Surat un Naziaat

Surah: 79

Verse: 8

سورة النازعات

قُلُوۡبٌ یَّوۡمَئِذٍ وَّاجِفَۃٌ ۙ﴿۸﴾

Hearts, that Day, will tremble,

۔ ( بہت سے ) دل اس دن دھڑ کتے ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Hearts that Day will tremble. Ibn `Abbas said, "This means afraid." Mujahid and Qatadah also said this. أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 قیامت کے ہول اور شدائد سے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قلوب یومئذ واجفۃ…: کئی دس اس دن دھڑک رہے ہوں گے ، یعنی سخت خوف زدہ ہوں گے۔” کئی دل “ اس لئے فرمایا کہ صالح مومن اس دن کی گھبراٹہ سے محفوظ رہیں گے۔ جیسا کہ فرمایا :(لایحزنھم الفزع الاکبر) (النبیائ : ١٠٣)”(اس دن ) سب سے بڑی گھبراہٹ انہیں غمگین نہیں رکے گی۔ “ دلوں اور آنکھوں کا حال بیان کرنے سے اس دن کفار کی ظاہری اور باطنی پریشانی کی مکمل تصویر سامنے آگئی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَۃٌ۝ ٨ ۙ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ وجف الوجیف : سرعة السّير، وأوجفت البعیر : أسرعته . قال تعالی: فَما أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكابٍ [ الحشر/ 6] وقیل : أدلّ فأمّل، وأوجف فأعجف، أي : حمل الفرس علی الإسراع فهزله بذلک، قال تعالی: قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ واجِفَةٌ [ النازعات/ 8] أي : مضطربة کقولک : طائرة وخافقة، ونحو ذلک من الاستعارات لها . ( و ج ف ) الوجیف کے معنی تیز رفتاری کے ہیں اور اوجفت البعیر کے معنی ہیں میں نے اونٹ کو تیز دوڑایا ( قرآن میں ہے : ۔ فَما أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكابٍ [ الحشر/ 6] کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ ۔ مثل مشہور ہے ۔ ادل فامل و او جف فاعجف یعنی گھوڑے کو تیز دوڑا کرو بلا کردیا ۔ وجف الشئی کسی چیز کا مضطرب ہون ا۔ قلب واجف مضطرب دل جیسے فرمایا : ۔ قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ واجِفَةٌ [ النازعات/ 8]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3 "Some hearts", because, according to the Qur'an, only the disbelievers, the wicked people and the hypocrites will be terror-stricken on the Resurrection Day, the righteous believers will remain secure from this tenor. About them in Surah Al-Anbiya' it has been said: "The time of great fright will not trouble them at all; the angels will rush. forth to receive them, saying: `This is the very Day which you were promised'." (v. 103)

سورة النّٰزِعٰت حاشیہ نمبر :3 کچھ دل کے الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ قرآن مجید کی رو سے صرف کفار و فجار اور منافقین ہی پر قیامت کے روز ہول طاری ہو گا ۔ مومنین صالحین اس ہول سے محفوظ ہوں گے ۔ سورہ انبیاء میں ان کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ ( آیت 103 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(79:8) قلوب یومئذ واجفۃ۔ قلوب مبتداء یومئذ اسم ظرف زمان ہے اور تتبعھا الرادفۃ سے متعلق ہے۔ واجفۃ، قلوب کی صفت ہے اور مبتداء کی خبر۔ (کتنے ہی) دل اس روز ترساں و لرزاں ہوں گے۔ واجفۃ۔ وجف (باب ضرب) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ وجف : وجیف (باب ضرب) کے معنی تیز رفتاری کے ہیں۔ اور او جفت البعیر کے معنی ہیں میں نے اونٹ کو تیز دوڑایا۔ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے :۔ فما او جفتم علیہ من خیل ولا رکاب (59:6) کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ۔ مثل مشہور ہے اوجف فاعجف : گھوڑے کو تیز دوڑا کر دبلا کردیا۔ وجف الشیء کسی چیز کا مضطرب ہونا۔ قلب واجف : مضطرب دل۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” قُلُوب “ اس دن شدت ہول سے دلوں میں سخت اضطراب ہوگا اور آنکھیں مارے خوف کے جھکی ہوں گی۔ ” یقولونء انا لمردودون فی الحافرۃ “ یہ شکوی ہے۔ ” الحافرۃ “ پہلی حالت۔ الحافرۃ الحالۃ الاولی (مدارک) ۔ منکرین قیامت کہتے ہیں کیا ہم موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اسی پہلی حالت میں آجائیں گے۔ کیا جب ہم پرانی اور بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر بھی ایسا ہوگا ؟ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) اس دن بہت سے دل دھڑکتے ہوں گے۔