Surat ul Mursilaat
Surah: 77
Verse: 15
سورة المرسلات
وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۵﴾
Woe, that Day, to the deniers.
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے ۔
وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۱۵﴾
Woe, that Day, to the deniers.
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے ۔
For what Day are these signs postponed? For the Day of Sorting Out. And what will explain to you what is the Day of Sorting Out? Woe that Day to the deniers! Allah is saying, `for which day are the Messengers postponed and their matter expected, so that the Hour will be established.' This is as Allah says, فَلَ تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ يَوْمَ تُبَدَّلُ الاٌّرْضُ غَيْرَ الاٌّرْضِ وَالسَّمَـوَتُ وَبَرَزُواْ للَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ So think not that Allah will fail to keep His promise to His Messengers. Certainly, Allah is Almighty, All-Able of Retribution. On the Day when the earth will be changed to another earth and so will be the heavens, and they will appear before Allah, the One, the Irresistible. (14:47, 48) This is the Day of Sorting Out, as Allah says, لِيَوْمِ الْفَصْلِ the Day of Sorting Out. Then Allah says, in magnifying its matter, وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ وَيْلٌ يَوْمَيِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ And what will explain to you what is the Day of Sorting Out? Woe that Day to the deniers. meaning, woe unto them from Allah's torment that is coming in the future.
15۔ 1 یعنی ہلاکت ہے بعض کہتے ہیں جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، یہ آیت اس سورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس لیے کہ ہر مکذب کا جرم ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کا ہوگا اور اسی حساب سے عذاب کی نوعیتیں بھی مختلف ہوں گی، بنابریں اسی ویل کی مختلف قسمیں ہیں جسے مختلف مکذبین کے لیے الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔
[٩] تباہی اس لیے کہ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے لیے یہ ایک ناگہانی آفت ہوگی۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ قیامت فی الواقع آجائے گی اور جب آجائے گی تو انہیں اپنی ہلاکت کے سوا کوئی راہ دکھائی نہ دے گی۔ واضح رہے کہ اس سورت میں یہ آیت متعدد بار ذکر کی گئی ہے اور ہر مقام پر اس کی مناسبت کی وجہ الگ الگ ہے۔
وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ (Woe, that Day, to the deniers!...77:15) The word wail means &destruction&. According to certain Hadith narratives, the word wail is a &valley of Hell where the pus of the wounds of the inmates of Hell will be collected. This is the place where the deniers will live. After this, the present-day people are asked to learn a lesson from [ the destruction ] of the former generations, thus:
وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ١٥ ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] . ( و ی ل ) الویل اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ان پر افسوس ہے اس لئے کہ بےاصل باتیں اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور پھر ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] اور کافروں کے لئے سخت عذاب کی جگہ خرابی ہے ۔ ۔ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] سو لوگ ظالم ہیں ان کی خرابی ہے ۔ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ناپ تول میں کمی کر نیوالا کے لئے کر ابی ہے ۔ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغلخور کی خرابی ہے ۔ يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52]( اے ہے) ہماری خواب گا ہوں سے کسی نے ( جگا ) اٹھایا ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
آیت ١٥{ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ } ” (ہلاکت اور) بربادی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ “ لفظ ” ویل “ کے معنی تباہی اور بربادی کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے ‘ جس کی سختیوں سے خود جہنم بھی پناہ مانگتی ہے۔
7 "Deniers of Truth": those people who took the news of the coming of Resurrection as a lie, and spent their lives in the world under the delusion that the time would never come when they would have to present themselves before their God and render an account of their deeds.
سورة الْمُرْسَلٰت حاشیہ نمبر :7 یعنی ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس دن کے آنے کی خبر کو جھوٹ سمجھا اور دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی وہ وقت نہیں آنا ہے جب انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہو گی ۔
(77:15) ویل یومئذ للمکذبین : ویل باوجودنکرہ ہونے کے مبتدا ہے اصل میں مصدر منصوب قائم مقام فعل محذوف کے تھا۔ عدول کرکے اس کو رفع دیا گیا تاکہ اس کے معنی (ہلاکت) کے ثبات اور دوام پر دلالت ہوجائے (مدارک التنزیل والکشاف) مثال اس کی سلام علیکم ہے۔ علامہ پانی پتی لکھتے ہیں :۔ ویل مصدر ہے اصل میں اس کا معنی ہے تباہی اور خرابی پیدا ہوجانا۔ یہ جملہ فعلیہ تھا۔ اور ویلا مفعول مطلق ہونے کی بنا پر منصوب تھا۔ اور فعل محذوف تھا۔ مفو ول کی بجائے ویل کو بصورت مبتداء مرفوع لایا گیا۔ تاکہ تباہی اور خرابی کے دوام پر دلالت ہوجائے (کیونکہ فعل سے عدول کرکے جملہ اسمیہ کو ذکر کرنا ثبات و دوام فعل پر دلدلت کرتا ہے) یہ جملہ بددعائیہ ہے۔ یومئذ اسم ظرف ہے منصوب : یوم مضاف اذ مضاف الیہ ۔ اس دن ، مبتدا کا ظرف ہے۔ للمکذبین اس کی خبر ہے۔ مکذبین تکذیب (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ جھٹلانے والے۔ یعنی توحید و رسالت، بعثت بعد الموت، سزاء و جزاء کی تکذیب کرنے والے۔
ویل ................ للمکذبین (15:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اور یہ ڈراوا اللہ عزیز اور جبار کی طرف سے ہے اور ان حالات کے بعد ہے جو اس کائنات پر طاری کردیئے گئے۔ اور رسول حاضر ہوگئے اور ان سے بھی کارکردگی کی رپورٹ طلب ہونے لگی۔ اور وہ ایک ایک کرکے حساب پیش کرنے لگے ، تو ایسے حالات میں یہ ڈراوا بہرحال بےحد موثر ہوتا ہے۔ اور واقعی ایک احساس انسا پر مارے خوف کے غشی آنے لگتی ہے۔ اب یوم الفصل اور یوم الحساب کی ان خوفناکیوں سے کھینچ کر انسان کو خود اس دنیا کی انسانی تاریخ کی طرف لایا جاتا ہے کہ اسے مبہوت انسان ذرا اپنی تاریخ پر غور کرو۔