Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 61

سورة الأنفال

وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۱﴾

And if they incline to peace, then incline to it [also] and rely upon Allah . Indeed, it is He who is the Hearing, the Knowing.

اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ یقیناً وہ بہت سننے جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to Facilitate Peace when the Enemy seeks a Peaceful Resolution Allah says, if you fear betrayal from a clan of people, then sever the peace treaty with them, so that you both are on equal terms. If they continue being hostile and opposing you, then fight them, وَإِن جَنَحُواْ ... But if they incline, and seek, ... لِلسَّلْمِ ... to peace, if they resort to reconciliation, and seek a treaty of non-hostility, ... فَاجْنَحْ لَهَا ... you also incline to it, and accept offers of peace from them. This is why when the pagans inclined to peace in the year of Hudaybiyyah and sought cessation of hostilities for nine years, between them and the Messenger of Allah he accepted this from them, as well as, accepting other terms of peace they brought forth. Abdullah bin Al-Imam Ahmad recorded that Ali bin Abi Talib said that the Messenger of Allah said, إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي اخْتِلَفٌ أَوْ أَمْرٌ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَكُونَ السِّلْمَ فَافْعَل There will be disputes after me, so if you have a way to end them in peace, then do so. Allah said next, ... وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ ... and trust in Allah. Allah says, conduct a peace treaty with those who incline to peace, and trust in Allah. ... إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ Verily, He is the All-Hearer, the All-Knower.

جس قوم سے بد عہدی کا خوف ہو انہیں آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر دو فرمان ہے کہ جب کسی قوم کی خیانت کا خوف ہو تو برابری سے آگاہ کر کے عہد نامہ چاک کر ڈالو ، لڑائی کی اطلاع کردو ۔ اس کے بعد اگر وہ لڑائی پر آمادگی ظاہر کریں تو اللہ پر بھروسہ کر کے جہاد شروع کر دو اور اگر وہ پھر صلح پر آمادہ ہوجائیں تو تم پھر صلح و صفائی کرلو ۔ اسی آیت کی تعمیل میں حدیبیہ والے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین مکہ سے نو سال کی مدت کے لیے صلح کر لی جو شرائط کے ساتھ طے ہوئی ۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب اختلاف ہوگا اور بہتر یہ ہے کہ ہو سکے تو صلح ہی کر لینا ( مسند امام احمد ) مجاہد کہتے ہیں یہ بنو قریظہ کے بارے میں اتری ہے لیکن یہ محل نظر میں ہے سارا قصہ بدر کا ہے ۔ بہت سے بزرگوں کا خیال ہے کہ سورۃ براۃ کی آیت سے ( قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰي يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ 29؀ۧ ) 9- التوبہ:29 ) سے منسوخ ہے کہ لیکن اس میں بھی نظر ہے کیونکہ اس آیت میں جہاد کا حکم طاقت و استطاعت پر ہے لیکن دشموں کی زیادتی کے وقت ان سے صلح کر لینا بلاشک و شبہ جائز ہے جیسے کہ اس آیت میں ہے اور جیسے کہ حدیبیہ کی صلح اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کی ۔ پس اس کے بارے میں کوئی نص اس کے خلاف یا خصوصیت یا منسوخیت کی نہیں آئی واللہ اعلم ۔ پھر فرماتا ہے اللہ پر بھروسہ رکھ وہی تجھے کافی ہے وہی تیرا مددگار ہے ۔ اگر یہ دھوکہ بازی کر کے کوئی فریب دینا چاہتے ہیں اور اس درمیان میں اپنی شان و شوکت اور آلات جنگ بڑھانا چاہتے ہیں تو تو بےفکر رہ اللہ تیرا طرف دار ہے اور تجھے کافی ہے اس کے مقابلے کا کوئی نہیں پھر اپنی ایک اعلیٰ نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ مہاجرین و انصار سے صرف اپنے فضل سے تیری تائید کی ۔ انہیں تجھ پر ایمان لانے تیری اطاعت کرنے کی توفیق دی ۔ تیری مدد اور تیری نصرت پر انہیں آمادہ کیا ۔ اگرچہ آپ روئے زمین کے تمام خزانے خرچ کر ڈالتا لیکن ان میں وہ الفت وہ محبت پیدا نہ کر سکتا جو اللہ نے خود کر دی ۔ ان کی صدیوں پرانی عداوتیں دور کردیں اور اوس و خزرج انصار کے دونوں قبیلوں میں جاہلیت میں آپس میں خوب تلوار چلا کرتی تھی ۔ نور ایمان نے اس عداوت کو محبت سے بدل دیا ۔ جیسے قرآن کا بیان ہے کہ اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ تم آپس میں اپنے دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل ملادئیے اور اپنے فضل سے تمہیں بھائی بھائی بنا دیا تم جہنم کے کنارے تک پہنچ گئے تھے لیکن اس نے تمہیں بچالیا ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ہدایت کے لیے اسی طرح اپنی باتیں بیان فرماتا ہے ۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اے انصاریو کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں پاکر اللہ کی عنایت سے تمہیں راہ راست نہیں دکھائی؟ کیا تم فقیر نہ تھے؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے امیر کر دیا جدا جدا تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہارے دل ملا دیئے ۔ آپ کی ہر بات پر انصاف کہتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے بھی زیادہ احسان ہم پر ہے ۔ الغرض اپنے اس انعام و اکرام کو بیان فرما کر اپنی عزت و حکمت کا اظہار کیا کہ وہ بلند جناب ہے اس سے امید رکھنے والا ناامید نہیں رہتا اس پر توکل کرنے والا سرسبز رہتا ہے اور اپنے کاموں میں اپنے حکموں میں حکیم ہے ۔ ابن عباس فرماتے ہیں اس سے قرابت داری کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب نعمت کی ناشکری کی جاتی ہے ۔ جناب باری سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر روئے زمین کے خزانے بھی ختم کر دیتا تو تیرے بس میں نہ تھا کہ ان کے دل ملا دے ۔ شاعر کہتا ہے تجھ سے دھوکا کرنے والا تجھ سے بےپرواہی برتنے والا تیرا رشتے دار نہیں بلکہ تیرا حقیقی رشتے دار وہ ہے جو تیری آواز پر لبیک کہے اور تیرے دشمنوں کی سرکوبی میں تیرا ساتھ دے ۔ اور شاعر کہتا ہے میں نے تو خوب مل جل کر آزما کر دیکھ لیا کہ قرابت داری سے بھی بڑھ کر دلوں کا میل جول ہے ۔ امام بیہقی فرماتے ہیں میں نہ جان سکا کہ یہ سب قول ابن عباس کا ہے یا ان سے نیچے کے راویوں میں سے کسی کا ہے ۔ ابن مسعود فرماتے ہیں ان کی یہ محبت راہ حق میں تھی توحید و سنت کی بنا پر تھی ۔ ابن عباس فرماتے ہیں رشتے داریاں ٹوٹ جاتی ہیں احسان کی بھی ناشکری کر دی جاتی ہے لیکن جب اللہ کی جانب سے دل ملا دیئے جاتے ہیں انہیں کوئی جدا نہیں کر سکتا ہے پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت فرمائیں ۔ عبدہ بن ابی لبابہ فرماتے ہیں میری حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ کر کے فرمایا کہ جب دو شخص اللہ کی راہ میں محبت رکھنے والے آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے خندہ پیشانی سے ہاتھ ملاتے ہیں تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے میں نے کہا یہ کام تو بہت آسان ہے فرمایا یہ نہ کہو یہی الفت وہ ہے جس کی نسبت جناب باری فرماتا ہے کہ اگر روئے زمین کے خزانے خرچ کر دے تو بھی یہ تیرے بس کی بات نہیں کہ دلوں میں الفت ومحبت پیدا کردے ۔ ان کے اس فرمان سے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ مجھ سے بہت زیادہ سمجھ دار ہیں ۔ ولید بن ابی مغیث کہتے ہیں میں نے حضرت مجاہد سے سنا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں میں نے پوچھا صرف مصافحہ سے ہی؟ تو آپ نے فرمایا کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ پھر آپ نے اسی جملے کی تلاوت کی ۔ تو حضرت ولید نے فرمایا تم مجھ سے بہت بڑے عالم ہو ۔ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں سب سے پہلے چیز جو لوگوں میں سے اٹھ جائے گی و الفت و محبت ہے ۔ طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے مل کر اس سے مصافحہ کرتا ہے تو دونوں کے گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت کے خشک پتے ہوا سے ۔ ان کے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں گوہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

61۔ 1 اگر حالات جنگ کے بجائے صلح کے متقاضی ہوں اور دشمن بھی مائل بہ صلح ہو تو صلح کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر صلح سے دشمن کا مقصد دھوکا اور فریب ہو تب بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں اللہ پر بھروسہ رکھیں، یقینا اللہ دشمن کے فریب سے بھی محفوظ رکھے گا، اور وہ آپ کو کافی ہے۔ لیکن صلح کی یہ اجازت ایسے حالات میں ہے جب مسلمان کمزور ہوں اور صلح میں اسلام اور مسلمان کا مفاد ہو لیکن جب اس کے برعکس ہوں، مسلمان قوت و وسائل میں ممتاز ہوں اور کافر کمزور تو اس صورت میں صلح کے بجائے کافروں کی قوت کو توڑنا ضروری ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٣] معاہدہ کے لئے تیار رہنا چاہئے خواہ دشمن سے غداری کا خطرہ ہو کیونکہ اسلام امن پسند مذہب ہے :۔ یعنی جو قوم بھی مسلمانوں سے صلح یا معاہدہ امن کے لیے پیش قدمی یا پیشکش کرے تو مسلمانوں کو یہ نہ سوچنا چاہیے کہ ممکن ہے یہ لوگ اپنی کسی ذاتی مصلحت کے لیے یا کسی مناسب موقعہ کے انتظار کے لیے ایسا کر رہے ہیں اور جب انہیں موقعہ میسر آئے گا تو وہ مسلمانوں سے فریب اور غداری کر جائیں گے بلکہ دلیر ہو کر اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کی اس پیش کش کو قبول کرلینا چاہیے۔ رہا ان کی نیت کا فتور تو وہ اللہ تعالیٰ کو سب کچھ معلوم ہے۔ ایسی صورت میں اللہ یقیناً ان لوگوں کی مدد کرے گا جو صلح اور امن کے لیے ہر وقت تیار رہتے اور اپنے معاہدہ کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یہ آیت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ اسلام امن و آشتی کا دین اور اس کا پیامبر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا : بھر پور جنگی تیاری اور جہاد جاری رکھنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دشمن صلح کی طرف مائل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے صلح کی طرف مائل ہونے والوں سے صلح کرلینے کا حکم دیا، کیونکہ اسلامی جہاد کا مقصد اللہ کے دین کا غلبہ ہے، ہر حال میں غیر مسلموں کو تہ تیغ کرنا نہیں، نہ انھیں زبردستی مسلمان بنانا ہے۔ اس صلح کے نتیجے میں بہت سی دینی اور دنیوی برکات حاصل ہوں گی، مسلمانوں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے کفار اسلام سے واقف ہوں گے، اسلام کی اشاعت بڑھے گی، جس کا نتیجہ اسلام کا غلبہ ہوگا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کو ” فتح مبین “ قرار دیا۔ بعض اوقات جزیے پر صلح ہوگی جو مسلمانوں کی مالی قوت میں اضافے کا باعث ہوگی اور دنیا میں جنگ کے ماحول کے بجائے امن و اطمینان کا دور دورہ ہوگا جو صرف اسلام کے غلبے کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ محض ہمت ہار کر بزدلی کی وجہ سے خود دشمن کو صلح کی پیش کش اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ دیکھیے سورة محمد (٣٥) صلح کی صورت میں کفار کی عہد شکنی یا سازشوں کے خطرے کی پروا نہ کریں، بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھیں، وہ سب کچھ سن رہا ہے، دیکھ رہا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The third verse (61) takes up injunctions of peace and aspects relat¬ed to it. It was said: وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا (And if they tilt towards peace, you tilt towards it). The word: سَلم (salm) with fatha (′)on sin (س), or: سِلم (silm with kasrah ( ِ ) on sin (س) are both used in the sense of peace. The meaning of the verse - as fairly evident from the translation - is that should the disbelievers incline towards peace on some occasion, you too should incline towards it. At this point, it should be borne in mind that the im¬perative form has been used here to carry the sense of choice. Thus, the intended sense is that at a time when disbelievers are inclined towards peace, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) also has the choice of making peace, if he feels peace is in the best interest of Muslims. And the restriction of: إِن جَنَحُوا (if they tilt) tells us that peace can be made only when the desire to have peace comes from the disbelievers - because, should Muslims themselves start proposing peace without their desire to have it, then, this would be taken as a sign of their weakness. However, should there arise a situation in which Muslims are totally encircled and find no way out except a peace for security deal, then, initiating a peace proposal is also permissible as ruled by Mus¬lim jurists and as proved through hints given in the directives of the Holy Qur&an and Sunnah نُصُوص (nusus). And since the proposal of peace initiated by the enemy does have the probability that they might use it as a strategy of deceit, make them negligent and then make a surprise attack, therefore, at the end of the verse, the instruction given to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was: وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (and place your trust in Allah. Surely, He is the All-Hearing, All-Knowing - 61). It means that Allah Ta` ala hears what they say and also knows the intentions and designs concealed in their hearts. He is sufficient to help you, therefore, do not base your decisions to do things on such probabilities which cannot be proved. The safest policy was to entrust all such apprehensions and scruples with Allah.

تیسری آیت میں صلح کے احکام اور اس کے متعلقات کا بیان ہے ارشاد فرمایا (آیت) وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا، لفظ سلم بفتح السین اور سلم بکسرا لسین دونوں طرح صلح کے معنی میں آتا ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر کفار کسی وقت صلح کی طرف جھکیں تو آپ کو بھی جھک جانا چاہئے۔ یہاں صیغہ امر تخییر کے لئے استعمال فرمایا ہے مراد یہ ہے کہ جب کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ کو بھی اختیار ہے اگر مسلمانوں کی مصلحت صلح میں محسوس کریں تو صلح کرسکتے ہیں۔ اور اِنْ جَنَحُوْا کی قید سے معلوم ہوا کہ صلح اسی وقت کی جاسکتی ہے جب کفار کی طرف سے صلح کی خواہش ظاہر ہو۔ کیونکہ بغیر ان کی خواہش کے اگر مسلمان خود ہی صلح کی تحریک کریں تو یہ ان کی کمزوری سمجھی جائے گی۔ ہاں اگر کوئی موقع ایسا آپڑے کہ مسلمان کسی نرغہ میں گھر جائیں اور اپنی سلامتی کے لئے کوئی صورت بجز صلح کے نظر نہ آئے تو صلح میں پیش قدمی بھی بقول فقہاء جائز اور اشارات نصوص سے ثابت ہے۔ اور چونکہ دشمن کی جانب سے صلح کی خواہش ہونے میں یہ احتمال رہتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دے کر غفلت میں ڈال دیں اور پھر یکبارگی حملہ کردیں اس لئے آخر آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت دی گئی کہ (آیت) وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ، یعنی آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں کہ وہی خوب سننے والے جاننے والے ہیں۔ وہ انکی گفتگو کو بھی سنتے ہیں۔ اور ان کے دلوں میں چھپے ہوئے ارادوں کو بھی جانتے ہیں وہ آپ کی مدد کے لئے کافی ہیں۔ آپ ایسے بےدلیل احتمالات پر اپنے کاموں کی بنیاد نہ رکھیں۔ اور ایسے خطرات کو اللہ کے حوالہ کردیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِ۝ ٠ ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ ٦١ جنح الجَنَاح : جناح الطائر، يقال : جُنِحَ «4» الطائر، أي : کسر جناحه، قال تعالی: وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ [ الأنعام/ 38] ، وسمّي جانبا الشیء جَناحيه، فقیل : جناحا السفینة، وجناحا العسکر، وجناحا الوادي، وجناحا الإنسان لجانبيه، قال عزّ وجل : وَاضْمُمْ يَدَكَ إِلى جَناحِكَ [ طه/ 22] ، أي : جانبک وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَناحَكَ [ القصص/ 32] ، عبارة عن الید، لکون الجناح کالید، ولذلک قيل لجناحي الطائر يداه، وقوله عزّ وجل : وَاخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ [ الإسراء/ 24] ، فاستعارة، وذلک أنه لما کان الذلّ ضربین : ضرب يضع الإنسان، وضرب يرفعه۔ وقصد في هذا المکان إلى ما يرفعه لا إلى ما يضعه۔ فاستعار لفظ الجناح له، فكأنه قيل : استعمل الذل الذي يرفعک عند اللہ من أجل اکتسابک الرحمة، أو من أجل رحمتک لهما، وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَناحَكَ مِنَ الرَّهْبِ [ القصص/ 32] ، ( ج ن ح ) الجناح پر ندکا بازو ۔ اسی سے جنح الطائر کا محاورہ ماخوذ ہے جس کے معنی اس کا باز و تو (علیہ السلام) ڑ دینا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛َ ۔ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ [ الأنعام/ 38] یا دوپروں سے اڑنے والا جانور ہے ۔ پھر کسی چیز کے دونوں جانب کو بھی جناحین کہدیتے ہیں ۔ مثلا جناحا السفینۃ ( سفینہ کے دونوں جانب ) جناحا العسکر ( لشکر کے دونوں جانب اسی طرح جناحا الوادی وادی کے دونوں جانب اور انسان کے دونوں پہلوؤں کو جناحا الانسان کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے جانبک وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَناحَكَ [ القصص/ 32] اور اپنا ہاتھ اپنے پہلو سے لگا لو ۔ اور آیت :۔ :۔ وَاضْمُمْ إِلَيْكَ جَناحَكَ مِنَ الرَّهْبِ [ القصص/ 32] اور خوف دور ہونے ( کی وجہ ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سکیڑلو ۔ میں جناح بمعنی ید کے ہے ۔ کیونکہ پرند کا بازو اس کے لئے بمنزلہ ہاتھ کے ہوتا ہے اسی لئے جناحا الطیر کو یدا لطیر بھی کہا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمۃ :۔ وَاخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ [ الإسراء/ 24] اور عجز دنیا سے انگے آگے جھکے رہو ۔ میں ذل کے لئے جناح بطور استعارہ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ ذل یعنی ذلت و انکساری دو قسم پر ہے ایک ذلت وہ ہے جو انسان کو اس کے مرتبہ سے گرا دیتی ہے اور دوسری وہ ہے جو انسان کے مرتبہ کو بلند کردیتی ہے اور یہاں چونکہ ذلت کی دوسری قسم مراد ہے ۔ جو انسان کو اس کے مرتبہ سے گرانے کی بجائے بلند کردیتی ہے اس لئے جناح کا لفظ بطور استعارہ ( یعنی معنی رفعت کی طرف اشارہ کے لئے ) استعمال کیا گیا ہے گویا اسے حکم دیا گیا ہے کہ رحمت الہی حاصل کرنے کے لئے ان کے سامنے ذلت کا اظہار کرتے رہو اور یا یہ معنی ہیں کہ ان پر رحمت کرنے کے لئے ذلت کا اظہار کرو ۔ قافلہ تیزی سے چلا گویا وہ اپنے دونوں بازوں سے اڑ رہا ہے ۔ رات کی تاریکی چھاگئی ۔ سِّلْمُ صلح والسَّلَامُ والسِّلْمُ والسَّلَمُ : الصّلح قال : وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً [ النساء/ 94] ، وقیل : نزلت فيمن قتل بعد إقراره بالإسلام ومطالبته بالصّلح وقوله تعالی: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً [ البقرة/ 208] ، وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ [ الأنفال/ 61] ، وقرئ لِلسَّلْمِ بالفتح، وقرئ : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ وقال : يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سالِمُونَ [ القلم/ 43] ، أي : مُسْتَسْلِمُونَ ، وقوله : ورجلا سالما لرجل وقرئ سلما و ( سَلَماً ) وهما مصدران، ولیسا بوصفین کحسن ونکد . يقول : سَلِمَ سَلَماً وسِلْماً ، وربح ربحا وربحا . وقیل : السِّلْمُ اسم بإزاء حرب، السلام والسلم والسلم کے معنی صلح کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً«1» [ النساء/ 94] جو شخص تم سے سلام علیک کہے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت اس شخص کے حق میں نازل ہوئی ہے جسے باوجود اظہار اسلام اور طلب صلح کے قتل کردیا گیا تھا اور فرمایا : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً [ البقرة/ 208] مؤمنوں اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ ۔ وَإِنْ جَنَحُوا لِلسِّلْمِ [ الأنفال/ 61] اور اگر یہ لوگ صلح کی طرف مائل ہوں ۔ اس میں ایک قرآت سلم ( بفتحہ سین ) بھی ہے ۔ وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ «4»اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سالِمُونَ [ القلم/ 43] ( اس وقت ) سجدے کے لئے بلائے جاتے تھے ۔ جب صحیح وسالم تھے ۔ اور آیت کریمہ :۔ ورجلا سالما لرجل «5»اور ایک آدمی خاص ایک شخص کا ( غلام ) ہے ۔ میں ایک قراءت سلما وسلم ا بھی ہے اور یہ دونوں مصدر ہیں اور حسن و نکد کی طرح صفت کے صیغے نہیں ہیں کہا جاتا ہے ۔ سلم سلما و سلما جیسے ربح ربحا و ربحا اور بعض نے کہا ہے کہ سلم اسم ہے اور اس کی ضد حرب ہے ۔ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

صلح کے معاہدے کا بیان قول باری ہے (وان جنحوالسلم فجنح لھا و توکل علی اللہ۔ اور اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لئے جھک جائو اور اللہ پھر بھروسہ کرو) جنوح میلان اور جھکائو کو کہتے ہیں۔ اگر کشتی ایک طرف کو جھک جائے تو کہا جاتا ہے ” جنحت السفینۃ “ اور سلم مسالمت کو کہتے ہیں جس کے معنی جنگ سے سلامتی چاہنے کے ہیں۔ آیت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صلح و سلامتی کی طرف مائل ہونے اور اسے قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے (فاجنح لھا) فرمایا اسئے کہ یہ لفظ صلح و سلامتی سے کنایہ ہے اس حکم کے باقی ہونے کے بارے میں اختلاف رائے ہے۔ سعید اور معمر نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ یہ حکم قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث رجدتموھم مشرکین کو جہاں کہیں بھی پائو قتل کرو) کی وجہ سے منسوخ ہوچکا ہے۔ حسن بصری سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ ابن جریج اور عثمان بن عطا نے عطاء خراسانی سے اور انہوں نے حضرت عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ اس قول باری کو قول باری (قاتلوا الذین لا یومنون باللہ والیوم الاخر، ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے) لا قول باری (وھم صاغرون) نے منسوخ کردیا ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ آیت منسوخ نہیں ہوئی اس لئے کہ اس آیت کا تعلق اہل کتاب سے صلح و سلامتی کے معاہدے کے ساتھ ہے جبکہ قول باری (فاقتلوا المشرکین) کا تعلق بت پرستوں سے ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ تشریف لے گئے تو آپ نے مشرکین کے مختلف گروہوں سے معاہدے کئے تھے۔ ان میں بنو قینقاع، بنو نظیر اور بنو قریظہ شامل تھے۔ اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کئی مشرک قبائل سے بھی معاہدے کئے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے ساتھ صلح حدیبیہ کی۔ اس صلح کا اختتام اس وقت ہوگیا جب قریش نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیف قبیلے بنو خزاعہ کے خلاف جنگی کارروائی کر کے خود اسے توڑ دیا۔ اصحاب سیر اور اہل مغازی کے بیانات اس بارے میں یکساں ہیں۔ یہ اس وقت کی بات تھی جب مسلمانوں کی تعداد ابھی کم تھی، ان میں قوت و طاقت کی بھی کمی تھی لیکن جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی اور دین کا معاملہ قوت پکڑ گیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مشرکین کے خلاف ہتھیار اٹھا لینے کا حکم دے دیا اور اب مشرکین سے اسلام یا تلوار پر فیصلہ کے سوا کوئی تیسری صورت باقی نہیں رکھی گئی۔ چناچہ ارشاد ہوا (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم) نیز اہل کتاب سے بھی قتال کا حکم دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں یا جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہوجائیں (قاتلوا الذین لا یومنون باللہ والیوم الاخر) تا قول باری (وھم صاغرون) اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سورة برات نزول کے اعتبار سے قرآن کی آخری سورتوں میں سے ہے۔ اس کا نزو ل اس وقت ہوا تھا جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو ٩ ھ میں امیر حج بنا کر روانہ کیا تھا۔ سورة انفال کا نزول جنگ بدر کے فوراً بعد ہوا تھا۔ اس میں انفال، غنائم عہود اور مصالحتوں کا ذکر ہوا تھا اس لئے سورة برأت کے حکم کو اس امر پر محمول کیا جائے گا جس کا اس میں ذکر ہوا ہے یعنی جب مشرکین صلح کے لئے ہاتھ بڑھائیں تو تم بھی ایسا ہی کرو اس بنا پر آیت کا یہ حکم منسوخ نہیں سمجھا جائے گا بلکہ یہ ثابت اور باقی تسلیم کیا جائے گا۔ دونوں آیتوں کے حکم میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزول کا پس منظر مجختلف ہے۔ جس پس منظر میں مسلمانوں کو صلح کی طرف مائل ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس میں مسلمانوں کی تعداد کم اور ان کے دشمنوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن جس پس منظر میں مشرکین کو قتل کرنے اور اہل کتاب سے جزیہ دینے پر رضامندی تک قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس میں صورت حال یکسر بدلی ہوئی تھی۔ اب مسلمانوں یک تعداد بھی بڑھ گئی تھی اور دشمنوں کے مقابلہ میں طاقت و قوت پکڑ گئے تھے چناچہ ارشاد باری ہے (فلا تھنوا و تدعوا الی السلم و انتم الاعلون واللہ معکم سو تم ہمت نہ ہارو اور انہیں صلح کی طرف مت بلائو اور تم ہی غالب ہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے) جب دشمن پر غلبہ حاصل کرنے اور انہیں تہہ تیغ کرنے کی قوت و طاقت حاصل ہو تو ایسی حالت میں مسلمانوں کو صلح کی طرف پیش قدمی کرنے سے منع کردیا گیا ہے۔ ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے کہ جب سرحدی علاقوں میں بسنے والے مسلمان اور ان کے حکمران کافروں کے خلاف جنگی کارروائی کرنے اور ان کے بالمقابل صف آراء کی قوت و طاقت اپنے اندر پائیں تو اس صورت میں کافروں کے ساتھ صلح کرنا جائز نہیں ہوگا۔ نہ ہی کافروں کو ان کے کفر پر برقرار رہنے دینا درست ہوگا بلکہ اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر ان کے خلاف ہتھیار اٹھانا واجب ہوگا الا یہ کہ وہ جزیہ دینے پر رضامند ہوجائیں۔ اگر مسلمانوں میں ان کے مقابلہ کی بھی سکن نہ ہو تو اس صورت میں کافروں کے ساتھ صلح کرنا درست ہوگا جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کے مختلف گروہوں سے صلح اور جنگ نہ کرنے کے معاہدے کئے تھے اور یہ معاہدے ان پر جزیہ عائد کئے بغیر کر لئے گئے تھے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر اپنے ضعف اور کمزوری کی بنا پر کافروں سے صلح کرلی جائے اور پھر مسلمانوں میں قوت و طاقت پیدا ہوجائے جس کی بنا پر وہ کافروں کے خلاف جنگی کارروائیوں کے قابل ہوجائیں تو پھر وہ ان سے معاہدے کے خاتمے کا کھلم کھلا اعلان کردیں اور پھر ان کے خلاف جنگی کاروائی شروع کردی۔ ہمارے اصحاب کا یہ بھی قول ہے کہ اگر مسلمانوں کے لئے مال دیئے بغیر دشمنوں سے چھٹکارا پانا ممکن نہ ہو تو ان کے لئے مال خرچ کردینا بھی جائز ہے اس لئے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خندق کے موقع پر عینیہ بن حسن فزاری وغیرہ سے مدینہ کے پھلوں کی آٰدھی پیداوار کی شرط پر صلح کا معاہدہ کرلیا تھا۔ پھر جب آپ نے صحابہ کرام (رض) سے مشورہ کیا تو حضرات انصار نے عرض کیا کہ آیا یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اپنی رائے اور جنگی چال کے طور پر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ میری اپنی رائے ہے اس لئے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمام عربوں نے متحد ہو کر تمہارے اوپر تیر چلایا ہے اور تمہارے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا ہے۔ میں نے یہ چاہا کہ انہیں تم سے کسی نہ کسی دن تک کے لئے دور رکھوں “۔ یہ سن کر حضرت سعد بن عبادہ (رض) اور حضرت سعد بن معاذ (رض) نے عرض کیا کہ ” اللہ کے رسول ! جب ہم کفر کی حالت میں تھے اس وقت بھی عرب کے لوگ ہم سے صرف اس بات کی توقع کی جرأت کرسکتے تھے کہ ہم اپنے باغات کے پھلوں کے ذریعے ان کی مہمان نوازی کرلیں یا پھر یہ پھل ان کے ہاتھ فروخت کردیں۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی بنا پر عزت عطا کردی ہے تو انہیں اپنی آدھی پیداوار کس طرح حوالہ کرسکتے ہیں۔ ہم ایسا نہیں کریں گے ہم انہیں صرف تلوار اور اس کی دھار دیں گے “۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب مسلمانوں کو مشرکین کی طرف سے خطرہ ہو اور وہ ان کے مقابلہ پر آنے کی سکت نہ رکھتے ہوں تو ایسی صورت میں ان کے لئے یہ جائز ہوگا کہ مال دے کر ان سے اپنا پیچھا چھڑا لیں۔ یہ وہ احکام ہیں جن میں بعض تو قرآن سے ثابت ہیں اور بعض کا سنت سے ثبوت ہے۔ ان پر ان حالات میں عمل کیا جائے گا جن میں عمل کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ان پر عمل کیا ہے۔ ان احکام کی نظیر وہ حکم ہے جو حلیف کی میراث کے تحت ہم نے بیان کیا ہے کہ یہ حکم ثابت ہے منسوخ نہیں ہوا چناچہ ارشاد باری ہے (والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم وہ لوگ جن کے ساتھ تمہارے عہد و پیمان ہوں انہیں ان کا حصہ دو ) ہم نے اس مقام پر یہ بیان کیا ہے کہ جب رشتہ دار اور غلام آزاد کردینے کی بنا پر حاصل ہونے والی ولاء موجود نہ ہو تو اس صورت میں درج بالا آیت کے حکم پر عمل کرتے ہوئے انہیں ان کا حصہ دے دیا جائے گا۔ لیکن جب رشتہ دار یا ولاء عتاق موجود ہو تو وہ حلیف سے بڑھ کر میراث کا حقدار ہو گا… جس طرح بیٹا بھائی کے مقابلہ میں میراث کا زیادہ حق دار ہوتا ہے لیکن اس کا یہ استحقاق بھائی کو ورثاء کی فہرست سے خارج نہیں کرتا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦١) یعنی اگر بنو قریظہ صلح کی طرف مائل ہوں اور صلح کرنا چاہیں تو آپ کو بھی صلح کرنے کی اجازت ہے اور ان لوگوں کی عہد شکنی اور وفائے عہد پر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو سننے والا اور ان کی بدعہدی اور وفاء عہد کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦١ (وَاِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا) اگر مخالف فریق صلح پر آمادہ نظر آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی امن کی خاطر مناسب شرائط پر ان سے صلح کرلیں۔ (وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی منفی چالوں سے فکر مند نہ ہوں ‘ اللہ پر توکل رکھیں اور صلح کا جواب صلح سے ہی دیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

44: اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو دشمن سے صلح کرنے کی بھی اجازت دی ہے بشرطیکہ وہ ایسی شرائط پر ہو جو مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق ہوں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦١۔ ٦٣۔ اللہ پاک اس آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتا ہے کہ اگر کفار صلح کا پیغام دیں اور لڑائی سے بچیں تو صلح کرلو اسی واسطے حدیبیہ کی صلح کے وقت جب مشرکین مکہ نے صلح چاہی اور دس برس تک جنگ کے موقوفی کی درخواست کی تو اللہ کے رسول نے اس صلح کے پیغام کر مان لیا اور جو جو شرطیں انہوں نے پیش کیں انہیں قبول کرلیا مسند امام احمد میں حضرت علی ابن ابوطالب (رض) کی ایک حدیث ہے کہ جب اختلاف ہوتا دکھلائی دے تو اگر تجھ سے صلح ہو سکے تو کرلے صحیح بخاری و مسلم میں صلح حدیبیہ کی جو روایتیں ہیں ان سے حضرت علی (رض) کی روایت کی پوری تقویت ہوتی ہے کیونکہ یہ صلح آپ کا اختلاف رفع کرنے کے لئے ہوئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت قَاتِلُوا ّالَّذِیْنَ لَاُیؤْمِنُون بِاللّٰہ (٩: ٢٩) سے منسوخ ہے اور مجاہد بھی کہتے ہیں کہ یہ آیت فَافْتَلْوا الْمُشرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْ تُمُوْھُمْ (٩: ٥) سے منسوخ ہے مگر جمہور علما کا قول یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ دونوں آیتیں درگذر اور لڑائی کی آیتوں کی طرح اپنی اپنی جگہ ہیں چناچہ ایسا ہی ہوتا رہا ہے اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح جائز رکھی ہے اور حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ میں ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ اوپر گذرا پھر اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اس صلح میں خدا ہی پر بھروسہ رکھو اگر اس صلح سے ان کا کوئی اور مطلب ہے تو خدا ان کے قول کو سنتا ہے اور ان کی نیتوں کو جانتا ہے اس لئے اگر ان کا ارادہ اس صلح سے یہ ہے بدر کی لڑائی کے وقت اپنی مدد بھیج کر فتح یاب کیا ہے اور ہمیشہ ہر کام میں مدد کرتا رہا ہے پھر اس کے بعد اللہ جل شانہ نے اپنی اس تائید کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے بندوں کے ذریعہ سے پہنچائی چناچہ فرمایا کہ خود اللہ تعالیٰ جو کچھ مدد پہنچاتا رہتا ہے وہ تو پہنچتی ہی ہے مگر انصار جو ایمان لاکر تمہارے ساتھ ہوگئے ہیں اور ہر گاہ میں تمہارے قوت بازو بن گئے اور تمہاری اطاعت میں ہمیشہ تنہا پشت کی مخالفت کچھ ایسی نہ تھی جو آسمانی سے رفع ہوجاتی اگر دنیا بھر کی دولت ان کی تالیف کے واسطے خرچ کی جاتی اور بڑی سے بڑی قوت صرف کی جاتی تب بھی ان کا قدیمی بغض رفع دفع نہ ہوتا حضرت عبداللہ بن (رض) عباس فرماتے ہیں کہ یہ لوگ انصار اس کے قبیلہ اوس اور قبیلہ خزرج ہیں ان کے آپس کی دشمنی ایام جاہلیت میں اس حدتک پہنچ گئی تھی کہ ایک دوسرے کے خون کا پیاسا تھا اور بڑی بڑی لڑایاں ان دونوں قبیلوں میں ہوچکی تھیں ایک سو بیس برس سے یہ بغض چلا آتا تھا مگر اللہ نے ان کے دلوں کو نور ایمان سے منور فرما کر سارے گروہ کو ایک اسلام کے راستہ پر لگا دیا اور ایک کو دوسرے کی وہ محبت دی کہ بھائی بھائی بن گئے اور سب کے سب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے جان اور مال فدا کرنے پر آمادہ ہوگئے یہ قدرت خدا ہی کی تھی اس کا ظہور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک معجزہ شمار کیا جاتا ہے اوس اور خزرج کا یہ حال سورة آل عمران میں گذر چکا ہے علاوہ ان دو قبیلوں کے عرب کے اور قبیلوں میں بھی باہم کوئی ہمدردی نہ تھی ایک کا مال دوسرا چھین کر کھا لیتا تھا اور مال مال کا خون کردینا کچھ بڑی بات نہ سمجھتا تھا مگر اللہ پاک نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیج کر ان لوگوں کی سخت دلی کو نرم دلی سے بدل ڈالا اور ان میں وہ محبت کا مادہ پیدا کردیا کہ جس کے بیان کرنے کے لئے ایک دفتر درکار ہے اور پھر انہوں نے ایک دل ہو کر جو جو کار نمایاں کی وہ صفحہ ہستی پر یادگار ہیں جو قیامت تک باقی رہیں گے ان کی مثالیں شاید ڈھونڈہنے سے بھی کسی اور قوم میں نہ ملیں گی یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ کہ ہر ایک شخص کے دل پر اللہ کا پورا پورا قبضہ و اختیار ہے ہر ایک کا دل اس کے ہاتھ میں ہے وہ جدھر پھیرنا چاہے گھڑی بھر میں پھیردے معتبر سند سے نسائی میں ابن مسعود (رض) کی ایک حدیث ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کی شان میں اتری ہے جو آپس میں خدا کے واسطے محبت رکھتے ہیں اور کوئی غرض دنیا کی اس محبت سے نہیں رکھتے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے طبرانی میں سلمان (رض) فارسی سے ایک روایت ہے کہ جب ایک مسلمان کسی دوسرے اپنے مسلمان بھائی سے ملتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے تو اس کے گناہ مثل پتوں کے جھڑتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح درخت کے خشک پتے آندھی سے جھڑتے ہیں اسی طرح ان دونوں کے گناہ جن کے دلوں میں محض خدا کے واسطے محبت ہے ایک دوسرے سے ملتا ہے اور ایک کا ایک ہاتھ پکڑتا اور مصافحہ کرتا ہے تو ان کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے درخت سے پتے معتبر سند سے اسی مضمون کی حدیث اوسط طبرانی میں حذیفہ (رض) بن الیمان کی روایت سے بھی ہے جس سے سلمان فارسی (رض) کی روایت کو تقویت ہوجاتی ہے عبادہ بن ابی لبابہ نے کہا کہ پھر تو گناہوں کے معاف ہوجانے کے لئے یہ بہت آسان ہے اس کا مجاہد نے یہ جواب دیا کہ ایسا نہ کہو خدا نے آنحضرت کو فرمایا ہے لوانفقت مافی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم عبادہ کہتے ہیں کہ میں نے اسی روز سے جانا کہ مجاہد مجھ سے زیادہ عالم ہیں پھر اللہ پاک نے اپنی صفت بیان کی کہ اللہ سب چیزوں پر غالب ہے جس بات کا ارادہ کرتا ہے اس میں کسی قسم کی دشواری نہیں ہوتی اور حکیم ہے اس کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ہے یہ عبادہ بن ابی لبابہ قتادہ کے ہم رتبہ ثقہ تابعی ہیں صحاح کی کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ زیدبن عاصم (رض) کی حدیث ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انصار سے فرمایا کہ قدیمی عداوت کے سبب سے تم لوگوں میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی اللہ کے رسول کے مدینہ میں آنے کی برکت سے وہ تمہاری آپس کی پھوٹ جاتی رہی سورة آل عمران میں جو قبیلہ اوس و خزرج کی پھوٹ کے رفع ہوجانے کو اللہ تعالیٰ نے ایک نعمت کے طور پر ذکر فرمایا ہے اس سے اور اس صحیح حدیث سے حضرت عبداللہ (رض) بن عباس کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کے طور پر جس پھوٹ کے رفع ہوجانے اور آپس کی دلی الفت کا تذکرہ فرمایا ہے وہ بھی انصار کے قبیلہ اوس و خزرج ہی کا ذکر ہے اس صورت میں جن مفسروں نے عبداللہ بن مسعود (رض) اور سلمان (رض) فارسی کی حدیثیں ان آیتوں کی تفسیر میں نقل کی ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ اصل میں ان آیتوں کا شان نزول تو وہی ہے جو امام المفسرین حضرت عبداللہ (رض) بن عباس نے بیان کیا ہے لیکن انصار کے قبیلہ اوس و خزرج کے مسلمانوں کی طرح اب بھی جو دو مسلمان آپس میں دینی محبت رکھیں گے آیتوں میں گویا ان سب کا ذکر ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عام قدرت جتلانے کو فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک سوبیس برس کی عداوت کو مٹا کر انصار کے قبیلہ اوس و خزرج میں اپنی قدرت اور حکمت سے ملاپ کرادیا اسی طرح وہ ایسا زبردست صاحب قدرت ہے کہ جس کام کا وہ ارادہ کرتا ہے اس میں کسی طرح دشواری نہیں ہوتی اور صاحب حکمت وہ ایسا ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا جس طرح اردو کا محاورہ ہے کہ دو لشکروں میں صلح ہوگئی اسی طرح عربی میں صلح مؤنث ہے اسی واسطے فَاجْنَحْ لھَا فرمایا فْاَجْنح لَہٗ نہیں فرمایا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 کیونکہ اسلام میں طاقت کے استعمال کا مقصد زمین میں خون ریزی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلمے کو بلند اور کفر و شرک کے فتنہ کا قلع قمع کرنا ہے، اگر یہ مقصد صلح کی صورت میں حاصل ہو تو ہو تو قبول کرلینا چاہیے چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش سے معاہدہ کر ہی لیا تھا لہذا یہ آیت آیتہ قتال سے منسوخ نہیں ہے۔ ( ابن کثیر)7 یعنی اگر دشمن دل میں کھوٹ رکھے گا تو اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے اور ہو تمہارے نیتوں کو بھی خوب جانتا ہے اس میں نقض عہد پر سر زنش ہے۔ ( کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کی بھرپور دفاعی تیاری کے باوجود اگر دشمن صلح کے لیے آمادہ ہو تو مسلمانوں کو ان سے صلح کر لینی چاہیے۔ اسلام کے مخالف ہمیشہ سے یہ پراپیگنڈہ کرتے آرہے ہیں کہ اسلام جارحیت پسند اور مسلمان جنگ جو قوم ہے۔ حالانکہ اسلام کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ جو کفار تبلیغ دین میں رکاوٹ اور کسی پر ظلم زیادتی نہیں کرتے ان کے ساتھ جنگ نہیں کرنی چاہیے اس آیت میں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے یہاں تک کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ خواہ تم کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہو اگر دشمن تمہارے ساتھ صلح کرنے پر آمادہ ہو۔ تو کسی گھمنڈ میں آنے کے بجائے صلح کی طرف بڑھے ہوئے ہاتھ کو تھام لو اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو وہ ہر بات سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اگر صلح کرنے والادشمن بدنیتی کا مظاہرہ کرے گا تو اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے۔ کیونکہ اللہ اور اس پر ایمان لانے والے مومن آپ کی مدد کریں گے۔ یہ اصول اس دشمن کے لیے ہے۔ جس کے بارے میں معلوم ہو کہ یہ کیے گئے معاہدے پر قائم رہے گا اور اگر کسی دشمن نے پہلے معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہو تو اسے نہیں کہا جاسکتا۔ صلح کی اہمیت کے پیش نظر مومنوں کو مخاطب کرنے کی بجائے واحد حاضر کی ضمیر لا کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب فرمایا گیا ہے۔ جس کا مفہوم یہ بھی ہے کہ صلح اور جنگ کا فیصلہ کرنا قیادت کا کام ہوتا ہے اس لیے قیادت کو اللہ تعالیٰ اور اپنے مخلص ساتھیوں پر اعتماد کرتے ہوئے صلح کر لینی چاہیے۔ کیونکہ مسلمانوں کو ہر حال میں اپنی دفاعی قوت بڑھانے کا حکم ہے لہٰذا صلح کرنے سے انھیں تیاری کا مزید موقع ملے گا۔ صلح کے اقدام سے دشمن کو وسعت ظرفی اعلیٰ اخلاق اور دلیری کا پیغام ملنے کے ساتھ مسلمانوں کے اخلاق اور کردار دیکھنے کا موقعہ ملے گا۔ اسی حکمت کے تحت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ والوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں لوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین کا نام دیا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان آیات میں تیسرا حکم ان اقوام کے بارے میں ہے جو اسلامی کیمپ کے ساتھ دوستی اور امن کا عہد کرنا چاہتے ہیں اور امن و سلامتی کی طرف مائل ہیں اور ان کے ظاہری حالات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ لوگ فی الواقعہ امن چاہتے ہیں۔ اور اے نبی اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو ، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے یہ ایک لطیف انداز تعبیر ہے۔ یعنی پرندے پر امن اور آشتی کی طرف مائل ہیں اور پرندہ اپنے پروں کو نرم کر رہا ہے اور حالت امن اور مصالحت اور موانست کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر مصالحت اور موادعت میں توکل علی اللہ کا حکم بھی دیا گیا ہے ، جو سمیع اور علیم ہے وہ ہر بات کو سنتا ہے اور پوشیدہ ارادوں کو دیکھ سکتا ہے اور اللہ پر توکل ایک بہت بڑا ضامن ہے۔ اب ہم ذرا واپس اس تلخیص کی طرف جاتے ہیں جو امام ابن قیم نے اسلامی مملکت کے خارجی تعلقات کے سلسلے میں پیش کی تھی کہ مدینہ کے ابتدائی دور میں حضور کے تعلقات کفار کے ساتھ کیا تھے یعنی جنگ بدر اور ان احکام کے نزول تک۔ تو اس تلخیص سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ کا تعلق اس طبقے سے ہے جن کے ساتھ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسالمت اختیار کرلی تھی اور اس کے ساتھ جہاد و قتال نہ کیا تھا۔ کیونکہ یہ لوگ حضور کے ساتھ صلح پر مائل تھے اور انہوں نے دشمنی کا اظہار نہ کیا تھا۔ اور نہ ہی دعوت اسلامی کی راہ روک کر کھڑے ہوئے تھے۔ نہ وہ اسلامی مملکت کے خلاف کوئی کاروائی کرتے تھے۔ اللہ نے رسول اللہ کو حکم دے دیا تھا کہ ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان کی روشن مصالحت اور امن کو قبول کرلیا جائے (یہ حکم اس وقت تک تھا کہ جب سورت براءت نازل ہوئی اور جن لوگوں کے ساتھ بےقاعدہ معاہدہ نہ تھا ان لوگوں کو ایک متعین مہلت دے دی گئی یا ان لوگوں کے ساتھ عہد تھا مگر اس میں وقت کا تعین نہ کیا گیا تھا اور یہ مدت چار ماہ مقرر کردی گئی تھی اور اس کے اختتام پر بھی تعلقات کا از سر نعین کیا گیا تھا) ۔ لہذا مذکورہ بالا حکم انتہائی اور آخری حکم نہ تھا بلکہ وہ خاص حالات کے اندر مخصوص حکم تھا اور بعد میں آنے والے احکام نے اسے منسوخ کردیا اور خود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس میں تبدیلیاں کیں۔ ہاں یہ آیت اپنے وقت پر ایک عمومی حکم تھا اور سورت براءت کے نزول تک یہی حکم معمول بہ تھا۔ چھٹی صدی ہجری میں ہونے والا صلح حدیبیہ بھی اس کی ایک مثال تھی۔ بعض فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ یہ حکم فائنل اور حتمی ہے اور انہوں نے امن کی طرف میلان جنحوا للسلم کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ وہ جزیہ ادا کرنے کو قبول کرلیں۔ لیکن یہ رائے تاریخی واقعات کے خلاف ہے۔ کیونکہ جزیہ کے احکام سورت براءت میں نازل ہوئے اور یہ سورت آٹھویں سن ہجری میں نازل ہوئی ہے اور زیر تفسیر آیت تو جنگ بدر کے بعد سن دوئم ہجری میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت جزیہ کے احکام موجود نہ تھے۔ اسلامی نظام حیات کے تحریکی مزاج ، واقعات نزول قرآن اور سیرت کے واقعات کو مد نظر رکھ کر اگر سوچا جائے تو یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ یہ حکم فائنل نہیں ہے۔ اور اس میں سورت براءت میں نازل ہونے والے احکام کے ذریعہ تبدیلی اور ترمیم کی گئی ہے اور جس میں دوسری اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کو یوں منضطب کیا گیا ہے کہ یا تو وہ اہل حرب ہوں گے اور مسلمانوں کے خلاف برسر جنگ ہوں گے یا مسلمان ہوں گے اور اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے والے ہوں گے یا اہل ذمہ ہوں گے اور جزیہ ادا کرتے ہوں گے۔ اور وہ اس وقت تک اہل ذمہ رہیں گے۔ جب وہ اپنے ذمی ہونے کے عہد پر قائم رہیں گے۔ یہ ہے وہ آخری نوعیت بین الاقوامی تعلقات کی جس پر اسلامی تحریک جہاد منتہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر اور کوئی صورت حال موجود ہو تو وہ دراصل عملی صورت حال ہے اور عملاً موجود ہے لیکن اسلامی نظام اس کی تبدیلی کے لی جدوجہد کرتا ہے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک مذکورہ بالا تین حالات متعین نہیں ہوجاتے جن کا ذکر سورت براءت میں ہوا اور جو آخری احکام ہیں اور یہ آخری احکام مسلم کی روایت میں موجود ہیں جس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔ احمد روایت کرتے ہیں وکیع سے ، سفیان سے ، علقمہ ابن مرثد سے ، سلیمان ابن زید سے ، ان کے باپ سے ، یزید ابن الخطیب اسلمی سے ، یہ کہتے ہیں کہ جب حضور کسی کو لشکر بنا کر بھیجتے یا کسی دستے کا کپتان بنا کر بھیجتے تو اسے نصیحت کرتے کہ خدا خوفی اختیار کرنا اور اپنے ساتھ مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے جہاد کرو ، اللہ کی راہ میں کرو ، ان لوگوں سے قتال کرو جنہوں نے اللہ کا انکار کیا اور جب تم مشرکوں میں سے اپنے دشمنوں کے ساتھ آمنا سامنا کرو تو انہیں دعوت دو کہ وہ تین پوزیشنوں میں سے کوئی ایک اختیار کریں۔ وہ ان میں سے جو پوزیشن بھی قبول کریں تم اسے منظور کرلو۔ اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ ان کو اسلام کی دعوت دو ، اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو قبول کرلو۔ پھر ان کو یہ دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے میں آجائیں۔ اگر وہ یہ پوزیشن قبول کرلیں تو ان کے اور مہاجرین کے حقوق مساوی ہوں گے اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہوں گی۔ اگر وہ انکار کریں اور اپنے ہی علاقے میں رہنا پسند کریں تو ان کو یہ اطلاع کردو کہ ان کی حیثیت ان مسلمانوں کی طرح ہوگی جس طرح اعراب مسلمانوں کی ہے۔ ان پر بھی اللہ کے احکام جاری ہوں گے۔ جس طرح اعراب مسلمانوں پر ہوتے ہیں لیکن فئے اور غنیمت میں ان کا حق نہ ہوگا الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں۔ اگر وہ اس پوزیشن کا بھی انکار کریں تو پھر ان کو یہ پیشکش کرو کہ وہ جزیہ دینا قبول کریں۔ اگر وہ قبول کرلیں تو تم بھی قبول کرلو ، اور جنگ سے باز آجاؤ، اور اگر وہ انکار کردیں تو اللہ کی استعانت لیں اور قتال شروع کردیں۔ اس حدیث میں مشکل بات یہ ہے کہ اس میں ہجرت اور دار المہاجرین کا ذکر ہے اور پھر جزیہ کا بھی ذکر ہے۔ جبکہ جزیہ فتح مکہ کے بعد فرض ہوا تھا اور فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہوگئی تھی (یعنی پہلی جماعت مسلمہ جب مدینہ آئی اور فتح تک اسے استقلال حاصل ہوگیا تو ہجرت اس وت ختم ہوگئی تھی) اور یہ بات احادیث اور تاریخ سے ثابت ہے کہ جزیہ آٹویں سن ہجرت میں فرض ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی عرب مشرک سے جزیہ نہیں لیا گیا۔ کیونکہ تمام عرب فرضیت جزیہ سے قبل ہی مسلمان ہوگے تھے۔ اس سن کے بعد مجوسیوں سے اور مشرکوں سے جزیہ لیا گیا اور اگر فرضیت جزیہ کے وقت عربوں میں کوئی مشرک ہوتا تو وہ بھی لازماً جزیہ ادا کرتا جیسا کہ امام ابن قیم نے تشریح کی۔ امام ابوحنیفہ اور ایک قول کے مطابق امام احمد کی رائے بھی یہی ہے۔ (قرطبی نے یہ قول امام اوزاعی ، مالک سے بھی نقل کیا ہے) بہرحال آیت زیر بحث وان جنحوا میں کسی فائنل حکم کا ذکر نہیں ہے۔ اور اس سلسلے کے فائنل احکام بعد میں سورت براءت میں نازل ہوئے۔ اس میں الہ نے رسول اللہ کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کی طرف سے مسالمت اور صلح کو قبول کرلیں جن کو آپ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ اور ان کے ساتھ لڑآئی شروع نہ کی تھی چاہے اس وت تک ان سے کوئی معاہدہ ہوا تھا یا نہیں۔ تو آپ سورت براءت کے نزدیک تک کفار اور اہل کتاب کی جانب سے مسالمت کو قبول کرتے رہے اور براءت کے نزول کے بعد حکم یہ ہوگیا کہ یا تو اسلام قبول کروگے یا جزیہ دو گے اور یہ وہ حال تمسلمات ہے جو اس وقت تک قابل قبول ہوگی جب تک لوگ اپنے عہد پر قائم رہیں گے ورنہ مسلمان ان کے ساتھ جہاد کریں گے جب تک ان کی استطاعت ہو تاکہ دین تمام کا تمام اللہ کے لیے ہوجائے۔ میں نے اس آیت کے بیان اور تفسیر میں قدرے طوالت سے کام لیا ہے اور یہ اس لیے کہ ان لوگوں کے شبہات کو دور کردیا جائے جو ذہنی لحاظ سے شکست خوردہ ہیں۔ اس قسم کے لوگ جب اسلام کے نظریہ جہاد کے موضوع پر لکھنے بیٹھتے ہیں تو موجودہ حالات کے دباؤ میں آجاتے ہیں اور ان کی سوچ اور ان کی روح ان حالات کے دباؤ کے نیچے بیٹھ جاتی ہے۔ وہ اس بات کا یقین ہی نہیں کرسکتے کہ دین اسلام کا یہ کوئی مستقبل قاعدہ ہوسکتا ہے کہ یا اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو ورنہ جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔ یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ اس وقت جاہلیت اور طاغوت کی تمام قوتیں اسلام کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اسلام کا مقابلہ کر رہی ہیں اور اہل اسلام اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن اسلام کی حقیقت سے بیخبر ہیں اور ان کے قلب و نظر میں اسلام کا حقیقی شعور نہیں ہے اور دوسرے مذاہب کی عظیم قوتوں کے سامنے اپنے آپ کو بہت ہی کمزور محسوس کرتے ہیں۔ دوسری جانب وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کے ہر اول دستے بہت ہی قلیل و نایاب ہیں اور اس کے ساتھ ضعیف و ناتواں ہیں۔ لہذا ان حالات میں یہ لکھنے والے قرآن و سنت کو توڑ موڑ کر ان میں تاویلات کرتے ہیں اور یہ حرکت وہ محض حالات کے دباؤ کے تحت کرتے ہیں۔ لہذا وہ ایسا موقف اختیار کرتے ہیں کہ اسلام اس موقف کا متحمل نہیں ہوسکتا ، نہ اسلامی نصوص سے یہ بات نکلتی ہے۔ یہ لوگ ان آیات سے ستدلال کرتے ہیں جو تحریک اسلامی کے لیے وقتی ہدایات کے طور پر نازل ہوئی ہیں۔ یہ لوگ ان آیات کو فائنل ہدایات تصور کرکے ان آخری ہدایات کی تاویل کرتے ہیں۔ حالانکہ جن آیات سے وہ استدلال کرتے ہیں وہ وقتی اور مفید نصوص تھے۔ یہ کام وہ کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ اسلام کے نظریہ جہاد کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ صرف دار الاسلام اور جماعت مسلمہ کا دفاع کرتا ہے اور جہاد اس وقت شروع ہوسکتا ہے جب دشمن حملہ آور ہو اور یہ کہ اسلام ہر قسم کے امن وامان کی پیشکش کو قبول کرتا ہے۔ اور ان کے نزدیک امن وامان کا مفہوم صرف یہ ہے کہ کوئی دار الاسلام پر حملے سے باز رہنے کا معاہدہ کرلے۔ ان لوگوں کے تصور کے مطابق اسلام اپنی حدود کے اندر جو چاہے کرے لیکن اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے لوگوں سے مطالبہ کرے کہ وہ اسلامی کو قبول کریں۔ اور نہ اسے حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں سے اسلامی نظام کی اطاعت کرنے کا مطالبہ کرے۔ اسلام صرف تبلیغ کا حق رکھتا ہے۔ رہی وہ قوت ، طاغوتی قوت ، جو جاہلیت کی پشت پر کھڑی ہے تو اسلام کو یہ حق نیں ہے کہ وہ اس قوت کو چیلنج کرے یا اگر یہ قوت اسلام کو چیلنج کرے تو اسلام صرف دفاع کا حق رکھتا ہے۔ اگر اس قسم کے لوگ جنہوں نے موجودہ حالات کے مقابلے میں عقلاً اور روحاً شکست کھالی ہے ، ذرا سوچ کرتے اور موجودہ حالات کے مطابق قرآن و سنت میں اسے احکام تلاش کرتے اور ان تاویلات کا راستہ اختیار نہ کرتے جن میں قرآن و سنت کے نصوص کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں تو انہیں ان کے موجودہ حالات کے مماثل حالات کے بارے میں قرآن و سنت کے نصوص مل جاتے کیونکہ اسلام ایک حقیقت پسندانہ متحرک دین رہا ہے اور یہ کہتے کہ ایسے حالات میں اسلام نے یوں فیصلہ کیا تھا اور ہمیں بھی یسا ہی کرنا چاہیے تو ان حضرات کو قرآن کی آخری اور فائنل ہدایات اور نصوص میں اس قسم کی تاویلات کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ یہ لوگ کہہ سکتے تھے کہ موجودہ حالات میں اسلام کے یہ احکام مناسب ہیں لیکن یہ فائنل احکام نہیں ہیں۔ یہ وقتی تصرفات ہیں۔ اسلام نے فی الواقعہ مختلف حالات میں مختلف حکمت عملی اختیار کی۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں اور یہ مثالیں وقتی ضرورت کے مطابق تھیں۔ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے ارد گرد بسنے والے یہودیوں اور مشرکین کے ساتھ آپ سے ایک میثاق طے کیا جس میں باہم بھائی چارے ، امن اور مشترکہ دفاع کے امور طے کیے گئے اور یہ بھی طے کیا کہ مدینہ میں حق حاکمیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حاصل ہوگا اور یہ کہ قریش کے مقابلے میں دفاع میں یہ سب لوگ مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے۔ اور یہ کہ مدینہ پر جو کوئی بھی حملہ آور ہوگا یہ لوگ اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھیں گے۔ مشرکین کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کریں گے الا یہ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی اجازت دیں۔ اسی دوران حضور کو اللہ نے حکم دیا تھا کہ جو قوم بھی مسالمت اور امن کا معاہدہ کرے اس کی پیشکش کو قبول کیا جائے۔ اگرچہ وہ باقاعدہ تحریری معاہدہ نہ کریں ، بہرحال جب تک وہ صلح چاہیں ، صلح رکھی جائے۔ اس کے بعد یہ تمام احکام بدل گئے تھے جس طرح ہم نے اوپر تفصیلات دیں۔ اسی طرح جب جنگ خندق کے زمانے میں تمام مشرکین نے حضور کے خلاف اشتراک کرلیا۔ بنو قریظہ نے بھی وعدہ کی خلاف ورزی کردی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ مسلمانوں کو ختم ہی نہ کردیا جائے۔ تو حضور نے عیینہ ابن حصن الفزاری اور حارث ابن عوف المری رئیس غطفان کے سامنے مصالحت کی پیشکش کی اور طے کیا کہ وہ مدینہ کی ایک تہائی پیداوار ان کو دیں گے اور آپ لوگ اپنی اقوام کو لے کر واپس ہوجائیں اور قریش کو اکیلے چھوڑ دیں۔ حضور کی پیشکش ان کو خوش کرنے کے لیے تھی کوئی معاہدہ نہ تھا۔ جب حضور نے دیکھا کہ یہ دونوں لوگ راضی ہوگئے ہیں تو آپ نے سعد ابن معاذ اور سعد ابن عبادہ کے ساتھ مشورہ کیا۔ ان دونوں نے کہا کہ حضور یہ کام اگر آپ پسند کرتے ہیں تو ہم آپ کی وجہ سے قبول کرلیں گے اور اگر اللہ کا حکم ہے تو ہم اطاعت کریں گے اور اگر یہ کام آپ ہمارے لی کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں یہ اقدام آپ لوگوں کو بچانے کے لیے کرن ا چاہتا ہوں کیونکہ تمام عرب آپ لوگوں پر ایک ہی کمان سے تیر پھینک رہے ہیں۔ اس پر سعد ابن معاذ نے فرمایا : یا رسول اللہ خدا کی قسم ہم لوگ شرک میں مبتلا تھے ، بت پرست تھے ، اللہ کی عبادت نہ کرتے تھے اور نہ ہمیں اللہ کی معرفت حاصل تھی تو یہ مشرک ہم سے یہ توقع نہ کرتے تھے کہ ہم ان کو ایک کھجور بھی دین ، الا یہ کہ وہ مول لیتے ہام ہم مہمان نوازی کے طور پر دیتے اور جب اللہ نے ہمیں بذریعہ اسلام عزت دے دی اور بذریعہ قرآن ہدایت دے دی اور آپ کے ذریعے ہم معزز ہوگئے تو کیا اب ہم ان کو اپنا مال دے دیں ؟ ہم ان کو تلوار دیں گے تاکہ وہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ اس جواب سے حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا (تم جانو اور وہ) اور عیینہ اور حارث سے کہا ، چلو ہمارے پاس تمہارے لیے تلوار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ بات جس کے بارے میں حضور نے مخصوص حالات میں سوچا ایک وقت تدبیر تھی جو مخصوص حالات میں ضرورت کے لیے تھی ، یہ کوئی فائنل حکم نہ تھا۔ ایک مثال یہ بھی ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ لوگ مشرک تھے اور اس معاہدے میں بعض شرطیں ایسی تھیں جن سے مسلمان خوش نہ تھے۔ مثلا یہ کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان بیس سال تک لڑائی نہ ہوگی۔ لوگ ایک دوسرے سے امن میں رہیں گے۔ مسلمان اس سال عمرہ کے بغیر واپس ہوں گے ، اور اگلے سال وہ مکہ آئیں گے۔ چناچہ انہوں نے اگلے سال مسلمانوں کو مکہ آنے دیا ، صرف تین دن کے لیے۔ اسلحہ وہی لائیں گے جو ایک سوار لاتا ہے اور وہ بھی نیام میں ہوگا اور یہ کہ اگر کوئی مسلمان مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کرنا ہوگا اور اگر کوئی مدینہ سے مکہ چلا جائے تو مشرک واپس کرنے کے پابند نہ ہوں گے۔ اسمعاہدے پر حضور راضی ہوگئے کیونکہ حضور کو اللہ نے بذریعہ الہام بتا دیا تھا کہ یہ شرائط اگرچہ بظاہر قریش کے حق میں نظر آتی ہیں لیکن در اصل مسلمانوں کے لیے مفید ہیں۔ اس مثال میں بھی یہ گنجائش موجود ہے کہ اسلام قیادت خاص حالات میں خاص فیصلے کرسکتی ہے۔ اسلام ایک دائمی تحریک ہے اور اس کا طرز عمل بھی تحریکی ہے۔ وہ حالات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی واضح ، پختہ اور آزمودہ کار قیادت رکھتا ہے۔ لوگ جن حالات سے بھی دو چار ہوں اور ان کو قرآن و سنت سے حسب حال ہدایت بہرحال ملتی ہے اور ان کو کسی قسم کی تاویل کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اسلام میں جو چیز مطلوب ہے ، وہ یہ ہے کہ انسان میں تقوی ہو اور وہ اس بات سے محتاط ہو کہ وہ اپنے دین کو جاہلیت کی شرایرانہ قیادت کے حوالے کردے ، وہ شکست خوردہ ہو اور جاہلیت کے مقابلے میں معذرت خواہانہ دفاعی موقف اختیار کرے ، حالانکہ دین اسلام غالب ہے ، چھا جانے والا ہے۔ وہ انسان کی پوری ضروریات اور مسائل کو حل کرتا ہے اور وہ یہ مزاج رکھتا ہے کہ بلند ہو اور ہر کام اور ہر مسئلے کے حل میں اقدامی پوزیشن کا مالک ہو۔ جب اللہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ اگر کوئی دوستی کرنا چاہئے تو آپ دوستی قبول کریں اور اگر کوئی امن و سلامتی کی طرف مائل ہو تو آپ بھی اس طرف مائل ہوں ، تو ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیا کہ اللہ پر توکل کریں اور آپ کو مطمئن کردیا کہ اگر اس قسم کے معاہدے کرنے والے دل میں کھوٹے ہوں تو اللہ سے بہرحال ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

دشمن صلح پر آمادہ ہوں تو صلح کی جاسکتی ہے اس سے پہلی آیات میں جہاد کے لیے سامان تیار کرنے کا حکم تھا اور نقض عہد کے سلسلہ میں بعض ہدایات دی تھیں۔ ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ دشمن اگر صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی جھک جائیں۔ یہ امر وجوبی نہیں ہے موقع مصلحت سے متعلق ہے۔ اگر اس میں دار الاسلام اور اہل اسلام کی مصلحت ہو تو صلح ہوسکتی ہے۔ جنگ کرنا مقاصد میں سے نہیں ہے۔ اگر صلح سے کام چلتا ہو تو صلح کرلیں اس میں یہ بھی داخل ہے کہ ان سے جزیہ لینا قبول کرلیں۔ صلح کا یہ فائدہ بھی ہوگا کہ وہ لوگ اس کی بنیاد پر ملیں جلیں گے تو آپس میں ایک دوسرے کے ملک میں آنا جانا ہوگا۔ اس سے اہل کفر مسلمانوں کے اخلاق و اعمال سے اذان اور نماز سے متاثر ہوں گے اور اسلام کی طرف راغب ہوں گے۔ بعض اکابر نے فرمایا ہے کہ لفظ (وَ اِنْ جَنَجُوْا) میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسلمان خود سے صلح کی پیش کش نہ کریں۔ اور وہ لوگ پیش کش کریں تو صلح کرلیں۔ صاحب ہدایہ لکھتے ہیں۔ (و اذا رای الأمام أن یصالح أھل الحرب أو فریقاً منہ و کان فی ذلک مصلحۃ للمسلمین فلابأس بہٖ لقولہ تعالیٰ وَ اِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ لأن الموادعۃ جھاد معنیً کان خیرا للمسلمین لأن المقصود ھو دفع الشر حاصل بہٖ بخلاف ما اذا لم تکن خیرا لأنہ ترک الجھاد صورۃً و معنی ص ٥٦٣ ج ١) (اور جب امام اہل حرب سے یا ان کے کسی فریق سے صلح کرنا مناسب سمجھے اور اس میں مسلمانوں کے حق میں بھلائی ہو تو صلح میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ (وَ اِنْ جَنَحُوْا للسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ) (اور اگر کافر صلح پر آمادہ ہوں تو آپ بھی تیار ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں) اور اس لیے بھی کہ لڑائی کا چھوڑنا بھی معنی جہاد ہے جبکہ اس میں مسلمانوں کی بھلائی ہو کیونکہ مقصود شر کا دفع کرنا ہے جو اس سے حاصل ہے۔ بخلاف اس صورت کے جبکہ صلح میں مسلمانوں کی بھلائی نہ ہو تو پھر یہ جہاد کو چھوڑنا ہے صورۃً بھی اور معنیً بھی) و ان جنجوا سے بعض اکابر نے جو یہ استنباط کیا ہے کہ اپنی طرف سے صلح کی پیش کش نہ ہو اس کی تائید سورة محمد کی آیت (فَلاَ تَھِنُوْا وَ تَدْعُوْآ اِلَی السَّلْمِ ) سے بھی ہوتی ہے۔ ہاں اگر کوئی بہت ہی ایسی مجبوری ہوجائے کہ مسلمان کسی جگہ پر نرغے میں آجائیں اور صلح کے بغیر کوئی صورت چھٹکارے کی نہ ہو تو اپنی طرف سے بھی صلح کی پیش کش کی گنجائش ہے رہی یہ بات کہ ہوسکتا ہے کہ کافر صلح کر کے بد عہدی کردیں اور حملہ آور ہوجائیں۔ اس کے لیے فرمایا (وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) (اور آپ اللہ پر بھروسہ کریں بلاشبہ وہ سننے والا جاننے والا ہے) اگر صلح میں مصلحت دیکھیں تو آپ صلح کریں ایسے احتمالات کو بنیاد بنا کر صلح کی پیش کش کو نہ ٹھکرائیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

63: یہ جہاد میں مال خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

61 اور اگر کافر و منکرین دین حق صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی صلح کے لئے مائل ہوجائے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے بلاشبہ وہی سننے والا جاننے والا ہے۔ یعنی اگر کفار صلح کی خواہش کریں تو حسب صواب دید اگر آپ مصلحت سمجھیں تو آپ بھی صلح کے لئے جھک جائے اور خدا پر بھروسہ رکھئے کیونکہ بسا اوقات صلح کے نام پر دشمن دھوکہ دینا چاہتا ہے اس لئے آپ کا توکل خدا پر ہونا چاہئے ان کے خفیہ مشوروں کو سننے والا اور ان کی نیتوں کو جاننے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی اگر دل میں دغا رکھیں گے اللہ کو معلوم ہے اس کی سزا دے گا۔ 12 اور اگر وہ آپ کو دھوکہ دینے کا ارادہ کریں گے تو یقین رکھئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے وہ اللہ تعالیٰ وہی ہے جس نے اپنی امداد غیبی سے اور مسلمانوں کی جماعت سے آپ کی مدد فرمائی۔ یعنی ملائکہ سے اور سرفروش مسلمانوں کی جماعت بڑھا کر ظاہری طور پر ان سے آپ کی مدد کی اور قوت عطا فرمائی۔