڑا فرق ہے جیسے مثلاً دنیا میں ایسا دودھ کہاں ہے جس کی ہمیشہ نہر بہتی ہو اور پھر دوسرے ہی دن وہ کھٹا نہ ہوجائے وہ شہد کہاں ہے جس کی نہر بہتی ہو اور مکھیاں بھنک کر اس میں جم جم کر نہ مریں۔ اور ہوا سے خاک اور کوڑا کرکٹ اس پر نہ پڑے۔ وہ شراب کہاں ہے جس کی نہر ہو اور بدبو کے سبب سے اس نہر کے آس پاس کا راستہ کچھ دنوں میں بند نہ ہوجائے۔ اسی طرح جنت کے یہ چاندی کے برتن ہوں گے جن میں سے اندر کی چیز باہر سے نظر آئے گی۔ دنیا کی زمین مٹی کی ہے اور جنت کی زمین چاندی کی ہوگی جس صاحب قدرت نے دنیا کی زمین کی مٹی میں یہ تاثیر دی ہے کہ اس سے شیشہ بن جاتا ہے اور اس شیشہ کے برتن میں سے اندر کی چیز باہر سے نظر آتی ہے جنت کی زمین کی چاندی میں اس تاثیر کا دے دینا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے۔ حضرت عبد اللہ بن ١ ؎ عباس فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں کوئی چاندی کی چیز ایسی شفاف نہیں جس میں اندر کی چیز باہر سے نظر آئے اس لئے وہ برتن جس دن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دکھائے گا اسی دن چاندی کا ایسا شفاف ہونا سمجھ میں آئے گا یہ چاندی کے آبخورے پیاس کی مقدار کے موافق ہوں گے تاکہ نہ جھوٹی چیز بچے نہ دوبارہ پھر مانگنے کی ضرورت ہو ابرار لوگوں کی شراب میں کبھی کافور چشمے کی شراب کی ملونی ہوگی اور کبھی زنجبیل چشمہ کی سلسبیل کے معنی بہتا ہوا چشمہ۔ جنت میں نو عمر لڑکے اہل جنت کی خدمت گزاری میں ہوں گے اور وہ خوبصورت لڑکے اسی لڑکپن کی عمر میں ہمیشہ رہیں گے۔ وہ کام کاج میں ہر وقت پھرتے رہیں گے اس لئے ان کی مثال بکھیرے ہوئے موتیوں کی فرمائی۔ تفسیر خازن میں اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ حوروں کی پیدائش کی طرح وہ لڑکے بھی جنت کی مخلوقات میں سے ہیں بنی آدم میں سے نہیں ہیں۔ جنت کی نعمتوں کو بڑی بادشاہت اس لئے فرمایا کہ صحیح ١ ؎ مسلم میں مغیرہ بن شعبہ کی جو روایت ہے اس کے موافق ادنیٰ سے ادنیٰ اہل جنت کے قبضہ میں دنیا سے دس چند ملک ہوگا اس طرح ترمذی ٢ ؎‘ ابن ماجہ ‘ داری اور صحیح بن حبان میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ادنیٰ سے ادنیٰ اہل جنت کی خدمت میں اسی ہزار خدمت گار اور موتیوں اور یاقوت کے خیمے ہوں گے۔ ترمذی نے اگرچہ اس حدیث کو غریب کہا ہے لیکن صحیح ٣ ؎ ابن حبان کی سند معتبر ہے ان حدیثوں سے ہر شخص کی سمجھ میں آسکتا کہ جب ادنیٰ سے ادنیٰ اہل جنت کی یہ شان ہے تو متوسط درجہ اور اعلیٰ درجہ کے اہل جنت کی کیا شان ہوگی۔ اسی واسطے حضرت ابوہریرہ (رض) کی صحیح بخاری ٤ ؎ و مسلم کی حدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس قدر جگہ میں گھوڑے کا سوار اپنے گھوڑے کا کوڑا ڈال دیتا ہے جنت کی اتنی سی جگہ تمام دنیا سے بہتر ہے۔ سندس ریشمی باریک کپڑے کو کہتے ہیں اور استبرق موٹے ریشمی کپڑے کو ‘ اس سورة میں چاندی کے کنگنوں کا جو ذکر ہے یہ اہل جنت اور جنت کے درجوں کے موافق ہے جیسا کہ خالص اور ملونی کی شراب کا ذکر گزرا۔ اور سورة واقعہ میں گزر چکا ہے کہ بعض اہل جنت تختوں پر بیٹھیں گے اور بعض فرش پر ‘ شراب طہور وہ شراب ہے جس کے پینے سے اہل جنت کے دل نورانی ہوجائیں گے۔ ان میں آپس کا حسد کوئی مادہ باقی نہ رہے گا۔ جب اہل جنت کو یہ جنت کی سب نعمتیں مل جائیں گی تو انہیں ان نعمتوں کا سبب یوں جتلایا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہاری تھوڑی سی عمر کے اعمالوں کے بدلہ میں یہ ابدالآباد کی نعمتیں تم کو دی ہیں۔ بندوں کی سعی کو اللہ تعالیٰ نے مشکور فرمایا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے عملوں کو قبول فرمایا۔ ٹھہر کے معنی زدر کی سخت سردی۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٥٦ ج ٦۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم باب اثبات الشفاعۃ واحخراج الموحدین من النار ص ١٠٦ ج ١۔ ) (٢ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء مالامدنیٰ اھل الجنۃ من الکرامۃ ص ٩٣ ج ٢۔ ) (٣ ؎ اترغیب والترہیب فصل فیما الادنیٰ اھل الجنۃ ص ٩٤٤ ج ٤۔ ) (٤ ؎ صحیح بخاری باب صفۃ الجنۃ والنار ص ٩٧٢ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(76:13) متکئین فیہا علی الارائک۔ جملہ حال ہے۔ جزھم کی ضمیر مفعول ہم سے۔ متکئین : اسم فاعل جمع مذکر منصوب متکئی واحد۔ اتکاء (افتعال) مصدر۔ تکیہ لگائے ہوئے۔ پیچھے کو گاؤ تکیہ سے سہارا لگائے ہوئے۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنۃ ہے الارائک اریکۃ کی جمع۔ بہت سے تخت۔ اریکۃ اس تخت کو کہتے ہیں جو مزین ہو اور جس پر پردہ لگا ہوا ہو۔ لا یرون فیہا : لا یرون مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ وہ نہیں دیکھیں گے۔ وہ نہیں پائیں گے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (مفعول فیہ) کا مرجع جنۃ ہے۔ شمسا مفعول دوم۔ سورج بمعنی سخت گرمی۔ ولا زمھریرا۔ مفعول سوم۔ زمھریر۔ سخت ٹھنڈ۔ مطلب یہ کہ :۔ وہاں جنت میں نہ سخت گرمی ہوگی اور نہ سخت ٹھنڈ ہوگی بلکہ وہاں کی ہوا معتدل اور خوشگوار ہوگی۔ جملہ محل نصب میں ہے اور ہم ضمیر مفعول سے حال ہے۔ یا متکئین کی ضمیر فاعل سے حال ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 15 یعنی نہایت معتدل اور خوشگوار موسم ہوگا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوزخ نے اپنے پروردگار کے حضور شکایت کی کہ میرے بعض حصے بعض حصوں کو کھاگئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دوسانس لینے کی اجازت دی۔ ایک سانس موسم گرما میں اور دوسرا سانس موسم سرما میں تو جاڑے کی سخت سردی اور گرما کی سخت گرمی اسی کے اثر سے ہے “۔ (فتح القدیر) گویا اللہ تعالیٰ انہیں دوزخ کے اثر سے محفوظ رکھے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

متکئین ........................ زمھریرا گویا وہاں ان کی محفلیں منعقد ہوتی رہیں گی جن میں وہ اطمینان کے ساتھ بیٹھیں گے اور سب کے سب خوشحال اور نعمتوں اور آسائشوں میں ڈوبے ہوئے ، خوشگوار موسموں میں ہوں گے جہاں نہ گرمی کی شدت ہوگی اور نہ سردیوں کی منجمد کرنے والی سردی ہوگی۔ بہرحال وہ ایک دوسرا جہاں ہوگا ۔ جس میں ہمارے جہاں والے شمس وقمرنہ ہوں گے۔ ایک نئی دنیا ہوگی یہی ہم کہہ سکتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) ان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اس جنت میں مسہریوں پر آرام وعزت سے تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور اس جنت میں نہ وہ سورج کی گرمی اور تپش پائیں گے اور نہ سخت سردی اور جاڑے سے دوچار ہوں گے۔