Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 36

سورة الأنفال

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ لِیَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ فَسَیُنۡفِقُوۡنَہَا ثُمَّ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ حَسۡرَۃً ثُمَّ یُغۡلَبُوۡنَ ۬ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی جَہَنَّمَ یُحۡشَرُوۡنَ ﴿ۙ۳۶﴾

Indeed, those who disbelieve spend their wealth to avert [people] from the way of Allah . So they will spend it; then it will be for them a [source of] regret; then they will be overcome. And those who have disbelieved - unto Hell they will be gathered.

بلا شک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے پھر وہ مال ان کے حق میں باعث حسرت ہوجائیں گے پھر مغلوب ہوجائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Disbelievers spend Their Wealth to hinder Others from Allah's Path, but this will only cause Them Grief Allah states; إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّواْ عَن سَبِيلِ اللّهِ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ Verily, those who disbelieve spend their wealth to hinder (men) from the path of Allah, and so will they continue to spend it; but in the end it will become an anguish for them. Then they will be overcome. And those who disbelieve will be gathered unto Hell. Muhammad bin Ishaq narrated that Az-Zuhri, Muhammad bin Yahya bin Hibban, Asim bin Umar bin Qatadah, and Al-Husayn bin Abdur-Rahman bin Amr bin Sa`id bin Mu`adh said, "The Quraysh suffered defeat at Badr and their forces went back to Makkah, while Abu Sufyan went back with the caravan intact. This is when Abdullah bin Abi Rabiah, Ikrimah bin Abi Jahl, Safwan bin Umayyah and other men from Quraysh who lost their fathers, sons or brothers in Badr, went to Abu Sufyan bin Harb. They said to him, and to those among the Quraysh who had wealth in that caravan, `O people of Quraysh! Muhammad has grieved you and killed the chiefs among you. Therefore, help us with this wealth so that we can fight him, it may be that we will avenge our losses.' They agreed." Muhammad bin Ishaq said, "According to Ibn Abbas, this Ayah was revealed about them, ( إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ ... Verily, those who disbelieve spend their wealth... until, هُمُ الْخَاسِرُونَ they who are the losers)." Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Al-Hakam bin Uyaynah, Qatadah, As-Suddi and Ibn Abza said that; this Ayah was revealed about Abu Sufyan and his spending money in Uhud to fight the Messenger of Allah. Ad-Dahhak said that; this Ayah was revealed about the idolators of Badr. In any case, the Ayah is general, even though there was a specific incident that accompanied its revelation. Allah states here that the disbelievers spend their wealth to hinder from the path of truth. However, by doing that, their money will be spent and then will become a source of grief and anguish for them, availing them nothing in the least. They seek to extinguish the Light of Allah and make their word higher than the word of truth. However, Allah will complete His Light, even though the disbelievers hate it. He will give aid to His religion, make His Word dominant, and His religion will prevail above all religions. This is the disgrace that the disbelievers will taste in this life; and in the Hereafter, they will taste the torment of the Fire. Whoever among them lives long, will witness with his eyes and hear with his ears what causes grief to him. Those among them who are killed or die will be returned to eternal disgrace and the everlasting punishment. This is why Allah said, فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ إِلَى جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ And so will they continue to spend it; but in the end it will become an anguish for them. Then they will be overcome. And those who disbelieve will be gathered unto Hell. Allah said,

شکست خوردہ کفار کی سازشیں قریشیوں کو بدر میں شکست فاش ہوئی ، اپنے مردے اور اپنے قیدی مسلمانوں کے ہاتھوں میں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ابو سفیان اپنا قافلہ اور مال و متاع لے کر پہنچا تو عبداللہ بن ابی ربیعہ ، عکرمہ بن ابی جہل ، صفوان بن امیہ اور وہ لوگ جن کے عزیز و اقارب اس لڑائی میں کام آئے تھے ابو افیسان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ دیکھتے ہیں ہماری کیا درگت ہوئی ؟ اب اگر آپ رضامند ہوں تو یہ سارا مال روک لیا جائے اور اسی خزانے سے دوسری جنگ کی تیاری وسیع پیمانے پر کی جائے اور انہیں مزا چکھا دیا جائے چنانچہ یہ بات مان لی گئی اور پختہ ہوگئ ، اسی پر یہ آیت اتری کہ خرچ کرو ورنہ یہ بھی غارت جائے گا اور دوبارہ منہ کی کھاؤ گے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت بھی بدر کے بارے میں اتری ہے ۔ الفاظ آیت کے عام ہیں گو سبب نزول خاص ہو حق کو روکنے کے لئے جو بھی مال خرچ کرے وہ آخر ندامت کے ساتھ رہ جائے گا ۔ دین کا چراغ انسانی پھونکوں سے بجھ نہیں سکتا ۔ اس خواہش کا انجام نامرادی ہی ہے ۔ خود اللہ اپنے دین کا ناصر اور حافظ ہے ۔ اس کا کلمہ بلند ہو گا ، اس کا بول بالا ہو گا ، اس کا دین غالب ہو گا کفار منہ دیکھتے رہ جائیں گے ۔ دنیا میں الگ رسوائی اور ذلت ہو گی آخرت میں الگ بربادی اور خواری ہو گی ۔ جیتے جی یا تو اپنے سامنے اپنی پستی ذلت نکبت و ادبار اور خوری دیکھ لیں گے یا مرنے پر عذاب نار دیکھ لیں گے ۔ پستی و غلامی کی مار اور شکست ان کے ماتھے پر لکھ دی گئی ہے ۔ پھر آخری ٹھکانا جہنم ہے تاکہ اللہ شقی اور سعید کو الگ الگ کر دے ۔ برے اور بھلے کو ممتاز کر دے یہ تفریق اور امتیاز آخرت میں ہو گی اور دنیا میں بھی ۔ فرمان ہے ثم نقول للذین اشر کو الخ ، قیامت کے دن ہم کافروں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود یہیں اسی جگہ ٹھہرے رہو اور آیت میں ہے قیامت کے دن یہ سب جدا جدا ہو جائیں گے اور آیت میں ہے اس دن یہ ممتاز ہو جائیں گے اور آیت میں ہے وامتازو الیوم ایھا المجرمون اے گنہگار و تم آج نیک کاروں سے الگ ہو جاؤ ۔ اسی طرح دنیا میں بھی ایک دوسرے سے بالکل ممتاز تھے ۔ مومنوں کے اعمال ان کے اپنے ہیں اور ان سے بالکل جدا گانہ لام لام تو لیل ہو سکتا ہے یعنی کافر اپنے مالوں کو اللہ کی راہ کی روک کیلئے خرچ کرتے ہیں تاکہ مومن و کافر میں علیحدگی ہو جائے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون نافرمانی میں ممتاز ہے؟ چنانچہ فرمان ہے وما اصابکم یوم التقی الجمعان الخ ، یعنی دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ کے وقت جو کچھ تم سے ہوا وہ اللہ کے حکم سے تھا تاکہ مومنوں اور منافقوں میں تمیز ہو جائے ان سے جب کہا گیا کہ آؤ راہ حق میں جہاد کرو یا دشمنوں کو دفع کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم فنون جنگ سے واقف ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے اور آیت میں ہے ماکان اللہ لیذر المومنین علی ماانتم علیہ الخ ، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری موجودہ حالتوں پر ہی چھوڑنے والا نہیں وہ پاک اور پلید کو علیحدہ علیحدہ کرنے والا ہے ۔ یہ ہی نہیں کہ اللہ تمہیں اپنے غیب پر خبردار کر دے ۔ فرمان ہے ام جسبتم ان تدخلوا الجنتہ الخ ، کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو اللہ نے تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو کھلم کھلا نہیں کیا ۔ سورہ برات میں بھی اسی جیسی آیت موجود ہے تو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے تمہیں کافروں کے ہاتھوں میں اس لئے مبتلا کیا ہے اور اس لئے انہیں اپنے مال باطل میں خرچ کرنے پر لگایا ہے کہ نیک و بد کی تمیز ہو جائے ۔ خبیث کو خبیث سے ملا کر جمع کر کے جہنم میں ڈال دے ۔ دنیا و آخرت میں یہ لوگ برباد ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

36۔ 1 جب قریش مکہ کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کے شکست خوردہ اصحاب مکہ واپس گئے۔ ادھر سے ابو سفیان بھی اپنا تجارتی قافلہ لے کر وہاں پہنچ چکے تھے تو کچھ لوگ، جن کے باپ، بیٹے یا بھائی اس جنگ میں مارے گئے تھے، ابو سفیان اور جن کا تجارت سامان میں حصہ تھا، ان کے پاس گئے اور ان سے استدعا کی وہ اس مال کو مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لئے استعمال کریں۔ مسلمانوں نے ہمیں بڑا نقصان پہنچایا ہے اس لئے ان سے انتقامی جنگ ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انہی لوگوں یا اسی قسم کا کردار اپنانے والوں کے بارے میں فرمایا کہ بیشک یہ لوگ اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کے لئے اپنا مال خرچ کرلیں لیکن ان کے حصے میں سوائے حسرت اور مغلوبیت کے کچھ نہیں آئے گا اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٧] کفار کا مالی اور جانی نقصان پر حسرت کرنا :۔ غزوہ بدر کے دوران کافروں کے ایک ہزار لشکر کی خوراک کا خرچہ روزانہ دس اونٹ تھا۔ اور یہ صرف گوشت کا خرچہ تھا۔ دیگر سب اخراجات اس کے علاوہ تھے۔ پھر ابو سفیان کے تجارتی قافلہ کا سارے کا سارا منافع مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ غرض اس آیت میں جو غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی کافروں کے حق میں ایک ایسی پیشین گوئی کی گئی جو بعد کے ادوار میں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔ یعنی غزوہ بدر کے بعد بھی کافر خرچ بھی کرتے رہیں گے اور شکست کھا کر پٹتے بھی رہیں گے اور ایک وقت آئے گا جب اسلام دشمنی کی راہ میں ان کا خرچ کیا ہوا مال، خرچ کیا ہوا وقت اور اپنی جسمانی مشقتیں اور جانوں کا نقصان ایک ایک چیز ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائے گی۔ پھر اس دنیا میں پٹنے کے علاوہ جو اخروی زندگی میں جہنم کا عذاب ہوگا وہ مستزاد ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ : یہاں ” عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ “ سے مراد اسلام ہے، یعنی کفار خصوصاً اہل مکہ کہ جن کا یہاں ذکر ہو رہا ہے، وہ اپنے اموال لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لیے ہر طرح سے خرچ کرتے ہیں، مال کا لالچ دے کر بھی اور جنگ کی تیاری کے لیے خوراک، سواریاں اور اسلحہ و افراد مہیا کرکے بھی۔ انھیں اسلام سے اس قدر دشمنی اور عناد ہے کہ اس سے روکنے کے لیے وہ اپنی محبوب ترین چیز مال خرچ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کردیا کہ آئندہ جب بھی یہ مسلمانوں کے خلاف کوئی کار روائی کریں گے انھیں اسی طرح ناکامی اور حسرت کا سامنا کرنا پڑے گا جس طرح اب بدر میں ان کا حشر ہوا ہے، چناچہ اس کے بعد جنگ احد اور خندق میں بھی انھیں ناکامی کے ساتھ لوٹنا پڑا، نہ مدینہ پر قبضہ کرسکے، نہ مال غنیمت حاصل کرسکے اور نہ ہی کسی کو لونڈی و غلام بنا سکے اور آخرت میں ان کافروں کا انجام یہ ہے کہ وہ جہنم میں دھکیل کر اکٹھے کیے جائیں گے۔ بعد میں بھی جب تک مسلمان اللہ کے احکام پر کاربند رہے اور انھوں نے جہاد کی تیاری میں کوتاہی نہ کی، ان کے خلاف جنگ کے لیے خرچ کیے ہوئے کفار کے اموال ہمیشہ ان کے لیے باعث حسرت ہی بنے اور وہ ہمیشہ مغلوب ہی ہوئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

At the end of the verse (36), given there is the evil end of these peo¬ple in terms of the Hereafter: وَالَّذِينَ كَفَرُ‌وا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُ‌ونَ (And those who dis¬believe shall be gathered into Jahannam). In the verse under study, the mention of an evil end of spending wealth to stop people from following the true faith also includes the disbelievers of today who spend enormous wealth in the name of hospi¬tals, educational institutions and charities only to stop people from fol¬lowing Islam and to attract them to their call for the false. Similarly, also included here are all those who have gone astray, those who spend their wealth to invite people to listen to doubts and supersti¬tions they have generated into the established collective beliefs of Is-lam. But, Allah Ta` a1a has His ways of keeping the faith revealed by Him protected. There are many occasions when it is openly noticed that such people fail to achieve their objective despite having spent huge amount of money and materials.

آخر آیت میں آخرت کے اعتبار سے ان لوگوں کے انجام بد کا بیان ہے (آیت) وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحْشَرُوْنَ ۔ یعنی جو لوگ کافر ہیں ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ مذکورہ آیتوں میں دین حق سے روکنے کے لئے مال خرچ کرنے کا جو انجام بد ذکر کیا گیا ہے اس میں آج کے وہ کفار بھی داخل ہیں جو لوگوں کو اسلام سے روکنے اور اپنے باطل کی طرف دعوت دینے پر لاکھوں روپیہ شفاخانوں، تعلیم گاہوں اور صدقہ خیرات کے عنوان سے خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ گمراہ لوگ بھی اس میں داخل ہیں جو اسلام کے اجماعی عقائد میں شبہات و اوہام پیدا کرکے ان کے خلاف لوگوں کو دعوت دینے کے لئے اپنے اموال خرچ کرتے ہیں لیکن حق تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرماتے ہیں اور بہت سے مواقع میں مشاہدہ بھی ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ بڑے بڑے اموال خرچ کرنے کے باوجود اپنے مقصد میں ناکام رہتے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ لِيَصُدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللہِ۝ ٠ ۭ فَسَيُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَيْہِمْ حَسْــرَۃً ثُمَّ يُغْلَبُوْنَ۝ ٠ۥۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَہَنَّمَ يُحْشَــرُوْنَ۝ ٣٦ ۙ نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] ( ن ف ق ) نفق ( ن ) س الشئی کے معیب کسی چیز کے ختم ہونے یا چلے جانے کے ہیں ۔ اور چلے جانے کی مختلف صورتیں ہیں ( 1 ) خوب فروخت ہونے سے جیسے نفق البیع ( سامان کا ) خوب فروخت ہونا اسی سے نفاق الایتیم ہے جس کے معنی بیوہ عورت سے نکاح کے طلب گاروں کا بکثرت ہونا کے ہیں ۔ نفق القوم بازار کا پر رونق ہونا ۔ ( 2 ) بذیعہ مرجانے کے جیسے نفقت الدابۃ نفوقا جانور کا مرجانا ۔ ( 3 ) بذریعہ فنا ہوجانے کے جیسے نفقت الدراھم درواہم خرچ ہوگئے ۔ انفق تھا ان کو خرچ کردیا ۔ الا نفاق کے معنی مال وغیرہ صرف کرنا کے ہیں اور یہ کبھی واجب ہوتا ہے ۔ اور کبھی مستحب اور مال اور غیر مال یعنی علم وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرو ۔ وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] اور جو مال ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرلو ۔ صدد الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] ( ص د د ) الصدود والصد ۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے اور ان کو سیدھے راستے سے روک دیا ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ حسر الحسر : كشف الملبس عمّا عليه، يقال : حسرت عن الذراع، والحاسر : من لا درع عليه ولا مغفر، والمِحْسَرَة : المکنسة، وفلان کريم المَحْسَر، كناية عن المختبر، وناقة حَسِير : انحسر عنها اللحم والقوّة، ونوق حَسْرَى، والحاسر : المُعْيَا لانکشاف قواه، ويقال للمعیا حاسر ومحسور، أمّا الحاسر فتصوّرا أنّه قد حسر بنفسه قواه، وأما المحسور فتصوّرا أنّ التعب قد حسره، وقوله عزّ وجل : يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] ، يصحّ أن يكون بمعنی حاسر، وأن يكون بمعنی محسور، قال تعالی: فَتَقْعُدَ مَلُوماً مَحْسُوراً [ الإسراء/ 29] . والحَسْرةُ : الغمّ علی ما فاته والندم عليه، كأنه انحسر عنه الجهل الذي حمله علی ما ارتکبه، أو انحسر قواه من فرط غمّ ، أو أدركه إعياء من تدارک ما فرط منه، قال تعالی: لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكافِرِينَ [ الحاقة/ 50] ، وقال تعالی: يا حَسْرَتى عَلى ما فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ [ الزمر/ 56] ، وقال تعالی: كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ حَسَراتٍ عَلَيْهِمْ [ البقرة/ 167] ، وقوله تعالی: يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ [يس/ 30] ، وقوله تعالی: في وصف الملائكة : لا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِهِ وَلا يَسْتَحْسِرُونَ [ الأنبیاء/ 19] ، وذلک أبلغ من قولک : ( لا يحسرون) . ( ح س ر ) الحسر ( ن ض ) کے معنی کسی چیز کو ننگا کرنے اور حسرت عن الذارع میں نے آستین چڑھائی الحاسر بغیر زرہ مابغیر خود کے ۔ المحسرۃ فلان کریم الحسر کنایہ یعنی ناقۃ حسیر تھکی ہوئی اور کمزور اونٹنی جسکا گوشت اور قوت زائل ہوگئی ہو اس کی جمع حسریٰ ہے الحاسر ۔ تھکا ہوا ۔ کیونکہ اس کے قویٰ ظاہر ہوجاتے ہیں عاجز اور درماندہ کو حاسربھی کہتے ہیں اور محسورۃ بھی حاسرۃ تو اس تصور کے پیش نظر کہ اس نے خود اپنے قوٰی کو ننگا کردیا اور محسور اس تصور پر کہ درماندگی نے اس کے قویٰ کو ننگا دیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خاسِئاً وَهُوَ حَسِيرٌ [ الملک/ 4] تو نظر ( ہر بار ) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی ۔ میں حسیر بمعنی حاسرۃ بھی ہوسکتا ہے اور کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہوکر بیٹھ جاؤ ۔ الحسرۃ ۔ غم ۔ جو چیز ہاتھ سے نکل جائے اس پر پشیمان اور نادم ہونا گویا وہ جہالت اور غفلت جو اس کے ارتکاب کی باعث تھی وہ اس سے دیر ہوگئی یا فرط غم سے اس کے قوی ننگے ہوگئے یا اس کوتاہی کے تدارک سے اسے درماند گی نے پالیا قرآن میں ہے : ۔ لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ [ آل عمران/ 156] ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کردے ۔ وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكافِرِينَ [ الحاقة/ 50] نیز یہ کافروں کے لئے ( موجب ) حسرت ہے ۔ يا حَسْرَتى عَلى ما فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ [ الزمر/ 56] اس تقصیر پر افسوس ہے جو میں نے خدا کے حق میں کی ۔ كَذلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمالَهُمْ حَسَراتٍ عَلَيْهِمْ [ البقرة/ 167] اسی طرح خدا ان کے اعمال انہیں حسرت بنا کر دکھائے گا ۔ يا حَسْرَةً عَلَى الْعِبادِ [يس/ 30] بندوں پر افسوس ہے اور فرشتوں کے متعلق فرمایا : ۔ لا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِهِ وَلا يَسْتَحْسِرُونَ [ الأنبیاء/ 19] وہ اس کی عبادت سے نہ کنیا تے ہیں اور نہ در ماندہ ہوتے ہیں ۔ اس میں سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے ۔ غلب الغَلَبَةُ القهر يقال : غَلَبْتُهُ غَلْباً وغَلَبَةً وغَلَباً «4» ، فأنا غَالِبٌ. قال تعالی: الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] ( غ ل ب ) الغلبتہ کے معنی قہرا اور بالادستی کے ہیں غلبتہ ( ض ) غلبا وغلبتہ میں اس پر مستول اور غالب ہوگیا اسی سے صیغہ صفت فاعلی غالب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] الم ( اہل ) روم مغلوب ہوگئے نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوجائیں گے جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ جہنم کے مختلف طبقات ( درکات) علی سبیل التنزل یہ ہیں۔ (1) جہنم (2) لظیٰ (3) حطمہ (4) سعیر (5) سقر (6) جحیم (7) ہاویۃ۔ سب سے نیچے منافقوں کا یہی ٹھکانہ ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٦) بدر کے دن ابوجہل اور اس کے لوگ یہ تیرہ آدمی زیادہ سرگرم تھے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، کہ یہ لوگ اپنے مالوں کو اس لیے خرچ کررہے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین اور اطاعت خداوندی سے روکیں، سو یہ دنیا میں خرچ کرتے رہیں گے اور بالآخر یہ چیز ندامت و حسرت کا باعث ہوگی اور یہاں بھی بدر کے دن مارے جائیں گے اور مغلوب ہوں گے۔ شان نزول : (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ (الخ) ابن اسحاق (رح) نے زہری (رح) اور محمد بن یحییٰ بن حبان (رح) اور عاصم بن عمیر بن قتادہ (رح) اور حصین بن عبدالرحمن (رح) سے روایت کیا کہ جب قریش بدر کے دن شکست کھاچکے اور مکہ مکرمہ واپس آئے تو عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمۃ بن ابی جہل اور صفوان بن امیہ قریش کے ان لوگوں بات چیت کی کہ اے قریش کی جماعت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں شکست دی ہے اور تمہارے پیارے عزیزوں کو مار ڈالا ہے تو اس مال سے ان سے پھر لڑائی کرنے کے لیے ہماری مدد کرو شاید ہم اس نقصان کا مداوا کرسکیں چناچہ وہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہوگئے اسی طرح ابن عباس (رض) سے روایت کیا گیا ہے تب اللہ تعالیٰ نے یہ اتاری۔ اور ابن ابی حاتم (رح) نے احکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کے متعلق نازل ہوئی ہے اس نے مشرکین پر چالیس اوقیہ چاندی خرچ کی تھی، نیز ابن جریر (رح) نے ابن ابزی (رح) اور سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کے متعلق نازل ہوئی ہے اس نے احد کے دن رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑائی کے لیے دو ہزار حبشی کرایہ پر بلائے تھے

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٦ ( اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط) ۔ قریش کی طرف سے لشکر کی تیاری ‘ سازو سامان کی فراہمی ‘ اسلحہ کی خریداری ‘ اونٹوں ‘ گھوڑوں اور راشن وغیرہ کا بندوبست بھی اس قسم کے انفاق فی سبیل الشیطان اور فی سبیل الشرک کی مثال ہے۔ وہ لوگ گویا شیطان کے راستے کے مجاہدین تھے اور اللہ کی مخلوق کو اس کے راستے سے روکنا ان کا مشن تھا۔ (فَسَیُنْفِقُوْنَہَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْہِمْ حَسْرَۃً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ط) ۔ یہ خرچ کرنا ان کے لیے موجب حسرت ہوگا اور یہ پچھتاوا ان کی جانوں کا روگ بن جائے گا کہ اپنا مال بھی کھپا دیا ‘ جانیں بھی ضائع کردیں ‘ لیکن اس پوری کوشش کے باوجود محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بال بھی بیکا نہ کرسکے۔ ان کی یہ حسرتیں اس وقت اور بھی بڑھ جائیں گی جب (وَقُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا۔ ) ( بنی اسرائیل ) کی تفسیر عملی طور پر ان کے سامنے آجائے گی اور وہ مغلوب ہو کر اہل حق کے سامنے ان کے رحم و کرم کی بھیک مانگ رہے ہوں گے۔ (وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی جَہَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ ) یعنی ان میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں گے اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا ‘ اور جو کفر پر اڑے رہیں گے اور کفر پر ہی ان کی موت آئے گی تو ایسے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

21: جنگ بدر کے بعد قریش کے بچے کھچے سرداروں نے چندہ جمع کرنا شروع کیا تھا کہ اس سے ایک بڑی جنگ کی تیاری کریں۔ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٦۔ ٣٧ تفسیر سدی اور مغازی محمد بن اسحاق وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین چندہ کر کے اور اپنے طور پر ایسے کاموں میں اپنا روپیہ خرچ کرتے تھے جن کاموں سے انہیں مسلمان کو حرج پہنچانا اور ان کا زور گھٹانا منظور ہوتا تھا مثلا جب بدر کی لڑائی میں ابوجہل مارا گیا تو عکرمہ ابوجہل کے بیٹے نے شام کی تجارت کا اپنے حصہ کا روپیہ ابوسفیان کے حوالہ کیا تھا کہ مسلمانوں سے اس کے باپ کے قتل کا بدلہ لیا جاوے اور ابوسفیان نے اپنا روپیہ خرچ کر کے احد کی لڑائی میں حبشی لوگ مسلمانوں سے لڑنے کے لئے نوکر رکھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ اس روپیہ کے خرچ کرنے کا نتیجہ دین و دنیا میں یہ مذموم ہے کہ باوجود روپے خرچ کرنے کے ان کا مقصد حاصل نہ ہوگا اور مکہ فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضے میں آجاوے گا اور دین میں اس کا یہ لوگ مؤاخذہ بھگتیں گے اس سے معلوم ہوا کہ کسی ایسے کام میں روپیہ خرچ کرنا جس سے لوگ نیک کام سے بازر ہیں بڑے مؤاخذہ کی بات ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس (رض) بن مالک کی جن رویتوں کا ذکر اوپر گذرا وہی روایتیں اس آیت کی بھی گویا تفسیر ہیں کیونکہ ان رواتیوں سے ان مشرکوں میں کے بڑے بڑے سرکشوں کی دنیا اور عقبے کی حسرت اور ندامت کا حال اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے :۔ مشرکین مکہ نے جنگ بدر وجنگ احد وغیرہ میں جو مال ومتاع خرچ کیا تھا اس سے ان کو فائدہ نہ ہوا اللہ پاک نے مسلمانوں کو غالب رکھا اور کفار کو حسرت پر حسرت ہوئی اور مغلوب ہوتے گئے بعضے قتل ہوئے بعضے قید ہوگئے کچھ بچے کچھ بھاگ نکلے اور بعضے ایمان بھی لائے غرض اللہ پاک نے اس آیت میں انہیں کفار کا حال بیان کیا کہ یہ لوگ باوجود اس کے کہ شکست پر شکست کھاتے گئے پھر بھی اپنے کفر پر جمے رہے دنیا میں جو کچھ ان کے مال کا اور جان کا نقصان ہوا وہ ہوا مگر آخرت میں بھی ان کے واسطے نقصان ہی ہے یہ سب کے سب دوزخ کوہان کے جاویں گے اور ” پاک کا جدا کرنا ناپاک سے یہ ہے کہ فتح مکہ تک ان میں کے جو لوگ شرک کی ناپاکی کو ساتھ لیکر دنیا سے اٹھ گئے وہ دوزخی ہوئے اور جو دائرہ اسلام میں داخل ہوئے وہ پچھلی سب ناپاکیوں سے پاک ہوگئے سدی کہتے ہیں کہ یہ تمیز آخرت میں ہوگی اس طور پر کہ مومن جنت میں داخل کئے جائیں گے اور کافر و مشرک جہنم میں ہونگے یا اس وقت ہوگی جب اللہ پاک ہر ایک گروہ اور ہر فرقہ اور ہر امت کو علیحدہ علیحدہ کھڑا کر کے ہر ایک کا حساب و کتاب لے گا پھر فرمایا کہ جو مال ان کفارنے اللہ کے رسول کی عداوت میں خرچ کیا ہے اس مال خبیث کو اس پاک مال سے جس کو مومنین نے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد کے لئے صرف کیا ہے جدا کر کے ان کو جہنم میں ڈالا جاویگا پھر فرمایا کہ یہ کفار نہایت ہی خسارہ میں رہے ان کا مال کا بھی نقصان ہوا اور جان کا بھی نقصان ہوا انس (رض) نے مالک کی جن روایتوں کا ذکر اوپر گذرا وہی روایتیں ان مخالف لوگوں کے دنیاو دین کے نقصان کی گویا تفسیر ہیں :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:36) فسینفقونھا۔ س مستقبل کے لئے آیا ہے۔ ینفقون۔ انفاق سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اموال کی طرف راجع ہے ۔ یہ آئندہ بھی (اسی طرح) خرچ کریں گے۔ ثم تکون۔ ای ثم تکون عاقبۃ انفاقھا۔ پھر ان کا یہ مال خرچ کرنا اس کے لئے باعث حسرت (وندامت) بن جائے گا۔ جھنم۔ اگر مجرور ہے لیکن م بالفتح آیا ہے بوجہ غیر منصرف ہونے کے ۔ غیر منصرف بوجہ عجمہ اور تانیث کے ہے۔ یحشرون۔ یساقون۔ ہانک کر لیجائے جائیں گے۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 کلبی (رح) ، ضحاک (رح) ، اور مقاتل (رح) کہتے ہیں کہ بدر میں قریش کے بارہ سرداروں نے ایک ایک دن اپنے ذمہ لیا تھا کہ ہر روز ایک شخص لشکر کو کھانا کھلائے گا چناچہ ان میں سے کسی ایک کی طرف سے ہر روز دس اونٹ ذبح کیے جاتے تھے، پھر جب شکست ہوگئی تو مکہ بہنچ کر صفوان بن امیہ عکرمہ بن ابی جہل اور بعض دوسرو لوگوں نے جن کے باپ ی ابیٹے بدر میں مارے گئے تھے ابو سفیان وغیرہ سے کہا کہ جو مال تجارت قافلہ لایا ہے اسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انتقام لینے میں صرف کیا جائے چناچہ اس سب راضی ہوگئے۔ انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ابن کثیر، قر طبی ) 4 پہلے سے خبر دار کردیا کہ آئندہ جب بھی یہ مسلمانوں کے خلاف کوئی کار وائی کریں گے انہیں اسی طرح ناکامی اور حسرت کا سامنا کرنا پڑگا جس طرح اب بدر میں ان کا یہ حشر ہوا ہے چناچہ اس کے بعد جنگ احد میں بھی ایک طرح ناکامی کے ساتھ لو ٹنا پڑا۔ ( کذافی الوحیدی وغیرہ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ چناچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ اور مخالفت کے سامان جمع کرنے میں ظاہر ہے کہ جو خرچ ہوتا تھا اس میں یہی غرض تھی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کو ان کے کردار کا آئینہ دکھاتے ہوئے یہ احساس دلایا گیا ہے عنقریب تمہیں اپنے کیے پر حسرت و افسوس ہوگا۔ کفار صرف زبانی اور جسمانی طور پر ہی اللہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے ہوئے تھے بلکہ وہ اس کے لیے اپنا مال بھی خرچ کرتے تھے۔ انھوں نے نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت توحید سے روکنے کے لیے بڑی بڑی پیش کشیں کی تھیں جب آپ نے ان کی پیشکشوں کو مسترد کردیا تو پھر ان لوگوں نے آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس پر بس نہیں کی پھر آپ کے خلاف جنگ وجدال کا راستہ اختیار کیا اور بہت سامال خرچ کر ڈالا لیکن بدر سے لے کر فتح مکہ تک نہ صرف ان کا جانی نقصان ہوا بلکہ بےپناہ وسائل بھی ضائع ہوئے اس طرح حسرت کے سوا ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا اسی حسرت و افسوس کے ساتھ جہنم واصل ہوگئے۔ (وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُولُ یَا لَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً )[ سورة الفرقان : ٢٧] ” اور اس دن ظالم اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور کہے گا میں نے رسول کے ساتھ اپنا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ “ اس وقت ان کی آہیں اور صدائیں انھیں کچھ فائدہ نہیں دیں گی اور انھیں ہمیشہ جہنم میں رہنا پڑے گا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر خرچ کیا ہوا مال ضائع ہوجاتا ہے۔ ٢۔ قیامت کے دن یہ مال حسرت و افسوس کا باعث ہوگا۔ ٣۔ خدا کے منکر اور باغی جہنم میں اکٹھے کیے جائیں گے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب ذرا ان کفار کے طرز عمل کو دیکھو یہ لوگ اپنے اموال اس مقصد کے لیے صرف کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں۔ بدر میں ان کے مقاصد کیا تھے ، یہی کہ اس جنگ سے ان کے پیش نظر صرف یہ تھا کہ اس گروہ کو ختم کر کے دین داری کی تحریک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جس طرح پہلے کیا گیا۔ بدر کے بعد بھی ان کی سوچ یہی رہی۔ اللہ تعالیٰ انہیں خبر دار فرماتے ہیں کہ آخر کار تم نے ناکام ہونا ہے اور تمہیں اپنے رویے پر بےحد افسوس ہوگا اس لیے کہ تم نے دنیا میں شکست سے دوچار ہونا ہے اور آخرت میں تمہارے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ محمد بن اسحاق نے زہری وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ جب قریش کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کا یہ شکست خوردہ لشکر مکہ پہنچا اور ابو سفیان قافلے کو لے کر وہاں پہنچا تو عبداللہ بن ربیعہ ، عکرمہ ابن ابوجہل ، صفوان ابن امیہ چند دوسرے لوگوں کو لے کر ان لوگوں کے گھروں میں گئے جن کے آباء اور اولاد اور بھائی اس جنگ میں قتل ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے ابو سفیان ابن حرب اور ان تمام لوگوں سے بات چیت کی جن کے اموال اس قافلے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے اہل قریش ، محمد نے تم سے خوب بدلہ لیا اور اس میں حد سے بڑھ گئے۔ اور تمہارے بہترین لوگوں کو قتل کیا۔ لہذا تم قافلہ تجارت کے اموال چندے میں دے دو تاکہ ہم بدر کا بدلہ لے سکیں۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کرلی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ ۔ یہ جو بدر میں ہوا یا بدر کے بعد ہوا یہ دین کے دشمنوں کا معمولی حربہ ہے۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اپنی قوتوں کو دین کی بیخ کنی کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور یہ لوگ ہر جگہ اور ہر دور میں اسلام کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ معرکہ ختم نہیں ہوا ہے ، دین کے دشمن کسی بھی وقت آرام سے نہیں بیٹھے اور انہوں نے کبھی ایک لمحہ بھر کے لیے بھی ، حامیان دین کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیا۔ اس لیے کہ اس دین کی واحد راہ ہی یہی ہے کہ وہ متحرک رہے اور جاہلیت پر ہجوم کرے۔ اہل دین کی صفت اور نصب العین ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت متحرک رہیں اور اہل جاہلیت کی کمر توڑ کر رکھ دیں۔ اللہ کے جھنڈے کو اس قدر بلند اور غالب کردیں کہ کسی دشمن دین کو اس کی طرف دیکھنے کی جرات نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خبردار فرماتے ہیں جو اپنے مال دین کی راہ روکنے میں صرف کرتے ہیں ان کا یہ فعل ان کے لیے حیرت کا باعث ہوگا۔ یہ تمام نفقات جلد ہی اکارت جائیں گے اور اہل حق اسی دنیا میں غالب و فتح یاب ہوں گے اور آخرت میں تو یہ لوگ جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور یہ ان کے لیے عظیم حیرت ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ کی راہ سے روکنے والے مغلوب ہوں گے اور ان کے اخراجات حسرت کا باعث ہونگے مفسر ابن کثیر (ص ٣٠٧ ج ٢) میں تحریر فرماتے ہیں کہ جب قریش کو بدر میں شکست ہوئی اور جو زندہ رہ گئے وہ مکہ مکرمہ واپس پہنچے تو ابو سفیان کے گلے پڑگئے کہ ہم لوگ تیرے قافلہ کی حفاظت کے لیے نکلے تھے تم لوگ تو صحیح سالم آگئے اور ہمارے آباء اور ہماری اولاد اور ہمارے بھائی بدر میں مقتول ہوگئے۔ لہٰذا تم لوگ مال سے ہماری مدد کرو تاکہ ہم دو بارہ جنگ کریں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنا بدلہ لے لیں۔ چناچہ ان لوگوں نے اس سلسلہ میں چندے دیئے اور مال خرچ کیے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ آیت بالا ان کے اسی مال کے خرچ کرنے کے سلسلے میں نازل ہوئی۔ اور معالم التنزیل (ص ٢٤٧ ج ٢) میں لکھا ہے کہ یہ آیت ان مشرکوں کے بارے میں نازل ہوئی جو بدر میں جاتے ہوئے اپنی جماعت پر منزل بہ منزل خرچ کرتے رہے اور اونٹ ذبح کر کے کھلاتے رہے۔ پھر حکم بن عینیہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت ابو سفیان کے بارے میں نازل ہوئی جس نے احد کے موقعہ پر مشرکین پر چالیس اوقیہ چاندی خرچ کی تھی (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا تھا) ۔ مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں کہ سبب نزول اگرچہ خاص ہے مگر مضمون عام ہے۔ جب کبھی بھی اہل کفر حق سے روکنے کے لیے اپنا مال خرچ کریں گے دنیا و آخرت میں نا کام ہوں گے اور ذلیل ہونگے اللہ تعالیٰ کا دین کامل ہوگا پھیلے گا پورا ہوگا۔ کافر اس کے بجھانے کے لیے مال خرچ کریں گے پھر نادم ہوں گے ان کو حسرت ہوگی کہ ہم نے اپنا مال خرچ کیا لیکن فائدہ مقصود حاصل نہ ہوا یہ لوگ دنیا میں مغلوب ہوں گے اور آخرت میں بھی دوزخ میں داخل ہوں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38: تخویف اخروی ہے۔ “ يُنْفِقُوْنَ ” ، “ اِنَّ ” کی خبر ہے۔ کافر اپنا مال و دولت مسلمانوں کے خلاف جنگ و قتال میں خرچ کر رہے ہیں تاکہ ان کو اللہ کے دین سے روک سکیں۔ وہ اب خرچ کر رہے ہیں جیسا کہ جنگ بدر میں خرچ کیا اور آئندہ بھی خرچ کریں گے۔ مثلاً جنگ احد وغیرہ میں۔ مگر ہر بار انہیں اپنی دولت خرچ کرنے کے بعد حسرت اور افسوس ہی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ کیونکہ ہر میدان میں وہ اپنی تمام کوششوں کے باوجود مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب و مقہور ہوں گے۔ “ والمعنی ان الکفار یقصدون بنفقتھم الصد عن سبیل اللہ و غلبة المؤمنین فلا یقع الا عکس ما قصدوا وھو تندمھم و تحسرھم علی ذھاب اموالھم ثم غلبتھم والتمکن منھم اسرا و قتلاً و غنماً ” (بحر ج 4 ص 493) 39: دنیا میں مال و دولت بھی برباد ہوا اور مسلمانوں کے ہاتھوں ذلت و رسوائی بھی اٹھائی اور آخرت میں ان کو جہنم میں جھوک دیا جائے گا۔ “ لِيَمِیْزَ اللّٰه الخ ” یہ یا تو “ يُحْشَرُوْنَ ” کے متعلق ہے اور خبیث سے مراد کفار ہیں اور طیب سے مومنین یعنی قیامت کے دن کفار دوزخ میں گرتے جائیں گے یا یہ “ يُغْلَبُوْنَ ” سے متعلق ہے۔ اس صورت میں خبیث سے منافقین مراد ہوں گے۔ یعنی جہاد میں کفار مغلوب ہوں گے اور مؤمن اور منافق کے درمیان بھی امتیاز ہوجائے گا۔ لیکن “ وَ يَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ ” پہلے معنی کا مؤيد ہے۔ یعنی خبیثوں کو ملا کر سب کو جہنم میں ڈال دے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

36 بلاشبہ جو لوگ دین حق کے منکر ہیں وہ اپنے مال لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے خرچ کرتے ہیں تو یہ لوگ اس غرض کے لئے ابھی اپنا مال خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر میں وہ اموال ان پر موجب حسرت ہوں گے اور بالآخر وہ مغلوب ہوں گے اور جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کررکھی ہے اور دین حق سے انکار ان کا شیوہ ہے ان سب کو دوزخ کی طرف لے جانے کے لئے جمع کیا جائے گا۔ یعنی کفر کی اشاعت کے لئے جو لوگ روپیہ خرچ کررہے ہیں وہ ابھی کرتے رہیں گے لیکن ایک دن ان کے اموال موجب حسرت و پشیمانی ہوں گے کفر مغلوب ہوگا یہ تو دنیا میں ہوگا اور آخرت میں ان کو دوزخ میں دھکیلنے کو اکٹھا کیا جائے گا۔