The Disbelievers spend Their Wealth to hinder Others from Allah's Path, but this will only cause Them Grief
Allah states;
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ اللّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ
Verily, those who disbelieve spend their wealth to hinder (men) from the path of Allah, and so will they continue to spend it; but in the end it will become an anguish for them. Then they will be overcome. And those who disbelieve will be gathered unto Hell.
Muhammad bin Ishaq narrated that Az-Zuhri, Muhammad bin Yahya bin Hibban, Asim bin Umar bin Qatadah, and Al-Husayn bin Abdur-Rahman bin Amr bin Sa`id bin Mu`adh said,
"The Quraysh suffered defeat at Badr and their forces went back to Makkah, while Abu Sufyan went back with the caravan intact. This is when Abdullah bin Abi Rabiah, Ikrimah bin Abi Jahl, Safwan bin Umayyah and other men from Quraysh who lost their fathers, sons or brothers in Badr, went to Abu Sufyan bin Harb.
They said to him, and to those among the Quraysh who had wealth in that caravan, `O people of Quraysh! Muhammad has grieved you and killed the chiefs among you. Therefore, help us with this wealth so that we can fight him, it may be that we will avenge our losses.'
They agreed."
Muhammad bin Ishaq said,
"According to Ibn Abbas, this Ayah was revealed about them,
(
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ
... Verily, those who disbelieve spend their wealth... until,
هُمُ الْخَاسِرُونَ
they who are the losers)."
Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Al-Hakam bin Uyaynah, Qatadah, As-Suddi and Ibn Abza said that;
this Ayah was revealed about Abu Sufyan and his spending money in Uhud to fight the Messenger of Allah.
Ad-Dahhak said that;
this Ayah was revealed about the idolators of Badr.
In any case, the Ayah is general, even though there was a specific incident that accompanied its revelation.
Allah states here that the disbelievers spend their wealth to hinder from the path of truth. However, by doing that, their money will be spent and then will become a source of grief and anguish for them, availing them nothing in the least. They seek to extinguish the Light of Allah and make their word higher than the word of truth. However, Allah will complete His Light, even though the disbelievers hate it. He will give aid to His religion, make His Word dominant, and His religion will prevail above all religions. This is the disgrace that the disbelievers will taste in this life; and in the Hereafter, they will taste the torment of the Fire. Whoever among them lives long, will witness with his eyes and hear with his ears what causes grief to him. Those among them who are killed or die will be returned to eternal disgrace and the everlasting punishment. This is why Allah said,
فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ
And so will they continue to spend it; but in the end it will become an anguish for them. Then they will be overcome. And those who disbelieve will be gathered unto Hell.
Allah said,
شکست خوردہ کفار کی سازشیں
قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی ، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ابو سفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ ، عکرمہ بن ابی جہل ، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو افیسان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی ؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چنانچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ ، اسی پر یہ آیت اتری کہ خرچ کرو ورنہ یہ بھی غارت جائے گا اور دوبارہ منہ کی کھاؤ گے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے ۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لئے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا ۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا ۔ اس خواہش کا انجام نامرادی ہی ہے ۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے ۔ اس کا کلمہ بلند ہو گا ، اس کا بول بالا ہو گا ، اس کا دین غالب ہو گا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے ۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہو گی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہو گی ۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے ۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے ۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے ۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہو گی اور دنیا میں بھی ۔ فرمان ہے ثم نقول للذین اشر کو الخ ، قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو اور آیت میں ہے قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہو جائیں گے اور آیت میں ہے اس دن یہ ممتاز ہو جائیں گے اور آیت میں ہے وامتازو الیوم ایھا المجرمون اے گنہگار و تم آج نیک کاروں سے الگ ہو جاؤ ۔ اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے ۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ لام لام تو لیل ہو سکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہو جائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے؟ چنانچہ فرمان ہے وما اصابکم یوم التقی الجمعان الخ ، یعنی دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہو جائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے اور آیت میں ہے ماکان اللہ لیذر المومنین علی ماانتم علیہ الخ ، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے ۔ یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے ۔ فرمان ہے ام جسبتم ان تدخلوا الجنتہ الخ ، کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا ۔ سورہ برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لئے مبتلا کیا ہے اور اس لئے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہو جائے ۔ خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دے ۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں ۔