Surat ud Dahar

Surah: 76

Verse: 20

سورة الدھر

وَ اِذَا رَاَیۡتَ ثَمَّ رَاَیۡتَ نَعِیۡمًا وَّ مُلۡکًا کَبِیۡرًا ﴿۲۰﴾

And when you look there [in Paradise], you will see pleasure and great dominion.

تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذَا رَأَيْتَ ... And when you look, meaning, `when you see it, O Muhammad.' ... ثَمَّ ... there, meaning, there. This refers to Paradise and its beauty, its vastness, its loftiness and the joy and happiness it contains. ... رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا You will see a delight, and a great dominion. meaning, there will be a great kingdom that belongs to Allah and a dazzling, splendid dominion. It has been confirmed in the Sahih that Allah will say to the last of the people of the Fire to be taken out of it, and the last of the people to enter into Paradise, إِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا verily, you will have similar to the world and ten worlds like it (in addition to it)." If this is what He will give to the least of those who will be in Paradise, then what do you think about the one who will have a higher status and will be favored even more by Allah. The Garments and Ornaments Allah says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣] یعنی ایک ادنیٰ درجہ کے جنتی کو بھی جو رہائش کے لیے جنت میں جگہ ملے گی وہ بھی یوں معلوم ہوگی جیسے کسی بڑے بادشاہ کی سلطنت ہے جس میں ہر طرف اعلیٰ سے اعلیٰ نعمتیں موجود ہوں گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(١) واذا رایت ثم رایت نعیماً و ملکا کبیراً : اور نعمت کا حال کیا ہوگا ؟ ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(اول زمرۃ تدخل الجنۃ علی صورۃ القمر لیلۃ البدر، والذین علی ابرھم کا شد کوکب اضاء ۃ ، قلوبھم علی قلب رجل واحد، لااختلاف بینھم ولا تباعض، لکل امرہ منھم زوحنان، کل واحد منھما یری مخ ساقھا من وراء لخمیھا من الحسن ، یسبحون اللہ بکرۃ وعشیاً ، لا یسقمون ولایمتخطون، ولا ییصفون، ٓئیتھم الذھب و الفضۃ ، وامشاطھم الذھب، ووفود محاجرمرھم الالوۃ قال ابو الیمان یعنی العود و رشحھم المسک) (بخاری، بدہ ، الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ…: ٣٢٣٦)” پہلے گروہ کے لوگ جو جنت میں داخل ہوں گے، چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے، ان کے بعد جو لوگ جائیں گے وہ سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ ان کے دل ایک ہی آدمی کے دل کی طرح ہوں گے، ان میں نہ کوئی اختلاف ہوگا اور نہ بغض ۔ ان میں ہر ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں گ ی، جس کی وجہ سے ان عورتوں کی پنڈلی کا مغز گوشت کے پیچھے سے دکھائی دے گا ۔ وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح کریں گے۔ وہ نہ بیمار ہوں گے ، نہ ناک سنگیں گے اور نہ تھوکیں گے۔ ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی، ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن ” الوہ “ (ایک خوشبو دار لکڑی عود) ہوگی اور ان کا پسینا کستوری ہوگا۔ “ عبداللہ بن مسعود (رض) سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب سے آخر میں جہنم سے نکل کر جنت میں جانے اولے شخص کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس سے کہیں گے :(فان لک مثل الدنیا وعشرۃ امثالھا) (مسلم، الایمان، باب آخر اھل النار خروجا : ١٨٦)” تجھے دنیا اور دنیا کے دس گنا کے برابر دیا جاتا عے۔ “ جب آخری جنتی کے ملک و سلطنت کا یہ حال ہے تو دوسروں کے عظیم الشان ملک کا کہنا ہی کیا ہے۔ پھر دوستوں کی ملاقاتیں، فرشتوں کی آمد و رفت، سلام اور اللہ تعالیٰ کا اہل جنت سے ہم کلام ہونا، سل ام کہنا اور دیدار عطا فرمانا مزید نعمتیں ہیں۔ ال غرض، جنت میں وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا خیال آیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے اہل جنت میں شامل فرمائے۔ (آمین)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا۝ ٢٠ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ ثَمَّ والثُّمَّة : جمعة من حشیش . و : ثَمَّ إشارة إلى المتبعّد من المکان، و «هنالک» للتقرب، وهما ظرفان في الأصل، وقوله تعالی: وَإِذا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ [ الإنسان/ 20] فهو في موضع المفعول الثمۃ خشک گھاس کا مٹھا ۔ ثم ۔ ( وہاں ) اسم اشارہ بعید کے لئے آتا ہے اور اس کے بالمقابل ھنالک اسم اشارہ قریب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہ دونوں لفظ دراصل اسم ظرف اور آیت کریمہ :۔ وَإِذا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ [ الإنسان/ 20] اور بہشت میں ( جہاں آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت ۔۔۔ دیکھوگے ۔ میں ثم مفعول واقع ہوا ہے ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔ خواہ نافعل اس کا متولی ہو یا نہ ہو ۔ چناچہ پہلے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تو اس کو تباہ کردیتے ہیں ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] کہ اس نے تم میں پیغمبر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ۔ كبير الْكَبِيرُ والصّغير من الأسماء المتضایفة التي تقال عند اعتبار بعضها ببعض، فالشیء قد يكون صغیرا في جنب شيء، وكبيرا في جنب غيره، ويستعملان في الكمّيّة المتّصلة كالأجسام، وذلک کالکثير والقلیل، وفي الكمّيّة المنفصلة کالعدد، وربما يتعاقب الکثير والکبير علی شيء واحد بنظرین مختلفین نحو : قُلْ فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ [ البقرة/ 219] و : كثير «1» قرئ بهما . وأصل ذلک أن يستعمل في الأعيان، ثم استعیر للمعاني نحو قوله : لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصاها[ الكهف/ 49] ، وقوله : وَلا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْبَرَ [ سبأ/ 3] ، وقوله : يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ [ التوبة/ 3] إنما وصفه بالأكبر تنبيها أنّ العمرة هي الحجّة الصّغری كما قال صلّى اللہ عليه وسلم : «العمرة هي الحجّ الأصغر» فمن ذلک ما اعتبر فيه الزمان، ( ک ب ر ) کبیر اور صغیر اسمائے اضافیہ سے ہیں ۔ جن کے معانی ایک دوسرے کے لحاظ سے متعین ہوتے ہیں ۔ چناچہ ایک ہی چیز دوسری کے مقابلہ میں صغیر ہوتی ہے لیکن وہ شئے ایک اور کے مقابلہ میں کبیر کہلاتی ہے ۔ اور قلیل وکثٰیر کی طرح کبھی تو ان کا استعمال کمیت متصلہ یعنی اجسام میں ہوتا ہے ۔ اور کبھی کمیۃ منفصلہ یعنی عدد ہیں ۔ اور بعض اوقات کثیر اور کبیر دو مختلف جہتوں کے لحاظ سے ایک ہی چیز پر بولے جاتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : قُلْ فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ [ البقرة/ 219] کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں ۔ کہ اس میں ایک قرآت کثیر بھی ہے ۔ یہ اصل وضع کے لحاظ سے تو اعیان میں ہی استعمال ہوتے ہیں ۔ لیکن استعارہ کے طور پر معانی پر بھی بولے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصاها[ الكهف/ 49] کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے ۔ اور نہ بڑی کو ( کوئی بات بھی نہیں ) مگر اسے گن رکھا ہے ۔ وَلا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْبَرَ [ سبأ/ 3] اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ [ التوبة/ 3] اور حج اکبر کے دن ۔۔۔ میں حج کو اکبر کہہ کر متنبہ کیا ہے کہ عمرۃ حج اصغر ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے ؛العمرۃ ھہ الحج الاصغر ۔ کہ عمرہ حج اصغر ہے ۔ اور کبھی بڑائی بلحاظ زمانہ مراد ہوتی ہے چناچہ محاورہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22 Even if a person might have lived a pauper in the world, in the Hereafter when he is admitted to Paradise, on the basis of his good deeds, he will live as though he were the owner of a splendid kingdom.

سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :22 یعنی دنیا میں خواہ کوئی شخص فقیر بے نواہی کیوں نہ رہا ہو ، جب وہ اپنے اعمال خیر کی بنا پر جنت میں جائے گا تو وہاں اس شان سے رہے گا کہ گویا وہ ایک عظیم الشان سلطنت کا مالک ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(76:20) واذا رایت لم۔ واؤ عاطفہ رایت ماضی واحد مذکر حاضر رایت فعل متعدی ہے لیکن یہاں ظاہر یا مقدر اس کا مفعول مذکور نہیں ہے لہٰذا قائم مقام فعل لازم کے ہے۔ ثم بمعنی وہاں ۔ وہیں، اس جگہ۔ اسم اشارہ ہے مکان بعید کے لئے آتا ہے اور اعتبار اصل کے ظرف ہے۔ یہاں رایت کے ظرف مکان کے طور پر آیا ہے بمعنی وہاں ۔ یعنی جنت میں۔ اذا کی مختلف صورتیں ہیں :۔ (1) یہ ظرف زمان ہے۔ (زجاج، ریاشی) (2) یہ ظرف مکان ہے۔ (مبرد، سیبوبہ) (3) اکثر و بیشتر اذا شرط ہوتا ہے۔ مفسرین نے تینوں معنوں میں اس کا استعمال کیا ہے۔ (1) ظرف زمان : اور جب تو وہاں (کی نعمتیں) دیکھے گا۔ تو تجھ کو وہاں بڑی نعمت اور شاہی سازو سامان نظر آئے گا۔ (تفسیر حقانی) (2) ظرف مکان : اور جدھر بھی تم وہاں دیکھو گے تمہیں نعمتیں ہی نعمتیں اور وسیع مملکت نظر آئے گی۔ (تفسیر ضیاء القرآن) (3) اذا شرطیہ۔ اور اگر تو اس جگہ کو دیکھے تو تجھے بڑی نعمت اور بڑی سلطنت دکھائی دے۔ (تفسیر ماجدی) مطلب یہ کہ جنت میں نعمتیں ہی نعمتیں نظر آئیں گی اور ایک وسیع مملکت ہوگی جو خداوند کریم نے اپنے ایک ایک بندے کو دیدی ہے۔ نعیما۔ اسم منصوب۔ کثیر نعمت۔ ملکا بادشاہی، سلطنت (باب ضرب سے مصدر بھی ہے) ملکا کا عطف نعیما پر ہے اور کبیرا صفت ہے ملکا کی۔ بڑی وسیع مملکت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی جنت کا ہر شخص عظیم الشان نعمتوں اور بھاری شاہی سامان سے مالا مال نظر آئے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے بعد قرآن مجید ایک نگاہ میں پورے لفظ کو نہایت مختصر الفاظ میں پیش کرتا ہے اور دعوت نظارہ دیتا ہے۔ واذا رایت ................................ کبیرا ہر طرف نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک عظیم مملکت کا سازو سامان ہوگا ، جس میں ابرار عیش کریں گے جو اللہ کے مقرب بندے ہوں گے اور یہ تو تھی جنت کی اجمالی حالت۔ یہاں بعض چیزوں کا خصوصی ذکر بھی کیا جاتا ہے جو اس عظیم حکومتی انتظام کا مظہر ہیں گویا یہ حکومتی نظام کا نمونہ ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿وَ اِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّ مُلْكًا كَبِيْرًا ٠٠٢٠﴾ (اور اے مخاطب اگر تو وہاں نعمتوں کو دیکھے گا تو تجھے بڑا ملک نظر آئے گا) ۔ اس میں جنت کی وسعت بتائی ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھ لے کہ ایسے ہی چھوٹے موٹے گھر اور باغیچے ہوں گے جیسے دنیا میں ہوتے ہیں۔ درحقیقت وہاں بہت بڑا ملک ہے ہر ہر شخص کو جو جگہ ملے گی اس کے سامنے ساری دنیا کی وسعت ہیچ ہے۔ سب سے آخر میں جو شخص جنت میں داخل ہوں گا اللہ تعالیٰ کا اس سے ارشاد ہوگا کہ جا جنت میں داخل ہوجا تیرے لیے اس دنیا کے برابر جگہ ہے اور اس جیسی دنیا کے برابر دس گنا اس کے علاوہ اور ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اس شخص کے بارے میں یوں کہا جاتا تھا کہ وہ اہل جنت میں سب سے کم درجہ کا جنتی ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤٩٢ از بخاری و مسلم) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ ادنیٰ درجہ کا جنتی اپنے باغوں اور بیویوں اور نعمتوں اور خادموں اور مسہریوں کو ہزار سال کی مسافت میں دیکھے گا (یعنی اپنی مذکورہ نعمتوں کو اتنی دور تک پھیلی ہوئی دیکھتا چلا جائے گا جتنی دور تک ہزار سال میں چل کر پہنچے) ۔ اور اللہ کے ہاں سب سے بڑا معزز وہ شخص ہوگا جو صبح شام اللہ تعالیٰ کا دیدار کرے گا۔ اس کے بعد آپ نے آیت کریمہ ﴿وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ٠٠٢٢ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ٠٠٢٣﴾ پڑھی (جو عنقریب ہی سورة القیامۃ میں گزر چکی ہے) ۔ (رواہ احمد والترمذی کما فی المشکوٰۃ صفحہ ٥٠١)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(20) اور اے مخاطب جب تو وہاں دیکھے گا تو بکثرت نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا۔ یعنی جنت کا وصف اور اس کے اوصاف کیا بیان کئے جائیں اے مخاطب تو دیکھے گا تو بیشمار نعمتیں اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا جو ادنیٰ ترین جنتی کو عطا ہوگا بےکراں نعمتیں اور بہت بڑی حکومت و سلطنت اللھم ارزقنا بمنک وکرمک۔