Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 45

سورة الأنفال

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمۡ فِئَۃً فَاثۡبُتُوۡا وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚ۴۵﴾

O you who have believed, when you encounter a company [from the enemy forces], stand firm and remember Allah much that you may be successful.

اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کو یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Manners of War Allah says; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ إِذَا لَقِيتُمْ فِيَةً فَاثْبُتُواْ وَاذْكُرُواْ اللّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلَحُونَ O you who believe! When you meet (an enemy) force, take a firm stand against them and remember Allah much, so that you may be successful. Allah instructs His faithful servants in the manners of fighting and methods of courage when meeting the enemy in battle, In the Two Sahihs, it is recorded that; Abdullah bin Abi Awfa said that during one battle, Allah's Messenger waited until the sun declined, then stood among the people and said, يَا أَيُّهَا النَّاسُ لاَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ واسْأَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوف O people! Do not wish to face the enemy (in a battle) and ask Allah to save you (from calamities). But if you should face the enemy, then be patient and let it be known to you that Paradise is under the shadows of the swords. He then stood and said, اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِي السَّحَابِ وَهَازِمَ الاَْحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِم O Allah! Revealer of the (Holy) Book, Mover of the clouds, and Defeater of the Confederates, defeat them and grant us victory over them. The Command for Endurance when the Enemy Engaging Allah commands endurance upon meeting the enemy in battle and ordains patience while fighting them. Muslims are not allowed to run or shy away, or show cowardice in battle. They are commanded to remember Allah while in that condition and never neglect His remembrance. They should rather invoke Him for support, trust in Him and seek victory over their enemies from Him. They are required to obey Allah and His Messenger in such circumstances adhering to what He commanded them, and abstaining from what He forbade them.

جہاد کے وقت کثرت سے اللہ کا ذکر اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو لڑائی کی کامیابی کی تدبیر اور دشمن کے مقابلے کے وقت شجاعت کا سبق سکھا رہا ہے ایک غزوے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھلنے کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا! لوگو دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگتے رہو لیکن جب دشمنوں سے مقابلہ ہو جائے تو استقلال رکھو اور یقین مانو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ۔ پھر آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے سچی کتاب کے نازل فرمانے والے اے بادلوں کے چلانے والے اور لشکروں کو ہزیمت دینے والے اللہ ان کافروں کو شکست دے اور ان پر ہماری مدد فرما ( بخاری مسلم ) عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ دشمن کے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور مقابلے کے وقت ثابت قدمی اور اولوالعزمی دکھاؤ گو وہ چیخیں چلائیں لیکن تم خاموش رہا کرو ۔ طبرانی میں ہے تین وقت ایسے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو خاموشی پسند ہے ( ١ ) تلاوت قرآن کے وقت ( ٢ ) جہاد کے وقت اور ( ٣ ) جنازے کے وقت ۔ ایک اور حدیث میں ہے کامل بندہ وہ ہے جو دشمن کے مقابلے کے وقت میرا ذکر کرتا رہے یعنی اس حال میں بھی میرے ذکر کو مجھ سے دعا کرنے اور فریاد کرنے کو ترک نہ کرے ۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں لڑائی کے دوران یعنی جب تلوار چلتی ہو تب بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا ذکر فرض رکھا ہے ۔ حضرت عطا رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ چپ رہنا اور ذکر اللہ کرنا لڑائی کے وقت بھی واجب ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی ۔ تو جریج نے آپ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی یاد بلند آواز سے کریں؟ آپ نے فرمایا ہاں کعب احبار فرماتے ہیں قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر اللہ سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک اور کوئی چیز نہیں ۔ اس میں بھی اولیٰ وہ ہے جس کا حکم لوگوں کو نماز میں کیا گیا ہے اور جہاد میں کیا تم نہیں دیکھتے؟ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بوقت جہاد بھی اپنے ذکر کا حکم فرمایا ہے پھر آپ نے یہی آیت پڑھی ۔ شاعر کہتا ہے کہ عین جنگ و جدال کے وقت بھی میرے دل میں تیری یاد ہوتی ہے ۔ عنترہ کہتا ہے نیزوں اور تلواروں کے شپاشپ چلتے ہوئے بھی میں تجھے یاد کرتا رہتا ہوں ۔ پس آیت میں جناب باری نے دشمنوں کے مقابلے کے وقت میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور صبر و استقامت کا حکم دیا کہ نامرد ، بزدل اور ڈرپوک نہ بنو اللہ کو یاد کرو اسے نہ بھولو ۔ اس سے فریاد کرو اس سے دعائیں کرو اسی پر بھروسہ رکھو اس سے مدد طلب کرو ۔ یہی کامیابی کے گر ہیں ۔ اس وقت بھی اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ہاتھ سے نہ جانے دو وہ جو فرمائیں بجا لاؤ جن سے روکیں رک جاؤ آپس میں جھگڑے اور اختلاف نہ پھیلاؤ ورنہ ذلیل ہو جاؤ گے بزدلی جم جائے گی ہوا اکھڑ جائے گی ۔ قوت اور تیزی جاتی رہے گی اقبال اور ترقی رک جائے گی ۔ دیکھو صبر کا دامن نہ چھوڑو اور یقین رکھو کہ صابروں کے ساتھ خود اللہ ہوتا ہے ۔ صحابہ کرام ان احکام میں ایسے پورے اترے کہ ان کی مثال اگلوں میں بھی نہیں پیچھے والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے؟ یہی شجاعت یہی اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہی صبر و استقلال تھا جس کے باعث مدد ربانی شامل حال رہی اور بہت ہی کم مدت میں باوجود تعداد اور اسباب کی کمی کے مشرق و مغرب کو فتح کر لیا نہ صرف لوگوں کے ملکوں کے ہی مالک بنے بلکہ ان کے دلوں کو بھی فتح کر کے اللہ کی طرف لگا دیا ۔ رومیوں اور فارسیوں کو ترکوں اور صقلیہ کو بربریوں اور حبشیوں کو سوڈانیوں اور قبطیوں کو غرض دنیا کے گوروں کالوں کو مغلوب کر لیا اللہ کے کلمہ کو بلند کیا دین حق کو پھیلایا اور اسلامی حکومت کو دنیا کے کونے کونے میں جما دیا اللہ ان سے خوش رہے اور انہیں بھی خوش رکھے ۔ خیال تو کرو کہ تیس سال میں دنیا کا نقشہ بدل دیا تاریخ کا ورق پلٹ دیا ۔ اللہ تعالیٰ ہمارا بھی انہی کی جماعت میں حشر کرے وہ کریم و وھاب ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 اب مسلمانوں کو لڑائی کے وہ آداب بتائے جا رہے ہیں جن کو دشمن کے مقابلے کے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات ثبات قدمی اور استقلال ہے، کیونکہ اس کے بغیر میدان جنگ میں ٹھہرنا ممکن ہی نہیں ہے تاہم اس سے تحرف اور تحیز کی وہ دونوں صورتیں مستشنٰی ہوں گی جن کی پہلے وضاحت کی جا چکی ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ ثبات قدمی کے لئے بھی تحرف یا تحیز ناگزیر ہوتا ہے۔ دوسری ہدایت یہ ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو۔ تاکہ مسلمان اگر تھوڑے ہوں تو اللہ کی مدد کے طالب رہیں اور اللہ بھی کثرت ذکر کی وجہ سے ان کی طرف متوجہ رہے اور اگر مسلمان تعداد میں زیادہ ہوں تو کثرت کی وجہ سے ان کے اندر عجب اور غرور پیدا نہ ہو، بلکہ اصل توجہ اللہ کی امداد پر ہی رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٠] دوران جنگ اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنا اور اسی پر بھروسہ کرنا :۔ یہاں سے آگے جنگ سے متعلق مسلمانوں کو ہدایات اور ان کی جنگی داخلی اور خارجہ پالیسی کے متعلق احکام بیان کئے جا رہے ہیں :۔ سب سے پہلی ہدایت یہ ہے کہ اگر مقابلہ پیش آجائے تو پھر پوری دلجمعی اور ثابت قدمی سے مقابلہ پر ڈٹ جاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دشمن سے مقابلہ کی آرزو مت کرو اور اگر مڈبھیڑ ہوجائے تو پھر پوری ہمت اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرو۔ اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد، باب لاتمنوالقاء العدو) اور اس دوران اللہ کو بکثرت یاد کیا کرو۔ ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا تمہاری ثابت قدمی کا باعث بن جائے گا اور بالخصوص میدان جنگ میں بھی اپنی نمازوں کا خیال رکھو، اسی پر بھروسہ رکھو۔ یہی تمہاری کامیابی کا راز ہے۔ محض اسباب پر تکیہ نہ کرو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا : ” لَقِيْتُمْ “ ” لِقَاءٌ“ سے ہے، یعنی ملنا اور آمنے سامنے ہونا، اکثر لڑائی کی ملاقات کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہاں بھی یہی مراد ہے۔ ” فِئَةً “ جماعت، گروہ۔ یہ ” فَاءَ یَفِیْءُ فَیْءًا “ (لوٹنا) سے مشتق ہے، کیونکہ ایک جماعت کے لوگ مدد کے لیے ایک دوسرے کی طرف لوٹ کر آتے ہیں۔ (راغب) قرآن مجید میں زیادہ تر یہ لفظ لڑنے والی جماعت کے لیے استعمال ہوا ہے، خواہ وہ کفار کی جماعت ہو یا مسلمانوں کی اور خواہ مستقل جماعت ہو یا کمک کے لیے آنے والی، مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ) [ البقرۃ : ٢٤٩ ] ” کتنی ہی تھوڑی جماعتیں زیادہ جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئیں۔ “ اور دیکھیے سورة آل عمران (١٣) اور سورة کہف (٤٣) اس آیت میں دشمن سے مقابلے کے وقت لڑائی کے آداب اور دلیری و شجاعت حاصل کرنے کے طریقے سکھائے۔ ان میں سے پہلی چیز ثابت قدمی اور ڈٹے رہنا ہے، کیونکہ اس کے بغیر میدان جنگ میں ٹھہرنا ممکن ہی نہیں۔ ثابت قدمی سے مراد انتہائی بےجگری سے لڑنا ہے، لہٰذا یہ آیت (اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ ) [ الأنفال : ١٦ ] کے خلاف نہیں، کیونکہ جنگی چال کے طور پر ایک طرف ہونا یا پیچھے ہٹنا فرار نہیں بلکہ ثابت قدمی ہی کی ایک صورت ہے۔ دوسری چیز اللہ کو کثرت سے یاد کرنا ہے، کیونکہ فتح و نصرت کا انحصار ظاہری اسباب پر نہیں بلکہ دل کی استقامت، اللہ کی یاد اور اس کا حکم بجا لانے پر ہے، اس لیے طالوت کے ساتھیوں نے دشمن سے مڈ بھیڑ کے وقت یہ دعا کی تھی : ( رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ) [ البقرۃ : ٢٥٠ ] ” اے ہمارے رب ! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور ان کافر لوگوں کے خلاف ہماری مدد فرما۔ “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) نے بدر اور دوسرے مقامات پر نہایت عجز وزاری سے اللہ کو یاد کیا اور اس سے مدد مانگی۔ مسلمان تھوڑے ہوں تو اللہ کی مدد طلب کریں اور زیادہ ہوں تو بھی اپنی طاقت اور کثرت کے بجائے صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسا رکھیں اور اس کی یاد سے غافل نہ ہوں۔ تیسری ہدایت اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری ہے جو ہر حال میں لازم ہے، مگر میدان جنگ میں اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہاں تھوڑی سی نافرمانی بھی بعض اوقات ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن جاتی ہے، جیسا کہ جنگ احد میں ہوا۔ اس میں امیر کی اطاعت بھی شامل ہے کہ وہ بھی اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔ چوتھی ہدایت یہ کہ آپس میں جھگڑا اور اختلاف نہ کرو، ورنہ فتح کے بعد شکست نظر آنے لگے گی، جس سے تمہارے دلوں میں بزدلی پیدا ہوجائے گی اور تم ہمت ہار بیٹھو گے اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی، یعنی تمہارے درمیان پھوٹ دیکھ کر دشمنوں پر سے رعب اٹھ جائے گا اور وہ تم پر غلبہ پانے کے لیے اپنے اندر جرأت محسوس کرنے لگیں گے۔ پانچویں ہدایت یہ کہ صبر کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اگر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹا تو اللہ تعالیٰ کی نصرت و معیت، یعنی خاص مدد اور خصوصی ساتھ بھی حاصل نہیں رہے گا۔ دیکھیے سورة آل عمران (٢٠٠) ۔ عبد اللہ بن ابی اوفی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جنگ کے موقع پر انتظار کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا، پھر لوگوں میں کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا، فرمایا : ” اے لوگو ! دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے رہو اور جب دشمن سے مقابلہ ہوجائے تو صبر کرو ( ڈٹے رہو) اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ “ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب کان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إذا لم یقاتل أول النھار۔۔ : ٢٩٦٥، ٢٩٦٦ ] حافظ ابن کثیر (رض) نے فرمایا، صحابہ کرام (رض) میں وہ شجاعت، صبر و ثبات اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایسی فرماں برداری تھی جو نہ اس سے پہلے کسی کو حاصل ہوئی نہ بعد میں ہوگی، انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت کی برکت اور آپ کی اطاعت سے شرق و غرب کے ممالک کے ساتھ ساتھ دلوں کو بھی فتح کیا اور روم و فارس کے مقابلے میں نہایت تھوڑی تعداد کے باوجود سب پر غالب آئے، یہاں تک کہ اللہ کا بول سب پر بالا ہوگیا اور اس کا دین سب ادیان پر غالب آگیا اور صرف تیس سال سے بھی کم عرصے میں اسلامی ممالک مشرق سے مغرب تک پھیل گئے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور انھیں راضی کرے اور ہمارا حشر بھی ان کے ساتھ کرے، وہ بیحد کرم اور عطا والا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Qur&anic Instructions for Success in Jihad Given in the first two verses cited above is a special set of instruc¬tions for Muslims when they confront enemies on the battlefield. These instructions from Allah Ta` ala are for them the master prescription of success and ascendancy in the present world as well as that of salvation and prosperity in the eternal life to come. In fact, the secret of unusual successes and victories achieved by Muslims in all wars fought by them during the early period lies hidden behind their adher¬ence to these very golden guidelines - and they are: 1. Be Steadfast The Arabic word used by the Qur&an is ثَبات thibat which means to stand firm, hold the ground, be steadfast. This includes firmness of the feet and firmness of the heart both because a person whose heart is not strong and firm can hardly be expected to have the rest of his body hold the ground. This is something everyone knows and understands, believer or disbeliever. Every nation of the world gives high priority to this strength in its wars because all experienced people know it well that the first and foremost weapon in the theater of war is nothing but the firmness of heart and feet. Without these, all weapons are ren¬dered useless. 2.Remember Allah The second principle is the Dhikr of Allah which is a weapon in its own right, special and spiritual, something known to Muslims only and not known to or neglected by the rest of the world. The world as we know it today would do anything to get together state-of-the-art weapon systems for their war plans, the latest in logistics and morale boosting sessions to inculcate combat firmness among forces - but, strangely enough, it is unaware and unexposed to this spiritual weap¬on of Muslims. This is the reason why Muslims, wherever they had to confront some other nation while following these instructions precisely as given, they were able to demolish superior forces of the adversary laced with men, weapons and war materials. As for the inherent spiri¬tual benediction of the Dhikr of Allah, they have a place of their own in our lives, nevertheless, it is also difficult to deny its efficacy in ena¬bling one to continue to hold on and remain standing firm on his feet. To remember Allah and to be confident about it is like a highly charged electronic energy which makes a weak person run through mountains. No matter what the odds be against, personal discomfort or emotional anxiety, this remembrance of Allah shoos all that into thin air making the heart of man strong and his feet firm. At this stage, let us keep in mind that the time of a raging battle is usually a terrible time when no one remembers anyone and everyone is consumed with the thought of self-preservation. Therefore, the poets of pagan Arabia take great pride in insisting that they remember their beloved even during the heat of the battlefield. To them, this was a proof of the power of heart and the firmness of love. A pagan poet has said: ذکرتک والخطی یخطر بیننا (I remembered you even at a time when spears were swinging dangerously between us). The Holy Qur&an has prompted Muslims to engage in the Dhikr of Allah even in this dangerous situation, and that too with the emphasis on: کَثِیراً (kathira : much). Also worth pondering over at this point is the fact that no other act of worship (` Ibadah), except the Dhikr of Allah, has been command¬ed in the entire Qur&an with the instruction that it be done abundantly and profusely. Expressions like (making صَلوٰۃً کَثِیراً Salah much) and: صِیاماً کثیرا (fasting much) have not been mentioned anywhere. The reason is that the Dhikr of Allah is easy to do, a convenient act of worship indeed. You do not have to spend a lot of time and labour doing it, nor does it stop you from doing something else on hand. On top of that, this is an exclusive grace from Allah Ta` ala who has not placed any precondition or restriction of وُضُو Wudu (ablution), طَہَارَت Taharah (state of purity from major or minor impurities), dress and orientation to قِبلَہ Qiblah (facing the direction of Ka&bah) etc., in its performance. This can be done by anyone under all states, with وُضُو Wudu or without, standing, sit¬ting or lying down. And if we were to add to it the higher investigative approach of Imam al-Jazri appearing in the famous collection of au¬thentic Islamic prayers, Hisn Hasin, where he states that the Dhikr of Allah is not limited to the act of remembering Allah only verbally or by heart, instead of which, any permissible act which is performed by re-maining within the parameters of obedience to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) shall also be counted as the Dhikr of Allah, then, given this ap¬proach, the sense of Dhikr of Allah becomes so common and easy that we could call even a man in sleep a Dhakir (one who remembers Al¬lah). This is supported by what is said in some narrations: نَومَ العَالِم عِبَادَۃ (The sleep of the ` Alim is included under ` Ibadah) because an ` Alim or scholar of Islam who lives and acts in accordance with the demands of his عِلم ` Ilm or knowledge of Islam is duty-bound to see that all his states of sleeping and waking must remain within nothing but the boundaries of obedience to Allah Ta` ala. In the present context, the command to remember Allah abundant¬ly while on the battlefield may give the impression of being an addi¬tion of one more duty assigned to the mujahidin, something which may usually demand concentrated hard work. But, certainly unique is the property of the Dhikr of Allah. It does not subject its performer to what would be hard labour. Instead, it brings in a kind of pleasure, en¬ergy and taste which actually goes on to help one accomplish a lot of things one does in life. For that matter, there is nothing unusual about it as we commonly notice that people who handle hard labour would habitually take to a set of words or some beat or jingle or song and are heard humming it while working. The Holy Qur&an has blessed Mus¬lims with an alternate for it, something which is based on countless advantages and wise considerations. Therefore, towards the end of the verse, it was said: لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (so that you may be successful - 45). It means if you went on to master these two tested techniques of stand¬ing firm and remembering Allah - and used it on the battlefield - then, you can be sure that prosperity and success are all yours. One method of remembering Allah on the battlefield is what we generally recognize as the well-known battle cry of &Allāhu-Akbar& (the Na&rah or cry of Takbir which is a positively voiced statement of belief in the greatness of Allah in the setting of a battlefield). saying: &Allahu-Akbar& is also a form of Dhikr or remembrance of Allah. In ad¬dition to this, it also includes the attitude of keeping the thought of Al¬lah always in sight, having confidence and trust in Him and remem¬bering Him with all your heart in it. As such, the term Dhikr of Allah includes all that.

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو جب تم کو ( کفار کی کسی) جماعت سے ( جہاد میں) مقابلہ کا اتفاق ہوا کرے تو ( ان آداب کا لحاظ رکھو ایک یہ کہ) ثابت قدم رہو ( بھاگو مت) اور ( دوسرے یہ کہ) اللہ کا خوب کثرت سے ذکر کرو ( کہ ذکر سے قلب میں قوت ہوتی ہے) امید ہے تم ( مقابلہ میں) کامیاب ہو ( کیونکہ ثبات قدم اور ثبات قلب جب جمع ہوں تو کامیابی غالب ہے) اور ( تیسرے یہ کہ تمام امور متعلقہ حرب میں) اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ( کا لحاظ) کیا کرو ( کہ کوئی کارروائی خلاف شرع نہ ہو) اور ( چوتھے یہ کہ اپنے امام سے اور باہم بھی) نزاع مت کرو ورنہ ( باہمی نااتفاقی سے) کم ہمت ہوجاؤ گے ( کیونکہ قوتیں منتشر ہوجائیں گی ایک کو دوسرے پر وثوق نہ ہوگا اور اکیلا آدمی کیا کرسکتا ہے) اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی ( ہوا خیزی سے مراد بد رعبی ہے کیونکہ دوسروں کو اس نااتفاقی کی اطلاع ہونے سے یہ امر لازمی ہے) اور (پانچویں یہ کہ اگر کوئی امر ناگواری کا پیش آئے تو اس پر) صبر کرو بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں ( اور معیت الہی موجب نصرت ہے) اور ( چھٹے یہ کہ نیت خالص رکھو تفاخر اور نمائش میں) ان ( کافر) لوگوں کے مشابہ مت ہونا کہ جو ( اسی واقعہ بدر میں) اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو ( اپنی شان و سامان) دکھلاتے ہوئے نکلے اور ( اس فخر و ریا کے ساتھ یہ بھی نیت تھی کہ) لوگوں کو اللہ کے رستہ ( یعنی دین) سے روکتے تھے ( کیونکہ مسلمانوں کو زک دینے چلے تھے جس کا اثر عام طبائع پر بھی دین سے بعد ہوتا) اور اللہ تعالیٰ ( ان لوگوں کو پوری سزا دے گا چناچہ وہ) ان کے اعمال کو ( اپنے علم کے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔ معارف و مسائل جنگ و جہاد میں کامیابی کے لئے قرآنی ہدایات پہلی دو آیتوں میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو میدان جنگ اور مقابلہ دشمن کے لئے ایک خاص ہدایت نامہ دیا ہے جو ان کے لئے دنیا میں کامیابی اور فتح مندی کا اور آخرت کی نجات و فلاح کا نسخہ اکسیر ہے اور قرون اولی کی تمام جنگوں میں مسلمانوں کی فوق العادت کامیابیوں اور فتوحات کا راز اسی میں مضمر ہے۔ اور وہ چند چیزیں ہیں۔ اول ثبات۔ یعنی ثابت رہنا اور جمنا۔ جس میں ثبات قلب اور ثبات قدم دونوں داخل ہیں کیونکہ جب تک کسی شخص کا دل مضبوط اور ثابت نہ ہو اس کا قدم اور اعضاء ثابت نہیں رہ سکتے اور یہ چیز ایسی ہے جس کو ہر مومن و کافر جانتا اور سمجھتا ہے اور دنیا کی ہر قوم اپنی جنگوں میں اس کا اہتمام کرتی ہے۔ کیونکہ اہل تجربہ سے مخفی نہیں کہ میدان جنگ کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ کامیاب ہتھیار ثبات قلب و قدم ہی ہے دوسرے سارے ہتھیار اس کے بغیر بیکار ہیں۔ دوسرے ذکر اللہ یہ وہ مخصوص اور معنوی ہتھیار ہے جس سے مومن کے سوا عام دنیا غافل ہے پوری دنیا جنگ کے لئے بہترین اسلحہ اور نئے سے نیا سامان مہیا کرنے اور فوج کے ثابت قدم رکھنے کی تو پوری تدبیریں کرتی ہے۔ مگر مسلمانوں کے اس روحانی اور معنوی ہتھیار سے بیخبر اور ناآشنا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر میدان میں جہاں مسلمانوں کا مقابلہ ان ہدایات کے مطابق کسی قوم سے ہوا مخالف کی پوری طاقت اور اسلحہ اور سامان کو بیکار کردیا۔ ذکر اللہ کی اپنی ذاتی اور معنوی برکات تو اپنی جگہ ہیں ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ ثبات قدم کا اس سے بہتر کوئی نسخہ بھی نہیں۔ اللہ کی یاد اور اس پر اعتماد وہ بجلی کی طاقت ہے جو ایک انسان ضعیف کو پہاڑوں سے ٹکرا جانے پر آمادہ کردیتی ہے اور کیسی ہی مصیبت اور پریشانی ہو اللہ کی یاد سب کو ہوا میں اڑا دیتی ہے اور انسان کے قلب کو مضبوط اور قدم کو ثابت رکھتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رکھئے کہ جنگ و قتال کا وقت عادةً ایسا وقت ہوتا ہے کہ اس میں کوئی کسی کو یاد نہیں کرتا اپنی فکر پڑی ہوتی ہے۔ اس لئے جاہلیت عرب کے شعراء میدان جنگ میں بھی اپنے محبوب کو یاد کرنے پر فخر کیا کرتے ہیں کہ وہ بڑی قوت قلت اور محبت کی پختگی کی دلیل ہے ایک جاہلی شاعر نے کہا ہے ذکرتک والخطی یخطر بیننا۔ یعنی میں نے تجھے اس وقت بھی یاد کیا جب کہ نیزے ہمارے درمیان لچک رہے تھے۔ قرآن کریم نے اس پرخطر موقع میں مسلمانوں کو ذکر اللہ کی تلقین فرمائی اور وہ بھی کثیرا کی تاکید کے ساتھ۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ پورے قرآن میں ذکر اللہ کے سوا کسی عبادت کو کثرت سے کرنے کا حکم نہیں صلوة کثیرا صیاما کثیرا کہیں مذکورہ نہیں۔ سبب یہ ہے کہ ذکر اللہ ایک ایسی آسان عبادت ہے کہ اس میں نہ کوئی بڑا وقت خرچ ہوتا ہے نہ محنت نہ کسی دوسرے کام میں اس سے رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس پر مزید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ذکر اللہ کے لئے کوئی شرط اور پابندی، وضو، طہارت، لباس اور قبلہ وغیرہ کی بھی نہیں لگائی ہر شخص ہر حال میں باوضو، بےوضو، کھڑے، بیٹھے، لیٹے، کرسکتا ہے اور اس پر اگر امام جزری کی اس تحقیق کا اضافہ کرلیا جائے جو انہوں نے حصن حصین میں لکھی ہے کہ ذکر اللہ صرف زبان یا دل سے ذکر کرنے ہی کو نہیں کہتے بلکہ ہر جائز کام جو اللہ تعالیٰ اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت میں رہ کر کیا جائے وہ بھی ذکر اللہ ہے۔ تو اس تحقیق پر ذکر اللہ کا مفہوم اس قدر عام اور آسان ہوجاتا ہے کہ سوتے ہوئے بھی انسان کو ذکر کہہ سکتے ہیں۔ جیسے بعض روایات میں ہے نوم العالِم عبادة یعنی عالم کی نیند بھی عبادت میں داخل ہے کیونکہ عالم جو اپنے علم کے مقتضی پر عمل کرتا ہو اس کے لئے یہ لازم ہے کہ اس کا سونا اور جاگنا سب اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی کے دائرہ میں ہو۔ میدان جنگ میں ذکر اللہ کی کثرت کا حکم اگرچہ بظاہر مجاہدین کے لئے ایک کام کا اضافہ نظر آتا ہے جو عادةً مشقت و محنت کو چاہتا ہے۔ لیکن ذکر اللہ کی یہ عجیب خصوصیت ہے کہ وہ محنت نہیں لیتا بلکہ ایک فرحت و قوت اور لذت بخشتا ہے اور انسان کے کام میں اور معین و مددگار بنتا ہے۔ یوں بھی محنت و مشقت کے کام کرنے والوں کی عادت ہوتی ہے کہ کوئی کلمہ یا گیت گنگنایا کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے مسلمانوں کو اس کا نعم البدل دے دیا جو ہزاروں فوائد اور حکمتوں پر مبنی ہے اسی لئے آخر آیت میں فرمایا (آیت) لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ، یعنی اگر تم نے ثبات اور ذکر اللہ کے دو گُر یاد کرلئے اور ان کو میدان جنگ میں استعمال کیا تو فلاح و کامیابی تمہاری ہے۔ میدان جنگ کا ذکر ایک تو وہ ہے جو عام طور پر نعرہ تکبیر کے انداز میں کیا جاتا ہے اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ پر نظر اور اعتماد و توکل اور دل سے اس کی یاد۔ لفظ ذکر اللہ ان سب کو شامل ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللہَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝ ٤٥ ۚ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک الگ الگ بھی بولاجاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] اور تم موت ( شہادت ) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے اور ملاقات الہی سے مراد قیامت کا بپا ہونا اور اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے دوبرو حاضر ہونا ہے ۔ فِئَةُ ( جماعت) والفِئَةُ : الجماعة المتظاهرة التي يرجع بعضهم إلى بعض في التّعاضد . قال تعالی: إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] ، كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً [ البقرة/ 249] ، فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتا[ آل عمران/ 13] ، فِي الْمُنافِقِينَ فِئَتَيْنِ [ النساء/ 88] ، مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ [ القصص/ 81] ، فَلَمَّا تَراءَتِ الْفِئَتانِ نَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] الفئۃ اس جماعت کو کہتے ہیں جس کے افراد تعاون اور تعاضد کے لئے ایک دوسرے کیطرف لوٹ آئیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] جب ( کفار کی ) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو ۔ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً [ البقرة/ 249] بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے ۔۔۔۔۔ بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ۔ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتا[ آل عمران/ 13] دو گر ہوں میں جو ( جنگ بدد میں ) آپس میں بھڑ گئے ۔ فِي الْمُنافِقِينَ فِئَتَيْنِ [ النساء/ 88] کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گر وہ ۔ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ [ القصص/ 81] کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی فَلَمَّا تَراءَتِ الْفِئَتانِ نَكَصَ عَلى عَقِبَيْهِ [ الأنفال/ 48] جب یہ دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آر ہوئیں ۔ ثبت الثَّبَات ضدّ الزوال، يقال : ثَبَتَ يَثْبُتُ ثَبَاتاً ، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] ( ث ب ت ) الثبات یہ زوال کی ضد ہے اور ثبت ( ن ) ثباتا کے معنی ایک حالت پر جمے رہنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا [ الأنفال/ 45] مومنو جب ( کفار کی ) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو ۔ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله تعالی: وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] ، وقوله : هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] ، وقوله : أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] ، أي : القرآن، وقوله تعالی: ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] ، وقوله : وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] ، أي : شرف لک ولقومک، وقوله : فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] ، أي : الکتب المتقدّمة . وقوله قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] ، فقد قيل : الذکر هاهنا وصف للنبيّ صلّى اللہ عليه وسلم «2» ، كما أنّ الکلمة وصف لعیسی عليه السلام من حيث إنه بشّر به في الکتب المتقدّمة، فيكون قوله : ( رسولا) بدلا منه . وقیل : ( رسولا) منتصب بقوله ( ذکرا) «3» كأنه قال : قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلو، نحو قوله : أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] ، ف (يتيما) نصب بقوله (إطعام) . ومن الذّكر عن النسیان قوله : فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] ، ومن الذّكر بالقلب واللّسان معا قوله تعالی: فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] ، وقوله : فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] ، وقوله : وَلَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] ، أي : من بعد الکتاب المتقدم . وقوله هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] ، أي : لم يكن شيئا موجودا بذاته، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ؛هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] یہ میری اور میرے ساتھ والوں کی کتاب ہے اور مجھ سے پہلے ( پیغمبر ) ہوئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت ( کی کتاب ) اتری ہے ۔ میں ذکر سے مراد قرآن پاک ہے ۔ نیز فرمایا :۔ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] اور ایت کریمہ :۔ وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] اور یہ ( قرآن ) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے ۔ میں ذکر بمعنی شرف ہے یعنی یہ قرآن تیرے اور تیرے قوم کیلئے باعث شرف ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ میں اہل ذکر سے اہل کتاب مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] خدا نے تمہارے پاس نصیحت ( کی کتاب ) اور اپنے پیغمبر ( بھی بھیجے ) ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں الذکر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصف ہے ۔ جیسا کہ عیسیٰ کی وصف میں کلمۃ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے ۔ کا لفظ وارد ہوا ہے ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الذکر اس لحاظ سے کہا گیا ہے ۔ کہ کتب سابقہ میں آپ کے متعلق خوش خبردی پائی جاتی تھی ۔ اس قول کی بنا پر رسولا ذکرا سے بدل واقع ہوگا ۔ بعض کے نزدیک رسولا پر نصب ذکر کی وجہ سے ہے گویا آیت یوں ہے ۔ قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلوجیسا کہ آیت کریمہ ؛ أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] میں کی وجہ سے منصوب ہے اور نسیان کے بعد ذکر کے متعلق فرمایا :َفَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] قو میں مچھلی ( وہیں ) بھول گیا اور مجھے ( آپ سے ) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا ۔ اور ذکر قلبی اور لسانی دونوں کے متعلق فرمایا :۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] تو ( مبی میں ) خدا کو یاد کرو جسطرح اپنے پاب دادا کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] تو مشعر حرام ( یعنی مزدلفہ ) میں خدا کا ذکر کرو اور اسطرح ذکر کرو جس طرح تم کو سکھایا ۔ اور آیت کریمہ :۔ لَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] اور ہم نے نصیحت ( کی کتاب یعنی تورات ) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا ۔ میں الذکر سے کتب سابقہ مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ فلح والفَلَاحُ : الظَّفَرُ وإدراک بغية، وذلک ضربان : دنیويّ وأخرويّ ، فالدّنيويّ : الظّفر بالسّعادات التي تطیب بها حياة الدّنيا، وهو البقاء والغنی والعزّ ، وإيّاه قصد الشاعر بقوله : أَفْلِحْ بما شئت فقد يدرک بال ... ضعف وقد يخدّع الأريب وفَلَاحٌ أخرويّ ، وذلک أربعة أشياء : بقاء بلا فناء، وغنی بلا فقر، وعزّ بلا ذلّ ، وعلم بلا جهل . ولذلک قيل : «لا عيش إلّا عيش الآخرة» وقال تعالی: وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ( ف ل ح ) الفلاح فلاح کے معنی کامیابی اور مطلب وری کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے دینوی اور اخروی ۔ فلاح دنیوی ان سعادتوں کو حاصل کرلینے کا نام ہے جن سے دنیوی زندگی خوشگوار بنتی ہو یعنی بقاء لمال اور عزت و دولت ۔ چناچہ شاعر نے اسی معنی کے مدنظر کہا ہے ( نحلع البسیط) (344) افلح بماشئت فقد یدرک بالضد عف وقد یخدع الاریب جس طریقہ سے چاہو خوش عیشی کرو کبھی کمزور کامیاب ہوجاتا ہے اور چالاک دہو کا کھانا جاتا ہے ۔ اور فلاح اخروی چار چیزوں کے حاصل ہوجانے کا نام ہے بقابلا فناء غنا بلا فقر، عزت بلا ذلت ، علم بلا جہلاسی لئے کہا گیا ہے (75) لاعیش الاعیش الاخرۃ کہ آخرت کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے اور اسی فلاح کے متعلق فرمایا : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] اور زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

جنگ میں یاد خدا قول باری ہے (واذالقیم فئۃ فاذکوا اللہ کثیرا۔ جب کسی گروہ سے تمہارا مقبالہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو) ایک قول کے مطابق الفئۃ اس گروہ کو کہتے ہیں جو دوسرے گروہ سے بچھڑ چکا ہو۔ اس کی اصل اس محاورہ سے ماخوذ ہے۔ فاوت راسہ بالسیف (میں نے تلوار سے اس کا سر کاٹ دیا) اس لفظ سے یہاں کفار کا گروہ مراد ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے مقابلہ میں ڈٹ جانے اور ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ آیت اس قول باری کے معنوں میں ہے (وذالقتم الذین کفروا زحفا فلا تولوھم الادبار۔ جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو۔ اس آیت میں جو صورتیں بیان کی گئی ہیں یعنی میدان جنگ سے پیچھے ہٹ آنے یا مسلمانوں کے کسی اور فوج سے جا ملنے اور ان کے ساتھ مل کر دوبارہ جنگ کرنے کا جواز وغیرہ ان پر آیت زیر کا مجفہوم مرتب ہے، اس کا مفہوم اس آیت کے مفہوم پر بھی مرتب ہے جو بعد میں مذکور ہے یعنی الان خفف اللہ عنکم وعلم ان فیکم ضعفا فان یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبوا مائتین و ان یکن منکم یغلبوا الفین باذن اللہ۔ اچھا ! اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر ا اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے) مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں ڈٹے رہنے کا صرف اس وقت حکم ہے جب ان کی تعداد مسلمانوں سے دوگنا ہو، اگر ان کی تعداد تین گنا ہو تو پھر ان کے لئے میدان جنگ سے ہٹ کر مسلمانوں کے کسی گروہ سے مل جانا جائز ہے تاکہ ان کے ساتھ مل کر پھر دشمن کا مقابلہ کریں۔ قول باری (واذکرواللہ کثیرا) میں دو معنوں کا احتمال ہے۔ ایک زبان سے اللہ کا ذکر اور دوسرا دل سے اللہ کا ذکر۔ اس کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک اللہ کے دشمنوں یعنی مشرکین کے خلاف جہاد میں ثابت قدمی دکھانے اور صبر کرنے پر ثواب کا اور مقابلہ سے فرار ہونے پر عذاب کا تصور۔ دوسری اللہ کے قائم کردہ دلائل، اپنے بندوں پر اس کی نعمتوں نیز بندوں پر اس کے اس استحقاق کا تصور کہ ان پر اس کے دشمنوں کے خلاف جہاد کے فریضہ کی ادائیگی لازم ہے۔ اس قسم کے تصورات اور از کار دشمنوں کے مقابلہ میں ڈٹ جانے اور صبر کرنے میں مددگار ہوتے ہیں اور للہ کی نصرت و تائید کا سبب بنتے ہیں نیز ان سے دشمنوں کے مقابلہ میں حوصلہ اور جرأت پیدا ہوتی ہے اور دشمنوں کی پروا نہیں رہتی۔ آیت سے اذکار لسانی اور اذکار قلبی دونوں مراد لینا بھی درست ہے اس لئے کہ لفظ ذکر ان تمام کو شامل ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی ایسی روایات منقول ہیں جو اس آیت کے مفہوم سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں بشر بن موسیٰ نے، انہیں خلاد بن یحییٰ نے، انہیں سفیان ثوری نے عبدالرحمن بن زیاد سے، انہوں نے عبداللہ بن زید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (لا تمنوا لقائز العلا واسئلوا اللہ الاعافیۃ، فاذا القیتموھم فثبتوا واذکروا اللہ کثیر و ان اجلبوا او ضبحوا فعلیکم الصمت۔ دشمن سے مڈ بھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت طلب کرو۔ لیکن جب ان سے تمہارا مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدمی رکھائو اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرو، اگر وہ چیخیں چلائیں یا غل غپاڑہ کریں تو تم پر خاموشی لازم ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٥) اے اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر میں جب تم لوگوں کو کفار کی جماعت سے مقابلہ کا اتفاق ہو تو اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لڑائی میں ثابت قدم رہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِءَۃً فَاثْبُتُوْا) یہ وہ دور تھا جب حق و باطل میں مسلّح تصادم شروع ہوچکا تھا اور دین کے غلبے کی جدوجہد آخری مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ غزوۂ بدر اس سلسلے کی پہلی جنگ تھی اور ابھی بہت سی مزید جنگیں لڑی جانی تھیں۔ اس پس منظر میں مسلمانوں کو میدان جنگ اور جنگی حکمت عملی کے بارے میں ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں کہ جب بھی کسی فوج سے میدان جنگ میں تمہارا مقابلہ ہو تو تم ثابت قدم رہو ‘ اور کبھی بھی ‘ کسی بھی حالت میں دشمن کو پیٹھ نہ دکھاؤ۔ (وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) ۔ حالت جنگ میں بھی اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ‘ کیونکہ تمہاری اصل طاقت کا انحصار اللہ کی مدد پر ہے۔ لہٰذا تم اللہ پر بھروسہ رکھو : (وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ الاَّ باللّٰہِ ) ( النحل : ١٢٧) ‘ کیونکہ ایک بندۂ مؤمن کا صبر اللہ کے بھروسے پر ہی ہوتا ہے۔ اگر تمہارے دل اللہ کی یاد سے منور ہوں گے ‘ اس کے ساتھ قلبی اور روحانی تعلق استوار ہوگا ‘ تو تمہیں ثابت قدم رہنے کے لیے سہارا ملے گا ‘ اور اگر اللہ کے ساتھ تمہارا یہ تعلق کمزور پڑگیا تو پھر تمہاری ہمت بھی جواب دے دے گی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٥۔ ٤٦۔ اوپر کی آیتوں میں اس مدد کا ذکر تھا جو اس لڑائی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچی اب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو میدان جنگ کے آداب سمجھائے ہیں عبداللہ (رض) بن اوفی کی ایک حدیث صحیحین میں ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے لوگو تم دشمنوں سے مقابلہ کی تمنا نہ کرو خدا سے عافیت چاہتے رہو اور جب دشمن سے مقابلہ ہوجاوے تو صبر اختیار کرو اور جان لو کہ جنت تلوار کے سایہ میں ہے آیتوں اور حدیث کو ملا کر مطلب یہ ہو کہ اے مسلمانوں جب کسی جماعت دشمن سے مقابلہ کرو تو صبر و سکون کو کام میں لاکر اپنے قدم اس معرکہ میں ثابت رکھو اور خدا کو یاد کرتے رہو اور بہت یاد کرو جس سے تمہیں فلاحیت ہوگی لڑائی کے وقت ذکر کا حکم اس لئے فرمایا کہ گھبراہٹ کے وقت خدا کا ذکر مددگار بنے اور بعضے مفسریہ کہتے ہیں کہ ذکر سے مراد دعا کا کرنا ہے جس طرح اصحاب طالوت نے یہ دعا کی رَبَّنَا اَفْرِغُ عَلَیُنَا صَبْرً اوَّثَبِّتْ اَقُدَ اَمَنا وَانُصُرُنَا عَلَی الْقَومِ اُلکَافِرِیْنَ ٢/٣٦٠ معتبر سند سے ابوداؤد مستدرک حاکم میں سہل (رض) بن سعد کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دین کی لڑائی کے وقت آدمی جو دعا کرے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ اس حدیث سے آخری قول تائید ہوتی ہے پھر یہ فرمایا کہ ہر حال میں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو ورنہ تمہاری رائے مختلف ہوجائیں گی اور تم میں نامردی آجائے گی اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی اور فتح یابی رائگاں ہوجائیگی قتادہ کہتے ہیں تذھب ریحکم کے معنے مدد غیبی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تفرقہ کے پیدا ہوجانے سے پھر تمہیں غیب سے مدد نہ ملے گی پھر اللہ پاک نے فرمایا کہ لڑائی میں صبر کرو کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جب خدا ساتھ ہوگیا تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا ہے سورة آل عمران میں گذر چکا ہے کہ احد کی لڑائی کے وقت مدینہ کے اندر سے لڑنے اور مدینہ کے باہر جاکر لڑنے میں صحابہ مختلف ہوئے پھر تیرا نداز لوگوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بتلایا ہوا پہاڑ کا ناکہ چھوڑ دیا غرض احد کی لڑائی سے تیرہ مہینے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مسلمانوں کو لڑائی کے وقت ایسی باتوں سے روکا تھا لیکن تقدیر الہی کے موافق احد کی لڑائی کے وقت اس ممانعت کا خیال مسلمانوں کو نہ رہا اس واسطے اس لڑائی کا انجام اچھا نہیں ہوا سختی کے وقت صبر کرنے کا یہ مطلب ہے کہ گویا آدمی اس سختی کی کشایش کو اللہ تعالیٰ کی مرضی پر چھوڑتا ہے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جس کا یہ مطلب ہوا کہ جو شخص اپنی سختی کی کشایش کو اللہ کی مرضی پر منحصر رکھے گا اللہ اس کی سختی کی کشایش میں اس کے ساتھ اور اس کی مدد کو موجود ہے اس لئے صحیح بخاری اور مسلم میں ابوسعید خدری (رض) کی جو ایک حدیث ہے اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ صبر سے بڑھ کر کوئی اچھی چیز آدمی کو نہیں دی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صبر کا دنیا میں تو یہ مرتبہ ہے کہ صبر کرنے والے شخص کے ساتھ اللہ ہے اور عقبیٰ میں صبر کا وہ اجر ہے کہ جس کا حساب اور اندازہ سوا اللہ کے کسی کو معلوم نہیں چناچہ طبرانی کبیر میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اور عملوں کا اجر تو حساب سے ملے گا لیکن صبر ایسی چیز ہے جس کا اجر صبر کرنے والوں کو اس دن بےحساب ملے گا یہ حدیث آیت اِنَّما یُوَفّی الصَّابِرُوْنَ اَجْرَھُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (٣٩: ١٠) کی گویا تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(8:45) فاثبتوا۔ ثبات سے (باب نصر) امر جمع مذکر حاضر۔ تم ثابت قدم رہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی صرف اسی پر بھروسا کرو اور اسی کو اپنا مقصود بنائ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ٤٥ تا ٤٨ اسرار و معارف جنگ اور جہاد اسلام نے جنگ کو بھی جہاد میں بدل دیا اور ایک بالکل نیا فلسفہ عطا فرمایا جنگ تو اقوام عالم میں پہلے سے عام تھی اسلام نے اس میں ایک بہت بڑی تبدیلی یہ کردی کہ جنگ میں مخالف کو تباہ کرنا اس کی طاقت کو ختم کرنا اور اسے ذلیل ورسوا کرنا لوٹ مار آگ لگا دنیا وغیرہ سب امور ہوتے تھے ۔ اسلام نے جہاد کا لفظ دیا جو جہد یعنی کوشش اور محنت سے بنا ہے اور جہاد سے مرادمخالف کی اصلاح اور اس کی بھی بہتری چاہتا ہے ۔ اسی لیے آپ اسلامی افواج کو دی گئی ہدایات کا مطالعہ کریں تو یہ ملے گا کہ کسی نہتے آدمی پر تلوارنہ اٹھائی جائے فصل خراب نہ کئے جائیں درخت نہ کاٹے جائیں عبادت خانوں اور عابدوں کو نہ چھیڑاجائے ۔ مخالف اسلام قبول کرلے تو تمام اسلامی حقوق فورا دیئے جائیں یا اللہ کی عظمت قبول کرکے جزیہ اداکرے تو اپنے ہذہب پر امن سے رہ سکتا ہے یعنی محض کسی قوم ملک یافرد کو نیچادکھانایا اس کا ماں اور ملک چھین لینا تو جنگ تھی اور اسی کی بہتری کے لیے یا اس کے شر سے اللہ کے بندوں اور اس کے دین کو بچانے کے لیے ضروری حدتک تلوار چلانا جہاد کہ لایا وریہ ایک عظیم عبادت قرار پایا ۔ نیز یہ ایسی ضرورت ہے کہ جس کے بارے یہ کہنا کہ اب جہاد منسوخ ہوگیا خود جہاد سے ناواقفیت کی دلیل ہے ۔ یہاں جہاد کے قواعد ارشاد ہو رہے ہیں کہ اگر کسی جماعت سے مقابلہ آجائے بغیرلڑائی کے کوئی چارہ نہ ہو تو میدان میں اترنے کے بعد جم جاؤاور ثابت قدم رہو۔ یہ وہ بات ہے جو ہر قوم اپنے جنگی دستوں سے کہتی ہے اور اس کی امید بھی رکھتی ہے کہ یہی صل قوت ہے ، اسلحہ اور ہتھیار تو بعد میں آتے ہیں ۔ ثبات قدم کا ذریعہ مگر اس کا سب ہر قوم گرما گرم تقریروں ، اسلحہ اور افرادی قوت قومی تفاخر وغیرہ کو بناتی ہے جبکہ کہ قرآن حکیم نے اس کے لیے کثرت ذکر کا حکم دیا ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ ذکر سے مراد ہر وہ کام ہے جو شریعت کے مطابق کیا جائے یہ عملی ذکر ہے۔ زبان سے حق کی دعوت حق پر ثابت قدم رہنے کی تلقین اور نعرہ ہائے تکبر جو میدان جنگ کا حصہ ہیں یہ ذکر لسانی ہے اور یہ سب کچھ تو ہر حال ہوتا ہے ۔ تمام ظاہری اعمال میں میدان جہاد میں جان کا نذرانہ لے کے صف آرا ہونابہترین عمل ہے اور جہاد کی تلقین جو ش وجذہ کی تائید اور صفوں ترتیب کے احکام بہترین ذکر لسانی ہے پھر اس کے ساتھ کثرت ذ کرلے لیے قلبی طور ثابت رہنے کا بہترین سبب ہے جب دل ثابت ہوگا نوقدم بھی ثابت رہ سکیں اور دوسری طرف حصول فلاح یعنی کامیابی تک پہنچنے کا زینہ بھی ہے لہذا اس کی کثرت کا حکم دیا گیا ۔ ذکرقلبی عمل کی بنیاد فراہم کرتا ہے دراصل قلبی ذکرہی خالص عمل کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور ذاکرین میں دوسروں کی نسبت کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے مگر افسوس کہ مسلمانوں نے یا تو ذکر قلبی کھودیا اور اسے چھوڑبیٹھے یا نام نہاد صوفیوں اور فعلی پیروں سے اس نام پر لٹتے اور وقت اور قوت کو ضائع کرتے رہے کم خوش نصیب ہونگے جنہیں یہ نعمت اصل صورت میں نصیب ہوئی ۔ اللہ کریم اسے مسلمانوں میں پھر سے عام کرے ۔ اٰمین ۔ اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے رہو کہ جہاد ہو یا عبادت ذکر ہو یا مجاہدہ سب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی توفیق اور اطاقت نصیب ہو لہٰذاہر وہ محنت ہر وہ کام اور ہر وہ جہاد نیز ہر وہ ذکر بھی درست نہ رہے گا ۔ جو اطاعت کے دائرے سے باہر لے جاتے کہ مقصد اطاعت الٰہی کے درجہ کمال کو حاصل کرنا ہے جو اطاعت رسول پر مخصر ہے ۔ لہٰذ اجنگ کا مقصد اور ہوتا اور جہاد کا اور یعنی کمال اطاعت کا حصول نیز جھگڑانہ کرو اس سے مراد ہے کہ جہاں مختلف افراد جمع ہوں گے۔ اختلاف رائے یقینا مختلف آراء بھی ہوں گی مگر اپنی رائے کو دوسرے پر ٹھونسنے کی کوشش نہ کرو کہ یہ جھگڑا ہے یعنی اختلاف رائے تو ہوسکتا ہے ۔ مگر رائے دینے کے بعد جو فیصلہ یا حکم امیردے اس کی تعمیل ہو نہ کہ پنی رائے مسلط کرنے کے لیے جھگڑاشروع کردیا جائے کہ جھگڑے سے تو تم لوگ بکھر جاؤگے جب آپس میں اعتماد نہ رہے تو کمزوری پیدا ہوگی اور رعب ودبدبہ جاتا رہے گا کفار بھی تمہاری آپس کی حالت سن کردلیرہوجائیں گے لہٰذا اگر کوئی رائے یا بات خلاف مزاج ہو یا کوئی واقعہ خلاف مزاج ہو ہے کہ صبر کرنے والے کو اللہ کی ذاتی معیت نصیب ہوتی ہے ظاہر ہے کہ جس کے ساتھ اللہ ہوگا وہ ہر حال میں کامیاب ہے ۔ اور نیت و ارادہ کو اللہ لے لیے خا (رح) (رح) لص اور کھرارکھو کہ قریش مکہ جیسا ناپسند دیدہ رویہ کبھی نہ اپناؤکہ جو محض لوگوں کو دکھانے کے لیے اور دینی لڑائی ثابت کرنے کیلئے میدان میں اتراتے ہوئے کود پڑے حالانکہ ویسے بھی وہ بہت ظلم کرتے تھے اور اللہ کے دین کا راستہ رولنے کی بھرپور سعی کرنے والے تھے ۔ مکہ سے تو اطلاع پاکر نکلے مگر جب قافلہ بچ کہ نکل گیا اور انہیں اس کی خبر بھی ہوگئی تو اب جنگ میں کود نادانشمندی ۔ تھی بلکہ قریشی سرداروں نے بھی مشورہ کیا کہ اب جنگ کی ضرورت نہیں مگر ابوجہل اس پر اڑگیا اور اس نے کہا یہ جنگ ضرور ہوگی اس کا خیال تھا کہ اللہ والوں کا خاتمہ کردیں گے مگر ع وہ جو کچھ بھی کرتے اللہ کی قدرت سب پر غالب تھی اور اس کی قدرت کا ملہ ہر حال میں میط ہے ۔ شیطان کے حیکے اس کے بعد شیطانی چالوں کا ذکر فرمایا کہ جب ریاء اور تکبر آجائے تو ایسا آدمی خلاف حق کے لیے کوشش کرتا ہے اور اس پر شیطان ایسے حیلے کرتا ہے کہ اسے برائی بھی بھلی لگتی ہے اور اپنی نیکیوں میں شمار کرتا ہے جیسے اہل مکہ آپ اور اللہ کے دین کا راستہ روکنا ہی نیکی سمجھ رہے تھے حتی کہ بیت اللہ شریف سے دعا کرکے نکلے کہ اے اللہ جو جماعت حق پر ہے اسے فتح عطا کر دوسرے یہ کہ ابلیس نہ صرف کشف میں دھوکا دیتا ہے بلکہ انسانی صورت بن کر بھی فریب کرتا ہے جیسے قریش قافلے کی فریاد پر نکل تو پڑے جب قافلہ بچ جانے کا پتہ چلاتو انہیں واپسی کی فکر بھی تھی کہ بنوبکرجو دشمن قبیلہ تھا وہ مکہ پر حملہ نہ کردے مگر عین میدان میں دیکھا کہ نبوبکرکا سردار سراقہ بن مالک جوانوں کا وستہ ساتھ لیے میدان جنگ میں قریش کی مدد کو آراہا ہے اور اس نے آتے ہی کہا کہ آپس کی ناراضگی الگ بات ہے ۔ پڑوسی بھائی ہیں اور اس مذہبی جنگ میں تو آپ کا پورا پورا ساتھ دوں گا نیز مجھے مسلمانوں کی طاقت کا بھی پتہ ہے بھلا وہ تمہارے سامنے کیا ٹھہرسکیں گے اور اس طرح انہیں جنگ میں دھکیل دی امگر عین میدان جنگ میں جب انوارات و تجلیات کی بارش میں فرشتوں کے پرے اترتے دیکھے تو بھاگا تو قریش نے پکارا کہ ابھی ساتھ دینے کا عہد کر رہے تھے ابھی بھاگ رہے ہو تو کہنے لگا میں اس عہد سے بری ہوتا ہوں اس لیے کہ جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تمہیں نظر نہیں آرہا یعنی خدام رسالت کی مدد کو جو فرشتوں کے لشکر اتر رہے ہیں وہ تمہیں ظاہری آنکھوں دکھائی نہیں دے رہے اور میں اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے ڈرکر بھاگ رہا ہوں جس کی صورت سامنے ہے اور جو بہت سخت ہوتے ہیں کہ اللہ کا عذاب تباہ کردینے والا ہوتا ہے چناچہ وہ بھاگ گیا اور قریش آخرتک سراقہ ہی سمجھاکئے حتی کہ بعد میں کسی موقع پر انہوں نے سراقہ بن مالک سے شکوہ بھی کیا کہ اتنے عظیم سردارہوکرہ میں دھوکا دی اور ہمارے جو انوں کی ہمت تو ڑدی ہماری شکست کے ذمہ دارتم ہو تو اس نے کہا میں تو کبھی ادھرگیا ہی نہیں بلکہ جنگ اور تمہاری شکست کا پتہ بھی تب چلاجب تم واپس مکہ پہنچ چکے تھے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیات : 45 تا 47 لغات القرآن۔ فاثبتوا۔ پس جمے رہو۔ اذکروا اللہ۔ اللہ کو خوب یاد کرو۔ لا تنازعوا ۔ آپس میں نہ جھگڑو۔ فتفشلوا۔ پھر تم بزدل ہو جائو گے۔ تذھب ریحکم۔ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اصبروا۔ صبر کرو۔ خرجوا۔ جو نکلے من دیارھم۔ اپنے گھروں سے ۔ رء الناس۔ لوگوں کو دکھاتے ۔ یصدون۔ وہ روکتے ہیں۔ محیط۔ گھیرنے والا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جہاد و قتال کے چھ قوانین بتائے ہیں جو اہل اسلام کے لئے رہبر و رہنما ہیں۔ (1) ثابت قدمی (2) اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر (3) اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کامل اطاعت (4) آپس میں میل محبت اور اختلافات سے دور (5) صبر و تحمل (6) دکھاوے اور ریا کاری سے بچنا۔ (1) ثابت قدمی سے مراد دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانے صرف اللہ تعالیٰ کی مدد پر بھروسہ کرنا لیکن یہاں صرف ثابت قدمی ہی نہیں بلکہ ثابت قلبی بھی ہے کیونکہ جب تک قلب مضبوط نہ ہو قدم بھی مضبوط نہیں ہوتے۔ (2) ذکر اللہ کی کثرت۔ اگر دیکھاجائے تو دنیا کی ہر قومنے اپنی فوج میں حوصلہ اور ہمت پیدا کرنے کے لئے کچھ ترانے بنا رکھے ہیں کیونکہ زبان سے کچھ خاص کلمات ادا کئے بغیر مارچ کرتی ہوئی فوج میں حوصلہ نہیں بڑھتا۔ کسی بھی غیر اسلامی ترانے میں اللہ کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ شاندین اسلام کی ہے جس نے چودہ سو سال پہلے ذکر اللہ کا نسخہ پیش کیا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فوجیں نعرہ تکبیر ” اللہ اکبر “ کے ساتھ مارچ کرتی تھیں جس سے دشمنوں کے دل دہل جایا کرتے تھے۔ وہ جہاد و قتال میں صرف اللہ کا ذکر کرتے تھے اس سے ان کے دلوں میں قوت کا سمندر موجیں مارنے لگتا تھا۔ کاش کہ آج بھی اہل ایمان ہر غیراسلامی اور غیر اللہ کے ناموں کا نعرہ چھوڑ کر صرف اللہ اکبر کا نعرہ بلند کریں تو کفر کے ایوانوں میں آج بھی زلزلے آسکتے ہیں۔ اور اللہ کے نام او اس کے ذکر سے دنیا ہی میں نہیں بلکہ آخرت میں بھی ہزاروں کامیابیاں انکے قدم چو میں گی۔ (3) زندگی کے ہر میدان میں ثابت قدمی ور ذکر اللہ کی کثرت کے ساتھ تیسری چیز جو فرمائی گئی ہے وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرماں برداری اور احکامات کا ماننا ہے۔ درحقیقت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی اللہ کی غیبی امداد کو انسان کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ (4) آپس میں جھگڑا نہکرو۔ ورنہ تم کمزور ہوجائو گے۔ بزدل ہوجائو گے اور اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمنوں پر جو تمہارا رعب اور ہیبت ہے وہ ختم ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ میں ایک بہت بڑا ہتھیار ” رعب “ ہے۔ یہ مسلمانوں کی ہیبت اور رعب ہی تھا جس نے کفار کے دلوں میں ہلچل مچا کر رکھ دی تھی اور وہ مسلمانوں کے مقابلے میں اپنی ساری طاقت اس لئے جھونک دیتے تھے کہ ان پر مسلمانوں کا رعب طاری تھا۔ آج جو اہل ایمان کے مقابلے میں کفار بےدھڑک اور بےخوف ہو کر حملے کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے آپس میں اپنے اختلافات کو اتنا بڑھا لیا ہے کہ ہم ایک ذہن و فکر پر نہ رہے اس انتشار سے فائدہ اٹھا کر دشمن ہم پر جری ہوگیا ہے۔ اور وہ اس سے پورا پورا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ (5) ثابت قدمی۔ ذکر اللہ و رسول کیا اطاعت آپس میں اتحادو اتفاق اور میل محبت کے ساتھ ساتھ صبرو تحمل ایکدوسرے کو برداشت کرنا۔ اللہ کی راہ میں ڈٹ جانا، پامردی دکھانا۔ ڈر، لالچ اور ہر طرح کے خوف سے بےنیاز ہو کر استقلال اور پامردی کے ساتھ دین کی سربلندی کے لئے کوششیں کرنا یہ بھی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صبر کا سب سے فائدہ یہ ہے کہ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو لوگ صبرو تحمل اختیار کریں گے میں ان کے ساتھ ہوں۔ (6) دکھاوے اور ریاکاری سے پرہیز۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ کفار کا لشکر اپنی طاقت و قوت کا بےجا مظاہرہ کرتا۔ ڈینگیں مارتا اور اپنی تعداد اور دولت کا رعب جماتا ہو آگے بڑھ رہا تھا لیکن جب اس کا واسطہ اہل ایمان سے پڑا تو ان کی شیخی اور دکھاوا ہوا میں اڑ گیا۔ فرمایا کہ اہل ایمان صرف اللہ کی بڑائی بیان کریں، اور صبر و تحمل کا دامن تھام کر کثرت سے ذکر اللہ کرتے رہیں کامیابیاں ان کے قدم چو میں گی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : غزوۂ بدر کے واقعات کی روشنی میں آئندہ کے لیے ہدایات۔ غزوۂ بدر کے معرکہ سے پہلے مسلمانوں میں اس بات پر کچھ اختلاف تھا کہ اب اس معرکہ کی ضرورت ہے یا واپس مدینہ پلٹ جانا چاہیے لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا کہ معرکہ برپا ہو۔ اس لیے مسلمانوں کی کچھ کمزوریوں کو صرف نظر فرما کر ان کی زبردست مدد فرمائی۔ جس کا نتیجہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ اب مسلمانوں کو آئندہ کے لیے ہدایات دی جا رہی ہیں کہ جب تمہارا دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہو۔ تو تمہیں ان باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ بصورت دیگر تم اللہ تعالیٰ کی نصرت و حمایت سے محروم ہوجاؤ گے۔ ١۔ جنگ میں ثابت قدمی دکھانا۔ ٢۔ مسلسل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔ ٣۔ ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنا۔ ٤۔ باہمی اختلاف اور انتشار سے بچ کر رہنا۔ ٥۔ عسرو یسر میں مستقل مزاجی اور صبر و حوصلہ کا مظاہرہ کرنا۔ ٦۔ اسلام کا نقطۂ نظریہ ہے کہ جنگ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ لیکن اگر کفار تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹ بنیں اور عوام الناس پر مظالم ڈھائیں یا مسلمانوں پر جنگ مسلط کریں تو پھر کفار کے مقابلے میں پیچھے ہٹنے کی بجائے مسلمانوں کو پوری ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹ جانا چاہیے اسی کے پیش نظر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ کفار سے جنگ کی آرزونہ کرو اگر تم پر جنگ مسلط کی جائے تو پھر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔ (حوالہ بخاری : کتاب القتال) حالت جنگ میں دشمن کے خلاف ثابت قدمی دکھانا پہلی اور بنیادی بات ہے۔ اس کے بغیر جنگ جیتنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ مجاہد میں ثابت قدمی تبھی پیداہو سکتی ہے جب اس کا دل قائم رہے۔ دل کو قائم رکھنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہی دل کی استقامت کے لیے دعا کی جائے۔ دعا کی ایک صورت اللہ تعالیٰ کو مسلسل یاد رکھنا ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ لوگو ! دلوں کا اطمینان اور سکون میرے ذکر میں ہے۔ ( الرعد : ٢٨) ذکر جتنی کثرت کے ساتھ کیا جائے گا اتنا ہی دل میں ٹھہراؤ اور سکون پیدا ہوگا۔ جب مجاہد کے قدموں میں ثبات اور اس کے دل میں ٹھہراؤ ہو تو اس کی کامیابی یقینی ہے۔ جس کی بشارت دی گئی ہے۔ البتہ کامیابی اس وقت ناکامی میں تبدیل ہوسکتی ہے جب جنگ کے دوران اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کی جائے۔ اس سے مراد شریعت کے مقرر کردہ جنگ کے اصول و ضوابط کی پابندی، برائی اور بےحیائی سے اجتناب اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے لڑنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کو بالعموم اور مجاہدین کو بالخصوص باہمی اختلافات سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر دشمن کو مسلمانوں کے باہمی اختلاف کا علم ہوجائے تو ان کے حوصلے بلند ہوں گے کیونکہ اختلاف کی وجہ سے قوم کا اجتماعی رعب اور دبدبہ ختم ہوجاتا ہے۔ آخر میں صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ صبر کا معنی مستقل مزاجی اور تنگی اور خوشحالی میں حوصلہ رکھنا ہے۔ جنگ کے دوران اس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جنگ کے دوران بھوک، پیاس اور ہر قسم کی تکلیف سے مجاہد کو واسطہ پڑتا ہے ان حالات میں مجاہدین صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے گا جس کی تازہ مثال بدر میں مسلمان دیکھ چکے تھے۔ (عَنْ سَالِمٍ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ وَکَانَ کَاتِبًا لَہٗ قَالَ کَتَبَ إِلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أَبِی أَوْفَی (رض) فَقَرَأْتُہُ إِنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِی بَعْضِ أَیَّامِہِ الَّتِی لَقِیَ فیہَا انْتَظَرَ حَتَّی مَالَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ قَامَ فِی النَّاسِ خَطِیبًا قَالَ أَیُّہَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فَإِذَا لَقِیتُمُوہُمْ فَاصْبِرُوا واعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَال السُّیُوفِ ثُمَّ قَال اللّٰہُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِیَ السَّحَابِ وَہَازِمَ الْأَحْزَابِ اہْزِمْہُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْہِمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجہاد والسیر ] ” حضرت سالم، ابونضر جو کہ عمر بن عبیداللہ کے غلام ہیں اور وہ ان کے مکاتب ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ان کی طرف عبیداللہ بن ابو اوفی (رض) نے خط لکھا میں نے اسے پڑھا۔ اس میں تھا رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جن دنوں غزوہ میں کفار کے خلاف برسر پیکار تھے۔ انتظار کیا یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا پھر نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمایا اے لوگو ! دشمن سے سامنا کی خواہش نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو۔ جب تمہارا دشمن سے سامنا ہوجائے تو ڈٹ جاؤ اور جانو بلاشبہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ پھر دعا کی اے اللہ کتاب نازل فرمانے والے اور بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو شکست دینے والے۔ دشمن کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ مسائل ١۔ مجاہدین کو جنگ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ٢۔ مسلمان کو ہر وقت بالخصوص حالت جنگ میں اللہ تعالیٰ کو کثرت کے ساتھ یاد کرنا چاہیے۔ ٣۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنی چاہیے۔ ٤۔ باہمی اختلاف سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ اختلاف میں ساکھ اور وقار ختم ہوجاتا ہے۔ ٥۔ عسر ویسر میں مستقل مزاجی اور صبر و حوصلہ سے کام لینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنا چاہیے : ١۔ صبح اور شام اللہ کا ذکر کثرت سے کرو۔ (آل عمران : ٤١) ٢۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد زمین میں نکل جاؤ اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الجمعۃ : ١٠) ٣۔ ایام تشریق میں اللہ کو زیادہ یاد کرو۔ (البقرۃ : ٢٠٢) ٤۔ جب حج کے مناسک ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو۔ (البقرۃ : ١٩٨) ٥۔ جنگ کے دوران۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الانفال : ٤٥) ٦۔ اے ایمان والو ! اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔ (الاحزاب : ٤١) ٧۔ جب نماز ادا کر چکو تو۔ اللہ کو یاد کرو۔ (النساء : ١٠٣) ٨۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (الاحزاب : ٣٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اگر معاملہ ایسا ہی ہے ، تدبیر سب کی سب اللہ کی ہے۔ نصرت اللہ کی جانب سے ہے۔ محض کثرت عداد ہی فیصلہ کن فیکٹر نہیں ہے اور محض مادی سازوسامان ہی کسی معرکے کے لیے فیصلہ کن نہیں ہوتا ، لہذا جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کو چاہئے کہ جب کفار کے ساتھ ان کی مڈ بھیڑ ہوجائے تو وہ ثابت قدمی اختیار کریں۔ اور ان کو چاہی کہ وہ حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی کے لیے حقیقی سازوسامان تیار کریں اور ان کو وہ سائل اختار کرنے چاہئیں جن کا تعلق صاب تدبیر اور صاحب تقدیر کے اسلحہ خانہ سے ہو۔ اور فتح و نصرت اور صاب عون مالک حقیقی سے امداد حاصل کریں۔ اس ذات کی طرف رجوع کریں جو مقتدر اعلی اور قوت و سطوت کا مالک ہے۔ اور ان باتوں سے بچیں جو کفار مشرکین کے لیے باعث شکست ہوتی ہیں حالانکہ ان کی تعداد اور سازوسامان بہت زیادہ ہے۔ اور ان کو چاہیے کہ وہ کبر و غرور اور اترانے اور دکھانے سے بچیں شیطان کے دھوکوں سے ہوشیار رہیں جس نے کفار کو مار ڈالا۔ لہذا ان کو چاہی کہ وہ اللہ پر توکل کریں جو عزیز و حکیم ہے۔ ان قلیل فقروں میں معانی و اشارات کا ایک سمندر موجزن ہے۔ اہم اصول و ہدایات منضبط کردی گئی ہیں۔ مناظر اور مشاہد اس طرح نظر آتے ہیں کہ گویا اسکرین پر چل رہے ہیں۔ اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ الفاظ دل کے خیالات ، ضمیر کے جذبات اور دماغ کے نہاں خانوں کی کیفایت کے ظہر ہیں۔ اگر انہی معانی کو کوئی انسان اور ادیب قلم بند کرنا چاہے تو دفتر درکار ہیں اور پھر بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ حق ادا کرسکے۔ غرض یہ حیرت انگیز تصویر کشی ہے جو قرآن کرتا ہے۔ اہل ایمان کو پکارا جاتا ہے ، جس طرح اس صورت میں مسلسل پکاریں منضبط ہیں۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ جب بھی کسی دشمن سے آمنا سامنا ہو تو ثابت قدم رہنے کی سعی کرو۔ اور فتح و نصرت کے حققی وسائل اپنے اند رپیدا کرو۔ اصل تیاری یہ تیاری ہے۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۔ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت دے یاد کرو ، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر کام لو ، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور ان لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ، جو کچھ وہ کر رہے ہیں ، وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ یہ ہیں فتح و نصرت کے حقیقی اساب کہ دشمن کے مقابلے میں فوج اسلام ثابت قدم ہو ، اس کے دل اللہ کے ساتھ مربوط ہو ، وہ رسول اور اپنے قائد کی مطیع فرمان ہو۔ اور اس کے افراد باہم نزاعات اور اختلاف سے مجتنب ہوں۔ اس راہ میں ان کو جو مشکلات در پیش ہوں ان کو برداشت کرنے والے ہوں اور اترانے اور دکھانے والے نہ ہوں اور نہ اپنی قوت کی وجہ سے سرکشی کرنے والے ہوں۔ جہاں تک ثبات اور جم جانے کا تعلق ہے تو یہ فتح ونصرت کی راہ میں پہلا قدم ہے۔ جو بھی میدان میں جم جائے گا وہی نصرت پائے گا۔ پھر جبکہ مسلمانوں کو اس کا بھی علم نہیں ہے کہ ان کا دشمن کس قدر مشکلات انگیز کر رہا ہے اور جس طرح ان کو دکھ پہنچ رہے ہیں ، دشمن کو بھی پہنچ رہے ہیں جبکہ اہل ایمان اللہ کی جانب سے عزا اور شہادت کی صورت میں مرتبوں کے امیدوار ہیں اور ان کو یہ امید بھی نہیں بلکہ جہنم یقینی ہے۔ مومن اللہ کے ہاں سے اجر پانے کی صورت میں امید کرتا ہے ۔ اس لیے وہ ثابت قدم رہتا ہے جبکہ ان کو کوئی امید ہی نہیں ہے۔ اگر وہ ذرا بھی صبر و ثبات کا مظاہرہ کریں تو دشمن ٹوٹنے ہی والا ہے۔ اہل اسلام تو دو بھلائیوں میں ایک ضرور پائیں گے۔ اور ان کو گارنٹی دے دی گئی ہے یا شہادت اور یا فتح و نصرت۔ جبکہ ان کے دشمن کو اس دنیاوی زندگی کی بھی گارنٹی نہیں ہے۔ جس پر وہ فدا ہے ، اس لیے کہ آخرت میں تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ پھر جنگ میں ذکر الہی تو ایک دائمی زاد راہ ہے اور مومنین کو اس کی سخت تاکید کردی گئی ہے اور اہل ایمان مجاہدین نے ہمیشہ ذکر الہی کو زبان اور دل میں زندہ رکھا اور قرآن کریم میں اہل ایمان کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ، اس کا ذکر خصوصیت سے کیا ہے۔ اہل ایمان کی جانب سے ذکر الہی کا تذکرہ قرآن کریم بار بار کرتا ہے۔ ساحروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جب ایمان قبول کیا اور فرعون نے ان سے دھمکی آمیز خطاب کیا۔ تو ان کا جواب یہ تھا : وما تنقم منا الا ان امنا بایات ربنا لما جاء تنا ربنا افرغ علینا صبرا وتوفنا مسلمین اور تم ہم سے انتقام محض اس لیے لوگے کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لائے ہیں ، جبکہ یہ آیت ہم تک پہنچ گئیں۔ اے ہمارے رب ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں اس حال میں مار کہ ہم مسلمان ہوں۔ اسی طرح بنی اسرائیل کی ایک قلیل فوج کے واقعات میں بھی اس صفت کا ذکر آیا ہے ۔ اس قلیل تعداد کا مقابلہ جب جالوت اور اس کی افواج کثیرہ سے آیا تو انہوں نے کہا ولما برزوا لجالوت و جنودہ قالوا ربنا افرغ علینا صبرا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکفرین۔ جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے پر نکلے تو انہوں نے دعا کی " اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان کر ، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر " اسی طرح اسلامی تاریخ میں بیشمار مومن دستوں نے کفار کے مقابلے میں جو مواقف اختیار کیے ان کے بارے میں قرآن کریم یہ کہتا ہے : وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر فما وھنوا لما اصابہم فی سبیل اللہ وما ضدفوا وما استکانوا واللہ یحب الصبرین۔ وماکان قولہم الا ان قالوا ربنا اغفر لنا ذنوبنا واسرافنا فی امرنا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکفرین : اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے ، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی اور وہ باطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوئے۔ ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ ان کی دعا بس یہی تھی " اے ہمارے رب ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہوگیا ہو اسے معاف کردے ، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر " جماعت مومنہ کے دلوں میں یہ تعلیم خوب بیٹھ گئی۔ جب بھی اس کا مقابلہ دشمن سے ہوا کرتا تھا اس کا رویہ ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔ اس کے بعد جنگ احد میں جماعت مسلمہ کو مشکلات در پیش ہوئیں اور وہ دل شکستہ ہوگے اور بدر کے عین دوسرے دن جب اس شکست خوردہ لشکر کو دوبارہ پکارا گیا تو یہ تعلیم ان کے نفوس پر پوری طرح حاوی تھی۔ ان الذین قال لہم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم فزادھم ایمانا و قالوا حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ وہ لوگ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگ تمہارے خلاف جمع ہوگئے ، لہذا ان سے ڈرو ، تو ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوگیا اور انہوں نے کہا : اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور اچھا مددگار ہے دشمن کے آمنے سامنے ہونے کے وقت ذکر الہی کے بیشمار فوائد ہی ، ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان کا رابطہ ایک ایسی قوت سے ہوجاتا ہے جس پر کوئی غالب قوت نہیں ہے ، پھر یہ اللہ پر بھروسہ ہے جو اپنے دوستوں کی بھرپور نصرت کرتا ہے۔ اس سے اس معرکے کی حقیقت ، اس کے اسباب اور اس کے مقاصد ذہن میں مستحضر رہتے ہیں ، کیونکہ یہ معرکہ اللہ کی خاطر لڑا جاتا ہے۔ اس کرہ ارض پر اللہ کی حکومت کے قیام کے لیے لڑا جاتا ہے اور ان طاغوتی طاقتوں کو ختم کرنے کے لیے لڑا جاتا ہے جنہوں نے ان کے حق اقتدار پر زبردستی قبضہ کرلیا ہے ، کیونکہ اس معرکے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کیا جائے۔ یہ جنگ نہ ملک گیری کے لیے ہے نہ اموال غنیمت اور لوٹ مار کے لیے ہے۔ نہ شخصی حکومت کے قیام کے لیے ہے اور نہ قومی حکومت کے قیام کے لیے ہے۔ نیز اس حکم سے یہ تاکید بھی مقصود ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی انسان کو ذکر الہی سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ یہ تمام اشارات نہایت ہی قیمتی اشارات ہیں اور اللہ کی ان تعلیمات کی وجہ سے یہ حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دشمنوں سے مقابلہ ہوجائے تو جم کر مقابلہ کرو اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرو ان آیات میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا ہے کہ جب کبھی کسی جماعت سے تمہارے مڈ بھیڑ ہوجائے یعنی جنگ اور لڑائی کی نوبت آجائے تو ثابت قدمی کے ساتھ جم کر مقابلہ کرو حضرت عبداللہ بن اوفیٰ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ دشمن سے مڈ بھیڑ ہونے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو پھر جب مڈ بھیڑ ہوجائے تو جم کر لڑو۔ اتنا مضمون صحیح بخاری ص ٤٢٤ ج ٢ میں ہے۔ مسند دارمی ص ١٣٥ ج ٢ میں یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت کی ہے اس میں یوں ہے کہ دشمن سے مقابلہ ہونے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو، سو جب تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرو۔ سو اگر دشمن چیخیں، چلائیں تو تم خاموشی اختیار کرو۔ حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ سوال تو عافیت ہی کا کرتے رہیں اور جب دشمنان دین سے لڑنے کا موقعہ آجائے تو کمزوری نہ دکھائیں ثابت قدم رہیں جم کر لڑیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی کریں اور قتال کے آداب میں سے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ خاموشی سے لڑیں۔ شور و شغب سے بچیں۔ حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تین مواقع میں اللہ تعالیٰ کی خاموشی محبوب ہے۔ تلاوت قرآن کے وقت اور قتال کے وقت اور جس وقت جنازہ حاضر ہو۔ (ذکرہ الحافظ ابن کثیر فی تفسیرہ ص ٣١٦ ج ٢) خوب مضبوطی اور جماؤ کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا (وَ اذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا) اور اللہ کو خوب زیادہ یاد کرو۔ یوں تو اللہ کا ذکر ہر وقت ہونا چاہئے لیکن خاص کر جنگ کے موقعہ میں اس کی اہمیت اور زیادہ ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا، مدد مانگنا، تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنا یہ سب اللہ کا ذکر ہے۔ مومن بندہ لڑتا ہی اللہ کے لیے ہے۔ اس کا مرنا اور جینا اللہ کے لیے ہے۔ پھر جنگ کے وقت اللہ کے ذکر سے غافل ہونے کا تو کوئی موقعہ ہی نہیں۔ اس موقعہ پر ذکر کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ بظاہر جنگ کی طرف پوری مشغولیت ہو اور باطن اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو اور زبان پر اللہ کا ذکر جاری ہو یہ مومن کی خاص شان ہے۔ حضرت سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ نماز، روزے اور ذکر ان سب کا ثواب فی سبیل اللہ (عزوجل) مال خرچ کرنے کی بہ نسبت سات سو گنا بڑھا دیا جاتا ہے (رواہ ابو داؤد ص ٢٥٨ ج ٢) اور ذکر کا ثواب اس سے سات سو گنا زیادہ ہے۔ نیز سہل بن معاذ اپنے والد سے یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس نے فی سبیل اللہ ایک ہزار آیات پڑھ لیں اللہ تعالیٰ اسے انبیاء اور صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ لکھ دے گا۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک و قال صحیح الاسناد کمافی الترغیب ص ٢٦٧ ج ٢) پھر فرمایا (لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) جم کر لڑیں گے ثابت قدم رہیں گے۔ اللہ کا ذکر کریں گے تو کامیاب ہوں گے۔ دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہوگی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

49: مضمونِ ثانی (قوانین جہاد) پہلا قانون جہاد برائے مؤمنین : اے ایمان والو ! جب کسی کافر فوج سے مقابلہ ہوجائے۔ تو مقابلے میں ثابت قدم رہو اور فتح و نصرت کے لیے اللہ کو یاد کرو اور اسی کو پکارو۔ “ وَ اَطِیعُوْ اللّٰهَ الخ ” اور اللہ و رسول کے احکام کی پیروی کرو اور آپس میں نزاع وجدال سے پرہیز کرو۔ ورنہ تم کمزور و بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری قوت اور شان و شوکت جاتی رہے گی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

45 اے ایمان لانے والو ! جب تم جہاد میں کافروں کی کسی جماعت سے نبرد آزما ہو اور تمہارا مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور مضبوطی سے جمے رہو اور اللہ تعالیٰ کا بکثرت ذکر کرو تاکہ تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو یعنی جہاد کے یہ آداب ہیں کہ جب مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو اور خدا تعالیٰ کا خوب ذکر کرو کیونکہ خدا تعالیٰ کی یاد سے دل مضبوط ہوتے ہیں اور جنگ میں دوہی چیزوں سے کامیابی ہوتی ہے ایک قدم کی جمائو دوسرے دل کی ہمت۔ حدیث میں ہے دشمن کے مقابلہ کی تمنا نہ کیا کرو اور اگر مقابلہ ہوجائے تو صبر کرو اور ثابت قدم رہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مدد اللہ کی چاہو تو اسباب ظاہری سے نہیں دل کی استقامت اور یاد اللہ کی اور حکم برداری سردار کی اور ایک مصلحت چاہنی۔ 12