Surat un Naziaat

Surah: 79

Verse: 6

سورة النازعات

یَوۡمَ تَرۡجُفُ الرَّاجِفَۃُ ۙ﴿۶﴾

On the Day the blast [of the Horn] will convulse [creation],

جس دن کاپنے والی کانپے گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 یہ نفخئہ اولیٰ ہے جسے نفخئہ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہوجائے گی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] مذکورہ بالا پانچ قسم کے فرشتوں اور ان کے کارناموں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ پر روز آخرت کے قیام پر حجت قائم فرمائی کہ جو فرشتے تمہاری رگ رگ سے روح نکال کر تمہیں موت سے دوچار کرتے ہیں اور تمہاری روح کو اپنے قبضہ میں لے لیتے ہیں وہ کسی وقت یہی روح تمہارے جسم میں داخل بھی کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کفار مکہ فرشتوں کی ہستی اور ان کے کارناموں کے قائل تھے۔ ان کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے۔ فلہٰذا انہیں بھی تدبیر امور کائنات میں اللہ کا شریک سمجھتے تھے۔ اگرچہ مختار کل اللہ ہی کو سمجھتے تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے فرشتے نہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نہ اللہ کے شریک، بلکہ وہ اللہ کی مخلوق اور اس کے فرمانبردار بندے ہیں اور وہ اللہ کے حکم سے سرتابی کر ہی نہیں سکتے۔ تدبیر امور میں ان کے لیے اپنے اختیار کو ذرہ بھر بھی عمل دخل نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یوم ترجف الراجفتہ …: قاموس میں ہے :” رجف حرک و تجرک واضطرب شدیداً “ یعنی ” رجف “ کا معنی سخت حرکت کرنا اور حرکت دینا دونوں آتے ہیں۔ یہاں حرکت دینا زیادہ مناسب ہے۔ ” الراجقہ “ سے مراد پہلی دفعہ صور میں پھونکے جانے سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ ” الرادفۃ “ سے مراد دوسرے نفخہ سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے تمام لوگ زندہ ہو کر از سر نو قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سورة زمر (٦٨) میں بھی انہی دونوں نفخوں کا ذکر ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ۝ ٦ ۙ رجف الرَّجْفُ : الاضطراب الشدید، يقال : رَجَفَتِ الأرض ورَجَفَ البحر، وبحر رَجَّافٌ. قال تعالی: يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ [ النازعات/ 6] ، يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبالُ [ المزمل/ 14] ، فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ [ الأعراف/ 78] ، والإِرْجَافُ : إيقاع الرّجفة، إمّا بالفعل، وإمّا بالقول، قال تعالی: وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ ويقال : الْأَرَاجِيفُ ملاقیح الفتن . ( ر ج ف ) الرجف ( ن ) اضطراب شدید کو کہتے ہیں اور رَجَفَتِ الأرض ورَجَفَ البحر کے معنی زمین یا سمندر میں زلزلہ آنا کے ہیں ۔ بحر رَجَّافٌ : متلاطم سمندر ۔ قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبالُ [ المزمل/ 14] جب کہ زمین اور پہاڑ ہلنے لگیں گے ۔ يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ [ النازعات/ 6] جب کہ زمین لرز جائے گی فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ [ الأعراف/ 78] پس ان کو زلزلہ نے پالیا ۔ الارجاف ( افعال ) کوئی جھوٹی افواہ پھیلا کر یا کسی کام کے ذریعہ اضطراب پھیلانا کے ہیں قران میں ہے : ۔ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَة اور جو لوگ مدینے میں جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں ۔ مثل مشہور ہے الْأَرَاجِيفُ ملاقیح الفتن . کہ جھوٹی افوا ہیں فتنوں کی جڑ ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦۔ ١٠) ان تمام چیزوں کی قسمیں کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دونوں مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ چناچہ فرما رہے ہیں کہ جس دن ہلا دینے والی چیز ہر ایک چیز کو ہلا دے گی یعنی نفخہ اولی ہوگا اور پھر اس کے بعد نفخہ ثانیہ ہوگا۔ قیامت کے دن دل خوف زدہ ہوں گے اور ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی مگر یہ مکہ کے کافر کہتے ہیں کیا ہم دنیاوی حالت کی طرف پھر واپس ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ { یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ ۔ } ” جس دن کانپے گی کانپنے والی۔ “ یعنی قیامت کے دن شدید زلزلے کی وجہ سے پوری زمین لرز اٹھے گی۔ قیامت کے زلزلے اور اس دن کی ہولناک کیفیات کا ذکر قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے ۔ سورة الحج کی ابتدائی آیات کا یہ انداز بہت عبرت آموز ہے : { یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّـکُمْج اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ - یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰـکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ ۔ } ” اے لوگو ! تقویٰ اختیار کروا پنے رب کا ‘ یقینا قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہوگا۔ جس دن تم اس کو دیکھو گے ‘ اس دن (حال یہ ہوگا کہ) بھول جائے گی ہر دودھ پلانے والی جسے وہ دودھ پلاتی تھی اور (دہشت کا عالم یہ ہوگا کہ) ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا اور تم دیکھو گے لوگوں کو جیسے وہ نشے میں ہوں ‘ حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے ‘ بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: اس سے مراد پہلا صور ہے۔ جب وہ پھونکا جائے گا تو ہر جان دار کو موت آجائے گی، اور پوری کائنات زیر و زبر ہوجائے گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦۔ ١٤۔ اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقین ہوتی ہے۔ راجفۃ سخت آواز کو کہتے ہیں یہاں مراد اس سے پہلا صور ہے رادفۃ وہ چیز ہے جو پہلی چیز کے بعد آئے یہاں اس سے مراد دوسرا صور ہے جو پہلے صور کے بعد پھونکا جائے گا۔ واجفۃ کے معنی خوف زدہ کے ہیں۔ حافرہ کے معنی قبر کے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر کہتے تھے کہ جب قبر میں بدن گل سڑ گیا اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں تو پھر کیا دوبارہ جی سکتے ہیں اور اگلے پچھلے سب جئے تو ایک ایک چیز کے ہزاروں مدعی بنیں گے۔ یہ کیونکر ہوسکتا ہے یہ سب باتیں ان کی مسخرا پن کے طور پر تھیں اس لئے جھڑکی دے کر اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کے جواب میں فرمایا کہ جب دوبارہ جینے کا وقت آئے گا تو دوسرے صور کی ایک ہی آواز سے یہ سب قبروں سے اٹھ کر محشر کے میدان میں آن کھڑے ہوں گے۔ زجرۃ واحدۃ سے مراد دوسرے صور کی آواز ہے زجر کے معنی جھڑکنے کے ہیں منکرین حشر کی مسخرا پن کی باتوں کے جواب میں اس جھڑکی کے لفظ کو دوسرے صور کی آواز کے معنوں میں استعمال فرمایا ہے۔ ساھرہ کے معنی میدان کے ہیں یہ میدان اس نئی زمین کا ہے جس پر حشر برپا ہوگا اس میں کوئی پہاڑ یا ٹیلہ نہ ہوگا صرف میدان ہی ہوگا اس نئی زمین کا صحیح ١ ؎ حدیثوں میں ذکر آیا ہے۔ ١ ؎ صحیح بخاری باب یقیض اللہ الارض ص ٩٦٥ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(79:6) یوم ترجف الراجفۃ : یوم منصوب ہے ظرف زمان ہے اور قسم کے جواب محذوف سے متعلق ہے۔ ترجف مضارع واحد مؤنث غائب رجف (باب نصر) مصدر سے بمعنی وہ لرزے گی۔ وہ کانپے گی۔ الراجفۃ رجف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ جب تھر تھرانے والی تھرتھرائے گی۔ علامہ آلوسی (رح) روح المعانی میں لکھتے ہیں :۔ راجفۃ سے مراد تمام وہ چیزیں ہیں جو ساکن ہیں۔ اور وہ اس وقت زور زور سے کانپنے اور لرزنے لگیں گی۔ جیسے زمین، پہاڑ، وغیرہ۔ یعنی نفخہ اولیٰ ہوگا اور نظام کائنات کے درہم برہم ہونے کا حکم صادر ہوگا۔ تو یوں محسوس ہوگا کہ زبردست زلزلہ کے جھٹکوں سے زمین۔ پہاڑ، قلعے۔ مکان اور درخت سب کے سب لرزنے لگیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی پہلی مرتبہ صورپھونکنا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” یعنی زمین کو بھونچال چلاجاوے۔ (موضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : موت کے بعد پہلا مرحلہ۔ پانچ قسمیں اٹھا کر ہر شخص کو یہ حقیقت یاد کروائی گئی ہے کہ نیک ہو یا بد اس نے موت کے مشکل ترین لمحات سے گزرنا ہے اور موت کے بعد ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب زمین کا چپہ چپہ کانپنے لگے گا کیونکہ اسے پے در پے جھٹکے لگیں گے اس طرح پوری زمین ہلا کر رکھ دی جائے گی یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس دن لوگوں کے دل دہل جائیں گے اور ہر شخص یوں محسوس کرے گا جیسے اس کا کلیجہ منہ میں آکر پھنس گیا ہے۔ آنکھیں ڈری ڈری اور جھکی ہوں گی، چاہیے تو یہ کہ کافر قیامت پر ایمان لاتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم قبروں سے نکل کر پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے ؟ حالانکہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہو کر مٹی کے ساتھ مٹی بن چکی ہوں گی یہ تو بڑے گھاٹے کا معاملہ ہوگا۔ قرآن مجید نے کئی بار بتلایا ہے کہ جو لوگ قیامت کے دن کا انکار کرتے ہیں وہ نقصان میں ہوں گے۔ کفار اس بات کو بھی مذاق کا نشانہ بناتے اور کہتے تھے کہ ہاں ہاں پھر ہم بڑے گھاٹے میں ہوں گے ! حالت یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت پر ایمان رکھنے کے باوجود ہمارے مقابلے میں کنگال ہیں یہ اس دن فائدے میں ہوں گے اور ہم گھاٹے میں ہوں گے یہ کیسے ہوگا ؟ اہل ایمان کو مذاق اس طرح کفار کرتے تھے۔ انہیں کہا جا رہا ہے کہ آج قیامت کو مذاق سمجھتے ہو لیکن وہ دن ہر حال میں آنے والا ہے جس دن ایک زور دار آواز ہوگی قرآن مجید نے اسے ایک زلزلہ اور دھماکہ بھی کہا ہے۔ جوں ہی اسرافیل دوسری مرتبہ صور پھونکے گا تو اس کی آواز میں اتنی گرج اور کشش ہوگی کہ ہر کوئی میدان محشر کی طرف کھینچا آئے گا اور سب کے سب انسان حاضر ہوجائیں گے۔ منکرین قیامت کا جواب : (کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَ کُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (البقرۃ : ٢٨) ” تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ “ (اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰی اَنْ یُّحْیِ ےَ الْمَوْتٰی) (القیامہ : ٤٠) کیا ” اللہ “ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر زندہ کرے ؟ “ (فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِہِ مَلَکُوتُ کُلِّ شَیْءٍ وَّاِِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (یٰس : ٨٣) ” پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹ کر جانے والے ہو۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے پانچ قسمیں اٹھا کر ثابت کیا ہے کہ قیامت ضرور برپا ہوگی۔ ٢۔ قیامت کے زلزلے پے درپے واقع ہوں گے۔ ٣۔ قیامت کے دن دل دھڑک رہے ہوں گے اور آنکھیں خوفزدہ ہوں گی۔ ٤۔ قیامت کے دن ایک جھٹکے سے سب لوگ میدان محشر کی طرف جارہے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن منکرین قیامت کے بوسیدہ دلائل : ١۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ فرما دیجیے جس نے پہلی بار پیدا کیا ہے وہی تمہیں پیدا کرے گا۔ (بنی اسرائیل : ٥١) ٢۔ ہم نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اسی میں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ اٹھائیں گے۔ (طٰہٰ : ٥٥) ٣۔ انہیں بتلائیں کہ پتھر بن جاؤ یا لوہا یا تمہارے دل میں جو آتا ہے اس کے مطابق ہوجاؤ وہ تمہیں ضرور اٹھائے گا۔ (التغابن : ٧) ٤۔” اللہ “ ہی مخلوق کو پیدا کرنے والا ہے، پھر وہی اسے دوبارہ لوٹائے گا۔ (یونس : ٤) ٥۔ ” اللہ “ وہ ذات ہے جس نے مخلوق کو پہلی بار پیدا کیا، پھر وہ اسے لوٹائے گا اور یہ کام اس کے لیے آسان ہے۔ (الروم : ٢٧) ٦۔ موت کے بعد تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (ھود : ٧) ٧۔ ” اللہ “ ہی نے مخلوق کو پیدا کیا، پھر وہ اسے دوبارہ پیدا کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (الروم : ١١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

پہلے جھٹکے سے مراد زمین پر طاری ہونے والا جھٹکا ہے کیونکہ دوسری جگہ رجف کی نسبت صراحتہ زمین کی طرف کی گئی ہے۔ یوم ترجف .................... والجبال ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے “۔ رادفہ سے مراد ، مطابق روایات آسمان کا لرزنا ہے۔ یعنی زمین کے لرزاٹھنے کے بعد آسمان بھی لرز اٹھے گا۔ یہ پھٹ جائے گا ، اور اس کے ستارے بکھر جائیں گے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ راجفہ سے مراد پہلا صور ہے۔ پہلا صور جب سخت آواز نکالے گا تو زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے ، زمین کے اوپر درندے چرندے انسان سب لرز اٹھیں گے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی تمام مخلوق بےہوش ہوجائے گی۔ اور رادفہ سے مراد دوسرا صور ہے ، جس کے نتیجے میں تمام مخلوق زندہ ہوکر زمین سے اگ پڑے گی اور میدان حشر برپا ہوجائے گا جس طرح سورة زمر آیت 68 میں آیا ہے۔ بہرحال جو مفہوم بھی ہو ، انسانی شعور کے پردہ پر ایک زلزلہ برپا ہوتا ہے اور انسان پر اس تصویر کشی سے ایک خوف اور اضطراب پیدا ہوجاتا ہے۔ اور مارے خوف کے انسان تھر تھر کانپنے لگتا ہے۔ یوں انسانی شعور اس دن کے خوف وہراس کو سمجھنے کے قریب ہوجاتا ہے کہ اس دن اس قدر خوف اور اضطراب ہوگا کہ مضبوط سے مضبوط شخص کے قدم اکھڑ جائیں گے اور وہ بےقرار ہوجائے گا۔ انسان اس بات کو پالیتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے۔ قلوب ................ خاشعة (9:79) ” کچھ دل ہوں گے جو اس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے ، نگاہیں ان کی سہمی ہوئی ہوں گی “۔ کیونکہ یہ دل شدید اضطراب میں مبتلا ہوں گے ، ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ خوف ، دہشت اور ٹوٹ پھوٹ کے آثار ان پر نمایاں ہوں گے۔ زلزلہ ہوگا اور تباہی کا سماں ہر طرف نمایاں ہوگا۔ اور ایسا ہی ٹوٹ پھوٹ اس دن زمین اور آسمان کے نظام میں ہوگا۔ یوم .................................... الرادفة (7:79) اور یہی سماں اور یہی منظر ان الفاظ کلمات سے بھی ظاہر ہوتا ہے جن کے ساتھ قسم کھائی گئی۔ والنزعت ............................ امرا (1:79 تا 5) ” یہ تمام مناظر (دل کی دنیا کے ، اس زمین و آسمان کے اور ان قسمیہ کلمات کے) سب کی فضا ، اور اثرات ہم رنگ اور ہم آہنگ ہیں۔ غرض یہ پوری سورست ایک ہنگامہ عظیم کے انداز میں ہے۔ اب اس منظر کے بارے میں خود ان کے تاثرات یہاں نقل کیے جاتے ہیں کہ جب دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد یہ ناگہاں اٹھیں گے اور سخت حیراں ہوجائیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ ” یَوْمَ تَرْجُفُ “۔ یہ تخویف اخروی ہے اور ظرف جواب قسم مقدر کے ساتھ متعلق ہے۔ ” ترجف “ ہل جائے گی اور کانپ اٹھے گی۔ ” الراجفۃ “ سے مراد زمین ہے۔ جس دن کانپ اٹھے گی کانپنے والی یعنی نفخہ اولی کے وقت ایک زبردست زلزلہ آئے گا جس کی وجہ سے زمین کو اس قدر شدید جھٹکے لگیں گے کہ پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی آئے گی۔ مراد نفخہ ثانیہ ہے جس سے ساری مخلوق زندہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوگی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) جس دن زور سے لرزنے لرزنے والی۔ یعنی زمین میں بھونچال آئے ، مراد پہلا نفخہ صور ہے۔