Surat ul Anfaal

Surah: 8

Verse: 67

سورة الأنفال

مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ تُرِیۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡیَا ٭ۖ وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۶۷﴾

It is not for a prophet to have captives [of war] until he inflicts a massacre [upon Allah 's enemies] in the land. Some Muslims desire the commodities of this world, but Allah desires [for you] the Hereafter. And Allah is Exalted in Might and Wise.

نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خون ریزی کی جنگ نہ ہو جائے ۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says; مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الاَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللّهُ يُرِيدُ الاخِرَةَ وَاللّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ It is not (fitting) for a Prophet that he should have prisoners of war until he has fought (his enemies thoroughly) in the land. You desire the goods of this world, but Allah desires (for you) the Hereafter. And Allah is All-Mighty, All-Wise. Imam Ahmad recorded that Anas said, "The Prophet asked the people for their opinion about the prisoners of war of Badr, saying, إِنَّ اللهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُم Allah has made you prevail above them. Umar bin Al-Khattab stood up and said, `O Allah's Messenger! Cut off their necks,' but the Prophet turned away from him. The Messenger of Allah again asked, يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ قَدْ أَمْكَنَكُمْ مِنْهُمْ وَإِنَّمَا هُمْ إِخْوَانُكُمْ بِالاْاَمْس O people! Allah has made you prevail over them, and only yesterday, they were your brothers. Umar again stood up and said, `O Allah's Messenger! Cut off their necks.' The Prophet ignored him and asked the same question again and he repeated the same answer. Abu Bakr As-Siddiq stood up and said, `O Allah's Messenger! I think you should pardon them and set them free in return for ransom.' Thereupon the grief on the face of Allah's Messenger vanished. He pardoned them and accepted ransom for their release. Allah, the Exalted and Most Honored, revealed this verse, لَّوْلاَ كِتَابٌ مِّنَ اللّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

اسیران بدر اور مشورہ مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لیا کہ اللہ نے انہیں تمہارے قبضے میں دے دیا ہے بتاؤ کیا ارادہ ہے؟ حضرت عمر بن خطاب نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں آپ نے ان سے منہ پھیر لیا پھر فرمایا اللہ نے تمہارے بس میں کر دیا ہے یہ کل تک تمہارے بھائی بند ہی تھے ۔ پھر حضرت عمر نے کھڑے ہو کر اپنا جواب دوہرایا آپ نے پھر منہ پھیر لیا اور پھر وہی فرمایا اب کی دفعہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رائے میں تو آپ ان کی خطا سے درگزر فرما لیجئے اور انہیں فدیہ لے کر آزاد کیجئے اب آپ کے چہرے سے غم کے آثار جاتے رہے عفو عام کر دیا اور فدیہ لے کر سب کو آزاد کر دیا اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری ۔ اسی صورت کے شروع میں ابن عباس کی روایت گذر چکی ہے صحیح مسلم میں بھی اسی جیسی حدیث ہے کہ بدر کے دن آپ نے دریافت فرمایا کہ ان قیدیوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے ہیں ، آپ والے ہیں انہیں زندہ چھوڑا جائے ان سے توبہ کرالی جائے گی عجب کہ کل اللہ کی ان پر مہربانی ہو جائے لیکن حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دینے والے ہیں حکم دیجئے کہ ان کی گردنیں ماری جائیں ۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی میدان میں درخت بکثرت ہیں آگ لگوا دیجئے اور انہیں جلا دیجئے آپ خاموش ہو رہے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کر تشریف لے گئے لوگوں میں بھی ان تینوں بزرگوں کی رائے کا ساتھ دینے والے ہوگئے اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لائے اور فرمانے لگے بعض دل نرم ہوتے ہوتے دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں اور بعض دل سخت ہوتے ہوتے پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں ۔ اے ابو بکر تمہاری مثال آنحضرت ابراہیم علیہ السلام جیسی ہے کہ اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ میرے تابعدار تو میرے ہیں ہی لیکن مخالف بھی تیری معافی اور بخشش کے ماتحت ہیں اور تمہاری مثال حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہے جو کہیں گے یا اللہ اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے اور اے عمر تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام جیسی ہے جنہوں نے اپنی قوم پر بددعا کی کہ یا اللہ زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا باقی نہ رکھ ۔ سنو تمہیں اس وقت احتیاج ہے ان قیدیوں میں سے کوئی بھی بغیر فدیئے کے رہا نہ ہو ورنہ ان کی گردنیں ماری جائیں ۔ اس پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سہیل بن بیضا کو اس سے مخصوص کر لیا جائے اس لیے وہ اسلام کا ذکر کیا کرتا تھا اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے واللہ میں سارا دن خوف زدہ رہا کہ کہیں مجھ پر آسمان سے پتھر نہ برسائے جائیں یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مگر سہیل بن بیضا اسی کا ذکر اس آیت میں ہے یہ حدیث ترمذی مسند احمد وغیرہ میں ہے ۔ ان قیدیوں میں عباس بھی تھے انہیں ایک انصاری نے گرفتار کیا تھا انصار کا خیال تھا کہ اسے قتل کر دیں آپ کو بھی یہ حال معلوم تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو مجھے اس خیال سے نیند نہیں آئی ۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں انصار کے پاس جاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی حضرت عمر انصار کے پاس آئے اور کہا عباس کو چھوڑ دو انہوں نے جواب دیا واللہ ہم اسے نہ چھوریں آپ نے فرمایا گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی اسی میں ہو؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ اب انہیں لے جائیں ہم نے بخوشی چھوڑا ۔ اب حضرت عمر نے ان سے کہا کہ عباس اب ملسمان ہو جاؤ واللہ تمہارے اسلام لانے سے مجھے اپنے باپ کے اسلام لانے سے بھی زیادہ خوشی ہوگی اس لیے کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اسلام لانے سے خوش ہو جائیں گے ان قیدیوں کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر سے مشورہ لیا تو آپ نے تو فرمایا یہ سب ہمارے ہی کنبے قبیلے کے لوگ ہیں انہیں چھوڑ دیجئے حضرت عمر سے جب مشورہ لیا تو آپ نے جواب دیا کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے ۔ آخر آپ نے فدیہ لے کر انہیں آزاد کیا ۔ حضرت علی فرماتے ہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ اپنے صحابہ کو اختیار دیجئے کہ وہ ان دو باتوں میں سے ایک کو پسند کرلیں اگر چاہیں تو فدیہ لے لیں اور اگر چاہیں تو ان قیدیوں کو قتل کر دیں لیکن یہ یاد رہے کہ فدیہ لینے کی صورت میں اگلے سال ان میں اتنے ہی شہید ہوں گے ۔ صحابہ نے کہا ہمیں یہ منطور ہے اور ہم فدیہ لے کر چھوڑیں گے ( ترمذی نسائی وغیرہ ) لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے ۔ ان بدری قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے صحابیو اگر چاہو تو انہیں قتل کر دو اور اگر چاہو ان سے زر فدیہ وصول کر کے انہیں رہا کردو لیکن اس صورت میں اتنے ہی آدمی تمہارے شہید کئے جائیں گے ۔ پس ان ستر شہیدوں میں سب سے آخر حضرت ثاب بین قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے رضی اللہ عنہ ، یہ روایت حضرت عبیدہ سے مرسلا بھی مروی ہے واللہ اعلم ۔ اگر پہلے ہی سے اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت سے حلال نہ لکھا ہوا ہوتا اور جب تک ہم بیان نہ فرما دیں تب تک عذاب نہیں کیا کرتے ایسادستور ہمارا نہ ہوتا تو جو مال فدیہ تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا اسی طرح پہلے سے اللہ طے کر چکا ہے کہ کسی بدری صحابی کو وہ عذاب نہیں کرے گا ۔ ان کے لیے مغفرت کی تحریر ہو چکی ہے ۔ ام الکتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت کی حلت لکھی جا چکی ہے ۔ پس مال غنیمت تمہارے لیے حلال طیب ہے شوق سے کھاؤ پیو اور اپنے کام میں لاؤ ۔ پہلے لکھا جا چکا تھا کہ اس امت کے لیے یہ حلال ہے یہی قول امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے اور اسی کی شہادت بخاری مسلم کی حدیث سے ملتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں مہینے بھر کے فاصلے تک میری مدد رعب سے کی گئی ۔ میرے لیے پوری زمین مسجد پاکی اور نماز کی جگہ بنا دی گئی مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہ تھیں ، مجھے شفاعت عطا فرمائی گئی ہر نبی خاصتہ اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا لیکن میں عام لوگوں کی طرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی سیاہ سر والے انسان کے لیے میرے سوا غنیمت حلال نہیں کی گئی ۔ پس صحابہ نے ان بدری قیدیوں سے فدیہ لیا اور ابو داؤد میں ہے ہر ایک سے چار سو کی رقم بطور تاوان جنگ کے وصول کی گئی ۔ پس جمہور علماء کرام کا مذہب یہ ہے کہ امام وقت کو اختیار ہے کہ اگر چاہے قیدی کفار کو قتل کر دے ، جیسے بنو قریضہ کے قدیوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ۔ اگر چاہے بدلے کا مال لے کر انہیں چھوڑ دے جیسے کہ بدری قیدیوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یا مسلمان قیدیوں کے بدلے چھوڑ دے جیسے کہ حضور اللہ علیہ والہ وسلم نے قبیلہ سلمہ بن اکوع کی ایک عورت اس کی لڑکی مشرکوں کے پاس جو مسلمان قیدی تھے ان کے بدلے میں دیا اور اگر چاہے انہیں غلام بنا کر رکھے ۔ یہی مذہب امام شافعی کا اور علماء کرام کی ایک جماعت کا ہے ۔ گو اوروں نے اس کا خلاف بھی کیا ہے یہاں اسکی تفصیل کی جگہ نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

67۔ 1 جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے اور ستر ہی قیدی بنا لئے گئے، یہ کفر و اسلام کا چونکہ پہلا معرکہ تھا۔ اس لئے قیدیوں کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کیا جائے ؟ ان کی بابت احکام پوری طرح واضح نہیں تھے چناچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان ستر قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے ؟ ان کو قتل کردیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے ؟ جواز کی حد تک دونوں ہی باتوں کی گنجائش تھی۔ اس لئے دونوں ہی باتیں زیر غور آئیں۔ لیکن بعض دفعہ جواز اور عدم جواز سے قطع نظر حالات و ظروف کے اعتبار سے زیادہ بہتر صورت اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جواز کو سامنے رکھتے ہوئے کم تر صورت اختیار کرلی گئی، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب نازل ہوا۔ مشورے میں حضرت عمر وغیرہ نے مشورہ دیا کہ کفر کی قوت و شوکت توڑنے کے لئے ضروری ہے کہ ان قیدیوں کو قتل کردیا جائے، کیونکہ یہ کفر اور کافروں کے سرغنے ہیں، یہ آزاد ہو کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زیادہ سازشیں کریں گے۔ جبکہ حضرت ابوبکر کی رائے اس سے برعکس تھی کہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے اور اس مال سے آئندہ جنگ کی تیاری کی جائے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اسی رائے کو پسند فرمایا جس پر یہ اور اس کے بعد کی آیات نازل ہوئیں۔ جب کفر کا غلبہ ختم ہوگیا تو قیدیوں کے بارے میں امام وقت کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہے تو قتل کردے، فدیہ لے کر چھوڑ دے یا مسلمان قیدیوں کے ساتھ تبادلہ کرلے اور چاہے تو ان کو غلام بنا لے، حالات کے مطابق کوئی بھی صورت اختیار کرنا جائز ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي : کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ قیدی بنائے، پھر انھیں قید رکھے یا احسان کرے یا فدیہ لے، جب تک میدان جنگ میں خوب خون ریزی کے بعد کفر کی کمر نہ ٹوٹ جائے اور وہ دوبارہ مقابلے کے قابل نہ رہ جائیں، اس کے بعد قیدی بنانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن مسلمانو ! تم نے بدر میں قیدی بنانے میں جلدی سے کام لیا، تم فدیے کی صورت میں دنیا کا سامان چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اعلائے کلمۃ اللہ کے ذریعے سے آخرت کے ثواب کا ارادہ رکھتا تھا اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے، تمہارا یہ عمل عزت و حکمت کے مطابق نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا : (فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ ۭ حَتّىٰٓ اِذَآ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ ) [ محمد : ٤ ] ” تو جب ان لوگوں سے ملو جنھوں نے کفر کیا تو گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب انھیں خوب قتل کر چکو تو (ان کو) مضبوط باندھ لو۔ “ سن ٢ ہجری غزوۂ بدر میں قیدی بنانے میں عجلت کے بعد دوسری فر و گزاشت یہ ہوئی کہ قیدیوں کا فیصلہ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا، کیونکہ اس وقت فدیہ لینے کے بجائے انھیں قتل کرنے سے کفر کی کمر مزید ٹوٹتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمیت تمام مسلمانوں پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ (جنگ بدر میں) جب قیدی گرفتار کرلیے گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر اور عمر (رض) سے مشورہ فرمایا کہ ان قیدیوں کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ ابوبکر (رض) نے کہا : ” اے اللہ کے نبی ! یہ ہمارے چچا زاد بھائی اور خاندان ہی کے لوگ ہیں، سو میری رائے تو یہ ہے کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے، تاکہ ( اس رقم سے) کفار کے مقابلے میں قوت حاصل ہو اور کیا عجب کہ اللہ انھیں اسلام کی ہدایت دے دے۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے ابن خطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ “ عمر (رض) فرماتے ہیں : ” میں نے کہا، اے اللہ کے رسول ! میری رائے ابوبکر کی رائے کے مطابق نہیں ہے، میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ان کو ہمارے حوالے کیجیے، تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں۔ عقیل کو علی کے حوالے کیجیے، تاکہ وہ اس کی گردن اڑائیں اور میرے حوالے فلاں کو کیجیے، تاکہ میں اس کی گردن اڑاؤں، اس لیے کہ یہ لوگ کفر کے سرغنے اور اس کے سردار ہیں۔ ( اکثر مسلمانوں کی رائے ابوبکر (رض) کی رائے کے مطابق تھی، کچھ مالی فائدے کے پیش نظر اور کچھ انسانی اور رشتہ داری کی محبت کی وجہ سے) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر (رض) کی رائے اختیار فرمائی اور میری رائے اختیار نہیں کی، پھر جب دوسرے دن کی صبح ہوئی، میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! مجھے بھی بتائیے آپ اور آپ کے دوست کیوں رو رہے ہیں، تاکہ اگر مجھے رونا آئے تو میں بھی روؤں، ورنہ کم از کم آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے والی صورت ہی بنا لوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں اس فیصلے کے مشورے کی وجہ سے رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں نے قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کے متعلق دیا تھا، اب میرے سامنے ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی قریب تھا۔ “ اور آپ کے قریب ایک درخت تھا۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ) [ الأنفال : ٦٧ تا ٦٩ ] [ مسلم، الجہاد، باب الإمداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر ۔۔ : ١٧٦٣ ] علی (رض) فرماتے ہیں کہ جبریل (علیہ السلام) اترے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اپنے ساتھیوں کو بدر کے قیدیوں کے متعلق اختیار دیں کہ انھیں قتل کردیں یا فدیہ لے لیں، اس شرط پر کہ ان میں سے آئندہ اتنے ہی قتل کیے جائیں گے۔ انھوں نے فدیہ لینا اور آئندہ اپنے آدمیوں کی شہادت اختیار کی۔ [ ترمذی، السیر، باب ما جاء فی قتل الأساری و الفداء : ١٥٦٧ وقال الألبانی صحیح ] یہ صورت چونکہ بہتر نہ تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر عتاب فرمایا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The verses cited above relate to a particular event of the battle of Badr. Therefore, prior to an explanation, it is necessary to describe this event on the authority of sound and authentic narrations appear¬ing in Hadith. The scenario of the event is the battle of Badr. It was the first Ji¬had in Islam, and it had come up all of a sudden. Until then, the detail of injunctions pertaining to Jihad was not revealed. There were ques¬tions. If spoils come on hand during Jihad, what should be done with it? If enemy soldiers fall under your control, whether or not it is per¬missible to arrest them? And if they are arrested, what should be done with them? The law of spoils operative in the religious codes of past prophets was that it was not lawful for Muslims to use them for their benefit. Instead, the injunction was that the entire spoils be collected and placed in some open field. According to a Divine practice, a fire would come from the skies and burn the whole thing. This was taken to be a sign that the particular Jihad was approved of. If the fire from the skies did not come to burn the spoils, it was taken to be a sign that there was some shortcoming in the Jihad effort because of which it was considered unacceptable with Allah. According to narrations in the Sahih of Al-Bukhari and Muslim, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: &I have been blessed with five things which were not bestowed on any prophet before me.& One of these was that spoils acquired from disbelievers were not lawful for anyone, but it was made lawful for the Muslim Ummah, the traditional recipient of mercy from Allah. That the property of spoils was particularly lawful for this Ummah already existed in the infinite knowledge of Allah Ta` ala, but no revelation attesting to its being lawful had been sent to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) until the event of the battle of Badr re¬ferred to above. And what happened in the battle of Badr was that Al¬lah Ta` ala blessed Muslims with an extraordinary victory which was totally beyond their imagination. The enemy also left behind its belongings which fell into the hands of Muslims as spoils. Then they took seventy of their big chiefs as prisoners. But, the necessary clarification of whether or not the later two actions were permissible was yet to come through a Divine revelation. Therefore, this hasty action taken by the noble Companions was censured. This censure and displeasure was demonstrated through a revelation in which Muslims were given a choice between two courses of action in the case of the prisoners of war. But, when giving this choice, it was also pointed out to them that, out of the two aspects of the case, one was desirable while the other was undesirable. Based on a narration from Sayyidna Ali al-Murtada (رض) ، it has been reported in Jami` Tirmidhi, Sunan al-Nasa&i and Sahih Ibn Hibban that on this occasion Sayyidna Jibra&il al-Amin (علیہ السلام) came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and communicated to him the command that he should give his Companions (رض) a choice between two courses of action: (1) That they either kill these prisoners and destroy the image of enemy power for ever; (2) or, that they are released against some payment of fidyah (ransom). However, should this second option be taken, it has to be borne in mind that it stands Divinely ordained that, in return for this next year, the number of Muslims who will fall as martyrs will match the number of prisoners who will be released today on payment of ran¬som. Though, the two courses of action did have the element of choice and the Companions (رض) did have the option of going by any one of the two, but, in the second option where mention was made of the eventu¬ality of the martyrdom of seventy Muslims, there did exist a delicate indication towards the undesirability of the second option in the sight of Allah Ta` ala - because, had it been desirable, the killing of seventy Muslims would have not been binding as a result. When these two alternatives were presented before the Compan¬ions (رض) as a matter of choice for them, some of them thought if these peo¬ple were released against payment of ransom, it was quite possible that they all, or some of them, may become Muslims at some later stage which would, then, be the real gain, and the very objective of Ji¬had itself. They also thought that Muslims were poor at that time and should they make some financial gain through ransom for seventy men, that would not only help remove their hardship but also contrib¬ute towards their preparations for Jihad in future. As for the martyr¬dom of seventy Muslims, it was a standing blessing and good fortune for Muslims themselves. Why should they worry about something so welcome, they thought. It was in view of these thoughts that Sayyidna Abu Bakr (رض) and most of the Companions (رض) tilted towards the op¬tion of releasing the prisoners against ransom. Only Sayyidna ` Umar, Sayyidna Sa&d ibn Mu` adh and some other Companions (رض) dif-fered with this opinion and recommended the option of killing them all on the ground that it was a good chance as all Quraysh chiefs, who sponsor and supply the entire striking force arrayed against Muslims, had fallen into their hands at one given time. That they would embrace Islam in the near future was a figment of their imagination. However, what was more likely to happen was that these people, once they return, will become the cause of enhanced hostility against Mus¬lims, much too pronounced than ever before. As for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) he had come to grace this mortal world as the universal messenger of mercy - and was himself mercy personified - he looked at the two opinions from the Sahabah and accepted the one which provided mercy and ease for prisoners - that they be released against ransom. Addressing Sayyidna Abu Bakr (رض) and Sayyidna ` Umar (رض) he said: لو اتفقتما ما خالفتکما (Had you two agreed upon any one opinion, I would have not acted against the opinion given by you two). (Mazhari) Faced with a difference of opinion at that time, it was but the dictate of his inherent mercy and affection he had for the creation of Allah that the course of ease and convenience was taken to in their case. So, that was what was done. And the outcome was that next year, at the time of the battle of &Ubud, the event of the martyrdom of seventy Muslims came to pass as Divinely indicated. In the words: تُرِ‌يدُونَ عَرَ‌ضَ الدُّنْيَا (You want things of this world - 67), the address is to the noble Companions (رض) who had suggested release for ran¬som. This verse tells them that they had given improper advice to the Rasul of Allah because it did not match with the august station of any prophet that he would not, once he overpowers the enemies, go on to demolish their power and its image, instead, would opt for granting relief to a wicked and conspiratorial enemy only to commit Muslims to everlasting trouble. The words used in this verse are: حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْ‌ضِ (until he has had a thorough bloodshed in the land - 67). Lexically, the word: اِثخان (ithkhan) means to demolish someone&s might and power exhaustively and conclusively. The words: فِی الاَرض (fi&l-ard : in the land) have been made to follow in order to intensify this very sense of total termination. As for the Sahabah who had recommended release against ransom, part of their view was, no doubt, purely religious - they hoped that, once free, these people may embrace Islam. But, alongwith it, part of it was motivated by personal interest as well - that they will have spoils to bring back - although, until that time, there was no decisive textual authority which proved spoils as permissible property for Muslims. Therefore, in view of the high standards being set for the society of men and women under the education, training and guidance of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - standards which aimed to take them to ranks even higher than angels - the slightest turn of thought towards material acquisitions was considered a kind of disobedience. Thus, it goes without saying that the sum total of what is a potpourri of deeds which are both permissible and impermissible will, after all, be called impermissible. Therefore, such conduct from the Sahabah met with displeasure and it was said: تُرِ‌يدُونَ عَرَ‌ضَ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ يُرِ‌يدُ الْآخِرَ‌ةَ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ: &You want things of this world while Allah wants the Hereafter (for you) - 67,& that is, Allah wants you to seek the Hereafter. Mentioned here as reprimand was a particular act of theirs which was the cause of dis¬pleasure. The other cause, that of the hope of released prisoners becoming Muslims, was not mentioned here. This indicates that a special group like the group of righteous, sincere and noble Sahabah would accommodate such mixed up intention as would combine some faith and some personal interest was something not acceptable even in that degree. Worth noticing here is the fact that the admonition and warning in this verse are being addressed to the noble Sahabah. Though, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، by accepting their opinion, had gone along with them in a certain way, but, this act of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was purely a demonstration of his being universally merciful when he, subsequent to a difference of opinion among the Sahabah, had gone by a course of action which promised grace and convenience for the prisoners. At the end of the verse, by saying: وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (And Allah is Mighty, Wise - 67), it was pointed out that Allah Ta` ala, being the source of all might and wisdom, would have - only if they had not acted in a hurry - provided for them wealth and properties as well in their future victo¬ries through His infinite grace.

خلاصہ تفسیر (اے مسلمانو ! تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو ان قیدیوں سے کچھ لے کر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا یہ بےجا تھا کیونکہ) نبی کی شان کے لائق نہیں کہ ان کے قیدی باقی رہیں (بلکہ قتل کردیئے جائیں) جب تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح (کفار کی) خونریزی نہ کرلیں (کیونکہ مشروعیت جہاد کی اصلی غرض دفع فساد ہے اور بدوں اس حد کے جس میں کہ بالکل شوکت کفار کی ٹوٹ جائے دفع فساد ممکن نہیں پس اس نوبت سے پہلے قیدیوں کا زندہ چھوڑ دینا آپ کی شان اصلاح کے مناسب نہیں البتہ جب ایسی قوت ہوجائے پھر قتل ضروری نہیں بلکہ اور صورتیں بھی مشروع ہیں پس ایسی نامناسب رائے تم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیوں دی) تم تو دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہو (اس لئے فدیہ کی رائے دی) اور اللہ تعالیٰ آخرت (کی مصلحت) کو چاہتے ہیں (اور وہ اس میں ہے کہ کفار خوف سے مغلوب ہوجائیں جس میں آزادی سے اسلام کا نور و ہدایت پھیلے اور بےروک ٹوک لوگ بکثرت مسلمان ہوں اور نجات پاویں) اور اللہ تعالیٰ بڑے زبردست بڑی حکمت والے ہیں (وہ تم کو کفار پر غالب کرتے اور فتوحات کی کثرت سے تم کو مالدار کردیتے گو کسی حکمت کے سبب اس میں دیر ہوتی جو فعل تم سے واقع ہوا ہے وہ ایسا ناپسندیدہ ہے کہ) اگر اللہ تعالیٰ کا ایک نوشتہ مقدر نہ ہوچکتا (وہ یہ کہ ان قیدیوں میں لوگ مسلمان ہوجائیں گے جس سے فساد محتمل واقع نہ ہوگا۔ اگر یہ ہوتا) تو جو امر تم نے اختیار کیا ہے اس کے بارے میں تم پر کوئی بڑی سزا واقع ہوتی (لیکن چونکہ کوئی فساد نہ ہوا اور اتفاقا تمہارا مشورہ صائب نکل آیا اس لئے تم سزا سے بچ گئے یعنی ہم نے اس فدیہ کو مباح کردیا) سو جو کچھ تم نے (ان سے فدیہ میں) لیا ہے اس کو حلال پاک سمجھ کر کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ( کہ آئندہ ہر طرح کی احتیاط رکھو) بیشک اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے بڑی رحمت والے ہیں (کہ تمہارا گناہ بھی معاف کردیا یہ مغفرت ہے اور فدیہ بھی حلال کردیا یہ رحمت ہے) ۔ معارف و مسائل آیات مذکورہ کا تعلق غزوہ بدر کے ایک خاص واقعہ سے ہے اس لئے ان کی تفسیر سے پہلے صحیح اور مستند روایات حدیث کے ذریعہ اس واقعہ کا بیان ضروری ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بدر اسلام میں سب سے پہلا جہاد ہے اور اچانک پیش آیا ہے اس وقت تک جہاد سے متعلقہ احکام کی تفصیل قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھی جہاد میں اگر مال غنیمت ہاتھ آجائے تو اسے کیا کیا جائے۔ دشمن کے سپاہی اپنے قبضہ میں آجائیں تو ان کو گرفتار کرنا جائز ہے یا نہیں اور گرفتار کرلیا جائے تو پھر ان کے ساتھ معاملہ کیا کرنا چاہئے۔ مال غنیمت کے متعلق پچھلے تمام انبیاء کی شریعتوں میں قانون یہ تھا کہ مسلمانوں کو اس سے نفع اٹھانا اور استعمال کرنا حلال نہیں تھا بلکہ حکم یہ تھا کہ پورا مال غنیمت جمع کرکے کسی میدان میں رکھ دیا جائے اور دستور الہی یہ تھا کہ آسمان سے ایک آگ آتی اور اس سارے مال کو جلا کر خاک کردیتی۔ یہی علامت اس جہاد کے مقبول ہونے کی سمجھی جاتی تھی۔ اگر مال غنیمت کو جلانے کے لئے آسمانی آگ نہ آئے تو یہ اس کی علامت ہوتی ہے کہ جہاد میں کوئی کوتاہی رہی ہے جس کے سبب وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول نہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے پانچ چیزیں ایسی عطاء کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کفار سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کسی کے لئے حلال نہیں تھا مگر امت مرحومہ کے لئے حلال کردیا گیا۔ مال غنیمت کا اس امت کے لئے خصوصی طور پر حلال ہونا اللہ تعالیٰ کے تو علم میں تھا مگر غزوہ بدر کے واقعہ تک اس کے متعلق کوئی وحی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کے حلال ہونے کے متعلق نازل نہیں ہوئی تھی۔ اور غزوہ بدر میں صورت حال یہ پیش آئی کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بالکل خلاف قیاس غیر معمولی فتح عطا فرمائی۔ دشمن نے مال بھی چھوڑا جو بطور غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور ان کے بڑے بڑے ستر (70) سردار مسلمانوں نے گرفتار کرلئے۔ مگر ان دونوں چیزوں کے جائز ہونے کی صراحت کسی وحی الہی کے ذریعہ ابھی تک نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے صحابہ کرام کے اس عاجلانہ اقدام پر عتاب نازل ہوا۔ اسی عتاب و نازاضی کا اظہار ایک وحی کے ذریعہ کیا گیا جس میں جنگی قیدیوں کے متعلق بظاہر تو مسلمانوں کو دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تھا مگر اسی اختیار دینے میں ایک اشارہ اس کی طرف کردیا گیا تھا کہ مسئلہ کے دونوں پہلوؤں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک پسندیدہ اور دوسرا ناپسندیدہ ہے۔ جامع ترمذی، سنن نسائی، صحیح ابن حبان میں بروایت علی مرتضی منقول ہے کہ اس موقع پر حضرت جبریل امین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ اور یہ حکم سنایا کہ آپ صحابہ کرام کو دو چیزوں میں اختیار دے دیجئے ایک یہ کہ ان قیدیوں کو قتل کرکے دشمن کی شوکت کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیں۔ دوسرے یہ کہ ان کو فدیہ یعنی کچھ مال لے کر چھوڑ دیا جائے۔ لیکن اس دوسری صورت میں بامر الہی یہ طے شدہ ہے اس کے بدلہ آئندہ سال مسلمانوں کے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے جتنے قیدی آج مال لے کر چھوڑ دیئے جائیں گے۔ یہ صورت اگرچہ تخییر کی تھی اور صحابہ کرام کو دونوں چیزوں کا اختیار دے دیا گیا تھا مگر دوسری صورت میں ستر مسلمانوں کی شہادت کا فیصلہ ذکر کرنے میں اس طرف ایک خفیف اشارہ ضرور موجود تھا کہ یہ صورت اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسند نہیں کیونکہ اگر یہ پسند ہوتی تو ستر مسلمانوں کا خون اس کے نتیجہ میں لازم نہ ہوتا۔ صحابہ کرام کے سامنے جب یہ دونوں صورتیں بطور اختیار کے پیش ہوئیں تو بعض صحابہ کرام کا خیال یہ ہوا کہ اگر ان لوگوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا تو بہت ممکن ہے کہ یہ سب یا بعض کسی وقت مسلمان ہوجائیں جو اصلی فائدہ اور مقصد جہاد ہے۔ دوسرا یہ بھی خیال تھا کہ مسلمان اس وقت افلاس کی حالت میں ہیں اگر ستر آدمیوں کا مالی فدیہ ان کو مل گیا تو ان کی تکلیف بھی دور ہوگی اور آئندہ کے لئے جہاد کی تیاری میں بھی مدد مل جائے گی۔ رہا ستر مسلمانوں کا شہید ہونا سو وہ مسلمانوں کے لئے خود ایک نعمت وسعادت ہے اس سے گبھرانا نہیں چاہئے۔ ان خیالات کے پیش نظر صدیق اکبر (رض) اور اکثر صحابہ کرام نے یہی رائے دی کہ ان قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد کردیا جائے۔ صرف حضرت عمر بن خطاب اور سعد بن معاذ وغیرہ چند حضرات نے اس رائے سے اختلاف کرکے ان سب کو قتل کردینے کی رائے اس بنیاد پر دی کہ یہ حسن اتفاق ہے کہ اسلام کے مقابلہ میں قوت و طاقت فراہم کرنے والے سارے قریشی سردار اس وقت قابو میں آگئے ہیں ان کا قبول اسلام تو موہوم خیال ہے مگر یہ گمان غالب ہے کہ یہ لوگ واپس ہو کر پہلے سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف سرگرمی کا سبب بنیں گے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو رحمۃ للعالمین ہو کر تشریف لائے تھے اور رحمت مجسم تھے صحابہ کرام کی دو رائیں دیکھ کر آپ نے اس رائے کو قبول کرلیا جس میں قیدیوں کے معاملہ میں رحمت اور سہولت تھی کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ آپ نے صدیق اکبر اور فاروق اعظم کو خطاب کرکے فرمایا لو اتفقتما ما خالفتکما یعنی اگر دونوں کسی ایک رائے پر متفق ہوجاتے تو میں تمہاری رائے کے خلاف نہ کرتا ( مظہری) ۔ اختلاف رائے کے وقت آپ کی رحمت و شفقت علی الخلق کا تقاضا یہی ہوا کہ ان کے معاملے میں آسانی اختیار کی جائے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے نتیجہ میں آئندہ سال غزوہ احد کے موقع پر اشارات ربانی کے مطابق ستر مسلمانوں کے شہید ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ (آیت) تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا میں ان صحابہ کرام کو خطاب ہے جنہوں نے فدیہ لے کر چھوڑنے کی رائے دی تھی۔ اس آیت میں بتلایا گیا کہ آپ حضرات نے ہمارے رسول کو نامناسب مشورہ دیا۔ کیونکہ کسی نبی کے لئے یہ شایان شان نہیں ہے کہ اس کو دشمنوں پر قابو مل جائے تو ان کی قوت و شوکت کو نہ توڑے اور مفسد قسم کے دشمن کو باقی رکھ کر مسلمانوں کے لئے ہمیشہ کی مصیبت قائم کردے۔ اس آیت میں (آیت) حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ کے الفاظ آئے ہیں۔ لفظ اثخان کے معنی لغت میں کسی کی قوت و شوکت کو توڑنے میں مبالغہ سے کام لینے کے ہیں۔ اسی معنی کی تاکید کے لئے لفظ فِي الْاَرْضِ لایا گیا جس کا حاصل یہ ہے کہ دشمن کی شوکت کو خاک میں ملادے۔ جن صحابہ کرام نے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کی رائے دی تھی اگرچہ ان کی رائے میں ایک جز خالص دینی تھا یعنی آزادی کے بعد ان لوگوں کے مسلمان ہوجانے کی امید۔ مگر ساتھ ہی دوسرا جز اپنی ذاتی منفعت کا بھی تھا کہ ان کو مال ہاتھ آجائے گا۔ اور ابھی تک کسی نص صریح سے اس مال کا جائز ہونا بھی ثابت نہ تھا۔ اس لئے انسانوں کا وہ معاشرہ جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیر تربیت اس پیمانہ پر بنایا جارہا تھا کہ ان کا مرتبہ فرشتوں سے بھی آگے ہو اس کے لئے یہ مال کی طرف دھیان بھی ایک قسم کی معصیت سمجھی گئی۔ اور جو کام جائز و ناجائز کاموں سے مرکب ہو اس کا مجموعہ ناجائز ہی کہلاتا ہے اس لئے صحابہ کرام کا یہ عمل قابل عتاب قرار دے کر یہ ارشاد نازل ہوا۔ (آیت) تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ یعنی تم لوگ دنیا کو چاہتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ تم سے یہ چاہتا ہے کہ تم آخرت کے طالب بنو۔ یہاں بطور عتاب کے ان کے صرف اس فعل کا ذکر کیا گیا جو وجہ ناراضی تھا دوسرا سبب یعنی قیدیوں کے مسلمان ہوجانے کی امید۔ اس کا یہاں ذکر نہیں فرمایا۔ جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ صحابہ کرام جیسی پاکباز مخلص جماعت کے لئے ایسی مشترک نیت جس میں کچھ دین کا جز ہو کچھ اپنے دنیوی نفع کا یہ بھی قابل قبول نہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ اس آیت میں عتاب و تنبیہ کا خطاب صحابہ کرام کی طرف ہے اگرچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ان کی رائے کو قبول فرما کر ایک گونہ شرکت ان کے ساتھ کرلی تھی مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ عمل خالص آپ کے رحمة للعالمین ہونے کا مظہر تھا کہ صحابہ میں اختلاف رائے ہونے کی صورت میں اس صورت کو اختیار فرمالیا جو قیدیوں کے حق میں سہولت و شفقت کی تھی۔ آخر آیت میں واللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ اللہ تعالیٰ زبردست، حکمت والے ہیں اگر آپ لوگ جلد بازی نہ کرتے تو وہ اپنے فضل سے آئندہ فتوحات میں تمہارے لئے مال و دولت کا بھی سامان کردیتے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ۝ ٠ ۭ تُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا۝ ٠ ۤۖ وَاللہُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَۃَ۝ ٠ ۭ وَاللہُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۝ ٦٧ نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ أسر الأَسْر : الشدّ بالقید، من قولهم : أسرت القتب، وسمّي الأسير بذلک، ثم قيل لكلّ مأخوذٍ ومقيّد وإن لم يكن مشدوداً ذلك «1» . وقیل في جمعه : أَسَارَى وأُسَارَى وأَسْرَى، وقال تعالی: وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] . ويتجوّز به فيقال : أنا أسير نعمتک، وأُسْرَة الرجل : من يتقوّى به . قال تعالی: وَشَدَدْنا أَسْرَهُمْ [ الإنسان/ 28] إشارة إلى حکمته تعالیٰ في تراکيب الإنسان المأمور بتأمّلها وتدبّرها في قوله تعالی: وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلا تُبْصِرُونَ [ الذاریات/ 21] . والأَسْر : احتباس البول، ورجل مَأْسُور : أصابه أسر، كأنه سدّ منفذ بوله، والأسر في البول کالحصر في الغائط . ( ا س ر ) الاسر کے معنی قید میں جکڑ لینے کے ہیں ۔ یہ اسرت القتب سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں میں نے پالان کو مضبوطی سے باندھ دیا اور قیدی کو اسیر اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ رسی وغیرہ سے باندھا ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :َ { وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا } ( سورة الإِنْسان 8) اور یتیموں اور قیدیوں کو ۔ پھر اس شخص کو جو گرفتار اور مقید ہوکر آئے الاسیر کہہ دیا جاتا ہے گو وہ باندھا ہوا نہ ہوا سیر کی جمع اسارٰی و اساریٰ واسریٰ ہے اور مجازا ۔ انا اسیر نعمتک کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی تیرے احسان کی رسی میں بندھا ہوا ہوں ۔ اور اسرۃ الرجل کے معنی افراد خادندان کے ہیں جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَشَدَدْنَا أَسْرَهُمْ } ( سورة الإِنْسان 28) اور ان کی بندش کو مضبوطی سے باندھ دیا ۔ میں اس حکمت الہی کی طرف اشارہ ہے جو انسان کی بئیت ترکیبی میں پائی جاتی ہے جس پر کہ آیت { وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ } ( سورة الذاریات 21) میں غور فکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ الاسر ۔ کے معنی ہیں پیشاب بند ہوجانا ۔ اور جو شخص اس بماری میں مبتلا ہوا سے عاسور کہا جاتا ہے گو یا اس کی پیشاب کی نالی بند کردی گئی ہے اس کے مقابلہ میں پاخانہ کی بندش پر حصر کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا يرجونه، وقد قرئ : حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] ، بالنصب والرفع «1» ، وحمل في كلّ واحدة من القراء تین علی الوجهين . وقیل : إنّ ما بعد «حتی» يقتضي أن يكون بخلاف ما قبله، نحو قوله تعالی: وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ، وقد يجيء ولا يكون کذلک نحو ما روي : «إنّ اللہ تعالیٰ لا يملّ حتی تملّوا» «2» لم يقصد أن يثبت ملالا لله تعالیٰ بعد ملالهم حتی ٰ ( حرف ) کبھی تو الیٰ کی طرح یہ حرف جر کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے مابعد غایت ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور کبھی عاطفہ ہوتا ہے اور کبھی استیناف کا فائدہ دیتا ہے ۔ جیسے اکلت السملۃ حتی ٰ راسھا ( عاطفہ ) راسھا ( جارہ ) راسھا ( مستانفہ قرآن میں ہے ليَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] کچھ عرصہ کے لئے نہیں قید ہی کردیں ۔ وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔۔۔۔ جب یہ فعل مضارع پر داخل ہو تو اس پر رفع اور نصب دونوں جائز ہوتے ہیں اور ان میں ہر ایک کی دو وجہ ہوسکتی ہیں نصب کی صورت میں حتی بمعنی (1) الی آن یا (2) گی ہوتا ہے اور مضارع کے مرفوع ہونے ایک صورت تو یہ ہے کہ حتی سے پہلے فعل ماضی آجائے جیسے ؛۔ مشیت حتی ادخل ۔ البصرۃ ( یعنی میں چلا حتی کہ بصرہ میں داخل ہوا ) دوسری صورت یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد حال واقع ہو جیسے مرض حتی لایرجون و دو بیمار ہوا اس حال میں کہ سب اس سے ناامید ہوگئے ) اور آیت کریمۃ ؛۔ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] یہاں تک کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکار اٹھے ۔ میں یقول پر رفع اور نصب دونوں منقول ہیں اور ان ہر دو قرآت میں دونوں معنی بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حتیٰ کا مابعد اس کے ماقبل کے خلاف ہوتا ہے ۔ جیسا ک قرآن میں ہے : وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ۔ اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے پاس نہ جاؤ ) جب تک کہ غسل ( نہ ) کرو ۔ ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور غسل نہ کرسکو تو تیمم سے نماز پڑھ لو ۔ مگر کبھی اس طرح نہیں بھی ہوتا جیسے مروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ لاتمل حتی تملو ا ۔ پس اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے تھک جانے کے بعد ذات باری تعالیٰ بھی تھک جاتی ہے ۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو کبھی ملال لاحق نہیں ہوتا ۔ ثخن يقال ثَخُنَ الشیء فهو ثَخِين : إذا غلظ فلم يسل، ولم يستمر في ذهابه، ومنه استعیر قولهم : أَثْخَنْتُهُ ضربا واستخفافا . قال اللہ تعالی: ما کان لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ [ الأنفال/ 67] ، حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] . ( ث خ ن ) ثخن ( ک ) الشیئء کے معنی ہیں کسی چیز کا گاڑھا ہوجانا اس طرح کہ بہنے سے رک جائے اسی سے بطور استعارہ کہا جاتا ہے ۔ میں نے اسے اتنا پیٹا کہ وہ اپنے مقام سے حرکت نہ کرسکا قرآن میں ہے : ۔ ما کان لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ [ الأنفال/ 67] پیغمبر کو شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک ( کافروں کو قتل کرکے ) زمین میں کثرت سے خون ( نہ ) بہا دے ۔ حَتَّى إِذا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ [ محمد/ 4] جب ان کو خوب قتل کرچکو تو ( جو زندہ پکڑلئے جائیں ان کو ) مضبوطی سے قید کرلو ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ عرض أَعْرَضَ الشیءُ : بدا عُرْضُهُ ، وعَرَضْتُ العودَ علی الإناء، واعْتَرَضَ الشیءُ في حلقه : وقف فيه بِالْعَرْضِ ، واعْتَرَضَ الفرسُ في مشيه، وفيه عُرْضِيَّةٌ. أي : اعْتِرَاضٌ في مشيه من الصّعوبة، وعَرَضْتُ الشیءَ علی البیع، وعلی فلان، ولفلان نحو : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] ، ( ع ر ض ) العرض اعرض الشئی اس کی ایک جانب ظاہر ہوگئی عرضت العود علی الاناء برتن پر لکڑی کو چوڑی جانب سے رکھا ۔ عرضت الشئی علی فلان اولفلان میں نے فلاں کے سامنے وہ چیزیں پیش کی ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلائِكَةِ [ البقرة/ 31] پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی حكيم فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ، وعلی ذلک قال : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] ، وقیل : معنی الحکيم المحکم «3» ، نحو : أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ، وکلاهما صحیح، فإنه محکم ومفید للحکم، ففيه المعنیان جمیعا، والحکم أعمّ من الحکمة، فكلّ حكمة حكم، ولیس کل حکم حكمة، فإنّ الحکم أن يقضی بشیء علی شيء، فيقول : هو كذا أو ليس بکذا، قال صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ من الشّعر لحكمة» أي : قضية صادقة لہذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ اور قرآن پاک کو حکیم یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حکمت کی باتوں پر مشتمل ہے جیسے فرمایا ۔ الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] یہ بڑی دانائی کی کتان کی آیئیں ہیں ۔ نیز فرمایا : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] اور ان کو ایسے حالات ( سابقین پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے اور کامل دانائی ) کی کتاب بھی ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قرآن پاک کے وصف میں حکیم بمعنی محکم ہوتا ہے جیسے فرمایا :، أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ا حکمت ایا تہ جس کی آیتہ ( جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔ اور یہ دونوں قول صحیح ہیں کیونکہ قرآن پاک کی آیات محکم بھی ہیں اور ان میں پراز حکمت احکام بھی ہیں لہذا ان ہر دو معافی کے لحاظ سے قرآن محکم سے ۔ حکم کا لفظ حکمۃ سے عام ہے ہر حکمت کو حکم کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر حکم حکمت نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ حکم کے معنی کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کے ہوتے ہیں کہ وہ یوں ہے یا یوں نہیں ہے ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ بعض اشعار مبنی برحکمت ہوتے ہیں جیسا کہ کبید نے کہا ہے ( ویل ) کہ خدائے تعالیٰ کا تقوی ہی بہترین توشہ ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قیدیوں کا بیان قول باری ہے (ما کان لبنی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض کسی نبی کے لئے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پسا قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دینا ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابودائود نے، انہیں احمد بن حنبل نے، انہیں ابونوح نے، انہیں عکرمہ بن عمار نے، انہیں سماک الحنفی نے، انہیں حضرت ابن عباس نے، انہیں حضرت عمر (رض) نے کہ جب بدر کا معرکہ پیش آیا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیدیوں کا فدیہ قبول کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے درج بالا آیت نازل فرمائی تا قول باری (لمسکم فیما اخذتم تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کی پاداش میں تمہیں بڑی سزا دی تھی) یعنی جو فدیہ تم نے لیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کیلئے غنائم کو حلال کردیا۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں بشر بن موسیٰ نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے، انہیں ابولاحوص نے اعمش سے، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے کہ معرکہ بدر کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مال غنیمت اکٹھا کرلیا اس چیز پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ تمسے پہلے سیاہ سروں والی کسی قوم کے لئے ما لغنیمت حلال نہیں تھا۔ جب کوئی نبی اور اس کے رفقاء مال غنیمت حاصل کرتے تو اسے ایک جگہ ڈھیر کردیتے، آسمان سے ایک آگ اترتی اور اسے کھا جاتی “ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (لولا کتاب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم فکلوا مما غنمتم حلالا طیبا۔ اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی۔ پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھائو کہ وہ پاک اور حلال ہے۔ اسیران بدر کے بارے میں مشورے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان اس سلسلے میں ایک اور روایت بھی ہے۔ اعمش نے عمرو بن مرہ سے روایت کی ہے۔ انہوں نے ابو عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (رح) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے معرکہ میں ہاتھ آنے والے قیدیوں کے متعلق حضرات صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ان پر رحم کرنے کا مشورہ دیا جبکہ حضرت عمر (رض) نے ان کی گردنیں اڑا دینے کا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ نے انہیں آگ میں جلا دینے کا مشورہ دیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے مخاطب ہو کر فرمایا : ابوبکر (رض) تمہاری مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کیا تھا (فمن تبعنی فانہ منی و من عصانی فانک غفور رحیم۔ جو شخص میری پیروی کرے اس کا تعلق مجھ سے ہوگا اور جو میری نافرمانی کرے گا تو تو غفور رحیم ہے) اسی طرح تمہاری مثال حضرت عیسیٰ جیسی ہے، انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا تھا۔ (ان تعذبھم فانھم عبادک و ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم۔ اگر تو انہیں عذاب دے گا تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے گا تو تو بڑا زبردست اور حکمت والا ہے) ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے مخاطب ہو کر فرمایا : ” عمر (رض) ! تمہاری مثال حضرت نوح (علیہ السلام) جیسی ہے۔ انہوں نے اپنے رب سے عرض کیا تھا (رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ اے میرے پروردگار ! زمین پر کافروں میں سے ایک بھی باشندہ زندہ نہ چھوڑ) نیز تمہاری مثال حضرت موسیٰ جیسی ہے، انہوں نے اپنے پروردگار سے عرض کیا تھا (ربنا اطمس علی اموالھم۔ اے ہمارے رب، ان فرعونیوں کا مال و اسباب تباہ کر دے) تا آخر آیت “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام صحابہ (رض) سے مخاطب ہو کر فرمایا (انتم عالۃ فلا ینفلتن منھما احد الا لفداء او ضربۃ عنق۔ تم سب لوگ تنگدست ہو اس لئے ان قیدیوں میں سے کوئی شخص فدیہ ادا کئے بغیر جانے نہ پائے یا اس کی گردن مار دی جائے) یہاں حضرت ابن مسعود (رض) نے بات کاٹتے ہوئے عرض کیا : سہیل بن بیضاء کے سوا، اس لئے کہ اس نے اسلام لانے کا ذکر کیا ہے “۔ یہ سن کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے پھر فرمایا : سہیل بن بیضا، کے سوا ‘’ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ دو آیتیں نازل فرمائیں (ما کان لنبی ان یکون لہ اسری) تا آخر آیتین۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا احساس ذمہ داری حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں حضرت ابوبکر (رض) ، حرت عمر (رض) اور حضرت علی (رض) سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فدیہلے کر چھوڑ دینے اور حضرت عمر (رض) نے ان کی گردنیں اڑا دینے کا مشورہ دیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کے مشورے کی طرف اپنے رجحان کا اظہار فرمایا۔ حضرت عمر (رض) کے شمورے کی طرف مائل نہ ہوئے۔ جب میں دوسرے دن صبح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) دونوں بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے گھبرا کر رونے کی وجہ دریافت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے رونے کی وجہ وہ مشورہ ہے جو ان قیدیوں سے فدیہ لینے کے متعلق تمہارے ساتھیوں نے مجھے دیا تھا۔ با اس سلسلے میں تم پر اللہ کی طرف سے جو سزا میرے سامنے پیش کی گئی ہے وہ اس درخت سے بھی زیادہ قریب ہے۔ ‘ ذ یہ فرماتے ہوئے آپ نے پاس ہی ایک درخت یک طرف اشارہ کیا۔ پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے (ما کان لنبی ان یکون لہ اسریٰ حتیٰ یثخن فی الارض) تا آخر آیت “ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کی پہلی روایت اور حضرت ابوہریرہ (رض) کی مذکورہ روایت میں یہ بیان ہوا کہ قول باری (لو لا کتاب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم) کا نزول غنائم لینے کی بنا پر ہوا جبکہ حضرت ابن مسعود (رض) کی روایت اور حضرت ابن عباس کی روایت میں یہ ذکر ہوا کہ وعید کا سبب یہ تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صحابہ کرام کی طرف سے قیدیوں سے فدیہ لینے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن پہلی بات آیت کے معنی کے زیادہ مناسب ہے اس لئے کہ ارشاد ہوا (لمستکم فیما اخذتم) یہ نہیں فرمایا کہ لمسم فیما عرضتم واشرتم۔ یعنی جو تم نے پیش کیا اور جس کا تم نے مشورہ دیا اس کی بنا پر تمہیں عذاب عظیم دیا جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی محال ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی قول پر وعید کا ذکر کیا جائے اس لئے کہ آپ اپنی مرضی سے کوئی بات زبان پر نہیں لاتے تھے جو بات آپ کی زبان مبارک سے نکلتی وہ اللہ یک طرف سے بھیجی ہوئی وحی ہوتی۔ بعض لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس کے لئے سا بات کے جواز کے قائل ہیں کہ آپ اپنی رائے اور اجتہاد کی بنا پر کوئی بات کہہ سکتے ہیں۔ یہاں پر یہ کہنا بھی درست ہے کہ آپ نے مسلمانوں کے لئے فدیہ لینے کی اباحت کردی تھی جو ایک معصیت صغیرہ تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ سے اور تمام مسلمانوں سے اپنی ناراضی کا اظہار فرمایا۔ اس بحث کی ابتدا میں مذکورہ روایت کے اندر یہ بیان ہوچکا ہے کہ مال غنیمت ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل کسی نبی کے لئے حلال نہیں تھا۔ آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے ارشاد ہے (ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض) انبیائے سابقین کی شریعتوں میں غنام کی تحریم تھی اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یک شریعت میں بھی اس کی تحریم تھی جب تک زمین میں کفر کی طاقت کو کچل نہ دیا جاتا۔ ظاہر آیت اس بات کی مقتضی ہے کہ کفر کی طاقت کو کچل دینے کے بعد غنائم لینے اور قیدیوں کو پکڑنے کی اباحت ہوتی، بدر کے دن مسلمانوں کو مشرکین کو تہ تیغ کرنے کا حکم دیا گیا تھا چناچہ ارشاد ہے (ناضربوا فوق الاعناق واضربو منھم کل بنان پس تم ان لوگوں کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگائو) دوسری آیت میں فرمایا (فاذا یقتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتیٰ اذا اثختنموھم فشدوا الوثاق۔ جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہوجائے تو ان کی گردنیں مارتے چلو یہاں تک کہ جب ان کی خوب خونیریز کر چکو تو خوب مضبوطباندھ لو) اس وقت جو بات فرض تھی وہ یہ تھی کہ مشرکین کو تہتینہ کیا جائے حتیٰ کہ جب انہیں کچل دیا جائے تو پھر فدیہ لینے کی اباحت تھی۔ مشرکین ک تہ تیغ کرنے سے پہلے اور ان کی طاقت کچل ڈالنے سے قبل فدیہ لینے کی ممانعت تھی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام نے بدر کے دن مال غنیمت اکٹھا کرلیا تھا، قیدی پکڑ لئے تھے اور ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا یہ فعل اللہ کے حکم کے مطابق نہ تھا جو اس سلسلے میں اللہ نے انہیں دیا تھا اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان سے پاین ناراضی کا اظہار کیا۔ اصحاب سیر اور غزوات کے راویوں کا اس پر اتفاق ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بعد ان سے فدیہ لیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی فدیہ دیئے بغیر جانے نہ پائے یا اس کی گردن اتار دی جائے۔ یہ بات اس کی موجب ہے کہ قیدیوں کو پکڑنے اور ان سے فدیہ وصول کرنے کی ممانعت، جس کا ذکر اس آیت (ما کان لنبی ان یکون لہ اسری) میں ہوا ہے اس قول باری (لو لا کتب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب الیم) کی بناء پر منسوخ ہوچکی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فدیہ لیا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس حکم کا منسوخ ہونا کس طرح درست ہوسکتا ہے جب کہ اسی حکم کی خلاف ورزی پر اللہ کی طرف سے ناراضی کا اظہار ہوا تھا۔ ایک ہی چیز میں اباحت اور ممانعت دونوں کا وقوع ممتنع ہے۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ غنائم لینے اور قیدیوں کو پکڑنے کا عمل بنیادی طور پر اس وقت وقوع پذیر وہا تھا جب اس کی ممانعت تھی۔ اس لئے جو کچھ انہوں نے لیا تھا اس کے یہ مالک نہیں بنے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی اباحت کردی اور لی ہوئی چیزوں پر ان کی ملکیت کی توثیق کردی اس لئے بعد میں جس عمل کی اباحت کردی گئی تھی وہ اس سے مختلف تھا جس کی پہلے ممانعت کی گئی تھی۔ اس لئے ایک ہی چیز میں اباحت اور ممانعت دونوں کا وقوع لازم نہیں آیا۔ قول باری (لو لا کتاب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم) کی تفسیر میں اختلاف رائے ہے۔ ابورمیل نے حرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ مسلمانوں کے لئے اللہ کی رحمت ان کی جانب سے معصیت کے ارتکاب سے قبل سبقت کرگئی تھی۔ “ حسن سے بھی ایک روایت کے مطابق یہی قول منقول ہے۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان دونوں حضرات کی رائے میں یہ معصیت صغیرہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے کبائر سے اجتناب کی صورت میں معصیت صغیرہ کو معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات مسلمانوں کے حق میں اس وقت لکھ دی تھی جب کہ ابھی انہوں نے معصیت صغیرہ کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔ حسن بصری سے ایک اور روایت کے مطابق نیز مجاہد سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو مال غنیمت کھلانے والا تھا لیکن مسلمانوں نے مال غنیمت کی حلت سے پہلے ہی بدر کے موقع پر اسے سمیٹنے کی غلطی کرلی تھی۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ کہ مستقبل میں مسلمانوں کے لئے مال غنیمت حلال کردیا جائے گا۔ اس کی تحلیل سے پہلے اس پر لگی ہوئی ممانعت کے حکم کو زائل نہیں کرتا اور اس کی سزا میں تخفیف کا سبب نہیں بنتا۔ اس لئے آیت کی یہ تاویل درست نہیں ہے کہ مسلمانوں سے سزا اس لئے ہٹا لی گئی تھی کہ اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس کے بعد ان کے لئے مال غنیمت حلال کردیا جائے گا۔ حسن اور مجاہد سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ کی طرف سے یہ امر پہلے سے طے شدہ ہے کہ وہ کسی قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک پہلے سے انہیں اس کی اطلاع نہیں دے دی جاتی، مسلمانوں کو مال غنیمت سمیٹنے پر عذاب کی اطلاع پہلے سے نہیں دی گئی تھی۔ حسن اور مجاہد کی یہ تاویل درست ہے اس لئے کہ مسلمانوں کو اس بات کی خبر نہیں تھی کہ انبیائے سابقین کی امتوں پر مال غنیمت حرام تھا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں بھی یہی حکم برقرار رکھا گیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے طور پر یہ سمجھتے ہوئے کہ مال غنیمت مباح ہوتا ہے اسے مباح کرلیا تھا۔ دوسری طرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بھی اس کی تحریم کے سلسلے میں کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی اور نہ ہی مسلمانوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ گزشتہ امتوں پر مال غنیمت حرام تھا۔ اس لئے بدر کے معرکہ میں مال غنیمت سمیٹنے کی جو غلطی مسلمانوں سے ہوئی تھی وہ معصیت نہیں تھی جس پر وہ کسی عذاب کے مستحق قرار پاتے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٧) نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ ان کے کافر قیدی باقی رہیں یہاں تک کہ ان کی خونزیزی نہ کرلی جائے، غزوہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے کردنیاوی متاع چاہتے ہو، اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں غالب اور اپنے دوستوں کی مدد کرنے میں بڑی حکمت والے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ” ماکان لنبی ان یکون لہ اسری “۔ (الخ) امام احمد (رح) نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں کے متعلق رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر اختیار دیا ہے تو حضرت عمر فاروق (رض) نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کافروں کو قتل کردیا جائے، آپ نے ان کی رائے سے اعراض کیا اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کھڑے ہو کر کہا کہ ان کو معاف کردیں اور ان سے فدیہ لے لیں، چناچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو معاف کردیا اور ان سے فدیہ قول کرلیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لولا کتاب من اللہ سبق “۔ (الخ) نیز امام احمد (رح) ترمذی (رح) اور حاکم (رح) نے عبداللہ ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ بدر کے قیدیوں کو لایا گیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ان قیدیوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں اس روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ حضرت عمر (رض) کی رائے کے مطابق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٧ (مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ ط) ۔ یہ آیت غزوۂ بدر میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ غزوۂ بدر میں قریش کے ستر لوگ قیدی بنے۔ ان کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) سے مشاورت کی۔ حضرت ابوبکر (رض) کی رائے تھی کہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کی جائے اور فدیہ وغیرہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔ خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چونکہ رؤف و رحیم اور رقیق القلب تھے اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی یہی رائے تھی۔ مگر حضرت عمر (رض) اس اعتبار سے بہت سخت گیر تھے (اَشَدُّ ھُمْ فِی اَمْرِ اللّٰہِ عُمَرِ ) ۔ آپ (رض) کی رائے یہ تھی کہ یہ لوگ آزاد ہو کر پھر کفر کے لیے تقویت کا باعث بنیں گے ‘ اس لیے جب تک کفر کی کمر پوری طرح ٹوٹ نہیں جاتی ان کے ساتھ نرمی نہ کی جائے۔ آپ (رض) کا اصرار تھا کہ تمام قیدیوں کو قتل کردیا جائے ‘ بلکہ مہاجرین اپنے قریب ترین عزیزوں کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کریں۔ بعد میں ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ ہوا اور اس پر عمل درآمد بھی ہوگیا۔ اس فیصلے پر اس آیت کے ذریعے گرفت ہوئی کہ جب تک باطل کی کمر پوری طرح سے توڑ نہ دی جائے اس وقت تک حملہ آور کفار کو جنگی قیدی بنانا درست نہیں۔ انہیں قیدی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندہ رہیں گے ‘ اور آج نہیں تو کل انہیں چھوڑنا ہی پڑے گا۔ لہٰذا وہ پھر سے باطل کی طاقت کا سبب بنیں گے اور پھر سے تمہارے خلاف لڑیں گے۔ ( تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَاق) یہ فدیے کی طرف اشارہ ہے۔ اب نہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ نیت ہوسکتی تھی (معاذ اللہ) اور نہ ہی حضرت ابوبکر (رض) کی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کے ہاں جب اپنے مقرب بندوں کی گرفت ہوتی ہے تو الفاظ بظاہر بہت سخت استعمال کیے جاتے ہیں۔ چناچہ ان الفاظ میں بھی ایک طرح کی سختی موجود ہے ‘ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات نہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے اور نہ حضرت ابوبکر (رض) کے لیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

47: جنگ بدر میں ستر قریشی افراد گرفتار ہوئے تھے۔ ان لوگوں کو جنگی قیدی کے طور پر مدینہ منوَّرہ لایا گیا تھا۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں صحابہ کرامؓ () سے مشورہ فرمایا کہ ان سے کیا سلوک کیا جائے؟ بعض صحابہ کرامؓ ، مثلاً حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی رائے یہ تھی کہ ان کو قتل کردیاجائے، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں، ان کی بناپر ان کا عبرت ناک انجام ہونا چاہئے۔ دوسرے حضرات کی رائے یہ تھی کہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑدیا جائے۔ (’’فدیہ ‘‘اس مال کو کہا جاتا ہے جو کسی جنگی قیدی سے اس کی آزادی کے بدلے طلب کیا جائے) چونکہ زیادہ تر صحابہ اس دوسری رائے کے حق میں تھے، اس لئے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا، اور ان سب قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑدیا گیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا، اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جنگ بدر کا سارا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتبہ کفار کی طاقت اور شوکت کا زور اچھی طرح ٹوٹ جائے، اور جن لوگوں نے سالہا سال تک دین حق کا نہ صرف راستہ روکنے کی کوشش کی ہے، بلکہ مسلمانوں پر وحشیانہ ظلم ڈھائے ہیں، ان پر ایک مرتبہ مسلمانوں کی دھاک بیٹھ جائے۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ کوئی نرمی کا معاملہ کرنے کے بجائے ان سب کو قتل کردیا جاتا، تاکہ واپس جاکر مسلمانوں کے لئے خطرہ بھی نہ بن سکتے، اور ان کے عبرت ناک انجام سے دوسروں کو بھی سبق ملتا۔ یہاں یہ واضح رہے کہ جنگی قیدیوں کو آزاد کرنے پرناپسندیدگی کا یہ اظہات جنگ بدر کے وقت مذکورہ مصلحت کی بنا پر کیا گیا تھا۔ بعد میں سورہ محمد کی آیت نمبر ۴ میں اﷲ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اب چونکہ کفار کی جنگی طاقت ٹوٹ چکی ہے، اس لئے اب نہ صرف فدیہ لے کر،؛ بلکہ بغیر فدیہ کے، محض احسان کے طور پر بھی جنگی قیدیوں کو آزاد کیا جاسکتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٧۔ ٦٩۔ جب بدر کی لڑائی میں کفار قریش میں سے ستر کافر گرفتار ہوئے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فدیہ لے کر بعض اصحاب کے مشورہ کے موافق چھوڑ دیا تو یہ آیت اتری اللہ پاک نے فرمایا کہ نبی کو یہ بات لائق نہیں ہے کہ جب قیدی اس کے یہاں گرفتار ہو کر آئیں تو بغیر قتل کئے ہوئے انہیں چھوڑ دیا جائے پھر اور مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم دنیا کی دولت کو پسند کرتے ہو اور اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت درست ہو خدا کا بول بالا تمام روئے زمین میں ہو کر اس کا خالص دین ہو معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی وغیرہ میں عبداللہ بن مسعود (رض) اور انس بن مالک (رض) سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہ سے مشورہ لیا اور کہا کہ اللہ نے تم لوگوں کو ان پر قدرت دی ہے حضرت عمر (رض) نے کھڑے ہو کر کہا کہ انہیں قتل کر ڈالیے آپ نے کچھ خیال نہ کیا پھر دوبارہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو تمہیں ان پر آج قابو ہے کل یہ تمہارے بھائی تھے آج قیدی ہیں پھر حضرت عمر (رض) نے کہا کہ ان کی گردنیں ماریے حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر وہی سوال کیا تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ ان کو معاف کیجئے اور فدیہ لے کر چھوڑ دیجئے اس بات پر حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک سے غم کے آثار دور ہوئے اور آپ نے فدیہ لے کر ان قیدیوں کو چھوڑ دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر اللہ ایک بات پہلے نہ لکھ چکا ہوتا تو تم پر بہت بڑا عذاب آجاتا مفسروں نے اس کی تفسیر میں اختلاف کیا ہے لیکن حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے صحیح قول کے موافق آیت کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوح محفوظ میں پہلے سے یہ لکھ چکا تھا کہ اس امت کے ہاتھ بہت سامال لگے گا اور یہ ان کے واسطے حلال ہوگا بخلاف اگلی امتوں کے کہ مال غنیمت ان پر حرام تھا اگر علم الٰہی کے موافق لوح محفوظ میں یہ بات لکھی ہوئی نہ ہوئی تو فدیہ کا مشورہ دینے والوں پر عذاب نازل ہوجاتا اس عتاب کو سن کر مسلمانوں نے فدیہ لینے سے ہاتھ روک لیا اور جی میں ڈرے تو اللہ پاک نے لوح محفوظ کے لکھے کے موافق پھر یہ فرمایا کو جو مال تمہیں غنیمت کے مال کا حلال ہونا سمجھا گیا ہے اس آیت کی تفسیر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں فرمائی ہے کہ پانچ چیزیں مجھ کو عطا ہوئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں عطا ہوئیں ان پانچ میں ایک غنیمت ہے جو میرے لئے حلال کی گئی اور کسی امت کے لئے پہلے مجھ سے حلال نہ تھی یہ حدیث صحیحین میں جابر (رض) کی روایت سے ہے اور کئی جگہ اس سے پہلے گذر چکی ہے پھر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ آئندہ خدا سے ڈرتے رہو پھر کوئی ایسی بات نہ ہونے پائے کہ حکم الٰہی کے نازل ہونے سے پہلے کوئی کام کر بیٹھوں اور جو باتیں گذر چکی (رح) اللہ غفور رحیم ہے اس سے مغفرت کی امید رکھو ترمذی نسائی وغیرہ کے حوالہ سے حضرت علی (رض) کی ایک حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب صحابہ کا ارادہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کا مضبوط ہوگیا تو حضرت جبرئیل آئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام سنایا کہ اگر ان ستر قیدیوں سے فدیہ لیا جائے گا تو اسلام کی پہلی لڑائی میں یہ فدیہ اللہ کی مرضی کے موافق نہیں ہے اس لئے اس فدیہ کا معاوضہ یہ ہوگا کہ آئندہ کی لڑائی میں لشکر اسلام کے ستر آدمی شہید ہوں گے۔ تنگ دستی کے سبب سے صحابہ کا ارادہ فدیہ کے لینے پر جم گیا تھا اس واسطے انہوں نے اس شرط کو منظور کیا ان آیتوں میں خفگی کی تفسیر اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے حضرت علی (رض) کی اس حدیث کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے حضرت علی (رض) کی حدیث میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے جس پیغام الٰہی کا ذکر ہے تیرہ مہینے کے بعد احد کی لڑائی میں اس کا ظہور ہوا کہ اس لڑائی میں ستر آدمی لشکر اسلام کے شہید ہوئے چنانچ اس کی تفصیل سورة آل عمران میں گذر چکی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اور ان کا زور نہ توڑدے البتہ جب ان کا زرو ٹوٹ جائے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار ہے کہ ان کو قید کرنے بعد چا ہے فد یہ لے کر چھوڑ دے چا ہے بطور احسان رہا کر دے جیسا کہ آیت سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حتی اذا اتخنتمو ھم فشد دوا ا ثاق فاما منا بعد واما فدآ : میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔ ( از وحیدی)5 اس لیے تم بدر میں گرفتا ہونے والے قیدیوں کو قتل کرنے کی بجائے انہیں فدیہ لے کر رہا کرنا پسند کرتے ہو۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیات : 67 تا 69 لغات القرآن۔ اسری۔ (اسیر) قیدی۔ حتی یثخن۔ جب تک کہ سختی نہ کی جائے۔ عرض ال دنیا۔ دنیا کا سامان۔ لولا کتاب۔ اگر لکھا ہوا نہ ہوتا۔ سبق۔ جو گذر گیا۔ لمسکم۔ البتہ تمہیں پہنچ جاتا۔ اخذتم۔ تم نے لیا۔ غنتم۔ تم نے مال غنیمت لیا۔ تشریح : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو ساری دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہیں آپ نے ہر موقع پر ہر اس طریقے کو اختیار فرمایا جس میں نرمی اور سہولت کا پہلو شامل ہو۔ یہ ان تکہ کہ مشورہ میں بھی آپ اس بات کو پسند فرماتے تھے جس میں لوگوں سے نرمی کا انداز اختیار کیا گیا ہو۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ غزوہ بدر مسلمانوں کے لئے پہلا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے پندرہ سال تک صحابہ کرام (رض) کا فروں اور مشرکوں کے ظلم سہتے رہے چونکہ ان کو جواب دینے اور کسی کے ظلم و ستم کا عملی جواب دینے کی ممانعت تھی تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت کی برکت سے نرم مزاجی کی طرف مائل تھے۔ غزوہ بدر ایک باقاعدہ مسلح جنگ تھی جب کہ صحابہ کرام (رض) اس کے لئے کسی طرح بھی تیار نہ تھے لیکن اللہ کی مصلحت ان مجاہدین کو جنگ کی طرف لے گئی اور پھر اس جنگ کے ذریعہ کفرو شرک کی کمرتوری کر رکھ دی گئی۔ کفار مکہ کے ستر بڑے برے سردارمارے گئے اور ستر ہی قید کر لئے گئے۔ قید ہونے والے کوئی غیرنہ تھے بلکہ اگر بغور دیکھا جائے تو ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جن سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مہاجرین مکہ کی قرابت داری بھی تھی اس موقع پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) سے مشورہ کیا کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ یہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ جب مشورہ کیا جاتا ہے تو اس میں ہر شخص کو رائے دینے کا حق حاصل ہوتا ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنے صحابہ کرام (رض) کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے میں کسی طرح کے تکلف کو پسند نہیں فرماتے تھے اور صحابہ کرام (رض) پوری آزادی رائے کے مطابق پورے ادب و احترام کے سات اپنی رائے کو پیش کیا کرتے تھے چناچہ آپ نے اس موقع پر بھی اپنے تمام صحابہ کرام (رض) مجاہدین سے مشورہ کیا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) اور دیگر اصحاب کرام (رض) نے چند احادیث میں اس کو تفصیل سے روایت کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ جب بدر کی جنگ کے بعد کفار مکہ کے ستر قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) سے مشورہ فرمایا کہ اس کے لئے کوئی اللہ کا واضح حکم موجود نہیں ہے لہٰذا کیا کیا جائے۔ سیدنا ابو بکرصدیق (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سب قیدی اپنے رشتہ دار اور بھائی ہیں۔ اگر ان کو کچھ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور نرم سلوک کیا جائے تو شاید کچھ لوگ مسلمان ہوجائیں یا ان کی اولادیں ہمارے دست وبازو بن جائیں۔ دوسرے صحابہ کرام (رض) نے بھی اسی کی تائید فرمائی ۔ اس کے برخلاف حضرت عمر فاروق (رض) اور حضرت سعد ابن معاذ (رض) نے اس رائے سے اختلاف کیا۔ حضرت عمر فاروق (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں۔ اگر ان کو ختم کردیا جائے تو اس سے کفرو شرک کا سرکٹ جائے گا اور مشرکین پر ہماری ہیبت طاری ہوجائے گی اور آئندہ مسلمانوں کو ستانے اور اللہ کے راستے سے روکنے کا حوصلہ نہ رہے گا۔ دوسری طرف ان مشرکین سے ہماری انتہائی نفرت و بغض اور کامل بیزاری کا اظہار ہوجائے گا۔ کہ ہم نے اللہ کے معاملے میں اپنی رشتہ داریوں کا بھی خیال نہیں کیا۔ لہٰذا ہماری رائے یہ ہے کہ ہم میں سے جو بھی کسی کا عزیز و قریب ہو وہ اپنے عزیز و قریب کو اپنے ہاتھوں سے قتل کردے۔ رائے کا یہ اختلاف بڑا شدید تھا اور بڑا جذباتی لمحہ تھا لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور اکثریت میں صحابہ کرام (رض) کی رائے پر عمل یا اور قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اس مین شک نہیں کہ اگر حضرت عمر (رض) کی رائے پر عمل کیا جاتا تو کفر و شرک کی کمر ٹوٹ جاتی لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو ہمیشہ نرمی کے معاملے کی طرف رغبت فرماتے تھے آپ نے نرمی کا فیصلہ کیا۔ اس واقعہ کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں جس میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا کہ جب تک کفر کی طاقتوں کو کچل کر نہ رکھ دیاجائے اس وقت تک ان کفار کے ساتھ کوئی نرم معاملہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسبات پر تنبیہ فرما دی ہے کہ اللہ کو یہی پسند ہے کہ ابھی کفار کے ساتھ نرمی کا معاملہ نہ کیا جائے۔ بعض روایات سے اشارہ ملتا ہے کہ اس مشورے میں اگر حضرت عمر فاروق (رض) اختلاف نہ کرتے تو اللہ کا مقرر عذاب آجاتا۔ مگر مشورہ کی برکت سے اللہ نے اس عذاب سے اہل ایمان کو محفوط رکھا۔ معلوم ہوا کہ مشورہ میں بہت برکت ہے۔ چونکہ اس آیت میں تہدید فرمائی گئی ہے اس لئے صحابہ کرام (رض) ڈر گئے کہ یہ فدیہ جو وصول کیا گیا ہے اس کو استعمال کیا جائے یا نہیں چونکہ یہ بھی مال غنیمت تھا اس آیت میں فرما دیا گیا کہ مال غنیمت حلال ہے اس کو کھایا جائے استعمال کیا جائے بس اللہ کا خوف ہمیشہ پیش نظر رہے۔ اللہ تو بہت معاف کرنے والا اور نہایت رحم و کرم کرنے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنگ کے مسائل کا بیان جاری ہے اب قیدیوں اور مال غنیمت کے بارے میں وضاحت کی جاتی ہے۔ اس آیت مبارکہ میں تین الفاظ ایسے ہیں جن کا معنی جاننے سے آیت کا مفہوم بہتر طور پر ذہن نشین ہوجائے گا اسرٰی اس تسمے کو کہا جاتا ہے جس سے پرانے زمانے میں لوگ قیدیوں کو باندھا کرتے تھے اثخان کا معنی ہے خون کا گاڑھا ہونا مراد گھمسان کا رن پڑنا یعنی ایسی لڑائی کہ جس میں ایک فریق کی کمر ٹوٹ جائے عَرَضْ دنیا کے ساز و سامان کو کہا جاتا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ اے نبی ! آپ کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ آپ کفار کی کمر توڑے بغیر قیدیوں کو دنیا کے مال کے بدلے رہا کردیتے۔ یہاں قیدیوں کے بارے میں مخاطب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا گیا ہے لیکن فدیہ لینے کے بارے میں صحابہ کو مخاطب کیا ہے کیونکہ صحابہ (رض) کے مشورہ اور ان کے فائدے کے لیے ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیدیوں سے فدیہ لینا قبول فرمایا تھا اس لیے صحابہ (رض) کو فرمایا کہ تم دنیا کا تھوڑا اور عارضی مال چاہتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آخرت کی بیش بہا اور دائمی نعمتوں کا ارادہ رکھتا ہے اگر تم قیدیوں کا فدیہ لینے کی بجائے ان کو قتل کردیتے تو یہ تمہارے مستقبل کے لیے نہایت ہی بہتر ہوتا۔ جہاں تک غنیمت کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ تمہیں آئندہ غزوات میں عطا فرماتا جیسا کہ مسلمانوں کو بےانتہا غنائم سے نوازا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر غالب ہے۔ اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت ہوتی ہے اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ پہلے سے نہ کر رکھا ہوتا کہ وہ تمہیں بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے پر عذاب نہیں کرے گا تو وہ تمہاری ضرور گرفت کرتا اب تم اس غنیمت سے کھاؤ اور اسے استعمال کرو یہ تمہارے لیے حلال اور طیب ہے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا انتہائی مہربان ہے۔ بدر کے قیدیوں کا فدیہ لینے کے بارے میں مفسرین کی دو آرا ہیں ایک فریق کا خیال ہے کہ اس وقت تک قیدیوں کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا جس وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) سے مشورہ کرکے فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دیا لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ فدیہ لینے کے متعلق حکم ہی نازل نہیں ہوا تھا تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نازل کرنے کا کیا معنی ؟ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ہاں لوح محفوظ پر لکھ رکھی ہے کہ بدر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قیدیوں سے فدیہ لیں گے لیکن اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ لیکن میرے خیال میں ان مفسرین کا نقطۂ نگاہ زیادہ مضبوط ہے جو یہ فرماتے ہیں کہ سورة محمد آیت ٤ میں یہ حکم پہلے نازل ہوچکا تھا کہ جب تم کفار کے ساتھ جنگ کرو تو ان کی اچھی طرح گردنیں مارو یہاں تک کہ ان کی کمر ٹوٹ جائے اور قیدیوں کو مضبوطی سے باندھ لو پھر چاہو تو انھیں یوں ہی رہا کر دو اور اگر چاہو تو ان سے فدیہ قبول کرو۔ لیکن شرط یہ ہے پہلے کفار کی کمر توڑ دی جائے بدر میں ایسا نہیں ہوسکا تھا۔ جب کفار بدر کا میدان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ چند صحابہ (رض) کو چھوڑ کر جو رسول معظم کی حفاظت کرتے رہے باقی مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہوگئے۔ بعد ازاں ان میں غالب اکثریت کی رائے یہ تھی کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے جس سے ہماری اعانت ہوجائے گی اور شاید کفار بھی احسان شناسی کا مظاہرہ کریں اس رائے میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) اپنی نرم طبع کی وجہ سے پیش پیش تھے لیکن حضرت عمر (رض) حضرت معاذ بن جبل (رض) اور کچھ صحابہ کا خیال تھا کہ ان کی گردنیں اڑا دینی چاہییں تاکہ کفار کی کمر ٹوٹ جائے۔ حضرت عمر (رض) نے یہاں تک عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہر شخص اپنے قریبی رشتہ دار قیدی کو قتل کرے سب سے پہلے میں اپنے عزیزوں کو قتل کروں گا لیکن رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے فدیہ لینا قبول کیا جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ انتباہ نازل ہوا۔ (عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ اِلَّا طَیِّبًا وَاِنَّ اللّٰہَ اَمَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِمَا اَمَرَبِہِ الْمُرْسَلِیْنَ فَقَالَ ” یَا اَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صالِحًا “ (پ ١٨۔ رکوع ٣) وَقَالَ یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیْلُ السَّفَرَ اَشْعَثَ اِغْبَرَ یَمُدُّیَدَیْہِ اِلٰی السَّمَاءِیَارَبِّ وَمَطَعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بالحَرَامِ فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ ) [ رواہ مسلم : باب قَبُول الصَّدَقَۃِ مِنَ الْکَسْبِ الطَّیِّبِ وَتَرْبِیَتِہَا ] حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم نے فرمایا ‘ بیشک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک صاف کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو ان باتوں کا حکم دیا ہے جن باتوں کا اس نے اپنے رسولوں کو حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” میرے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور عمل صالح کرو۔ “ اے ایمان والو ! جو رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ “ پھر آپ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر طے کرتا ہے۔۔ پراگندہ بال ‘ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائے دعا کرتا ہے۔ یارب ! یارب ! جب کہ اس کا کھانا حرام ‘ اس کا پینا حرام ‘ اس کا لباس حرام اور حرام غذا سے اس کی نشوونما ہوئی اس حالت میں اس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے ؟۔ مسائل ١۔ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دینی چاہیے۔ ٢۔ تمام انسانوں کی تقدیر پہلے لکھی جا چکی ہے۔ ٣۔ مال غنیمت امت محمدیہ کے لیے حلال ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ سے ڈرنے کا حکم : ١۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : ١٩٤) ٢۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جاؤ اور سچی بات کرو۔ (الاحزاب : ٧٠) ٣۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (البقرۃ : ١٩٦) ٤۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو تم اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔ (البقرۃ : ٢٠٣) ٥۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو کہ تم اس سے ملنے والے ہو۔ (البقرۃ : ٢٢٣) ٦۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو کہ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔ (البقرۃ : ٢٣١) ٧۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور جان لو اللہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ (البقرۃ : ٢٣٣) ٨۔ اللہ سے ڈر جاؤ اے عقلمندو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ : ١٠٠) ٩۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ (آل عمران : ١٠٢) ١٠۔ اللہ سے ڈر جاؤ کیونکہ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (المائدۃ : ٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

67 ۔ 69:۔ قتال کے لیے ابھارنے اور جوش دلانے کے بعد اب قیدیوں کے احکام کی طرف بات کا رخ پھرجاتا ہے۔ اور یہ بات یہاں بدر میں رسول اللہ اور مسلمانوں کے اقدامات کے حوالے سے ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس جو قیدی ہیں ان کی ذہنی تربیت اس طرح کرو ، ان کو ایمان کی ترغیب دو اور کہو کہ اگر اب بھی وہ ایمان لائیں تو اس سے قبل ان سے جو مواقع جاتے رہے ہیں ، ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔ ابن اسحاق نے غزوہ بدر کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا ہے " جب لوگوں نے دشمن کو گرفتار کرنا شروع کردیا اور رسول خدا اپنے چبوترے میں تھے۔ اور سعد ابن معاذ اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ان کے ساتھ دوسرے انصآر بھی تھے۔ اور سعد نے تلوار سونتی ہوئی تھی۔ یہ سب لوگ رسول اللہ کی حفاظت پر مامور تھے۔ ان لوگوں کو ڈر تھا کہ دشمن کی جانب سے حضور پر کوئی حملہ آور نہ ہوجائے۔ مجھے بتایا گیا کہ حضور نے سعد کے چہرے پر کچھ ناگواری کے اثرات محسوس کیے کیونکہ وہ انہیں وہ پسند نہ تھا جو لوگ کر رہے تھے تو حضور نے فرمایا : سعد ! تم شاید لوگوں کے اس فعل کو پسند نہیں کر رہے ہو۔ انہوں نے فرمایا : رسول خدا آپ کی بات درست ہے۔ یہ پہلا واقعہ تھا جس میں اللہ نے مشرکین کو اس قسم کی شکست سے دوچار کردیا۔ میرے خیال میں اس معرکے میں لوگوں کو نیست و ناوبد کردینا ، ان کے زندہ گرفتار کرنے کے مقابلے میں زیادہ مناسب تھا۔ امام احمد نے اپنی سند سے روایت کی ہے ، ابن عباس سے ، انہوں نے حضرت عمر سے فرماتے ہیں ، جب اس دن افواج کی مڈ بھیڑ ہوئی تو اللہ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کردیا۔ ان میں سے ستر افراد قتل ہوئے اور ستر افراد گرفتار ہوئے۔ حضور نے ابوبکر ، عمر اور علی رضوان اللہ علیہم سے مشورہ کیا۔ ابوبکر نے فرمایا کہ حضور یہ لوگ چچازاد ، ہم قوم اور بھائی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، اس لیے جو ہم نے ان سے لیا وہ کفار کے خلاف بطور قوت استعمال ہوگا۔ اور یہ امکان ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا لیں ، اس لیے جو ہم نے ان سے لیا وہ کفار کے خلاف بطور قوت استعمال ہوگا۔ اور یہ امکان ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا لیں اور یہ ہمارے لیے امداد کا سبب بنیں۔ اس کے حضور نے فرمایا ابن خطاب تم بتاؤ ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اس موقعہ پر یہ مشورہ دیا ، خدا کی قسم میری رائے ابوبکر کی رائے کے مطابق نہیں ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ فلاں شخص (ان کے رشتہ دار) کو میرے حوالے کرو ، تاکہ میں اس کی گردن اتار دوں اور حضرت علی کے حوالے عقیل ابن ابی طالب کردیں تاکہ وہ ان کی گردن اڑادیں اور حمزہ کے حوالے ان کے بھائی کو کردیں تاکہ وہ اس کی گردن اڑا دیں ، تاکہ الہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دل میں مشرکین کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ یہ لوگ تو ان کے اکابر امام اور قائدین ہیں۔ تو حضور نے حضرت ابوبکر کی رائے کو اختیار کرلیا اور میری بات کو نہ تسلیم کیا اور لوگوں ن سے فدیہ قبول کرلیا۔ دوسرے دن میں صبح صبح حضور کے پاس گیا اور دیکھا کہ حضرت ابوبکر اور حضور رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ حضور آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اگر کوئی رونے کی بات ہو تو میں بھی روؤں گا۔ اور اگر کوئی بات نہ ہو تو میں تمہارے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔ اس پر حضور نے فرمایا : وہ مشورہ جو آپ کے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں دیا ، اس نے مجھے تمہارا عذاب اس قدر قریب کرکے دکھایا جس قدر یہ درخت قریب ہے۔ (آپ نے قریبی درخت کی طرف اشارہ کیا) اور اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۔۔۔ تا۔۔۔ فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے اموال غنیمت کو جائز قرار دے دیا۔ (روایت مسلم ، ابو داود ، ترمذی ، ابن جریر اور ابن مردویہ بطریق عکرمہ ابن عمار الیمانی) امام احمد روایت کرتے ہیں علی ابن ہاشم سے ، حمید سے ، حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے ، اس پر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور مشورہ دیا کہ حضور ان سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ تو حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیرلیا اور پھر فرمایا لوگو ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے ، اس پر حضرت عمر کھڑے ہوگے اور مشورہ دیا کہ حضور ان سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ تو حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیرلیا اور پھر فرمایا لوگو ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے لیکن یہ بات پیش نظر رکھو کہ کل وہ تمہارے بھائی تھے۔ اس پر حضرت عمر پھر کھڑے ہوگئے اور کہا حضور میرا مشورہ ہے کہ ان کی گردن اڑا دی جائے۔ حضور نے پھر ان سے منہ پھیرلیا اور لوگوں کے سامنے پھر یہ مسئلہ رکھا۔ اس پر ابوبکر نے مشورہ دیا کہ حضور مناسب یہ ہے کہ آپ ان کو معاف کردیں اور ان سے فدیہ قبول کرلیں۔ اس مشورے کے بعد حضور کے چہرے پر پریشان کے جو آثار تھے وہ ختم ہوگئے۔ حضور نے ان کو معاف کردیا اور فدیہ قبول کرلیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں : لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ: اگر اللہ کی طرف سے پہلے کتاب نہ ہوتی تو تم نے جو لیا ، اس کی وجہ سے تمہیں عذاب عظیم چھو لیتا۔ اعمش عمران ، ابن مرہ سے ، عبیداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم لوگ قیدیوں کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو۔ ابوبکر نے کہا ، اے رسول اللہ یہ لوگ تمہاری قوم اور تمہارے رشتہ دار ہیں۔ ان کو زندہ رہنے دیں اور ان سے فدیہ قوبول کریں شاید اللہ انہیں معاف کردے۔ حضرت عمر نے فرمایا حضور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کو اپنے گھر سے نکالا۔ اٹھیں اور ان کی گردن اڑا دیں۔ عبداللہ ابن رواحہ نے کہا اے رسول خدا آپ ایک ایسی وادی میں مقیم ہیں جس میں خشک لکڑیاں بہت ہیں۔ مناسب ہے کہ پوری وادی کو آگ سے بھر دیں اور ان کو اس میں پھینک دیں۔ حضور خاموش ہوگئے اور کوئی بات نہ کہی اور اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہوگئے۔ بعض لوگوں نے کہا حضور ابوبکر کے مشورے کو قبول کریں گے۔ بعض نے کہا کہ آپ حضرت عمر کے مشورے کو قبول کریں گے۔ بعض نے کہا کہ حضور عبداللہ ابن رواحہ کے قول کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے وار فرمایا : اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کردیتے ہیں اور وہ اس قدر نرم ہوجاتے ہیں کہ دودھ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں اور اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو سخت کردیتے ہیں اور وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ اے ابوبکر آپ کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہے۔ جنہوں نے فرمایا : فمن تبعنی فانہ منی و من عصانی فانک غفور رحیم " جس نے میری اطاعت کی تو وہ میرا ہوگا اور جس نے نافرمانی کی تو آپ غفور و رحیم ہیں " اور اسی طرح اے ابوبکر تم حضرت عیسیٰ کی طرح ہو ، جنہوں نے کہا : ان تعذبھم فانہم عبادک و ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم ج " اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو بخش دے تو تو ہی عزیز اور حکیم ہے " اور اے عمر تیری مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ۃ ے ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم۔ اے اللہ ان کے اموال کو تباہ کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ وہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں "۔ اور اے عمر تمہاری مثال نوح (علیہ السلام) کی طرح ہے ، جنہوں نے فرمایا : رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ اے رب زمین پر کافروں سے کوئی زندہ بشر نہ چھوڑ۔ تم قابل اعتماد ہو ، لہذا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی رہا نہ ہوگا ، الا یہ کہ فدیہ دے یا اس کی گردن اڑا دی جائے۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور " ماسوائے سہل ابن بیضاء کے کیونکہ وہ اسلام کی توہین کیا کرتا تھا " اس پر حضور خاموش ہوگئے۔ کبھی اس دن سے زیادہ مجھ پر حالت خوف طاری نہ ہوئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ ابھی مجھ پر آسمان سے پتھر برسنے لگیں گے۔ یہاں تک کہ حضور نے فرمایا " ماسوائے سہل ابن بیضاء کے " اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ " ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔ (احمد ، ترمذی نے ابو معاویہ ابن اعمش کے واسطہ سے ، حاکم نے کہا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن صحیحین نے اسے روایت نہیں کیا ہے) اثخان مطلوب یہ ہے کہ ان میں سے اس قدر آدمیوں کو قتل کیا جائے کہ ان کی قوت ٹوٹ جائے۔ اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی قوت برتر ہوجائے اور یہ بات اس سے قبل واقعہ ہوجانا چاہئے تھی یعنی گرفتاریوں سے قبل یعنی گرفتار کرکے اور فدیہ لے کر چھوڑنے کی پور کاروائی سے قبل ، اس لیے اللہ نے مسلمانوں کو سرزنش کی۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ لوگوں کو گرفتار ہی نہ کرتے۔ غزوہ بدر مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پہلا معرکہ تھا۔ اس وقت مشرکین کثیر تعداد میں تھے اور مسلمان قلیل تھے۔ اور ان میں سے زیادہ کو قتل کرنے سے ان کی عددی قوت میں کمی کرنا مطلوب تھا۔ اس طرح ان کے لیڈر ذلیل و خوار ہوجاتے اور ان کی قوت کم ہوجاتی اور وہ دوبارہ مسلمانوں پر حملے کی جراءت ہی نہ کرسکتے اور یہ اس قدر عظیم اور اہم ہدف تھا کہ اس کے مقابلے میں تاوان جنگ کی بڑی سے بڑی رقم بھی ہیچ تھی۔ نیز اس سے ایک اور غرض بھی مطلوب تھی۔ دلوں میں یہ نکتہ بٹھانا مقصود تھا ، جس کی طرف ، حضرت عمر نے واضح طور پر اشارہ فرمایا۔ دو ٹوک الفاظ میں اور نہایت ہی کھل کر " تاکہ اللہ کو معلوم ہو کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے " ہم سمجھتے ہیں انہی دو مقاصد کی خاطر ، اللہ نے مسلمانوں کے اس فعل کو پسند نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو قید کریں اور رقم لے کر چھوڑ دیں۔ اور انہی عملی اقدامات کے بارے میں یہ آیت آئی ہے ، جب بھی مسلمانوں کو ایسے حالات کا سامنا ہو تو یہ آیت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔ کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ یکہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے پہلے ہی معرکے میں فدیہ قبول کیا اور دشمن کو قیدی بنایا ، ان کے بارے میں یہ ریمارکس دیے گئے : تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ واللہ عزیز حکیم : تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو ، حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ یعنی تم نے قتل کرنے کے بجائے دشمن کو قیدی بنایا اور فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ تم ان کو اس معرکے میں خوب کچل دیتے لہذا مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ اللہ کی اسکیم اور ارادے کے مطابق چلتے۔ کیونکہ اللہ آخرت کی بھلائی چہاتا ہے اور یہ تب ہی حاصل ہوسکتی ہے جب دنیا کے مفادات کو ترک کردیا جائے۔ اللہ عزیز و حکیم ہے۔ اسی نے تو تمہارے لیے فتح ونصرت کا سامان کیا۔ اور تمہیں اس کی توفیق دی۔ اور اس کی پشت پر حکمت یہ تھی کہ دشمنوں کی جڑ کٹ جائے ، حق حق ہوجائے اور باطل ، باطل ہوجائے۔ اگرچہ مجرم اس بات کو پسند نہیں کرتے۔ اس لیے پہلے اللہ نے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ اہل بدر میں جو غلطی بھی کریں اللہ انہیں معاف کردے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے نتیجے میں اسارائے بدر کے بارے میں انہوں نے جو نامناسب عمل اختیار کیا ، اس پر وہ عذاب عظیم سے بچ گئے۔ نہ صرف یہ کہ عذاب سے بچ گئے بلکہ ان کے لیے ایک مزید انعام کا اعلان ہوگیا۔ جنگ کے نتیجے میں آنے والا مال بھی ان کے لیے حلال ہوگیا ، جس میں فدیے کی آمدن بھی شامل ہے ، جس کے بارے میں عتاب مذکور بھی ہوا تھا جبکہ اس سے پہلے رسولوں کی امتوں پر یہ حرام تھا۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ تمہارا اصل سرمایہ تقوی ہے اور اگر تم تقوی اختیار کروگے تو اللہ غفور و رحیم ہے۔ یہ ایک عجیب توازن ہے ، اہل ایمان پر فرض کیا گیا کہ تم خدا خوفی کا رویہ ہر وقت اپنائے رکھو ، بیشک اللہ غفور و رحیم ہے لیکن تم ہر وقت اس سے ڈرتے رہو اور صفت غفوریت کی وجہ سے بد عمل نہ ہوجاؤ۔ پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ، یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے پر عتاب پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ غزوۂ بدر میں ستر کافر مارے گئے اور ستر کافروں کو قید کر کے مدینہ منورہ لایا گیا۔ اب یہ سوال پیدا ہوا کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ مشورہ میں جب بات آئی تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنی رائے پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ آپ کی قوم کے افراد ہیں اور رشتہ دار بھی ہیں ان کو زندہ رہنے دیجیے ! امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ اور اس وقت ان سے فدیہ لے لیا جائے یعنی ان کی جانوں کے بدلہ میں مال لے کر ان کو چھوڑ دیا جائے اور حضرت عمر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا، شہر مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا۔ اجازت دیجیے کہ ہم ان کی گردنیں مار دیں، اور حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کوئی ایسی جگہ دیکھئے۔ جہاں خوب زیادہ لکڑیاں ہوں انہیں اس میں داخل کر کے آگ سے جلا دیا جائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاموشی اختیار فرمائی۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) کی رائے کو اختیار فرما لیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب نازل ہوا۔ جو اوپر پہلی دو آیتوں میں مذکور ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگلے دن جب میں حاضر ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) بیٹھے ہوئے رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے بتائیے کہ آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں ؟ مجھے رونے کا سبب معلوم ہوجائے تو میں بھی رونے لگوں اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی صورت ہی بنا کر آپ کی موافقت کرلوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ فدیہ لینے کی لوگوں نے جو رائے دی تھی اس رائے کے اختیار کرنے پر مجھے اس قریب والے درخت سے ورے عذاب آتا ہوا معلوم ہو رہا ہے۔ (معالم التنزیل) مذکورہ قیدیوں کو مال لے کر چھوڑنے کا جو فیصلہ کرلیا گیا تھا اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند تھی۔ اس لیے عتاب نازل فرمایا پھر عذاب کو روک لیا اور اس مال کو لینے اور کھانے کی اجازت دے دی اول تو یہ فرمایا کہ یہ نبی کی شان کے لائق نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں اور انہیں چھوڑ دیا جائے بلکہ خونریزی کرنی چاہئے تاکہ کفار کی شوکت بالکل ٹوٹ جائے اور مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی سکت ان میں باقی نہ رہے جن حضرات نے مال لینے کی رائے دی تھی ان کے سامنے ایک مصلحت تو یہ تھی کہ امید ہے کہ لوگ مسلمان ہوجائیں گے اور دوسری مصلحت یہ تھی کہ اس وقت مسلمانوں کو حاجت اور ضرورت ہے مال مل جائے گا تو مسلمانوں کو کافروں کے مقابلہ میں قوت پہنچ جائے گی۔ اس مال لینے کے جذبہ کا تذکرہ فرماتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا (تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَ اللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ) کہ تم دنیا کو چاہتے ہو اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم آخرت کے طالب بنو، تمہیں آخرت میں اجور اور ثمرات ملیں۔ کافر قیدیوں کو قتل کرنے میں کفر کی مغلوبیت تھی جو اور زیادہ اسلام کے پھیلنے کا ذریعہ ہے جیسے جیسے مسلمانوں کے ہاتھوں اسلام پھیلے گا مسلمانوں کی آخرت بھی اچھی بنے گی اور درجات بلند ہوں گے۔ (وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) (اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے) اس نے تم کو کافروں پر غلبہ دیا۔ اس کے بعد بھی غلبہ دے گا اور اپنی حکمت کے موافق جب چاہے گا تمہیں مالا مال فرمائے گا۔ اس وقت ذرا سی دیر محسوس کر کے جو فدیہ لینے پر اتر آئے یہ ناپسندیدہ ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

67: چھٹا قانون جنگ برائےحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔ جنگ بدر میں مشرکین کے ستر آدمی مسلمانوں نے قید کرلئے تھے۔ ان قیدیوں کے بارے میں چونکہ اللہ کی طرف سے کوئی فیصلہ نازل نہیں ہوا تھا اس لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق صحابہ سے مشورہ لیا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ آپ کی اپنی قوم کے آدمی اور آپ کے رشتہ دار ہیں آپ ان کی جان بخشی فرما دیں۔ ممکن ہے یہی اسلام قبول کر کے اسلام کے مددگار بن جائیں اور ان سے فدیہ کی جو رقم وصول کی جائے وہ آئندہ جہاد میں کام آئے گی۔ لیکن حضرت عمر فاروق (رض) کا مشورہ تھا یا رسول اللہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تکذیب کی، آپ کو وطن سے نکالا اور آپ سے برسر پیکار ہوئے۔ آپ ان کی گردنیں اڑا دیں۔ اکثر صحابہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی رائے سے متفق تھے۔ خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رجحانِ طبع بھی اسی طرف تھا۔ چناچہ فدیہ لے کر تمام قیدیوں کو رہا کردیا گیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے یہ عتاب نازل ہوا کہ کسی پیغمبر کو یہ نہیں چاہئے کہ اس کے قبضہ میں مشرک محارب قیدی ہوں اور وہ انہیں قتل نہ کرے اور فدیہ لے کر چھوڑ دے۔ 68: خطاب صحابہ کرام سے ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے عتاب ہے جنہوں نے زیادہ تر مالی مفاد کے پیش نظر فدیہ لینے کا مشورہ دیا تھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

67 نبی کی شان کے یہ بات شایاں نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی باقی رہیں اور زندہ رکھے جائیں۔ جب تک کہ وہ ملک میں منکرین دین حق کی خوب خوں ریزی نہ کرلے اور کفار کا زور نہ توڑ دے تم لوگ دنیوی مال و متاع اور دنیوی اسباب کے خواہاں ہوں اور اللہ تعالیٰ آخرت کی مصلحت اور آخرت کے ثواب کا خواہاں ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔ بدر کی جنگ میں ستر 70 کا فرمارے گئے اور ستر 70 قیدی بنے جو کافر قید ہوکر آئے تھے ان کے متعلق مشورہ ہوا بعض کی رائے یہ ہوئی کہ ان سے فدیہ لیکر رہا کردیا جائے اور بعض کی رائے یہ ہوئی کہ ان سب کو قتل کردیا جائے تاکہ مسلمانوں کے خلاف دوبارہ سازش نہ کریں پہلی رائے حضرت صدیق اکبر (رض) کی تھی دوسری رائے حضرت عمر (رض) کی تھی پہلی رائے میں چونکہ نرمی رحم دلی اور لچک تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اتفاق کرلیا اس پر حضرت حق کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بدر کی لڑائی میں ستر 70 کافر پکڑے آئے حضرت نے مشورہ پوچھا کہ ان کو کیا کریں اکثر مسلمانوں کی مرضی ہوئی کہ مال لیکر چھوڑ دیں اور بعضوں کی مرضی ہوئی کہ سب کو قتل کریں حضرت عمر اور سعد بن معاذ کی بھی مشورت تھی آخرمال لیکر چھوڑ دیا گیا۔ یہ آیت اتری عتاب کی یعنی نبیوں کو جہاد سے مال سمیٹنا منظور نہیں بلکہ کافروں کی ضد توڑنی وہ بات اسی میں ہے کہ قتل کرے تا اس کے خوف سے کفر کی ضدچھوڑیں۔ 12