Surat un Naziaat
Surah: 79
Verse: 33
سورة النازعات
مَتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِاَنۡعَامِکُمۡ ﴿ؕ۳۳﴾
As provision for you and your grazing livestock.
یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے ( ہیں )
مَتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِاَنۡعَامِکُمۡ ﴿ؕ۳۳﴾
As provision for you and your grazing livestock.
یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے ( ہیں )
As provision and benefit for you and your cattle. meaning, He spread out the earth, caused its springs to gush forth, brought forth its hidden benefits, caused its rivers to flow, and caused its vegetation, trees, and fruits to grow. He also made its mountains firm so that it (the earth) would be calmly settled with its dwellers, and He stabilized its dwelling places. All of this is a means of beneficial enjoyment for His creatures (mankind) providing them of what cattle they need, which they eat and ride upon. He has granted them these beneficial things for the period that they need them, in this worldly abode, until the end of time and the expiration of this life.
[٢٣] پہاڑوں کے فوائد کا ذکر قرآن میں بہت سے مقامات پر مذکور ہوا ہے۔ یہاں سورج اور پہاڑوں کا ذکر اس مناسبت سے ہے کہ بارش کے نزول میں یہ دونوں چیزیں اسباب ہیں۔ سورج کی حرارت سے سطح سمندر کے آبی بخارات اٹھتے ہیں جو پہاڑوں سے ٹکرا کر اور ٹھنڈے ہو کر برسنے لگتے ہیں۔ اسی بارش سے نباتات اور چارہ اور غلے پیدا ہوتے ہیں۔ غلے انسانوں کی غذا کے کام آتے ہیں اور گھاس اور چارہ ہمارے مویشیوں کی غذا کا کام دیتا ہے۔
مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ ٣٣ ۭ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ نعم ( جانور) [ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وقوله : فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] فَالْأَنْعَامُ هاهنا عامٌّ في الإبل وغیرها . ( ن ع م ) نعام النعم کا لفظ خاص کر اونٹوں پر بولا جاتا ہے اور اونٹوں کو نعم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ عرب کے لئے سب سے بڑی نعمت تھے اس کی جمع انعام آتی ہے لیکن انعام کا لفظ بھیڑ بکری اونٹ اور گائے سب پر بولا جاتا ہے مگر ان جانوروں پر انعام کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے ۔ جب اونٹ بھی ان میں شامل ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] اور تمہارے لئے کشتیاں اور چار پائے بنائے ۔ وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] اور چار پایوں میں بوجھ اٹھا نے والے ( یعنی بڑے بڑے بھی ) پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے ( یعنی چھوٹے چھوٹے بھی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں ۔ مل کر نکلا ۔ میں انعام کا لفظ عام ہے جو تمام جانوروں کو شامل ہے ۔
18 In these verses arguments have been given for the Resurrection and life after death from two aspects: first, that it is not at all difficult to establish these for the power of that God Who has made this vast and huge universe with such wonderful balance and this earth with such provisions. Second, that the pointers to the perfect wisdom of Allah which are clearly visible in the universe and the earth, point out that nothing is happening here purposelessly. The balance that exists between countless of the stars and planets and galaxies in the heavens testifies that all this has not happened haphazardly but there is a well thought-out plan working behind it. The regular alternation of the night and day is an evidence that this system has been established with supreme wisdom and knowledge for making the earth a home and place of settlement. On this very earth are found regions where the alternation of the night and day takes place within 24 hours and also those regions where there are longer days and longer nights. A very large part of the earth's population lives in the first kind of the regions. Then as the days and nights go on becoming longer and longer, life goes on becoming harder and harder and population thinner and thinner. So much so that the regions where there are six-month-long days and six-month-long nights, are not at all fit for human settlement. Arranging both these types of the land on this very earth Allah has provided the evidence that this regular order of the alternation of night and day has not come about accidentally but has been brought about with great wisdom precisely in accordance with a scheme to make the earth a place fit for human settlement. Likewise, spreading out the earth so that it becomes a fit place to live in, providing in it that water which should be palatable for man and animal and a cause of growth for vegetation, setting in it mountains and creating all those things which may become a means of life for both man and animal- all these are a manifest sign that they are not chance happenings of the purposeless works of a care-free person but each one of these has been arranged purposefully by a Supreme, Wise Being. Now every sensible and intelligent man can consider for himself whether the necessity and occurrence of the Hereafter is the requirement of wisdom or its negation. The person who in spite of seeing all this says that there is no Hereafter, in fact, says that everything in the universe is happening wisely and purposefully, but only the creation of man on the earth as a being endowed with sense and power is meaningless and foolish. For there could be nothing more purposeless than delegating to man vast powers of appropriation in the earth and providing him an opportunity to do good as well as evil deeds but then failing to ever subject him to accountability.
سورة النّٰزِعٰت حاشیہ نمبر :18 ان آیات میں قیامت اور حیات بعد الموت کے لیے دو حیثیتوں سے استدلال کیا گیا ہے ۔ ایک یہ کہ اس خدا کی قدرت سے ان کا برپا کرنا ہرگز بعید نہیں ہے جس نے یہ وسیع و عظیم کائنات اس حیرت انگیز توازن کے ساتھ اور یہ زمین اس سرد سامان کے ساتھ بنائی ہے ۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے مال حکمت کے جو آثار اس کائنات اور اس زمین میں صریحا نظر آرہے ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہاں کوئی کام بے مقصد نہیں ہو رہا ہے ۔ عالم بالا میں بے شمار ستاروں اور سیاروں اور کہکشانوں کے درمیان جو توازن قائم ہے وہ شہادت دے رہا ہے کہ یہ سب کچھ الل ٹپ نہیں ہو گیا ہے بلکہ کوئی بہت سوچا سمجھا منصوبہ اس کے پیچھے کار فرما ہے ۔ یہ رات اور دن کا باقاعدگی سے آنا اس بات پر گواہ ہے کہ زمین کو آباد کرنے کے لیے یہ نظم کمال درجہ دانائی کے ساتھ قائم کیا گیا ہے ۔ خود اسی زمین پر وہ خطے بھی موجود ہیں جہاں 24 گھنٹے کے اندر دن اور رات کا الٹ پھیر ہو جاتا ہے اور وہ خطے بھی موجود ہیں جہاں بہت لمبے دن اور بہت لمبی راتیں ہوتی ہیں ۔ زمین کی آبادی کا بہت بڑا حصہ پہلی قسم کے خطوں میں ہے ۔ اور جہاں رات اور دن جتنے زیادہ لمبے ہوتے جاتے ہیں وہاں زندگی زیادہ سے زیادہ دشوار اور آبادی کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے ، یہاں تک کہ 6 مہینے کے دن اور 6 مہینے کی راتیں رکھنے والے علاقے آبادی کے بالکل قابل نہیں ہیں ۔ یہ دونوں نمونے اسی زمین پر دکھا کر اللہ تعالی نے اس حقیقت کی شہادت پیش کر دی ہے کہ رات اور دن کی آمدو رفت کا یہ باقاعدہ انتظام کچھ اتفاقاً نہیں ہو گیا ہے بلکہ یہ زمین کو آبادی کے قابل بنانے کے لیے بڑی حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ایک اندازے کے مطابق کیا گیا ہے ، اسی طرح زمین کو اس طرح بچھانا کہ وہ قابل سکونت بن سکے ، اس میں پانی پیدا کرنا جو انسان اور حیوان کے لیے پینے کے قابل اور نباتات کے لیے روئیدگی کے قابل ہو ، اس میں پہاڑوں کا جمانا اور وہ تمام چیزیں پیدا کرنا جو انسان اور ہر قسم کے حیوانات کے لیے زندگی بسر کرنے کا ذریعہ بن سکیں ۔ یہ سارے کام اس بات کی صریح علامت ہیں کہ یہ آفاقی حوادث یا کسی کھلنڈرے کے لیے بے مقصد کام نہیں ہیں ، بلکہ ان میں سے ہر کام ایک بہت بڑی حکیم و دانا ہستی نے بامقصد کیا ہے ۔ اب یہ ہر صاحب عقل آدمی کےخود سوچنے کی بات ہے کہ آیا آخرت کا ہونا حکمت کا تقاضا ہے یا نہ ہونا ؟ جو شخص ان ساری چیزوں کو دیکھنے کے باوجود یہ کہتا ہے کہ آخرت نہیں ہو گی وہ گویا یہ کہتا ہے کہ یہاں اور سب کچھ تو حکمت اور مقصدیت کے ساتھ ہو رہا ہے ، مگر زمین پر انسان کو ذی ہوش اور بااختیار بنا کر پیدا کرنا بے مقصد اور بے حکمت ہے ۔ کیونکہ اس سے بڑی کوئی بےمقصد اور بے حکمت بات نہیں ہو سکتی کہ اس زمین میں تصرف کے وسیع اختیارات دے کر انسان کو یہاں ہر طرح کے اچھے اور برے کام کرنے کا موقع تو دے دیا جائے مگر کبھی اس کا محاسبہ نہ کیا جائے ۔
قرآن کریم اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ یہ سب نظام تمہاری خاطر کیا گیا۔ متاعا ................ لانعامکم (33:79) ” سامان زیست کے طور پر تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے “۔ اس سے دو باتوں کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ ایک یہ کہ اللہ نے اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے عظیم الشان تدابیر اختیار کی ہیں اور دوسرا یہ کہ اس نظام کے اندر ہر چیز ایک طے شدہ فارمولے کے مطابق نہایت صحیح اندازے سے بنائی گئی ہے۔ آسمانوں کو موجودہ شکل دینا ، زمین کو اس شکل و صورت میں تیار کرنا ، اور موجودہ نظام اتفاقاً پیدا نہیں ہوگیا۔ بلکہ پہلے سے مقدر اور مرتب تھا۔ اور اس کی ایک ایک چیز کو ایک حساب اور ایک اندازے سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی مقصد کو سامنے رکھ کر پیدا کیا گیا ہے کہ اس زمین پر حضرت انسان نے آکر بسنا ہے۔ اس کا وجود ، اس کی نشوونما ، اور اس کی ترقی کے لئے یہاں بیشمار سازگار حالات پیدا کیے گئے ہیں اور ان کو اس نظام کے بنیادی ڈھانچے اور نقشے کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ پورا نظام شمسی اس طرح بنایا گیا ہے اور اس زمین کے اندر تہ یہ امور علی الخصوص ملحوظ ہیں۔ قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ اصل حقائق کی طرف ایک مجمل اشارات کرتا ہے ، جن میں اصل بات اور حقیقت بھی آجاتی ہے اور ایک عام سے عام آدمی بھی قرآنی مفہوم کو پالیتا ہے۔ یہاں قرآن کریم نے جن سہولیات اور سازگار چیزوں کی طرف اشارہ کیا وہ آسمانوں کی تخلیق وتعمیر ، رات کا چھانا اور پرسکون ماحول ، دن کا ظہور ، اور دوڑ دھوپ ، زمین کا بچھانا اور سازگار بنانا ، پانی کا بہانا اور نباتات کا اگانا اور پہاڑوں کا جمانا اور انسانوں اور حیوانوں کے لئے سامان زیست فراہم کرنا ، ان اشارات سے ایک طرف تو اللہ کی تدبیر کی حکمت اور تخلیق کا حکیمانہ نظام نظر آتا ہے اور یہ حقائق وہ مظاہر ہیں جن کو ہر شخص دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ہر سطح اور ہر معاشرے کا انسان ان کو سمجھتا ہے۔ اور ان کے سمجھنے کے لئے کسی بڑے درجہ علم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ بس ایک انسان ہو ، جہاں بھی ہو ، جس زمانے میں ہو ، وہ ان اشارات کو سمجھتا ہے۔ لیکن اس عمومی سطح کے پس پشت اور گہرائی کے ساتھ اگر غور کیا جائے تو اس سطح کے نیچے عظیم حقائق ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ اس کائنات کی تخلیق کے منصوبے میں گہری منصوبہ بندی ہے ، اور اس کا نظام محض بخت واتفاق پر نہیں چل رہا ہے۔ اس کائنات کی حقیقت اس بات کی نفی کرتی ہے۔ کیونکہ محض اتفاقاً اس قدر حکیمانہ فارمولا بن جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ جو عجیب و غریب ہے اور جو نہایت حکیمانہ ہے۔ جس کہکشاں میں ہم رہتے ہیں جسے شمسی کہکشاں کہا جاتا ہے ، ہماری زمین اس کہکشاں کا ایک سیارہ ہے۔ اس کی تنظیم اور اس کا نظام گردش ایک عجیب نظام ہے جو اس جیسی کروڑوں کہکشانوں میں نہیں ہے۔ پھر یہزمین تو تمام سیاروں میں سے ایک منفرد انداز کا سیارہ ہے ، سورج سے اس کا فاصلہ ، اس کے فضائی حالات اور اس کی گردش ایسے ہیں کہ اسے انسانی زندگی کے اہل بناتے ہیں۔ آج تک انسان نے اس وسیع و عریض کائنات میں کوئی دوسرا سیارہ معلوم نہیں کیا جس میں ایسی ہی زندگی ہو ، اور جس کے اندر ہزاروں لاکھوں ایسے عوامل ہیں جو انسانی زندگی کے ممدود ومعاون ہوں۔ ” اس لئے کہ اسباب حیات ایک ایسے سیارے میں فراہم ہوتے ہیں جس کا حجم مناسب ہو ، جو سورج سے ایک مناسب دوری پر ہو۔ اور اس کے عناصر کی ترکیب ایسی ہو جس کے اندر زندہ حرکت میں آسکے “۔ ” سازگار حجم کا مناسب ہونا اس لئے ضروری ہے کیونکہ کسی سیارے کے اردگرد کی فضا کا دارومدار اس پر ہوتا ہے کہ اس سیارے کا حجم کتنا ہے اور اس میں جاذبیت کی قوت کس قدر ہے “۔ ” اور معتدل دوری اس لئے ضروری ہے کہ جو سیارے سورج کے زیادہ قریب ہیں۔ وہ اس قدر گرم ہوتے ہیں کہ ان میں اجسام کے اجزاء اپنی جگہ نہیں ٹھہر سکتے اور جو سیارے سورج سے بہت دور ہوتے ہیں وہ اس قدر سرد اور ٹھوس ہوتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی جسم پھل پھول نہیں سکتا “۔ ” پھر کسی سیارے کی ترکیب ایسے عناصر سے ہونا ضروری ہے جس کے اندر زندگی ممکن ہو اور پھل پھول سکے ، کیونکہ نباتات کے لئے اور حیوانات کے لئے وہ عناصر ضروری ہیں جو اس زمین میں رکھے گئے ہیں “۔ ” پھر زمین کو سورج سے اس قدر دور رکھا گیا ہے کہ اگر اس کا فاصلہ ذرا کم وبیش ہوجائے تو اس پر زندگی ممکن ہی نہ ہو۔ اور اس کی تفصیلات ہم اب اچھی طرح جانتے ہیں۔ آج تک ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس زمین کے علاوہ اور بھی کوئی سیارہ کسی سورج کے گرد ایسا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے افکار ، استاد عقاد ، ص 32) ۔ یہ حقائق کہ یہ کائنات ایک خاص نظم ، تدبیر اور منصوبے کے مطابق بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان کی ایک مخصوص حیثیت ہے۔ انسان کو اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے آمادہ کرتے ہیں کہ قیام قیامت ایک حقیقت ہے اور ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ انسان سے حساب و کتاب لیا جائے گا اور اس کے اعمال پر اسے جزاء وسزا دی جائے گی۔ اگر اس کائنات اور اس میں انسانی زندگی کی تخلیق ایک حکیمانہ انداز کے مطابق ہے تو پھر لازماً انسان اس نتیجے تک پہنچے گا کہ ایک دن اس زندگی کا خاتمہ ہوگا اور انسان اپنے اعمال کی جزاء وسزا سے دوچار ہوگا۔ یہ بات انتہائی غیر معقول ، اور غیر منصفانہ ہوگی اس زندگی کا خاتمہ ایسا ہی ہو کہ ظالم ، بدکار سزا پانے سے بچ جائیں اور مظلوم دنیا میں مشکلات جھیلنے کے بعد یونہی ختم کردیئے جائیں۔ اس قسم کے عقائد ونظریات اس حکمت ، اس منصوبہ بندی اور اس تدبیر کے خلاف ہیں جو اس کائنات کی تخلیق اور تعمیر میں عیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان حقائق کے بعد اب سورت کے مرکزی مضمون یعنی قیام قیامت کو لیا جاتا ہے یعنی وہ ہنگامہ عظیم جو برپا ہوگا اور پھر اس جہاں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس سے قبل ذہنوں کو اس عقیدے کے قبول کرنے کے لئے تیار کرلیا گیا تھا۔ ذہن قبولیت کے لئے تیار تھا۔ لہٰذا یہ ذکر نہایت ہی مناسب وقت میں ہوا۔
(33) یہ سب کچھ تمہارے اور تمہارے مواشی کے فائدے کے لئے کیا یعنی آسمان میں جو قدرت نمایا ہے اس کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے آسمان کے ساتھ زمین کا ذکر بھی فرمایا کہ اس کے عجائبات روز آنکھوں سے دیکھنے میں آتے ہیں آسمان کے بعدہم نے اس کو پھیلا دیا یعنی اگرچہ زمین کا وجود پہلے قائم ہوا لیکن اس کا پھیلائو آسمانوں کے بعد ہوا۔ سورہ فصلت میں ہم تفصیل عرض کرچکے ہیں اور کچھ تفصیل سورة بقرہ کی تسہیل میں گزر چکی ہے زمین کو پھیلا دیا زمین سے پانی نکالا اور چارہ نکالا اور اس پر پہاڑوں کو جما دیا کہ زمین کا ہلنا جلنا بند ہوگیا اس کے علاوہ اور بھی پہاڑوں سے بیشمار فوائد وابستہ ہیں پانی کو جمع کرنے اور بخارات کو دبانے میں پہاڑوں کو بڑا دخل ہے زمین سے جو پانی اور نباتات نکلتی ہے وہ انسانوں کے لئے اور مواشی کے لئے انتہائی سود مند ہے مواشی کے لئے بھی کھانا اور انسانوں کے لئے بھی سامان معیشت ان آسمانوں اور زمینوں میں جو عجائبات قدرت پنہاں ہیں کیا ان کے مقابلہ میں انسان کو دوبارہ پیدا کردینا کچھ زیادہ مشکل ہے ان دلائل کے بعد قیامت کا ذکر فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سو رہ فصلت یعنی سجدہ میں آسمان کے پیچھے کہا یہاں زمین کو پیچھے سو یہاں آسمان کا بنانا ہے اونچا اور رات دن ٹھہرانا یہ شاید زمین سے پہلے ہو وہاں ان کو سات کرنا بانٹ کر پھر ہر ایک میں جدا دستور چلانا وہ شاید زمین سے پیچھے ہو۔