Surat Abas

Surah: 80

Verse: 2

سورة عبس

اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی ؕ﴿۲﴾

Because there came to him the blind man, [interrupting].

۔ ( صرف اس لئے ) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اشراف قریش بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ابن ام مکثوم جو نابینا تھے، تشریف لے آئے اور آ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دین کی باتیں پوچھنے لگے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر کچھ ناگواری محسوس کی اور کچھ بےتوجہی سی برتی۔ چناچہ تنبیہ کے طور پر ان آیات کا نزول ہوا (ترندی، تفسیر سورة عبس)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] یعنی پیغمبر نے ایک اندھے کے آنے پر چیں بجبیں ہو کر منہ پھیرلیا۔ حالانکہ آپ کو اندھے کی معذوری، شکستہ حالی اور طلب صادق کا زیادہ لحاظ رکھنا چاہیے تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(ان جآہ الاعمی :(اس لئے تیوری چڑھائی) کہ اس کے پاس نابینا آیا، حالانکہ نابینا تو زیادہ لطف و کرم کا مستحق تھا۔ پھر اگر اس کے دین کی بات پوچھنے سے کسی چودھری کیساتھ کلام قطع ہوا ہے، جس کے اسلام لانے کی آپ کو امید تھی اور اس وجہ سے تیوری پڑی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ؟ وہ تو نابینا ہے، اسے کیا پتا کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَنْ جَاۗءَہُ الْاَعْمٰى۝ ٢ ۭ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ عمی العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ( ع م ی ) العمی ٰ یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا آیا ۔ میں الاعمیٰ سے مراد بصارت کا اندھا ہے مگر جہاں کہیں قرآن نے العمیٰ کی مذمت کی ہے وہاں دوسرے معنی یعنی بصیرت کا اندھا پن مراد لیا ہے جیسے فرمایا : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] یہ بہرے گونگے ہیں اندھے ہیں ۔ فَعَمُوا وَصَمُّوا[ المائدة/ 71] تو وہ اندھے اور بہرے ہوگئے ۔ بلکہ بصٰیرت کے اندھا پن کے مقابلہ میں بصارت کا اندھا پن ۔ قرآن کی نظر میں اندھا پن ہی نہیں ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 The style of this first sentence is elegant and subtle. Although in the following sentences the Holy Prophet (upon whom be peace) has been directly addressed, which by itself shows that the act of frowning and turning aside had issued forth from him, the discourse has been opened in a manner as though it was not he but some one else who had so acted. By this style the Holy Prophet (upon whom be peace) , by a subtle method, has been made to realize that it was an act unseemly for him. Had somebody familiar with his high morals witnessed it, he would have thought that it was not he but some other person who had behaved in that manner. The blind man referred to here implies, as we have explained in the Introduction, the well-known Companion, Hadrat Ibn Umm Maktum. Hafiz Ibn 'Abdul Barr in Al-Isti'ab and Hafiz Ibn Hajar in AI-Isbah have stated that he was a first cousin of the Holy Prophet's wife, Hadrat Khadijah. His mother, Umm Maktum, and Hadrat Khadijah's father, Khuwailid, were sister and brother to each other. After one knows his relationship with the Holy Prophet, there remains no room for the doubt that he had turned away from him regarding him as a poor man having a low station in life, and attended to the high-placed people, for he was the Holy Prophet's brother-in-law and a man of noble birth. The reason why the Holy Prophet had shown disregard for him is indicated by the word a ma (blind man) , which Allah Himself has used as the cause of the Holy Prophet's inattention. That is, the Holy Prophet thought that even if a single man from among the people whom he was trying to bring to the right path, listened to him and was rightly guided, be could become a powerful means of strengthening Islam. On the contrary, Ibn Umm Maktum was a blind man, who could not prove to be so useful for Islam because of his disability as could one of the Quraish elders on becoming a Muslim. Therefore, he should not interrupt the conversation at that time; whatever he wanted to ask or learn, he could ask or learn at some later time.

سورة عبس حاشیہ نمبر :1 اس پہلے فقرے کا انداز بیان عجیب لطف اپنے اندر رکھتا ہے ۔ اگرچہ بعد کے فقروں میں براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات خود ظاہر ہو جاتی ہے کہ ترش روئی اور بے رخی برتنے کا یہ فعل حضور ہی سے صادر ہوا تھا لیکن کلام کی ابتدا اس طرح کی گئی ہے کہ گویا حضور نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے جس سے اس فعل کا صدور ہوا ہے ۔ اس طرز بیان سے ایک نہایت لطیف طریقے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احساس دلایا گیا ہے کہ یہ ایسا کام تھا جو آپ کے کرنے کا نہ تھا ۔ آپ کے اخلاق عالیہ کو جاننے والا اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ یہ آپ نہیں ہیں بلکہ کوئی اور ہے جو اس رویے کا مرتکب ہو رہا ہے ۔ جن نابینا کا یہاں ذکر کیا گیا ہے ان سے مراد ، جیسا کہ ہم دیباچے میں بیان کر آئے ہیں ، مشہور صحابی حضرت ابن ام مکتوم ہیں ۔ حافظ ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اور حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں بیان کیا ہے کہ یہ ام المومنین حضرت خدیجہ کے پھوپھی زاد بھائی تھے ، ان کی ماں ام مکتوب اور حضرت خدیجہ کے والد خویلد آپس میں بہن بھائی تھے ۔ حضور کے ساتھ ان کا یہ رشتہ معلوم ہو جانے کے بعد اس شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ آپ نے ان کو غریب یا کم حیثیت آدمی سمجھ کر ان سے بے رخی برتی اور بڑے آدمیوں کی طرف توجہ فرمائی تھی ، کیونکہ یہ حضور کے اپنے برادر نسبتی تھے ، خاندانی آدمی تھے ، کوئی گرے پڑے آدمی نہ تھے ۔ اصل وجہ جس کی بنا پر آپ نے ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا ، لفظ اعمی ( نابینا ) سے معلوم ہوتی ہے جسے اللہ تعالی نے حضور کی بے اعتنائی کے سبب کی حیثیت سے خود بیان فرما دیا ہے ۔ یعنی حضور کا یہ خیال تھا کہ میں اس وقت جن لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کر رہا ہوں ان میں سے کوئی ایک آدمی بھی ہدایت پا لے تو اسلام کو تقویت کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے ، بخلاف اس کے ابن مکتوب ایک نابینا آدمی ہیں ، اپنی معذوری کے باعث یہ اسلام کے لیے اس قدر مفید ثابت نہیں ہو سکتے جس قدر ان سرداروں میں سے کوئی مسلمان ہو کر مفید ہو سکتا ہے ، اس لیے ان کو اس موقع پر گفتگو میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ، یہ جو کچھ سمجھنا یا معلوم کرنا چاہتے ہیں اسے بعد میں کسی وقت بھی دریافت کر سکتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(80:2) ان جاء ہ الاعمی : ان مصدریہ ہے۔ جاء ہ الاعمی علت ہے جملہ سابقہ کی یعنی مفعول لہ ہے۔ اعمی عمی سے (بمعنی بینائی کا مفقود ہوجانا) مصدر سے جملہ سابقہ کا صیغہ ہے۔ نابینا۔ یہاں مراد عبد اللہ بن ام مکتوم (رض) ہے۔ بینائی دل کی جاتی رہے یا آنکھوں کی دونوں کے لئے عمی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ دل کے اندھا پن کے متعلق ارشاد ہے فاما ثمود فھدینھم فاستحبوا العمی علی الھدی (41:17) اور ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا راستہ رکھایا مگر انہوں نے ہدایت کے بجائے اندھا پن پسند کیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قریش کے کچھ سردار بیٹھے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہتے تھے کہ یہ مسلمان ہوجائیں تو اسلام کو قوت نصیب ہو۔ اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں سمجھا رہے تھے۔ اتنے میں حضرت عبداللہ (رض) ابن ام مکتوم جو نابینا تھے آپہنچے اور دین کو سمجھنے کے لئے کچھ سوالات کرنے لگے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کا قطع کلامی کرنا ناگوار گزرا، اس لئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض روسا مشرکین کو سمجھا رہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابن ام مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھنا شروع کیا، یہ قطع کلام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بچیں ہوئے، جب آپ اس مجلس سے اٹھ کر گھر جانے لگے تو یہ آیتیں نازل ہوئیں، اس کے بعد جب حضرت عبداللہ بن ام مکتوب آپ کے پاس آتے تو آپ بڑی خاطر کرتے۔ ھذہ الروایات کلھا فی الدار المنثور۔ ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کردیا گیا ہے، منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔ آپ نے کفر کی اشدیت کو موجب اہمیت سمجھا، جیسے دو بیماروں میں ایک کو ہیضہ اور دوسرے کو زکام ہے تو صاحب ہیضہ کا علاج مقدم ہوگا، لیکن اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ اشتداد مرض اس وقت موجب اہمیت ہے جب مریض علاج کا مخالف نہ ہو ورنہ طالب علاج ہونا موجب اقدامیت و اہمیت ہوگا گو مرض خفیف ہو، ان آیات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جس شخص سے عذر یا ناواقفی کے سبب کوئی بےتمیزی صادر ہوجائے اس سے روگردانی یا ناراضی نہ کرنی چاہئے، اور اعمی یعنی اندھے سے تعبیر کرنا اشارہ ہے مقتضی توجہ و عطوفت کی طرف۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) کہ ان کے پاس ایک نابینا آیا۔ یعنی اس کی جانب توجہ نہ فرمائی نابینا سے مراد وہی عبداللہ بن مکتوم ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت ایک کافر کو سمجھاتے تھے اس میں ایک مسلمان آیا نابینا وہ اپنی طرف مشغول کرنے لگا کہ وہ آیت کیوں کررہے اس کے معنی کیا ہیں حضرت پر گراں گزرا بےوقت کا پوچھنا اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیتیں نازل کیں۔ پھر شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی یہ کلام اوروں پاس گلہ ہے رسول کو آگے رسول کو خطاب فرمایا۔ شاہ صاحب (رح) نے کیا خوب فرمایا لطف آمیز خفگی اسی کو کہتے ہیں کہ یہاں غائب کے ضیفے سے تعبیر فرمایا رسول کو خطاب نہیں فرمایا کہ گراں نہ گزرے آگے خطاب فرمایا کہ اعراض کا شبہ نہ ہوا اور ترک خطاب موجب ملال نہ ہو۔ یہ غایت تعظیم اور انتہائی تکریم ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی۔