Surat ul Mursilaat

Surah: 77

Verse: 4

سورة المرسلات

فَالۡفٰرِقٰتِ فَرۡقًا ۙ﴿۴﴾

And those [angels] who bring criterion

پھر حق اور باطل کو جدا جدا کر دینے والے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 یعنی ان فرشتوں کی قسم جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے احکام لے کر اترتے ہیں۔ یا مراد آیات قرآنیہ ہیں، جن سے حق و باطل اور حلال و حرام کی تمیز ہوتی ہے یا رسول مراد ہیں جو وحی الٰہی کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] ہواؤں کی اقسام اور صفات :۔ کرہ زمین کی سطح پر اللہ تعالیٰ نے ہوا کا ایک کرہ بنادیا۔ جو ہر خشکی کے جاندار کے لیے پانی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ پانی کے بغیر تو انسان ایک آدھ دن زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر ہوا کے بغیر دو چار منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ پھر جس طرح پانی کی بہت سی اقسام ہیں۔ کوئی پانی میٹھا ہوتا ہے، کوئی کھاری، کوئی نمکین، کوئی گدلا، کوئی صاف و شفاف، کوئی ہلکا پانی، کوئی بھاری اور کوئی متعفن اور بدبودار اسی طرح ہواؤں کی بھی بہت سی اقسام ہیں۔ باد نسیم اور باد صبا کا انسان کی طبیعت پر بڑا اچھا اثر پڑتا ہے۔ جبکہ باد صرصر اور باد سموم سخت نقصان دہ ہیں۔ کچھ ہوائیں مشرق سے مغرب کو چلتی ہیں اور کچھ مغرب سے مشرق کو پھر کچھ ہوائیں نرم رفتار سے دھیرے دھیرے چلتی ہیں۔ کبھی یک دم حبس ہوجاتا ہے، ہوا چلنے سے رک جاتی ہے تو انسان کا دم گھٹنے لگتا ہے کبھی یہ ہوائیں آندھی اور جھکڑ کی صورت اختیار کرکے درختوں اور مکانات کو تہس نہس کر ڈالتی ہیں، کچھ ہوائیں خوشبو اڑا کر لاتی اور معطر ہوتی ہیں۔ اور کچھ ہوائیں بدبودار اور بیمار کردینے والا ہوتی ہیں۔ غرض ہواؤں کا ایک الگ عالم ہے جن میں ان مختلف اقسام کی موجودگی کے باوجود ایک نظم و ضبط ہے۔ یہی ہوائیں گرمی، سردی اور موسم کی تبدیلی میں موثر کردار ادا کرتی ہیں۔ کچھ ہوائیں بادلوں کو اکٹھا کرتی اور جوڑ دیتی ہیں اور کچھ دوسری جڑے ہوئے بادلوں کو یک دم پھاڑ دیتی ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار قسم کی ہواؤں کی قسم اٹھائی اور اپنی قدرت کاملہ کی طرف انسان کی توجہ مبذول کرائی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا۝ ٤ ۙ فرق الفَرْقُ يقارب الفلق لکن الفلق يقال اعتبارا بالانشقاق، والفرق يقال اعتبارا بالانفصال . قال تعالی: وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ [ البقرة/ 50] ، والفِرْقُ : القطعة المنفصلة، ومنه : الفِرْقَةُ للجماعة المتفرّدة من النّاس، وقیل : فَرَقُ الصّبح، وفلق الصّبح . قال : فَانْفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ [ الشعراء/ 63] ، ( ف ر ق ) الفرق والفلق کے قریب ایک ہی معنی ہیں لیکن معنی انشقاق یعنی پھٹ جانا کے لحاظ سے فلق کا لفظ بولا جاتا ہے اور مغی انفعال یعنی الگ الگ ہونے کے لحاظ سے فرق قرآن میں ہے : ۔ وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ [ البقرة/ 50] اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھاڑ دیا ۔ اور الفراق کے معنی الگ ہونے والا ٹکڑہ کے ہیں اسی سے فرقۃ ہے جس کے معنی لوگوں کا گروہ یا جماعت کے ہیں ۔ اور طلوع فجر پر فرق اور فلق دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَانْفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ [ الشعراء/ 63] تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑا یوں ہوگیا ( کہ ) گویا بڑا پہاڑ ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤{ فَالْفٰرِقٰتِ فَرْقًا ۔ } ” پھر تقسیم کرتی ہیں جدا جدا۔ “ سورة الذاریات میں ہوائوں کی اس خصوصیت کا ذکر { فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا ۔ } کے الفاظ میں ہوا ہے۔ یعنی ہوائیں سمندر سے بخارات کو بادلوں کی صورت میں دور دراز علاقوں تک لے جاتی ہیں ‘ پھر وہ اس پانی کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مختلف علاقوں میں بارش کی صورت میں تقسیم کرتی ہیں۔ اس تقسیم میں ان کا معاملہ ہر جگہ یکساں نہیں ہوتا بلکہ ُ جدا جدا ہوتا ہے۔ کہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے َجل تھل ہوجاتا ہے اور کوئی علاقہ خشک رہ جاتا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(77:4) فالفرقت فرقا : ف عاطفہ، واؤ قسیمہ محذوف۔ الفرقت فرق (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث۔ الفارقۃ واحد فرقا مصدر جو کہ بطور تاکید لایا گیا ہے۔ اس کا عطف بھی مرسلت پر ہے۔ ترجمہ :۔ پھر قسم ہے ان ہواؤں کی جو (بادلوں کو) پارہ پارہ کرنے والی ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 بعض نے ان سے مراد فرشتے لئے ہیں یا قرآنی آیات یا انبیائ ( علیہ السلام) جو ہق کو باطل سے جدا کرتے ہیں۔ (ایضا) ً ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) پھر ان ہوائوں کی جو بادلوں کو پھاڑ کر جدا کرتی ہیں اور بانٹتی ہیں۔