Surat Abas
Surah: 80
Verse: 1
سورة عبس
عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾
The Prophet frowned and turned away
وہ ترش رو ہوا اور منہ موڑ لیا ۔
عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾
The Prophet frowned and turned away
وہ ترش رو ہوا اور منہ موڑ لیا ۔
The Prophet being reprimanded because He frowned at a Weak Man More than one of the scholars of Tafsir mentioned that one day the Messenger of Allah was addressing one of the great leaders of the Quraysh while hoping that he would accept Islam. While he was speaking in direct conversation with him, Ibn Umm Maktum came to him, and he was of those who had accepted Islam in its earliest days. He (Ibn Umm Maktum) then began asking the Messenger of Allah about something, urgently beseeching him. The Prophet hoped that the man would be guided, so he asked Ibn Umm Maktum to wait for a moment so he could complete his conversation. He frowned in the face of Ibn Umm Maktum and turned away from him in order to face the other man. Thus, Allah revealed, عَبَسَ وَتَوَلَّى أَن جَاءهُ الاَْعْمَى
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولی کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، پرانے مسلمان تھے عموماً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے ، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لئے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہیں جو سرکش ہیں اور مغرور و متکبر ہیں ، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے ، یہ کیا کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بےپرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں نہ مانیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ، مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف ، فقیر و غنی ، آزاد و غلام ، مرد و عورت ، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے ، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے ، حضرت ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے ( مسند ابو یعلی ) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ابن ام مکتوم کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے ، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لئے ہوئے تھے ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے تھے کہو میری بات ٹھیک ہے وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے ، ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ ، ابو جہل بن ہشام ، عباس بن عبدالمطلب تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کس طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کرلیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بےموقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے ، جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں ، پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ( ابن جریر وغیرہ ) یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں آیت ( عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ Ǻۙ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى Ąۭ ) عبس اتری تھی ، یہ بھی موذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ( ابن ابی حاتم ) ابن ام مکتوم کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے ، واللہ اعلم ، انھا تذکرہ یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے ، سدی کہتے ہیں مراد اس سے قرآن ہے ، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے ، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے ، یہ سورت اور یہ وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں ، جو فرشتوں کے پاس ہاتھوں میں ہیں اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے ۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد قاری ہیں ۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری ، امام ابن جریر فرماتے ہیں صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں ، سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے ، عرب شاعر کے شعر میں بھی یہی معنی پائے جاتے ہیں ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں ، وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں ، وجیہ خوش رو شریف اور بزرگ ظاہر میں ، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں ۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں ، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کیساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کبھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا ۔
[١] ایک دفعہ رسول اللہ کی خدمت میں چند قریشی سردار بیٹھے تھے اور آپ انہیں اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ روایات میں ان کے نام عتبہ، شیبہ، ابو جہل، امیہ بن خلف اور ابی بن خلف ملتے ہیں۔ یہ لوگ بعد میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے بدترین دشمن ثابت ہوئے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ جب قریشی سردار اسلام دشمنی کی حد تک نہیں پہنچے تھے۔ اسی دوران سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم آپ کے پاس تشریف لائے۔ یہ عبداللہ بن ام مکتوم نابینا تھے۔ سیدہ خدیجہ (رض) کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے آتے ہی رسول اللہ سے کسی آیت کا مطلب پوچھا۔ اور جو لوگ اس وقت رسول اللہ کی مجلس میں بیٹھے تھے انہیں آپ دیکھ نہیں سکتے تھے۔ رسول اللہ کو ناگوار محسوس ہوا۔ اور اس ناگواری کے اثرات آپ کے چہرہ پر بھی نمودار ہوگئے۔ آپ نے سیدنا عبداللہ کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور انہیں خاموش کرا دیا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ آپ سیدنا عبداللہ کی طرف سے مطمئن تھے کہ وہ خالص مومن ہیں انہیں بعد میں سمجھا لینگے سردست اگر ان سرداروں میں سے کوئی ایک بھی اسلام کے قریب آگیا تو اس سے اسلام کو خاصی تقویت پہنچ سکتی ہے اسی وجہ سے آپ قریشی سرداروں سے ہی محو گفتگو رہے۔ اس وقت یہ سورت نازل ہوئی جسے امام ترمذی نے مختصراً یوں ذکر کیا ہے : عبداللہ بن ام مکتوم اور راہ ہدایت کی جستجو & طلب صادق :۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ اس سورت کی ابتدائی آیات عبداللہ بن ام مکتوم کے بارے میں نازل ہوئیں۔ وہ آپ کے پاس آئے اور یہ کہتے رہے کہ یارسول اللہ مجھے دین کی راہ بتائیے۔ اس وقت آپ کے پاس مشرکوں میں سے کوئی بڑا آدمی بیٹھا تھا۔ اور آپ پہلے (یعنی عبداللہ) سے اعراض کرتے تھے اور دوسرے (مشرک) کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ اور عبداللہ (رض) کہتے تھے کیا میری بات میں کوئی برائی ہے اور آپ کہتے تھے۔ نہیں۔ اس بارے میں یہ سورت نازل ہوئی۔ (ترمذی، ابو اب التفسیر) اس سورت کے انداز خطاب سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عتاب کا رخ رسول اللہ کی طرف ہے حالانکہ اس عتاب کے بیشتر حصہ کا روئے سخن قریشی سرداروں کی طرف ہے۔ پھر آپ پر جو کچھ عتاب نازل ہوا اس کا انداز بھی عجیب ہے۔ پہلی آیت میں صیغہ واحد مذکر غائب استعمال کیا گیا ہے۔ پھر تیسری آیت میں آپ کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے جس سے ایک تو کلام میں حسن پیدا ہوگیا اور دوسرے عتاب کے انداز کو انتہائی نرم کردیا گیا ہے۔ اس عتاب میں آپ کے دعوت حق کی تبلیغ کے طریق کار پر تنقید کی گئی ہے کہ اصولاً اس دعوت کے لیے توجہ کا اولین مستحق وہ ہوتا ہے۔ جو خود بھی ہدایت کا طالب ہو۔ اس واقعہ کے بعد آپ سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم سے بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرمایا کرتے && مَرحَبَا بِمَنْ عَاتَبَنِی فِیْہِ رَبِّی && (خوش آمدید اس شخص کو جس کے بارے میں اللہ نے مجھ پر عتاب فرمایا) نیز آپ نے مدنی زندگی میں کئی بار آپ کو مدینہ میں اپنا نائب اور حاکم بنایا جب آپ جہاد وغیرہ کے سلسلہ میں مدینہ سے باہر جاتے تھے۔ آپ نابینا ہونے کے باوجود جہاد میں عملاً حصہ لیا کرتے تھے۔ آپ دور فاروقی میں جنگ قادسیہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
(١) عبس وتولی : اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا، اگرچہ بعد میں ” وما یدریک “ سے مخاطب فرما لیا۔ اس میں نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نابینے صحابی سے بےتوجہی کی تو اللہ تعالیٰ نے بطور عتاب آپ کے خطاب سے بےتوجہی فرمائی۔ موضح القرآن میں ہے :” یہ کلام گویا اوروں کے پاس گلہ ہے رسول کا۔ آگے رسول کو خطاب فرمایا۔ “ بعض اہل علم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اکرام کی وجہ سے آپ کو مخاطب کر کے اظہار ناراضی نہیں فرمایا۔ (٢) بعض حضرات نے ” تیوری چڑھانے والا “ اس مشرک کو قرار دیا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا تھا، مگر اس کے بعد آنے والی آیات میں صاف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخطاب کر کے فرمایا :(فانت عنہ تلھی) یعنی آپ اس آنے والے (نابینے صحابی) سے بےتوجہی کرتے ہیں۔ اس لئے مذکورہ تفسیر درست نہیں۔
Commentary Circumstance of Revelation Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum (رض) ، the companion of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was a blind man. It once happened that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was engaged in a talk with the leaders of Quraish about some matters of belief. Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum (رض) arrived there. Imam Baghawi adds that being blind and unable to see the surroundings, he did not realise that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was occupied with the others. He, therefore, burst into the circle and called the Holy Prophet repeatedly. [ Mazhari ]. According to Ibn Kathir, he requested the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to teach him a verse of the Qur’ an and insisted an immediate enlightenment on the question. On that occasion, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was occupied with the non-believing leaders of Makkah in the hope that they would embrace the faith of Islam. The leaders to whom the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was speaking were ` Utbah Ibn Rabi` ah, Abu Jahl Ibn Hisham and the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) uncle ` Abbas (رض) [ who had until then not embraced the Islamic faith ]. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) disliked the intrusion, and showed his displeasure by turning aside from Sayyidth ` Abdullah Ibn Umm Maktum, thinking that he was a committed Muslim who frequently visited him, and therefore he could speak to him at another appropriate time. There was no religious loss in postponing the response to him. On the other hand, the Quraish leaders neither frequented the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) company, nor could the Word of Allah be conveyed to them at any time. At that particular moment, they were listening to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .|" discourse and there was hope that they would embrace the Islamic faith. But if the conversation was rashly interrupted, apparently they would have been deprived of the faith. In view of this situation, the Holy Prophet * showed adverse reaction by turning aside from` Abdul)-ah Ibn umm Maktum (رض) ، and continued his discourse with the Quraish leaders. When the assembly broke up, the verses of Surah ` Abas were revealed to record Allah&s dislike for this attitude, and to give directions for future. This attitude of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was based on ijtihad or &an opinion based on personal reasoning&. He thought that if a Muslim were to adopt a speech style that is not in keeping with etiquettes of a gathering, he needs to be reprimanded, so that in future he may be careful in future. That is the reason why Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) turned his face away from Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum (رض) . Secondly, disbelief (kufr) and polytheism (shirk) are the most severe sins, and an effort to eradicate them should take priority over the subsidiary precepts of Islam on which Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum (رض) asked for enlightenment. Allah Almighty, through this Surah, did not confirm the correctness of this ijtihad of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and explained to him that educating a genuine seeker will most certainly benefit him, while the benefit of discussion with the opponents (who disdainfully turn away their face when the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) talks to them) is shaky and doubtful. Doubtful thing cannot be preferred over certainty. As for the violation of etiquette committed by Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum (رض) ، its excuse is pointed out by the Holy Qur&an in the word &blind&. It is indicated by this word that being a blind man, he could not see what the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was doing and with whom he was engaged in conversation. Thus he was excusable, and was not liable to be subjected to aversion. This indicates that if an excusable person were to break any rule of etiquette unwittingly, he should not be reprimanded. عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ (He [ the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) frowned and turned his face, 80:1). The word ` abasa means &he frowned& and the word tawalla means &he turned aside&. Since the reference here is to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who himself is addressed, the verbs should have been in the second person: &you frowned and you turned aside&. But the Holy Qur&an on this occasion uses the third person in order to maintain the honour of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، as if this attitude were shown by some other person, and in a subtle way it alludes to the point that what the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did was not befitting his high status. Then the next sentence وَمَا يُدْرِيكَ (and what could tell you? ...80:3) alludes to the fact that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was excusable, because it did not come to his attention that the Companion is asking something whose effect will be certain and the effect of conversation with others is dubious. The second sentence abandons the third person, and switches to the second person in order to maintain the honour of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Had he not been addressed in second person at all, it might have created the impression that he is not addressed directly because of his unapproved conduct, which would have been an unbearable pain and grief for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Just as the third person in the first statement is meant to show respect to him, the second person in the following sentence is also meant to honor and console him.
خلاصہ تفسیر شان نزول ان آیات کے نزول کا قصہ یہ ہے کہ ایک بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض روسائے مشرکین کو سمجھا رہے تھے، بعض روایات میں ان میں سے بعض کے نام بھی آئے ہیں۔ ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، ابی بن خلف، امیہ بن خلف، شیبہ کہ اتنے میں حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحافی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھا، یہ قطع کلام آپ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہیں کیا، اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بجیں ہوئے، جب اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو آثار وحی کے نمودار ہوئے اور یہ آیتیں عبس وتولی الخ نازل ہوئیں، اس کے بعد جب وہ آپ کے پاس آتے آپ بڑی خاطر کرتے تھے ھذہ الروایات کلھا فی الدر المنثور غرض واقعہ مذکر کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ) پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چین بجیں ہوئے اور متوجہ نہ ہوگئے اس بات سے کہ ان کے پاس اندھا آیا (یہاں تو غائب کے صیغہ سے فرمایا اور یہ متکلم کے انتہائی لطف وکرم اور مخاطب کی تکریم ہے کہ رو در رو اس امر کی نسبت نہیں فرمائی) اور ( آگے خطاب کا صیغہ بطور التفات کے اسلئے اختیار کیا کہ شبہ اعراض کا نہو ارشاد ہوتا ہے کہ) آپ کو کیا خبر شاید وہ (نابینا آپ کی تعلیم سے پورے طور پر) ستور جاتا یا (کم سے کم کسی خاص امر میں) نصیحت قبول کرتا سو اس کو نصیحت کرنا (کچھ نہ کچھ) فائدہ پہنچاتا، تو جو شخص (دین سے) بےپرواہی کرتا ہے آپ اس کی تو فکر میں پڑتے ہیں، حالانکہ آپ پر کوئی الزام نہیں کہ وہ نہیں سنورے (اس کی بےپرواہی ذکر کرکے اس کی طرف زیادہ توجہ نہ دینے کی ہدایت ہے) اور جو شخص آپ کے پاس (دین کے شوق میں) دوڑتا ہوا آتا ہے اور وہ (خدا سے) ڈرتا ہے آپ اس سے بےاعتنائی کرتے ہیں (ان آیات میں آپکی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کیا گیا ہے، منشا اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم کام کو مقدم کرنا چاہئے، آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا جیسے دو بیمار ہوں ایک کو ہیضہ ہے اور دوسرے کو زکام، تو ہیضے کے مریض کا علاج مقدم ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ مرض کی شدت اس وقت موجب اہمیت ہے جب دونوں مریض طالب علاج ہوں، لیکن اگر مرض شدید والا علاج کا طالب ہی نہیں بلکہ مخالف ہو تو پھر مقدم وہ ہوگا جو طالب علاج ہے اگرچہ مرض اس کا خفیف ہو آگے ان مشرکین کی طرف اس قدر توجہ ضرور نہ ہونے کو ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ آئندہ) ہرگز ایسا نہ کیجئے (کیونکہ) قرآن (محض ایک) نصیحت کی چیز ہے (اور آپ کے ذمہ صرف اس کی تبلیغ ہے) سو جسکا جی چاہے اس کو قبول کرے (اور جو قبول نہ کرے وہ جانے، آپ کا کوئی ضرر نہیں، پھر آپ اس قدر اہتمام کیوں فرماتے ہیں۔ آگے قرآن کے اوصاف بیان فرماتے ہیں کہ) وہ ( قرآن لوح محفوظ کے) ایسے صحیفوں میں (ثبت) ہے جو (عنداللہ) مکرم ہیں (یعنی پسندیدہ و مقبول ہیں، اور) رفیع المکان ہیں (کیونکہ لوح محفوظ تحت العرش ہے کما فی الدر المنثور سورة البروج، اور وہ) مقدس ہیں (شیاطین خبیثہ کی وہاں تک رسائی نہیں، کقولہ تعالیٰ (آیت) لایمسہ الا المطھرون) جو ایسے لکھنے والوں (یعنی فرشتوں) کے ہاتھوں میں (رہتے) ہیں کہ وہ مکرم (اور) نیک ہیں ( یہ سب صفات اسکے من جانب اللہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں جیسا کہ سورة واقعہ کی ( آیت) لایمسہ الا المطھرون میں بیان ہوا ہے کہ اور لوح محفوظ سے بامر الٰہی نقل کرنیوالے ہیں۔ حاصل آیات کا یہ ہوا کہ قرآن من جانب اللہ نصیحت کے لئے ہے، آپ نصیحت کرکے اپنے فرض سے فارغ ہوجاویں گے خواہ کوئی ایمان لاوے یا نہ لاوے پس اس قسم کی تقدیم و تاخیر کی کوئی ضرورت نہیں، یہاں تک آداب تذکیر و تبلیغ کے ہوئے آگے کفار کے اس سے فائدہ نہ اٹھانے پر تشبیع ہے کہ منکر) آدمی پر ( جو ایسے تذکرہ سے نصیحت حاصل نہ کرے جیسے ابوجہل وغیرہ جن کو آپ سمجھاتے تھے اور وہ نہیں سمجھے تو ایسے شخص پر) خدا کی مار کہ وہ کیسا ناشکرا ہے (وہ دیکھتا نہیں کہ) اللہ تعالیٰ نے اس کو کیسی (حقیر) چیز سے پیدا کیا (آگے جواب ہے کہ) نفطہ سے (پیدا کیا، آگے اس کی کیفیت مذکورہ ہے کہ بہت سے انقلابات اور تغیرات کے بعد) اس کی صورت بنائی پھر اس (کے اعضا) کو اندازے سے بنایا (جیسا کہ سورة القیامہ کی ( آیت) فخلق فسوی میں گزرچکا ہے) پھر اس کو (نکلنے کا) راستہ آسان کردیا (چنانچہ ظاہر ہے کہ ایسے تنگ موقع سے اچھے خاصے تنو مند بچہ کا صحیح سالم نکل آنا صاف دلیل ہے اللہ کے قادر اور عبد کے مقدور ہونیکی) پھر (بعد عمر ختم ہونیکے) اس کو موت دی پھر اس کو قبر میں لے گیا (خواہ اول سے خاک میں رکھ دیا جائے یا بعد چندے خاک میں ملجائے) پھر جب اللہ چاہے گا اس کو دوبارہ زندہ کر دے گا (مطلب یہ کہ سب تصرفات دلیل ہیں انسان کے داخل قدرت الہیہ ہونے کی اور نعمت بھی ہے۔ بعضے حسی معنوی جس کا مقتضی تھا وجوب اطاعت و ایمان مگر اس نے) ہرگز (شکر) نہیں (ادا کیا اور اس کو جو حکم کیا تھا اس کو بجا نہیں لایا، سو انسان کو چاہیے کہ ( اپنی خلیق کے ابتدائی حالات پر نظر کرنے کے بعد اسباب بقاء وتعیش پر نظر کرے مثلاً ) اپنے کھانے کی طرف نظر کرے ( تاکہ وہ باعث ہو حق شناسی اور اطاعت و ایمان کا اور آگے نظر کرنے کا طریقہ بتاتے ہیں وہ یہ) کہ ہم نے عجیب طور پر پانی برسایا، پھر عجیب طور پر زمین کو پھاڑا، پھر ہمنے اس میں غلہ اور انگور اور ترکاری اور زیتون اور کھجور اور گنجان باغ اور میوے اور چارہ پیدا کیا (بعض چیزیں) تمہارے اور (بعض چیزیں) تمہارے مواشی کے فائدہ کے لئے (اور یہ سب بھی نعمت اور دلیل قدرت ہیں، اور اس مجموع میں ہر جزو مقتضی ہے وجوب شکر ایمان کو، یہاں تک تشنیع ہوگئی نصیحت قبول نہ کرنے پر، آگے عدم تذکر پر سزا اور تذکر پر ثواب آخرت مذکور ہے۔ یعن یاب تو یہ لوگ ناشکری کا مزا معلوم ہوجائیگا، آگے اس دن کا بیان ہے کہ) جس روز (ایسا) آدمی (جسکا اوپر بیان ہوا) اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا (یعنی کوئی کسی کی ہمدردی نہ کریگا، کقولہ تعالیٰ لایسل حمیم حمیما وجہ یہ کہ) ان میں ہر شخص کو (اپنا ہی) ایسا مشغلہ ہوگا جو اس کو اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا ( یہ تو کفار کا حال ہوگا، آگے مجموعہ مومنین اور کفار کی تفصیل ہے کہ) بہت سے چہرے اس روز (ایمان کی وجہ سے) روشن (اور مسرت سے) خنداں شاداں ہوں گے اور بہت سے چہروں پر اس روز (کفر کی وجہ سے) ظلمت ہوگی (اور اس ظلمت کیساتھ) ان پر (غمی کی) کدورت چھائی ہوگی یہی لوگ کافر فاجر ہیں (کافر سے اشارہ ہے فساد عقائد کی طرف اور فاجر سے فساد اعمال کی طرف) معارف ومسائل شان نزول میں جو واقعہ حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی کا نقل کیا گیا ہے اس میں بغوی نے یہ مزید روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ کو نابینا ہونے کے سبب یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ آپ کسی دوسرے سے گفتگو میں مشغول ہیں، مجلس میں داخل ہو کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آواز دینی شروع کی اور بار بار آواز دی۔ (مظہری) اور ابن کثیر کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک آیت قرآن پڑھوانے کا سوال کیا اور اس سوال کے فوری جواب دینے پر اصرار کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت مکہ کے کفار سرداروں کو دین کی تبلیغ کرنے اور سمجھانے میں مصروف تھے۔ یہ سردار عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل ابن ہشام اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا حضرت بع اس تھے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس موقع پر عبداللہ ابن ام مکتوم کا اس طرح خطاب کرنا اور ایک آیت کے الفاظ درست کرنیکے معمولی سوال پر فوری جواب کے لئے اصرار کرنا ناگوار ہوا جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عبداللہ ابن ام مکتوم پکے مسلمان اور ہر وقت کے حاضر باش تھے دوسرے اوقات میں بھی سوال کرسکتے تھے۔ ان کے جواب کے موخر کرنے میں کسی دینی نقصان کا خطرہ نہ تھا بخلاف روسائے قریش کے کہ نہ یہ لوگ ہر وقت آپکی خدمت میں آتے ہیں اور نہ ہر وقت ان کو اللہ کا کلمہ پہنچایا جاسکتا ے، اس وقت یہ لوگ آپ کی بات سن رہے تھے جس سے انکے ایمان لانے کی توقع کی جاسکتی تھی اور ان کی بات کاٹ دی جاتی تو ایمان ہی سے محرومی انکی ظاہر ظاہر تھی۔ ان مجموعہ حالات کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن ام مکتوم سے رخ پھیر کر اپنی ناگواری کا اظہار فرمایا اور جو گفتگو تبلیغ حق کی روسائے قریش کے ساتھ جاری تھی اس کو جاری رکھا، اس پر مجلس سے فارغ ہونے کے وقت سورة عبس کی آیات مذکورہ نازل ہوئیں جس میں آپ کے اس طرز عمل کو ناپسندیدہ قرار دے کر آپ کو ہدایت کی گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ طرز عمل اپنے اجتہاد پر مبنی تھا کہ جو مسلمان آداب مجلس کیخلاف طرز گفتگو اختیار کرے اس کو کچھ تنبہ ہونی چاہئے تاکہ آئندہ وہ آداب مجلس کی رعایت کرے اس کے لئے تو آپ نے حضرت ابن ام مکتوم سے رخ پھیرلیا، اور دوسری بات یہ تھی کہ بظاہر حال کفر و شرک سب سے بڑے گناہ ہیں انکے ازالہ کی فکر مقدم ہونا چاہئے بمقابلے دین کے فروعی احکام کی تعلیم کے جو عبداللہ ابن ام مکتوم چاہتے تھے مگر حق تعالیٰ جل شانہ نے آپ کے اس اجتہاد کو درست قرار نہیں دیا اور اس پر متنبہ فرمایا کہ یہاں قابل غور یہ بات تھی کہ ایک شخص جو آپ سے دینی تعلیم کا طلب ہو کر سوال کر رہا ہے اسکے جواب کا فائدہ تو یقینی ہے اور جو آپکا مخالف ہے آپ کی بات سننا بھی پسند نہیں کرتا اس سے گفتگو کا فائدہ موہوم ہے، موہوم کو یقینی پر ترجیح ہونا چاہئے اور عبداللہ بن ام مکتوم سے جو آدام مجلس کیخلاف بات سرزد ہوئی ان کا عذر قرآن نے لفظ عمی کہ کر بتلادیا کہ وہ نابینا تھے اس لئے ان کو نہ دیکھ سکتے تھے کہ آپ اس وقت کس شغل میں ہیں، کن لوگوں سے گفتگو چل رہی ہے اسلئے وہ معذور تھے، مستحق اعراض نہیں تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی معذور آدمی سے بیخبری میں کوئی بات آداب مجلس کے خلاف ہوجائے تو وہ قابل عتاب نہیں ہوتا۔ عبس وتولی، عبس کے معنے تر شروی اختیار کرنا یعنی چہرہ سے اظہار ناگواری کرنا اور تولی کے معنے رخ پھیر لینے ہیں۔ اس جگہ موقع اس کا تھا کہ یہ الفاظ آپ کو بصیغہ خطاب کہے جاتے کہ آپ نے ایسا کیا۔ لیکن قرآن کریم نے صیغہ خطاب کے بجائے صیغہ غائب اختیار کیا جس میں عتاب کی حالت میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اکرام محلوظ رکھا گیا اور صیغہ غائب اختیار کرکے یہ ایہام کیا کہ جیسے یہ کام کسی اور نے کیا ہو اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کام آپ کے شایان شان نہیں اور دوسرے جملے میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عذر کی طرف اشارہ فرمادیا وما یدریک (یعنی آپ کو کیا خبر) اس میں بتلا دیا کہ اعراض کی وجہ یہ پیش آئی ہے کہ آپ کا دھیان اس طرف نہیں گیا کہ یہ صحابی کو کچھ دریافت کر رہے ہیں اس کا اثر یقینی ہے اور غیروں سے گفتگو کا اثر موہوم۔ اور اس دوسرے جملے میں صیغہ غائب چھوڑ کر صیغہ خطاب کا اختیار فرمانے میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکریم اور دلجوئی ہے کہ اگر بالکل خطاب کا صیغہ استعمال نہ ہوتا تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ اس طرز عمل کی ناپسندیدگی ترک خطاب کا سبب بن گئی جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ایک ناقابل برداشت رنج والم ہوتا، اسلئے جس طرح پہلے جملہ میں خطاب کے بجائے غائب کا صیغہ استعمال کرنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکریم ہے اسی طرح دوسرے جملے میں خطاب کرنا بھی آپ کی تکریم اور دلجوئی ہے۔
عَبَسَ وَتَوَلّٰٓي ١ ۙ عبس العُبُوسُ : قُطُوبُ الوجهِ من ضيق الصّدر . قال تعالی: عَبَسَ وَتَوَلَّى[ عبس/ 1] ، ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ [ المدثر/ 22] ، ومنه قيل : يوم عَبُوسٌ. قال تعالی: يَوْماً عَبُوساً قَمْطَرِيراً [ الإنسان/ 10] ، وباعتبار ذلک قيل العَبَسُ : لِمَا يَبِسَ علی هُلْبِ الذَّنَبِ من البعر والبول، وعَبِسَ الوسخُ علی وجهه ( ع ب س ) العبوس ( ض ) کے معنی سینہ کی تنگی سے چہرہ پر شکن پڑے نے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ عَبَسَ وَتَوَلَّى[ عبس/ 1] تر شر د ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ [ المدثر/ 22] پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا لیا ۔ اور اسی سے یوم عبوس ہے جس کے معنی سخت اور بھیانک دن کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ يَوْماً عَبُوساً قَمْطَرِيراً [ الإنسان/ 10] اس دن سے جو ( چہروں کو ) شکن آلود اور دلوں کو سخت مضطر کردینے والا ہے ۔ اور اسی اعتبار سے العبس اس گو برادر پیشاب کو کہتے ہیں جو اونٹ کی دم کے بولوں کے ساتھ لگ کر خشک ہوجاتا ہے عبس الوسخ علی وجھہ اس کے چہرہ پر میل کچیل جم گئی ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔
(١۔ ٤) رسول اکرم قریش کے سرداروں یعنی حضرت عباس بن عبدالمطلب، امیہ بن خلف اور صفوان بن امیہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ان کو نصیحت فرما رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے، اتنے میں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم تشریف لے آئے اور بولے یا رسول اللہ جس چیز کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو تعلیم دی ہے اس میں سے مجھے بھی بتلایئے۔ ان لوگوں کے ساتھ مشغولیت کی بنا پر آپ کو ان کا یہ قطع کلام ناگوار گزرا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں یہ ابتدائی آیات نازل فرمائیں کہ محمد آپ کو کیا معلوم شاید ابن ام مکتوم قرآن سے نیکی حاصل کرتے اور نصیحت حاصل قبول کرتے اور ان کو قرآن کے ذریعے سے نصیحت کرنا فائدہ پہنچاتا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ آپ کو کیا معلوم کہ وہ نیکی نہ حاصل کرتے اور نصیحت قبول نہ کرتے اور ان کو یہ نصیحت فائدہ نہ پہنچاتی۔ شان نزول : عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ۔ اَنْ جَاۗءَهُ الْاَعْمٰى (الخ) امام ترمذی اور حاکم نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ سورة عبس حضرت ابن ام مکتوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ مجھے نیکی کا راستہ بتلایئے اور آپ کے پاس روسائے مشرکین بیٹھے ہوئے تھے، چناچہ رسول اکرم ان سے اعراض کر رہے تھے اور دوسروں کی طرف متوجہ ہورہے تھے اور اس سے فرما رہے تھے کیا میں جو تجھ سے کہہ رہا ہوں تجھے اس میں کوئی خدشہ ہے وہ کہہ رہا تھا نہیں۔ چناچہ اس بارے میں سورة عبس کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، اور ابو یعلی نے اسی طرح حضرت انس سے روایت نقل کی ہے۔
آیت ١{ عَبَسَ وَتَوَلّٰیٓ ۔ } ” تیوری چڑھائی اور منہ پھیرلیا۔ “ یعنی حضرت عبداللہ کی بار بار خلل اندازی پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرئہ انور پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چہرئہ مبارک دوسری طرف کرلیا۔
1: یہ آیات ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی تھیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن حضور سروَرِ دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم قریش کے کچھ بڑے بڑے سرداروں کو اِسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اور اُن سے گفتگو میں مشغول تھے کہ اتنے میں آپ کے ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اﷲ عنہ وہاں آگئے، اور چونکہ وہ نابینا تھے، اس لئے یہ نہ دیکھ سکے کہ آپ کن کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں، چنانچہ اُنہوں نے آتے ہی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کچھ سکھانے کی درخواست شروع کردی۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اُن کا یہ طریقہ پسند نہ آیا کہ دوسروں کی بات کاٹ کر اُنہوں نے بیچ میں مداخلت شروع کردی۔ اس لئے آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، اور آپ نے ان کی بات کا جواب دینے کے بجائے اُن کافروں کے ساتھ اپنی گفتگو جاری رکھی۔ جب وہ لوگ چلے گئے تو یہ سورت نازل ہوئی جس میں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس طریقے پر اﷲ تعالیٰ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ منہ بنانے کو عربی میں عبس کہتے ہیں، چونکہ یہ سورت اسی لفظ سے شروع ہوئی ہے، اس لئے اس کا نام ’’عبس‘‘ ہے اور اس میں بنیادی تعلیم یہ دی گئی ہے کہ جو شخص دِل میں حق کی طلب رکھتا ہو، اور سچے دل سے اپنی اِصلاح چاہتا ہو، وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اُس کو وقت دیا جائے۔ اس کے برخلاف جن لوگوں کے دِل میں حق کی طلب ہی نہیں ہے، اور وہ اپنی کسی اِصلاح کی ضرورت نہیں سمجھتے، حق کے طلبگاروں سے منہ موڑ کر اُنہیں ترجیح نہیں دینی چاہئے۔
١۔ ١٦۔ ترمذی ٢ ؎ صحیح ابن حبان مستدرک حاکم تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں حضرت عائشہ اور حضرت انس (رض) سے جو روایتیں ہیں جن کو ترمذی نے حسن اور حاکم نے صحیح قرار ٣ ؎ دیا ہے۔ حاصل ان روایتوں کا یہ ہے کہ ابن خلف ایک شخص مشرک کو ایک روز آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ اسلام کی خوبی کی باتیں سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبد اللہ بن ام مکتوم صحابی نے آ کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن شریف کی ایک آیت پوچھی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عبد اللہ بن ام مکتوم کا یہ قطع کلام ذرا شاق گزرا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیوری چڑھائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ان آیتوں کے نازل ہونے کے بعد سے جب عبد اللہ بن ام مکتوم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا کرتے تھے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی خاطر کیا کرتے تھے اور اپنی چادر ان کے لئے بچھا دیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ وہ شخص ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر خفا ہوا ہے بعضی روایتوں میں بجائے ابی بن خلف کے ابوجہل اور عتبہ بن ربیعہ وغیرہ کا نام جو اس قصہ میں ذکر کیا گیا ہے ان روایتوں کی سند صحیح نہیں ہے حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم مہاجرین اولین میں سے ہیں۔ مشہور نام تو ان کا عبد اللہ ہے لیکن بعضی روایتوں میں ان کا نام عمر بن ام مکتوم آیا ہے غرض مکتوم ان کی ماں کا نام ہے۔ جہاد میں جاتے وقت تیرہ مرتبہ کے قریب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان عبد اللہ بن ام مکتوم کو خلیفہ بنا کر مدینہ چھوڑا ہے۔ لفظ عبس و تولے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غائب ٹھہر کر جو باتیں کی ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس باب میں ترک اولیٰ کے طور پر جو ایک بات ہوگئی تھی اس کو نہایت مہربانی سے اللہ تعالیٰ نے اس طرح جتلایا کہ گویا یہ بات چیت کسی دوسرے سے ہے۔ عبد اللہ بن ام مکتوم کے سنور جانے کا یہ مطلب ہے کہ آئندہ اسلام میں وہ اور پکے ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ پہلے سے مسلمان ہوچکے تھے اور نصیحت سن کر نفع اٹھانے کا یہ مطلب ہے کہ آگے کو انہیں نیک عمل کا شوق زیادہ ہوتا۔ پھر فرمایا جو کوئی اپنی آسودہ حالی کے گھمنڈ میں اللہ کا کلام سننے سے بےپروائی کرتا ہے اس کی طرف متوجہ ہونا اور جو اللہ کے خوف سے اللہ کے کلام کے سننے کے شوق میں اپنے گھر سے دوڑتا ہوا آیا۔ اس سے کم توجہی کرنا یہ اللہ کو پسند نہیں۔ اب جو ہوا سو ہوا۔ آئندہ ایسا نہیں کرنا چاہئے اللہ کا کلام غریب ‘ آسودہ حال ‘ سب کو یکساں حالت سے سنا دینا چاہئے۔ پھر اس کو سن کر جو راہ راست پر نہ آئے گا تو اپنا کچھ کھوئے گا اے نبی اللہ کے ایسے شخص کا کچھ بار تم پر نہیں کیونکہ جب تم نے اللہ کا حکم سب کو پہنچا دیا تو تمہارا فرض ادا ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی عظمت جتلائی کہ یہ کلام ساتویں آسمان پر کی باعزت بلند ستھری جگہ لوح محفوظ سے معزز فرمانبردار فرشتوں نے نقل کیا ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کلام کی بڑی قدر ہے وہ لوگ بڑے ناقدرے ہیں جو اس کی قدر نہیں کرتے۔ چنانہ اس مطلب کو اللہ تعالیٰ نے سورة انعام میں ان لفظوں سے ادا فرمایا ہے۔ وما قدرو اللہ حق قدرہ اذاقالوا ما انزل اللہ علیٰ بشر من شے حاصل یہ ہے کہ اہل مکہ پر قرآن کا کلام خدا ہونا تو اس سبب سے ثابت ہوچکا تھا کہ باوجود دعویٰ فصاحت کے وہ لوگ ایسی ایک چھوٹی سی سورت بھی بنا کر نہ لاسکے۔ اب جن پر قرآن نازل ہوتا تھا ان کو اللہ کا رسول اس لئے ماننا ضروری ہے کہ بغیر وحی آسمانی کے کوئی ایسا کلام بنا نہیں سکتا۔ اس کے بعد اہل مکہ کا قرآن اور اللہ کے رسول کو جھٹلانا بڑی ناقدری تھی کہ ایسے بڑے باعظمت کلام کو وہ لوگ جھٹلاتے تھے جس کی عظمت نے ان کے دعویٰ فصاحت کو خاک میں ملا دیا۔ سفر جمع ہے۔ سافر کی ‘ جس کے معنی کاتب کے ہیں۔ مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا کہ کاتب فرشتوں نے اس قرآن شریف کو لوح محفوظ سے نقل کیا ہے۔ معتبر سند سے دلائل النبوۃ ‘ بیہقی ‘ تفسیر ابن جریر ١ ؎ ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے جو روایتیں ہیں۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں کاتب ملائکہ نے ایک دفعہ سارے قرآن کو لوح محفوظ سے نقل کیا۔ اور وہ ان کاتب ملائکہ کے صحیفوں میں حفاظت سے آسمان دنیا پر رکھا رہا اور حسب ضرورت وقت بوقت حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعہ سے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا۔
(80:1) عبس وتولی : شان نزول :۔ حضرت ابن ام مکتوم (عبد اللہ بن ریح بن مالک بن ربیعہ فہری) حضرت خدیجہ (رض) کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ ان کیی والدہ ام مکتوم حضرت خدیجہ کے والد خویلد بہن بھائی تھے۔ ایک دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکابر مکہ عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، عباس بن عبد المطلب۔ ابی بن خلف۔ امیہ بن خلف سے خاموشی کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور ان کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے کہ اسی دوران میں ابن ام مکتوم وہاں آئے (جو کہ نابینا تھے) اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! علمنی مما علمک اللہ (اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اس میں سے مجھے بھی سکھا دیجئے) ان کو معلوم نہیں تھا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسری طرف متوجہ ہیں ان کی اس طرح قطع کلامی پر حضور انور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک پر کچھ کراہت کے آثار نظر آئے اور آپ نے ترش رو ہو کر ابن ام مکتوم کی طرف سے رخ انور موڑ لیا اور جن لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے ان کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اس پر یہ سورة مبارکہ نازل ہوئی۔ عبس ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب عبس وعبوس (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی ترش رو ہونا۔ منہ بنانا، تیوری چڑھانا کے ہیں۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ دل تنگی سے ماتھے پر بل آجائے ۔ نام عبوس ہے۔ تفسیر کبیر میں ہے :۔ عبس یعبس (باب ضرب) فھو عابس کا استعمال ماتھے پر بل ڈالنے کے لئے ہوتا ہے اور اگر اسی ترش روئی میں دانت بھی ظاہر ہوجائیں تو پھر کلح بولتے ہیں اور اگر منہ بنانے کا فکر و اہتمام بھی ہو تو اس کے لئے بسر آتا ہے اور اگر تیوری پر بل ڈالنے کے ساتھ غصہ بھی ہوجائے تو پھر بسل کہا جاتا ہے۔ وتولی۔ واؤ عاطفہ، تولی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر سے۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیر دی۔ وہ پھر گیا۔ اور حاکم ہونا بھی اس کا معنی آتا ہے۔
سورة عبس۔ آیات ١ تا ٤٢۔ اسرار ومعارف۔ چہرے پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور منہ پھیرلیا ہوایوں کہ آپ کے پاس مکہ کے چند سردار بیٹھے تھے جن ہی آپ سمجھا رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم آئے ان کی نظر نہ تھی انہوں نے کسی آیت کے بارے سوال کیا اور باربار جواب پر اصرار کیا جو مناسب حال نہ تھا اس پر آپ کے رخ انور پر ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے اور رخ انور ان سے پھیرلیا کہ وہ تو دوسرے وقت بھی استفادہ کرسکتے تھے مجلس میں انہیں مخل نہ ہوناچاہیے تھا۔ نفع یقینی پر موہوم کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس پر اللہ نے فرمایا کہ آپ کا یہ اجتہاد درست نہیں لہذا اصطلاح فرمادی کہ ان کو نفع یقینی تھا جبکہ کفار کا فائدہ موہوم تھا محض امید تھی کہ یہ مخالفت چھوڑ کر ایمان لے آئیں لہذا یقینی کو موہوم پر ترجیح دی جائے اس لیے ارشاد ہوا کہ آنے والامعذور تھ ا کہ اس کی نظر نہ تھی مگر وہ سوال فائدہ حاصل کرنے کے لیے کررہا تھا اب بھلا آپ کو کیا خبر کہ وہ پاک ہوجاتا یا کم ازکم اسے ذکر کثیر نصیب ہوجاتا۔ سالک کے دوحال۔ پہلاحال ابرار کا ہے کہ نفس کا تزکیہ نصیب ہوجائے اور دوسراطالب کا کہ اسے ذکر کثیر نصیب ہوکرمنزل کی طرف لے جانے کا سبب بن جائے تو دونوں میں ایک تو بہرحال یقینی تھا جبکہ دوسری طرف وہ لوگ تھے جو خود کو دین کا ضرورت مند ہی نہیں سمجھتے تھے۔ مسئلہ۔ کفار کی دل جوئی کے لیے کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہو اور آپ نے ان کی فکرفرمائی ہو حالانکہ اگر وہ اسلام قبول نہ کریں تو آپ کو کیا غرض آپ تو اللہ کا پیغام پہنچا چکے لیکن جو شخص طلب خالص لے کر اور اللہ سے دلی محبت لے کر خدمت عالی میں حاضر ہوا اس سے بےرخی اختیار نہ فرمائیے ، کہ یہ دین تو نصیحت ہے جو چاہے قبول کرے کہ اس میں اسی کا فائدہ ہے یہ تو بہت معزز صحف میں لکھی ہوئی باتیں ہیں جو بہت اعلی مقامات پر عنداللہ رکھی ہیں جنہیں فرشتے انبیاء (علیہم السلام) کے پاس لاتے ہیں اور بہت نیک اور پاک باز ہیں۔ مسئلہ۔ یہ سب لفظ مطہرہ سے حاصل ہوتا ہے کہ جنابت والے آدمی ، حیض یانفاس والی عورت اور بےوضو کے لیے چھونا درست نہیں نیز قرآن کو کتابت کرنے والے صحابہ کرام اور بعد میں آنے والے علماء کرام مراد ہیں گویا ان سب کو پاکباز ہوناچاہیے جس کا راستہ ذکر کثیر ہے۔ آدمی نے تباہی مول لے لی آخر اس نے کفر کیوں اختیار کیا اگر معنوی حقائق کو سمجھنے کا اہل نہ تھا تو بھی مادری دلائل تو اس کے سامنے تھے ذراغور کرتا اسے ایک نطفے سے بنایامگر نطفے کی تخلیق میں کہاں کہاں سے مادے آسان کردی اور پیدائش سے لے کر موت تک بےشمارنعمتوں سے اسے نوازا پھر موت کی نعمت عطا کی کہ اس کا کیا حال ہوتا لہذا موت کی نعمت عطا کی اور پھر جانوروں کی طرح تلف نہیں کیا بلکہ عزت کے ساتھ خاص لباس میں دفن کرنے کا طریقہ بتایا۔ مسئلہ : مردے کا دفن کرنا واجب ہے۔ اور پھر جب چاہے حشر برپا کردے گا اور انسان کو پھر زندہ فرمائے گا۔ پھر اطاعت وعمل میں اسلامی نظام کی بات ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ جس انسان پر اس قدررحمتیں فرمائیں اسی نے اللہ کے دیے ہوئے نظام حیات پر عمل کرنے سے انکار کردیاذرا اپنے کھانے ہی کو دیکھ لے کہ ایک ایک بندے کا پیٹ بھرنے کے لیے کارگاہ حیات کو اس نے کیسے سجایا ہے کہ بادلوں میں پانی بھر کر کہاں کہاں پہنچاکربرسائے اور زمین کا سینہ پھاڑ کر اناج ، سبزیاں انگور ، زیتون ، غذا بھی ، دوا بھی اور کھجوریں اور بیشمار اقسام کے پھل اور نہ صرف تمہارے لیے بلکہ تمہارے جانوروں کے چارے کے لیے سبزے کا کیا اہتمام فرمایا یاد رکھو آخر ایک روز حشر قائم ہونے والا ہے جس کی چنگھاڑ دلوں کو پھاڑ دے گی اور جس اولاد اور دولت کے لیے انسان نے اللہ کی نافرمانی کی خود اس سے بھاگے گا بھائی سے ماں باپ سے اور بیوی بیٹوں سے ہر شے سے بھاگ کر سب کچھ بھول کر صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوگا اسی روز ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کے چہروں سے خوشیاں ٹپکتی ہوں گی اور ہنستے مسکراتے ہوں گے اور وہ لوگ بھی جن کے چہرے گویا گردآلود ہوں اور اس پر مزید سیاہی بڑھتی جارہی ہوگی یہ لوگ کافر اور فاجر ہوں گے کفر سے مراد عقیدہ کی خرابی اور فجور سے مراد عملا اسلام سے انحراف ہے۔
لغات القرآن الاعمی۔ نابینا۔ اندھا۔ یزکی۔ وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ تنفع۔ نفع دیتی ہے۔ استغنی۔ جو بےپروائی کرتا ہے۔ تصدی۔ تو متوجہ ہوتا ہے۔ تلھی۔ تو منہ پھیرتا ہے۔ تذکرۃ ۔ ایک نصیحت ہے۔ یاد کرنے کی چیز ہے۔ صحف مکرمۃ ۔ عزت والی کتابوں میں ہے۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ ایدی سفرۃ۔ لکھنے والوں کے ہاتھ۔ کرام بررۃ۔ نیک اور بلند مقام والے۔ صببنا۔ ہم نے اوپر سے ڈالا۔ شققنا۔ ہم نے پھاڑا۔ غلب۔ گھنے۔ اب۔ چارہ۔ الصاخۃ۔ زبردست آواز۔ چیخ۔ شان۔ ایسی حالت۔ یغنیہ۔ جو اسے پھنسائے گی۔ مسفرۃ۔ چمکتے دمکتے۔ ضاحکۃ۔ ہنستے ہوئے۔ مستبشرۃ۔ خوشیاں مناتے ہوئے۔ غبرۃ۔ گردوغبار۔ ترھق۔ چھا جائے گی۔ قترۃ۔ سیاہی۔ تاریکی۔ الفجر۔ بدکار۔ گناہ گار تشریح : اللہ کی طرف سے وحی آنے کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دن رات دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے جدوجہد فرمایا کرتے تھے۔ اس عظیم مقصد میں آپ کے شغف اور شوق کا یہ عال تھا جب دشمنان اسلام کی طرف سے شدید مخالفت ہوتی اور دین اسلام اور آپ کی شخسیت پر کیچڑا اچھا جاتا تو آپ کو شدید افسوس ہوا کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ فرمایا کہ ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) “ آپ تو اس غم میں اپنی جان گھلا ڈالیں گے کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتے (سورۃ الکہف) ۔ ارشاد فرمایا گیا کہ آپ صبرو تحمل سے کام لے کر اللہ کا دین ہر شخص تک پہچانے کی جدوجہد کرتے رہیے۔ اللہ جس کو ہدایت دینا چاہے گا اس کو ہدایت دیدی جائے گی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر قبیلے میں تشریف لے جاتے اور دین کی سچائیوں کا اظہار فرماتے۔ آپ کا گمان یہ تھا کہ اگر عرب کے تمام قبیلوں کے سردار دین اسلام کو قبول کرلیں تو پھر دین اسلام کے پھیلنے کی ہر رکاوٹ دور ہوجائے گی۔ چناچہ ایک مرتبہ آپ نے قریش کے تمام سرداروں کو دعوت دی۔ جب وہ آگئے تو آپ نے نہایت موثر انداز سے ان پر اس بات کو ثابت کردیا کہ ان کی اور ساری کائنات کی کامیابی صرف اللہ کا دین اختیار کرنے میں ہے۔ گفتگو اس سطح تک پہنچ گئی تھی جہاں آپ کو اس بات کا کچھ اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید ان قریشی سرداروں میں سے کچھ سردار دین اسلام قبول کرلیں گے کہ اچانک ایک نابینا صحابی حضرت عبد اللہ (رض) ابنام مکتوم (رض) تشریف لے آئے۔ چونکہ نبی کریمو ان کے آنکھوں سے معذور ہونے کی وجہ سے بہت شفقت فرمایا کرتے تھے اس لئے انہوں نے حسب معمول آپ سے آتے ہی عرض کیا ”……“ (ابن جریر۔ ابن ابی حاتم) یعنی اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو اللہ نے جو کچھ سکھایا ہے اس میں سے مجھے بھی سکھا دیجئے۔ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم ان لوگوں میں سے تھے جو مکہ مکرمہ میں بہت پہلے ایمان لا چکے تھے اور ام المومنین حضرت خدیجہ (رض) کے پھوپھی زاد بھائی اور بنو قریش کے معزز لوگوں میں سے تھے چونکہ وہ نابینا (اندھے ) تھے تو انہیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ آپ اس وقت بنو قریش کے سرداروں سے کلام فرما رہے ہیں جن کے اسلام قبول کرنے سے سارے عرب میں ایک عظیم انقلاب آجانے کا امکان تھا۔ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اس وقت آپ کا جذبہ تبلیگ دین کس قدر عروج پر ہوگا۔ عین اسی وقت حضرت ابن ام مکتوم کا آکر سوال کرنا آپ کو اچھا نہیں لگا۔ آپ نے شفقت سے فرمایا کہ عبد اللہ بیٹھو میں ابھی بتاتا ہوں مگر کچھ دیر بعد انہوں نے پھر وہی سوال کیا اور کئی مرتبہ کیا تو آپ کی پیشانی پر کچھ بل پڑگئے اور آپ کو ناگوار گزرا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دینے کے بجائے منہ پھیرلیا۔ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم یہ سمجھے ہوں گے شاید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سے کسی بات پر ناراض ہیں وہ کچھ دیر اتنظار کرکے اپنے گھر تشریف لے گئے۔ ادھر قریشی سرداروں نے آپ کی باتیں سنیں اور پہلے کی طرح دامن جھاڑ کر اٹھ گئے اور اپنے گھروں کو چل دئیے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بات پر بہت خوش تھے کہ قریش کے سرداروں تک آپ نے اللہ کے دین کی دعوت پہنچا دی ہے جو کسی طرح بھی آپ کی بات سننے کے لئے تیار نہ تھے۔ اس واقعہ کو بہت دیر نہ گزری تھی کہ آپ پر سورٔ عبس کی آیات نازل ہونا شروع ہوئیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک اصولی بات کی طرف متوجہ فرمایا۔ ارشاد ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے اپنی پیشانی پر بل ڈال لئے، ناگوار محسوس کیا اور منہ پھیرلیا اس بات سے کہ آپ کے پاس ایک نابینا (اندھا) آگیا تھا آپ کو کیا معلوم کہ وہ آپ کی بات سن کر اپنا تزکیہ کرلیتا ( اپنے دل کو مانجھ لیتا) یا وہ اس سے کوئی فائدہ ہی اٹھا لیتا۔ جو شخص دین کی سچائیوں کو سن کر بھی بےنیازی اور بےرخی برت رہا ہے آپ اس کی طرف تو جھکے چلے جا رہے ہیں حالانکہ اس کو سنوارنے اور ہدایت دینے کی ذمہ داری آپ کی نہیں ہے ہدایت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اور وہ شکص جو اپنے دل میں اللہ کا خوف لئے آپ کے پاس دوڑا ہوا چلا آرہا ہے آپ اس سے منہ پھر رہے ہیں اور اس کی پرواہ نہیں کر رہے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ یہ قرآن تو سراسر ہدایت اور نصیحت ہے۔ یہ وہ قرآن ہے جو محرم صحیفوں میں بلند اور مقدس مقام رکھنے والا ہے وہ ایسے لکھنے والے ہاتھوں میں ہے جو نہایت نیک اور پاکیزہ ہیں۔ اب جس کا دل چاہے اس کلام پر ایمان لانے کی سعادت حاصل کرلے۔ اللہ نے کائنات میں جو بیشمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان میں سے یہ قرآن ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی اور ان نعمتوں کی آدمی کو قدر کرنا چاہیے جو اس کے چاروں طرف قدرت نے بکھیر رکھی ہیں۔ لیکن انسان ان نعمتوں کے باوجود ناشکرا پن کرکے اپنی بدبختیوں اور بد نصیبیوں میں لگا رہتا ہے۔ وہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اس کی پیدائش ناپاک پانی کے ایک قطرے سے ہوئی ہے۔ وہ پانی کا قطرہ (نطفہ) جب تک اللہ نے چاہا ماں کے پیٹ میں پرورش کراتا اور بڑھاتا رہا جب اس کے تمام اعضائے بن گئے اور اس نے انسانی شکل اختیار کرلی اور وہ کئی پونڈ کا ہوگیا تو تنگ راستہ ہونے کے باوجود اللہ اس کو کس طرح اس دنیا میں لے آیا کہ وہ اس دنیا میں بھی آگیا اور اس سے اس کی ماں کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس نعمت پر تو اس کو اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے تھا گر وہ اس پر غور ہی نہیں کرتا اور اللہ کی ناشکری میں لگا رہتا ہے۔ فرمایا کہ کبھی انسان نے اس بات پر بھی غور کیا کہ دنیا میں آنے کے بعد وہ اللہ کی کتنی نعمتوں سے فائدے حاصل کرتا ہے۔ دنیا میں رہتا اور بستا ہے جتنی اس کی زندگی کے لمحات ہیں ان کو گزار کر آخر کار موت کی آغوش میں جا کر سو رہتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ جب چاہیں گے اس کو قیامت کے دن زندہ کرکے اٹھا لیں گے اور پھر زندگی بھر کئے ہوئے کاموں کا حساب لے کر اس کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دیدیں گے۔ فرمایا کہ آدمی کو ان نعمتوں پر غور کرنا چاہیے جو کھانے، پینے کی چیزیں اور اسباب پیدا کئے گئے ہیں مثلاً اللہ بلندی سے پانی برستا ہے جو زمین پر برستا ہے۔ اللہ نے اس زمین کو ایسا نرم اور کھیتی کے قابل بنا دیا ہے کہ اس میں دانہ، غلہ، انگور، ترکاریاں، زیتون، کھجور، گھنے گنجان باغات، پھل وغیرہ پیدا ہوتے ہیں جو انسانی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ اس کی قدرت یہ ہے کہ اس نے غذائیں اس طرح بنائیں کہ وہ انسان کے کام آتی ہیں ان سے بچے ہوئے بھوسے اور چھلکے جانورون کی غذا بن جاتے ہیں یعنی غذا انسان کھاتا ہے اور اس کا بھوسا جانور کھاتے ہیں۔ پھل اور فروت انسان کھاتا ہے اور ان کے پتے اور چھلکے جانوروں کی غا بنا دی گئی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ اس وقت تک کے لئے ہے جب تک کانوں کو پھاڑ دینے والی چیز یعنی صور نہیں پھوناک جاتا۔ جب صور پھونکا جائے گا تو انسان اور اس کائنات کی ہر چیز فنا کردی جائے گی۔ دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو اللہ کی ساری مخلوق زندہ ہر کر میدان حشر میں جمع ہوجائے گی۔ یہ ایسا دن ہوگا جب ہر شخص کو اپنے سوا دوسرے کا ہوش تک نہ ہوگا۔ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہوگی کوئی کسی کے کام نہ آئے گا۔ دنیا میں محبت کے وہ رشتے جو ایک دوسرے کے کام آتے ہیں وہاں کام نہ آئیں گے ۔ بھائی بھائی سے بھاگے گا، شفقت و محبت کرنے والی ماں، اولاد کے ہر دکھ کو اٹھان والا باپ، زندگی بھر ساتھ دینے والی بیوی اور اس کی اپنی اولاد ایک دوسرے سے بھاگیں گے۔ وہاں کام آنے والی چیز انسان کے نیک اور بہتر اعمال ہی ہوں گے جو اس کے کام آئیں گے۔ چناچہ اس دن بعض چہرے تو خوشی اور مسرت سے چمک دمک رہے ہوں گے لیکن کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کے چہروں پر خاک اڑ رہی ہوگی ان کے چہرے اس طرح سیاہ پڑجائیں گے جیسے کوئی دور دے گردوغبار میں اٹا چلا آرہا ہے۔ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ یقینا یہ وہی لوگ ہوں گے جو زندگی بھر اللہ و رسول کا انکار کرتے رہے ہوں گے اور جو برے اعمال کرتے رہے ہوں گے۔ ان آیات سے متعلق چند باتیں۔ 1۔ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوب نابینا تھے مگر دین سیکھنے بہت دور سے آتے تھے۔ وہ یہ سمجھ کر اپنے گھر تشریف لے گئے کہ شاید میرے آقا مجھ سے ناراض ہیں۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو آپو فوراً اٹھے اور حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم کے گھر تشریف لے گئے اور ان کو ساتھ لے کر واپس آئے۔ آپ نے اپنی چادر مبارک بچھا دی اور فرمایا کہ عبد اللہ اس پر بیٹھو۔ حکم کی تعمیل میں حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم بیٹھ گئے پھر آپ نے شفقت سے فرمایا کہ اب تم پوچھو میں تمہارے ہر سوال کا جواب دوں گا۔ اس واقعہ کے بعد آپ کی شفقت و محبت میں اور بھی اضافہ ہوگیا اور جب بھی حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم تشریف لاتے تو سردار انبیاء حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اپنے پاس اپنی چادر پر بٹھایا کرتے تھے۔ 2۔ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم کا پورا نام عبد اللہ ابن شریح ابن مالک ابن ربعہ زھری تھا۔ مکتوم اس شخص کو کہتے ہیں جو آنکھوں سے محروم ہر چونکہ وہ اندھے تھے اس لئے ان کی والدہ کو ” ام مکتوم “ (نابینا کی ماں) کہا جاتا تھا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ نے سفر پر جاتے ہوئے مسجد نبوی میں اپنی جگہ حضرت عبد اللہ ابن ام مکتوم کو امام مقرر فرمایا۔ جنگ قادسیہ کے موقع پر وہ بھی نابینا ہونے کے باوجود جہاد میں شریک ہوئے اور اسی جنگ میں آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ 3۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی تعلیم دی ہے کہ اہل ایمان مسلمانوں کی اصلاح و تربیت کرکے ان کو سچا پکا مسلمان بنانا غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کی فکر سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے بعض حضرات کو دیکھا ہے کہ وہ اس کی فکر تو بہت کرتے ہیں کہ فلاں بات کو اس طرح ہونا چاہیے تاکہ غیر مسلم اس پر اعتراض نہ کریں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمیں غیر مسلموں میں تبلیغ کی زیادہ ضرورت ہے جو مسلمان ہیں ان کے درمیان تبلیغ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تصور بنیادی طور پر غلط ہے کیونکہ ہمیں غیر مسلموں کی فکر تو ہونی چاہیے مگر اپنی ساری صلاحیتوں کو اسی پر لگانا نہیں چاہیے۔ آج دنیا میں مسلمانوں کی تعداد دو سو کروڑ کے قریب ہے ان کی اپنی پچاس ساٹھ حکومتیں اور سلطنتیں ہیں۔ اگر ان پر محنت کی جائے اور ان کو سچا پکا مومن بنا لیا جائے تو آپ دیکھیں کے کہ ساری دنیا ان کے قدموں پر جھکنے کے لئے مجبور ہوجائے گی۔ ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم اسلام کا نام تو لیتے ہیں مگر دنیا ہم پر اس طرح غالب آچکی ہے کہ ہم اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود ساری دنیا میں ذلیل و رسوا ہو کر رہ گئے ہیں۔
4۔ شدید الکفر لوگوں کی ہدایت میں جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اہتمام اور کاوش فرمانے سے کوفت ہوتی تھی حتی کہ ایک بار اسی بناء پر ایک نابینا صحابی کا ایسے موقع پر آکر بولنا موجب کلفت ہوا تھا اس لئے شروع سورت میں ایک محبوبانہ انداز کے ساتھ جس کو لوگ عتاب کہتے ہیں اس قدر اہتمام سے نہی اور طالبنا صادق کے حال پر توجہ فرمانے کا امر فرماتے ہیں۔
فہم القرآن ربط سورت : النّازعات کے آخر میں بتلایا ہے کہ قیامت کے دن مجرم محسوس کریں گے کہ ہم دنیا میں چند گھڑیاں ٹھہرے تھے۔ آخرت کے انکار کے پیچھے دنیا کا مفاد اور عجلت پسندی کا عنصر شامل ہوتا ہے اس لیے سورة عبس میں ایک مخصوص واقعہ کی طرف اشارہ فرما کر عجلت پسندی سے منع کیا گیا ہے۔ تمام مفسرین نے اس سورت کے نازل ہونے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک دن سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں چند قریشی سردار حاضر ہو کر آپ سے اسلام کے بارے میں گفتگو کررہے تھے اسی دوران حضرت عبداللہ بن ام مکتوم (رض) آئے اور انہوں نے آپ کی گفتگو میں مداخلت شروع کردی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناصرف بےتوجہگی اختیار کی بلکہ اس مداخلت کو ناپسند بھی فرمایا۔ آپ کی بےتوجہگی کے دواسباب تھے۔ ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش کے سرداروں کے ساتھ محو گفتگو تھے حضرت ابن مکتوم نے انتظار کیے بغیر آپ کی خدمت میں سوال کر ڈالا جس وجہ سے آپ کے چہرے پر کچھ ناگواری کے اثرات ظاہر ہوئے۔ ٢۔ آپ کی ناگواری کی دوسری وجہ یہ تھی کہ قریشی سردار بہانہ بنائے ہوئے تھے کہ ہم آپ کی مجلس میں اپنے سے کم درجہ لوگوں کے برابر نہیں بیٹھ سکتے لہٰذا ہم آئیں تو کوئی دوسرا نہیں ہونا چاہیے۔ ان دو وجوہات کی وجہ سے آپ نے ابن ام مکتوم (رض) کی آمد کو ناگوار سمجھا جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو توجہ دلانے کے لیے یہ انداز اختیار فرمایا۔ ” ماتھے پر شکن ڈالی اور چہرہ پھیرلیا کہ ایک اندھا اس کے پاس آیا۔ آپ کو کیا معلوم ! شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر توجہ دے اور نصیحت اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ جو شخص بےپروائی کرتا ہے۔ اس کی طرف آپ توجہ کرتے ہیں وہ نہیں سدھرتا تو آپ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں جو خود آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے اور ڈرنے والا ہے اس سے آپ بےرخی کرتے ہیں۔ “ (عبس : ١ تا ١٠) اس ارشاد سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دین کے داعی کو ایک بنیادی اصول بتلایا ہے جسے اپنانے سے نہ صرف دین کی عظمت دوچند ہوتی ہے بلکہ اس سے داعی کے وقار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ جس اصول کی یہاں نشاندہی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ بیشک دین کے داعی کو ہر وقت اس کوشش میں لگے رہنا چاہیے کہ لوگ دین کی طرف آئیں لیکن اس کے ذہن میں یہ بات بھی رہنی چاہیے کہ دین ایک گراں قدر نعمت ہے لہٰذا اسے باوقار انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے جو اس نعمت کو حقیر سمجھتے ہوں ان پر ابلاغ کی حجّت پوری کرنے کے بعد داعی کو ایسے لوگوں سے بےنیاز ہوجانا چاہیے۔ ان کے مقابلے میں ان لوگوں کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے جو دین کی باتوں پر غور و فکر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو کفر و شرک اور ہر قسم کی گندگی سے بچانا چاہتے ہیں اور اپنے رب کی نصیحت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ قرآن تو نصیحت ہے اس لیے جس کا دل چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے اور جو نہیں چاہتا وہ اپنے آپ کو گمراہی کے حوالے کیے رکھے۔ اس سورت کی پہلی دو آیات میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا اور اس نے تیوری چڑھائی اور چہرہ پھیرلیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن مکتوم (رض) کے نابینا ہونے کی وجہ سے اس سے اعراض کیا تھا۔ یہ بات ناقابل اعتماد ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہایت ہی کریمانہ اخلاق کے مالک تھے اور آپ سے زیادہ کون معذوروں اور غریبوں کا ہمدرد تھا ؟ آپ نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم (رض) کے نابینا ہونے کی وجہ سے اعراض نہیں کیا بلکہ ابن مکتوم (رض) نے انتظار کیے بغیر آپ سے سوال کرڈالا جو مجلس کے آداب کے خلاف تھا اسی وجہ سے یہاں آپ کو توجہ دلانے کے لیے مخاطب کی ضمیر استعمال نہیں کی گئی تاکہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں کوئی شخص حرف گیر نہ ہوسکے۔
یہ ہدایات جو اس متعین واقعہ کے حوالے سے دی گئی ہیں بہت ہی اہم ہدایات ہیں ، بادی النظر میں انسان ان کو پڑھ کر جو کچھ سمجھتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ یہ ایک معجزہ ہے ، یہ ایک حقیقت ہے جسے اس کرہ ارض پر ایک زندہ اور عملی حقیقت بنایا گیا ہے۔ یہ ایک عظیم معجزہ ہے۔ انسانی زندگی کو اس معجزے نے یکسر بدل دیا۔ اور یہ اسلام کا پہلا اور نمایاں معجزہ تھا۔ یہ ہدایات اگرچہ بظاہر ایک معمولی انفرادی اور جزوی واقعہ کے حوالے سے آئی ہیں لیکن اس سے ان کی اہمیت کم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ قرآن کریم کا ایک ربانی انداز ہے کہ وہ ایک لامحدود اور نہایت ہی گہری اور تمام حقیقت ایک محدود اور ظاہری واقعہ کے ضمن میں بیان کردیتا ہے۔ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو جو حقیقت یہاں ان ہدایات میں ذہن نشین کرائی جارہی ہے اور اس کے نتیجے میں اسلامی معاشرے کے اندر جو عملی نتائج پیدا ہورہے ہیں وہ تو عین اسلام ہے۔ یہی اسلام ہے جو ہر آسمانی رسالت نے پیدا کیا ، اور اس کا پودا زمین کے اندر لگایا۔ یہ گہری حقیقت جو ان ہدایات کے ضمن میں بیان کی گئی ہے۔ محض یہ نہیں ہے کہ معاشرے کے افراد کے ساتھ برتاﺅ کس طرح ہو ، غرباء کے ساتھ کیا ہو اور امراء کے ساتھ کس طرح ہو ، جیسا کہ بظاہر اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت اس سے ذرا گہری ہے ، بہت بڑی ہے۔ وہ یہ ہے کہ معاملات کے وزن اور قدر کا اسلامی پیمانہ کیا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی قدریں اور پیمانے کہاں سے لینے ہیں۔ ان ہدایات کے ذریعہ جس حقیقت کو استقلال بخشا گیا ہے کہ لوگوں کو اپنی اقدار صرف آسمانی حوالوں سے اخذ کرنی ہیں۔ ان کے پیمانے آسمان سے متعین ہوکر آئیں ، زمین اور اہل زمین کے ہاں کیا کچھ رائج ہے۔ یہ اسلامی نظروں میں کچھ نہیں ہے ، اہل دنیا کی اقدار کیا ہیں۔ یہ اسلامی نگاہ میں غیر متعلق بات ہے۔ اب معلوم ہوگا کہ یہ تو ایک عظیم معاملہ ہے اور اس کرہ ارض پر اس معیار کو قائم کرنا مشکل کام ہے۔ زمین کے اوپر زمین کے لوگ وہ قدریں اور پیمانے آسمان سے اخذ کریں جن کے اوپر زمین اور اہل زمین کی کوئی چھاپ نہ ہو ، اور زمین کے رواج اور حوالوں سے وہ خالی ہوں یہ فی الحقیقت ایک عظیم امر ہے۔ ان ہدایات کی عظمت اور ان کی عملی مشکلات کا اندازہ تب ہوتا ہے جب ہم انسان کی پیچیدہ عملی زندگی کا گہرا مطالعہ کریں اور یہ اندازہ کریں کہ انسانی نفس ، انسانی شعور پر ان کا دباﺅ کیا ہوتا ہے۔ انسان کے لئے واقعی حالات ، زندگی کے دباﺅ اور پریشر ، لوگوں کے خاندانی اور معاشی روابط کے بندھنوں سے نکلنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ انسان کی موروثی قدریں ، تاریخی روایات اور تمام دوسری قدریں جو اسے زمین کے ساتھ مضبوطی سے باندھ رہی ہوتی ہیں اور جن کا دباﺅ نفس انسانی پر بہت سخت ہوتا ہے۔ اور یہ معاملہ اس وقت بھی عظیم اور مشکل نظر آتا ہے ، جب ایک انسان دیکھتا ہے کہ اس مسئلے پر سرور کونین کو بھی اللہ کی طرف سے ہدایات کی ضرورت پیش آئی بلکہ یہ ہدایات سخت عتاب کی شکل میں دی گئیں اور آپ کے طرز عمل پر بارگاہ رب العزت کی طرف سے تعجب کا اظہار کیا گیا۔ کسی معاملے کی عظمت اور اس کے مشکل الحصول ہونے کے لئے صرف یہ کہنا ہی کافی ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت پیش آئی اور آپ کو ہدایت دی گئی اور تنبیہہ کی گئی کہ آپ کو یہ اعلیٰ معیار قائم کرنا ہے۔ یہ اس لئے کہ آپ کی عظمت ، آپ کی بلندی اور رفعت اس بات کی دلیل ہے کہ اگر آپ کو بھی اس معاملے کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے تو یہ معاملہ فی الواقع بہت عظیم اور یہ معیار مشکل الحصول ہے۔ یہ ہے اس معاملے کی اہمیت اور حقیقت ، جسے اللہ تعالیٰ زمین کے اوپر ایک واقعہ اور حقیقت نفس الامری کے طور پر اس انفرادی واقعہ کی صورت میں ، ایک مثال ، معیار اور ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا تاکہ لوگ اس میزان اور معیار کے مطابق اپنا طرز عمل درست کریں۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسوہ ، نمونہ اور عملی زندگی سے اپنے لئے میزان اور معیار اخذ کریں۔ یوں یہ واقعہ اور یہ ہدف ایک عظیم ہدف بن جاتا ہے۔ قرآن وسنت دراصل وہ پیمانہ ہے جسے اللہ نے رسولوں کو عطا کیا ، ان پر نازل کیا تاکہ لوگ ان کے مطابق اپنے اعمال اور طرز عمل کو درست کریں ، اس سلسلے میں یہ میزان کیا ہے ؟ یہ ہے۔ ان اکرمکم ................ اتقکم ” تم میں سے معزز اللہ کے نزدیک ، وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے “۔ بس یہی وہ وزن ہے جس کے مطابق کسی کا پلڑا بھاری ہوگا اور کسی کا ہلکا ہوگا۔ اور یہ خالص آسمانی قدروقیمت ہے۔ آسمانی پیمانہ ہے اور اس کا زمین کے حالات وروایات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن لوگ تو اس زمین پر رہتے ہیں اور یہاں ان کے درمیان قسم قسم کے روابط ہیں۔ ہر رباطے کا ایک وزن ، ایک دباﺅ اور ایک کشش ہے۔ ان کی اقدار مختلف ہوتی ہیں۔ نسب ، قوت ، مال اور ان تینوں کی بنیاد پر قائم ہونے والے روابط ومفادات ، اقتصادی اور غیر اقتصادی روابط جن میں بعض لوگوں کے حالات دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ نسب ، مال اور قوت کے لحاظ سے اس زمین پر بعض لوگوں کا وزن زیادہ اور بعض کا کم ہوتا ہے۔ جب اسلام آتا ہے ، تو اس کا اعلان یہ ہوتا ہے۔ ان اکرمکم ........................ اتقکم ” تم میں سے معزز اللہ کے نزدیک ، وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے “۔ تو وہ ان تمام روابط ، اقدار اور تعلقات سے صرف نظر کرلیتا ہے۔ حالانکہ ان چیزوں کا ان کی عقلیت اور شعور پر دباﺅ ہوتا ہے۔ ان میں جاذبیت ہوتی ہے۔ انسانوں کے فہم و شعور میں اس کی گہری جڑیں ہوتی ہیں۔ اسلام ان تمام چیزوں کو بدل کر انسانوں کو آسمانی قدریں دیتا ہے اور یہ آسمانی قدریں اور پیمانے صرف ایک معیار کو تسلیم کرتے ہیں کہ جو متقی ہے وہ مکرم ہے اور بس۔ ایک واقعہ ، جزئی اور متعین واقعہ پیش آتا ہے اور اس کے ضمن میں یہ اصول اور یہ بنیادی قدر متعین ہوجاتی ہے کہ یہ آسمان سے نازل شدہ پیمانہ اور یہ قدر و قیمت آسمانوں سے مقرر ہوئی ہے۔ امت مسلمہ کا فریضہ یہ ہے کہ لوگ ہر اس چیز کو ترک کردیں جو لوگوں کے ہاں عرف اور متعارف ہو ، جو زمینی تصورات ، زمینی اقدار اور عرف پر مبنی ہو ، اور صرف ان قدروں اور پیمانوں کو اپنائیں جو آسمان سے نازل ہوں۔ ایک فقیر اور اندھا آتا ہے۔ نام عبداللہ ابن ام مکتوم ہے۔ یہ رسول اللہ کے ہاں آتا ہے تو آپ قریش کے سرداروں سے محوگفتگو ہیں۔ ان کو دعوت دین ہی دی جارہی ہے۔ عتبہ ، شیبہ ، یہ دونوں سردار ربیعہ کے مشہور بیٹے ہیں۔ ابوجہل (عمر ابن ہشام) امیہ ابن خلف ، ولید ابن مغیرہ اور عباس ابن عبدالمطلب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ حضور کو یہ امید ہے کہ ان لوگوں کا اسلام اس وقت تحریک کی مشہلات میں کمی کردے گا۔ کارکنوں پر مظالم ہورہے تھے اور یہ چند افراد اپنے مالی ، جانی اور سیاسی حیثیت کے تمام وسائل کو اسلام کی راہ روکنے کے کام میں جھونک رہے تھے۔ اور لوگوں کو اسلام کی راہ سے روک رہے تھے۔ اور وہ اسلام کے خلاف ہر سازش کررہے تھے کہ اسے مکہ کے اندر ہی منجمد کرکے رکھ دیں جبکہ دوسری اقوام مکہ سے باہر غیر جانب دار کھڑی تھیں اور باہر کی اقوام اس دعوت کو اس لئے قبول نہیں کررہی تھی کہ خود اہل مکہ اس کی راہ روکنے کے لئے کھڑے تھے۔ سخت مخالفت کررہے تھے ، اور اس وقت کے قبائل نظام میں اگر کوئی قبیلہ بھی کسی سردار کی بات کو مان کر نہیں دیتا تو اس کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی۔ یہ فقیر اندھا شخص حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتا ہے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اکابر قریش کے ساتھ مصروف ہیں۔ اپنے کسی ذاتی معاملے میں نہیں ، کسی ذاتی مفاد میں نہیں بلکہ دعوت اسلام کے کام اور مفاد میں مصروف گفتگو ہیں۔ اگر یہ لوگ مسلمان ہوجاتے ہیں تو مکہ میں دعوت اسلامی کے راستے سے تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں۔ اور اس کی راہ سے تمام نوکدار کانٹے چنے جاتے ہیں اور اسلام مکہ کے اردگرد کے علاقوں میں بھی پھیل جاتا ہے۔ کیونکہ ان اکابر کے اسلام لانے کے بعداسلام تیزی سے پھیل جاتا۔ یہ صاحب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس حال میں آتے ہیں اور کہتے ہیں حضور مجھے اس علم میں سے کچھ پڑھائیے جو اللہ نے آپ کو دیا ہے۔ وہ بار بار اس بات کی تکرار کرتے ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ حضور مصروف ہیں تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ان فعل اور ان کی اس بات کو پسند نہیں کرتے اور آپ کے چہرے پر کراہت کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور یہ شخص ان آثار کو نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ آپ ترش روئی اختیار کرتے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں کیونکہ یہ شخص آپ کو ایک نہایت اہم معاملے سے روک رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس لئے اہم ہے کہ اگر یہ کام ہوجاتا تو دعوت اسلامی کو بہت فائدہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ کام آپ دین اسلام کے فائدے اور مدد کے لئے کررہے ہیں ، خالص دینی فائدے کے لئے۔ اسلام کی مصلحت کی خاطر اور اسلام کے پھیلانے کی چاہت کے جذبے سے۔ لیکن آسمانوں سے مداخلت ہوتی ہے۔ سا لئے مداخلت ہوتی ہے کہ اس موضوع پر فیصلہ کن بات کردی جائے تاکہ دعوت اسلامی کے طریق کار میں کچھ نشانات راہ رکھ دیئے جائیں اور وہ ترازو قائم کردیا جائے جس سر اسلامی نقطہ نظر سے اقدار کو تولا جائے گا۔ اور اس کے مقابلے میں تمام حالات اور تمام مقاصد ترک کردیئے جائیں گے یہاں تک کہ خود اللہ کے دین کی مصلحت کو بھی نظرانداز کردیا جائے گا۔ اگر چہ انسان اس معیار کے خلاف کسی چیز کو دعوت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہوں۔ بلکہ اگرچہ سید البشر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی ایسی چیز کو دعوت اسلامی کے لئے مفید سمجھتے ہوں۔ چناچہ عالم بالا سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے عتاب آتا ہے اور نبی کریم تو خلق عظیم کے مالک ہیں اور محبوب رب العالمین ہیں لیکن یہ عتاب نہایت ہی شدید اسلوب میں آتا ہے۔ پورے قرآن میں اس قسم کے سخت عتاب کی یہ واحد مثال ہے جس میں لفظ کلا استعمال ہوا ہے جو سختی سے تردید کے لئے آتا ہے اور جھڑکی کے موقعہ پر استعمال ہوتا ہے اور یہ اس لئے کہ یہ میزان وہ ہے جس کے اوپر پورا دین قائم ہے۔ جس اسلوب اور انداز میں یہ عتاب فرمایا گیا ہے وہ ایک منفرد انداز ہے۔ انسانی اسلیب اس کی نقل یا ترجمانی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انسانی تحریر کی زبان کی کچھ حدود ہیں اور کچھ طریقے ہیں۔ انسانی اسلوب تحریر میں ایسے گرم اور سخت اشارات نہیں سموئے جاسکتے جو زندہ وتابندہ ہوں۔ یہ قرآن کریم کا اعجازی انداز گفتگو ہے جو اس قسم کے اشارے چند مختصر الفاظ میں کردے اور عتاب کی ایک جھلک سی دکھادے۔ ایسے انداز میں کہ گویا وہ نہایت ہی تیز تاثرات ہیں ، زندہ صورت میں ہیں ، مخصوص اثر اور انداز رکھتے ہیں۔ عبس .................... الاعمی (2:80) ” ترش رو ہوا اور بےرخی برتی اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا “۔ یہ گفتگو اس انداز کی ہے کہ گویا ایک غیر موجود اور غائب شخص کے بارے میں بات ہورہی ہے اور وہ مخاطب نہیں ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے ، بات اللہ کے نزدیک بڑی ناپسندیدہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے مناسب نہ سمجھا کہ اس کا تذکرہ اپنے نبی اور محبوب کو براہ راست خطاب کرکے کرے۔ یہ اس لئے کہ آپ اللہ کو بہت محبوب ہیں اور اللہ آپ کا اکرام فرماتا ہے اور براہ راست خطاب نہیں فرمارہا کہ تم نے ایسا کیا۔ کیونکہ بات بڑی ناپسندیدہ ہے۔ اس کے بعد بات کا انداز بدلتا ہے۔ اصل بات کا تذکرہ کیے بغیر آپ سے خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ اور خطاب بات کو یوں شروع کیا جاتا ہے۔
حضرت ابن ام مکتوم (رض) ایک صحابی تھے، جو نابینا تھے ان کا نام عبداللہ بن ام مکتوم معروف و مشہور ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام عمرو تھا اور والد کا نام قیس تھا، وہ مہاجرین اولین میں سے تھے۔ مشہور قول کے مطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہجرت فرمانے سے پہلے مدینہ منورہ میں ہجرت کر کے آگئے تھے، ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ مشرکین کے سرداروں میں سے بعض لوگ موجود تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے باتیں کر رہے تھے اور اسلام کی تبلیغ فرما رہے تھے، اسی اثناء میں حضرت ابن ام مکتوم حاضر خدمت ہوگئے (چونکہ وہ نابینا تھے اس لیے انہیں آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مشغولیت کا پتہ نہ چلا) اور بار بار عرض کرتے رہے کہ مجھے بھی کچھ سکھا دیجئے، آپ کو اس وقت ان کا آجانا اچھا نہ لگا کیونکہ وہ گفتگو کے درمیان بیچ میں آگئے جس سے ایسی صورت حال پیدا ہوگئی کہ ان کا جواب دیں تو حاضرین سے جو بات ہو رہی تھی وہ کٹ جاتی، آپ نے ابن ام مکتوم کی طرف سے اعراض فرمایا اور سرداران قریش میں سے جس سے بات ہو رہی تھی اس کی طرف متوجہ رہے آپ کے خیال مبارک میں یہ بات تھی کہ یہ تو اپنا ہی آدمی ہے کبھی بھی میرے پاس آسکتا ہے اور سوال کرسکتا ہے لیکن ان قریش کے سرداروں میں سے کوئی شخص اسلام قبول کرلے تو سارے قریش پر اس کا اثر پڑے گا اور اس کا فائدہ زیادہ ہوگا، اس وقت ابن ام مکتوم پر توجہ دیتا ہوں تو یہ لوگ یوں کہیں گے کہ ان کے ساتھی یہ ہی نابینا اور نیچے درجہ کے لوگ (غلام باندی) ہیں۔ سنن ترمذی میں یوں ہے کہ وعند رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رجل من عظماء المشرکین۔ لیکن معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جس وقت ابن مکتوم حاضر ہوئے اس وقت آپ کی خدمت میں عتبہ بن ربیعہ اور ابو جہل اور عباس بن عبدالمطلب اور ابی بن خلف اور امیہ بن خلف موجود تھے۔ اور تفسیر بیضاوی میں ہے وعندہ صنادید قریش کہ آپ کے پاس سرداران قریش موجود تھے۔ بہرحال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وقت ابن ام مکتوم کا آنا اور بات کرنا ناگوار ہوا اور اس کا اثر چہرہ انور پر ظاہر ہوا، اس پر اللہ جل شانہ نے عتاب فرمایا اور سورة ٴ عبس نازل فرمائی، ارشاد فرمایا ﴿ عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤىۙ٠٠١﴾ (منہ بنایا اور روگردانی کی) ﴿ اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰىؕ٠٠٢﴾ (یعنی رخ پھیرلیا اس وجہ سے کہ ان کے پاس نابینا آگیا) پہلے تو غائب کا صیغہ استعمال فرمایا اس میں آپ کا اکرام ہے۔ پھر صیغہ خطاب ارشاد فرمایا :﴿ وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤىۙ٠٠٣﴾ (اور آپ کو کیا خبر شاید وہ سنور جاتا) ۔ ﴿ اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰىؕ٠٠٤﴾ (یا وہ نصیحت قبول کرتا سو نصیحت اسے فائدہ دیتی) یعنی وہ نابینا جو آیا وہ پہلے سے مومن تھا اس نے آپ سے دینی باتیں معلوم کرنا چاہیں آپ اسے کچھ بتاتے سمجھاتے تو وہ اپنی حالت کو سنوار لیتا اور نصیحت حاصل کرتا اور اسے کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچتا۔ آپ کو اس کے سنورنے اور سدھرنے اور نصیحت سے نفع حاصل کرنے کی امید رکھنا چاہیے۔ لفظ لعل جو ترجی کے لیے آتا ہے اسی مفہوم کے ظاہر کرنے کے لیے استعمال فرمایا۔ ﴿اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰىۙ٠٠٥ فَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰىؕ٠٠٦﴾ (لیکن جس نے بےپروائی کی اس کے لیے آپ پیش آجاتے ہیں) ۔
2:۔ ” عبس وتولی “ تنبیہ برائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صنادید قریش عتبہ، شیبہ، ابو جہل، میہ اور ولید وغیرھم بیٹھے تھے آپ ان کو سمجھا رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ آپ کو امید تھی کہ اگر یہ لوگ اسلام لے آئے تو ان کی وجہ سے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اسی اثناء میں حضرت عبداللہ یا عمرو بن ام مکتوم (رض) جو ایک نابینا صحابی تھے اور حضرت خدیجہ (رض) کے ماموں زاد بھائی تھے، آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ چونکہ نابینا تھے اس لیے آپ کی اس نہایت ہی اہم مصروفیت کا اندازہ نہ کرسکے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن پڑھانے کی بار بار درخواست کرنے لگے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی بلکہ ان کی اس حرکت کو ناپسند فرمایا۔ اور چہرے سے ایک مخصوص کیفیت سے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور ان کی طرف سے رخ موڑ لیا، مگر اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند ہوئی اور آپ کو تنبیہ فرمائی۔ ضمائر غائب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کنایہ ہیں۔ ترشروئی کی اور منہ پھیرلیا اس لیے کہ آپ کے پاس ایک نابینا آگیا۔ اس نابینا سے آپ کے اعراض میں بھی رضائے الٰہی کا جذبہ مضمر تھا اور یہ اعراض کبر و نفرت کی وجہ سے نہ تھا۔ آپ نے خیال فرمایا کہ یہ نابینا تو مخلص مومن ہے اور اسے ذرا ٹھہر کر بھی پڑھایا جاسکتا ہے لیکن صنادید قریش کو شاید اس طرح سمجھانے کا موقع پھر ہاتھ نہ لگ سکے نیز اگر وہ سمجھ گئے تو ان کی وجہ سے ہزاروں لوگ مسلمان ہوجائیں گے۔