Surat un Naba
Surah: 78
Verse: 17
سورة النبأ
اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ کَانَ مِیۡقَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾
Indeed, the Day of Judgement is an appointed time -
بیشک فیصلہ کے دن کا وقت مقرر ہے ۔
اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ کَانَ مِیۡقَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾
Indeed, the Day of Judgement is an appointed time -
بیشک فیصلہ کے دن کا وقت مقرر ہے ۔
Explaining the Day of Decision and what occurs during it Allah says إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا Verily, the Day of Decision is a fixed time, Allah says about the Day of Decision -- and it is the Day of Judgement -- that it is at a fixed time, with a set appointment. Its time cannot be added to or decreased. No one knows its exact time except Allah. This is as Allah says, وَمَا نُوَخِّرُهُ إِلاَّ لاًّجَلٍ مَّعْدُودٍ And We delay it only for a term fixed. (11:104) And He informs, يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا
جماعت در جماعت حاضری یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے ، نہ وہ آگے ہو ، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا ۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں ۔ جیسے اور جگہ ہے ۔ آیت ( وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ ١٠٤ۭ ) 11-ھود:104 ) نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے ، اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے ، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی جیسے فرمایا آیت ( يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71 ) 17- الإسراء:71 ) جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے ، صحیح بخاری شریف میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے ، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا میں نہیں کہہ سکتا ، پوچھا چالیس مہینے؟ کہا مجھے خبر نہیں پوچھا چالیس سال؟ کہا میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا ۔ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے ، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی ، آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے ، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذریعے بن جائیں گے ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ ۭ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ ۭ اِنَّهٗ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ 88 ) 27- النمل:88 ) ، یعنی تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں اور جگہ ہے آیت ( وتکون الجبال کالعھن المنفوش ) پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے ، یہاں فرمایا پہاڑ سراب ہو جائیں گے یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں ۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے ، نام و نشان تک نہ رہے گا جیسے اور جگہ ہے ( وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا ١٠٥ۙ ) 20-طه:105 ) ، لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا اور جگہ سے ( وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً ۙ وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا 47ۚ ) 18- الكهف:47 ) جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ، پھر فرماتا ہے سرکش ، نافرمان ، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے یہی ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے ۔ اس کے معنی حضرت حسن اور حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے یہ بھی کئے ہیں کہ کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا ، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے ، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا ، حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں اس پر تین تین پل ہیں ، پھر فرمایا وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے کریں گے احقاب جمع ہے حقب کی ایک لمبے زمانے کو حقب کہتے ہیں بعض کہتے ہیں حقب اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا ۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا ، بہت سے صحابہ اور تابعین سے یہ مروی ہے ، بعض کہتے ہیں ستر سال کا حقب ہوتا ہے ، کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے ، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا ، بشیر بن کعب تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک حقب ، ایک مرفوع حدیث میں ہے حقب مہینہ کا ، مہینہ تیس دن کا ، سال بارہ مہینوں کا ، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ( ابن ابی حاتم ) لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں ، یہ دونوں متروک ہیں ، ایک اور روایت میں ہے کہ ابو مسلم بن علاء نے سلیمان تیمی سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟ تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے ابن عمر سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا پھر کہا اسی سے اوپر کچھ سال کا ہوتا ہے اور ہر سال تین سو ساٹھ دن کا جو تم گنتے ہو ، سدی کہتے ہیں سات سو حقب رہیں گے ہر حقب ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا ، حضرت مقاتل بن حیان فرماتے ہیں یہ آیت قدوقوا کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے ، خالد بن معدان فرماتے ہیں کہ یہ آیت اور آیت الاماشاء ربک یعنی جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے ، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں ، امام ابن جریر فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے کہ احقاب تک رہنا متعلق ہو آیت حمیماوغساقا کے ساتھ یعنی وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا ، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں حضرت حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا کہ احقاب سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے لیکن حقب کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ احقاب کبھی ختم نہیں ہوتے ایک حقب ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا ان احقاب کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک حقب اسی سال کا ، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا ، ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی کا ملے گا ، ہاں ٹھنڈے کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی ، حمیم اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو ، اور غساق کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو پیپ پسینہ آنسو اور زخموں سے بہہ ہوئے خون پیپ وغیرہ کو اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بیحد بدبو دار ہے ۔ سورہ ص میں غساق کی پوری تفسیر بیان ہو چکی یہ اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے ، بعض نے کہا ہے برد سے مراد نیند ہے ، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی برد نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے ۔ پھر فرمایا یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے ، ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں ، ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے ۔ کذاباً مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں ، پھر فرمایا کہ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے ۔ ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو ، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں دوزخیوں کے لئے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں ۔ ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے ، حضرت ابو بردہ اسلمی سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لئے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں ۔ فرمایا حضور علیہ السلام نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا ، لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں ۔
[١٢] ان سب باتوں پر غور کرنے سے انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کوئی چیز بھی بےمقصد پیدا نہیں کی۔ پھر کیا انسان کو ہی اس نے اتنی معجز نما قوتیں عطا کر کے بےکار پیدا کردیا ہوگا ؟ وہ جو چاہے کرتا پھرے اور اس سے کوئی مؤاخذہ نہ ہو ؟ یہ سب باتیں حیات بعد الممات پر قوی دلائل ہیں اور ایک وقت یقیناً آنے والا ہے جب اس کائنات کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور سب انسانوں کو دوبارہ پیدا کرکے ان سے محاسبہ کیا جائے گا یہ کام کب ہوگا ؟ اللہ کے ہاں اس کے لیے بھی ایک ٹھیک وقت مقرر ہے۔
ان یوم الفصل کان میقاتاً : یعنی ہم نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنانے سے لے کر اخر آیات تک مذکور جو کچھ بنایا ہے، اگر دنیا کی پیدائش سے لے کر اس کے ختم ہونے تک اس میں جو نیکی یا بدی کی گئی ہے اس کی جزا و سزا کسی وقت بھی نہ ہو، نہ ظالم سے باز پرس ہو اور نہ مظلوم کی داد رسی ہو تو یہ سب کچھ تو بےنتیجہ رہا۔ اس لئے یقین رکھو کہ دنیا میں کئے گئے تمام اعمال کے فیصلے کے لئے ایک دن مقرر ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے :(وخلق اللہ السموت والارض بالحق و لتجزی کل نفس بما کسبت وھم لایظلمون) (الجاثیہ : ٢٢)” اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اور تاکہ ہر جانکو اس کی کمائی کا بدلا دیا جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ “
إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا (Surely the Day of Decision is an appointed time...78:17). &The Day of Decision& refers to the Day of Resurrection. It is a fixed appointment. Other verses indicate that the trumpet will be blown twice. When it is blown the first time, the entire world will come to an end. When it is blown the second time, people of the entire world, the earlier generations as well as the latter generations, will be resurrected and come in multitudes and droves. Sayyidna Abu Dharr Ghifari رضی اللہ تعالیٰ عنہ reports that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"On the Day of Resurrection, people will come in three different groups: [ 1] a group will come in the Plain of Gathering whose stomach will be full, wearing clothes and riding mounts; another group will come to the Plain of Gathering bare feet; and a third group will be brought on the Plain of Gathering being dragged on their faces.|" [ Mazhari cites the following authorities: Nasa&i, Hakim and Baihaqi ] Some narratives report ten types of group. Some scholars say that the groups on the Plain of Gathering will be divided according to their deeds and character. The narratives are not conflicting. All of them may be true.
(آیت) اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا، یعنی فیصلہ کا دن جس سے مراد قیامت ہے وہ ایک موقت اور متعین حد ہے جس پر یہ دنیا ختم ہوجائے گی جبکہ صور پھونکا جائے گا اور دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نفخ صور دو مرتبہ ہوگا پہلے نفخہ سے سارا عالم فنا ہوجائے گا دوسرے نفخہ سے پھر زندہ و قائم ہوجائیگا، اس دوسرے نفخہ کے وقت سارے عالم کے اگلے پچھلے انسان اپنے رب کے سامنے فوج در فوج ہو کر حاضر ہوں گے۔ حضرت ابوذر غفاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگ قیامت کے روز تین فوجوں میں تقسیم ہوں گے، ایک فوج ان لوگوں کی ہوگی جو پیٹ بھرے ہوئے لباس پہنے ہوئے سواریوں پر سوار میدان حشر میں آئیں گے، دوسری فوج پیادہ لوگوں کی ہوگی جو چل کر میدان میں آئیں گے، تیسری فوج ان لوگوں کی ہوگی جن کو چہروں کے بل گھسیٹ کر میدان حشر میں لایا جائے گا (مظہری بروایت نسائی و حاکم و بہیقی) بعض روایات میں افواج کی تشریح دس قسم کی افواج سے کی گئی ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ حضارین محشر کی بیشمار جماعتیں اپنے اپنے اعمال و کردار کے اعتبار سے ہوں گی، ان اقوال میں کوئی تضاد نہیں، سب جمع ہو سکتے ہیں۔
اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا ١٧ ۙ فصل ( جدا) الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] ( ف ص ل ) الفصل کے معنی دوچیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اسی طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اسی سے مفاصل ( جمع مفصل ) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں . قرآن میں ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] اور جب قافلہ ( مصر سے ) روانہ ہوا ۔ اور یہ اقول اور اعمال دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے قرآن میں ہے : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن سب کے اٹھنے کا دن ہے ۔ وقت الوَقْتُ : نهاية الزمان المفروض للعمل، ولهذا لا يكاد يقال إلّا مقدّرا نحو قولهم : وَقَّتُّ كذا : جعلت له وَقْتاً. قال تعالی: إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] . وقوله : وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ [ المرسلات/ 11] . والمِيقَاتُ : الوقتُ المضروبُ للشیء، والوعد الذي جعل له وَقْتٌ. قال عزّ وجلّ : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ [ الدخان/ 40] ، إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كانَ مِيقاتاً [ النبأ/ 17] ، إِلى مِيقاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الواقعة/ 50] ، ( و ق ت ) الوقت ۔ کسی کام کے لئے مقرر زمانہ کی آخری حد کو کہتے ہیں ۔ اس لئے یہ لفظ معنین عرصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ۔ وقت کذا میں نے اس کے لئے اتنا عرصہ مقرر کیا ۔ اور ہر وہ چیز جس کے لئے عرصہ نتعین کردیا جائے موقوت کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز کا مومنوں پر اوقات ( مقرر ہ ) میں ادا کرنا فرض ہے ۔ ۔ وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ [ المرسلات/ 11] اور جب پیغمبر اکٹھے کئے جائیں ۔ المیفات ۔ کسی شے کے مقررہ وقت یا اس وعدہ کے ہیں جس کے لئے کوئی وقت متعین کیا گیا ہو قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ [ الدخان/ 40] بیشک فیصلے کا دن مقرر ہے ۔ إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كانَ مِيقاتاً [ النبأ/ 17] کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن اٹھنے کا وقت ہے ۔ إِلى مِيقاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ [ الواقعة/ 50] سب ایک روز مقرر کے وقت پر جمع کئے جائیں گے ۔ اور کبھی میقات کا لفظ کسی کام کے لئے مقرر کردہ مقام پر بھی بالا جاتا ہے ۔ جیسے مواقیت الحج یعنی مواضع ( جو احرام باندھنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں ۔
(١٧۔ ٢٠) بیشک فیصلے کا دن اولین و آخرین کے جمع ہونے کے لے ایک معین وقت ہے جس دن صور پھونکا جائے گا پھر تم لوگ گروہ در گروہ اور جماعت در جماعت آؤ گے اور آسمان کے دروازے کھل جائیں گے پھر اس میں راستے ہی راستے ہوجائیں گے اور روئے زمین سے پہاڑ ہٹا دیے جائیں گے۔ سو وہ ریت کی مانند ہوجائیں گے
آیت ١٧{ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ کَانَ مِیْقَاتًا ۔ } ” یقینا فیصلے کا دن ایک معین وقت ہے۔ “ یہ ہے وہ اصل بات جس کے لیے بطور تمہید گزشتہ آیات میں اللہ کی رنگا رنگ نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لیے اپنی نعمتوں کا اس قدر وسیع دستر خوان بچھایا ہے تو اس نے انسانوں پر لازماً کچھ ذمہ داریاں بھی ڈالی ہوں گی۔ جب خود انسانوں کے ہاں اصول ہے کہ ذمہ داریاں (responsibilities) اور مراعات (privileges) ایک ساتھ چلتی ہیں تو یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان پر اپنی عطائوں کی بارش تو کرتا رہے اور اس پر ذمہ داری کوئی بھی نہ ڈالے۔ اس لیے تم لوگ یہ مت سمجھو کہ تم من مانی زندگی گزارتے رہو گے اور تم سے کوئی جوابدہی نہیں ہوگی۔ نہیں ‘ تم سے ایک ایک ذمہ داری اور ایک ایک نعمت کا حساب ہوگا اور اس کے لیے ہم نے فیصلے کا ایک دن پہلے سے مقرر کر رکھا ہے ۔
١٧۔ ٣٠۔ اوپر سونے جاگنے اور کھیتی اور باغوں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر اس بات کے سمجھانے کے لئے فرمایا ہے کہ نیند کی مثال بےحس و حرکت کردینے میں بالکل موت کی سی اور پھر جاگنے کی مثال بالکل حشر کی سی ہے اسی طرح اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کی مثال مردہ آدمی کے دفن جیسی ہے۔ اور بیج اور گٹھلی سے پھر اناج اور میوہ کا پیدا ہونا بمنزلہ حشر کے ہے۔ کیونکہ جس طرح مینہ سے یہ چیزیں اگتی ہیں اسی طرح حشر سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے سب آدمیوں کے جسم تیار ہوجائیں گے پھر دوسرا صور پھونکا ان جسموں میں روح پھونک دی جائیں گی اور حشر قائم ہوجائے گا صحیح بخاری ٢ ؎ اور صحیح مسلم میں روایات ہیں ان میں اس حشر سے پہلے مینہ برسنے کا ذکر ہے اگرچہ نیک و بد کا فیصلہ دوسرے صور کے اور اس صور سے لوگوں کے قبروں سے اٹھنے کے بعد ہوگا لیکن دنیا کا پیدا کیا جانا ‘ مرنے کے بعد پھر زندہ کیا جانا ‘ یہ سب کچھ ‘ نیک و بد کی جانچ اور اس کے فیصلہ کے لئے ہے اس لئے اس فیصلہ کا اہتمام زیادہ فرما کر اس کا ذکر صور سے پہلے فرمایا اور یہ تو سورة زمر میں گزر چکا ہے کہ پہلے صور کے پھونکنے سے تمام دنیا اجڑ جائے گی۔ اور دوسرے صور کے پھونکنے سے سب جی اٹھیں گے۔ ان آیتوں میں منکرین حشر کا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس لئے مختصر طور پر فقط دوسرے ہی صور کا ذکر فرمایا کیونکہ جو کچھ دوسرے صور کے وقت ہوگا منکرین حشر فقط اس کے ہی منکر تھے۔ دونوں صوروں کے مابین میں چالیس برس کا عرصہ لگنے کی بابت صحیح بخاری کے بعض شارحوں نے جو لکھا ہے کہ صحیح مسلم میں چالیس برس کے عرصہ کی روایت موجود ہے یہ تو ان شارحوں کا سہو ہے ‘ صحیح مسلم میں تو چالیس برس کے عرصہ کی کوئی روایت نہیں ہے ہاں مسند ابن مبارک تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردویہ کی روایت موجود ہے یہ تو ان شارحوں کا سہو ہے صحیح مسلم میں تو چالیس برس کے عرصہ کی کوئی روایت نہیں ہے ہاں مسند ابن مبارک تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردودیہ میں جو روایتیں ہیں ان میں چالیس برس کا ذکر ہے دوسرے صور کے بعد جب سب لوگ قبروں سے اٹھ کر میدان محشر میں جا کر کھڑے ہوں گے اسی وقت دوزخ کو ستر ہزار نکیلیں دے کر فرشتے میدان محشر میں لائیں گے جس کا ذکر صحیح ١ ؎ مسلم ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کی روایت سے آیا ہے اسی واسطے دوسرے صور کے ذکر کے ساتھ اللہ نے ان آیتوں میں دوزخ کا ذکر فرمایا ہے صور اس نرسنگے کو کہتے ہیں جس کو اسرافیل (علیہ السلام) دو دفعہ پھونکیں گے۔ چناچہ ترمذی ٢ ؎ ابو داؤد و صحیح ابن حبان میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے جو روایت ہے اسی کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صور کے معنی پوچھے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہی معنی بتائے جو اوپر بیان کئے گئے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ صحیح ٣ ؎ مسلم میں حضرت انس سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی نبی کے پیرو اس قدر کثرت سے نہ ہوں گے جس قدر کثرت سے میرے پیرو ہوں گے۔ اور مستدرک ٤ ؎ حاکم و طبرانی میں حضرت عبد ٤ اللہ بن مسعود (رض) کی معتبر سند سے جو روایتیں ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ کسی نبی کے پیرو نہیں ہیں بلکہ اغوائے شیطانی سے کوئی گروہ بتوں کی اور کوئی سورج اور چاند وغیرہ کی پوجا کرتا ہے ان لوگوں کے گروہ قیامت کے دن الگ الگ بن جائیں گے۔ غرض ان حدیثوں کے موافق جٹ کے جٹ اور گروہ کے گروہ اللہ تعالیٰ کے رو برو جانے کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑے یا بہت جس قدر لوگ کسی نبی کے پیرو ہوں گے وہ تو اپنے اپنے نبی کے ساتھ ہوں گے اور باقی کے لوگوں کی جماعتیں الگ الگ ہوں گی۔ آسمان کے کھل جانے اور اس میں دروازے ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ محشر کے میدان میں طرح طرح کے انتظام کے لئے بہت سے فرشتے آسمان سے اتریں گے جن کے زمین پر اترنے کے لئے بہت سے دروازوں کی طرح کے راستے آسمان میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے بن جائیں گے۔ قیامت کے دن نیا آسمان جو بنے گا دوسرے صور کے ذکر میں یہ اس نئے آسمان کا ذکر ہے کیونکہ حال میں جو آسمان موجود ہے یہ تو پہلے صور کے صدمہ سے ٹوٹ جائے گا۔ پہاڑوں کی کئی حالتیں قرآن شریف میں آئی ہیں کہ اول ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر دھنی ہوئی روئی کے مانند ہوجائیں گے یہ سب حالتیں پہلے صور کے وقت کی ہیں دوسرے صور کے حال میں جہاں پہاڑوں کا ذکر ہے وہ اصل میں اس زمین کے ذکر کے ساتھ ہے جو قیامت کے دن نئی پیدا کی جائے گی۔ یہاں پہاڑوں کے ذکر سے مطلب یہ ہے کہ پہلے صور کے وقت پہاڑ اڑ کر پھر اڑے ہوئے رہیں گے۔ اس نئی زمین پر پہاڑوں کا کہیں نام و نشان بھی نہ ہوگا بلکہ ان کی جگہ فقط ریت ہوگی۔ چناچہ اس مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة کہف میں ان لفظوں میں فرمایا ہے ویوم نسیر الجبال و تری الارض بارزۃ ‘ مرصاد اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں بیٹھ کر دشمن پر قابو پانے کے لئے تاک لگائی جاتی ہے حاصل معنی یہ ہیں کہ دوزخ پر جو ملائکہ تعینات ہیں وہ نافرمان لوگوں کی تاک میں لگے ہوئے ہیں اور ان نافرمانوں کی گرفتاری کے وقت کے منتظر ہیں۔ احقاب حقبہ کی جمع ہے ایک حقبہ کس قدر مدت کا ہوتا ہے اس میں سلف کا اختلاف ہے۔ مگر مسند ١ ؎ بزار میں ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حقبہ اسی برس کا ہوتا ہے اس روایت کی سند میں ایک شخص حجاج بن نصیر راوی ہے جس کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن ابن حبان نے اس کو ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے اس لئے حقبہ کی یہی تفسیر صحیح ہے جو اس روایت میں ہے آخر رکوع تک معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ دوزخی دوزخ میں سالہا سال رہیں گے جہاں نہ ان کو کچھ کسی طرح کی ٹھنڈک میسر آئے گی کہ دوزخ کی آگ سے کچھ آرام ملے۔ اور نہ گرم پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے سوا کوئی ایسی چیز پینے کی ملے گی جس سے پیاس بجھے بلکہ یہ لوگ قیامت اور اس کی سزا جزا کے منکر تھے اور باوجود طرح طرح کی فہمایش کے اس انکار پر ان کے اصرار تھا اور وہ انکار اور اصرار سب کچھ دفتر الٰہی میں لکھا جاتا ہے اس لئے اس انکار اور اصرار کی سزا میں ان پر دن بدن عذاب بڑھتا اور بدلتا رہے گا۔ اسی کو جزآء وفاقا فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ان کے اعمال ویسی ہی ان کی سزا۔ بعض مفسروں نے پہلے تو فرمایا کہ دوزخی دوزخ میں قرنوں رہیں گے پھر فرمایا کہ دوزخیوں کا عذاب دن بدن بڑھتا جائے گا بعض مفسروں نے پہلی آیت کہ جس میں قرنوں کے عذاب کا ذکر ہے۔ وسری آیت سے جس میں ہمیشہ عذاب کے بڑھنے کا ذکر ہے منسوخ ہونا لکھا ہے مگر صحیح قول یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہے ایک مدت دوزخیوں پر ایک قسم کا عذاب رہے گا پھر دوسری قسم کا عذاب ہوگا اسی طرح دن بدن عذاب بڑھتا اور بدلتا جائے گا۔ مثلاً ایک مدت تک ان پر پیاس کا عذاب رہے گا پھر گرم پانی ملے گا تو ایسا جس سے انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی حاصل کلام یہ ہے کہ ایک آیت دوسری آیت کا بیان ہے دونوں آیتوں میں سے کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔ (٢ ؎ صحیح مسلم باب مابین النفختین ص ٤٠٦ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص ٣٨١ ج ٢۔ ) (٢ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی الصور ص ٧٨ ج ٢۔ ) (٣ ؎ صحیح مسلم باب الشفاعۃ و الخراج الموحدین من النار ص ١١٢ ج ١۔ ) (٤ ؎ الترغیب والترہیب فصل فی الحشر وغیرہ ص ٧٤٨ ج ٤۔ ) (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٣٠٧ ج ٦۔ )
(78:17) ان یوم الفصل کان میقاتا : کفار مکہ وقوع قیامت سے منکر یا متردد تھے اور اکثر پوچھ گچھ کرتے رہتے تھے۔ اس کا جواب تو آیات 5 اور 6 میں پہلے ہی دیا جا چکا تھا۔ لیکن اتمام حجت کے لئے چند مظاہر قدرت آیات 6 تا 16 میں بطور ثبوت مذکور ہوتے۔ اب جب قطعی طور پر منکرین و مترددین پر ثابت کردیا گیا کہ جو ذات اقدس تمہاری چند روزہ دنیاوی زندگی کے لئے یہ سازو سامان پیدا کرسکتی ہے وہ تمہیں دوبارہ زندہ کرکے قیامت کے بربا کرنے پر بھی قادر ہے۔ پھر اس کے بعد چند احوال قیامت کے ارشاد ہوتے ہیں اور منکرین و مومنین کی سزاو جزاء کا بیان ہوتا ہے۔ ان یوم الفصل : ان حرف مشبہ بالفعل۔ یوم الفصل مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان ، کان میقاتا خبر ان۔ الفضل : دو چیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اس طرح الگ کرنا کہ درمیان میں فاصلہ ہوجائے۔ اسی سے مفاصل (مفصل کی جمع) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں۔ قیامت کو یوم الفصل اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ حق کو باطل سے الگ کر دے گا۔ لوگوں کے درمیان (انصاف سے) فیصلہ کر دے گا۔ میقاتا۔ اسم ظرف زمان۔ منصوب، مقررہ وقت۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک فیصلہ کا دن مقرر و معین ہوچکا ہے۔ اور جگہ ارشاد فرمایا :۔ ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین (44:74) کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن سب کے اٹھنے کا دن ہے۔
2۔ اور ان سب سے ہمارا کمال قدرت ظاہر ہے، پھر قیامت پر ہمارے قادر ہونے کا کیوں انکار کیا جاتا ہے۔
لوگ عبث پیدا نہیں کیے گئے اور نہ ہی وہ شتر بےمہار ہیں۔ ان کی زندگی کے اندازے اور نظام ، جس کا ذکر آیات ماقبل میں کیا گیا ہے ، اور پھر اس کائنات کا نظام جس میں وہ رہ رہے ہیں ، دونوں نظام پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں ، ان پر اچھی طرح غور کرنے کے بعد ہر دانش مند آدمی اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ انسان مہمل اور غیر ذمہ دار نہیں ہیں کہ زمین پر اچھے کام کریں یا برے کام کریں اور پھر مرکر مٹی ہوجائیں۔ راہ ہدایت پر ہوں یا راہ ضلالت پر ہوں ، ان سے پوچھنے والا کوئی نہ ہو ، زمین پر عدل کرلیا ، یا ظلم ، کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ بہرحال ایک دن فیصلے کا ضرور ہے ، جس دن تمام گزرے ہوئے معاملات کے فیصلے ہوں گے۔ یہ طے شدہ ، متعین دن ہے ، جس کے رسم اور قواعد طے شدہ ہیں اور اس کا وقت بھی اللہ کے ہاں طے شادہ ہے ۔ اور مقرر و متعین ہے۔ ان یوم .................... میقاتا (17:78) ” بیشک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے “۔ اس دن اس کائنات کا نظام بدل جائے گا اور اس نظام کی بندش کھل جائے گی۔
اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ کی قدرت کاملہ کے چند مظاہر بیان فرمائے جو سب کے سامنے ہیں۔ ان کو سامنے رکھ کر ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہیے کہ جس کی اتنی بڑی قدرت ہے وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ان آیات میں یہ بتایا کہ فیصلوں کا دن جسے یوم القیامۃ کہا جاتا ہے اس کا وقت مقرر ہے اس سے پہلے اس کا وقوع نہ ہوگا۔ منکروں کے سوالات کرنے اور اختلاف کرنے کی وجہ سے وہ وقت مقرر سے پہلے نہیں آئے گی اور جب وہ دن واقع ہوگا تو نفخ صور یعنی صور پھونکے جانے سے اس کی ابتداء ہوگی اور صور پھونکے جانے سے لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور فوج در فوج یعنی گروہ در گروہ میدان قیامت میں آ کر جمع ہوجائیں گے اور آسمان کا یہ حال ہوگا کہ اس میں دروازے ہی دروازے ہوجائیں گے یعنی کثیر تعداد میں بہت سے دروازے ظاہر ہوجائیں گے۔ قال صاحب الروح بتقدیر مضاف الی السماء ای فتحت ابواب السماء فصارت کان کلھا ابواب۔ اور پہاڑوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنی جگہوں سے چلا دیئے جائیں گے۔ سورة النحل میں فرمایا ﴿ وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾ (اور تو پہاڑوں کے بارے میں خیال کرے گا کہ وہ ٹھہرے ہوئے ہیں حالانکہ وہ ایسے گزریں گے جیسے بادل گزرتے ہیں) ۔ پہاڑ اپنی جگہوں سے ٹل جائیں گے اور ان کی حالت اور کیفیت بھی بدل جائے گی اور وہ سراب یعنی ریت بن جائیں گے۔ سورة مزمل میں فرمایا ﴿ يَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَ الْجِبَالُ وَ كَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيْبًا مَّهِيْلًا ٠٠١٤﴾ (جس روز زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے اور پہاڑ چلنے والی ریت بن جائیں گے) ۔ اور سورة الواقعہ میں فرمایا ﴿اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ٠٠٤ وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ٠٠٥ فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ٠٠٦﴾ (جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آئے گا اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجائیں گے پھر پراگندہ غبار ہوجائیں گے) ۔
5:۔ ” اِنَّ یَوْمَ الْفَصلِ “۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ فیصلے کا دن یعنی یوم قیامت ثواب و عذاب کے لیے میعاد اور وقت معین ہے جس میں ہر انسان کے انجام کا فیصلہ ہوگا ایک فریق جنت میں جائیگا جبکہ دوسرا فریق دوزخ میں۔ ” یَوْمَ یُنْفَخ “ یہ ” یَوْمَ الْفَصْلِ “ یا ” مِیْقَاتًا “ سے بدل ہے (مظہری) ۔ یہ وہ دن ہے جس میں صورت پھونکا جائے گا۔ تو تم سب لوگ قبروں سے اٹھ کر فوج در فوج میدان حشر میں جمع ہوجاؤ گے۔ ” وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ “ اس دن آسمان میں شگاف ڈالدئیے جائیں گے اور اس میں دروازے ہی دروازے نظر آئیں گے۔ یہ دروازے فرشتوں کے اترنے کے لیے ہوں گے (اَبْوَابًا) ای طرقا و مسالک لنزول الملائکۃ (ابن کثیر ج 4 ص 463) ۔ ” سُیِّرَتِ الْجِبَالُ “ اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا کر ریزہ ریزہ کر کے اڑا دئیے جائیں گے اور ان کا کہیں وجود نظر نہیں آئے گا۔ والمراد ھہنا صارت الجبار شیئا لا حقیقۃ لہا لتفتت اجزائہا (مظہری ج 10 ص 174) ۔