Surat ul Inshiqaaq
Surah: 84
Verse: 15
سورة الانشقاق
بَلٰۤی ۚ ۛ اِنَّ رَبَّہٗ کَانَ بِہٖ بَصِیۡرًا ﴿ؕ۱۵﴾
But yes! Indeed, his Lord was ever of him, Seeing.
کیوں نہیں حالانکہ اس کا رب اسے بخوبی دیکھ رہا تھا ۔
بَلٰۤی ۚ ۛ اِنَّ رَبَّہٗ کَانَ بِہٖ بَصِیۡرًا ﴿ؕ۱۵﴾
But yes! Indeed, his Lord was ever of him, Seeing.
کیوں نہیں حالانکہ اس کا رب اسے بخوبی دیکھ رہا تھا ۔
Yes! Verily, his Lord has been ever beholding him! meaning, certainly Allah will repeat his creation just as he began his creation, and He will reward him based upon his deeds, whether they were good or bad. He was ever watchful of him, meaning All-Knowing and All-Aware.
15۔ 1 یعنی اس سے اس کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں تھا۔
[١١] یعنی اس کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک کے کارناموں پر اللہ کی نظر تھی کہ اس کی روح کہاں سے آئی، بدن کس کس چیز سے بنا، پھر پیدا ہو کر وہ کیسے اعمال بجا لاتا رہا۔ مرنے کے بعد اس کی روح کہاں ہے اور بدن کے اجزاء بکھر کر کہاں کہاں پہنچے۔ یہ سب باتیں اللہ کی نگاہ میں تھیں۔ اور یہ بات اللہ کی حکمت اور اس کے انصاف کے خلاف تھی کہ جیسے اعمال وہ کر رہا تھا اس کو نظر انداز کردیتا اور اس سے کوئی مؤاخذہ نہ کرتا۔
بَلٰٓى ٠۔ اِنَّ رَبَّہٗ كَانَ بِہٖ بَصِيْرًا ١٥ ۭ بصیر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، وللقوّة التي فيها، ويقال لقوة القلب المدرکة : بَصِيرَة وبَصَر، نحو قوله تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ولا يكاد يقال للجارحة بصیرة، ويقال من الأوّل : أبصرت، ومن الثاني : أبصرته وبصرت به وقلّما يقال بصرت في الحاسة إذا لم تضامّه رؤية القلب، وقال تعالیٰ في الأبصار : لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] ومنه : أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] أي : علی معرفة وتحقق . وقوله : بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] أي : تبصره فتشهد له، وعليه من جو ارحه بصیرة تبصره فتشهد له وعليه يوم القیامة، ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں ، نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ اور آنکھ سے دیکھنے کے لئے بصیرۃ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ۔ بصر کے لئے ابصرت استعمال ہوتا ہے اور بصیرۃ کے لئے ابصرت وبصرت بہ دونوں فعل استعمال ہوتے ہیں جب حاسہ بصر کے ساتھ روئت قلبی شامل نہ ہو تو بصرت کا لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں ۔ چناچہ ابصار کے متعلق فرمایا :۔ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں ۔ اور اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] یعنی پوری تحقیق اور معرفت کے بعد تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ( اور یہی حال میرے پروردگار کا ہے ) اور آیت کریمہ ؛۔ بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ انسان پر خود اس کے اعضاء میں سے گواہ اور شاہد موجود ہیں جو قیامت کے دن اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینگے
آیت ١٥{ بَلٰٓیج اِنَّ رَبَّہٗ کَانَ بِہٖ بَصِیْرًا ۔ } ” کیوں نہیں ! یقینا اس کا رب تو اسے خوب دیکھ رہا تھا۔ “ اگلی تین آیات میں تین قسمیں کھائی گئی ہیں۔ اپنے مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے یہ آیات سورة المدثر کی ان آیات کے ساتھ خاص مناسبت اور بہت گہری مشابہت رکھتی ہیں : { کَلَّا وَالْقَمَرِ - وَالَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَ - وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ ۔ } ” کیوں نہیں ‘ قسم ہے چاند کی۔ اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ پیٹھ موڑے۔ اور قسم ہے صبح کی جبکہ وہ روشن ہوجائے “۔ ان دونوں مقامات کے مابین ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ ان دونوں سورتوں میں قسموں پر مشتمل مذکورہ آیات سے بالکل نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔ سورة المدثر میں بھی { کَلَّا وَالْقَمَرِ ۔ } سے ایک نئے مضمون کا آغاز ہو رہا ہے اور بالکل ایسی ہی صورت حال زیرمطالعہ سورت کے اس مقام پر بھی نظر آتی ہے۔
10 That is, it was against God's justice and His wisdom that He should overlook the misdeeds that he was committing and should not summon him before Himself to render his account of the deeds.
سورة الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :10 یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کر دیتا اور اسے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرس اس سے نہ کرتا ۔
(84:15) بلی۔ ہاں۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے :۔ rnّ 1) نفی ماقبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافر دعوی کرتے ہیں کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے ۔ تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی۔ تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ آیت زیر مطالعہ بھی نفی ما قبل کی تردید کے لئے ہے۔ (2) اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہو خواہ استفہام حقیقی ہو جیسے :۔ الیس ذید بقائم (کیا زید کھڑا نہیں) ۔ اور جواب میں کہا جائے بلی۔ یا استفہام توبیخی ہو جیسے :۔ ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:34) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی (بکھری ہوئی) ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے ۔ ضرور کریں گے (اور) ہم اس بات پر بھی قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کردیں۔ (نیز ملاحظہ ہو 3:76) ان ربہ کان بہ بصیرا۔ یہ رجوع (خدا کی طرف پلٹنا) کو ثابت کرنے کی علت ہے یعنی اس کی واپسی خدا کی طرف ضرور ہوگی۔ اللہ اس کو ضرور سزا دے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو دیکھ رہا ہے ، بخوبی واقف ہے۔ اس کے اعمال کو یوں ہی رائیگاں نہیں چھوڑے گا ضرور انتقام لے گا۔ ان حرف مشبہ بالفعل ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر اسم ان ، کان بہ بصیرا، ان کی خبر۔ کان فعل ناقص ضمیر فاعل اس کا اسم بصیر اس کی خبر۔ بہ متعلق خبر۔ جملہ محل رفع میں ہے ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع وہ شخص ہے جس کا اعمالنامہ اس کی پشت کی طرف سے دیا گیا۔
ف 4 یعنی اس کا بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا کوئی عمل ایسا نہیں تھا جو اس کے مالک سے پوشیدہ تھا، اس لئے اس کا یہ سمجھنا کہ شاید وہ اس پر پکڑ سے محفوظ رہے، قطعی غلط اور بےبنیاد تھا۔5 شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو سورج کے غروب ہوجانے کے بعد عشا تک آسمان کے کنارہ پر رہتی ہے۔ فلا اقم کا لفظی ترجمہ میں قسم نہیں کھاتا ہوں “ کیونکہ اس میں لا زائد ہے۔ تفصیلی بحث سورة قیاء کے شروع میں گزر چکی ہے۔
بلی ان ................................ بہ بصیرا (15:84) ” پلٹنا کیسے نہ تھا ، اس کا رب اس کے کرتوت دیکھ رہا تھا “۔ اس کا ظن یہ تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہیں جانا ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا رب تو اس کے حالات سے باخبر تھا ، اس کی حقیقت کو گھیرے میں لیے ہوئے تھا ، اس کے تمام اقدامات ، اور تمام حرکات سے واقف تھا ، اللہ کو معلوم تھا کہ اس نے کس انجام تک پہنچنا ہے اور یہ کہ اللہ نے اس کو اس کے کیے کی سزا دینی تھی ، چناچہ ایسا ہی ہوا ، جب اللہ کے علم کے مطابق اس نے اپنی زندگی جہنم کے مطابق گزار دی ، اور اس نے ایسا ہی کرنا تھا۔ اس بدبخت کی تصویر کے بالمقابل ایک دوسرے شخص کی تصویر ہے جو نیک بخت ہے ، اگرچہ یہ اپنی دنیا کی محدود زندگی میں اپنے گھر والوں کے دائرے کے اندر ہی خوش وخرم تھا لیکن اس کی زندگی مجموعی طور پر کسی نہ کسی طرح پر مشقت تھی۔ اس کے مقابلے میں یہ نیک بخت اب آخرت میں اپنے اہل و عیال کی طرف خوش وخرم لوٹ رہا ہے۔ یہ دنیا کی زندگی تو مختصر اور محدود تھی لیکن اخروی زندگی طویل اور لامحدود ہے۔ یہ زندگی اب بےقید ہے ، خوشگوار ہے ، طویل ہے اور ہر قسم کی مشقت اور پریشانی اور تھکاوٹ سے خالی ہے۔ اب قارئین اس طویل اور گہرے سفر سے فارغ ہوتے ہیں۔ اس میں انہوں نے بےشکار مناظر دیکھے اور تاثرات لئے ، اب سیاق کلام انہیں اس کائنات کے ایسے لمحات میں لے جاتا ہے جن میں ان کی زندگی بسر ہورہی ہے۔ یہاں انسانوں کو اس کائنات کے وہ مناظر دکھائے جاتے ہیں جن میں خود حضرت انسان کا منظر بھی ہے یہ چیزیں اس بات پر گواہ ہیں کہ انسان اور اس کے گرد پھیلی ہوئی یہ کائنات ایک گہری تدبیر اور نہایت ہی باریک اندازے اور تقدیر کے مطابق چل رہی ہے اور اس دنیا کے اور انسان کے بدلتے ہوئے لمحات و حالات اس گہری تدبیر اور تقدیر کے نتیجے میں ہیں۔
﴿ بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًاؕ٠٠١٥﴾ (بیشک اس کا رب اس کو دیکھنے والا ہے) وہ یہ سمجھے کہ میں آزاد ہوں جو چاہوں کروں بلکہ اس کو مرنا ہے پیشی ہونی ہے۔ فائدہ : حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے دن جس سے حساب لیا گیا وہ تو ہلاک ہی ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ﴿فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیْرًا﴾ (جس کے داہنے ہاتھ میں اعمالنامہ دیا گیا تو اس سے آسان حساب لیا جائے گا) ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسان حساب سے مراد یہ ہے کہ صرف اعمال نامہ پیش کردیا جائے اور پوچھ گچھ نہ کی جائے اور جس کے حساب میں چھان بین کی گئی وہ ضرور ہلاک ہوگا کیونکہ جواب نہیں دے پائے گا۔ (رواہ البخاری صفحہ ٧٢٦: ج ٢، صفحہ ٩٦٨: ج ٢ )
(15) لوٹنا کیوں نہیں، بلاشبہ اس کا پروردگار اس کو خوب دیکھتا تھا سورة فرقان میں ثبور کے معنی گزر چکے ہیں ہلاکت اور موت کو پکارے گا یعنی عذاب کے ڈر سے موت مانگے گا ۔ لیکن اس کو موت نہ آئے گی اور وہ آگ میں داخل ہوگا۔ بیشک وہ دنیا میں اپنے مال وحشم اور جاہ و خدم اور اپنے اہل و عیال میں بےغم اور بےفکر ومگن رہا کرتا تھا اور اپنی عارضی دولت اور وجاہت پر یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ مجھ کو واپس خدا کے سامنے جانا نہیں۔ حور کے معنی ہیں رجوع کے یعنی کسی کا پہلی حالت پر لوٹ جانا۔ حدیث میں آتا ہے نعوذ باللہ من الحور بعدالکور یعنی فرمایا ہم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے ہیں کہ زیادتی کے بعد پھر کمی کی طرف لوٹ جائیں یعنی اس بات سے پناہ مانگتے ہیں کہ بن کر پھر بگڑ جائیں اللہ تعالیٰ بنا کر نہ بگاڑے۔ حضرت حق نے جواب فرمایا کیوں نہیں ضرور واپس جانا ہے بلا شبہ اس کا پروردگار اس کو خوب دیکھتا تھا اور اس کے تمام اعمال کو خوب جانتا تھا اب ان اعمال کی اس کو سزا دینا چاہتا ہے چونکہ مشیت کا تعلق جزا کے ساتھ ہوچکا ہے اس لئے اس کا وقوع ضروری ہے اور اس کا واپس ہونا لازمی ہے آگے اسی مضمون کی تفصیل ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔