Surat ul Mursilaat
Surah: 77
Verse: 33
سورة المرسلات
کَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ ﴿ؕ۳۳﴾
As if they were yellowish [black] camels.
گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں ۔
کَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ ﴿ؕ۳۳﴾
As if they were yellowish [black] camels.
گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں ۔
As if they were Sufr camels. means, black camels. This is the view of Mujahid, Al-Hasan, Qatadah, and Ad-Dahhak, and Ibn Jarir favored this view. Ibn `Abbas Mujahid, and Sa`id bin Jubayr said about, جِمَالَتٌ صُفْرٌ (Sufr camels.) "Meaning ropes of ships." إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ Verily, it (Hell) throws sparks as Al-Qasr. Imam Al-Bukhari recorded from Ibn `Abbas that he said: "We were directed to the timber a length of three cubits or more in order to use it for construction of buildings. We used to call it Al-Qasr. كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ As if they were Sufr camels. These (Jimalat) are ropes of ships that are bundled until they resemble the intestines of men." وَيْلٌ يَوْمَيِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ
33۔ 1 اس معنی کی بناء پر مطلب یہ ہے کہ اس کی ایک ایک چنگاڑی اتنی اتنی بڑی ہوگی جیسے محل یا قلعہ۔ پھر ہر چنگاڑی کے مذید اتنے بڑے بڑے ٹکڑے ہوجائیں گے جیسے اونٹ ہوتے ہیں۔
[٢٠] جہنم سے اٹھنے والے چنگارے اور شرارے اتنے بڑے ہوں گے۔ جیسے بلند وبالا عمارتیں ہوں پھر جب وہ ٹوٹ کر اور بکھر کر نیچے جہنم کی طرف گریں گے تو ایسا معلوم ہوگا جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہیں۔
كَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفْرٌ ٣٣ ۭ جَمَلُ يقال للبعیر إذا بزل وجمعه جِمَال وأَجْمَال وجِمَالة قال اللہ تعالی: حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] ، وقوله : جِمالَتٌ صُفْرٌ [ المرسلات/ 33] ، جمع جِمَالة، والجِمَالَة جمع جَمَل، وقرئ : جمالات بالضم، وقیل : هي القلوص، والجَامِل : قطعة من الإبل معها راعيها، کالباقر، وقولهم : اتّخذ اللیل جملا فاستعارة، کقولهم : رکب اللیل، وتسمية الجمل بذلک يجوز أن يكون لما قد أشار إليه بقوله : وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ [ النحل/ 6] ، لأنهم کانوا يعدّون ذلک جمالا لهم . وجَمَلْتُ الشحم : أذبته، والجَمِيل : الشحم المذاب، والاجتمال : الادهان به، وقالت امرأة لبنتها : تَجَمَّلِي وتعفّفي «5» ، أي : كلي الجمیل، واشربي العفافة ۔ الجمل جو ان اونٹ جو کم از کم پانچ سال کا ہو ۔ اس کی جمع جمال و اجمال وجمالۃ آتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِياطِ [ الأعراف/ 40] یہاں تک کہ اونٹ سوئی گے ناگے میں سے نہ نکل جائے ۔ اور آیت کریمہ :۔ جِمالَتٌ صُفْرٌ«2» [ المرسلات/ 33] گو یا زردہ رنگ کے اونٹ ہیں ۔ میں جملت جمالۃ کی جمع ہے اور جمالۃ جمل کی اور ایک قرآت میں جمالات بضمہ جیم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی جو ان اونٹنیوں کے ہیں ۔ الحامل اونٹوں کا گلمہ جن کے ساتھ ان کا چرواہا بھی ہو یہ باقر کی طرح ہے اور اتخذاللیل جملا ( کہ اس نے رات کو اونٹ بنالیا ) محاورہ مجاز پر محمول ہے جس کے معنی ہیں اپنے ساری رات سفر کیا ۔ جیسا کہ رکب اللیل کا محاورہ ہے اور اونٹ کو جمل کہنے کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ عرب لوگ اونٹ کو اپنے لئے باعث زینت اور فخر سمجھتے تھے جیسا کہ آیت :۔ وَلَكُمْ فِيها جَمالٌ [ النحل/ 6] میں اشارہ پایا جاتا ہے ۔ حملت الشحم چربی بگھلانا اور بگھلائی ہوئ چربی کو الجمیل کہا جاتا ہے اور اجمال کے معنی چربی کو بطور تیل ملنے کے ہیں ۔ ایک عورت نے اپنی لڑکی سے کہا ۔ تجملی وتعففی یعنی چربی پگھلا کر کھا یا کرو اور عفافہ یعنی تھنوں میں باقی ماندہ دودھ پیاکر و۔ صفر الصُّفْرَةُ : لونٌ من الألوان التي بين السّواد والبیاض، وهي إلى السّواد أقرب، ولذلک قد يعبّر بها عن السّواد . قال الحسن في قوله تعالی: بَقَرَةٌ صَفْراءُ فاقِعٌ لَوْنُها[ البقرة/ 69] ، أي : سوداء»، وقال بعضهم : لا يقال في السواد فاقع، وإنّما يقال فيها حالکة . قال تعالی: ثُمَّ يَهِيجُ فَتَراهُ مُصْفَرًّا[ الزمر/ 21] ، كأنّه جمالات صُفْرٌ «3» [ المرسلات/ 33] ، قيل : هي جمع أَصْفَرَ ، وقیل : بل أراد الصُّفْرَ المُخْرَجَ من المعادن، ومنه قيل للنّحاس : صُفْرٌ ، ولِيَبِيسِ البُهْمَى: صُفَارٌ ، وقد يقال الصَّفِيرُ للصّوت حكاية لما يسمع، ومن هذا : صَفِرَ الإناءُ : إذا خلا حتی يُسْمَعَ منه صَفِيرٌ لخلوّه، ثم صار متعارفا في كلّ حال من الآنية وغیرها . وسمّي خلوّ الجوف والعروق من الغذاء صَفَراً ، ولمّا کانت العروق الممتدّة من الکبد إلى المعدة إذا لم تجد غذاء امتصّت أجزاء المعدة اعتقدت جهلة العرب أنّ ذلک حيّة في البطن تعضّ بعض الشّراسف حتی نفی النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم، فقال : «لا صَفَرَ» «4» أي : ليس في البطن ما يعتقدون أنه فيه من الحيّة، وعلی هذا قول الشاعرولا يعضّ علی شرسوفه الصَّفَرُ والشّهر يسمّى صَفَراً لخلوّ بيوتهم فيه من الزّاد، والصَّفَرِيُّ من النِّتَاجِ : ما يكون في ذلک الوقت . ( ص ف ر ) الصفرۃ ( زردی ) ایک قسم کا رنگ جو سیاہی اور سفیدی کے مابین ہوتا ہے مگر اس پر چونکہ سیاہی غالب ہوتی ہے اس لئے کبھی اس کے معنی سیاہی بھی آتے ہیں ۔ اسی بناپر حسن رضہ نے آیت ۔ بَقَرَةٌ صَفْراءُ فاقِعٌ لَوْنُها[ البقرة/ 69] اس کا رنگ گہرا زردہ ہو ۔ میں صفراء کے معنی سیاہی کے ہیں مگر بعض نے کہا ہے کہ اگر اس کے معنی سیاہ ہوتے تو اس کی صفت فاقع نہ آتی بلکہ صفراء کے بعد حالکتہ کہا جاتا ہے ۔ نیز فرمایا : ثُمَّ يَهِيجُ فَتَراهُ مُصْفَرًّا[ الزمر/ 21] پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو کہ زرد ہوگئی ہے ۔ اور آیت کریمہ : كأنّه جمالات صُفْرٌ «3» [ المرسلات/ 33] گو یا زرد رنگ کے اونٹ ہیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں صفرا صفر کی جمع ہے اور بعض نے کہا جاتا ہے کہ صفر ایک دہات کا نام ہے جس کے ساتھ زردی میں تشبیہ دی گئی ہے اسی سے نحاس ( پتیل ) کو صفر اور خشک بھمی ( گھاس ) کو سفار کہا جاتا ہے اور کبھی صفیر کا لفظ ہر اس آواز کی حکایت پر بولا جاتا ہے جو ( دور سے ) سنائی دے اسی سے صفرالاناء کا محاورہ ہے جس کے اصل معنی تو اس خالی برتن کے ہیں جس سے صفیر کی سی آواز سنائی لگے ہیں خواہ وہ برتن ہو یا اور کوئی چیز اور پیٹ اور رگوں کے غزا سے خالی ہونے کی صفر کہا گیا ہے اور ان رگوں کو جو جگر اور معدہ کے مابین پھیلی ہوئی ہیں جب غزا میسر نہ ہو تو وہ معدہ کے اجزا کو چوسنے لگتی ہیں اس بنا پر جاہل عربوں نے یہ عقیدہ بنارکھا تھا کہ صفر پیٹ میں ایک سانپ کا نام ہے جو بھوک کے وقت پسلیوں کا کاٹتا ہے ۔ حتی کہ آنحضرت کو لاصفر کہہ کر اس عقیدہ کی نفی کرنا پڑی ( 5) یعنی پیٹ میں اس قسم کا سانپ نہیں ہوتا جس کے متعلق ان کا یہ عقیدہ ہے اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( ع بیط ) اور نہ اس کی پسلیوں کی صفر سانپ کاٹتا ہے ۔ اور ماہ صفر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ( اس مہینہ میں ان کے گھر توشہ خالی ہوجاتے تھے اس لئے اسے صفر کہتے تھے اور جو بچہ ماہ صفر میں پیدا ہوا اسے صفری کہا جاتا ہے ۔
19 That is, each spark will be like a castle, and when these huge sparks will rise and burst and fly about in all directions it will seem as though they were yellow camels running and jumping about ceaselessly.
سورة الْمُرْسَلٰت حاشیہ نمبر :19 بعنی ہر چنگاری ایک قصر جیسی بڑی ہو گی ، اور جب یہ بڑی بڑی چنگاریاں اٹھ کر پھٹیں گی اور چاروں طرف اڑنے لگیں گی تو یوں محسوس ہو گا جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود کر رہے ہیں ۔
10: یہاں یہ حقیقت بیان فرمائی گئی ہے کہ دوزخ کی آگ کے شعلے اتنے بڑے ہوں گے جیسے عظیم الشان محل ہوتے ہیں، اور اُن سے جو شاخیں نکلیں گی، وہ زرد رنگ کے اُونٹوں جیسی ہوں گی۔
(77:33) کانہ جملت صفت : کاف تشبیہ کا۔ انہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قصر ہے یا شرر ہے۔ جملت (موصوف) جمع ہے جعل کی بمعنی اونٹ۔ صفر (صفت) زرد۔ صفرۃ سے جس کے معنی زردی کے ہوتے ہیں۔ بروزن فعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اصفر صفراء صفر۔ راغب نے لکھا ہے :۔ چونکہ زردی سیاہی سے (یا وہ قریب ہوتی ہے اس لئے کبھی صفرۃ کی تعبیر سوداء (سیاہی) سے بھی کی جاتی ہے۔ چناچہ حسن بصری (رح) نے ارشاد الٰہی صفراء فاقع لونھا (2:69) میں صفراء کی تفسیر سوداء (سیاہ رنگ والی) سے کی ہے۔ (المفردات) حدیث شریف میں آیا ہے کہ :۔ جہنم کی آگ کی چنگاریاں تارکول کی طرح سیاہ ہوں گی۔ اونٹ کے رنگ کی سیاہی زردی مائل ہوتی ہے۔ اس لئے عرب اونٹ کے رنگ کو صفر کہتے ہیں۔ قصر کے ساتھ تشبیہ مقدار کی بڑھائی میں تھی۔ اور جملت صفر کے ساتھ تشبیہ رنگ، کثرت تسلسل، باہم اختلاط اور سرعت حرکت میں ہے۔
2۔ قاعدہ ہے کہ جب چنگاری آگ سے جھڑتی ہے تو بڑی ہوتی ہے، پھر بہت سے چھوٹے ٹکڑے ہو کر زمین پر گرتی ہے، پس پہلی تشبیہ ابتدائی حالت کے اعتبار سے ہے اور دوسری تشبیہ انتہائی حالت کے اعتبار سے ہے۔
(33) گویا وہ زری مائل کالے کالے اونٹ ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چھائوں کی تین پھانکیں یعنی پھٹی ہوئی جس میں گے گرمی آتی رہے یعنی اونچی ہوتی ہیں چنگاریاں محل کے برابر۔ مطلب یہ ہے کہ جب حساب کتاب ہوتا رہے گا منکروں کو یہ دھواں گھیرے رہے گا تین شاخوں کا یہ مطلب ہے کہ دھواں جب اونچا ہوتا ہے تو اس کے کئی حصے ہوجاتے ہیں اس میں سایہ نہ ہوگا جو ٹھنڈک پہنچے اور نہ وہ آگ کی گرمی کو روک سکے گا بلکہ اس میں خود چنگاریاں جھڑتی ہوں گی ان چنگاریوں کی حالت ابتدائی تو ایسی ہوگی جیسے کوئی بڑی عمارت اور بڑا محل ہے اور جب ٹکڑے ہوکر زمین پر گریں گی تو ایسی ہوں گی جیسے زردی مائل سیاہ اونٹ، ہمیشہ چنگاری اوپر سے بڑی نظر آتی ہے لیکن نیچے گرتے گرتے اس کے کئی ٹکڑے ہوجاتے ہیں اس لئے دونوں حالتوں کا ذکر فرمایا۔ خلاصہ : یہ کہ جب کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے عرش الٰہی کے سائے میں ہوں گے تو کفار بد اطواردین حق کے منکر اس دھوئیں کے سائبان کے نیچے کھڑے حساب دے رہے ہوں گیا اور جب تک حساب ختم نہ ہوجائے گا اسی تشاخے دھوئیں کے نیچے کھڑے رہیں گے۔ اعادتا اللہ منہ۔