Surat ut Takveer
Surah: 81
Verse: 23
سورة التكوير
وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾
And he has already seen Gabriel in the clear horizon.
اس نے اس ( فرشتے ) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے ۔
وَ لَقَدۡ رَاٰہُ بِالۡاُفُقِ الۡمُبِیۡنِ ﴿ۚ۲۳﴾
And he has already seen Gabriel in the clear horizon.
اس نے اس ( فرشتے ) کو آسمان کے کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے ۔
And indeed he saw him in the clear horizon. meaning, indeed Muhammad saw Jibril, who brought him the Message from Allah, in the form that Allah created him in (i.e., his true form), and he had six hundred wings. ... بِالاْاُفُقِ الْمُبِينِ in the clear horizon. meaning, clear. This refers to the first sighting which occurred at Al-Batha' (Makkah). This incident is mentioned in Allah's statement, عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى وَهُوَ بِالاٍّفُقِ الاٌّعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَأ أَوْحَى He has been taught by one mighty in power (Jibril). Dhu Mirrah, then he rose. While he was in the highest part of the horizon. Then he approached and came closer. And was at a distance of two bows' length or less. So (Allah) revealed to His servant what He revealed. (53:5-10) The explanation of this and its confirmation has already preceded, as well as the evidence that proves that it is referring to Jibril. It seems apparent -- and Allah knows best -- that this Surah (At-Takwir) was revealed before the Night Journey (Al-Isra'), because nothing has been mentioned in it except this sighting (of Jibril), and it is the first sighting. The second sighting has been mentioned in Allah's statement, وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَى عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى And indeed he saw him (Jibril) at a second descent. Near Sidrah Al-Muntaha. Near it is the Paradise of Abode. When that covered the lote tree which did cover it ! (53:13-16) And these Ayat have only been mentioned in Surah An-Najm, which was revealed after Surah Al-Isra'(The Night Journey). وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ
23۔ 1 یہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دو مرتبہ ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقع ہے، اس وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے چھ سو پر تھے، جنہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا، دوسری مرتبہ معراج کے موقعہ پر دیکھا جیسا کہ سورة نجم میں تفصیل گزر چکی ہے۔
[١٨] آپ کا جبرئیل کو پہلی بار دیکھنا :۔ اور دوسری چیز جس پر یہ تین قسمیں کھائی گئیں یہ ہے کہ اے کفار مکہ ! تمہارے یہ ساتھی (یعنی محمد) دیوانے نہیں ہیں بلکہ دیوانے تم ہو رہے ہو جو یہ اقرار کرنے کے بعد کہ ہمیں اپنے اس ساتھی کے بارے میں جھوٹ یا فریب کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اب اس کو حواس باختہ اور دیوانہ کہنے لگے ہو۔ اس نے رسول کریم یعنی جبرئیل امین کو اس وقت دیکھا تھا جب سپیدہ سحر کھل کر نمودار ہوچکا تھا اور ہر چیز صاف صاف نظر آنے لگی تھی۔ تاریکی کی بنا پر کسی شک و شبہ کا امکان باقی نہ رہا تھا۔ اس نے جبریل کو افق مبین، جسے سورة نجم میں افق اعلیٰ کہا گیا ہے، پر دیکھا تھا۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ آپ نے جبریل امین کو اس حال میں دیکھا تھا کہ پوری فضا میں ایک سبز فرش نظر آرہا تھا اور اس نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا تھا اور آپ نے جبریل کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا تھا۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر سورة النجم)
ولقد راہ بالافق المبین : روشن کنارے سے مراد آسمان کا مشرقی کنارا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دو متربہ دیکھا ہے، ایک دفعہ زمین پر اور دوسری دفعہ آسمان پر۔ (دیکھیے نجم : ١ تا ١٨) یہاں پہلی مرتبہ کا ذکر ہوا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دیکھا ، ان کے چھ سو پر تھے اور پورا افق ان سے بھرا ہوا تھا۔ (دیکھیے بخاری، بدء الخلق، باب اذا قال احدکم امین …: ٣٢٣٢ تا ٣٢٣٥)
وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ ٢٣ ۚ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ أفق قال تعالی: سَنُرِيهِمْ آياتِنا فِي الْآفاقِ [ فصلت/ 53] أي : في النواحي، والواحد : أُفُق وأفق ويقال في النسبة إليه : أُفُقِيّ ، وقد أَفَقَ فلان : إذا ذهب في الآفاق، وقیل : الآفِقُ للذي يبلغ النهاية في الکرم تشبيها بالأفق الذاهب في الآفاق . ( ا ف ق ) الافق ۔ کنارہ جمع آفاق ۔ قرآن میں ہے :{ سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ } [ فصلت : 53] ہم عنقریب ان کو اطراف ( عالم میں بھی ۔۔ نشانیاں دکھائینگے آفاق کے معنی اطراف کے ہیں اس کا واحد افق وافق ہے اور نسبت کے وقت افقی کہا جاتا ہے اور افق فلان کے معنی آفاق ( اطراف عالم ) میں جانے کے ہیں اور افق کے اطراف میں انتہائی بعد اور وسعت سے تشبیہ کے طور پر اٰفق کا لفظ انتہائی سخی پر بولا جاتا ہے ۔ مبین بَيَان والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ، وسمّي الکلام بيانا لکشفه عن المعنی المقصود إظهاره نحو : هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] . وسمي ما يشرح به المجمل والمبهم من الکلام بيانا، نحو قوله : ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] ، ويقال : بَيَّنْتُهُ وأَبَنْتُهُ : إذا جعلت له بيانا تکشفه، نحو : لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، وقال : نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] ، وإِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] ، وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] ، أي : يبيّن، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر ( بھیجا تھا ۔ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادات ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ اور کلام کو بیان کہا جاتا ہے کیونکہ انسان اس کے ذریعہ اپنے مافی الضمیر کو ظاہر کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ هذا بَيانٌ لِلنَّاسِ [ آل عمران/ 138] ( قرآن لوگوں کے لئے بیان صریح ہو ۔ اور مجمل مہیم کلام کی تشریح کو بھی بیان کہا جاتا ہے جیسے ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنا بَيانَهُ [ القیامة/ 19] پھر اس ( کے معافی ) کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ بینہ وابنتہ کسی چیز کی شروع کرنا ۔ جیسے فرمایا : ۔ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] تاکہ جو ارشادت لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ ص/ 70] کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔إِنَّ هذا لَهُوَ الْبَلاءُ الْمُبِينُ [ الصافات/ 106] شیہ یہ صریح آزمائش تھی ۔ وَلا يَكادُ يُبِينُ [ الزخرف/ 52] اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] . اور جهگڑے کے وقت بات نہ کرسکے ۔
آیت ٢٣{ وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ ۔ } ” اور انہوں نے دیکھا ہے اس کو کھلے افق پر۔ “ یعنی ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل (علیہ السلام) کو کھلے اور روشن افق پر دیکھا ہے ‘ اس میں کوئی اشتباہ نہیں ہے۔ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْن کے لیے سورة النجم میں ’ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی ‘ (آیت ٧) کی ترکیب آئی ہے۔
19 In An-Najm: 7-9, this observation of the Holy Prophet (upon whom be peace) has been described in greater detail, (For explanation, see E.N.'s 7. 8 of An-Najm) .
سورة التَّكْوِیْر حاشیہ نمبر :19 سورہ نجم آیات 7 تا 9 میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مشاہدے کو زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ ( تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، النجم ، حواشی 7 ۔ 8 ) ۔
11: حضرت جبرئیل علیہ السلام عام طور پر تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس کسی اِنسان کی صورت میں آیا کرتے تھے، لیکن حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اُنہیں اپنی اصلی صورت میں دیکھنے کی فرمائش کی تھی، اس موقع پر وہ اُفق پر اپنی اصل صورت میں بھی آپ کے سامنے ظاہر ہوئے۔ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، اس کی کچھ تفصیل سورہ نجم میں پیچھے گزرچکی ہے۔ اس موقع پر اس سورت کے حواشی نمبر : ۲، ۱۳ اور ۴ ضرور دیکھ لئے جائیں۔
(81:23) ولقد راہ بالافق المبین۔ اللام جواب قسم محذوف ای وت اللہ لقد رای محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبریل بالافق المبین (تفسیر حقانی) لام جواب قسم محذوف کے لئے ہے یعنی خدا کی قسم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل کو مطلع صاف میں دیکھا۔ راہ میں ضمیر فاعل باتفاق علماء رسول کریم کی طرف راجع ہے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب یا تو ذی العرش (خدا) کی طرف راجع ہے یا رسول کریم (جبریل) کی طرف راجع ہے۔ ذی العرش کا مرجع ہونے کے متعلق متعدد اقوال ہیں۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہ کی ضمیر جبریل کی طرف راجع ہے۔ روح المعانی میں ہے :۔ ای وباللہ تعالیٰ لقد رای صاحبکم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الرسول الکریم جبریل (علیہ السلام) علی کرسی بین السماء والارض بالصورۃ التی خلقہ اللہ تعالیٰ علیہا لہ ست مائۃ جناح۔ (خدا کی قسم تمہارے رفیق رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رسول کریم یعنی جبریل (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کے درمیان کرسی پر بیٹھے دیکھا اس صورت میں کہ جس میں خدا تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا اس کے چھ سو پر تھے۔ بالافق المبین موصوف و صفت، روشن افق ، کنارہ آسمان۔ افاق جمع افق اصل میں آسمان کے اس کنارہ کو کہتے ہیں جہاں زمین و آسمان ملے ہوئے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی مطلع آفتاب کے لیے ہیں ۔ المبین ابانۃ (افعال) مصدر (بین مادہ) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر بمعنی ظاہر، کھلا ہوا۔ ظاہر کرنے والا۔ مصدر تبیین (تفعیل) اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر مبین کھول کر بیان کرنے والا۔ کھلا ہوا۔ ترجمہ :۔ بیشک انہوں نے (حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) اس پیغام بر (حضرت جبریل علیہ السلام) کو آسمان کے روشن کنارے پر دیکھا تھا۔ یا دیکھ چکے ہیں۔ فائدہ : کافروں کے دل میں شک تھا کہ اگرچہ آپ سچے ہیں اور دیوانہ بھی نہیں ہیں لیکن ممکن ہے کہ آپ نے جبریل سے کلام نہ سنا ہو اور جبریل کو دیکھا بھی نہ ہو کوئی اور شیطان آکر ان سے کہہ جاتا ہو اور وہ اس کو جبریل سمجھتے ہوں ان کے اس شک کو رد کرنے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔ سورة النجم میں بھی اسی مضمون پر ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ والنجم اذا ھوی (1) ما ضل صاحبکم وما غوی (2) ۔۔ ۔ ما کذب الفواد ما رای (11) (53: 1 تا 11) علماء فرماتے ہیں کہ افق الاعلی اور افق المبین ایک ہی جگہ ہے یعنی مشرقی کنارا ۔
ف 13 یعنی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو آسمان کے کھلے کنارے پر ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ یہ واقعہ مقام بطحا کا ہے جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبریل ( علیہ السلام) کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ سورة النجم آیت : وعلمہ شدید القوی، میں یہ بحث گزرچکی ہے۔
4۔ صاف کنارہ سے بلند کنارہ مراد ہے کہ صاف نظر آتا ہے، اس کا مفصل بیان سورة نجم میں گزرا۔
﴿ وَ لَقَدْ رَاٰهُ بالْاُفُقِ الْمُبِيْنِۚ٠٠٢٣﴾ (اور اس فرشتہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے افق مبین یعنی آسمان پہ صاف کنارے پر دیکھا ہے) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جب وحی لاتے تھے تو حضرت دحیہ کلبی صحابی (رض) کی صورت میں آیا کرتے تھے۔ سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں دو مرتبہ ان کی اصل صورت میں دیکھا، ایک مرتبہ شب معراج میں سدرۃ المنتہی کے قریب اور ایک مرتبہ محلہ جیاد میں (جو مکہ معظمہ کا ایک محلہ ہے) دیکھا آپ نے دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں اور پورے افق کو گھیر رکھا ہے۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة النجم)
(23) اور بیشک انہوں نے یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس فرشتے یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کو آسمان کے صاف کنارے پر دیکھا بھی ہے یعنی اس فرشتے کو اصل صورت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا ہے جیسا کہ ہم سورة والنجم میں تفصیل عرض کرچکے ہیں صاف کنارہ یعنی بلند کنارہ جو صاف نظر آتا تھا۔ وھو بالافق الاعلے۔ اس قسم کے اوصاف سورة والنجم میں بھی گزر چکے ہیں آسمان کے کنارے سے مراد مشرقی کنارہ ہے مطلب یہ ہے کہ وہ فرشتہ ہمارے پیغمبر کا دیکھا بھالا ہے کوئی نیا فرشتہ نہیں ہے کہ بلاوجہ شبہ کیا جائے۔