Surat ul Mutafifeen

Surah: 83

Verse: 18

سورة المطففين

کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الۡاَبۡرَارِ لَفِیۡ عِلِّیِّیۡنَ ﴿ؕ۱۸﴾

No! Indeed, the record of the righteous is in 'illiyyun.

یقیناً یقیناً نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Record Book of the Righteous and Their Reward Allah says that truly, كَلَّ إِنَّ كِتَابَ الاَْبْرَارِ ... Verily, the Record of Al-Abrar (the righteous believers) These people are in a situation that is the opposite of the wicked people. ... لَفِي عِلِّيِّينَ is in `Illiyyin. meaning, their final destination is `Illiyyin, which is the opposite of Sijjin. It has been reported from Hilal bin Yasaf that Ibn Abbas asked Ka`b about Sijjin while he was present, and Ka`b said, "It is the seventh earth and in it are the souls of the disbelievers." Then Ibn `Abbas asked him about `Illiyyin, so he said, "It is the seventh heaven and it contains the souls of the believers." This statement -- that it is the seventh heaven -- has been said by others as well. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn `Abbas said concerning Allah's statement, كَلَّ إِنَّ كِتَـبَ الاٌّبْرَارِ لَفِى عِلِّيِّينَ (Nay! Verily, the Record of Al-Abrar (the righteous believers) is in `Illiyyin.) "This means Paradise." Others besides him have said, "`Iliyyin is located at Sidrat Al-Muntaha." The obvious meaning is that the word `Illiyyin is taken from the word `Uluw, which means highness. The more something ascends and rises, the more it becomes greater and increases. Thus, Allah magnifies its affair and extols its matter by saying, وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ

نعمتوں ، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا علیین ہے جو کہ سجین کے بالکل برعکس ہے حضرت ابن عباس نے حضرت کعب سے سجین کا سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں اور علیین کے سوال کے جواب میں فرمایا یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے عوفی آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں قتادہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے ظاہر یہ ہے کہ لفظ علو یعنی بلندی سے ماخوذ ہے ۔ جس قدر کوئی چیز اونچی اور بلند ہو گی اسی قدر بڑی اور کشادہ ہو گی اس لیے اس کی عظمت و بزرگی کے اظہار کے لیے فرمایا تمہیں اس کی حقیقت معلوم ہی نہیں پھر اس کی تاکید کی کہ یہ یقینی چیز ہے کتاب میں لکھی جا چکی ہے کہ یہ لوگ علیین میں جائیں گے جس کے پاس ہر آسمان کے مقرب فرشتے جاتے ہیں پھر فرمایا کہ قیامت کے دن یہ نیکو کار دائمی والی نعمتوں اور باغات میں ہوں گے یہ مسہریوں پر بیٹھے ہوں گے اپنے ملک و مال نعمتوں راحتوں عزت و جاہ مال و متاع کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے یہ خیر و فضل یہ نعمت و رحمت نہ کبھی کم ہو نہ گم ہو نہ گھٹے نہ مٹے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اپنی آرام گاہوں میں تخت سلطنت پر بیٹھے دیدار اللہ سے مشرف ہوتے رہیں گے تو گویا کہ فاجروں کے بالکل برعکس ہوں گے ان پر دیدار باری حرام تھا ان کے لیے ہر وقت اجازت ہے جیسے کہ ابن عمر کی حدیث میں ہے جو پلے بیان ہو چکی کہ سب سے نیچے درجے کا جنتی اپنے ملک اور ملکیت کو دو ہزار سال کی راہ تک دیکھے گا اور سب سے آخر کی چیزیں اس طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوں گی جس طرح سب سے اول چیز ۔ اور اعلیٰ درجہ کے جنتی تو دن بھر میں دو دو مرتبہ دیدار باری کی نعمت سے اپنے دل کو مسرور اور اپنی آنکھوں کو پر نور کریں گے ان کے چہرے پر کوئی نظر ڈالے تو بیک نگاہ آسودگی اور خوش حالی جاہ و حشمت شوکت و سطوت خوشی و سرور بہجت و نور دیکھ کر ان کا مرتبہ تاڑ لے اور سمجھ لے کہ راحت و آرام میں خوش و خرم ہیں جنتی شراب کا دور چلتا رہتا ہے رحیق جنت کی ایک قسم کی شراب ہے رسول اللہ صیل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی پیاسے مسلمان کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے رحیق مختوم پلائے گا یعنی جنت کی مہر والی شراب اور جو کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلائے اسے اللہ تعالیٰ جنت کے میوے کھلائے گا اور جو کسی ننگے مسلمان کو کپڑا پہنائے اللہ تعالیٰ اسے جنتی سبز ریشم کے جوڑے پہنائے گا ( مسند احمد ) ختام کے معنی ملونی اور آمیزش کے ہیں اسے اللہ نے پاک صاف کر دیا ہے اور مشک کی مہر لگا دی ہے یہ بھی معنی ہیں کہ انجام اس کا مشک ہے یعنی کوئی بدبو نہیں بلکہ مشک کی سی خوشبو ہے چاندی کی طرح سفید رنگ شراب ہے جس قدر مہر لگے گی یا ملاوٹ ہو گی اس قدر خوشبو والی ہے کہ اگر کسی اہل دنیا کی انگلی اس میں تر ہو جائے پھر چاہے اسی وقت اسے وہ نکال لے لیکن تمام دنیا اس کی خوشبو سے مہک جائے اور ختام کے معنی خوشبو کے بھی کیے گئے ہیں پھر فرماتا ہے کہ حرص کرنے والے فخر و مباہات کرنے والے کثرت اور سبقت کرنے والوں کو چاہیے کہ اس کی طرف تمام تر توجہ کریں جیسے اور جگہ ہے آیت ( لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ 61؀ ) 37- الصافات:61 ) ایسی چیزوں کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے تسنیم جنت کی بہترین شراب کا نام ہے یہ ایک نہر ہے جس سے سابقین لوگ تو برابر پیا کرتے ہیں اور داہنے ہاتھ والے اپنی شراب رحیق میں ملا کر پیتے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

18۔ 1 عِلَیِئیْنُ ، (بلندی سے ہے یہ عِلَیِئیْنُ کے برعکس، آسمانوں میں یا سدرۃ المُنْتَہٰی یا عرش کے پاس جگہ ہے جہاں نیک لوگوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے محفوظ ہوتے ہیں، جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] فاجر اور ابرار کا لغوی مفہوم :۔ یہاں فجار کے مقابلہ میں ابرار کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فَجَرَ کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا اور فجر کو فجر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سارے آسمان پر نمودار ہوجاتی ہے۔ اور فاجر وہ شخص ہے جو وسیع پیمانے پر دین کی نافرمانی کرنے والا ہو اور ہر وقت گناہوں میں منہمک رہتا ہو اور گناہوں سے تائب نہ ہو۔ اس کے مقابلہ میں ابرار ہے۔ برّ کے معنی نیکی، نیکی کے کام اور بر کے معنی وسیع خشک قطعہ زمین ہے گویا بر کے لفظ میں نیکی کے علاوہ وسعت کا تصور بھی پایا جاتا ہے۔ اور بر دراصل نیکی کو نہیں بلکہ ہر دم نیکی پر مائل رہنے والی خصلت کو کہتے ہیں کہ جب کسی نیکی کا موقع آئے اسے فوراً سرانجام دے دیا جائے اور بارّ وہ شخص ہے جو ایسی خصلت رکھتا ہو اور اسی کی جمع ابرار ہے۔ [١٣] یعنی جس طرح سجین بدکردار لوگوں کی ارواح کا قید خانہ اور ان کے اعمالناموں کے جمع ہونے کا دفتر ہے۔ اسی طرح علیین ابرار کی ارواح کا مستقر ہے اور ان کے اعمالنامے اسی مقام پر محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ بعض اسلاف کے قول کے مطابق یہ مقام سات آسمانوں کے اوپر ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(کلا ان کتب الابرار…:” کلا “ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ نافرمانوں کا یہ حال ہوگا تو نیکوں سے بھی یہی سلوک ہو۔” علیین “ اور ” علیون “ ” علی “ کی جمع ہیں جو ” علو “ سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے ” بہت سی اونچا شخص “ اور ” علیون “ کا معنی ہے ” بہت ہی اونچے لوگ۔ “ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق یہ ایک کتاب ہے جس میں نیک لوگوں کے نام اور ان کے اعمال واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں، ان میں کوئی رد و بدل یا کمی بیشی ممکن نہیں۔ ” یشھدہ المقزبون “ یعنی اس کی نگراین کے لئے مقرب فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ چونکہ وہ نیک لوگوں کا دفتر ہے، اس لئے اس کو دیکھنے کے لئے انھی مقرب لوگوں کو وہاں حاضر ہونے کی اجازت ہے جن کا وہ دفتر ہے۔ اس صورت میں ابرارہی مقرب ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ (No! The record of deeds of the righteous is in ` illiyyun....83:18). According to some authorities, ` illiyyun is the plural of ` uluww and it signifies the &highest point&. According to Farra&, this is the name of a place. It is not a plural, but on the measure of plural. When analysing the word sijjin in the foregoing paragraphs, the traceable Tradition of Sayyidna Bath& Ibn ` Azib (رض) was cited to prove that ` illiyyin is a place on the seventh heaven beneath the Divine Throne where the souls of the believers and their registers of deeds are kept. The phrase: كِتَابٌ مَّرْقُومٌ(A register inscribed...83:20) is not the interpretation of illiyyin, but rather an explication their records of deeds, as in the verse that precedes it:

(آیت) كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَ ، علیین بعض حضرات کے نزدیک علو کی جمع ہے اور مراد اعلیٰ درجہ کا علو اور بلندی ہے اور فراء کے نزدیک یہ ایک موقع کا نام ہے وزن جمع پر آیا ہے جمع نہیں، اور لفظ سبحین کی تحقیق میں اوپر گزرچکا ہے کہ حضرت براء بن عازب کی مرفوع روایت سے ثابت ہے کہ علیین ساتویں آسمان پر زیر عرش ایک مقام ہے جس میں مومنین کی ارواح اور اصحائف اعمال رکھے جاتے ہیں، اور آگے جو کتب مرقوم مذکور ہے یہ بھی علیین کی تفسیر نہیں بلکہ ابرار کے نامہ اعمال کا بیان ہے جسکا ذکر اوپر ان کتب الابرار میں آیا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِيْ عِلِّيِّيْنَ۝ ١٨ ۭ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں ( سے ) عہد لے لیا ہے ہر گز نہیں ۔ لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ہرگز نہیں ۔ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] کچھ شک نہیں کہ خدا نے سے جو حکم دیا ۔ اس نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا ۔ اور اس نوع کی اور بھی بہت آیات ہیں ۔ برَّ البَرُّ خلاف البحر، وتصوّر منه التوسع فاشتق منه البِرُّ ، أي : التوسع في فعل الخیر، وينسب ذلک إلى اللہ تعالیٰ تارة نحو : إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ [ الطور/ 28] ، وإلى العبد تارة، فيقال : بَرَّ العبد ربه، أي : توسّع في طاعته، فمن اللہ تعالیٰ الثواب، ومن العبد الطاعة . وذلک ضربان : ضرب في الاعتقاد . وضرب في الأعمال، وقد اشتمل عليه قوله تعالی: لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ [ البقرة/ 177] وعلی هذا ما روي «أنه سئل عليه الصلاة والسلام عن البرّ ، فتلا هذه الآية» «1» . فإنّ الآية متضمنة للاعتقاد والأعمال الفرائض والنوافل . وبِرُّ الوالدین : التوسع في الإحسان إليهما، وضده العقوق، قال تعالی: لا يَنْهاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ [ الممتحنة/ 8] ، ويستعمل البِرُّ في الصدق لکونه بعض الخیر المتوسع فيه، يقال : بَرَّ في قوله، وبرّ في يمينه، وقول الشاعر : أكون مکان البرّ منه«2» قيل : أراد به الفؤاد، ولیس کذلک، بل أراد ما تقدّم، أي : يحبّني محبة البر . ويقال : بَرَّ أباه فهو بَارٌّ وبَرٌّ مثل : صائف وصیف، وطائف وطیف، وعلی ذلک قوله تعالی: وَبَرًّا بِوالِدَتِي [ مریم/ 32] . وبَرَّ في يمنيه فهو بَارٌّ ، وأَبْرَرْتُهُ ، وبَرَّتْ يميني، وحجّ مَبْرُور أي : مقبول، وجمع البارّ : أَبْرَار وبَرَرَة، قال تعالی: إِنَّ الْأَبْرارَ لَفِي نَعِيمٍ [ الانفطار/ 13] ، وقال : كَلَّا إِنَّ كِتابَ الْأَبْرارِ لَفِي عِلِّيِّينَ [ المطففین/ 18] ، وقال في صفة الملائكة : كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 16] فَبَرَرَةٌ خصّ بها الملائكة في القرآن من حيث إنه أبلغ من أبرار «1» ، فإنه جمع برّ ، وأبرار جمع بار، وبَرٌّ أبلغ من بَارٍّ ، كما أنّ عدلا أبلغ من عادل . والبُرُّ معروف، وتسمیته بذلک لکونه أوسع ما يحتاج إليه في الغذاء، والبَرِيرُ خصّ بثمر الأراک ونحوه، وقولهم : لا يعرف الهرّ من البرّ «2» ، من هذا . وقیل : هما حكايتا الصوت . والصحیح أنّ معناه لا يعرف من يبرّه ومن يسيء إليه . والبَرْبَرَةُ : كثرة الکلام، وذلک حكاية صوته . ( ب رر) البر یہ بحر کی ضد ہے ( اور اس کے معنی خشکی کے ہیں ) پھر معنی دسعت کے اعتبار سے اس سے البر کا لفظ مشتق کیا گیا ہے جس کے معنی وسیع پیمانہ پر نیکی کرنا کے ہیں اس کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ [ الطور/ 28] بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے ۔ اور کبھی بندہ کی طرف جیسے بدالعبدربہ ( یعنی بندے نے اپنے رب کی خوب اطاعت کی ) چناچہ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ طرف ہو تو اس کے معنی ثواب عطاکرنا ہوتے ہیں اور جب بندہ کی طرف منسوب ہو تو اطاعت اور فرمانبرداری کے البر ( نیکی ) دو قسم پر ہے اعتقادی اور عملی اور آیت کریمہ ؛۔ لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ [ البقرة/ 177] ( آلایۃ ) دونوں قسم کی نیکی کے بیان پر مشتمل ہے ۔ اسی بنا ہر جب آنحضرت سے بد کی تفسیر دریافت کی گئی ثو آن جناب نے جوابا یہی آیت تلاوت فرمائی کیونکہ اس آیت میں عقائد و اعمال فرائض و نوافل کی پوری تفصیل بتائی جاتی ہے ۔ برالوالدین کے معنی ہیں ماں اور باپ کے ساتھ نہایت اچھا برتاؤ اور احسان کرنا اس کی ضد عقوق ہے ۔ قرآں میں ہے ۔ لا يَنْهاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ [ الممتحنة/ 8] جن لوگون میں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی ۔۔۔ کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا ہے ۔ اور بد کے معنی سچائی بھی آتے ہیں کیونکہ یہ بھی خیر ہے جس میں وسعت کے معنی پائے جانے ہیں چناچہ محاورہ ہے ؛۔ برفی یمینہ اس نے اپنی قسم پوری کردکھائی اور شاعر کے قول (43) اکون مکان البر منہ ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ بد بمعنی فؤاد یعنی دل ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہاں بھی بد بمعنی نیکی ہے یعنی میرا مقام اس کے ہاں بمنزلہ بر کے ہوگا ۔ بر اباہ فھو بار و بر صیغہ صفت جو کہ صائف وصیف وطائف وطیف کی مثل دونوں طرح آتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَبَرًّا بِوالِدَتِي [ مریم/ 32] اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے ۔ اور مجھے اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا ( بنا) بر فی یمینہ فھوباز ابررتہ قسم پوری کرنا ۔ برت یمینی میری قسم پوری ہوگئی ۔ حج مبرور حج جس میں رفت وفسق اور جدال نہ ہو ۔ البار کی جمع ابرار وبررۃ آتی ہے قرآن میں ہے ۔ إِنَّ الْأَبْرارَ لَفِي نَعِيمٍ [ الانفطار/ 13] بیشک نیکو کار نعمتوں ( کی بہشت ) میں ہوں گے ۔ كَلَّا إِنَّ كِتابَ الْأَبْرارِ لَفِي عِلِّيِّينَ [ المطففین/ 18] اور یہ بھی سن رکھو کہ نیکو کاروں کے اعمال علیین میں ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 16] . جو سردار اور نیکو کار ہیں ۔ میں خاص کر فرشتوں کو بررۃ کہا ہے کیونکہ ابرار ( جمع ) زیادہ بلیغ ہے ۔ اس لئے کہ بررۃ ، بر کی بنسبت عدل میں مبالغہ پایا جاتا ہے اسی طرح بد میں بار سے زیادہ مبالغہ ہے البر یر خاص کر پیلو کے درخت کے پھل کو کہتے ہیں عام محاورہ ہے : فلان لایعرف البر من الھر ( وہ چوہے اور بلی میں تمیز نہیں کرسکتا ) بعض نے کہا ہے کہ یہ دونوں لفظ حکایت کی صورت کے طور پر بولے جاتے ہیں مگر اس محاورہ کے صحیح معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے خیر خواہ اور بدخواہ میں امتیاز نہیں کرسکتا ۔ البربرۃ بڑبڑ کرنا یہ بھی حکایت صورت کے قبیل سے ہے ۔. عِلِّيِّينَ وقوله : لَفِي عِلِّيِّينَ [ المطففین/ 18] ، فقد قيل هو اسم أشرف الجنان کما أنّ سجّينا اسم شرّ النّيران، وقیل : بل ذلک في الحقیقة اسم سكّانها، وهذا أقرب في العربيّة، إذ کان هذا الجمع يختصّ بالناطقین، قال : والواحد عِلِّيٌ نحو بطّيخ . ومعناه : إن الأبرار في جملة هؤلاء فيكون ذلک کقوله : فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ [ النساء/ 69] ، الآية . وباعتبار العلوّ قيل للمکان المشرف وللشّرف علی علیا کی جمع ہے اور علیا اعلٰی کی تانیث ہے اور معنی یہ ہیں کہ آسمان اس دنیا سے اشرف و افضل ہیں جیسے فرمایا : ۔ أَأَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقاً أَمِ السَّماءُ بَناها [ النازعات/ 27] بھلا تمہارا بنانا آسان ہے یا آسمان کا اسی نے اس کو بنایا ۔ اور آیت کریمہ ؛ ۔ لَفِي عِلِّيِّينَ [ المطففین/ 18] علین میں ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ علین جنت میں سب سے اعلٰی مقام کا نام ہے جس طرح کہ سجین دو زخ میں سب سے زیادہ تکلیف وہ طبقہ کا نام ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ دراصل اس کا اطلاق جنتی لوگوں پر ہوتا ہے اور قواعد عربی کے لحاظ سے یہی معنی اقرب الی الصوب معلوم ہوتے ہیں کیونکہ یہ جمع ( جمع سالم ) ذوی العقول کے ساتھ مختص ہے اور یہ علی بر وزن بطیخ کی جمع ہے اور یہ ہیں کہ ابرار بھی علین لوگوں کے زمرہ میں شامل ہون گے جیسے فرمایا : ۔ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ [ النساء/ 69] الایۃ وہ قیامت کے روز ان لوگوں کے ستاھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق الخ ۔۔۔۔۔۔ اور معنی علو کے لحاظ سے بلند مقام کو اور بلندی کو علیاء کہا جاتا ہے اور علیہ اصل میں تو عالیۃ کی تصغیر ہے لیکن عرف میں بالا خانہ کو علیۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع علالی بر وزن فعالیل ہے تعالیٰ النھار دن بلند ہوگیا عالیۃ الرمح سنان ( بڑے نیزے ) سے چھوٹا نیزہ ۔ عالیۃ الندینۃ مدینہ کی اعلٰی جانب اس کی جمع عوال ہے اسی سے کہا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 That is, they are wrong in thinking that there is going to be no meting out of rewards and punishments.

سورة الْمُطَفِّفِيْن حاشیہ نمبر :9 یعنی ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی جزا و سزا واقع ہونے والی نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: علیّین کے لفظی معنیٰ بالا خانوں کے ہیں۔ یہ اُس جگہ کا نام ہے جہاں مومنوں کی رُوحیں مرنے کے بعد بھیجی جاتی ہیں، اور وہیں پر اُن کا اعمال نامہ بھی رہتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٨۔ ٢٨۔ اوپر حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ کے لئے ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا اور اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ براء بن عازب کی وہ حدیث جس کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے کا قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے تو علیین مقام کے دفر میں جو ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس روح کو منکر نکیر کے سوالات کا جواب دینے کے لئے پھر جسم میں پلٹا دیا جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ نیک لوگ جنت میں جانے کے بعد اپنے چھپر کھٹوں میں بیٹھے ہوئے جنت کے باغوں کی سیر کیا کریں گے اور رحیق نام شراب کی سربمہر بوتلیں جس میں تسنیم نام شراب کے چشمہ کی ملونی ہوگی ‘ بعض جنتیوں کو ملے گی اور جو جنتی ان سے اعلیٰ درجہ کے ہیں وہ عام طور پر تسنیم کو پیا کریں گے اس سے جب یہ بات نکلی کہ جنت کی نعمتیں لوگوں کے عملوں کے موافق کسی کو کمتی کسی کو بڑھتی ملیں گی تو اس ذکر کے بیچ میں یہ بھی جتلا دیا ہے کہ جنت کا اعلیٰ درجہ حاصل کرنے کے لئے ہر شخص کو نیک عمل کی حرص کرنی چاہئے صحیح حدیثوں ١ ؎ سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ دوسرے درجہ سے پانسو برس کے راستہ کے برابر بلند ہے ان سب درجوں میں اعلیٰ درجہ وہ ہے جس کا نام فردوس ہے اسی کے اوپر عرش معلی ہے اور اس درجہ میں سے جنت کی سب نہریں نکلتی ہیں۔ ١ ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ درجات الجنۃ ص ٨٩ ج ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(83:18) کلا ان کتب الابرار لفی علیین : یہ جملہ مستانفہ ہے ابرار کے حال کے بیان کے لئے ہے۔ کلا حرف ردع ہے تکذیب عذاب سے باز داشت کے لئے آیا ہے۔ یا بمعنی حقا (یقینا) مستعمل ہے۔ مقاتل نے کہا کہ اس جگہ کلا کا مفہوم یہ ہے کہ جس عذاب میں وہ داخل ہوگا اس پر ایمان نہیں لاتا تھا۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ بیشک نیکوں کا روزنامچہ علیین میں ہوگا۔ علیین (1) بعض کے نزدیک یہ سب سے جنت کا اعلیٰ معام ہے جس طرح کہ سجین سب سے بدتر دوزخ کا نام ہے۔ ملاحظہ ہو آیات 83:7 8 متذکرۃ الصدر۔ (2) بعض کا خیال ہے کہ یہ وہاں رہنے والوں کا نام ہے اور عربیت کے لحاظ سے یہی معنی زیادہ قریب ہیں۔ کیونکہ جمع ذوی العقول کے ساتھ مخصوص ہے۔ (3) بعض کہتے ہیں کہ چونکہ یہ ملائکہ کی صفت ہے اس لئے واؤ نون کے ساتھ جمر آئی ہے۔ (4) فراء کا خیال ہے کہ یہ اسم ہے جو جمع کے وزن پر وضع کرلیا گیا ہے مگر اس کے لفظ سے کوئی واحد نہیں آتا۔ جیسے کہ عشرین اور ثلاثین ہیں جو کہ اسم عدد ہیں اور جمع کے وزن پر ہیں مگر جمع نہیں ہیں۔ کیونکہ عشرین اگر جمع ہوتا تو کم از کم تین عشر یعنی تیس کے لئے بولا جاتا۔ حالانکہ اس کے معنی بیس کے ہیں اسی طرح ثلثین اگر ثلث کی جمع ہوتا تو اس کے معنی کم از کم نو (9) کے ہوتے ہیں حالانکہ اس کے معنی تیس (30) کے ہیں۔ اور عرب کا دستور ہے کہ جب وہ ایسی جمع بنائیں کہ جس کے واحد اور تثنیہ کا کوئی صیغہ نہ ہو تو وہ مذکر اور مؤنث دونوں میں واؤ نون کے ساتھ بولا کرتے ہیں۔ علامہ زمخشری نے مندرجہ ذیل اقوال بیان کئے ہیں۔ (1) اس سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا بلند مقامات۔ (2) یہ نیکی کے رجسٹر کا نام ہے کہ جس میں وہ تمام چیزیں مدون ہیں جو کہ فرشتے اور تمام صلحاء جن و انس انجام دیا کرتے ہیں۔ (3) اس کے معنی دوگنی چوگنی بلندی کے ہیں (لغات القرآن) (4) یا یہ ساتویں آسمان پر وہ اعلیٰ مقام ہے جہاں ابرار کی روحیں جمع ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ علیین ایک مقام سماء سابعہ میں ارواح مومین کا مستقر ہے کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔ سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں گے انہیں پیک شدہ (Sealed) شراب پلائی جائے گی جس پر بےمثال قسم کی خوشبو کی مہر ثبت ہوگی اس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت میں پانی کا ایسا چشمہ ہے جس کے پانی کو شراب کے ساتھ ملا کر اللہ کے مقرب بندے پئیں گے، جو لوگ اپنے رب کی نعمتوں کا شوق اور ذوق رکھتے ہیں انہیں جنت اور اس کی نعمتوں کے حصول کے لیے کوشش تیز کردینی چاہیے۔ ان آیات میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جس طرح مجرموں کی ہر حرکت سجیّن میں اندراج کی جاتی ہے اسی طرح ہی نیک لوگوں کا چھوٹا بڑا عمل علییّن میں درج کیا جاتا ہے اور یہ جنتیوں کے ناموں کا دفتر ہے جس کا نام علییّن ہے جو ساتویں آسمان کے اوپر ہے اور اس کی حفاظت اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں۔ مسائل ١۔ ” اللہ “ کے نیک بندوں کے نام اور کام علیین میں لکھے جاتے ہیں۔ ٢۔ علیین ایک دفتر ہے جس کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں۔ ٣۔ جنتی لوگ جنت کے تختوں اور تکیوں پر بیٹھ کر جنت کے نظارے کریں گے۔ ٤۔ جنتی کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات نمایاں طور پر دکھائی دیں گے۔ ٥۔ جنتی کو مہر بند شراب دی جائے گی جس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ ٦۔ تسنیم جنت کے چشموں میں سے ایک چشمے کا نام ہے جس سے اللہ کے مقرب بندے سیر یاب ہوں گے۔ ٧۔ جنت کی نعمتوں کا شوق رکھنے والوں کو اس کے لیے رغبت اور محنت کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں اور جنتیوں کے چہرے میں فرق : ١۔ متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : ٢٦۔ ٢٧) ٢۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کے چہروں پر ذلّت اور نحوست نہیں ہوگی اور وہ جنت میں قیام کریں گے۔ (یونس : ٢٦) ٣۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (الغاشیہ : ٨) ٤۔ مومنوں کے چہرے خوش وخرم ہوں گے۔ (عبس : ٣٨) ٥۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامہ : ٢٢) ٦۔ مومنوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : ٧٣) ٧۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلّت چھائی ہوگی انہیں اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ (یونس : ٢٧) ٨۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوں ہو گے۔ (الحج : ٧٣) ٩۔ کفّار کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : ٤٠) ١٠۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامہ : ٢٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس پیراگراف کے آغاز میں لفظ کلا ” ہرگز نہیں “۔ زجروتوبیخ اور سرزنش کے لئے آیا ہے اور یہ زجر اس سے ماقبلی مذکور ہے۔ ثم یقال ........................ تکذبون (17:83) ” پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے “۔ اس پر بطور نتیجہ کہا ، ہرگز نہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بعد نیک لوگوں کا بیان شروع ہوتا ہے اور یہ مثبت اور تاکیدی انداز میں آتا ہے۔ جس طرح پہلے کہا گیا تھا کہ بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے تو یہاں کہا جارہا ہے کہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہے۔ اور ابرار ” نیکوکار “ وہ لوگ ہیں جو اطاعت کیش اور ہر نیک کام کرنے والے ہیں۔ یہ نافرمانوں اور حد سے گزرنے والوں کے بالمقابل یہاں لائے گئے ہیں۔ لفظ علیین سے علو اور بلندی کا مفہوم ذہن میں آتا ہے ، اور اس سے ہم یہ بات اخذ کرسکتے ہیں کہ سجین کے اندر انحطاط ، پستی اور گراﺅٹ کا مفہوم ہوگا۔ اور اس کے بعد سوال ایک خوفناک سوال آتا ہے جو بتاتا ہے کہ مخاطب کو معلوم نہیں ہے کہ علییون ہے کیا ؟ مطلب یہ ہے کہ تم ان بلندیوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ مقام تمہارے حد ادراک سے ماوراء ہے۔ اس اشاراتی فضا سے نکل کر اب روئے سخن نیکوکاروں کے اعمال نامے کی طرف مڑ جاتا ہے تو وہ کیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس سے پہلے یہ بتایا تھا کہ فجار کا اعمال نامہ سجین میں رہے گا۔ اب یہاں یہ فرمایا کہ نیک بندوں کا اعمال نامہ علیین میں رہے گا اور یہ بھی فرمایا کہ جانتے ہو علیین کیا ہے پھر خود ہی فرمایا کہ وہ نشان کیا ہوا دفتر ہے جس کو مقرب فرشتے دیکھتے ہیں۔ سجین ساتویں زمین میں ایک مقام ہے جو ارواح کفار کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور علیین ساتویں آسمان میں مومنین کی روحوں کے رہنے کی جگہ ہے۔ حضرات براء بن عازب (رض) سے ایک طویل حدیث مروی ہے جس میں مومنین کی موت کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مومنین کی موت کے وقت فرشتے تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے روح اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا مندی کی طرف نکل کر چل، چناچہ اس کی روح اس طرح سہولت سے نکل آتی ہے جیسے مشکیزہ میں سے (پانی کا) قطرہ بہتا ہوا باہر آجاتا ہے۔ پس اسے حضرت ملک الموت (علیہ السلام) لے لیتے ہیں، ان کے ہاتھ میں لیتے ہی دوسرے فرشتے (جو دور تک بیٹھتے ہوتے ہیں) پل بھر بھی ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے حتیٰ کہ اسے لے کر اسی کفن اور خوشبو میں رکھ کر آسمان کی طرف چل دیتے ہیں، اس خوشبو کے متعلق ارشاد فرمایا کہ زمین پر جو کبھی عمدہ سے عمدہ خوشبو مشک کی پائی گئی ہے اس جیسی وہ خوشبو ہوتی ہے۔ پھر فرمایا کہ اس روح کو لے کر فرشتے (آسمان کی طرف) چڑھنے لگتے ہیں اور فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ان کا گزر ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ کون پاکیزہ روح ہے ؟ وہ اس کا اچھے سے اچھا نام لے کر جواب دیتے ہیں جس سے دنیا میں بلایا جاتا تھا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہے، اسی طرح پہلے آسمان تک پہنچتے ہیں اور آسمان کا دروازہ کھلواتے ہیں چناچہ دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ (اور وہ اس روح کو لے کر اوپر چلے جاتے ہیں) حتیٰ کہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں، ہر آسمان کے مقربین دوسرے آسمان تک اسے رخصت کرتے ہیں (جب ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں) تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندہ کو کتاب علیین میں لکھ دو اور کافر کی موت کے بارے میں فرمایا کہ بلاشبہ جب کافر بندہ دنیا سے جانے اور آخرت کا رخ کرنے کو ہوتا ہے تو سیاہ چہروں والے فرشتے آسمان سے اس کے پاس آتے ہیں جن کے ساتھ ٹاٹ ہوتے ہیں اور اس کے پاس اتنی دور تک بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے پھر ملک الموت تشریف لاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ اے خبیث جان ! اللہ کی ناراضگی کی طرف نكل، ملک الموت کا یہ فرمان سن کر روح اس کے جسم میں ادھر ادھر بھاگی پھرتی ہے۔ لہٰذا ملک الموت اس کی روح کو جسم سے اس طرح نکالتے ہیں جیسے بوٹیاں بھوننے کی سیخ بھیگے ہوئے اون سے صاف کی جاتی ہے (یعنی کافر کی روح کو جسم سے زبردستی اس طرح سے نکالتے ہیں جس طرح بھیگا ہوا اون کانٹے دار سیخ پر لپٹا ہوا ہو اور اس کو زور سے کھینچا جائے) پھر اس کی روح کو ملک الموت اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں لیتے ہی دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کے برابر بھی ان کے پاس نہیں چھوڑتے، حتیٰ کہ فوراً ان سے لے کر اس کو ٹاٹوں میں لپیٹ دیتے ہیں (جو ان کے پاس ہوتے ہیں) اور ان ٹاٹوں میں ایسی بدبو آتی ہے جیسے کبھی کسی بدترین سڑی ہوئی مردہ نعش سے روئے زمین پر بدبو پھوٹی ہو، وہ فرشتے اسے لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں اور فرشتوں کی جس جماعت پر بھی پہنچتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ کون خبیث روح ہے ؟ وہ اس کا برے سے برا وہ نام لے کر کہتے ہیں جس سے وہ دنیا میں بلایا جاتا تھا کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہے حتیٰ کہ وہ اسے لے کر پہلے آسمان تک پہنچتے ہیں اور کھلوانا چاہتے ہیں مگر اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے (الاعراف : ٤٠) فرمایا ہے : ﴿ لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَاب السَّمَآءِ وَ لَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ﴾۔ (ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھلے جائیں گے اور نہ کبھی جنت میں داخل ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکہ میں نہ چلا جائے) اور اونٹ سوئی کے ناکہ میں نہیں جاسکتا لہٰذا وہ بھی جنت میں نہیں جاسکتے۔ پھر اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ اس کو کتاب سجین میں لکھ دو جو سب سے نیچی زمین میں ہے، چناچہ اس کی روح (وہیں سے) پھینک دی جاتی ہے، پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

8:۔ ” کلا ان کتب الابرار “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور کلا بمعنی حقا ہے۔ ” علیین “ ساتویں آسمان پر عرش عظیم کے نیچے ایک مقام ہے جو انبیاء (علیہم السلام) اور ابرار و اخیار کی روحوں کا مسکن ہے اس میں مؤمنوں کے اعمالنامے رکھے جاتے ہیں اور اس کے دفتر میں مومنوں کے نام درج کیے جاتے ہیں ابرابر کے لیے یہ لکھا جا چکا ہے کہ وہ موت کے بعد پہلے علیین میں جائیں گے جس دفتر (رجسٹر) میں مومنوں کے نام درج کیے جاتے ہیں وہاں کتابت و اندراج کے وقت مقرب فرشتے موجود ہوتے ہیں۔ یشہدہ المقربون یعنی الملائکۃ الذین ھم فی علیین یشہدون ویحضرون ذلک المکتوب (کبیر ج 8 ص 505) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) ہرگز یوں نہیں بلکہ نیک لوگوں کا نامہ اعمال علیین یعنی اعلیٰ ترین مقام رہے گا۔