Surat ul Mutafifeen
Surah: 83
Verse: 7
سورة المطففين
کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الۡفُجَّارِ لَفِیۡ سِجِّیۡنٍ ؕ﴿۷﴾
No! Indeed, the record of the wicked is in sijjeen.
یقیناً بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے ۔
کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الۡفُجَّارِ لَفِیۡ سِجِّیۡنٍ ؕ﴿۷﴾
No! Indeed, the record of the wicked is in sijjeen.
یقیناً بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے ۔
The Record of the Wicked and some of what happens to Them Allah says truly, كَلَّ إِنَّ كِتَابَ الفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ Nay! Truly, the Record of the wicked is in Sijjin. meaning, that their final destination and their abode will be in Sijjin, which is derived from the word prison (Sijn), and here it means straitened circumstances. Thus, Allah expresses the greatness of this matter, saying; وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا سجین ہے یہ لفظ فعیل کے وزن پر سجن سے ماخوذ ہے سجن کہتے ہیں لغتا تنگی کو ضییق شریب خمیر سکیر وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی سجین ہے پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے حضرت براء بن عازب کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی کتاب سجین میں لکھ لو اور سجین ساتویں زمین کے نیچے ہے کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے ابن جریر کی ایک غریب منکر اور غیر صحیح حدیث میں ہے کہ فلق جہنم کا ایک منہ بند کردہ کنواں ہے اور سجین کھلے منہ والا گڑھا ہے صحیح بات یہ ہے کہ اس کے معنی ہیں تنگ جگہ جیل خانہ کے نیچے کی مخلوق میں تنگی ہے اور اوپر کی مخلوق میں کشادگی آسمانوں میں ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے کشادہ ہے اور زمینوں میں ہر نیچے کی زمین اوپر کی زمین سے تنگ ہے یہاں تک کہ بالکل نیچے کی تہہ بہت تنگ ہے اور سب سے زیادہ تنگ جگہ ساتویں زمین کا وسطی مرکز ہے چونکہ کافروں کے لوٹنے کی جگہ جہنم ہے اور وہ سب سے نیچے ہے ۔ اور جگہ ہے آیت ( ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ Ĉۙ ) 95- التين:5 ) یعنی ہم نے اسے پھر نیچوں کا نیچ کر دیا ہاں جو ایمان والے اور نیک اعمال والے ہیں غرض سجین ایک تنگ اور تہہ کی جگہ ہے جیسے قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا ہے آیت ( وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا 13ۭ ) 25- الفرقان:13 ) جب وہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پاؤں جکڑ کر ڈال دئیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے ۔ کتاب مرقوم یہ سجین کی تفسیر نہیں بلکہ یہ اس کی تفسیر ہے جو ان کے لیے لکھا جا چکا ہے کہ آخرش جہنم میں پہنچیں گے ان کا یہ نتیجہ لکھا جا چکا ہے اور اس سے فراغت حاصل کر لی گئی ہے نہ اب اس میں کچھ زیادتی ہو نہ کمی ، تو فرمایا ان کا انجام سجین ہونا ہماری کتاب میں پہلے سے ہی لکھا جا چکا ہے ان جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی ہو گی انہیں جہنم کا قید خانہ اور رسوائی والے المناک عذاب ہوں گے ویل کی مکمل تفسیر اس سے پہلے گزر چکی ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ ان کی ہلاکی بربادی اور خرابی ہے جیسے کہا جاتا ہے ویل لفلان مسند اور سنن کی حدیث میں ہے ویل ہے اس شخص کے لیے جو کوئی جھوٹی بات کہہ کر لوگوں کو ہنسانا چاہے اور اسے ویل ہے اسے ویل ہے پھر ان جھٹلانے والے بدکار کافروں کی مزید تشریح کی اور فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو روز جزاء کو نہیں مانتے اسے خلاف عقل کہہ کر اس کے واقع ہونے کو محال جانتے ہیں پھر فرمایا کہ قیامت کا جھٹلانا انہی لوگوں کا کام ہے جو اپنے کاموں میں حد سے بڑھ جائیں اسی طرح اپنے اقوال میں گنہگار ہوں جھوٹ بولیں وعدہ خلافی کریں گالیاں بکیں وغیرہ یہ لوگ ہیں کہ ہماری آیتوں کو سن کر انہیں جھٹلاتے ہیں بدگمانی کرتے ہیں اور کہہ گزرتے ہیں کہ پہلی کتابوں سے کچھ جمع اکٹھا کر لیا ہے جیسے اور جگہ فرمایا آیت ( وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ مَّاذَآ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوْٓا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ 24ۙ ) 16- النحل:24 ) جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا کچھ نازل فرمایا تو کہتے ہیں اگلوں کے افسانے ہیں اور جگہ ہے آیت ( وقالوا اساطیر الاولین کتتبھا فھی تملی علیہ بکرۃ وعشیا ) یعنی یہ کہتے ہیں کہ اگلوں کے قصے ہیں جو اسے صبح شام لکھوائے جا رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں جواب میں فرماتا ہے کہ واقعہ ان کے قول اور ان کے خیال کے مطابق نہیں بلکہ دراصل یہ قرآن کلام الٰہی ہے اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے پر نازل کی ہے ہاں ان کے دلوں پر ان کے بداعمال نے پردے ڈال دئیے ہیں گناہوں اور خطاؤں کی کثرت نے ان کے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے کافروں کے دلوں پر رین ہوتا ہے اور نیک کار لوگوں کے دلوں پر غیم ہوتا ہے ترمذی نسائی ابن ماجہ وغیرہ میں رسول اللہ صیل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کر لیتا ہے تو اس کی صفائی ہو جاتی ہے اور اگر گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی پھیلتی جاتی ہے اسی کا بیان کلا بل ران میں ہے نسائی کے الفاظ میں کچھ اختلاف بھی ہے مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ گناہوں پر گناہ کرنے سے دل اندھا ہو جاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے پھر فرمایا کہ یہ لوگ ان عذابوں میں مبتلا ہو کر دیدار باری سے بھی محروم اور محجوب کر دئیے جائیں گے حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس میں دلیل ہے کہ مومن قیامت کے دن دیدار باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے امام صاحب کا یہ فرمان بالکل درست ہے اور آیت کا صاف مفہوم یہی ہے اور دوسری جگہ کھلے الفاظ میں بھی یہ بیان موجود ہے فرمان ہے آیت ( وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ 22ۙ ) 75- القيامة:22 ) یعنی اس دن بہت سے چہرے تروتازہ ہوں گے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے صحیح اور متواتر احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ ایمان دار قیامت والے دن اپنے رب عز و جل کو اپنی آنکھوں سے قیامت کے میدان میں اور جنت کے نفیس باغیچوں میں دیکھیں گے حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حجاب ہٹ جائیں گے اور مومن اپنے رب کو دیکھیں گے اور کافر پھر کافروں کو پردوں کے پیچھے کر دیا جائیگا البتہ مومن ہر صبح و شام پروردگار عالم کا دیدار حاصل کریں گے یا اسی جیسا اور کلام ہے پھر فرماتا ہے کہ برے لوگ نہ صرف دیدار الٰہی سے ہی محروم رہیں گے بلکہ یہ لوگ جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور انہیں حقارت ذلت اور ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر غصہ کے ساتھ کہا جائیگا کہ یہی وہ جسے تم جھٹلاتے رہے ۔
7۔ 1 سِجِیْن بعض کہتے ہیں سِجْن (قید خانہ) سے ہے، مطلب ہے کہ قید خانہ کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک جگہ ہے، جہاں کافروں، ظالموں اور مشرکوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے جمع اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے آگے اسے لکھی ہوئی کتاب قرار دی ہے۔
[٥] یعنی تمہارا یہ خیال باطل ہے کہ نہ قیامت آنی ہے اور نہ تمہارا محاسبہ ہونا ہے۔ بلکہ تمہارا محاسبہ ہوگا اور ضرور ہوگا۔ [٦] سجین۔ سجن بمعنی قید خانہ، جیل اور سجن بمعنی عدالت کا ثبوت جرم کے بعد بطور سزا کسی کو قید میں ڈال دینا۔ اور سجین سے مراد وہ مقام یا دفتر ہے جہاں بدکردار لوگوں کے اعمال نامے بھی محفوظ کرلیے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی ارواح بھی تاقیام قیامت اسی مقام پر قید رکھی جاتی ہیں۔ بعض اسلاف کے نزدیک یہ مقام سات زمینوں کے نیچے ہے۔
(کلا ان کتب الفجار لفی سجین…:” کلا “ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ تم جس طرح چاہو اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے ماپ تول میں کمی کرتے رہو اور وہ وقت ہی نہ آئے کہ تم سے اس ظلم کے متعلق باز پرس ہو۔ نہیں، بلکہ نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔” سجین “ ” سجن “ سے مبالغہ ہے، جس کا معنی قید خانہ ہے۔ ق اسوس میں ہے ” السجین الدائم الشدید “ یعنی دائمی قید ۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں کے نام اور ان کے اعمال محفوظ ہیں (گویا یہ دائمی قید والوں کا رجسٹر ہے) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ” سجین “ کی وضاحت کی ہے کہ وہ ” کتب مرقوم “ یعنی ایک واضح لکھی ہوئی کتاب ہے، جس میں کوئی کمی بیشی یا رد و بدل نہیں ہوسکتا کہ کوئی نام یا عمل داخل کردیا جائے یا مٹا دیا جائے۔” ویل یومئذ للمکذبین “ سے معلوم ہوا کہ ماپ تول میں کمی کرنے والے درحقیقت قیامت کے دن پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔
Sijjin and ` illiyin كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ (Never! [ i.e. they should never forget that Day.] Indeed the Record of Deeds of the sinners is in sijjin. [ 83:71& The word sijjin is derived from sajana which means to &imprison in a narrow place&. According to Qamus, the word sijjin means &eternal imprisonment&. Traditions indicate that sijjin is a special place where the souls of the non-believers are kept, and in the same place, the Record of the evil deeds of every wicked person is kept separately. It is also possible that in this there is a consolidated book in which the deeds of all the non-believers of the world are recorded. Where is this place? According to a lengthy hadith reported by Sayyidna Bara& Ibn ` Azib (رض) ، the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said that sijjin is beneath the seventh level of the earth, and ` illiyin is in the seventh heaven beneath the Divine Throne. [ Baghawi, and Ahmad etc., as quoted by Mazhari ]. According to certain Traditions, sijjin is the seventh earth which contains the souls of the disbelievers, and ` illiyin is the seventh heaven which contains the souls of the believers. The Locale of Paradise and Hell Baihaqi has recorded a narration from Sayyidna ` Abdullah Ibn Salam (رض) that Paradise is in the heaven, and Hell is in the earth. Ibn Jarir cites in his commentary on the authority of Sayyidna Mu&adh Ibn Jabal (رض) a narrative of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، according to which he was asked about the meaning of the following verse: وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ &and Jahannam (Hell), on that day, will be brought forward, [ 89:23] & The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked from where the Hell be brought forward? He replied: |"From the seventh earth.|" These narratives indicate that Hell will be brought forward from the seventh earth. It will suddenly flare up there, and all the oceans will join its blazing fire, and come forward in full view of all. This interpretation is reconcilable with narratives that define sijjin as the name of a place in Hell. [ Mahari ]. And Allah knows best!
سبحین اور علیین كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ ، سجین، بکسر سین وتشدید جیم بروزن سکین و سجن سے مشتق ہے جس کے معنے تنگ جگہ میں قید کرنے کے ہیں۔ قاموس میں ہے کہ سجین کے معنے دائمی قید کے ہیں اور احادیث وآثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سجین ایک مقام خاص کا نام ہے اور کفار فجار کی ارواح کا مقام یہی ہے اور اسی مقام میں انکے اعمال نامے رہتے ہیں، جسکا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اعمالنامے اس جگہ میں محفوظ کردیئے جاتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس جگہ کوئی ایسی کتاب جامع ہو جس میں تمام دنیا کے کفار و فجار کے اعمال لکھدیئے جاتے ہیں۔ یہ مقام کس جگہ ہے اس کے متعلق حضرت برا بن عازب کی طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سبحین ساتویں زمین کے نچلے طبق میں ہے اور علیین ساتویں آسمان میں زیر عرش ہے (اخرجہ البغوی بسندہ واخرجہ احمد وغیرہ از مظہری) بعض روایات حدیث میں یہ بھی ہے کہ سبحین کفار و فجار کی ارواح کا مستقر ہے اور علیین، مومین مستقین کی اروح کی جگہ ہے۔ جنت اور دوزخ کا مقام بیہقی نے دلائل نبوت میں حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کیا ہے کہ جنت آسمان میں ہے جہنم زمین میں، اور ابن جریر نے اپنی تفسیر میں حضرت معاذ بن جبل سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وال کیا گیا کہ قرآن کریم میں جو یہ آیا ہے کہ قیامت کے روز جہنم کو لایا جائے گا وجا یومئذ بجھنم اس کا مطلب کیا ہے، جہنم کو کہاں سے لایا جائے گا تو آپ نے فرمایا کہ جہنم کو ساتویں زمین سے لایا جائے گا۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم ساتویں زمین میں ہے وہیں سے بھڑک کر سارے سمندر اور دریا اس کی آگ میں شامل ہوجائیں گے اور سب کے سامنے آجائے گی۔ جہنم کے لائے جانیکا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے۔ اس طرح جن روایات میں یہ آیا ہے کہ سبحین جہنم کے ایک مقام کا نام ہے وہ بھی اس پر منطبق ہوگا ی، (مظہری) واللہ اعلم
كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِيْ سِجِّيْنٍ ٧ ۭ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں ( سے ) عہد لے لیا ہے ہر گز نہیں ۔ لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ہرگز نہیں ۔ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] کچھ شک نہیں کہ خدا نے سے جو حکم دیا ۔ اس نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا ۔ اور اس نوع کی اور بھی بہت آیات ہیں ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو فجر الْفَجْرُ : شقّ الشیء شقّا واسعا كَفَجَرَ الإنسان السّكرَيقال : فَجَرْتُهُ فَانْفَجَرَ وفَجَّرْتُهُ فَتَفَجَّرَ. قال تعالی: وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، فَتُفَجِّرَ الْأَنْهارَ [ الإسراء/ 91] ، تَفْجُرَ لَنا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعاً [ الإسراء/ 90] ، وقرئ تفجر . وقال : فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] ، ومنه قيل للصّبح : فَجْرٌ ، لکونه فجر اللیل . قال تعالی: وَالْفَجْرِ وَلَيالٍ عَشْرٍ [ الفجر/ 1- 2] ، إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً [ الإسراء/ 78] ، وقیل : الفَجْرُ فجران : الکاذب، وهو كذَنَبِ السَّرْحان، والصّادق، وبه يتعلّق حکم الصّوم والصّلاة، قال : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى اللَّيْلِ [ البقرة/ 187] . ( ف ج ر ) الفجر کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھا ڑ نے اور شق کردینے کے ہیں جیسے محاورہ ہے فجر الانسان السکری اس نے بند میں وسیع شکاف ڈال دیا فجرتہ فانفجرتہ فتفجر شدت کے ساتھ پانی کو پھاڑ کر بہایا قرآن میں ہے : ۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] اور زمین میں چشمے جاری کردیئے ۔ وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی اور اس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو ۔ تَفْجُرَ لَنا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعاً [ الإسراء/ 90] جب تک کہ ہمارے لئے زمین میں سے چشمے جاری ( نہ) کردو ۔ اور ایک قرآت میں تفجر ( بصیغہ تفعیل ) ہے ۔ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ۔ اور اسی سے صبح کو فجر کہا جاتا ہے کیونکہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَالْفَجْرِ وَلَيالٍ عَشْرٍ [ الفجر/ 1- 2] فجر کی قسم اور دس راتوں کی ۔ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً [ الإسراء/ 78] کیونکہ صبح کے وقت قرآن پڑھنا موجب حضور ( ملائکہ ) ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ فجر دو قسم پر ہے ایک فجر کا ذب جو بھیڑیئے کی دم کی طرح ( سیدھی روشنی سی نمودار ہوتی ہے دوم فجر صادق جس کے ساتھ نماز روزہ وغیرہ احکام تعلق رکھتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى اللَّيْلِ [ البقرة/ 187] یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری رات کی ) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے پھر روزہ ( رکھ کر ) رات تک پورا کرو سِّجِّينُ : اسم لجهنم، بإزاء علّيّين، وزید لفظه تنبيها علی زيادة معناه، وقیل : هو اسم للأرض السابعة قال : لَفِي سِجِّينٍ وَما أَدْراكَ ما سِجِّينٌ [ المطففین/ 7- 8] ، وقد قيل : إنّ كلّ شيء ذكره اللہ تعالیٰ بقوله : وَما أَدْراكَ فسّره، وكلّ ما ذکر بقوله : وَما يُدْرِيكَ تركه مبهما وفي هذا الموضع ذکر : وَما أَدْراكَ ، وکذا في قوله : وَما أَدْراكَ ما عِلِّيُّونَ [ المطففین/ 19] ثم فسّر الکتاب لا السّجّين والعليّين، وفي هذه لطیفة موضعها الکتب التي تتبع هذا الکتاب إن شاء اللہ تعالی، لا هذا . السِّجِّينُ یہ علّيّين کے مقابلہ میں جہنم کا نام ہے اور اس میں الفاظ کی زیادتی ، معنی کی زیادتی پر دال ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ زمین کے ساتویں طبقہ کا نام ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفِي سِجِّينٍ وَما أَدْراكَ ما سِجِّينٌ [ المطففین/ 7- 8]( بد کار لوگوں کے نامہ اعمال ) سجین میں ہوں گے اور تم کیا جانو کہ سجین کیا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ عام طور پر جس چیز کو قرآن نے ما ادراک کے ساتھ فرمایا ہے اسے بعد میں بیان کردیا گیا ہے اور جسے ما یدریک کے ساتھ بیان کیا ہے اسے مبہم چھوڑ دیا ہے لیکن یہاں باوجود اس کے کہ سجین اور علیین کو ما ادراک کے بعد بیان فرمایا ہے پھر بھی انہیں مبہم رکھا گیا ہے اور کتاب کی تفسیر بیان فرما دی ہے تو اس میں ایک باریک نکتہ ہے جسے اس کتاب کے بعد دوسری جگہ پر بیان کیا جائے گا ۔
(٧۔ ١٠) کافروں کے نامہ اعمال سجین میں رہیں گے اور آپ کو معلوم بھی ہے کہ سجین میں رکھا ہوا نامہ اعمال کیا چیز ہے وہ ساتویں زمین کے نیچے سبز پتھر پر انسانوں کے نامہ اعمال کا دفتر ہے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کو سخت عذاب ہوگا۔
آیت ٧{ کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ ۔ } ” ہرگز نہیں ! یقینا گناہگاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔ “ عام طور پر کتاب سے یہاں اعمال نامہ ہی مراد لیا گیا ہے کہ کافر و فاجر لوگوں کے اعمال نامے ” سِجِّین “ میں ‘ جبکہ نیک لوگوں کے اعمال نامے ” عِلِّیّین “ (بحوالہ آیت ١٨) میں ہوں گے۔ تاہم بعض احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ” سجین “ ایک مقام ہے جہاں اہل دوزخ کی روحیں محبوس ہوں گی ‘ جبکہ اہل جنت کی ارواح ” علیین “ میں ہوں گی۔ چناچہ سجین اور علیین کا یہ فرق صرف اعمال ناموں کو رکھنے کے اعتبار سے نہیں ہوسکتا۔ اس حوالے سے میرے غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے خاکی جسم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو روح پھونکی گئی ہے وہ ایک نورانی چیز ہے۔ انسان اچھے برے جو بھی اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی روح پر مترتب ہوتے رہتے ہیں ‘ جیسے آواز کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے ٹیپ کے فیتے ‘ سی ڈی یا مائیکرو کارڈ وغیرہ پر اس آواز کے اثرات نقش ہوجاتے ہیں۔ چناچہ انسانوں کی ارواح جب اس دنیا سے جاتی ہیں تو اعمال کے اثرات اپنے ساتھ لے کر جاتی ہیں۔ ان ” اثرات “ کی وجہ سے ہر روح دوسری روح سے مختلف ہوجاتی ہے اور یوں نیک اور برے انسانوں کی ارواح میں زمین آسمان کا فرق واقع ہوجاتا ہے۔ چناچہ میری رائے میں انسانی ارواح پر ثبت شدہ اثراتِ اعمال کو یہاں لفظ ” کتاب “ سے تعبیر کیا گیا ہے ‘ یعنی انسانی ارواح اعمال کے اثرات لیے ہوئے جب اس دنیا سے جائیں گی تو برے اعمال کے اثرات والی ارواح کو سجین میں رکھا جائے گا۔ سجن کے معنی ” جیل خانہ “ کے ہیں۔ گویا برے لوگوں کی ارواح کو وہاں کسی جیل نما جگہ میں بند کردیا جائے گا ‘ جیسے ضلعی انتظامیہ کے ” محافظ خانے “ میں پرانی فائلوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔
4 That is, "These people are wrong in thinking that they will be let off without being called to account when they have committed such and such crimes in the world. " 5 The word sijjin in the original is derived from sijn (a prison) and the explanation of it that follows shows that it implies the general Register in which the actions and deeds of the people worthy of punishment are being recorded.
سورة الْمُطَفِّفِيْن حاشیہ نمبر :4 یعنی ان لوگوں کا یہ گمان غلط ہے کہ دنیا میں ان جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد یہ یونہی چھوٹ جائیں گے اور کبھی ان کو اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر نہ ہونا پڑے گا ۔ سورة الْمُطَفِّفِيْن حاشیہ نمبر :5 اصل میں لفظ سجین استعمال ہوا ہے جو سجن ( جیل یا قید خانے ) سے ماخوذ ہے اور آگے اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد رجسٹر ہے جس میں سزا کے مستحق لوگوں کے اعمال نامے درج کیے جا رہے ہیں ۔
2: سجّین کے لفظی معنیٰ قید خانے کے ہیں۔ یہ اُس جگہ کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد کافروں کی رُوحوں کو رکھا جاتا ہے۔ وہیں پر اُن کا اعمال نامہ بھی موجود رہتا ہے۔
٧۔ ١٧۔ جو لوگ قیامت کے دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے کہ یہ لوگ ہیں پھر فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بد لوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں چناچہ ابو داؤد اور مسند ١ ؎ امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے ہیں تو ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا خدا کا حکم نہیں ہوتا بلکہ یہ حکم ہوتا ہے کہ ایسے روح کو زمین پر پھینک دو اور ایسے بد لوگوں کے اعمال کا حوالہ ساتویں زمین کے اس دفتر میں لکھ لو جس کا نام سجین ہے۔ اس حکم کے موافق اس کے اعمال نامہ کا حوالہ سجین میں لکھ لیا جاتا ہے اور اس کی روح کو قبر کے سوال و جواب کے لئے پھر جس میں پھونک دیا جاتا ہے۔ منذری ٢ ؎ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کی بڑی خرابی ہے جو جزا و سزا کے منکر ہیں اور آیات قرآنی کو قصہ کہانی بتاتے ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے منکر وہی لوگ ہیں جو گناہ کے کرنے میں حد سے بڑھ گئے اور کثرت گناہوں سے ان کے دل پر زنگ آگیا ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی ٣ ؎ نسائی وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس وقت کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک چھوٹا سا داغ پڑجاتا ہے پھر اگر اس گناہ کے بعد اس شخص نے خالص دل سے توبہ و استغفار کرلی تو وہ داغ دل پر سے جاتا رہتا ہے اور اس شخص کا دل صاف ہوجاتا ہے اور اگر وہ شخص بغیر توبہ و استغفار کے گناہ پر گناہ کرتا رہا تو رفتہ رفتہ ایسے شخص کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے یہ حدیث فرما کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون پڑھی۔ غرض اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کم تولنے اور ناپنے والوں کا ذکر فرما کر پھر دل کے زنگ کا تذکرہ فرمایا ہے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ کم تولنے کی گناہ کی عادت سے ان لوگوں کے دل سیاہ ہوگئے ہیں اور دل کے سیاہ ہوجانے کے سبب سے ان لوگوں کے دل پر نصیحت کا اثر نہیں ہوتا۔ اس واسطے باوجود نصیحت کے یہ لوگ اپنی بری عادتیں نہیں چھوڑتے اور حساب و کتاب کے لئے خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا خوف ان کے دل میں باقی نہیں رہا۔ بغیر توبہ کے گناہ کی عادت ڈالنے کو اصرار کہتے ہیں ہیں جو لوگ گناہ پر اصرار نہیں کرتے ان لوگوں کی اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران میں تعریف اس لئے فرمائی ہے کہ صغیر گناہوں پر اصرار کرتے کرتے آدمی کبیرہ گناہ کرنے لگتا ہے اور کبیرہ گناہ کے اصرار سے اخیر کو آدمی کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے۔ یہ جو ایک قول مشہور ہے کہ صغیرہ گناہ پر اصرار کرنے سے کبیرہ گناہ بن جاتا ہے کسی حدیث سے اس قول کی تائید نہیں ہوتی ہاں حدیث شریف سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ صغیرہ گناہ پر اصرار کرنے سے جس آدمی کے نامہ اعمال میں صغیرہ گناہوں کا ایک بڑا مجموعہ ہوجائے تو شریعت میں ایسے شخص کی حالت ایک خوفناک حالت ہوجاتی ہے معتبر سند سے مسند ١ ؎ امام احمد میں حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ صغیرہ گناہوں کی عادت سے ہر شخص کو بچنا چاہئے کیونکہ صغیرہ گناہ کی عادت پڑجانے کے سبب سے جب صغیرہ گناہوں کا مجمعہ بڑھ جائے گا تو انسان کی ہلاکت کا خوف ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مثال کے طور پر فرمایا کہ ایک صغیرہ گناہ گویا ایک لکڑی ہے اور بہت سے صغیرہ گناہ ایک لکڑیوں کا انبار ہے لکڑیوں کے انبار میں آگ کا لگنا ہلاکت کا موجب ہے حاصل کلام یہ ہے کہ بغیر توبہ کے کبیرہ گناہ کی عادت سے آدمی کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے اور صغیرہ گناہوں کی کثرت سے گناہ کی تعداد کا نیکیوں کی تعداد سے بڑھ جانے کا اندیشہ ہے اس واسطے ہر طرح کے گناہ سے آدمی کو فوراً توبہ کرنی چاہئے اور ترمذی ٢ ؎ اور ابن ماجہ کی حضرت انس (رض) کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ اچھے گناہ گار وہ ہیں جن کو توبہ کی عادت ہے اگرچہ یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ نیک عمل کے کرنے سے بھی صغیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف ہوجاتے ہیں لیکن انسان کو کیا معلوم ہے کہ اس کا کونسا نیک عمل اللہ کی درگاہ میں قبول ہوا اور جبکہ نیک عمل کا قبول ہونا ہی یقینی نہیں ہے تو نیک عمل کے قبول ہونے کے بھروسہ پر صغیرہ گناہ کی توبہ میں سستی کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ ہر طرح کے گناہ سے فوراً توبہ کرلینا مناسب ہے تاکہ کسی طرح کے گناہ پر اصرار کا شبہ باقی نہ رہے۔ ان آیتوں کے موافق حشر کے میدان میں تو نیک و بد سب خدا کے رو برو کھڑے ہوں گے اور اسی روبکاری میں جب جنتی اور دوزخی کا فیصلہ اخیر ہوجائے گا تو پھر دوزخیوں کو خدا کا دیدار نصیب نہ ہوگا اور منکرین حشر کے دوزخ میں جانے کے بعد طرح طرح کا ان پر عذاب ہوگا اور ان کے قائل کرنے کے لئے گھڑی گھڑی ان سے فرشتے یہ کہیں گے کہ جس عذاب کے تم لوگ دنیا میں منکر تھے لو اب اس کا مزہ چکھو۔ (١ ؎ مشکوٰۃ شریف باب فیما یقال عند من حضرہ الموت فصل ثالث ص ١٤٢) (٢ ؎ الترغیب والترہیب باب فی عذاب القبر و نعیمہ ص ٧١٠ ج ٢) (٣ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة تطفیف ص ١٩١ ج ٢۔ ) (١ ؎ الترغیب والترہیب الترھیب من ارتکاب الکبائر الخ ص ٥١٧ ج ٣) (٢ ؎ الترغیب والترہیب ‘ الترغیب فی التوبۃ ص ١٦١ ج ٤)
(83:7) کلا : کلمہ ردع و تنبیہ ہے ای لیس الا مر کما زعمتم انہ لاحساب ولاجزاء بات یہ نہیں جیسے تم خیال کرتے ہو کہ کوئی حساب و جزا نہ ہوگی ؟ تفسیر مظہری میں ہے :۔ کلا یہ بجائے خود پورا کلام ہے اور تطفیف مذکور سے بازداشت ہے۔ امام حسن بصری (رح) نے فرمایا :۔ کلا اس جگہ ابتدائیہ ہے بعد والے کلام سے اس کا ربط ہے اور حقا (یقینا) کا ہم معنی ۔ ان کتب الفجار لفی سجین : ان حرف مشبہ بالفعل ۔ کتب الفجار مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان لفی سجین اس کی خبر۔ تحقیق فجار کی کتاب سجین میں ہوگی۔ کتاب سے مراد نامہ اعمال ہے جو کراما کاتبین اس کام کے لئے ہر شخص پر متعین ہیں اور ہر وقت تیار کرتے رہتے ہیں۔ الفجار : فجور (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے ۔ الفجر کے معنی ہیں کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنا۔ اور فجور کے معنی ہیں دن کی پرواہ دری کرنا۔ یعنی کہ نافرمانی کرنا۔ فاجر بمعنی بدکار۔ مفرد ہے۔ سجین : سجن سے مشتق ہے سجن کا معنی ہے۔ حبس۔ قید۔ قاموس میں ہے کہ سجین بروزن سکین، دوامی سخت قید۔ اخفش نے کہا کہ سجین سجن سے بروزن فعیل ہے جیسے شریب (بہت پینے والا) فسیق (بڑا فاسق) ایسے ہی سجن (سخت قید) عکرمہ نے کہا کہ سجین سے مراد ہے ذلت اور گمراہی حقیقت میں فجار کے مندرجہ کتاب اعمال ان کی قید، ذلت اور گمراہی کے موجب ہیں (یعنی اپنے اعمال کی وجہ سے کافر قید اور گمراہی میں ہوں گے) مگر مجازا کرب کو قید اور ذلت میں قرار دیا۔ احادیث اور آثار میں سے ظاہر ہے کہ سجین اس مقام کا نام ہے جہاں کفار کا رجسٹر ہے، سجین کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ کافروں کی روحیں بند کردی جاتی ہیں۔ (تفسیر مظہری)
3۔ سجین ایک مقام ارض سابعہ میں ارواح کفار کا مستقر ہے، کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب و فی الدر المنثور عن ابن عباس و مجاہد و فرقد و قتادہ وعبداللہ بن عمر و مرفوعا۔
فہم القرآن ربط کلام : جس دن لوگوں کو رب العالمین کے حضور پیش کیا جائے گا اس دن کے لیے مجرموں کے اعمال ناموں کا اندراج سجّین میں محفوظ ہے۔ دنیا میں بیشمار انسان بالخصوص پیشہ ور مجرم اس طریقے سے جرم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جرم کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑتے جس وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بالخصوص خبر دار کیا گیا ہے۔ کسی مجرم کا کوئی جرم ایسا نہیں جسے سجّین میں درج نہیں کیا جاتا۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نہیں جانتے کہ وہ سجّین کیا ہے ؟ وہ مجرمین کے جرائم کا لکھا ہوا ریکارڈ ہے جو قولاً یا فعلاً قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ قیامت کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حدود اللہ سے نکل جانے والا اور گنہگار ہے۔ جب اس کے سامنے ہمارے فرامین پڑھے جاتے ہیں بالخصوص جن میں قیامت کے حساب و کتاب اور احتساب کا ذکر ہوتا ہے تو وہ اس کا انکار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قیامت قائم نہیں ہوگی۔ یہ بیان ہونے والی کہانیاں بڑی مدت سے سن رہے ہیں، ان کے ذریعے محض لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قیامت کو جھٹلانے والوں کے پاس قیامت کے انکار کی کوئی دلیل نہیں مگر اس کے باوجود یہ انکار کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے گناہوں کا زنگ ان کے دلوں پر جم چکا ہے جس وجہ سے قیامت کی تکذیب کرتے ہیں۔ ان کے انکار کی ایک سزا یہ ہوگی کہ اپنے رب کے دیدار سے محروم رکھے جائیں گے۔ حالانکہ رب کریم کا دیدار جنت کی نعمتوں سے بھی زیادہ باکمال، بابرکت اور بےانتہا خوشی کا باعث ہوگا۔ مجرموں کو جہنم میں پھینک کر کہا جائے گا کہ یہ وہ جہنم اور قیامت کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ (عَنْ صُہَیْبٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ اِذَا دَخَلَ اَہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی تُرِیْدُوْنَ شَیْءًا اَزِیْدُکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ اَلَمْ تُبَیِّضْ وُجُوْہَنَا اَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ وَ تُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ قَالَ فَیَکْشِفُ الْحِجَابَ فَمَا اُعْطُوْا شَیْءًا اَحَبَّ اِلَیْہِمْ مِنَ النَّظَرِ اِلٰی رَبِّہِمْ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ (لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین فی الآخرۃ ربھم سبحانہ) ” حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم مزید کوئی نعمت چاہتے ہو جو تمہیں عطا کروں ؟ وہ عرض کریں گے اے اللہ ! کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں فرمایا ؟ آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا ؟ اور آپ نے ہمیں دوزخ سے نہیں بچایا ؟ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب اللہ تعالیٰ اپنے نور کا پردہ اٹھائیں گے۔ جنتی کو ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہوگی جو پروردگار کے دیدار سے انہیں زیادہ محبوب ہو، اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” جن لوگوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے جنت ہے اور مزید بھی۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیْءَۃً نُکِتَتْ فِيْ قَلْبِہٖ نُکْتَۃٌ سَوْدَآءُ فَإِذَا ھُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُہٗ وَإِنْ عَادَ زِیْدَ فِیْھَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَہٗ وَھُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَکَرَ اللّٰہُ ( کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ) (رواہ الترمذی : کتاب تفسیر القرآن ) ” ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بندہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے جب وہ گناہ چھوڑ دے اور توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل پالش ہوجاتا ہے۔ اگر وہ دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو اس گناہ کی سیاہی اس کے دل پر چڑھ جاتی ہے یہی وہ زنگ ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے کہ (ہرگز نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے گناہوں کی وجہ سے زنگ چڑھ چکا ہے۔ ) “ مسائل ١۔ جہنمی کے نام اور کام سجین میں لکھے جاتے ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے۔ ٢۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے اس دن ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ ٣۔ قیامت کو جھٹلانے والا حد سے زیادہ گنہگار اور مجرم ہوتا ہے۔ ٤۔ قیامت کو جھٹلانے والے قیامت کے دلائل کو پہلے لوگوں کی کہانیاں قرار دیتے ہیں۔ ٥۔ لوگوں کے دلوں پر ان کے گناہوں کا زنگ چڑھ جاتا ہے۔ ٦۔ قیامت کی تکذیب کرنے والے رب کریم کے دیدار سے محروم ہوں گے۔ ٧۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کو جہنم میں پھینک کر کہا جائے گا کہ یہی قیامت کا دن اور جہنم ہے جن کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن جہنمی کا انجام : ١۔ اس دن ہم ان کا مال جہنم کی آگ میں گرم کریں گے اس کے ساتھ ان کی پیشانیوں، کروٹوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ (التوبہ : ٣٥) ٢۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب وہ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اسے مزید بھڑکائیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧) ٣۔ تھور کا درخت گنہگاروں کا کھانا ہوگا۔ (الدخان : ٤٣) ٤۔ اس میں وہ کھولتا ہوا پانی پئیں گے اور اس طرح پئیں گے جس طرح پیا سا اونٹ پیتا ہے۔ (الواقعہ : ٥٤ تا ٥٥) ٥۔ ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کی ہے جو انہیں گھیرے ہوئے ہوگی اور انہیں پانی کی جگہ پگھلا ہو اتانبا دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو جلا دے گا۔ (الکہف : ٢٩) ٦۔ جہنمی کو پیپ اور لہو پلایا جائے گا۔ (ابراہیم : ١٦) ٧۔ جہنمی کے جسم بار بار بدلے جائیں گے تاکہ انہیں پوری پوری سزادی جائے۔ (النساء : ٥٦)
ان لوگوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ یہ لوگ قیامت کے یوم عظیم میں اٹھائے جائیں گے۔ اسی لئے قرآن کریم نہایت سرزنش اور زجروتوبیخ کے انداز میں اس سے روکتا ہے اور نہایت تاکید کے ساتھ بتاتا ہے کہ ایک کتاب میں ان کے تمام اعمال ثبت کئے جارہے ہیں۔ اور اس بات کو زیادہ تاکیدی بنانے کے لئے یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کتاب کہاں رکھی ہوئی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جب ان فساق وفجار کے سامنے ، اس عظیم دن میں ان کی کتاب پیش کی جائے گی تو ان پر بڑی بربادی واقع ہوگی۔ کلا ان .................................... للمکذبین (7:83 تا 10) ” ہرگز نہیں ، یقینا بدکاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ قید خانے کا دفتر ؟ وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے “۔ فجار ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اثم ومعصیت میں حدوں سے گزر جائیں ، خود لفظ فجار کی صوتی لہروں میں یہ مفہوم پوشیدہ ہے۔ ان کی کتاب سے مراد ان کا اعمال نامہ ہے۔ اس کی ماہیت اور کیفیت کا علم انسانوں کو نہیں ہے۔ یہ غیبی امور میں سے ہے اور اس کے بارے میں ہم صرف اتنی بات کرسکتے ہیں جو مخبر صادق نے ہمیں اطلاع دی ہو ۔ قرآن نے یہ کہا ہے کہ بدکاروں کے اعمال کا ایک دفتر ہے اور یہ سجین میں ہے۔ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ کسی بات کو خوفناک بنانے کے لئے ایک سوال کردیتا ہے۔ وما ادرک ما سجین (8:83) ” تمہیں کیا معلوم کہ سجین کیا ہے ؟ “ مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ یہ معاملہ تمہارے حد ادراک سے آگے اور دور ہے اور بہت عظیم ہے اور تمہارے دائرہ ادراک سے بڑا ہے۔ لیکن قرآن بہرحال اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ان کتب .................... سجین (7:83) ” فجار کا اعمال نامہ سجین میں ہے “۔ جو ایک متعین جگہ ہے۔ اگرچہ انسان کو معلوم نہیں ہے۔ اس طرح قارئین کو ایک یقینی اطلاح دی جارہی ہے کہ یہ اعمال نامہ تیار اور موجود ہے اور یہی یہاں مقصود ہے۔ کتب مرقوم (9:83) ” وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی “۔ اعمال نامہ کی تفصیلات کہ فجار کا یہ اعمال نامہ تیار شدہ ہے۔ اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ بس اس عظیم دن میں اسے کھولا جائے گا۔ اس لئے خیال کرو۔
اہل کفر جو قیامت کے منکر ہیں ان کے بارے میں فرمایا : ﴿كَلَّا ﴾ (کہ ہرگز ایسا نہیں ہے) جیسا کہ تم خیال کرتے ہو بلکہ جزاء و سزا کا وقوع ضرور ہوگا اور کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرے اعمال تو ہوا میں اڑ گئے وہ کہاں محفوظ ہیں اور ان کی پیشی کا کیا راستہ ہے، کیونکہ بندوں کے سب اعمال محفوظ ہیں اور منضبط ہیں، کافروں کے اعمال نامے سجین میں ہیں، جو ساتویں زمین میں کافروں کی روحوں کے رہنے کی جگہ ہے یہ اعمال نامے محفوظ ہیں روز جزاء یعنی قیامت کے دن ہر ایک کا اپنا اپنا اعمال نامہ سامنے آجائے گا جو عمل کرنے والے پر حجت ہوگا اور انکار کی گنجائش نہیں ہوگی۔
4:۔ ” کلا ان کتب الفجار “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” کلا “ بمعنی ” حقا “ ہے۔ ” سجین “ تحت الثری میں ایک مقام جس میں کافروں کی روحیں قیامت تک محبوس رہیں گی۔ وہیں ان کے اعمالنامے محفوط ہوتے ہیں وہاں ایک دفتر (رجسٹر) بھی ہے۔ جس میں تمام کافروں کے نام درج کیے جاتے ہیں۔ وسجین علم لکتاب جامع دون فیہ اعمال الشیاطین و اعمال الکفرۃ والفسقۃ من الثقلین (ابو السعود) ۔ قال عبداللہ بن عمر و قتادۃ و مجاھد والضحاک سجینھی الارض السابعۃ السفلی فیھا اروح الاکفار (مظہری ) ۔ اور ” مرقوم “ کے معنی مختوم (مہرزدہ) کے ہیں۔ المرقوم ھہنا المختوم (کبیر 9۔ وہ دفتر مہر زدہ ہوگا اس میں نہ کسی کا نام درج کیا جاسکے اور نہ کسی کافر کا نام اس سے خارج کیا جاسکے گا۔ ای مکتوب رقم لہم بشر لا یزاد فیہم احد ولا ینقص منہم احد (قرطبی ج 19 ص 256) ۔