Surat ul Mutafifeen

Surah: 83

Verse: 23

سورة المطففين

عَلَی الۡاَرَآئِکِ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿ۙ۲۳﴾

On adorned couches, observing.

مسہریوں میں بیٹھے دیکھ رہے ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

عَلَى الاَْرَايِكِ ... On thrones, These are thrones beneath canopies from which they will be gazing. It has been said, "This means that they will be gazing at their kingdom and what Allah has given them of good and bounties that will not end or perish." It has also been said, عَلَى الاَْرَايِكِ يَنظُرُونَ On thrones, looking. "This means that they will be looking at Allah, the Mighty and Sublime." This is the opposite of what those wicked people have been described with, كَلَّ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَيِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ (Nay! Surely, they (evildoers) will be veiled from seeing their Lord that Day.) (83:15) Thus, it has been mentioned that these (righteous people) will be allowed to look at Allah while they are upon their thrones and elevated couches. Concerning Allah's statement, تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

عَلَي الْاَرَاۗىِٕكِ يَنْظُرُوْنَ۝ ٢٣ ۙ أريك الأريكة : حجلة علی سریر، جمعها : أرائك، وتسمیتها بذلک إمّا لکونها في الأرض متّخذة من أراكٍ ، وهو شجرة، أو لکونها مکانا للإقامة من قولهم : أَرَكَ بالمکان أُرُوكاً «9» . وأصل الأروك : الإقامة علی رعي الأراك، ثم تجوّز به في غيره من الإقامات . ( ارک ) الاریکۃ ( مسہری ) حجلہ ( چھرکھٹ) جو سر پر یعنی تخت کے اوپر رکھا ہوا اس کی جمع ادائک ہے اور اسے اریکۃ کہنے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ ارض یعنی دنیا میں اراک دپیلو کی لکڑی ) سے بنایا جاتا ہے جو ایک قسم کا درخت ہے اور یا محل اقامت ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ ادک بالمکان اروکا سے مشتق ہے جس کے اصل معنی کسی جگہ پر اراک ( یعنی پیلو ) کے پتے چرنے کے لئے ٹہرنا کے ہیں پھر مطلق ٹھہرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ ( اس لئے جنت کے چھپر کھٹوں کو جو اہل جنت کی اقامت گاہ ہوں گے ۔ ارائک (18 ۔ 21) کہا گیا ہے ) نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، وقال : إِلى طَعامٍ غَيْرَ ناظِرِينَ إِناهُ [ الأحزاب/ 53] أي : منتظرین، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو دیکھنے یا اس کا ادراک کرنے کے لئے آنکھ یا فکر کو جو لانی دینے کے ہیں ۔ پھر کبھی اس سے محض غو ر وفکر کرنے کا معنی مراد لیا جاتا ہے اور کبھی اس معرفت کو کہتے ہیں جو غور وفکر کے بعد حاصل ہوتی ہے ۔ چناچہ محاور ہ ہے ۔ نظرت فلم تنظر۔ تونے دیکھا لیکن غور نہیں کیا ۔ چناچہ آیت کریمہ : قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمانوں اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ۔ اور النظر بمعنی انتظار بھی آجاتا ہے ۔ چناچہ نظرتہ وانتظرتہ دونوں کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] اور نتیجہ اعمال کا ) تم بھی انتظار کرو ۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(83:23) علی الارانک ینظرون : جملہ سابقہ سے حال ہے الا رائک جمع اریکۃ کی۔ وہ مزین تخت جس پر پردہ لٹکا ہوا ہو۔ ینظرون مضارع جمع مذکر غائب نظر (باب نصر) مصدر سے۔ وہ دیکھ رہے ہوں گے وہ نظارے کر رہے ہوں گے۔ (جنت کے عجائبات و مناظر کا) یا جمال الٰہی کا۔ چونکہ یہ (ینظرون) محجربون کے مقابلہ میں آیا ہے اس لئے قرینہ بھی اسی معنی کو چاہتا ہے ۔ (تفسیر ماجدی) ۔ ترجمہ آیات 22:23:۔ بیشک نیک لوگ عیش میں ہوں گے درآنحالیکہ تختوں پر بیٹھے ہوئے جمال الٰہی کا نظارہ کر رہے ہوں گے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 دیکھنے سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دوزخیوں کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور یہ بھی کہ وہ دیدار الٰہی سے اپنی آنکھوں کو شاد کر رہے ہوں گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

علی .................... ینظرون (23:83) ” اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کررہے ہوں گے “۔ یعنی نہایت ہی مکرم مقام پر ہوں گے۔ اور اس مقام پر یہ جہاں چاہیں گے ، سیر کرتے پھریں گے۔ ذلت و خواری کی وجہ سے ان کی نظریں سہمی ہوئی نہ ہوں گی۔ اور نہ تھک تھکا کر وہ آنکھیں بند کرلیں گے۔ یہ لوگ تختوں پر اور مسندوں پر بیٹھے ہوں گے اور نظارے کررہے ہوں گے جس طرح حجلہ عروسی پہ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔ عربوں کے نزدیک عیش و عشرت اور نعمت اور آرام کا یہ ارفع مقام ہوا کرتا تھا کہ کوئی حجلہ عروسی میں ہو ، اور اونچی اوانچی مسندوں پر آرام سے بیٹھا ہو کیونکہ بالعموم ایک عربی کی زندگی سخت مشقت کی زندگی ہوتی ہے۔ یہ تو دنیاوی زندگی کی ایک تمثیل ہے۔ آخرت میں جو صورت ہوگی وہ ناقابل تصور حد تک ارفع وبلند ہوگی۔ اور ان کے بلند سے بلند تصور سے بھی اعلیٰ وارفع ہوگی۔ اور زمین اور اس دنیا کے اونچے سے اونچے تصور اور تجربے سے بھی اونچی ہوگی۔ ان نعمتوں میں وہ جسمانی طور پر بھی نرم ونازک ہوں گے۔ اور ان کی اسی نزاکت اور نرمی اور خوشی اور خوشحالی کے اثرات ان کے چہرے سے ظاہر ہوں گے۔ اور ہر آدمی اس کا مشاہدہ کررہا ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(23) مسہریوں پر بیٹھے نظارہ کررہے ہوں گے یعنی بہشت کے عجائب وغرائب کی سیر کرتے ہوں گے یا دیدار الٰہی کا نظارہ کرتے ہوں گے۔