تعارف سورة النباء سورة نمبر 78 کل رکوع 2 آیات 40 الفاظ و کلمات 174 حروف 801 مقام نزول مکہ مکرمہ اس سورة میں قیامت، آخرت اس کو ماننے والوں کے لئے نجات او نہ ماننے والوں کو برے اعمال کے برے نتائج سے آگاہ اور خبردار کیا گیا ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ والوں کے سامنے اللہ کے اس کلام کو پیش کرکے یہ بتایا کہ بہت جلد ایک ایسا دن آنے والا ہے جب اس دنیا کو ختم کرکے ایک نیا جہاں تعمیر کیا جائے گا اور اس میں اولین و آخرین سب انسانوں کو جمع کر کے ان سے زندگی کے ہر معاملے کا حساب لیا جائے گا اور جس کے جیسے اعمال ہوں گے اس کے مطابق اس کو جنت یا جہنم کا مستحق قرار دیا جائے گا تو مکہ میں ہر طرف اسی پر بحثیں باتیں ہو رہی تھیں کوئی اس کو سچا اور کوئی اس کی تردید کر رہا تھا۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نونشانیاں پیش کرکے لوگوں سے پوچھا ہے کہ جس اللہ کی قدرت سے نظام کائنات چل رہا ہے کیا وہ اس بات کی قدرت نہیں رکھتا کہ اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نئی دنیا تعمیر کردے ؟ یقینا اللہ کی قدرت سے کوئی چیز بعید نہیں ہے۔ اسی بات کو اس سورة میں ارشاد فرمایا گیا ہے جس کا خلاصیہ یہ ہے۔ فرمایا یہ کسی چیز کے بارے میں بحثیں کر ہے ہیں۔ کیا اس بڑی خبر کے متعلق اختلافات کرر ہے ہیں جو بہت جلد ایک حقیقت کی شکل میں آنے والی ہے۔ یہ لوگ بہت جلد اس حقیقت (قیامت) کو دیکھ لیں گے۔ فرمایا کہ کیا ہم نے زمین کو فرش اور پہاڑوں کو اس زمین پر میخوں کی طرح گاڑ نہیں دیا ہے ؟ کیا تمہیں عورتوں مردوں کے جوڑوں کی شکل میں پیدا نہیں کیا ؟ کیا تمہاری نیند کو راحت و سکون کا ذریعہ اور رات کو لباس کی طرح راحت کو ذریعہ نہیں بنایا ؟ کیا دن کو معاش یعنی زندگی گزارنے کے سامان کو حاصل کرنے اور جدوجہد کرنے کا وقت نہیں بنایا ؟ کیا تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان نہیں بنائے اور کیا ہم نے اس میں دہکتا اور چمکتا سورج نہیں بنایا ؟ کیا ہم نے بادلوں سے لگاربارش کو نہیں برسایا جس کے پانی سے تم غلہ اور سبزیاں اگاتے اور کھیتوں، درختوں کو سینچے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ اللہ نے فیصلے کا ایک دن مقرر کر رکھا ہے۔ جب صور میں پھونک ماری جائے گی تم فوج در فوج زمین سے نکل آئوگے۔ آسمان کھول دیا جائے گا جس میں ہر طرف دروازے ہی دروازے ہوں گے۔ پہاڑ ریت کی طرح اڑتے پھریں گے یہ فیصلے کا دن ہوگا ۔ فرمایا کہ بیشک جہنم ان نافرمانوں کی گھات میں لگی ہوئی ہے۔ وہ جہنم جو سرکش اور ظالموں کا ٹھکانا ہوگی۔ اس میں کسی طرح کی ٹھنڈک کا سامان نہ ہوگا۔ پینے کے لئے گرم کھولتے پانی اور پیپ کے سوا کچھ نہ ہوگا یہ اسی پانی کے عذاب کو چکھیں گے یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہوگا اور یہ اس بات کی سزا ہوگی کہ وہ اس حساب اور فیصلے کے دن کی توقع ہی نہ رکھتے تھے۔ ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے۔ فرمایا کہ ہم نے ان کی ایک ایک بات کا ریکارڈ رکھا ہوا ہے۔ ان سے کہا جائے گا کہ اب تم اس کے عذاب کو چکھو۔ تمہارے لئے اسی عذاب میں اضافہ ہی کیا جائے گا کمی نہ ہوگی۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے خوف کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی ان کو ہر طرح کی کامیابیاں عطا کی جائیں گی ۔ حسین ترین باغ، انگور، ہم عمر اور نوخیز لڑکیاں اور چھلکتے بھر پور شراب کے جام ہوں گے وہاں کوئی لغو، فضول اور گناہ کی بات سنائی نہ دے گی۔ یہ تمہارے رب کا انعام ہوگا۔ یہ اس رب العالمین کی طرف سے کرم ہوگا جو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے۔ اس دن اس کے سامنے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہوگی۔ اس دن جبرئیل اور فرشتے صفیں باندھے اللہ کے سامنے کھرے ہوں گے۔ کوئی کسی کی سفارش اس کی اجازت کے بغیر نہ کرسکے گا اور وہ ٹھیک ہی سفارش کرے گا یعنی اہل ایمان کے لئے ہی سفارش کرے گا۔ فرمایا کہ یہ فیصلے اور قیامت کا دن بالکل برحق ہے۔ اب جس کا دل چاہے وہ اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ بنالے۔ فرمایا کہ ہم نے تمہیں اس عذاب سے پوری طرح آگاہ کردیا ہے جو بہت دور نہیں ہے بلکہ بالکل قریب ہی آلگا ہے۔ اس دن آدمی اپنے ہر اس عمل کو اپنی نگاہوں سے دیکھے گا جو اس نے اپنے ہاتھوں کے آگے بھیجا ہے۔ فرمایا یہ وہ ہیبت ناک دن ہوگا جب کافر کہہ اٹھے گا کاش میں اس دن کو دیکھنے سے پہلے ہی مٹی ہوگیا ہوتا۔
سورة النبا کا تعارف یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کی چالیس آیات ہیں جو دو رکوعات پر مشتمل ہیں۔ اس کا نام اس کی دوسری آیت میں مذکور ہے۔ اس سورت میں کائنات کی بڑی بڑی چیزوں کا ذکر فرما کر یہ ثابت کیا ہے کہ جس رب نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے وہی اس کائنات کو ختم کر کے قیامت قائم کرے گا۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں جہنم ان کا انتظار کر رہی ہے انہیں اس جہنم میں پھینکا جائے گا جس میں وہ مدت بعید تک پڑھے رہیں گے۔ ان کے لیے نہ کسی قسم کا سکون ہوگا اور نہ ہی انہیں پینے کے لیے ٹھنڈا پانی نصیب ہوگا۔ جب وہ پانی طلب کریں گے تو انہیں ابلتا ہوا پانی اور ان کے زخموں کی پیپ پلائی جائے گی یہ سزا اس لیے ہوگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرامین کو جھٹلایا کرتے تھے اور قیامت کا انکار کرتے تھے ان کے مقابلے میں جنہوں نے ” اللہ “ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اور قیامت پر یقین رکھا وہ کامیاب ٹھہریں گے۔ ان کے لیے ہر قسم کے باغات اور انگور ہوں گے، انہیں خوبصورت اور ان کی ہم عمر بیویاں دی جائیں گی۔ انہیں پینے کے لیے جھلکتے ہوئے جام پیش کیے جائیں گے وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے، اس میں کسی قسم کی بےہودگی اور آلودگی نہیں پائیں گے۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بےحساب مہربانی ہوگی۔ اس رب کی طرف سے جو زمینوں آسمانوں کا مالک ہے قیامت کے دن اس کے سامنے اس کی اجازت کے بغیر کوئی بات نہیں کرسکے گا۔ اس دن جبریل امین (علیہ السلام) سمیت تمام ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے اور جسے بولنے کی اجازت ہوگی وہ صحیح بات کرئے گا، یہ دن ہر صورت قائم ہو کر رہے گا۔ اب ہر انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرے یا اس کی نافرمانی میں پڑ کر اپنی آخرت تباہ کرلے۔ جس نے اپنی آخرت کو تباہ کرلیا وہ قیامت کے دن پشیمان ہوگا اور مٹی کے ساتھ مٹی بن جانے کی خواہش کرے گا۔ لیکن اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ (ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِِلٰی رَبِّہٖ مَآبًا اِِنَّا اَنذَرْنٰکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ وَیَقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا) (النبا : ٣٩، ٤٠) ” اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے۔ ہم نے تمہیں اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آچکا ہے جس دن آدمی سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں مٹی بنا رہتا۔ “
سورة النباء ایک نظر میں سورة نباء کا بلکہ اس پورے پارے کا ایک خاص مزاج ہے۔ سورة بینہ اور سورة نصر کے سوا اس کی تمام سورتیں مکی ہیں۔ بیشتر سورتیں چھوٹی اور بعض لمبی ہیں۔ لیکن ان تمام سورتوں کا رنگ اور انداز ایک ہے۔ اور یہ رنگ پورے پارے کی خصوصیت ہے۔ موضوع ، گفتگو کے رخ ، انداز گفتگو ، الفاظ ، لہجہ اور تمام اسلوب کلام کے اعتبار اس پورے پارے میں یکسانیت ہے۔ گو انسانی احساسات پر شدید ضربات لگائی گئی ہیں تاکہ انسانی احساس جاگے۔ یوں نظر آتا ہے کہ شدید خطرے کے وقت کوئی کسی سوئے ہوئے غافل کو چیخیں لگا کر جگارہا ہے یا کچھ لوگ غفلت اور نشے کی حالت میں ہیں۔ لہو ولعب اور دنیا کی خرمستیوں میں بےہوش ہیں اور اس دنیا کی دلچسپیوں میں مست ہیں اور کوئی ہمدرد داعی انہیں جگارہا ہے اور زور زور سے پکار رہا ہے کہ ہوش میں آﺅ، خطرہ ہے۔ غور کرو ، فکر تو کرو ، آخر اس کائنات کا ایک مالک اور خالق ہے۔ یہ کائنات اپنا ایک نظم رکھتی ہے۔ ایک منصوبے کے مطابق چلتی ہے ، یہ بےمقصد نہیں ہے ، اسے ایک مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہ مقصد انسان کی آزمائش ہے۔ کہ ایک دن انسان نے اپنا اعمال نامہ لینا ہوگا ، حساب و کتاب دینا ہوگا۔ جزا وسزا ہوگی۔ ایک طرف عظیم سزا ہے اور دوسری جانب انعامات واکرامات ہیں۔ ذرا سوچو ، ہوش کرو ، اور غوروفکر کرو کہ کون سا انجام بہتر ہے تمہارے لئے۔ یہ ضربات وتنبیہات ہیں ، پہلی ضرب دوسری ضرت ، تیسری ضرب ، دسویں ضرب۔ ان ضربات اور ان چیخوں کے ساتھ ساتھ ایک طاقتور ہاتھ ان غافل سوئے ہوئے لوگوں کو ہلا رہا ہے جو عیش و عشرت کے نشے میں مدہوش ہیں۔ وہ ایک گہرے مدہوش شخص کی طرح آنکھیں کھولتے ہیں اور پھر سو جاتے ہیں۔ یہ زبردست ہاتھ انہیں دوبارہ جگاتا ہے ، حرکت دیتا ہے اور پورے زور سے چیختا ہے۔ یہ لوگ اگر جاگ بھی اٹھتے ہیں تو سخت ہٹ دھرمی ، نفرت اور عناد کے انداز میں کہتے ہیں۔ جاﺅ بابا کام کرو ، جب یہ لوگ تنگ آتے ہیں تو اس ڈرانے والے پر سنگ باری شروع کردیتے ہیں اور دوبارہ دنیا کی اس عیش و عشرت اور خرمستیوں میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہ تھے میرے احساسات اس پائے کو پڑھتے ہوئے ، اگرچہ یہ چند مخصوص اور متغین حقائق پر مشتمل ہے لیکن ان کی قدروقیمت بہت زیادہ ہے۔ نیز اس پورے پارے میں مخصوص انداز بیان بھی ہے جو دل میں اترنے والا ہے۔ اس کائنات کے بعض مناظر اور نفس انسانی کے بعض حالات کو بھی لیا گیا ہے اور قیامت کے دن کے بعض واقعات بھی لئے گئے ہیں۔ ان کا تکرار بھی ہے اور ان میں تنوع بھی ہے اور یہ تکرار قصداً کیا گیا ہے۔ یوں مختلف زاویوں سے قلب ونظر کے تاروں کو چھیڑا گیا ہے۔ ہر پڑھنے والا یہی محسوس کرتا ہے ، جب وہ پڑھتا ہے۔ فلینظر .................... طعامہ (24:80) ” انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی خوراک پر غور کرے “۔ فلینظر ........................ سطحت (17:88 تا 20) ” کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ، آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھائے گئے اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی “۔ نیز یہ آیات پڑھتے ہوئے بھی یہی احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ ءانتم اشد ............................ ولانعامکم (27:79 تا 33) ” کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی ؟ اللہ نے اس کو بنایا ، اس کی چھت خوب اونچی اٹھائی۔ پھر اس کا توازن قائم کیا اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا۔ اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا۔ اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیئے سامان زیست کے طور پر ، تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے “۔ الم نجعل ............................ و جنت الفافا (6:78 تا 16) ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا ، اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اور تمہیں جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ، اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کیے اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا ، اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی تاکہ اس کے ذریعے سے غلہ سبزی اور گھنے باغ اگائیں “۔ اور فلینظر الانسان ................................ ولانعامکم (24:80 تا 32) ” پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے۔ ہم نے خوب پانی لنڈھایا۔ پھر زمین کو عجیب پھاڑا۔ پھر اس کے اندر اگائے غلے ، اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گھنے باغ اور طرح طرح کے پھل اور چارے تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے سامان زیست کے طور پر “۔ یایھا الانسان ........................ رکبک (6:82 تا 8) ” اے انسان ! کس چیز نے تجھے اپنے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا ہے جس نے تجھے پیدا کیا ، تجھے نک سک سے درست کیا ، تجھے متناسب بنایا ، اور جس صورت میں چاہا ، تجھے جوڑ کر تیار کیا “۔ اور پھر یہ آیات سبح اسم ........................ فجعلہ غثاء احوی (1:87 تا 5) ” اے نبی اپنے رب کے برتر نام کی تسبیح کرو ، جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا ، جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی۔ جس نے نباتات اگائیں پھر ان کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا “۔ اور پھر لقد خلقنا ........................ باحکم الحکمین (4:95 تا 8) ” ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ، پھر اسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کردیا۔ سوائے ان لوگوں کے ، جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لئے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ بس اس کے بعد کون جزاوسزا کے معاملہ میں تم کو جھٹلاسکتا ہے۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ “ یہی احساسات ہوتے ہیں جب پڑھنے والا سورة تکویر کی ان آیات کو پڑھتا ہے۔ اذا الشمس ............................ ما احضرت (1:81 تا 14) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا ، اور جب تارے بکھر جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے ، اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی۔ اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیئے جائیں گے اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے ، اور جب جانیں جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا اور جب جہنم دہکائی جائے گی اور جب جنت قریب لے آئے جائے گی ، اس وقت ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے “۔ اور سورة انفطار کی یہ آیا اذا السمائ ........................ واخرت (1:82 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی ، اس وقت ہر شخص کو اس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہوجائے گا “۔ اور سورة انشقاق کی یہ آیات اذا السمائ ............................ لربھا وحقت (1:84 تا 5) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے حق یہی ہے۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی ، اور جو کچھ اس کے اندر ہے ، اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی۔ اور وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لئے حق یہی ہے “۔ اور سورة زلزال کی یہ آیات اذا زلزلت ............................ اوحی لھا (1:99 تا 5) ” جب زمین ، اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلاڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی اور انسان کہے گا کہ یہ اس کو کیا ہورہا ہے ؟ اس روز وہ اپنے حالات بیان کرے گی کیونکہ تیرے رب نے اس حکم دیا ہوگا “۔ ان آیات کے علاوہ جب پڑھنے والا سورتوں کے آغاز اور درمیان چند لمحات پاتا ہے اور اس کائنات کے دلائل و شواہد کی پکار سنتا ہے تو اس کے احساسات نور سے بھر جاتے ہیں۔ فلا اقسم ............................ اذاتنفس (15:81 تا 18) ” پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں ، پلٹنے والے اور ھچپ جانے والے تاروں کی ، اور رات کی جب وہ رخصت ہوئی اور صبح کی جب اس نے سانس لیا “۔ فلا اقسم ........................ اذاتشق (16:84 تا 18) ” پس نہیں ، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی ، اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے ، اور چاند کی جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے “۔ والفجر ............................ یسر (1:89 تا 4) ” قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی ، اور رات کی جب وہ رخصت ہو “۔ والشمس ................................ وتقواھا (1:91 تا 8) ” سورج اور اس کی دھوپ کی قسم اور چاند کی قسم جب کہ وہ اس کے پیچھے آتا ہے اور دن کی جب وہ اسے نمایاں کردیتا ہے اور رات کی قسم جب وہ سورج کو ڈھانپ لیتی ہے اور آسمان کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے قائم کیا اور زمین کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے بچھایا ، اور نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ہموار کیا۔ پھر اس کی ابدی اور اس کی پرہیزگاری اس پر الہام کردی “۔ ولیل اذ ............................ والانثی (1:92 تا 3) ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو ، اور اس رات کی جس نے نر اور مادہ پیدا کیا “۔ والضحی .................... اذا سجی (1:93 تا 2) ” قسم ہے روز روشن کی اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہوجائے “۔ یہ اور اس قسم کی دوسری آیات۔ الحاصل اس پورے پارے میں اس بات کو بطور شہادت پیش کیا گیا ہے کہ اللہ نے جس طرح انسانوں اور حیوانوں اور نباتات کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے ، وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ نیز اس کائنات کے دوسرے مظاہر قدرت کو بطور شہادت پیش کیا گیا جو اس کائنات کی کھلی کتاب میں جا بجا موجود ہیں۔ نیز اس پارے میں قیامت کے سخت ، خوفناک اور کھڑکھڑانے اور کپکپانے والے مظاہر پیش کرکے انسان کو ڈرایا گیا ہے۔ حساب و کتاب کے مناظر ، جہنم کے عذاب کے خوفناک مناظر ، جنت کی بےحدوحساب انعامات کو ترغیب اور ترہیب کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ قیامت کے مناظر کو اسی طرح خوفناک مناظر کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جس طرح اس دنیا کے خوفناک مناظر ہوتے ہیں۔ ان تمام امور کو اللہ کے نظام تخلیق ، قدرت تخلیق ، تدبیر کائنات اور کائنات کے اندر جاری قوانین قدرت اور نوامیس فطرت پر دلیل کے طور پر لایا گیا ہے۔ اور ان سے انسان کو ڈرایا گیا ہے۔ کبھی کبھار ان مناظر کے اندر ان اقوام کے انجام کی طرف اشارات بھی کیے گئے ہیں جن کو انسانی تاریخ میں ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ اس پورے پارے میں ان موضوعات پر بیشمار آیات ہیں لیکن ہم چند کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ یہ سورت یعنی سورة نباء بھی مذکورہ بالا حقائق اور مناظر کے پیش کرنے کا ایک نمونہ ہے۔ اسی طرح سورة النازعات ، سورة عبس ، آغاز کی چند آیات کو چھوڑ کر باقی سورت میں یہی حقائق ومشاہد ہیں۔ پہلی آیات میں دعوت اسلامی کے ایک مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ باقی پوری سورت میں انسانی پیدائش اور نباتاتی زندگی کے حقائق پیش کرنے کے بعد قیامت کے کڑاکے دار قیام کا ذکر ہے۔ یوم یفر ........................ ترھقھا قترة (34:80 تا 41) ” اس روز آدمی اپنے بھائی ، اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا ، کچھ چہرے ، اس دن دمک رہے ہوں گے۔ ہشاش بش اس اور خوش وخرم ہوں گے اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی۔ کلونس چھائی ہوئی ہوگی “۔ سورة التکویر میں اس کائنات میں ہونے والے عظیم انقلابات کا ذکر ہے ، جبکہ بعض کائناتی مناظر اٹھا کر وحی کی سچائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کو ثابت کیا گیا ہے۔ سورة انفطار میں قیامت کے دن سے قبل ہونے والے کائناتی انقلابات بیان کیے گئے ہیں اور جنت کے انعامات کو نہایت ہی دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یوں کہ انسان ان کے حصول کے لئے میدان میں نکل آئے۔ یایھا ........................ الکریم (6:82) ” اے انسان تیرے رب کریم کے بارے میں تجھے کس چیز نے غرے میں ڈال دیا ہے “۔ سورة انشقاق میں قیامت کے روز ہونے والے عظیم کائناتی انقلابات ، جنت کی نعمتوں کے مناظر اور دوزخ کے عذاب کے مناظر بیان کیے گئے ہیں اور سورة بروج میں یوم قیامت کے مناظر ، امم باضیہ میں سے اسلام کے لئے جدوجہد کرنے والے لوگوں کی تعذیب کے ایک مخصوص واقعہ کی جھلکیاں اور چونکہ ان لوگوں نے مومنین کو آگ میں جلایا تھا اس لئے یہ سورت ان لوگوں کے لئے سزائے اخروی کے ذکر پر مشتمل ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت کا عذاب بہت ہی شدید ہوگا۔ سورة الطارق میں انسان کی تخلیق اور نباتات کی تخلیق کو بطور شہادت پیش کیا گیا ہے۔ انہ لقول ........................ ھو بالھزل (13:82 تا 14) ” بیشک یہ ایک جچی تلی بات ہے ، ہنسی مذاق نہیں ہے “۔ سورة اعلیٰ تخلیق ، تسویہ اور تقدیر اور ہدایت کا ذکر کرتی ہے۔ اور اس کے بعد اس میں مختلف قسم کے نباتات کے اگانے اور پھر کوڑا کرکٹ بنادینے کا ذکر ہے۔ اور اس سے یہ اشارہ دینا مقصود ہے کہ اللہ ایک دن اسی طرح پھر عام انسانوں کو اٹھائے گا۔ اور حساب و کتاب ہوگا اور جزاء وسزا ہوگی اور سورة غاشیہ میں جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذاب کے مناظر ہیں۔ اور اس کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ اگر غور کریں تو اونٹ کی تخلیق آسمانوں کی رفعتوں اور دوریوں ، اور زمین اور پہاڑوں کے اندر بہت کچھ سامان عبرت ہے۔ غرض اسی طرح تمام سورتوں میں یہ مناظر ومشاہد بیان کیے گئے ہیں۔ چند ہی سورتیں ایسی ہیں جن میں ایمان اور اسلامی نظام کی بات کی گئی ہے۔ مثلاً سورة اخلاص ، سورة الکافرون ، سورة الماعون ، سورة النصر ، سورة القدر ، سورة العصر وغیرہ یا پھر چند سورتوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کا ذکر ہے۔ اور آپ کو مشورہ دیا گای ہے کہ آپ ہر شر سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔ مثلاً الضحیٰ الانشراح ، الکوثر ، الفلق ، الناس وغیرہ اور یہ بھی چند ہی ہیں۔ اس پورے پارے کا ایک مخصوص انداز بیان بھی ہے۔ نہایت صاف ستھرا انداز ، جس میں اس کائنات سے حسن و جمال کے خاص یونٹ لئے گئے ہیں۔ نفس انسانی سے بھی حسن و جمال کے پہلو لیے گئے ہی۔ اعلیٰ درجے کے خوبصورت مناظر وتصاویر ، دلکش فضا میں ، اور نہایت ہی مسحور کن مترنم قافئے اور آیات کے خاتمے پیش کیے گئے ہیں۔ یہ تمام چیزیں ، سوئے ہوئے غافل انسانوں اور بری راہوں پر سرپٹ دوڑنے والوں کو خطاب کرنے میں موزوں تر ہیں۔ ایسے لوگوں کے جگانے ، ان کو راہ راست کی طرف کھینچنے اور ان کے احساسات کو بیدار کرنے کی خاطر قسم قسم کے دلائل اور موثرات پیش کرنے کی خاطر یہ اسلوب نہایت ہی مفید ہے۔ یہ موثر انداز بعض مثالوں کے مطالعہ سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے۔ مثلاً ستاروں کی قسم کھا کر کہا جاتا ہے کہ وہ یوں ہیں جس طرح زندہ چیزیں ہوتی ہیں اور وہ شیریں اور ہر نوں کی طرح نمودار ہوتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں۔ اور رات کو ” چھپ جانے والی اور صبح کو ” سانس لینے والی “ کہہ کر ان کو زندگی بخشی گئی ہے لیکن سانس کے ذریعہ وہ گویا روشنی کی آکسیجن لیتی ہے۔ سورة تکویر میں ہے : فلا اقسم ............................ اذا تنفس (15:81 تا 18) ” پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے والے اور پیچھے چلنے والے اور پھر چھپ جانے والے تاروں کی اور رات کی جب وہ اندھیروں میں گھس جاتی ہے اور صبح کی جب وہ روشنی کا سانس لیتی ہے “۔ اور سورج کے غروب ہونے کے مناظر ، رات کی تاریکیاں اور چاندنی رات کی خوشگوار روشنی فلا اقسم ............................ اذاتسق (16:84 تا 18) ” پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں شفق کی اور ان چیزوں کی جنہیں رات جمع کرتی ہے۔ چاند کی جب وہ ماہ کامل بن جاتا ہے۔ اور پھر نمود صبح کے مناظر ، رات کا آہستہ آہستہ غائب ہوتے جانا کیا ہی خوبصورت منظر ہوتا ہے اور کس قدر خوبصورت انداز میں پیش ہوتا ہے۔ سورة فجر سے والفجر ............................ اذا یسر (1:89 تا 4) ” قسم ہے صبح کی ، اور قسم ہے دس راتوں کی اور قسم ہے جفت اور طاق کی اور قسم ہے رات کی جب وہ جارہی ہو “۔ اور والضحیٰ.................... اذا سجی (1:93 تا 2) ” قسم ہے دن کی اور قسم ہے رات کی جب چھاجائے “۔ اور سورت میں قلب ونظر کو متاثر کردینے والی آیات یایھا .................... رکبک (6:82 تا 8) ” اے انسان ، تجھے کس چیز نے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا ہے ، جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر موزوں بنایا۔ اور پھر جس شکل و صورت میں چاہا ، جوڑا “۔ اور جہنم کے بارے میں یہ الفاظ فاما .................... حامیة (8:101 تا 11) ” اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے اس کی جائے قرار گہری کھائی ہوگی اور تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے ؟ بھڑکتی ہوئی آگ “۔ بعض تعبیرات میں براہ راست بات کرنے کی بجائے اشارے کنایے کا اندازاپنایا گیا اور براہ راست لفظ کی بجائے اس کے دور کے مشقات کو لیا گیا ہے تاکہ نغمہ اور ترنم کے اعتبار سے موزوں تر لفظ کو استعمال کیا جائے۔ اس پورے سپارے میں انداز تعبیر کا یہ پہلو نمایاں اور مکرر ہے۔ یہ سورت اس پورے پارے کے انداز کا ایک نمونہ ہے۔ اس کے موضوعات ، بیان کردہ حقائق ، مناظر اور تصویر کشیاں ، اس کی فضا ، اس کے اثرات اور ٹچ ، اس کے الفاظ اور عبارات ، اس کائنات کے تاثرات سب کے سب ایسے ہیں کہ انسان کے پردہ احساس پر ارتعاش پیدا کرتے ہیں اور انسانی ضمیر پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں کے زاویہ سے انسان کی اصلاح کرتے ہیں۔ سورت کا آغاز ایک سوال سے ہوتا ہے ، جو اس حقیقت کی عظمت ، خوفناک اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جس سے وہ اختلاف کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ ایک عظیم معاملہ ہے اور بالکل ظاہر ہے اور ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے۔ اس سوال کا جواب صرف یہ دے دیا جاتا ہے کہ اچھا عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔ عم یتساءلون ........................ سیعلمون (1:78 تا 5) ” یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے ہیں ؟ کیا اس بڑی چیز کے بارے میں جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے لگے ہوئے ہیں ؟ ہرگز نہیں ، انہیں معلوم ہوجائے گا ، ہاں ہرگز نہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ اس مختصر سوال اور جواب کے بعد اس موضوع پر بات ختم ہوجاتی ہے اور ان کو اس نظری موضوع کے بجائے ایسے حقائق کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو ان کے سامنے ، ان کے ماحول میں ، ان کے نفوس میں ، ان کی دنیا میں موجود ہیں اور اگر ان پر غور کیا جائے تو وہ عظیم حقائق و شواہد ہیں اور وہ اس بات پر دلیل ہیں کہ جس معاملے میں اختلاف کررہے ہیں وہ تو آنے والا ہے۔ الم نجعل ................................ و جنت الفافا (6:78 تا 16) ” کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا ، اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا اور تمہیں جوڑے کی شکل میں پیدا کیا اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ، اور رات کو پردہ پوش اور دن کو معاش کا وقت بنایا اور تمہارے اوپر سات آسمان قائم کیے۔ اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا ، اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی تاکہ اس کے ذریعے سے غلہ اور سبزی اور گھنے باغ اگائیں “۔ حقائق ومناظر اور نہایت ہی موثر تصاویر دکھانے کے بعد انہیں پھر اس عظیم خبر ، اس خوفناک موضوع کی طرف لایا جاتا ہے ، جس میں ان کو اختلاف تھا ، جس کے بارے میں وہ پوچھتے رہتے تھے اور آغاز سورت میں مفصل جواب کی بجائے تہدید آمیز انتظار ہی پر اکتفاء کیا گیا تھا کہ وہ کیسے ہوگا۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ اس کے بڑے بڑے واقعات ہوں گے۔ ان یوم ............................ سرابا (17:78 تا 20) ” بیشک فیصلے کا دن ایک مقررہ وقت ہے ، جس روز صور میں پھونک ماری جائے گی تو تم فوج درفوج آﺅ گے اور آسمان کھول دیا جائے گا کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے “۔ پھر عذاب جہنم کی ایک خوفناک اور شدید جھلک دکھائی جاتی ہے۔ ان جھنم ........................ الا عذابا (21:78 تا 30) ” در حقیقت جہنم ایک گھات ہے ، سرکش کا ٹھکانا ، جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے ، اس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ دیکھیں گے ، کچھ ملے گا تو بس گرم پانی ، اور زخموں کا دھو ون ، بھرپور ہدیہ۔ وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے اور ہماری آیات کو بالکل جھٹلادیا تھا ، اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی۔ اب چکھو مزہ ، ہم تمہارے لئے عذاب کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کریں گے “۔ ان جنتوں میں اللہ کی نعمتوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر یوں ہوگا۔ ان للمتقین ............................ حسابا (31:78 تا 36) ” یقینا متقیوں کے لئے کامرانی کا ایک مقام ہے ، باغ اور انگور ، اور نوخیز کم سن لڑکیاں ، اور جھلکتے ہوئے جام۔ وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے ۔ جزاء اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے اس نہایت مہربان خدا کی طرف سے “۔ اب سورت کا خاتمہ ہے جو ایک عظیم حقیقت کا مظہر ہے اور یہ فکر ونظر کے تاروں پر ایک عظیم چوٹ ہے۔ اس عظیم حقیقت کو ایک خوفناک منظر کی صورت میں پیش کرکے لوگوں کو اس سے ڈرایا جاتا ہے۔ رب السموت والارض ............................ کنت ترابا (37:78 تا 40) ” تمہارے رب کی طرف سے ، اس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمان کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں۔ جس روز روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے ، کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔ وہ دن برحق ہے ، اب جس کا جی چاہے ، اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرے۔ ہم نے تم لوگوں کو اس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آلگا ہے۔ جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں مٹی ہوتا۔ یہ ہے وہ عظیم شہ سرخی ، جس کے بارے میں یہ لوگ باہم سوال کرتے ہیں اور یوں ہوگا وہ دن جب ان لوگوں کے سامنے یہ حقیقت ایک واقعہ کی شکل میں نمودار ہوگی۔