تعارف سورة النازعات سورة نمبر 79 کل رکوع 2 آیات 46 الفاظ و کلمات 181 حروف 1791 مقام نزول مکہ مکرمہ تعارف : وہ لوگ جو مر کر دوبارہ زندہ ہونے اور قیامت کے واقع ہونے کو عقل سے دور کی بات سمجھتے تھے ان کو اللہ نے اپنے ان فرشتوں کی قسم کھا کر جو کائنات میں مختلف امور پر مقرر ہیں فرمایا کہ اللہ جو ہر طرح کی قدرت و طاقت رکھتا ہے جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ہے وہ عاجز اور بےبس نہیں ہے کہ انسان کو اور دنیا کو دوبارہ پیدا نہ کرسکے۔ فرمایا : ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر (سختی سے کافروں کی) جان نکالتے ہیں اور ان فرشتوں کی قسم جو بند کھول دیتے ہیں (یعنی مومنوں کی جان نہایت آہستگی سے نکالتے ہیں) ان فرشتوں کی قسم جو ( اس قدر تیز عمل کرتے ہیں جیسے) وہ تری رہے ہیں۔ ان فرشتوں کی قسم جو ( اللہ کے حکم کے مطابق کائنات میں) معاملات کا انتظام کرنے کے لئے تیزی سے دوڑتے ہیں کہ جس دن زلزے کے جھٹکے بار بار آتے چلے جائیں گے اس دن کچھ دل کانپتے اور دھڑکتے ہوں گے اور ان لوگوں کی نگاہیں سہمی ہوئی ہوں گی جو یہ سوچتے تھے کہ جب ہماری کھوکھلی ہڈیاں گل سڑ چکی ہوں گی کیا ہم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور پہلی والی حالت پر لوٹائے جاسکیں گے ؟ اگر ایسا ہو اتو ہم بڑے گھاٹے اور نقصان میں رہیں گے۔ حالانکہ اس واقعہ میں دیرنہ لگے گی بلکہ ایک زبردست اور سخت آواز (صور پھونکنے کے بعد ) ہوگی اور یکا یک سب لوگ ایک کھلے میدان میں حاضر ہوجائیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو موسیٰ کے واقعہ کی خبر پہنچی۔ جب ان کے رب نے انہیں ایک مقدس وادی میں پکار کر کہا تھا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم اس فرعون کے پاس جائو جو نافرمانی اور سرکشی میں حد سے گزر گیا ہے اور اس سے کہو کہ اے فرعون ! کیا تو چاہتا ہے کہ میں تجھے سیدھا راستہ دکھا کر پاکیزگی کی طرف رہنمائی کروں، تجھے تیرے رب کی طرف لوٹا دوں تاکہ تیرے اندر اس کا خوف پیدا ہو ؟ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے سامنے (عصا کا) بڑا معجزہ پیش کیا مگر اس نے حقارت سے ٹھکرا کر ماننے سے انکار کردیا۔ پھر اس نے (مکرو فریب کا جال پھیلانے کے لئے) سب لوگوں کو جمع کیا اور پکار کر کہا کہ میں ہی تمہارا رب اعلیٰ ہوں۔ آخر کار اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذاب میں پکڑ لیا ( غرق کردیا) اور اس واقعہ میں ہر اس شخص کے لئے عبرت کا سامان موجود ہے جو اللہ کا خوف رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کیا تم لوگوں کا پیدا کرنا بڑی بات ہے یا آسمانوں کا پیدا کرنا ؟ جسے اللہ نے ہی بنایا ہے۔ اس کی چھت کو خوب اونچا کیا۔ پھر اس میں توازن قائم کیا۔ اسی نے رات کو تاریک اور دن کو روشن بنایا۔ اسی نے زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا۔ جس سے پانی اور چارے کو نکالا۔ اس زمین میں تو ازن کے لئے پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔ اسی نے تمہاری زندگی گزارنے کے اسباب اور تمہارے مویشیوں کے لئے رزق کو پیدا کیا۔ پھر جب قیامت کو ہولناک اور بڑا ہنگامہ خیز دن ہوگا تو انسان کو اپنے کیے ہوئے اعمال یاد آجائیں گے۔ ہر گناہ گار کے سامنے جہنم کو کھول کر رکھ دیا جائے گا۔ جس نے سرکشی کی ہوگی اور اس نے دنیا کی زندگی ہی کو سب کچھ سمجھ لیا ہوگا جہنم اس کا ٹھکانا ہوگی۔ اور جس نے اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہونے سے خوف کیا ہوگا اور اپنے نفس کی خواہشوں سے دور رہا ہوگا اس کا ٹھکانا جنت ہوگی۔ نبی کریمو کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ کافر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس سے تعلق بھی نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قیامت کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام صرف لوگوں کو ان کے برے اعمال سے خبردار کرنا اور اس سے خوف دلانا ہے۔ فرمایا کہ جس دن یہ قیامت کو دیکھیں گے تو ان کو یہ محسوس ہوگا کہ وہ (دنیا میں یا قبر میں) صرف ایک صبح یا ایک شام سے زیادہ نہیں رہے ہیں۔
سورة النّازعات کا تعارف یہ سورت اپنے نام سے شروع ہوتی ہے۔ سورت النبا کے بعد مکہ میں نازل ہوئی یہ دو رکوع اور چھیالیس آیات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء میں انسان کی جان نکالنے والے ملائکہ کی پانچ قسمیں اٹھا کر انسان کی موت کا ذکر فرما کر یہ بات ثابت کی ہے کہ قیامت ہر صورت برپا ہوگی اور اس کا آغاز مسلسل زلزلوں سے ہوگا۔ اس سورت میں یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ جو ملائکہ اپنے رب کے حکم سے انسان کی جان قبض کرتے ہیں اور کائنات کا نظام چلا رہے ہیں۔ وہی اپنے رب کے حکم سے قیامت برپا کریں گے۔ اس دن لوگوں کے دل کانپ رہے ہوں گے اور ان کی آنکھیں سہمی ہوئی ہوں گی، جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں کہ ہماری بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس دن انہیں اٹھایا جائے گا وہ دن صرف ایک ڈانٹ سے رونما ہوگا اور یہ لوگ کھلے میدان میں موجود ہوں گے۔ اس سورت کے دوسرے رکوع میں فرعون کا انجام ذکر کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ان کا انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس کے بعد آسمان کی بناوٹ اور بلندی کا حوالہ دیا پھر پہاڑوں کا ذکر ہوا اور اس کے بعد جانوروں اور ان کے چارے کا ذکر فرما کر ثابت کیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بنائیں اور پیدا کی ہیں اسی طرح ہی وہ اس دنیا کے بعد قیامت برپا کریگا اس دن مجرموں کے لیے جہنم ہوگی اور نیک لوگوں کے لیے جنت مقام ہوگا۔
سورة النزعت ایک نظر میں یہ سورت بھی اس پارے کا ایک ممتاز نمونہ ہے۔ اس کا مرکزی مضمون قیامت کے شعور کو پختہ اور بیدار کرنا ہے۔ قیام کے عظیم واقعات ، اس کی سنجیدگی ، اس کی ضخامت اور اس کی ہولناکیاں بتائی گئی ہیں اور یہ بھی ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ اس زمین کے اوپر انسانوں کی تخلیق اور انسانوں کے مراحل حیات کی تدبیر اور زمین کے اندر اور باہر زندگی کی نشوونما اور مراحل سب اس بات پر شاہد ہیں کہ قیام قیامت ایک حقیقت ہے اور اللہ کے ہاں اصل مقصود ہے۔ یہ اس کائنات کا انجام ہے اور تمام تخلیقات اس لئے ہوئی ہیں کہ وہ اس انجام تک جاکر پہنچیں۔ اس عظیم حقیقت اور ہولناک واقعہ کو ذہن میں بٹھانے اور اس کے متعلق انسانی شعور کو بیدار کرنے کی خاطر ایک ایسا اسلوب بیان اختیار کیا گیا جس میں قلب ونظر کی تاروں کو خوب چھیڑا گیا ہے اور انسانی ادراک اور شعور پر اس قدر اثرات ڈالے گئے ہیں کہ انسانی احساس اور شعور اسے قبول کرنے کے لئے بخوبی تیار ہوجاتا ہے وہ قیامت کے حوالے سے حساس اور بیدار ہوجاتا ہے اور اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ بات کی ابتداء ایک زور دار مگر مجمل اور غامض پیراگراف سے ہوتی ہے ، جسے پڑھ کر انسان پر خوف اور تجسس کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ انسان نہایت ہی موثر مترنم اور کپکپادینے والے انداز کلام میں بہتا چلا جاتا ہے۔ یہ آغاز اس قدر رعب دار ، اس قدر اچانک ، اس قدر خوبصورت ہے کہ ایک لمحے کے لئے تو سانس رک جاتی ہے۔ نظریں خیرہ ہوجاتی ہیں۔ ذرا ملاحظہ کیجئے۔ والنزعت ............................ امرا (1:79 تا 5) ” قسم ہے ان کی جو ڈوب کر کھینچتے ہیں اور آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں اور جو تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں ، پھر سبقت کرتے ہیں ، پھر حالات کا انتظام چلاتے ہیں۔ اس غامض ، مجمل اور لرزہ براندام کرنے والے خوفناک آغاز کلام کے بعد اصل موضوع یعنی قیامت کا پہلا منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر کی فضا اور ماحول بھی وہی انداز رکھتا ہے جو اس مطلع کی ہے۔ گویا آغاز کلام اور مطلع اس منظر کا فریم اور کور ہے۔ یوم ترجف ........................................ بالساھرة (6:79 تا 14) ” جس روز ہلامارے گا زلزلے کا جھٹکا اور اس کے پیچھے اور جھٹکا پڑے گا ، کچھ دل ہوں گے ، جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے ، نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی۔ یہ لوگ کہیں گے ” کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے گئے ہیں ؟ جب کہ ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے تھے ؟ “ کہیں گے ” یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہے “۔ حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے “۔ اس لرزادینے والے اور اور دہشت زدہ کردینے والے خوفناک منظر کے بعد اب انسانی تاریخ میں گزرے ہوئے مکذبین کے انجام بد کا ایک منظر۔ یہ قصہ فرعون وکلیم کا نہایت ہی موثر مترنم منظر ہے اور اس میں فضا کی خوفناکی اور دہشت کو ذرا کم کیا گیا ہے تاکہ انداز بیان حکایتی اور بیانیہ شکل و صورت اختیار کرلے۔ ھل اتک ................................ لمن یخشی (15:79 تا 26) “ کیا تمہیں موسیٰ کے قصے کی خبر پہنچی ہے ؟ جب اس کے رب نے اسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا کہ ” فرعون کے پاس جا ، وہ سرکش ہوگیا ہے ، اور اس سے کہہ کیا تو اسکے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟ “ پھر موسیٰ نے (فرعون کے پاس جاکر) اس کو بڑی نشانی دکھائی ، مگر اس نے بھلا دیا اور نہ مانا پھر چال بازیاں کرنے کے لئے پلٹا اور لوگوں کو جمع کرکے اس نے پکارکر کہا ” میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں “۔ آخر کار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔ در حقیقت اس میں بڑی عبرت ہیں۔ ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ یوں اس عظیم حقیقت کے لئے یہ قصہ بھی تمہید قرار پاتا ہے۔ “ اب وادی تاریخ سے نکل کر ہم اس کائنات کے وسیع میدان میں داخل ہوتے ہیں۔ ہمارے سامنے اس کا ئنات کے ہولناک مناظر ہیں۔ یہ مناظر اس بات کے لئے شاہد عادل ہیں کہ اس کے پیچھے ایک دست قدرت اور گہری قوت مدبرہ کام کررہی ہے اور ایک عظیم الٰہ العالمین ہے جس نے اس ناپید کنار کائنات کو پیدا کیا۔ جو اس کے انجام کو کنٹرول کرنے والا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ان مناظر کو نہایت ہی موثر مناظر کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے اور انداز بیان نہایت ہی زور دار ہے اور سورت کا آغاز اور اس کا انجام پر تاثیر انداز گفتگو کے عین مطابق : ءانتم اشد .................................... ولانعامکم (27:79 تا 33) ” کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی ؟ اللہ نے اس کو بتایا ، اس کی چھت خوب اونچی اھائی پھر اس کا توازن قائم کیا ، اور اس کی رات ڈھانکی اور اس کا دن نکالا۔ اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا ، اس کے اندر سے اس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑ دیئے۔ سامان زیست کے طور پر تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے “۔ بات کو ذہن کے قریب کرنے کے لئے یہ تمہیدی باتیں کی گئیں اور یہ دل پر اثرانداز ہونے والے دلائل واشارات دیئے گئے۔ اب وہ مقصد ، ہنگامہ عظیم کا منظر پیش کیا جاتا ہے جو موضوع سورت ہے اور بتایا جاتا ہے کہ لوگوں نے دنیا میں جو رویہ اختیار کیا ، اس کا انجام کیا ہوگا۔ یہ جزاء وسزا تو آخرت میں عملی شکل اختیار کریں۔ گے لیکن ان کی تصویر کشی ایسے انداز میں کی گئی ہے جو قیامت کے ہنگامہ عظیم سے مماثلت رکھتی ہے۔ یوم یتذکر ................................ ھی الماویٰ (34:79 تا 41) ” پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا ، جس روز انسان اپنا سب کیا دھرایاد کرے گا ، اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھی دی جائے گی ، تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی ، دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی۔ اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا ، جنت اس کا ٹھکانا ہوگی “۔ اس ہنگامہ عظیم کے مناظر پیش کرنے سے ذہن انسانی میں جو شعور اور جو وجدان جاگزیں ہوتا ہے ، جہنم دیکھنے والوں کو صاف نظرآتی ہے۔ ان لوگوں کا نجام بھی صاف نظر آتا ہے جنہوں نے دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ اپنے رب سے ارے اور نفس کو خواہشات سے روکا ، ان سب امور کے بعد اب ان لوگوں کو شدید دھمکی دی جاتی ہے جو اس عظیم ہنگامہ خیز حقیقت کی تکذیب کرتے ہیں ، جس کے وقت کے بارے میں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بار بار سوالات کرتے ہیں ، یہ دھمکی ایسے انداز میں ہے کہ اس سے اس عظیم حادثہ کی ضخامت اور عظمت اور خوفناکی ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ یسئلونک .................................... اوضحھا (42:79 تا 46) ” یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ” آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی ؟ “ تمہارا کیا کام کر کہ اس کا وقت بتاﺅ ۔ اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے۔ تم صرف خبردار کرنے والے ہو۔ ہر شخص کو جو اس کا خوف کرے۔ جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (دنیا میں یا حالت موت میں) یہ بس ایک دن کے پچھلے پہریا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں “۔ ان آیات میں ہائے ممد وہ بطور قافیہ لائی گئی ہے یہ انسان کے شعور پر شویل وسیع اثرات چھوڑتی ہے۔ جس سے ایک طرف اس ہنگامہ خیز واقعہ کی عظمت کا اظہار ہوتا ہے اور دوسری طرف اس واقعہ سے انسان اچھی طرح ڈر جاتا ہے۔