Surat ud Dahar

Surah: 76

Verse: 7

سورة الدھر

یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسۡتَطِیۡرًا ﴿۷﴾

They [are those who] fulfill [their] vows and fear a Day whose evil will be widespread.

جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

They fulfill vows, and they fear a Day whose evil will be wide-spreading. meaning, they devote to worship Allah using that which He made obligatory upon them from actions of obligatory obedience that is based on Islamic legislation. They also worship Him by fulfilling their vows. Imam Malik reported from Talhah bin `Abdul-Malik Al-Ayli, who reported from Al-Qasim bin Malik, from `A'ishah that the Messenger of Allah said, مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللهَ فَلَ يَعْصِه Whoever makes a vow to obey Allah, then he should obey Him. And whoever makes a vow to disobey Allah, then he should not disobey Him. Al-Bukhari also recorded this Hadith from Malik. These people also abandon those forbidden things which He (Allah) has prohibited for them, due to their fear of having an evil reckoning on the Day of Return. This is the Day when the evil will spread out among all people except for those upon whom Allah has had mercy. Ibn `Abbas said, "Spreading." Qatadah said, "By Allah! The evil of that Day will spread until it fills the heavens and the earth." Concerning Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں نذر بھی مانتے ہیں تو اسی کے لیے اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔ اس دن سے ڈرتے ہوئے محرمات اور معصیات کا ارتکاب نہیں کرتے۔ برائی پھیل جانے کا مطلب ہے کہ اس روز اللہ کی گرفت صرف وہی بچے گا جسے اللہ اپنے دامن عفو و رحمت میں ڈھانک لے گا۔ باقی سب اس کے شر کی لپیٹ میں ہونگے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] اہل جنت کی چند صفات :۔ اب ان کامیاب ہونے والے نیک لوگوں کی چند صفات بیان کی جارہی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نذریں پوری کرتے ہیں۔ نذر ایسے عہد کو کہا جاتا ہے جو انسان خود اپنے اوپر واجب قرار دے لیتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے واجب کردہ عہد کو پورا کرنے کا اس قدر خیال رکھتا ہے وہ اللہ کے عہد کو پورا کرنے کا بدرجہ اولیٰ خیال رکھے گا۔ [٩] مُسْتَطِیْرٌ (مادہ ط ی ر) بمعنی چارسو پھیلی ہوئی آفت۔ پوری کی پوری فضا کو متاثر کرنے والی تکلیف اور مصیبت۔ جب سورج بالکل زمین کے قریب لے آیا جائے گا اور حرارت اور گھبراہٹ کے مارے لوگوں کا برا حال ہوگا۔ اس دن کے شر سے وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو پہلے ہی اس دن کے شر سے ڈر کر اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے ہوں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یوفون بالنذر…:” النذر “ اپنے آپ پر وہ چیز واجب کرلینا جو واجب نہیں ہے۔” مستطیراً “ (طار یطیر “ اڑنا اور ” استطار یستطیر “ باب اسفعال میں الفاظ زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، یعنی بہت زیادہ اڑنے والا، مراد ہے، بہت زیادہ پھینلے والا، جیسے آگیا صبح کی روشنی خوب پھیل جائے تو کہا جاتا ہے : ” استطار الحریق “ یا ” استطار الفجر “ کہ آگ بہت زیادہ پھیل گئی ہے، یا صبح کی روشنی خوب پھیل گئی ہے۔ اس آیت میں اور اس کے بعد کتین آیات میں اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کی چند صفات بیان کی گئی ہیں، ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نذر پوری کرتے ہیں، پھر جو کام اللہ تعالیٰ کی طرف ہلے ہی واجب ہیں ان پر کتنے اہتمام سے عمل کرتے ہوگے۔ نذر کے مسائل کے لئے دیکھیے سورة بقرہ (٢٧٠) اور سورة حج (٢٩) کی تفسیر۔ ان لوگوں کے نذر پوری کرنے کا باعث یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں جس کی مصیبت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ اس سے ان صوفیوں کا رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ جنت کے طمع یا جہنم کی خوف سے عبادت نہیں کرنی چاہیے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ (They [ are the ones who ] fulfill the vows...76:7). This describes the reason why the righteous believers and Allah&s slaves will receive these favours and bounties. This verse signifies that whenever they vow to do a good act, they invariably fulfill the vow. The word &vow& literally means &to take upon oneself an obligation which Shari` ah has not obligated on him&. Once a vow is taken, it becomes obligatory to fulfill it. Here it is stated that great rewards and favours for the inmates of Paradise would be apportioned to them because they fulfilled the vow. The verse indicates that when they are so particular about fulfilling their vows that are taken by them upon themselves, they would be even more particular about fulfilling the obligations enjoined upon them by Allah. Thus &the fulfillment of vows& covers the entire spectrum of religious obligations. They would receive the favours of Paradise, if they completely obey Allah and rigorously apply His sacred laws. In any case, this statement emphasises the importance and obligation of fulfillment of vows. (1) It should be noted that in the original text of Ma` rif-ul-Qur&an, the expression is such that the vow may be confused by a layman with oath. To understand the point, it should be borne in mind that if a person makes a vow to commit a sin, like telling a lie, or drinking liquor, this vow is not recognized in Shri` ah. It is necessary for such a person to abstain from the sin, and since the vow is not recognized by the Sharl&ah, no expiation (kaffarah) is needed. However, it is the rule about oath that has been mentioned in the text above. That is, if someone swears an oath to tell a lie, for example, he has to break the oath and offer karah.(Muhammad Taqi Usmani) Ruling There are several conditions that must be met before a vow can be constituted: [ 1] The vow must be legitimate and permissible - not a sin. If a person swears an oath to commit a sinful act, it is necessary for him to break the oath, and pay the expiation for violating it.|" ) [ 2] It must not be legislated by Allah as an obligatory duty, as for instance if a person were to vow that he will perform the prescribed prayer or witr prayer, the vow would be null and void, because it is already a prescribed obligation. [ 3] According to Imam A` zam Abu Hanifah, it is also a condition that the vowed act must be an act of worship in itself, and such act of worship should belong to those forms of worship which have been made obligatory in some way or the other, as for instance prayers, fasting, charity, sacrifice and so on. If the vowed act is not prescribed as a worship, such a vow will be void. For instance, if a person were to vow that he will pay a visit to a sickly patient, or follow a funeral procession, this vow will not be valid, because although these acts carry rewards as acts of worship, yet they are not acts, of worship in themselves (Al ` Ibadat ul Maqsudah). Detailed rules and principles related to vows and oaths are available in books of jurisprudence.

يُوْفُوْنَ بالنَّذْرِ یہ بیان اس کا ہے کہ ابرار اور عباد اللہ کو یہ انعامات کس بناء پر ملیں گے۔ معنے یہ ہیں کہ یہ لوگ جس کام کی اللہ کے لئے نذر (منت) مان لیتے ہیں اس کو پورا کرتے ہیں۔ نذر کے لفظی معنے یہ ہیں کہ آپ اپنے اوپر کوئی ایسا کام واجب کرلیں جو شریعت سے آپ کے ذمہ واجب نہیں ہے۔ ایسی نذر کو پورا کرنا شرعاً واجب ہوتا ہے جس کی کچھ تفصیل آگے آتی ہے۔ یہاں اہل جنت کی جزائے عظیم اور انعامات کا سبب ایفائے نذر کو قرار دیا ہے۔ اس میں اشارہ اس کی طرف ہے کہ یہ لوگ جب اپنی طرف واجب کردہ چیزوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں تو جو فرائض و واجبات ان کے اختیار سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر لازم کئے گئے ہیں ان کا اہتمام بدرجہ اولیٰ کرتے ہوں گے۔ اس طرح لفظ ایفائے نذر میں درحقیقت تمام واجبات شرعیہ اور فرائض کی ادائیگی شامل ہوگئی اور انعامات جنت کا سبب مکمل اطاعت اور تمام فرائض و واجبات کو ادا کرنا ہوگا۔ بہرحال اس جملے سے ایفائے نذر کی اہمیت اور وجوب ثابت ہوا۔ مسئلہ۔ نذر (منت) کے منعقد ہونے کے لئے چند شرائط ہیں۔ اول یہ کہ جس کام کی نذر مانی جائے وہ جائز و حلال ہو معصیت نہ ہو۔ اگر کسی نے کسی گناہ اور ناجائز کام کی نذر مان لی تو اس پر لازم ہے کہ وہ ناجائز کام نہ کرے اپنی قسم کو توڑ دے اور قسم کا کفارہ ادا کرے، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے واجب نہ ہو اس لئے اگر کوئی شخص نماز فرض یا وتر واجب کی نذر مان لے تو یہ نذر لغو ہوگی وہ فرض یا واجب پہلے ہی سے اس پر واجب الادا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک یہ بھی شرط ہے کہ جس کام کو بذریعہ نذر اپنے اوپر واجب کیا ہے اس کی جنس سے کوئی عبادت شریعت میں واجب کی گئی ہو جیسے نماز روزہ صدقہ قربانی وغیرہ اور جس کی جنس سے شرعاً کوئی عبادت مقصود نہیں ہے اس کی نذر ماننے سے نذر لازم نہیں ہوتی جیسے کسی مریض کی عیادت یا جنازے کے پیچھے چلنا وغیرہ جو اگرچہ عبادات ہیں مگر عبادت مقصودہ نہیں، نذر و یمین کے احکام کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھی جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّہٗ مُسْـتَطِيْرًا۝ ٧ وفی پورا الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] ( و ف ی) الوافی ۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔ نذر ( منت) النّذر : أن تُوجِب علی نفسک ما ليس بواجب لحدوثِ أمر، يقال : نَذَرْتُ لله أمراً ، قال تعالی:إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمنِ صَوْماً [ مریم/ 26] ، وقال : وَما أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ [ البقرة/ 270] ( ن ذ ر ) النذر : کے معنی کسیحادثہ کی وجہ سے غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ نذرت للہ نذر ا : میں نے اللہ کے لئے نذر مانی قرآن پاک میں ہے : ۔ إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمنِ صَوْماً [ مریم/ 26] میں نے خدا کے لئے روزے کی نذر مانی ہے ۔ وَما أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ [ البقرة/ 270] اور تم خدا کی راہ میں جس میں طرح کا خرچ کردیا کر دیا کوئی نذر مانو ۔ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔ شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے ہیں مُسْتَطِيراً وَيَخافُونَ يَوْماً كانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيراً [ الإنسان/ 7] ، وغبارٌ مُسْتَطَارٌ ، خولف بين بنائهما فتصوّر الفجر بصورة الفاعل، فقیل : مُسْتَطِيرٌ ، والغبارُ بصورة المفعول، فقیل : مُسْتَطَارٌ وفرسٌ مُطَارٌ للسّريع، ولحدید الفؤاد، وخذ ما طَارَ من شَعْر رأسك، أي : ما انتشر حتی كأنه طَارَ. فجر مستطیر منتشر ہونے والی صبح قرآن میں ہے : ۔ وَيَخافُونَ يَوْماً كانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيراً [ الإنسان/ 7] اور اس دن سے جس کی سختی پھیل رہی ہوگی خوف رکھتے ہیں ۔ غبار مستطار بلند اور منتشر ہونے والا غبار فجر کو فاعل تصور کر کے اس کے متعلق مستطیر اسم فاعل کا صیغہ استعمال کرتے ہیں اور غبار کو مفعول تصور کر کے مستطار کہتے ہیں ۔ فرس مطار ہوشیار اور تیزرو گھوڑا ۔ خذ ماطا ر من شعر راسک یعنی اپنے سر کے پرا گندہ اور لمبے بال کاٹ ڈالو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧۔ ٨) آگے ان نیک لوگوں کی صفات مذکور ہیں جن پر وہ دنیاوی زندگی میں کار بند تھے کہ وہ لوگ عہد اور قسموں کو یا یہ کہ فرائض کو پورا کرتے اور ایسے دن کے عذاب سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی اور وہ لوگ کھانے کی کمی اور اس کی خواہش کے باوجود غریب مسلمانوں اور یتیم اور مسلمان قیدیوں کو خواہ کافروں کے قبضہ میں ہوں یا جیل میں کھانا کھلاتے ہیں۔ شان نزول : وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا (الخ) ابن منذر نے ابن جریر سے وَّاَسِيْرًا کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ رسول اکرم مسلمانوں میں سے کسی کو قید نہیں کیا کرتے تھے لیکن یہ آیت کافروں کے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کافر عذاب میں ان کو قید کرلیا کرتے تھے تو رسول اکرم ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

10 One meaning of fulfilling the vow is that one should fulfil, second, that one should fulfil what one has pledged oneself to do, third, that one should fulfil what one has been enjoined; what is obligatory for one to do, whether one has been enjoined it, or is self-imposed. Of these three the second meaning is the best known and generally the same is implied by fulfilling the vow. In any case, these righteous people have been regarded as praiseworthy either because they carry out the duties enjoined by Allah, or because if they vow to Allah to perform certain good deeds which Allah has not enjoined on them, they fulfil even those self imposed vows, not to speak of showing any negligence,in carrying out the duties which Allah has actually enjoined on them. As for the commandments concerning the vow, we have explained these briefly in E.N. 310 of Surah Al-Baqarah above, But it would be useful to explain them at length here so as to enable the people to avoid the errors and rid themselves of the misunderstandings with regard to fulfilling the vow and learn the correct rules pertaining to it. (1) The jurists have mentioned four kinds of the vow: (a) that one should pledge to Allah that one would perform such and such a good act to earn His good pleasure; (b) that one should make a vow that one would perform such and such a good act in gratitude to Allah if He fulfilled one's such and such wish and desire. Both these kinds of the vow have been termed nadhr tabarrur (i.e. vows for a good cause) by the jurists, and it is agreed by all that it is obligatory to fulfil them. (c) That one should pledge to do an unlawful thing or to refrain from an obligatory thing; (d) that one should bind oneself to do a permissible thing, or to refrain from an obligatory thing, or pledge to do an unworthy thing. These two kinds of the vow have been termed nadhr lajaj (i.e. vow of ignorance, disputation and stubbornness) by the jurists. About the third kind of the vow it is agreed that it does not take place at alI; and about the fourth kind the juristic opinion is divided. Some jurists say that it should be fulfilled; some others say that one should expiate the breaking of the oath, and still others that one has the option to fulfil the vow or to expiate it. According to the Shaf is and the Malikis this vow dces not take place at all, and according w the Hanafis both these kinds of the vow entail expiation. (`Umdat al-Qari) (2) Several Ahadith show that the Holy Prophet (upon whom be peace) has forbidden making a vow with a view to changing the destiny, or with a view to making an offer to Allah that if He fulfilled one's such and such wish, one would perform such and such good act, not in gratitude to Allah, but in exchange for His ,help. Hadrat `Abdullah bin `Umar has reported that once the Holy Prophet (upon whom be peace) while he forbade the making of a vow, said; "It cannot avert anything which is about to befall, but through it something is extracted from the miserly person." (Muslim, Abu Da'ud) , The last sentence of the Hadith means: The miserly person is not prone to spend anything in the cause of AIIah; because of the vow he gives away something in charity in the greed that Allah would accept his offer and change his destiny for him. Another tradition from Hadrat `Abdullah bin 'Umar is to the effect; "The Holy Prophet said: the vow can neither hasten anything nor defer anything, but through it something is extracted from the miserly person. " (Bukhari, Muslim) . In another tradition he says that the Holy Prophet forbade making of the vow and said: "It does not bring any good, but it is a means whereby something is extracted from the miserly person." (Bukhari, Muslim) . Several traditions on the same subject have been related by Muslim from Hadrat Abu Hurairah, and in one tradition which both Bukhari and Muslim have related, he reports that the Holy Prophet said: "As a matter of fact, the vow cannot bring the son of Adam anything which Allah has not ordained for him, but the vow sometimes coincides with the destiny itself and through it the Divine will takes out from the possession of the miserly person that which he was not inclined to give away willingly." This same theme is further explained by the tradition of Hadrat `Abdullah bin `Amr bin `As according to which the Holy Prophet (upon whom be peace) said: "True vow is that whereby Allah's goodwill and approval may be sought. " ( Tahavi) (3) Another rule that the Holy Prophet (upon whom be peace) gave concerning the vow is that only that vow should be fulfilled, which is in obedience to Allah; the vow made in disobedience to Allah should never be fulfilled. Likewise, there can be no vow concerning a thing which is not in one's power to perform. Hadrat `A'ishah has reported that the Holy Prophet said: "The one who made a vow that he would obey Allah, should obey Him, and the one who made a vow that he would disobey Allah, should not disobey." (Bukhari, Abu Da ud Tirmidhi, Nasa'i, lbn Majah, Tahavi) . Thabit bin Dahhak says that the Holy Prophet (upon whom be peace) said: "There can be no question of fulfilling a vow made in the disobedience of Allah, nor in something which is not in one's possession." (Abu Da'ud) . Muslim has related a tradition on the same subject from Hadrat `Imran bin Husain; and in Abu Da'ud a tradition has been reported in greater detail from Hadrat `Abdullah bin `Amr bin `As, saying that the Holy Prophet said: "No vow and no oath is of any use in an act which is not in the power of man to perform, or which involves disobedience of Allah, or severance of relations with kindred." (4) One should not fulfil a vow which is made to perform an act which is of no good in itself, which is useless, or involves unbearable hardship or self-torture, and might have been self-imposed as an act of virtue. In this connection, the sayings of the Holy Prophet (upon whom be peace) are very clear and definite. Hadrat `Abdullah bin `Abbas says that once when the Holy Prophet was giving a sermon, he saw a man who was standing in the sun. He asked who he was and why he was standing in the sun. The people said that he was Abu Isra'il: he had vowed that he would keep standing and would not sit, nor take shade, nor speak to anybody, and would keep fast. Thereupon the Holy Prophet said: "Tell him to speak, to come in the shade and sit, but to observe the fast." (Bukhari, Abu Da'ud, Ibn Majah, Mu'watta) . Hadrat `Uqbah bin `Amir Juhani says: "My sister vowed that she would go for Hajj bare-foot and also vowed that she would not cover her head with a garment during the journey. The Holy Prophet said: Tell her to go by a conveyance and to cover 'her head." (Abu Da'ud) . Muslim has related several traditions on this subject with a little variation in wording. Hadrat `Abdullah bin `Abbas reporting the incident concerning `Uqbah bin `Amir's sister, has reported the Holy Prophet's words to the effect: "Allah has no need of her vow: tell her to use a conveyance." (Abu Da'ud) . In another tradition Hadrat Ibn `Abbas says "A man said: My sister has vowed to go and perform Hajj on foot. The Holy Prophet replied: Allah has no need that your sister should undergo hardship. She should go for Hajj by a conveyance." (Abu Da'ud) . Hadrat Anas bin Malik has reported that the Holy Prophet saw (probably during the Hajj journey) an old man being supported between his two sons. When he asked what was the matter with him, it was said that the old man had vowed to go on foot. Thereupon the Holy Prophet said: "Allah is free from this that the man should place himself in agony. Then he commanded him to ride." (Bukhari, Muslim, Abu Da'ud. In Muslim another Hadith on this very subject has been reported by Hadrat Abu Hurairah also) . (5) If it is not practically possible to fulfil a vow, it may be fulfilled in some other way. Hadrat Jabir bin `Abdullah says: "On the day of the conquest of Makkah, a man stood up and said: O Messenger of Allah, I had vowed that if Allah made Makkah fall at your hand, I would pray two rak ahs of the Prayer in Bait al-Maqdis (Jerusalem) . The Holy Prophet replied: Say the Prayer here. He again asked the same thing and the Holy Prophet again gave the same reply. When he asked it again, the Holy Prophet said: All right, as you please." According to another tradition, the Holy Prophet said: "By Him Who has sent Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) with the truth, if you pray here it will suffice for you instead of your praying at Bait al Maqdis (Abu Da'ud) ." (6) The opinion among the jurists is divided concerning the person who vows to give away all his possessions for the cause of Allah. Imam Malik says that he should give away one-third of his possessions, and Sahnun from among the Malikis has expressed the opinion that he should give away so much of his possessions as dces not subject him to hardship later. Imam Shafe`i says that if the vow is of the nature of tabarrur(i.e. for a good cause) , he should give away all his possessions, and if it is of the nature of lajaj (i.e, a vow of ignorance) , he has the option to fulfil the vow or to expiate the oath. Imam Abu Hanifah says that he should give away all such possessions as are subject to zalrat, but the vow will not apply to those possessions which are exempt from zakat, e.g. house, or other such properties. Imam Zufar from among the Hanafis is of the opinion that he should give away everything in charity after he has taken out two months' maintenance for his family. ( `Umdat al-Qari, Sharh Mu'watta by Shah Waliyullah) . Traditions of the Hadrat in this connection are as follows. Hadrat Ka'b bin Malik says: "When I was granted forgiveness for incurring Allah's displeasure for staying behind on the occasion of the Battle of Tabuk, I went before the Holy Prophet (upon whom be peace) and submitted: My repentance also included that I would give away alI my possessions in charity for the sake of Allah and His Messenger. The Holy Prophet replied: No, do not do that. I said. Then half of the possessions? He said: No. I said: Then one-third of the possessions? He replied: Yes." (Abu Da'ud) . According to another tradition, the Holy Prophet replied: "Withhold some of your possessions for yourself: this would be better for you." (Bukhari) , Imam Zuhri says: "Information has reached me that Hadrat Abu Lubabah (who had similarly incurred displeasure in connection with the same Battle of Tabuk) said to the Holy Prophet: "I shall give away all my possessions for the sake of Allah and His Messenger in charity. The Holy Prophet replied: For you it would be enough to give away only one-third of it." (Mu'watta) . (7) Should a person who vowed to perform a good act before embracing Islam, fulfil it after he has embraced Islam? The Holy Prophet's ruling in this connection is that he should fulfil it. (Bukhari; according to a tradition in Abu Da ud and Tahavi Hadrat `Umar is reported to have vowed in the pre-Islamic days that he would observe i `tikaf(devotional seclusion) in the Masjid al-Haram (for one night, or according to others, one day) . After embracing Islam when he asked for the Holy Prophet's ruling, he replied: "Fulfil your vow." Some jurists have taken this ruling of the Holy Prophet to mean that it is obligatory to do so, and some others that it is commendable. (8) About the question whether the heirs are under obligation to fulfil a vow made by the deceased person or not, the juristic opinion is divided. Imam Ahmad, Ishaq bin Rahawaih, Abu Thaur and the Zahiris say that if the deceased person had vowed to observe the Fast or perform the Prayer but could not fulfil the vow, the heirs have to fulfil it. The Hanafis say that if the vow pertained to a bodily worship (e.g. the Prayer or the Fast) , the heirs are under no obligation to fulfil it, and if it pertained to monetary worship and the deceased did not leave any will for his heirs to fulfil it, they are again under no obligation to fulfil it. but if he left a will, it will be obligatory for the heirs to fulfil it from his inheritance up to one-third of its extent. The Maliki viewpoint also is somewhat the same. The Shafe`is say that if the vow pertains to a non-monetary worship, or if it pertains to a monetary worship and the deceased person did not leave any inheritance, the heirs are under no obligation to fulfil it; and if the deceased left some inheritance, the heirs would be bound to fulfil the vow pertaining to a monetary worship, no matter whether the dying person left a will or not. (Sharh Muslim by AI-Nawawi, Badhl al-Majhud Sharh Abi Da ud) . In the Hadith there is a tradition from Hadrat `Abdullah bin `Abbas on this subject to the effect: "Hadrat Sa`d bin `Ubadah asked for the Holy Prophet's verdict, saying: My mother has died and she had made a vow which she could not fulfil. The Holy Prophet said: Fulfil the vow on her behalf." (Abu Da'ud. Muslim) . Another tradition from Ibn `Abbas is to the effect: "A woman went on a sea journey and vowed that if she returned home safe and sound, she would observe fast for a month. On her return home she died. Her sister or her daughter came to the Holy Prophet to ask for his decision. The Holy Prophet replied: "Observe the fast on her behalf." (Abu Da'ud Abu Da'ud has related another tradition with the same content from Hadrat Buraidah, saying: "A woman asked the Holy Prophet a similar thing and he gave the same reply as mentioned above." Since these traditions are not explicit as to whether the rulings the Holy Prophet gave pertained to its being obligatory or commendable, and since about the vow made by Hadrat Sa`d bin `Ubadah's mother also it is not clear whether it pertained to a monetary worship, or a bodily worship, there have arisen differences among the jurists on this question. (9) As for an unlawful vow it is clear that it should not be fulfilled. However, there is a difference of opinion as to whether it entails an expiation or not. On this point since the traditions differ the juristic opinion is also divided. According to one kind of the traditions the Holy Prophet commanded the person concerned to make the expiation. Hadrat `A'ishah has reported that the Holy Prophet said: "Three is no vow in the disobedience of Allah, and its expiation is the expiation of breaking the oath" (Abu Da'ud, In the case of `Uqbah bin `Amir Juhani's sister (mentioned under No. 4 above) , the Holy Prophet (upon whom be peace) commanded that she should break her vow and fast for three days. (Muslim, Abu Da'ud) . In the case of another woman also who had vowed to go for Hajj on foot, he commanded that she should go by a conveyance and should make expiation for the oath (Abu Da'ud) . Ibn `Abbas has reported that the Holy Prophet said: "The one who made a vow but did not specify what the vow was about, should expiate for the oath, and the one who made a vow to perform a sinful act, should expiate for the oath, and the one who made a vow to perform something which he dces not have the power to perform, should expiate for the oath, and the one who made a vow to do something which he can do, should fulfil it." (Abu Da'ud) . On the other hand, there are the traditions which show that there is no expiation in this case. The person under No.4 above had vowed that he would stand in the sun and would not speak to anyone. Making a reference to him in Mu'watta, Imam Malik writes: "I could not know by any means whether the Holy Prophet besides commanding him to break the vow might also have told him to make the expiation. Hadrat `Abdullah bin `Amr bin `As has reported that the Holy Prophet said: "If the one swearing an oath for something later finds that another thing was better than that he should abandon it and should adopt the better course and the abandonment itself is the expiation." (Abu Da'ud; Baihaqi says that this Hadith and Hadrat Abu Hurairah's this tradition: "He should adopt the better course and this is its expiation" are not established) . Imam Nawawi discussing these traditions of the Hadid in his commentary of Sahih Muslim writes: "Imam Malik, Shafe`i, Abu Hanifah, Da'ud Zahiri and other scholars say that the vow made to do a sinful thing is void and ineffectual and it does not entail any expiation if not fulfilled, but lmam Ahmad says that it entails expiation."

سورة الدَّهْر حاشیہ نمبر :10 نذر پوری کرنے کا ایک مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ آدمی پر واجب کیا گیا ہو اسے وہ پورا کرے ۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے خود اپنے اوپر واجب کر لیا ہو ، یا بالفاظ دیگر جس کام کے کرنے کا اس نے عہد کیا ہو ، اسے وہ پورا کرے ۔ تیسرا مفہوم یہ ہے کہ جو کچھ آدمی پر واجب ہو ، ، خواہ وہ اس پر واجب کیا گیا ہو یا اس نے خود اپنے اوپر واجب کر لیا ہو ، اسے وہ پورا کرے ۔ ان تینوں مفہومات میں سے زیادہ معروف مفہوم دوسرا ہے اور عام طور پر لفظ نذر سے وہی مراد لیا جاتا ہے ۔ بہرحال یہاں ان لوگوں کی تعریف یا تو اس لحاظ سے کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالی کے عائد کردہ واجبات کو پورا کرتے ہیں ، یا اس لحاظ سے کی گئی ہے کہ وہ ایسے نیک لوگ ہیں کہ جوخیر اور بھلائی کے کام اللہ نے ان پر واجب نہیں کیے ہیں ان کو بھی انجام دینے کا جب وہ اللہ سے عہد کر لیتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں ، کجا کہ ان واجبات کو ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی کریں جو اللہ نے ان پر عائد فرمائے ہیں ۔ جہاں تک نذر کے احکام کا تعلق ہے ، ان کو مختصر طور پر ہم تفہیم القرآن ، جلد اول ، البقرہ ، حاشیہ 310 میں بیان کر چکے ہیں ، لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے یہاں ان کو ذرا تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا جائے تاکہ لوگ نذر کے معاملہ میں جو غلطیاں کرتے ہیں یا جو غلط فہمیاں لوگوں میں پائی جاتی ہیں ان سے بچ سکیں اور نذر کے صحیح قواعد سے واقف ہو جائیں ۔ ( 1 ) فقہاء نے نذر کی چار قسمیں بیان کی ہیں ۔ ایک یہ کہ ایک آدمی اللہ سے یہ عہد کرے کہ وہ اس کی رضا کی خاطر فلاں نیک کام کرے گا ۔ دوسرے یہ کہ وہ اس بات کی نذر مانے کہ اگر اللہ نے میری فلاں حاجت پوری کر دی تو میں شکرانے میں فلاں نیک کام کروں گا ۔ ان دونوں قسم کی نذروں کو فقہاء کی اصطلاح میں نذر تبرر ( نیکی کی نذر ) کہتے ہیں اور اس پر اتفاق ہے کہ اسے پورا کرنا واجب ہے ۔ تیسرے یہ کہ آدمی کوئی ناجائز کام کرنے یا کوئی واجب کام نہ کرنے کا عہد کر لے ۔ چوتھے یہ کہ آدمی کوئی مباح کام کرنے کو اپنے اوپر لازم کر لے ، یا کوئی مستحب کام نہ کرنے کا کوئی خلاف اولی کام کرنے کا عہد کرلے ۔ ان دونوں قسموں کی نذروں کو فقہاء کی اصطلاح میں نذر لجاج ( جہالت اور جھگڑالو پن اور ضد کی نذر ) کہتے ہیں ۔ ان میں سے تیسری قسم کی نذر کے متعلق اتفاق ہے کہ وہ منعقد ہی نہیں ہوتی ۔ اور چوتھی قسم کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ اسے پورا کرنا چاہیے ۔ بعض کہتے ہیں کہ قسم توڑنے کا کفارہ ادا کر دینا چاہیے ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ آدمی کو اختیار ہے ، خواہ نذر پوری کر دے ، یا کفارہ ادا کر دے ۔ شافعیوں اور مالکیوں کے نزدیک یہ نذر بھی سرے سے منعقد نہیں ہوتی ۔ اور حنفیوں کے نزدیک دونوں قسموں کی نذروں پر کفارہ لازم آتا ہے ۔ ( عمدۃ القاری ) ۔ ( 2 ) متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی نذر ماننے سے منع فرمایا ہے جو یہ سمجھتے ہوئے مانی جائے کہ اس سے تقدیر بدل جائے گی ، یا جس میں کوئی نیک کام اللہ کی رضا کے لیے بطور شکر کرنے کے بجائے آدمی اللہ تعالی کو بطور معاوضہ یہ پیشکش کرے کہ آپ میرا یہ کام کر دیں تو میں آپ کے لیے فلاں نیک کام کر دوں گا ۔ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ اخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینھی عن النذر و یقول انہ لا یرد شیئاً و انما یستخرج بہ من البخیل ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ نذر ماننے سے منع کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ وہ کسی ہونے والی چیز کو پھیر نہیں سکتی ، البتہ اس کے ذریعہ سے کچھ مال بخیل سے نکلوا لیا جاتا ہے ۔ ( مسلم ۔ ابو داؤد ) ۔ حدیث کے آخری فقرے کا مطلب یہ ہے کہ بخیل یوں تو راہ خدا میں مال نکالنے والا نہ تھا ، نذر کے ذریعہ سے اس لالچ میں وہ کچھ خیرات کر دیتا ہے کہ شاہد یہ معاوضہ قبول کر کے اللہ تعالی اس کے لیے تقدیر بدل دے ۔ دوسری روایت حضرت عبداللہ بن عمر سے یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا النذر لا یقدم شیئاً ولا یوخرہ و انما یستخرج بہ من البخیل ۔ نذر نہ کوئی کام پہلے کرا سکتی ہے ، نہ کسی ہوتے کام میں تاخیر کرا سکتی ہے ۔ البتہ اس کے ذریعہ سے کچھ مال بخیل کے ہاتھ سے نکلوا لیا جاتا ہے ( بخاری و مسلم ) ۔ ایک اور روایت میں وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا انہ لا یاتی بخیر وانما یستخرج بہ من البخیل ۔ اس سے کوئی کام بنتا نہیں ہے البتہ اس کے ذریعے سے کچھ مال بخیل سے نکلوا لیا جاتا ہے ( بخاری و مسلم ) ۔ تقریباً اسی مضمون کی متعدد روایات مسلم نےحضرت ابو ہریرہ سے نقل کی ہیں ، اور ایک روایت بخاری و مسلم دونوں نے نقل کی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان النذر لا یقرب من ابن ادم شیئا لم یکن اللہ قدرہ لہ ولکن النذر یوافق القدر فیخرج بذالک من البخیل ما لم یکن البخیل یرید ان یخرج ۔ درحقیقت نذر ابن آدم کو کوئی ایسی چیز نہیں دلوا سکتی جو اللہ نے اس کے لیے مقدر نہ فرمائی ہو ، لیکن نذر ہوتی تقدیر کے مطابق ہی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تقدیر الہی وہ چیز بخیل کے پاس سے نکال لاتی ہے جسے وہ کسی اور طرح نکالنے والا نہ تھا ۔ اسی مضمون پر مزید روشنی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی اس روایت سے پڑتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انما النذر ما ابتغی بہ وجہ اللہ ۔ اصل نذر تو وہ ہے جس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہو ۔ ( طحاوی ) ۔ ( 3 ) نذر کے معاملہ میں ایک اور قاعدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ صرف وہ نذر پوری کرنی چاہیے جو اللہ کی اطاعت میں ہو ۔ اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر ہرگز پوری نہیں کرنی چاہیے ۔ اسی طرح ایسی چیز میں کوئی نذر نہیں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ، یا ایسے کام میں کوئی نذر نہیں ہے جو انسان کے بس میں نہ ہو ۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من نذر ان یطیع اللہ فلیطعہ و من نذر ان یعص اللہ فلا یعصہ ۔ جس نے یہ نذر مانی ہو کہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے اس کی اطاعت کرنی چاہیے ، اور جس نے یہ نذر مانی ہو کہ اللہ کی نافرمانی کرے گا تو اسے نافرمانی نہیں کرنی چاہیے ( بخاری ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، طحاوی ) ۔ ثابت بن ضحاک کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللہ ولا فیھا لا یملک ابن ادم ۔ اللہ کی نافرمانی میں کسی نذر کے پورا کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ، نہ کسی ایسی چیز میں جو آدمی کی ملکیت میں نہ ہو ۔ ( ابو داؤد ) ۔ مسلم نے اسی مضمون کی روایت حضرت عمران بن حصین سے نقل کی ہے ۔ اور ابو داؤد میں حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص کی روایت اس سے زیادہ مفصل ہے جس میں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ لا نذر ولا یمین فی ما لا یملک ابن ادم ، ولا فی معصیۃ اللہ ، ولا فی قطیعۃ رحم ۔ کوئی نذر اور کوئی قسم کسی ایسے کام میں نہیں ہے جو آدمی کے بس میں نہ ہو ، یا اللہ کی نافرمانی میں ہو ، یا قطع رحمی کے لیے ہو ۔ ( 4 ) جس کام میں بجائے خود کوئی نیکی نہیں ہے اور آدمی نے خواہ مخواہ کسی فضول کام ، ناقابل برداشت مشقت یا محض تعذیب نفس کو نیکی سمجھ کر اپنے اوپر لازم کر لیا ہو اس کی نذر پوری نہیں کرنی چاہیے ۔ اس معاملہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بالکل واضح ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ ایک صاحب دھوپ میں کھڑے ہیں ۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہے اور کیسے کھڑے ہیں؟ عرض کیا گیا یہ ابو اسرائیل ہیں ، انہوں نے نذر مانی ہے کہ کھڑے رہیں ، بیٹھیں گے نہیں ، نہ سایہ کریں گے ، نہ کسی سے بات کریں ، اور روزہ رکھیں گے ۔ اس پر آپ نے فرمایا مروہ فلیکلم ولیستظل ولیقعد ، ولیتم صومہ ۔ ان سے کہو بات کریں ، سایہ میں آئیں ، البتہ روزہ پورا کریں ۔ ( بخاری ، ابو داؤد ، ابن ماجہ ، موطا ) حضرت عقبہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ میری بہن نے ننگے پاؤں پیدل حج کرنے کی نذر مانی اور یہ نذر بھی مانی کہ اس سفر میں سر پر کپڑا بھی نہ ڈالیں گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کہو کہ سواری پر جائے اور سر ڈھانکے ( ابو داؤد ۔ مسلم نے اس مضمون کی متعدد روایات نقل کی ہیں جن میں کچھ لفظی اختلاف ہے ) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے عقبہ بن عامر کی بہن کا یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جو الفاظ نقل کیے ہیں وہ یہ ہیں: ان اللہ لغنی عن نذرھا ، مرھا فلترکب ۔ اللہ کو اس کی اس نذر کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اس سے کہو کہ سواری پر جائے ( ابو داؤد ) ۔ ایک اور روایت میں حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا ، میری بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان اللہ لا یصنع بشقاء اختک شیئا فلتحج راکبۃ ۔ تیری بہن کے مشقت میں پڑنے کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں پڑی ہے ۔ اسے سواری پر حج کرنا چاہیے ۔ ( ابو داؤد ) ۔ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غالباً سفر حج ) میں دیکھا کہ ایک بڑے میاں کو ان کے دو بیٹے سنبھالے لیے چل رہے ہیں ۔ آپ نے پوچھا کیا معاملہ ہے؟ عرض کیا گیا کہ انہوں نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے ۔ اس پر آپ نے فرمایا ان اللہ لغنی عن تعذیب ھذا نفسہ ، و امرہ ان یرکب ۔ اللہ تعالی اس سے بے نیاز ہے کہ یہ شخص اپنے نفس کو عذاب میں ڈالے ۔ پھر آپ نے اسے حکم دیا کہ سوا ہو ۔ ( بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ۔ مسلم میں اسی مضمون کی حدیث حضرت ابو ہریرہ سے بھی مروی ہے ) ۔ ( 5 ) اگر کسی نذر کو پورا کرنا عملاً ممکن نہ ہو تو اسے کسی دوسری صورت میں پورا کیا جا سکتا ہے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز ایک شخص نے اٹھ کر عرض کیا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مکہ آپ کے ہاتھ پر فتح کر دیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت نماز پڑھوں گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہیں پڑھ لے ۔ اس نے پھر پوچھا ۔ آپ نے پھر وہی جواب دیا ۔ اس نے پھر پوچھا ۔ آپ نے فرمایا شانک اذاً ، اچھا تو تیری مرضی دوسری ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والذی بعث محمد بالحق ، لو صلیت ھھنا لا جزا عنک صلوۃ فی بیت المقدس ۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، اگر تو یہیں نماز پڑھ لے تو بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے بدلے یہ تیرے لیے کافی ہو گی ۔ ( ابوداؤد ) ۔ ( 6 ) اگر کسی نے اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دینے کی نذر مان لی ہو تو اس کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔ امام مالک کہتے کہ اسے ایک تہائی مال دے دینا چاہیے ، اور مالکیہ میں سے سحنون کا قول ہے کہ اسے اتنا مال دے دینا چاہیے جسے دینے کے بعد تکلیف میں نہ پڑ جائے ۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ اگر یہ نذر تبرر کی نوعیت کی ہو تو ا سے سارا مال دے دینا چاہیے ، اور اگر یہ نذر لحاج ہو تو اسے اختیار ہے کہ نذر پوری کرے یا قسم کا کفارہ ادا کرے ۔ امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ اسے اپنا وہ سب مال دے دینا چاہیے جس میں زکوۃ عائد ہوتی ہو ، لیکن جس مال میں زکوۃ نہیں ہے مثلاً مکان یا ایسی ہی دوسری املاک ، اس پر اس نذر کا اطلاق نہ ہو گا ۔ حنفیہ میں سے امام زفر کا قول ہے کہ اپنے اہل و عیال کے لیے دو مہینے کا نفقہ رکھ کر باقی سب صدقہ کر دے ۔ ( عمدۃ القاری ۔ شرح مؤطاء از شاہ ولی اللہ صاحب ) ۔ حدیث میں اس مسئلے کے متعلق جو روایات آئی ہیں وہ یہ ہیں: حضرت کعب بن مالک کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ جانے کی وجہ سے جو عتاب مجھ پر ہوا تھا اس کی جب معافی مل گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میری توبہ میں یہ بات بھی شامل تھی کہ میں اپنے سارے مال سے دست بردار ہو کر اسے اللہ اور رسول کی راہ میں صدقہ کر دوں گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ایسا نہ کرو ۔ میں نے عرض کیا ، پھر آدھا مال؟ فرمایا ، نہیں ۔ میں نے عرض کیا ، پھر ایک تہائی ؟ فرمایا ہاں ( ابو داؤود ) ۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضور نے فرمایا تم اپنا کچھ مال اپنے لیے روک رکھو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے ( بخاری ۔ امام زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت ابو لبابہ نے ( جن پر اسی غزوہ تبوک کے معاملہ میں عتاب ہوا تھا ، حضور نے عرض کیا ، میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کے طور پر اپنے سارے مال سے دست بردار ہوتا ہوں ۔ حضور نے جواب دیا تمہارے لیے اس میں سے صرف ایک تہائی دے دینا کافی ہے ( مؤطا ) ۔ ( 7 ) اسلام قبول کرنے سے پہلے اگر کسی شخص نے کسی نیک کام کی نذر مانی ہو تو کیا اسلام قبول کرنے کے بعد اسے پورا کیا جائے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فتویٰ اس بارے میں یہ ہے کہ اسے پورا کیا جائے ۔ بخاری ، ابو داؤد اور طحاوی میں حضرت عمر کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات ( اور بروایت بعض ایک دن ) مسجد حرام میں اعتکاف کریں گے ۔ اسلام لانے کے بعد انہوں نے حضور سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے فرمایا اوف بنذرک اپنی نذری پوری کرو ۔ بعض فقہاء نے حضور کے اس ارشاد کا یہ مطلب لیا ہے کہ ایسا کرنا واجب ہے ، اور بعض نے یہ مطلب لیا ہے کہ یہ مستحب ہے ۔ ( 8 ) میت کے ذمہ اگر کوئی نذر رہ گئی ہو تو اسے پورا کرنا وارثوں پر واجب ہے یا نہیں؟ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔ امام احمد ، اسحاق بن راہویہ ، ابو ثور اور ظاہریہ کہتے ہیں کہ میت کے ذمہ اگر روزے یا نماز کی نذر رہ گئی ہو تو وارثوں پر اس کا ادا کرنا واجب ہے ۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ نذر اگر بدنی عبادت ( نماز یا روزہ ) کی ہو تو وارثوں پر اس کا پورا کرنا و اجب نہیں ہے ، اور اگر مالی عبادت کی ہو اور مرنے والے نے اپنے وارثوں کو اسے پورا کرنے کی وصیت نہ کی ہو تو اسے پورا کرنا واجب نہیں ، البتہ اگر اس نے وصیت کی ہو تو اس کے ترکے میں سے ایک تہائی کی حد تک نذر پوری کرنی واجب ہو گی ۔ مالکیہ کا مذہب بھی اس سے ملتا جلتا ہے ۔ اور شافعیہ کہتے ہیں کہ نذر اگر غیر مالی عبادت کی ہو ، یا مالی عبادت کی ہو اور میت نے کوئی ترکہ نہ چھوڑا ہو ، تو اسے پورا کرنا وارثوں پر واجب نہیں ہے ۔ اور اگر میت نے ترکہ چھوڑا ہو تو وارثوں پر مالی عبادت کی نذر پوری کرنا واجب ہے ، خواہ اس نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو ( شرح مسلم للنوی ۔ بذل المجہود شرح ابی داؤد ) ۔ حدیث میں اس مسئلے کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی تھی ۔ حضور نے فرمایا تم اس کی طرف سے پوری کر دو ( ابو داؤد ۔ مسلم ) ۔ دوسری روایت ابن عباس سے یہ ہے کہ ایک عورت نے بحری سفر کیا اور نذر مانی کہ اگر میں زندہ سلامت واپس گھر پہنچ گئی تو ایک مہینے کے روزے رکھوں گی ۔ واپس آنے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا اور وہ مر گئی ۔ اس کی بہن یا بیٹی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا اور آپ نے فرمایا کہ اس کی طرف سے تو روزے رکھ لے ( ابو داؤد ) ۔ ایسی ہی ایک روایت ابوداؤد نے حضرت بریدہ سے نقل کی ہے کہ ایک عورت نے حضور سے اسی طرح کا مسئلہ پوچھا اور آپ نے اسے وہی جواب دیا جو اوپر مذکور ہوا ہے ۔ ان روایات میں چونکہ یہ بات صاف نہیں ہے کہ حضور کے یہ ارشادات وجوب کے معنی میں تھے یا استجاب کے معنی ہیں ، اور حضرت سعد بن عبادہ کی والدہ کی نذر کے معاملہ میں یہ واضح نہیں ہے کہ وہ مالی عبادت کے بارے میں تھی یا بدنی عبادت کے بارے میں ، اسی بنا پر فقہاء کے درمیان اس مسئلے میں اختلافات ہوئے ہیں ۔ ( 9 ) غلط اور نائز نوعیت کی نذر کے معاملہ میں یہ بات تو صاف ہے کہ اسے پورا نہیں کرنا چاہیے ۔ البتہ اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ اس پر کفارہ لازم آتا ہے یا نہیں ۔ اس مسئلے میں چونکہ روایات مختلف ہیں اس لیے فقہاء کے مسالک بھی مختلف ہیں ۔ ایک قسم کی روایات میں یہ آیا ہے کہ حضور نے ایسی صورت میں کفارہ کا حکم دیا ہے ۔ مثلاً ، حضرت عائشہ کی یہ روایت کہ حضور نے فرمایا لا نذر فی معصیۃ و کفارتہ کفارۃ یمین ، معصیت میں کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم توڑنے کا کفارہ ہے ( ابوداؤد ) ۔ عقبہ بن عامر جہنی کی بہن کے معاملہ میں ( جس کا ذکر اوپر نمبر 4 ) میں گزر چکا ہے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ اپنی نذر توڑ دیں اور تین دن کے روزے رکھیں ( مسلم ۔ ابو داؤد ) ۔ ایک اور عورت کے معاملہ میں بھی جس نے پیدل حج کی نذر مانی تھی ، حضور نے حکم دیا کہ وہ سواری پر حج کے لیے جائے اور قسم کا کفارہ ادا کر دے ( ابوداؤد ) ۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا من نذر نذراً لم یسمہ فکفارتہ کفارۃ یمین ، و من نذر نذراً فی معصیۃ فکفارتہ کفارۃ یمین ، و من نذر نذراً لا یطیقہ فکفارتہ کفارۃ یمین ، و من نذ نذراً اطاقہ فلیف بہ ۔ جس نے ایک نذر مان لی اور اس بات کا تعین نہ کیا کہ کس بات کی نذر مانی ہے وہ قسم کا کفارہ دے ۔ اور جس نے معصیت کی نذر مانی وہ قسم کا کفارہ دے ۔ اور جس نے ایسی نذر مانی جسے پورا کرنے کی وہ قدرت نہ رکھتا ہو وہ قسم کا کفارہ دے ۔ اور جس نے ایسی نذر مانی جسے وہ پورا کر سکتا ہو وہ اسے پورا کرے ( ابوداؤد ) ۔ دوسری طرف وہ احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں کفارہ نہیں ہے ۔ اوپر نمبر4 میں جن صاحب کا ذکر آیا ہے کہ انہوں نے دھوپ میں کھڑے رہنے اور کسی سے بات نہ کرنے کی نذر مانی تھی ، ان کا قصہ نقل کر کے امام مالک نے مؤطا میں لکھا ہے کہ مجھے کسی ذریعہ سے بھی یہ معلوم نہیں ہوا کہ حضور نے ان کو نذر توڑنے کا حکم دینے کے ساتھ یہ بھی حکم دیا ہو کہ وہ کفارہ ادا کریں ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من حلف علی یمین فراٰی غیرھا خیراً منھا فلیدعھا ولیات الذی ھو خیر فان ترکھا کفار تھا ، جس نے کسی بات کی قسم کھائی ہو اور بعد میں وہ دیکھے کہ اس سے بہتر بات دوسری ہے تو وہ اسے چھوڑ دے اور وہ کام کرے جو بہتر ہو اور اسے چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے ) ابوداؤد ) ۔ بیہقی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اور حضرت ابو ہریرہ کی یہ روایت کہ جو کام بہتر ہے وہ کرے اور یہی اس کا کفارہ ہے ۔ ثابت نہیں ہے ) ۔ امام نووی ان احادیث پر بحث کرتے ہوئے شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ امام مالک ، شافعی ابوحنیفہ ، داؤد ظاہری اور جمہور علماء رحمہم اللہ کہتے ہیں کہ معصیت کی نذر باطل ہے اور اسے پورا نہ کرنے پر کفارہ لازم نہیں آتا ۔ اور امام احمد کہتے ہیں کہ کفارہ لازم آتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(76:7) یوفون بالنذر جملہ مستانفہ ہے جس میں ابرار کا حال بیان کیا گیا ہے ۔ اس میں ان اعمال حسنہ اور اخلاق حمیدہ کا بیان ہے جن کی وجہ سے ان کو جنت کی مذکورہ بالا نعمتیں عطا ہوں گی۔ یوفون مضارع جمع مذکر غائب ایفاء (افعال) مصدر۔ وہ پوری کرتے ہیں۔ و ف ی مادہ۔ الوافی مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں۔ النذر بطور اسم، بمعنی منت بطور مصدر بمعنی منت ماننا۔ نذر کا لغوی معنی ہے غیر واجب چیز کو اپنے اوپر واجب کرلینا۔ النذر کی تشریح کرتے ہوئے فقہاء کرام لکھتے ہیں۔ النذر ھو ایجاب المکلف علی نفسہ من الطاعات مالم یوجبہ لم یلزمہ۔ یعنی کسی مکلف (عاقل بالغ مومن کا) اپنے اوپر کسی ایسی چیز کا (نیکی اور عبادت کا) واجب کرلینا۔ کہ اگر وہ خود اس کو لازم کرے تو یہ اس پر لازم نہ ہو۔ گویا ابرار کی پہلی صفت یہ ہوگی کہ وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں۔ ویخافون یوما کان شرہ مستطیرا : اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے کان فعل ناقص شرہ (مضاف مضاف الیہ) اسم کان۔ مستطیرا۔ استمطار (استفعال) مصدر سے اسم فاعل واحد مذکر صفت ہے یوما کی۔ یوما سے مراد روز قیامت ہے۔ مادہ ط ی ر سے مشتق ہے بمعنی پھیلا ہوا۔ عام ۔ طیران کا اصل معنی ہے اڑنا مجازا کبھی اس سے سرعت رفتار مراد ہوتی ہے۔ جیسے فرش مطار۔ تیز رفتار گھوڑا۔ کبھی منتشر ہونا۔ اور پھیلنا ۔ جیسے غبار مستطار پھیلا ہوا غبار۔ استطار الحریق : آگ بہت پھیل گئی۔ استطار الفجر صبح کی روشنی بہت پھیل گئی۔ اسی مادہ سے ہے طائر بمعنی پرندہ۔ طیارہ بمعنی ہوئی جہاز۔ اور مطار ہوائی اڈہ، ائیرپورٹ شرہ (مضاف مضاف الیہ) اس کا شر۔ اس کی برائی۔ اس کی ہولناکی۔ یعنی قیامت کے روز آسمان پھٹ جائیں گے ۔ آسمان خاک ہوکر اڑ جائیں گے۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یوما ہے۔ یہ ابرار کی دوسری صفت ہوگی۔ کہ وہ ڈرتے ہیں اس دن سے کہ جس کا شر ہر سو پھیلا ہوا ہوگا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 نذر سے مراد وہ نیکی ہے جسے بندہ اپنے اوپر ازخود لازم کرلے۔ ظاہر ہے کہ جب اللہ کے یہ نیک بندے دنیا میں اپنے اوپر خود لازم کی ہوئی نیکیوں کو پورا کرتے تھے تو اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لازم کی ہوئی نیکیوں کو بدرجہ اولیٰ پوری کرتے ہوں گے۔8 یعنی قیامت کے دن سے جس کی سختی بلائے عام ہوگی اور جس میں ہر شخص پریشان ہوگا۔ الا من شآء اللہ :

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی سب پر کم و بیش اس کی سختی کا اثر ہوگا ماد قیامت کا دن ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کے مزید اوصاف۔ جنتی میں یہ اوصاف بھی بدرجہ اتم پائے جائیں گے کہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ لوگ نذر مانتے تھے تو اس کو کماحقہٗ پورا کرتے تھے، نذر سے مراد وہ عمل یا صدقہ ہے جو مسلمان اپنے طور پر اپنے آپ پر واجب کرلیتا ہے، نذر وہی ماننی چاہیے جسے اللہ اور اس کے رسول نے جائز قرار دیا ہے، اس نذر کو پورا کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نذر ماننے والا شخص دوسرے فرائض بھی بدرجہ اتم پورے کرنے والا ہے جو شخص نذر پوری کرتا ہے لیکن فرائض سے غافل رہتا ہے وہ اس اجر کا مستحق نہیں ہوگا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے نذر پوری کرنے والوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اس دن کے احتساب سے ڈرنے والے ہیں جس دن کی سختی پوری مخلوق کو گھیرے ہوئے ہوگی۔ جن و انس تو درکنار اس دن ملائکہ بھی اپنے رب کے جلال سے خوف زدہ ہوں گے، جو مسلمان اس تصور کے ساتھ اپنی نذریں پوری کرتے اور اپنے رب کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور اس عمل کے پیچھے ان کا مقصد بدلہ لینا یا شکریہ طلب کرنا نہیں ہوتا ان کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ان کا رب ان پر راضی ہوجائے کیونکہ وہ اپنے رب سے اس دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جس دن چہرے خوفزدہ ہوں گے اور دل کانپ رہے ہوں گے۔ نذر پوری کرنے، یتیموں، مسکینوں اور فقیروں کو کھانا کھلانے کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ نہ صرف اس دن کی سختیوں سے محفوظ فرمائے گا بلکہ ان کے چہروں کو تازگی اور ان کے دلوں کو سرور بخشے گا۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن کچھ چہرے سیاہ ہوجائیں گے اور کچھ چہرے روشن ہوں گے (آل عمران : ١٠٦، ١٠٧) جو چہرے کالے ہوں گے ان پر ذلّت اور نحوست چھائی ہوگی اور جو چہرے سفید ہوں گے وہ تروتازہ اور ہشاش بشاش ہوں گے۔ ( القیامہ : ٢٢، ٢٤) (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَجُلًا شَکَا إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَسْوَۃَ قَلْبِہٖ فَقَالَ لَہٗ إِنْ أَرَدْتَّ تَلْیِیْنَ قَلْبِکَ فَأَطْعِمِ الْمِسْکِیْنَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْیَتِیْمِ ) (رواہ احمد : باب مسند أبی ہریرہ ھٰذا حدیث صحیح) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے دل کی سختی کے متعلق شکایت کی تو آپ نے فرمایا : اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ “ (وَعَنْ عِمْرَانَ ابْنِ حُصَیْنٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃٍ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ الْعَبْدُ ) (رواہ مسلم : باب لا وفاء لنذر فی معصیۃ) ” حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نافرمانی کی نذر کو پورا نہ کیا جائے اور جو چیز انسان کے قبضہ میں نہیں اسکی نذر نہ مانی جائے۔ “ مسائل ١۔ جو لوگ اپنی نذریں پوری کرتے ہیں اور قیامت کی سختیوں سے ڈرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے چہرے تروتازہ فرمائے گا۔ ٢۔ جو لوگ صرف اپنے رب کی رضا کی خاطر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کی سختیوں سے بچائے گا اور ان کے چہروں کو ہشاش بشاش کردے گا۔ ٣۔ اللہ کے بندے مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاکر بدلے اور شکریے کے طلبگار نہیں بنتے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن جنتی کے چہرے ہشاش بشاش اور روشن ہوں گے : ١۔ متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : ٢٦) ٢۔ جنتی کے چہرے پرنور ہوں گے۔ (آل عمران : ١٠٧) ٣۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (الغاشیہ : ٨) ٤۔ مومنوں کے چہرے خوش وخرم ہوں گے۔ (العبس : ٣٨) ٥۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامۃ : ٢٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ نہایت روشن اور شفاف تصویر ہے اور یہ ان مخلصین اور سچے لوگوں کی شکل ہے جو اللہ کے احکام اور اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے بندوں پر غایت درجہ مہربان ہوتے ہیں۔ اور اپنے مقابلے میں دوسرے بندگان خدا کو ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کا ڈر اور خوف ان پر طاری رہتا ہے ، وہ اللہ کی رضامندی کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اور ان پر اسلام کے حوالے جو بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کو دیکھتے ہوئے وہ اللہ کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے ہیں۔ یوفون بالنذر (v:76) ” وہ نذر پوری کرتے ہیں “۔ یعنی جو عبادات اور نیک کام خود اپنے اوپر لازم کرتے ہیں ، ان کی وفا کرتے ہیں یعنی وہ دین اسلام کے معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہیں۔ وہ ان ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنے کی سعی نہیں کرتے اور نہ ذمہ داری قبول کرکے اور اس کا حلف اٹھانے کے بعد اسے نظرانداز کرتے ہیں۔ یہی ہے معنی اس بات کا کہ وہ نذر پوری کرتے ہیں۔ یہ ہے مفہوم یوفون بالنذر کا۔ اس کا مفہوم فقہی اور معروف نذر ونیاز سے زیادہ وسیع ہے۔ جس میں اجتماعی اور دینی ذمہ داریاں بھی داخل ہیں۔ ویخافون .................... مستطیرا (7:76) ” اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی “۔ وہ اس دن کی حالت اور صفت کا نقشہ ان کے ذہن میں بڑی خوبی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے ، جس کی مصیبت عام ہوگی اور تمام قصور واروں اور بدکاروں تک اس دن کی مصیبت پہنچے گی۔ لہٰذا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اس دن کے عام اور وسیع شر کے زد میں کہیں وہ نہ آجائیں۔ یہ ہے حالت ان کے موقف اور تقویٰ کی۔ وہ اس بھاری ذمہ داری اور دین کے عظیم فرائض کا شدید احساس رکھتے ہیں اور کوتاہیوں اور قصوروں سے ڈرتے ہیں۔ اگرچہ وہ عبادت گزار اور اطاعت شعار ہوں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ يُوْفُوْنَ بالنَّذْرِ ﴾ دنیا میں وہ لوگ اپنی نذر پوری کرتے ہیں نذر کا معنی تو معروف ہی ہے مطلب یہ ہے کہ جب یہ حضرات کسی نیک کام کی نذر مان لیتے ہیں تو اسے پوری کرلیتے ہیں، جب کوئی شخص کسی کام کی نذر مان لے تو اس کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے جیسا کہ سورة الحج میں فرمایا ﴿وَ لْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ ﴾ نذر نہ مانے تو کوئی گناہ نہیں لیکن اگر نذر مان لے (اور گناہ کی نذر نہ ہو) تو اس کا پورا کرنا واجب ہے اگر گناہ کی نذر مان لے تو اسے پوری نہ کرے بلکہ اس کا وہی کفارہ دے دے جو قسم کا کفارا ہے۔ احادیث شریفہ میں نذر کے بارے میں یہ ہدایات وارد ہوئی ہیں۔ (دیكھئے مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٢٩٧) ﴿ وَ يَخَافُوْنَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِيْرًا ٠٠٧﴾ یہ بھی نیک بندوں کی صفت ہے اس میں یہ بتایا ہے کہ اللہ کے نیک بندے قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی عام ہوگی، سورج اور چاند بےنور ہوجائیں گے ستارے جھڑ جائیں گے آسمان پھٹ پڑیں گے پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے لوگ قبروں سے گھبرائے ہوئے اٹھیں گے، حساب ہوگا، پریشاں ہوں گی۔ حضرت عائشہ (رض) ایک دن رونے لگیں تو آپ نے فرمایا : کیوں روتی ہو ؟ عرض کیا مجھے دوزخ یاد آگئی اس کی وجہ سے رو رہی ہوں۔ یہ ارشاد فرمایئے کہ آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد فرمائیں گے آپ نے فرمایا تین مواقع میں کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا : (١) ایک تو اعمال کے وزن کیے جانے کے وقت جب تک یہ نہ جان لے کہ اس کی تول ہلکی ہوتی ہے یا بھاری۔ (٢) جب اعمالے نامے تقسیم کیے جانے لگیں جب تک یہ نہ جان لے کہ اعمالنامہ داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے یا بائیں ہاتھ میں پشت کے پیچھے سے۔ (٣) جب دوزخ کی پشت پر پل صراط رکھ دی جائے گی۔ (رواہ ابو داؤد صفحہ ٢٩٨ ص ج ٢)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” یوفون بالنذر “ یہ ماقبل کی علت ہے ان آیتوں میں مومنوں کے ان اعمال صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے جو مذکورہ بالا جزاء وثواب کا موجب ہوں گے۔ ” یوفون بالنذر “ نذر سے وہ تمام عقود و عہود مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے عائد فرمائے ہو یا انسان کود اپنے اوپر لازم کرلے النذر ھنا عام لما اوجبہ اللہ تعالیٰ وما اوجبہ العبد فیدخل فیہ الایمان و جمیع الطاعات (بحر ج 8 ص 395) ۔ المراد من النذر العہد والعقد الخ (کبیر ج 8 ص 390) ۔ ” ویخافون یوما “ اعمال صالحہ بجا لانے میں ان کی نیت بخیر ہوتی ہے اور وہ محض خدا کی رضاء جوئی کے لیے اور اس کے عذاب سے ڈر کی وجہ سے اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس کے اہوال وشدائد اور جس کی سختیاں ہمہ گیر ہوں گی۔ ابرار و مومنین اگرچہ قیامت کی سختیوں سے بفضلہ تعالیٰ محفوظ رہیں گے لیکن شدت ہول محشر سے خائف اور مرعوب ضرور ہوں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) یہ وہ لوگ ہیں جو مانی ہوئی منت کو پورا کرتے ہیں اور وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی یعنی عام ہوگی۔ یعنی وہ منت جو انسان خود اپنے اوپر واجب کرتا ہے جب اس کو پورا کرتے ہیں تو وہ واجبات جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں ان کو تو بہت زیادہ پورا کرتے ہوں گے۔ غرض یہ کہ تمام فرائض وواجبات کو بجا لاتے ہیں یہاں تک کہ جو سنت خود اپنے ذمہ پر واجب کرتے ہیں اس تک کو بھی پوری توجہ اور خوشی سے پورا کرتے ہیں مثلاً اگر اللہ نے میرے مریض کو شفا دیدی یا میرے غائی شدہ چیز مجھ کو مل گئی تو اللہ تعالیٰ کے لئے میرے ذمے فلاں بات ہوگی یعنی مساکین کو کھانا کھلائوں گا یا مساکین کو کپڑے پہنائوں گا وغیرہ وغیرہ۔ تفصیل کتب فقہ سے معلوم ہوسکتی ہے سختی کے عام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس کا کم وبیش اثر سب پر ہوگا۔