Surat ul Inshiqaaq

Surah: 84

Verse: 21

سورة الانشقاق

وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیۡہِمُ الۡقُرۡاٰنُ لَا یَسۡجُدُوۡنَ ﴿ؕٛ۲۱﴾

And when the Qur'an is recited to them, they do not prostrate [to Allah ]?

اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

What is the matter with them, that they believe not? And when the Qur'an is recited to them, they fall not prostrate. meaning, what prevents them from believing in Allah, His Messenger and the Last Day, and what is wrong with them that when Allah's Ayat and His Words are recited to them they do not prostrate due to awe, respect and reverence. Concerning Allah's statement, بَلِ الَّذِينَ كَفَرُواْ يُكَذِّبُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

21۔ 1 احادیث سے یہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کا سجدہ کرنا ثابت ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] اس آیت کی تلاوت کے بعد سجدہ کرنا چاہیے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ (رض) کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی۔ انہوں نے یہی سورت پڑھی اور (یسجدون) پر سجدہ کیا۔ میں نے کہا۔ یہ کیا ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پچھے نماز پڑھی۔ انہوں نے یہی سورت پڑھی تو سجدہ کیا اور میں تو ہمیشہ اس میں سجدہ کرتا رہوں گا۔ اور سیدنا ابوہریرہ (رض) ہی سے دوسری روایت یوں ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سورة ( اذا السماء انشقت) اور سورة اقرأ میں سجدہ کیا۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب سجود القرآن)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

واذا قری علیھم القرآن…: اور پیدا کرنے والے کا کلام سن کر بھی جھکتے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Therefore, the verse concludes: فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿٢٠﴾ وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنُ لَا يَسْجُدُونَ ۩ So, what has happened to them that they do not believe, and when the Qur&an is recited to them, they do not offer sajdah [ prostration ] ۩? (84:20-21) It means that when the Qur&an, replete with clear guidelines, is recited to them, they do not bow in submission. The word sajdah /sujud literally denotes &to bow& and it connotes &obedience&. Obviously, the word here is not used in its technical sense. It is used in the sense of bowing in submission with respect, humbleness and humility. The reason [ for this interpretation ] is quite clear. This verse does not command to prostrate at the time of recitation of a particular verse. It is related to the entire Qur&an. If the word sajdah had referred to the technical prostration, it would necessarily entail that prostration be offered at every verse of the entire Qur&an, which by unanimous agreement of the Ummah is not the case. Neither salaf nor khalaf subscribe to this view. Now remains the question whether or not a sajdah is obligatory when this verse is recited. (There is a disagreement among the jurists on this point) By a long stretch of imagination, it is possible to use this verse in evidence or support of arguing in favour of prostration being obligatory on recitation of this verse, as some of the Hanafi jurists have done. According to them, the definite article ال al- &the& in the word al-Qur&an stands for the article that is used to indicate previous knowledge, and thus the word al-Qur&an here refers to this particular verse under comment, not to the entire al-Qur&an or the Holy Book. However, this interpretation is after all merely a possibility, but the clear context of the verse indicates that it seems to be far-fetched to take the verse in this sense. And Allah knows best! The true interpretation can be determined by prophetic narratives, the practice of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) |" and that of the noble Companions (رض) . The narratives pertaining to sajdah of tilawah differ. Some indicate that it is an obligatory duty to make sajdah on this verse, and others indicate that it is not. As a result, there is a difference of opinion among jurists. Imam Abu Hanifah رحمۃ علیہ holds the view that prostration at this verse is an obligatory duty as is obligatory at other verses of mufassal. Imam A` zam رحمۃ علیہ adduces the following Ahadith in favour of his opinion: Bukhari recorded from Abu Rafi` (رض) that he prayed the ` Isha& [ Night ] prayer behind Sayyidna Abu Hurairah (رض) ، and the latter recited: إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ (When the sky will split apart) and at the relevant verse, he prostrated. So, Sayyidna Abu Rafi` (رض) asked him what type of prostration it was. Sayyidna Abu Hurairah (رض) replied: |"I prostrated at this verse behind Abul Qasim in a salah, and I will never cease prostrating during its recitation until I meet him on the Plain of Gathering.|" Muslim transmitted a narrative from Sayyidna Abu Hurairah (رض) that they prostrated with the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at relevant verses of this Surah, and of اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ. Qurtubi reports from Ibn-ul-` Arabi that the veritable view is that this verse is one of the verses at which it is an obligatory duty to prostrate when read or recited or heard being recited. However, the people among whom Ibn-ul-` Arabi lived& it was not customary among them to prostrate at this verse. They probably followed an Imam, according to whom the prostration was not obligatory. As a result, Ibn-ul-` Arabi says that whenever he led the congregational prayer, he would avoid reciting Surah Al-Inshiqaq, because in his view prostration at the relevant verse is obligatory. If he does not perform the prostration, he would be sinning. If he does perform the prostration, the entire congregation would regard it an unnecessary act. Therefore, he felt he should not unnecessarily split the community. And Allah knows best! Alhamdulillah The Commentary on Surah Al-Inshiqaq Ends here

واذا قری علیھم القرآن لایستجدون یعنی جب ان کے اسمنے اور واضح ہدایات سے بھرا ہوا قرآن پڑھا جاتا ہے اس وقت بھی وہ اللہ کی طرف نہیں جھکتے۔ سجدہ اور سجود کے معنی لغت میں جھکنے کے ہیں اور یہ اطاعت شعاری اور فرمانبرداری سے کنایہ کیا جاتا ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس جگہ سجدہ سے مراد سجدہ اصطلاحی نہی بلکہ اللہ کے سامنے اطاعت کیساتھ جھکنا جسکو خشوع و خضوع کہتے ہیں وہ مراد ہے اور وجہ اس کی یہ کھلی ہوئی ہے کہ اس آیت میں حکم سجدہ کسی خاص آیت کے متعلق نہیں بلکہ پورے قرآن کے متعلق ہے اگر اس سے سجدہ اصطلاحی مراد لیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ پورے قرآن کی ہر آیت پر سجدہ لازم ہو جو باجماع امت مراو نہیں ہو سکتا۔ سلف و خلف میں کوئی اس کا قائل نہیں، اب رہا یہ مسئلہ کو اس آیت کے پڑھنے اور سننے پر سجدہ واجب ہے یا نہیں تو اگرچہ کسی قدر تاویل کے ساتھ اس آیت سے بھی وجوب سجدہ پر استدلال ہوسکتا ہے جیسا کہ بعض فقہائے حنفیہ نے کہا ہے کہ یہاں القرآن سے مراد پورا قرآن نہیں، بلکہ الف لام عہد کا ہی اور مراد اس سے خاص یہی آیت ہے لیکن یہ ایک قسم کی تاویل ہی ہے جو احتمال کے درجہ میں تو صحیح کہی جاسکتی ہے۔ مگر اس کا مراد قرآن ہونا ظاہری عبارت سے بعید معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم، اس لئے صحیح بات یہ ہے کہ اس کا فیصلہ روایات حدیث اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کے تعامل سے ہوسکتا ہے مگر روایات حدیث سجدہ تلاوت کے متعلق مختلف قسم کی آئی ہیں، بعض سے وجوب معلوم ہوتا ہے بعض سے رخصت، اسی لئے آئمہ مجتہدین کا اس معاملہ میں اختلاف ہے امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس آیت پر بھی سجدہ واجب ہے جیسا کہ مفصل کی دوسری آیتوں پر واجب ہے۔ امام اعظم کا استدلال اس کے وجوب پر مندرجہ ذیل احادیث سے ہے۔ صحیح بخاری میں کہ کہ حضرت ابو رافع نے فرمایا کہ میں نے ایک روز عشا کی نماز حضرت ابوہریرہ کے پیچھے پڑھی، انہوں نے سورة اذا السمآء انشقت کی تلاوت نماز میں کی اور اس آیت پر سجدہ کیا، میں نے ابوہریرہ سے پوچھا کہ یہ کیسا سجدہ ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز میں اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں ہمیشہ اس آیت پر سجدہ کرتا رہوں گا جب تک کہ محشر میں آپ سے ملاقات ہو اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اذا السماء انشقت میں اور اقرا باسم ربک میں سجدہ کیا ہے۔ قرطبی نے ابن عربی سے نقل کیا ہے کہ صحیح یہی ہے کہ یہ آیت بھی آیات سجدہ میں سے ہے اس کے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہے مگر ابن عربی جن لوگوں میں مقیم تھے ان میں اس آیت پر سجدہ کرنے کا رواج نہیں تھا وہ کسی ایسے امام کے مقلد ہوں گے جن کے نزدیک سجدہ واجب نہیں تو ابن عربی کہتے ہیں کہ میں نے یہ طریقہ اختیار کرلیا کہ جب کہیں امامت کروں تو سورة انشقاق نہیں پڑھتا کیونکہ میرے نزدیک اس پر سجدہ واجب ہے اگر سجدہ نہیں کرتا تو گناہگار ہوتا ہوں اور اگر کرتا ہوں تو پوری جماعت میرے اس فعل کو برا سمجھے گی، بلاوجہ اختلاف کیوں ڈالا جائے، واللہ سبحانہ، و تعالیٰ اعلم تمت سورة الانشقاق بحمد اللہ تعالیٰ 16 شعبان 1391 ھ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا قُرِئَ عَلَيْہِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَ۝ ٢١ ۭ۞ قرأ والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ( ق ر ء) قرءت المرءۃ وقرءت الدم ۔ القراءۃ کے معنی حروف وکلمات کو ترتیل میں جمع کرنے کے ہیں کیونکہ ایک حروت کے بولنے کو قراءت نہیں کہا جاتا ہے اور نہ یہ عام ہر چیز کے جمع کے کرنے پر بولاجاتا ہے ۔ لہذ ا اجمعت القوم کی بجاے قررءت القوم کہنا صحیح نہیں ہے ۔ القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

سجدہ تلاوت واجب ہے قول باری ہے (واذا قری علیھم القران لا یسجدون اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے توک سجدہ نہیں کرتے) اس سے سجد ہ تلاوت کے وجوب پر استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تلاوت سن کر سجدہ نہ کرنے والے کی مذمت کی ہے ہم نے لفظ کے عموم کی بنا پر سجود کے مقامات میں اس پر عمل کیا ہے۔ اگر ہم مقامات سجود میں اس پر عمل نہ کرتے تو ہم سرے سے اس حکم کو نظر انداز کردینے کے مرتکب قرار پاتے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے جھکنا مراد لیا ہے کیونکہ سجود کا اسم خضوع یعنی جھکنے کے فعل پر واقع ہوتا ہے اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ بات اسی طرح ہے تاہم خضوع کو ایک خاص وصف کے ساتھ موصوف کیا ہے وہ یہ کہ زمین پر پیشانی رکھی جائے۔ جس طرح رکوع، قیام، روزہ، حج اور تمام عبادات خضوع کہلاتے ہیں لیکن انہیں سجود نہیں کہا جاتا کیونکہ سجود کی صورت میں خضوع ایک خاص کیفیت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر وہ کیفیت نہ پائی جاتے تو اس خضوع کو سجود نہیں کہیں گے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12 "They do not fall prostrate": they do not bow down to God out of fear of Him. To perform a sajdah (prostration) here is confirmed by the practice of the Holy Prophet (upon whom be peace) . lmam Malik, Muslim and Nasa'i have related a tradition concerning Hadrat Abu Huraira (may Allah be pleased with him>, saying that he recited this Surah in the Prayer and performing a sajdah here said: "The Holy Prophet (upon whom be peace) performed a sajdah at this point." Bukhari; Muslim, Abu Da'ud and Nasa'i have cited this statement of Abu Rafi`: "Hadrat Abu Huraira recited this Surah in the 'Isha' Prayer and performed a sajdah When I asked why he had done so, he replied: I prayed under the leadership of Abul Qasim (upon whom be Allah's peace) and he performed a sajdah here. Therefore, I will continue to perform this sajdah likewise as long as 1 live." Muslim, Abu Da'ud, Tirmidhi, Nasa'i, Ibn Majah and others have related another tradition saying that Hadrat Abu Huraira said: "We performed sajdah behind the Holy Messenger of Allah in this Surah and in Iqra' bi-ismi Rabbik-alladhi khalaq.

سورة الْاِنْشِقَاق حاشیہ نمبر :12 یعنی ان کے دل میں خدا کا خوف پیدا نہیں ہوتا اور یہ اس کے آگے نہیں جھکتے ۔ اس مقام پر سجدہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے ۔ امام مالک ، مسلم اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے نماز میں یہ سورۃ پڑھ کر اس مقام پر سجدہ کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں سجدہ کیا ہے ۔ بخاری ، ابوداؤد اور نسائی نے ابو رافع کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے عشاء کی نماز میں یہ سورۃ پڑھی ہے اور حضور نے اس مقام پر سجدہ کیا ہے ، اس لیے میں مرتے دم تک یہ سجدہ کرتا رہوں گا ۔ مسلم ، ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ وغیرہ نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس میں حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس سورۃ میں اور اقراء باسم ربک الذی خلق میں سجدہ کیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: یہ سجدہ کی آیت ہے، یعنی اس آیت کو جب عربی میں تلاوت کیا جائے تو پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(84:21) واذا قری علیہم القرآن لا یسجدون۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی اپنے رب کے حضور عاجزی اور تابعداری اختیار نہیں کرتے اور نہ نماز پڑھتے ہیں۔ اس مقام پر سجدہ تلاوت مسنون ہے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَؕ ٠٠٢١﴾ (اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو نہیں جھکتے) نہ ان کا قلب جھکتا ہے نہ ان کا سر جھکتا ہے۔ ﴿ بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُكَذِّبُوْنَٞۖ٠٠٢٢﴾ (بلکہ بات یہ ہے کہ کافر لوگ جھٹلاتے ہیں) یعنی ایمان کی طرف رجوع کرنے کی بجائے تکذیب ہی پر جمے رہتے ہیں ﴿ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا يُوْعُوْنَٞۖ٠٠٢٣﴾ (اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ لوگ جمع کر رہے ہیں) اپنے دلوں میں کفر و حسد، بغض اور بغاوت کو چھپائے ہوئے ہیں یہ ﴿بِمَا يُوْعُوْنَ﴾ کی ایک تفسیر ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے اعمال ناموں میں جو برے اعمال جمع کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں خوب جانتا ہے وہ اپنے علم کے مطابق انہیں سزا دے دے گا یہ معنی بعد کی آیت سے زیادہ اقرب وانسب ہے کیونکہ بعد میں فرمایا ہے ﴿ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍۙ٠٠٢٤﴾ (سو آپ انہیں عذاب الیم کی بشارت دے دیں) بشارت تو خوشی کی چیزوں کی ہوتی ہے لیکن عذاب کی خبر دینے کو بطور بشارت سے تعبیر فرمایا ہے، کیونکہ وہ لوگ اپنے کفر کو اپنے لیے کامیابی کا سبب سمجھتے تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) اور جب ان کے روبرو اور ان کے سامنے قرآن پڑھا جائے تو یہ سجدہ نہیں کرتے یعنی دین حق پر ایمان نہیں لاتے آخر ان کو کیا ہوگیا اور ان کی عقل صحیح فیصلہ کرنے سے عاجز ہے تو قرآن سن کر تو سمجھیں اور خدا کے آگے جھکیں مگر ان کی حالت یہ ہے کہ قرآن سن کر بھی نہیں جھکتے اور عاجزی نہیں کرتے اور سجدے کی آیت کو سن کر مسلمان جس طرح سجد ہ کرتے ہیں یہ سجدہ بھی نہیں کرتے اور عاجزی کا اظہار نہیں کرتے۔