Surat ul Mutafifeen

Surah: 83

Verse: 15

سورة المطففين

کَلَّاۤ اِنَّہُمۡ عَنۡ رَّبِّہِمۡ یَوۡمَئِذٍ لَّمَحۡجُوۡبُوۡنَ ﴿ؕ۱۵﴾

No! Indeed, from their Lord, that Day, they will be partitioned.

ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Nay! Surely, they will be veiled from seeing their Lord that Day. meaning, they will have a place on the Day of Judgement, and lodging in Sijjin. Along with this they will be veiled from seeing their Lord and Creator on the Day of Judgement. Imam Abu Abdullah Ash-Shafi`i said, "In this Ayah is a proof that the believers will see Him (Allah), the Mighty and Sublime, on that Day." Concerning Allah's statement, ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا الْجَحِيمِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

15۔ 1 ان کے برعکس اہل ایمان روئیت باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہونے کی نعمت صرف اہل جنت کو حاصل ہوگی اور لذت و سرور کے لحاظ سے یہ نعمت جنت کی دوسری تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہوگی اور جب اللہ اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا تو جنتی لوگ بس ادھر ہی دیکھتے رہ جائیں گے۔ جو لوگ روز آخرت کے منکر تھے انہیں یہ نعمت کبھی میسر نہ ہوسکے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

کلا انھم عن زبھم…: یہ کافر جو کہتے ہیں کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو دنیا کی طرح وہاں بھی پروردگار کی نوازشیں ہمیں پر ہوں گی ، ان کا یہ کہنا ہرگز درست نہیں، انہیں تو پروردگار کے قریب تک نہیں آنے دیا جائے گا، بکلہ وہ حجاب میں رکھے جائیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس دن نافرمان اللہ تعالیٰ سے معجوب ہوں گے اور اہل ایمان کو وہ نظر آئے گا۔ اگر دیدار الٰہی کے منکروں کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ کسی کو بھی نظر نہیں آئے گا تو یہ آیت بےمعنی ہوجاتی ہے۔ دوسری جگہ صریح الفاظ میں فرمایا :(وجوہ یومئذ ناصرۃ، الی ربھا ناظرۃ) (القیامۃ : ٢٢، ٢٣)” کئی چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی نعمتوں میں سب سیب ڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہے جو ایمان والوں کو حاصل ہوگی۔ (اللہ اپنے فضل سے ہمیں بھی اپنا دیدار نصیب فرمائے) اس کے ساتھ انہیں کھانے پینے، نکاح وغیرہ یعنی جنت کی دوسری نعمتیں بھی میسر ہوں گی۔ نافرمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلا عذاب یہ ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ پھر وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ (اعاذنا اللہ منھما)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ (No! Indeed they will be screened off from their Lord on that Day...83:15). This will be their punishment for their failure to recognise Allah in the world. The unbelievers will remain deprived of seeing their Lord on the Day of Judgment, and a screen will fall between them and their Lord. Imams Shafi` i and Malik said that in this verse is a proof that the believers and friends of Allah will be able to see Him. Otherwise, the wording that the unbelievers will be screened off from their Lord on that Day will have no real sense. Special Note According to some of the learned predecessors, this verse is a proof that man, by virtue of his innate nature, is forced to love Allah. Therefore, all unbelievers in the world, no matter how deeply they are steeped in their form of disbelief or hold false beliefs regarding the [ Supreme ] Being and attributes of Allah, there is a common denominator in their hearts. They love, respect and honour Allah. They worship Him according to their belief system in quest of Him and His pleasure. Because they have taken the wrong road, they are unable to reach their destination, but they are, nonetheless, in search of the same destination of truth. If they did not have the desire to see their Lord, it would not have been said, in their punishment, that they will remain deprived of seeing Allah, because if a person is not desirous [ rather he is hateful ] of seeing Him, it would be no punishment for him.

(آیت) كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ، یعنی قیامت کے روز یہ کفار فجار اپنے رب کی زیارت سے محروم پس پردہ روک دیئے جاویں گے، یہ انکے اس عمل کی سزا ہوگی کہ انہوں نے دنیا میں حق کو نہیں پہچاناتو اب اپنے رب کی زیارت کے قابل نہیں رہے۔ حضرت امام مالک (رح) اور شافعی (رح) نے فرمایا کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنین اور اولیا اللہ کو حق تعالیٰ کی زیارت ہوگی ورنہ پھر کفار کے محبوب رہنے کا کوئی فائدہ ہی نہ ہوتا۔ فائدہ بعض اکابر علماء نے فرمایا کہ یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت سے حق تعالیٰ کی محبت پر مجبور ہے اسی لئے دنیا کے عام کفار و مشرکین چاہے کتنے ہی کفر و شرک میں مبتلا ہوں اور اللہ جل شانہ کی ذات وصفات کے متعلق باطل عقیدے رکھتے ہوں مگر اتنی بات سب میں مشترک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت سب کے دلوں میں ہوتی ہے اور اپنے اپنے عقیدے کے مطابق اسی کی جستجو اور رضا جوئی کے لئے عبادتیں کرتے ہیں، راستہ غلط ہوتا ہے اس لئے منزل مقصود پر نہیں پہنچتے مگر طلب اسی منزل حق کی ہوتی ہے وجہ استدلال کی یہ ہے کہ اگر کفار میں حق تعالیٰ کی زیارت کا شوق نہ ہوتا تو ان کی سزا میں شہ کہنا جاتا کہ وہ زیارت سے محروم رہیں گے کیونکہ جو شخص کسی کی زیارت کا طالب ہی نہیں بلکہ متنفر ہے اس کے لئے یہ کوئی سزا نہیں کہ اس کو اس کی زیارت سے محروم کیا جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَلَّآ اِنَّہُمْ عَنْ رَّبِّہِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ۝ ١٥ ۭ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں ( سے ) عہد لے لیا ہے ہر گز نہیں ۔ لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ہرگز نہیں ۔ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] کچھ شک نہیں کہ خدا نے سے جو حکم دیا ۔ اس نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا ۔ اور اس نوع کی اور بھی بہت آیات ہیں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ حجب الحَجْب والحِجَاب : المنع من الوصول، يقال : حَجَبَه حَجْباً وحِجَاباً ، وحِجَاب الجوف : ما يحجب عن الفؤاد، وقوله تعالی: وَبَيْنَهُما حِجابٌ [ الأعراف/ 46] ، ليس يعني به ما يحجب البصر، وإنما يعني ما يمنع من وصول لذّة أهل الجنّة إلى أهل النّار، وأذيّة أهل النّار إلى أهل الجنّة، کقوله عزّ وجل : فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بابٌ باطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ ، وَظاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذابُ [ الحدید/ 13] ، وقال عزّ وجل : وَما کانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْياً أَوْ مِنْ وَراءِ حِجابٍ [ الشوری/ 51] ، أي : من حيث ما لا يراه مكلّمه ومبلّغه، وقوله تعالی: حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ [ ص/ 32] ، يعني الشّمس إذا استترت بالمغیب . والحَاجِبُ : المانع عن السلطان، والحاجبان في الرأس لکونهما کالحاجبین للعین في الذّب عنهما . وحاجب الشمس سمّي لتقدّمه عليها تقدّم الحاجب للسلطان، وقوله عزّ وجلّ : كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ [ المطففین/ 15] ، إشارة إلى منع النور عنهم المشار إليه بقوله : فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ [ الحدید/ 13] . ( ح ج ب ) الحجب والحجاب ( ن ) کسی چیز تک پہنچنے سے روکنا اور درمیان میں حائل ہوجانا اور وہ پر وہ جو دل اور پیٹ کے درمیان حائل ہے اسے حجاب الجوف کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ ؛ وَبَيْنَهُما حِجابٌ [ الأعراف/ 46] اور ان دونوں ( بہشت اور دوزخ ) کے درمیان پر وہ حائل ہوگا ۔ میں حجاب سے وہ پر دہ مراد نہیں ہے جو ظاہری نظر کو روک لیتا ہے ۔ بلکہ اس سے مراد وہ آڑ ہے جو جنت کی لذتوں کو اہل دوزخ تک پہنچنے سے مانع ہوگی اسی طرح اہل جہنم کی اذیت کو اہل جنت تک پہنچنے سے روک دے گی ۔ جیسے فرمایا فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بابٌ باطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ ، وَظاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذابُ [ الحدید/ 13] پھر ان کے بیچ میں ایک دیوار گھڑی کردی جائے گی اس کے باطن میں رحمت ہوگی اور بظاہر اس طرف عذاب ہوگا ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَما کانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْياً أَوْ مِنْ وَراءِ حِجابٍ [ الشوری/ 51] ، اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اس سے بات کرے مگر الہام ( کے زریعے ) سے یا پردہ کے پیچھے سے ۔ میں پردے کے پیچھے سے کلام کرنے کے معنی یہ ہیں کہ جس سے اللہ تعالیٰ کلام کرتے ہیں وہ ذات الہی کو دیکھ نہیں سکتا اور آیت کریمہ ؛ ۔ حَتَّى تَوارَتْ بِالْحِجابِ [ ص/ 32] کے معنی ہیں حتی ٰ کہ سورج غروب ہوگیا ۔ الحاجب دربان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ بادشاہ تک پہنچنے سے روک دیتا ہے ۔ اور حاجبان ( تنبہ ) بھویں کو کہتے ہیں کیونکہ وہ آنکھوں کے لئے بمنزلہ سلطانی دربان کے ہوتی ہیں ۔ حاجب الشمس سورج کا کنارہ اسلئے کہ وہ بھی بادشاہ کے دربان کی طرح پہلے پہل نمودار ہوتا ہے اور آیت کریمۃ ؛۔ كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ [ المطففین/ 15] کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کے رو ز تجلٰ الہی کو ان سے روک لیا جائیگا ( اس طرح وہ دیدار الہی سے محروم رہیں گے ) جس کے متعلق آیت کریمۃ ؛۔ فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ [ الحدید/ 13] میں اشارہ کیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥{ کَلَّآ اِنَّہُمْ عَنْ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ ۔ } ” نہیں ! یقینایہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔ “ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم کردیے جائیں گے۔ اس کے برعکس نیکوکار لوگوں کے لیے سورة القیامہ میں یہ خوشخبری سنائی گئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ۔ } کہ اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میدانِ حشر میں اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کے دیدار یا اس کی کسی خاص شان کے مشاہدے سے سرفراز فرمایا جائے گا جس کے باعث اس دن کے سخت مراحل ان کے لیے آسان ہوجائیں گے۔ اس حوالے سے ہمارے عام مفسرین کی رائے بھی یہی ہے کہ میدانِ حشر میں بھی مومنین صادقین کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرایا جائے گا ۔ آیت زیر مطالعہ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس وقت میدانِ حشر میں کفار و مشرکین بھی کھڑے ہوں گے لیکن انہیں اس نعمت سے محروم کردیا جائے گا۔ میدانِ حشر کے ایسے ہی ایک منظر کی جھلک سورة نٓ کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے : { یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّیُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ۔ } ” جس دن پنڈلی کھولی جائے گی ‘ اور انہیں پکارا جائے گا (اللہ کے حضور) سجدے کے لیے ‘ لیکن وہ کر نہیں سکیں گے “۔ یعنی اہل ایمان جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے کرتے تھے وہ تو اس حکم کو سنتے ہی سجدے میں گرجائیں گے لیکن دوسرے لوگوں کی کمریں تختہ ہو کر رہ جائیں گی ‘ وہ تمام تر خواہش اور کوشش کے باوجود سجدہ نہیں کرسکیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8 That is, these people will remain deprived of the vision of Allah with which the righteous will be blessed. (For further explanation, see E.N. 17 of Al - Qiyamah) .

سورة الْمُطَفِّفِيْن حاشیہ نمبر :8 یعنی دیدار الہی کا جو شرف نیک لوگوں کو نصیب ہو گا اس سے یہ لوگ محروم رہیں گے ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد ششم ، القیامہ ، حاشیہ 17 ۔ )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(83:15) کلا۔ حرف ردع ہے زنگ پیدا کرنے والے گناہوں کے ارتکاب سے باز داشت ہے۔ ان کو ایسا کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ یا کلا بمعنی حقا ہے۔ بےشک، یقینا۔ انھم عن ربھم یومئذ لمحجوبون : ان حرف مشبہ بالفعل بمعنی تحقیق۔ ہم اسم ان محجوبون خبر۔ یومئذ ظرف ہے محجوبون کا، عن ربھم متعلق خبر۔ لمحجوبون میں لام تاکید کا ہے۔ محجوبون حجب و حجاب مصدر (باب نصر) سے اسم مفعول کا صیغہ جمع مذکر حجب و حجاب بمعنی روکنا۔ محجوب اوٹ میں رکھا جانے والا۔ دیکھنے سے روک لیا جانے والا ۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک یہ لوگ اس روز اپنے رب (کے دیدار) سے روک لئے جائیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر آئیگا کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس آیت کا کوئی مطلب نہ ہوتا۔ البتہ ہوگا یہ کہ مومن اس کے دیدار سے نوازے جائینگے اور کافر اس سے محروم رہیں گے جیسا کہ دوسری آیت میں فرما ای : وجوہ یومئذ والصرۃ الی ربھا ناظرۃ کچھ چہرے اس روز ترو تازہ ہونگے اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہونگے۔ “ (قیامہ :22)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کلا انھم ................................ تکذبون (15:83 تا 17) ” ہرگز نہیں ، بالیقین اس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے ، پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے ، پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ فسق وفجور اور گناہوں نے ان کے دلوں کو ڈھانپ لیا تھا۔ دنیا میں ان کے دل رب تعالیٰ کے احساس سے دور ہوگئے تھے اور گناہوں نے ان کی زندگی کو بےنور اور تاریک کردیا تھا ، وہ زندگی میں ایسی روش رکھتے تھے جس طرح اندھے ہوں۔ اب آخرت میں ان کا انجام بھی طبعی ہے اور ان کے حسب حال ہے۔ آخرت میں وہ دیدار رب کی عظیم نعمت سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ یہ ایک عظیم محرومی ہوگی۔ قیامت میں یہ نعمت صرف اس شخص کو نصیب ہوگی جس کی روح صاف اور شفاف ہوچکی ہو اور اس کی اس صفائی کی وجہ سے اس کے اور رب کے درمیان سب پردے دور ہوجائیں گے۔ سورة قیامت میں انہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔ وجوہ یومئذ ........................ ناظرہ ” کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے “۔ قیامت میں رب تعالیٰ سے حجاب ان کے لئے عذاب قیامت سے بھی بڑا عذاب ہوگا۔ تمام محرومیوں سے یہ بڑی محرومی ہوگی اور یہ کسی انسان کی انسانیت کا بدترین انجام ہوگا کہ اس کی انسانیت رب کریم کے ساتھ جاملنے اور اس تک پہنچ جانے سے محروم رہے۔ کیونکہ جب کوئی رب کریم تک پہنچنے سے محروم ہوجائے تو وہ اپنے انسانی خصائص کھو بیٹھتا ہے۔ اور اس حد تک گر جاتا ہے کہ وہ اب جہنم کے لائق اور مستحق ہوجاتا ہے۔ ثم انھم .................... الجحیم (16:83) ” پھر یہ جہنم میں پڑجائیں گے “۔ لیکن اس جہنم رسیدگی کے ساتھ ساتھ وہاں ان کی سرزنش بھی ہوگی اور یہ اس عذاب سے بھی زیادہ کڑوی ہوگی۔ ثم یقال .................... تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ اب اس کے بعد صفحہ بالمقابل پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کا یہ مستقل انداز بیان ہے کہ وہ بالعموم اچھائی اور برائی دونوں کی تصویر کے دونوں رخ پیش کرتا ہے تاکہ حسن وقبح کے تقابل سے لوگ بات کو اچھی طرح سمجھیں اور حقیقت ان کے ذہن نشین ہوجائے اور اچھوں اور بروں دونوں کا انجام بھی سامنے آجائے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ ” کلا انہم “ کلا بمعنی حقا ہے۔ یقینا کفار و مشرکین قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی نظر رحمت سے محجوب و محروم ہوں گے پھر ان کو جہنم میں داخل کیا جائیگا اور ان سے کہا جائیگا یہی ہے وہ جہنم جس کا تم دنیا میں انکار کیا کرتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(15) نہیں نہیں یہ لوگ اس دن اپنے پروردگار سے روک دیئے جائیں گے یعنی یہ سیاہی رب العزت کے دیدار سے روکنے میں حجاب کا کام کرے گی اور حضرت حق تعالیٰ کے دیدار سے محروم کردیئے جائیں گے اور یہ اعمال بد کا زنگ میدان حشر میں بہت سی بھلائیاں اور نجات سے محروم کردے گا۔