Surat un Naziaat
Surah: 79
Verse: 20
سورة النازعات
فَاَرٰىہُ الۡاٰیَۃَ الۡکُبۡرٰی ﴿۲۰﴾۫ ۖ
And he showed him the greatest sign,
پس اسے بڑی نشانی دکھائی ۔
فَاَرٰىہُ الۡاٰیَۃَ الۡکُبۡرٰی ﴿۲۰﴾۫ ۖ
And he showed him the greatest sign,
پس اسے بڑی نشانی دکھائی ۔
Then he showed him the great sign. This means that Musa showed him -- along with this truthful call -- a strong evidence and a clear proof of the truthfulness of what he had come up with from Allah. فَكَذَّبَ وَعَصَى
20۔ 1 یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کئے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔
[١٥] فرعون کا معجزہ کا مطالبہ :۔ اس انتہائی نرم گفتگو کے باوجود اور بات کو سمجھ جانے کے باوجود فرعون اپنے اقتدار اور متکبرانہ روش سے دستبردار ہونے کے لیے قطعاً تیار نہ ہوا اور پوچھنے لگا کہ تم اپنے اس دعویٰ رسالت کی تائید میں اللہ کی طرف سے کوئی نشانی بھی پیش کرسکتے ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سوال کا اثبات میں جواب دیا اور بھرے دربار میں اپنا عصا جو زمین پر پھینکا تو وہ ایک اژدھا بن گیا جس سے فرعون اور سب درباری سخت مرعوب اور دہشت زدہ ہوگئے۔ بالآخر فرعون نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ وہ جلد از جلد اس اژدھا کو سنبھال لیں۔ چناچہ آپ نے آگے بڑھ کر اسے پکڑ لیا تو وہ پھر سے وہی پہلے والاعصا بن گیا۔
فارہ الایۃ الکبریٰ : بڑی نشانی سے مراد لاٹھی کا سانپ بن جانا ہے۔ ” الایۃ “ کو واحد کے بجائے جنس مان لیں تو عصائے موسیٰ اور ید بیضا دونوں مراد ہوسکتے ہیں، بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کئے جانے والے ” تسع آیات بینات “ (٩ معجزے ) بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (١٠١) ۔
فَاَرٰىہُ الْاٰيَۃَ الْكُبْرٰى ٢٠ۡ ۖ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ كبير الْكَبِيرُ والصّغير من الأسماء المتضایفة التي تقال عند اعتبار بعضها ببعض، فالشیء قد يكون صغیرا في جنب شيء، وكبيرا في جنب غيره، ويستعملان في الكمّيّة المتّصلة كالأجسام، وذلک کالکثير والقلیل، وفي الكمّيّة المنفصلة کالعدد، وربما يتعاقب الکثير والکبير علی شيء واحد بنظرین مختلفین نحو : قُلْ فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ [ البقرة/ 219] و : كثير «1» قرئ بهما . وأصل ذلک أن يستعمل في الأعيان، ثم استعیر للمعاني نحو قوله : لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصاها[ الكهف/ 49] ، وقوله : وَلا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْبَرَ [ سبأ/ 3] ، وقوله : يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ [ التوبة/ 3] إنما وصفه بالأكبر تنبيها أنّ العمرة هي الحجّة الصّغری كما قال صلّى اللہ عليه وسلم : «العمرة هي الحجّ الأصغر» فمن ذلک ما اعتبر فيه الزمان، ( ک ب ر ) کبیر اور صغیر اسمائے اضافیہ سے ہیں ۔ جن کے معانی ایک دوسرے کے لحاظ سے متعین ہوتے ہیں ۔ چناچہ ایک ہی چیز دوسری کے مقابلہ میں صغیر ہوتی ہے لیکن وہ شئے ایک اور کے مقابلہ میں کبیر کہلاتی ہے ۔ اور قلیل وکثٰیر کی طرح کبھی تو ان کا استعمال کمیت متصلہ یعنی اجسام میں ہوتا ہے ۔ اور کبھی کمیۃ منفصلہ یعنی عدد ہیں ۔ اور بعض اوقات کثیر اور کبیر دو مختلف جہتوں کے لحاظ سے ایک ہی چیز پر بولے جاتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : قُلْ فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ [ البقرة/ 219] کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں ۔ کہ اس میں ایک قرآت کثیر بھی ہے ۔ یہ اصل وضع کے لحاظ سے تو اعیان میں ہی استعمال ہوتے ہیں ۔ لیکن استعارہ کے طور پر معانی پر بھی بولے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصاها[ الكهف/ 49] کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے ۔ اور نہ بڑی کو ( کوئی بات بھی نہیں ) مگر اسے گن رکھا ہے ۔ وَلا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْبَرَ [ سبأ/ 3] اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ [ التوبة/ 3] اور حج اکبر کے دن ۔۔۔ میں حج کو اکبر کہہ کر متنبہ کیا ہے کہ عمرۃ حج اصغر ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے ؛العمرۃ ھہ الحج الاصغر ۔ کہ عمرہ حج اصغر ہے ۔ اور کبھی بڑائی بلحاظ زمانہ مراد ہوتی ہے چناچہ محاورہ ہے ۔
آیت ٢٠{ فَاَرٰٹہُ الْاٰیَۃَ الْکُبْرٰی ۔ } ” تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو دکھائی بہت بڑی نشانی۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی رسالت کے بارے میں بھی بتایا ‘ اللہ تعالیٰ کا پیغام بھی اس تک پہنچایا اور عصا کے اژدھا بن جانے والا معجزہ بھی اسے دکھا دیا۔
9 "The great Sign" : the turning of the staff into a serpent, as has been mentioned at several places in the Qur'an. Obviously there could be no greater sign than that a lifeless staff should turn into a living serpent right in front of the eyes of the people, that it should devour the artificial serpents produced by the magicians out of their staffs and cords, and vKhen the Prophet Moses should pick it up, it should become a walking stick again. This was proof that it was Allah, Lord of the worlds, Who had sent Moses as a Prophet.
سورة النّٰزِعٰت حاشیہ نمبر :9 بڑی نشانی سے مراد عصا کا اژدہا بن جانا ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کیا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نشانی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک بیجان لاٹھی سب دیکھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے علانیہ اژدہا بن جائے جادوگر اس کے مقابلے میں لاٹھیوں اور رسیوں کے جو مصنوعی اژدھے بنا کر دکھائیں ان سب کو وہ نگل جائے ، اور پھر حضرت موسی جب اس کو پکڑ کر اٹھا لیں تو وہ پھر لاٹھی بن کر رہ جائے ۔ یہ اس بات کی صریح علامت تھی کہ وہ اللہ رب العالمین ہی ہے جس کی طرف سے حضرت موسی بھیجے گئے ہیں ۔
7: یعنی یہ معجزہ دِکھایا کہ ان کی لاٹھی سانپ بن گئی، اور اُن کا ہاتھ چمکنے لگا (دیکھئے سورۃ طہٰ ۲۰:۱۷ تا ۲۲)
(79:20) فارہ الایۃ الکبری : فارہ ف کا عطف محذوف پر ہے ای فذھب وبلغ فارہ الایۃ الکبری۔ (بیضاوی) حضرت موسیٰ گئے اور فرعون کے پاس پہنچے اور اس کو بڑی نشانی دکھائی ۔ اری، اراء ۃ (افعال) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اس نے اس کو دکھلایا۔ الایۃ الکبری صفت موصوف مل کر مفعول ثانی اری کا۔ بڑی نشانی وہی قلب العصاء حیۃ فانہ کان المقدم والاصل (بیضاوی) اور یہ عصا کا سانپ کی شکل میں تبدیل ہوجانا ہے اور یہ ہی پہلا اور اصل معجزہ تھا۔ یا الایۃ الکبری سے مراد ہیں معجزات۔ لیکن تمام معجزات چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت ظاہر کرنے میں ایک ہی معجزہ کی طرح تھے۔ اس لئے بصیغہ واحد ذکر کیا گیا ہے۔ (تفسیر مظہری، بیضاوی)
ف 11 یعنی اس کے بندوں پر ظلم کرنے سے بازآئے۔12 یعنی ایسی تدبیریں سوچنے لگا جن سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو زک دے سکے اور لوگوں کو ان کی آواز پر کان دھرنے سے باز رکھ سکے۔
فارہ ................ وعصی (21:79) ” پھر موسیٰ نے اس کو بڑی نشانی دکھائی ، مگر اس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا “۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ بات پہنچادی جو پہنچائی تھی۔ اور اسی انداز میں اور اسی اسلوب میں پہنچادی جس میں ان کے رب نے ان کو حکم دیا تھا لیکن اس قسی القلب اور سرکش آدمی کے ہاں یہ اسلوب ، کامیاب نہ ہوا کیونکہ مرد نادان پر کلام نرم ونازک بےاثر ہوا کرتا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عظیم معجزات پیش کیے ، عصا پیش کیا اور یدبیضا پیش کیا ، جیسا کہ دوسری سورتوں میں تفصیلات آتی ہیں۔ تو اس نے ” جھٹلایا اور نہ مانا “ یوں اختصار کے ساتھ یہ منظر تکذیب اور معصیت پر ختم ہوتا ہے۔ اب اسی اختصار کے ساتھ ایک دوسرا منظرسامنے آتا ہے۔ فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی جگہ ہی چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ اور سحر اور سچائی کا مقابلہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا کبروغرور یہ کس طرح گوارا کرسکتا ہے کہ وہ راہ ہدایت پر آجائے اور حق کو قبول کرے۔
9:۔ ” فاراہ الایۃ الکبری “۔ مراد تمام آیات و معجزات ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تمام معجزات کا اس کو مشاہدہ کرایا مگر اس کے باوجود اس نے جھٹلایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نافرمانی کی۔ ” ثم ادبر یسعی ” ہدایت سے اعراض کیا اور زمین میں شر و فساد پھیلانے کی کوشش کرتا رہا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے دعوت توحید کے مقابلے میں اس نے اپنی رعیت کو جمع کیا اور ان میں اعلان کیا کہ میں تمہار اسب سے بڑا رب ہوں مجھ سے بڑا کوئی نہیں، اس لیے تم موسیٰ کی باتوں کی طرف توجہ نہ کرنا۔ ” فاخذہ اللہ “ ’ نکال ‘ منصوب بنزع خافض ہے ای بنکال الاخرۃ (قرطبی) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا اور آخرت کی سزا میں پکڑ لیا۔ دنیا میں اس کو غرق کر کے ہلاک کیا اور آخرت میں اس کو جہنم میں داخل کیا جائیگا دنیوی عذاب میں تو بالفعل پکڑ لیا اور اخروی عذاب کا بھی فیصلہ فرما دیا جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ اَدْخِلُوْا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَاب “ (سورۃ مومن رکوع 5) ۔