تعارف سورة المرسلات سورة نمبر 77 کل رکوع 2 آیات 50 الفاظ و کلمات 181 حروف 846 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : سورة المرسلات میں اللہ تعالیٰ نے ہوائوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اللہ نے قیامت کے لئے جو دن اور وقت مقرر کر رکھا ہے اس کے آنے میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کرکے ایک زبردست اور حیرت انگیز نظم و انتظام بنایا ہے وہ جب چاہے گا اس نظام کو توڑ کر رکھ دے گا کیونکہ اس کائنات میں ساری طاقت و قوت اور قدرت اللہ ہی کی ہے۔ فرمایا ان ہواؤں کی قسم جو نرم اور خوشگوار انداز سے مسلسل چلتی ہیں اور کبھی طوفانی رفتار سے چلتی ہیں، بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی اور ان کو پھاڑ کر الگ الگ کردیتی ہیں۔ پھر دلوں میں اللہ کی یاد کو عذر و یا ڈرواے کے طور پر پیدا کرتی ہیں۔ جس چیز کا (قیامت کا) تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور واقع ہو کر رہے گی۔ جب ستارے ماند پڑجائیں گے، آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور یہ مضبوط پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر اڑتے پھریں گے اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا وہی فیصلے کا دن ہوگا جو اس دن کو جھٹلانے والوں کے لئے تباہی اور بربادی کا دن ہوگا۔ اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا ہم نے تم سے پہلے زبردست قوموں کو ان کے برے اعمال کی وجہ سے تباہ و برباد نہیں کیا ؟ اور کیا وہ تمہیں بھی ان کے پیچھے چلتا نہیں کرسکتا ؟ کیونکہ مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی برتائو کرتے ہیں۔ فرمایا کہ کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟ جسے ایک مقرر مدت تک ایک محفوظ جگہ (رحم مادر) میں ٹھہرائے نہیں رکھا ؟ اگر تم اس پر غور کروگے تو کہہ اتھو گے کہ اللہ ہی بہترین قوت رکھنے والا ہے۔ فرمایا کہ کیا ہم نے زمین کو زندہ اور مردہ دونوں کو سمیٹ کر رکھنے والا نہیں بنایا ؟ کیا ہم نے اس میں بلندو بال پہاڑ نہیں جما دئیے ؟ اور کیا تمہیں میٹھا پانی نہیں پلایا ؟ فرما یا جائے گا کہ اب تم اس طرف چلو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ تم اس سائے کی طرف چلو جو تین شاخوں والا ہے جس میں نہ تو ٹھنڈک پہنچانے کی صلاحیت ہے اور نہ وہ ا اگے کے شعلوں سے بچانے والا ہے۔ اور یہ وہ آگ ہوگی جو محلوں جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکنے والا ہوگا۔ ایسا محسوس ہوگا جیسے زرد اونٹوں کا قافلہ چلا آرہا ہے۔ یہ دن ایسا ہیبت ناک ہوگا جس میں کسی کو منہ بات نکالنا مشکل ہوگا اگر وہ معذرت کرنا چاہیں گے تو ان کو معذرت اور اظہار شرمندگی کا موقع نہ دیا جائے گا۔ فرمایا کہ یہ ہے وہ فیصلے کا دن جس میں ہم نے تمہیں اور تم سے پہلی گزری ہوئی قوموں کو جمع کردیا ہے۔ اب سب مل کر اگر کوئی چال چل سکتے ہو تو میرے مقابلے میں اس کو چل کر دکھائو۔ فرمایا کہ اگر ایک طرف قیامت اور اس کی تبارہ کاریاں اور کافروں کا برا انجام ہوگا تو دوسری طرف وہ لوگ جو اہل تقویٰ ہیں اس دن سایوں اور چشموں میں ہوں گے وہ جو بھی پھل مانگیں گے انکو اسی وقت دیا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ وہ خوب کھائیں اور پئیں یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے جو وہ دنیا میں کیا کرتے تھے۔ اور ہم نیک اور اہل تقویٰ کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ اللہ نے مجرم اور گناہ گاروں سے فرمایا ہے کہ تم کچھ دن خوب مزے اڑا لو لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ کی نظر میں مجرم ہو۔ جب تم سے کہا جاتا تھا کہ تم اللہ کے آگے جھکو تو اسکے سامنے جھکنے سے انکار کردیا کرتے تھے اب تم اس کی سزا بھگتو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بتائو اس (قرآن کریم) کے بعد وہ کون سا کلام ہے جس پر تم ایمان لائو گے ؟ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں متعدد مرتبہ فرمایا ہے کہ ”……“ تباہی ہے ان جھٹلانے والوں کے لئے۔ یعنی جب قیامت آئے گی تو یہ کفار بدحواس ہوجائیں گے اور ہر طرف سے ان کی تباہی کے سامان ہوں گے۔
سورة المرسلات کا تعارف اس سورت کا پہلا لفظ ہی اس کا نام قرار پایا ہے اس کی پچاس آیات ہیں جو دو رکوع پر مشتمل ہیں، یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتداء میں ہوا کے متعلق پانچ قسمیں اٹھا کر فرمایا ہے کہ جس قیامت کا تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے وہ ہر صورت برپا ہو کر رہے گی۔ اس کی ابتداء اس طرح ہوگی کہ ستارے بےنور ہوجائیں گے، آسمان پھاڑ دیا جائے گا، پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑنے لگیں گے۔ انبیاء کو حاضری کا وقت دیا جائے گا اور اس دن فیصلے کیے جائیں گے۔ جھٹلانے والوں کے لیے یہ دن بڑا سخت ہوگا جو لوگ قیامت کو اس لیے جھٹلاتے ہیں کہ ان کے خیال میں انسان کو دوبارہ پیدا کرنا مشکل ہے کیا یہ غور نہیں کرتے کہ ہم نے انسان کو ایک حقیر پانی سے پیدا کیا ہے اور اسے ایک مقررہ مدّت تک ایک محفوظ مقام پر ٹھرائے رکھا۔ ہم نے زمین کو پیدا کیا اور پھر اس پر بلند وبالا پہاڑ گاڑ دئیے اور تمہارے لیے میٹھے پانی کا بندوبست کیا لیکن پھر بھی لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم انہیں پیدا نہیں کرسکتے اور نہ ہی قیامت برپا ہوگی۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں انہیں یاد ہونا چاہیے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب انہیں حکم ہوگا کہ چلو اس کی طرف جیسے تم جھٹلایا کرتے تھے اور چلو اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے اس میں ذرہ برابر ٹھنڈک ہے اور نہ یہ آگ کی شدت سے بچانے والا ہے۔ اس دن مجرم اپنے رب کے حضور معذرت کریں گے لیکن انہیں حکم ہوگا کہ آج کوئی معذرت قبول نہیں ہوگی۔ اس دن کو جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہوگی۔ انہیں بتلایا جائے گا کہ یہ وہی دن ہے جس دن جمع ہونے کا تم انکار کرتے تھے۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ قیامت پر یقین رکھتے ہیں اور ” اللہ “ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچ کر زندگی بسر کرتے ہیں یہ گھنے سائے اور جنت کے چشموں میں ہوں گے جو چاہیں گے وہی پھل پائیں گے اور انہیں حکم ہوگا کھاؤ اور مزے کرو کیونکہ ہم نیکی کرنے والوں کو اس طرح جزا دیتے ہیں۔
سورة المرسلٰت ایک نظر میں اس سورت کے خدوخال تیز ، اس کے مناظر شدید اور اس کے اثرات گہرے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ گویا تیز اور کاٹنے والے کوڑے ہیں ، جو آگ برسا رہے ہیں۔ گویا انسان اور اس کا قلب ایک عدالت میں کھڑے ہیں اور ان کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ سوالات پر سوالات ہورہے ہیں۔ دھمکی آمیز سوالات اور تیر کی طرح تیز اور چبھتی ہوئی دھمکیاں آرہی ہیں۔ اس سورت میں دنیا وآخرت کے مناظر پیش کیے گئے ہیں۔ کائنات اور نفس انسانی کے حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ خوفناک عذاب الٰہی کے مشاہد ہیں اور ہر منظر اور مشہد کے بعد ایک چبھتا ہوا تیر مجرمین کے دلوں پر آکر گرتا ہے۔ ویل ............ للمکذبین (15:77) ” تباہی ہے ، اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ یہ پڑھتا ہوا فقرہ دس مرتبہ دہرایا جاتا ہے جو ان مجرموں کے دلوں پر چرکے لگاتا جاتا ہے۔ یہ فقرہ اس سورت کے تیز خدوخال اور شدید مناظر اور گہرے اثرات کے ساتھ زیادہ مناسب ہے۔ یہ ویسا ہی مکرر فقرہ ہے اور بار بار کی ضرت ہے جیسا کہ سورة رحمن میں ایک ایک نعمت کے گننے کے بعد یاددہانی کا مکرر سوالیہ فقرہ دہرایا گیا تھا۔ فبای .................... تکذبن ” اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاﺅ گے “۔ اسی طرح ایک لازمی نتیجہ سورة قمر میں ہر واقعہ عذاب کے بعد لایا جاتا رہا۔ فکیف ........................ ونذر ” پس کیسا رہا میرا عذاب اور میری تنبیہہ “۔ یہاں اس فقرے کا بار بار دہرانا سورت کو ایک خاص ذائقہ اور تیز وطرار خصوصیات عطا کرتا ہے۔ سورت کے مقطعے اور قافئے چھوٹے چھوٹے ہیں اور پے درپے آرہے ہیں۔ سرعت اور سختی کے ساتھ ، قوافی میں تعدد ہے ، ہر مقطع الگ قافیہ رکھتا ہے ، بعض قافے دہرائے جاتے ہیں۔ پردہ احساس پر ان فواصل ، قوافی اور مقطعوں کا ایک خاص اثر ہوتا ہے۔ انداز کلام سخت ہے۔ ایک ایک ضرب کے بعد گویا نئی ضرب لگائی جاتی ہے۔ بلکہ یہ پوری سورت ہی عقل وخرد کے پردے پر مسلسل ضربات پر مشتمل ہے۔ اور ہر ضرب شدید سے شدید تر ہے۔ سورت کا آغاز ہی طوفانی فضا سے ہوتا ہے ، شدید ہواﺅں کا ذکر ہے ، یا تیز رفتار فرشتوں کا ذکر ہے جو دوڑے پھرتے ہیں ” قسم ہے ان ہواﺅں کی جو پے درپے بھیجی جاتی ہیں ، پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں اور بادلوں کو اٹھا کر پھیلاتی ہیں ، پھر ان کو پھاڑ کر جدا کرتی ہیں ، پھر دلوں میں خدا کی باد ڈالتی ہیں ، عذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر “۔ یہ ہے اس سورت کا آغاز جو اس کی فضا اور اس کے انداز کے عین مطابق ہے۔ قرآن کریم کا یہ خاص انداز ہے کہ وہ سورت کے مضامین اور مناظر کے لئے ایک مخصوص ملائم فضا تیار کرتا ہے۔ یہ سورت بھی اسی قسم کے مضامین ، مناظر اور مخصوص فضا کی ایک مثال ہے۔ مثلاً اس کے علاوہ ذرا سورة الضحیٰ کو پڑھئے۔ مضمون یہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر رب کی مہربانیوں کا ذکر کیا جائے۔ اس لئے صبح اور شام کا ذکر ہوا اور رفت کے چھانے کا ذکر ، جس کے اندر انسان پناہ لیتا ہے اور آرام کرتا ہے۔ حفاظت ، مہربانیوں اور رعایتوں کے لئے یہ مناظر مناسب تھے۔ سورة عادیات کا مضمون تھا لوگوں کو قبروں سے اٹھانا ، جبکہ وہ مرمٹ کر مٹی اور غبار ہوں گے۔ تو وہاں ایسے تیز رفتار گھوڑوں کا ذکر کیا گیا جو پھنکارتے ہوئے گرد غبار اڑاتے ہیں۔ مناظر کے پس منظر کے اندر ہم آہنگی کی مثالیں قرآن کریم میں بیشمار ہیں۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی القرآن) اس آغاز کے بعد سورت کے دس مقطعوں میں سے ہر مقطع گویا ایک مشاہداتی سفر ہے۔ ہر مقطعہ اس وسیع و عریض کائنات میں ایک سفر پر مشتمل ہے ، جس سے مسافر کو گہرا شعور ، بلند خیالات اور پاکیزہ تاثرات حاصل ہوتے ہیں اور یہ اس کی زندگی کو تبدیل کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ مشاہداتی اور تصوراتی بحران ان کلمات سے زیادہ وسیع ہے۔ ہر مقطع کے چند الفاظ گویا نشانات راہ ہیں۔ جگہ جگہ تیر کے نشان کی طرح ہیں جو ایک وسیع وادی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ دس مقطعے گویا دس جہانوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ اور ہر جہاں اور ہر میدان دوسرے سے مختلف اور وسیع تر ہے۔ پہلا سفر وقوع قیامت کے مناظر پر مشتمل ہے۔ اس میں وہ عظیم کائناتی انقلابات دکھائے گئے ہیں جو اس وقت وقوع پذیر ہوں گے نہ یہ آسمان رہے گا اور نہ یہ زمین اور اللہ کے نمائندے بندوں کے حسابات کے دفاتر اور فائلیں لے کر حاضر ہوں گے۔ فاذا النجوم .................................... المکذبین (8:77 تا 15) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے ، اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا ، اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے ، اور رسولوں کی حاضری کا وقت آپہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لئے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے ؟ فیصلے کے روز کے لئے۔ اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ دوسرا مطالعاتی سفر امم سابقہ کے بارے میں ہے۔ یعنی ان اقوام کے بارے میں جو اللہ کے نبیوں کو جھٹلاتے ہیں۔ الم نلھک ........................................ للمکذبین (16:77 تا 19) ” کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا ؟ پھر انہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔ مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ تیسرا مطالعاتی سفر وادی تخلیق انسان میں ہے۔ انسان کی تخلیق کا نظام ایک وسیع ترجہاں ہے۔ الم نخلقکم ........................................ للمکذبین (20:77 تا 24) ” کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا اور ایک مقررہ مدت تک اسے ایک محفوظ جگہ ٹھہرائے رکھا ؟ تو دیکھو ، ہم اس پر قادر تھے ، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اور چوتھا سفر اس زمین کا ہے جو اپنے زندہ اور مردہ بچوں کو اپنے سینے کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے ۔ اس زمین میں ان کا سامان حیات وممات تیار رکھا ہے۔ اور اللہ نے اسے اس یا بنایا ہے۔ الم نجعل ............................ للمکذبین (25:77 تا 28) ” کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا ، زندوں کے لئے بھی اور مردوں کے لئے بھی اور اس میں بلند وبالا پہاڑ جمائے اور تمہیں میٹھا پانی پلایا ؟ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔ پانچواں سفر ان لوگوں کی دنیا کا ہے جو آواز حق کو جھٹلانے والے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے فیصلے کے دن ان کے حالات کیا ہوں گے ، کس قدر سرزنش ہوگی اور کس قدر سخت عذاب ہوگا۔ انطلقوا ................................ للمذبین (29:77 تا 34) ” چلو اب اسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔ نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا۔ وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی (جو اچھلتی ہوئی یوں محسوس ہوں گی) گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔ چھٹا اور ساتواں سفر بھی انہی مکذبین کے ساتھ ہے ۔ مزید سرزنش اور تذلیل ہے ان لوگوں کی۔ ھذا یوم ........................ للمکذبین (35:77 تا 40) ” یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ لیں گے اور نہ انہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عذر پیش کریں۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔ یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کردیا ہے۔ اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل دیکھو۔ تباہی ہے ان دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اور آٹھواں سفر متعین کے ساتھ۔ یہ دکھایا گیا ہے کہ ان کے لئے کیا کیا انعامات ہیں۔ انالمتقین ................................ للمکذبین (41:77 تا 45) ” متقی لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں اور جو پھل وہ چاہیں (ان کے لئے حاضر ہیں) کھاﺅ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔ نواں سفر بھی مکذبین کے ساتھ ایک جھلک ہے۔ سخت سرزنش کرتے ہوئے۔ کلوا ........................ للمکذبین (47:77) ” کھالو اور مزے کرلو تھوڑے دن۔ حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اور دسواں سفر بھی مکذبین کے موقف کے بارے میں ہے کہ یہ لوگ کس طرح ہٹ دھرمی کررہے ہیں۔ واذاقیل ................ للمکذبین (49:77) ” جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جھکو تو نہیں جھکتے تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔.... ان سفروں ، ان مناظر ، ان موثرات واشارات کے بعد یہ خاتمہ کلام۔ فبای ................ یومنون (50:77) ” اب اس قرآن کے بعد کون سا کلام ایسا ہوسکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے “۔ غرض قاری کا فکر وذکر اس تیز رفتار سورت کے ساتھ ، اس کے مشاہدو مناظر میں بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ رہے سورت کے موضوعات کلام تو وہ وہی ہیں جو قرآن کی دوسری سورتوں میں ہیں ، خصوصاً مکی سورتوں میں۔ لیکن وہی حقائق اس سورت میں بالکل ایک نئے زاویہ سے بیان کیے گئے ہیں۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ وہی موضوع اور مضمون ہر بار نئے ذوق وشوق ، نئے منظر وپس منظر کے ساتھ ، نئی فکری اور نفسیاتی زاویوں کے ساتھ بیان ہوتا ہے۔ ہر موقعہ ومحل کی ضرورت کے مطابق۔ چناچہ وہی بات ہر بار جدید نظرآتی ہے اور اس کے اندر جدید نفسیاتی اشارات و دلائل ہوتے ہیں جو نفس انسانی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اور انسان ہر بار ایک نئے انداز سے لبیک کہتا ہے۔ اس سورت میں جہنم کے مناظر بھی جدید ہیں اور مکذبین کے سامنے یہ مناظر نئے انداز سے پیش کیے جاتے ہیں۔ یوں نظرآتا ہے کہ مضمون کا انداز بیان اور مخاطین سب نئے ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہر سورت ایک نئی شخصیت بن کر سامنے آتی ہے۔ جس کے اپنے فیچر اور خدوخال ہوتے ہیں اور وہ گہرے اثرات کی حامل ہوتی ہے۔